9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

” اور اللہ کبھی ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کرے، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں واضح کر دے جن سے انھیں بچنا چاہیے۔ بیشک اللہ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ “ (115) ”

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ “ (116)

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی دو آیات کے مفہوم کا تتمہ اور ایک غلط فہمی کا ازالہ : اس سے پہلے دو آیات میں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں صحابہ کرام ؓ کے دلوں میں یہ خدشہ اور غلط فہمی پیدا ہوئی کہ جو صحابہ اپنے مشرک عزیز و اقرباء کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ اس شبہ کے ازالہ کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ان کی ہدایت پا جانے کے بعد گمراہ نہیں کرتا اور نہ ہی ہدایت واضح کرنے سے پہلے لوگوں کی گمراہی پر گرفت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور زمین و آسمان میں اسی کی حقیقی اور دائمی بادشاہی ہے۔ وہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ یہاں ولی اور نصیر کی صفات ذکر کر کے واضح کیا ہے کہ مشرکوں کے ساتھ قلبی تعلق یا کسی مفاد کی بنیاد پر ان سے روحانی رشتہ استوار نہ کرو۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد اور خیر خواہی نہ کرے تو زمین و آسمان میں کوئی بھی تمہاری نصرت و مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ بات پہلے بھی واضح کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب ہدایت اور گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کا یہ معنی نہیں ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی بھی اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس طرح زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا ربِّ کریم سے ہدایت کی طلب اور گمراہی سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ہدایت اور گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر گمراہی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے گمراہ رہنے دیتا ہے اور جو ہدایت کا طالب ہے اور اس کی جستجو کرتا ہے اسے وہ ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ جو ہدایت یافتہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کبھی گمراہ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے ہدایت پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ (اللَّہُمَّ اہْدِنِی فیمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِی فیمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِی فیمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ ) [ رواہ ابوداؤد : باب القنوت فی الوتر ] ” اے اللہ مجھے ان کے ساتھ ہدایت دے جن کو تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان میں جن کو تو نے عافیت دی اور کارساز بن میرا ان میں جن کی تو نے کارسازی کی اور جو کچھ مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے ہدایت اور گمراہی کے راستے واضح کردیے ہیں۔ 4۔ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے۔ 5۔ موت وحیات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی موت وحیات کا مالک ہے : 1۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ : 116) 2۔ اللہ ہی معبود برحق ہے وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ (الحج : 6) 3۔ اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (آل عمران : 156) 4۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الاعراف : 158) 5۔ اللہ وہ ذات ہے جو زندہ کرتی اور مارتی ہے دن اور رات کا مختلف ہونا اسی کے حکم سے ہے (المومنون : 80) 6۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا رب ہے۔ (الدخان : 8) 7۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الحدید : 2)
Ayahs 9:117–119

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

” بلاشبہ اللہ نے نبی پر توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی، جو تنگی کے وقت ان کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہوجائیں، پھر ان پر توجہ فرمائی۔ یقیناً وہ ان پر شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (117) ”

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انہوں نے یقین کرلیا اللہ کے سوا کہیں پناہ گاہ نہیں پھر اللہ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقیناً اللہ ہی ہے توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (118) ”

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھی بن جاؤ۔ “ (119)

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص مسلمانوں کو معاف کرتے ہوئے اسی سورة کی آیت 106 میں تین مخلص مسلمانوں کے معاملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اب ان کے بارے میں فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین قسم کے لوگ تھے۔ 1۔ جسمانی طور پر معذور اور اسباب آمدورفت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے مجبور۔ 2۔ منافقین۔ 3۔ بلاعذر پیچھے رہ جانے والے دس صحابہ کرام ؓ تھے۔ دس میں سے سات ایسے صحابہ تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تبوک سے واپسی پر اپنی سزا خود تجویز کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ جکڑ لیا تھا۔ جن کی توبہ کے بارے میں آیت 105 کی تفسیر میں تفصیل سے عرض ہوچکا ہے۔ تین صحابہ کی حالت اب بیان کرنے اور تینوں کی توبہ مستجاب فرمانے سے پہلے بطور استحسان ذکر کیا جارہا ہے کہ اللہ نے انصار و مہاجرین اور ان مجاہدوں پر بڑا فضل و کرم فرمایا جو انتہائی تنگی اور خوف کے عالم میں تبوک کے لیے نکلے حالانکہ کچھ صحابہ ؓ کے دل اس صورت حال میں انشراح محسوس نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ شدیدترین گرمی، فصلیں کٹنے پر آئی ہوئیں اور دشمن زبردست طاقتور مزید یہ کہ سفردشوار اور طویل ترین تھا۔ اس صورت میں محض اللہ کی توفیق اور اس کی نظر کرم کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے اپنے نبی کو بروقت اور جرأت مندانہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ حالانکہ منافقوں نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی ہر قسم کی کوشش کی تھی۔ لیکن رب کریم کا کرم شامل حال تھا۔ اس لیے انصار، مہاجرین اور دیگر مسلمان اس ولولہ اور جذبہ کے ساتھ نکلے کہ دنیا کی واحد سیاسی اور فوجی سپر طاقت مسلمانوں کا سامنا کرنے کی بجائے پسپائی میں اپنی خیر سمجھتی ہے۔ جسے بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام ؓ کو ( لقد تاب اللہ) کے الفاظ کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ تین صحابہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی تبوک سے واپسی پر صاف اور واضح بات کی کہ ہمارے پاس عذر نہیں محض سستی اور غفلت کی وجہ سے لشکر کے ساتھ شمولیت نہ کرسکے۔ رسول معظم ﷺ نے ان کے بارے میں اعلان کیا کہ ان کے ساتھ تمام مسلمان سوشل بائیکاٹ کریں۔ آپ کا حکم صادر ہوتے ہی مسلمانوں نے اتنا سخت بائیکاٹ کیا کہ حضرت کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی سے ملنے اس کے باغ میں پہنچا لیکن اس نے میرے ساتھ کلام نہیں کی۔ میں نے نہایت آزردگی کے ساتھ کہا کہ بھائی میں آپ کا رشتہ دار اور پکا مسلمان ہوں اس کے جواب میں اس نے صرف اتنی بات کہی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ لہٰذا میں تجھ سے کلام نہیں کرسکتا۔ حضرت کعب ؓ کہتے ہیں جب میں مسجد نبوی میں جاتا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھتا تو آپ اپنا چہرۂ انور دوسری طرف پھیر لیتے تھے۔ کعب بن مالک، ھلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ؓ اسی رنج و غم میں وقت گزار رہے تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے دوسرا حکم صادر فرمایا کہ ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی نہ رہیں۔ چناچہ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے دو کی بیویاں اپنے میکے چلی گئیں۔ حضرت ہلال بن امیہ کہتے ہیں کہ میری بیوی نے اللہ کے نبی کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرا خاوند بوڑھا ہے میرے سوا اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں اگر آپ اجازت فرمائیں تو میں روٹی پانی دینے کی حد تک اس کی خدمت کرتی رہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو اس حد تک خدمت کرنے کی اجازت فرمائی۔ ان تین صحابہ ؓ کی کیفیت اور اضطراب کا قرآن مجید ذکر کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ تین پیچھے رہ جانے والوں پر زمین کشادہ ہونے کے باوجود تنگ ہوگئی یہاں تک کہ ان کے وجود بھی ان کے لیے بوجھ بن گئے اور انہیں ہر اعتبار سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں دوسرے الفاظ میں زندگی کے باوجود وہ اپنے آپ کو مردہ تسلیم کررہے تھے۔ اس کڑی اور شدید ترین آزمائش میں تینوں صحابہ پورے اترے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور سب سے بڑا مہربان ہے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ مسلمانو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ معاونت اور ان کی معیت اختیار کرو جس میں یہ تلقین پائی جاتی ہے کہ آئندہ ایسی غلطیوں سے بچو۔ سستی اور غفلت کی بجائے ہر حال میں حق و صداقت کا ساتھ دینے والوں کی رفاقت اختیار کرو۔ m حضرت کعب ؓ پر ایک آزمائش یہ بھی آئی کہ غسّان کے حکمران نے ان کے پاس خط بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے رسول نے آپ پر سختی کر رکھی ہے۔ میرا خط ملتے ہی آپ میرے پاس تشریف لے آئیں، یہاں آپ کو ہر طرح اقبال و مقام دیا جائے گا۔ حضرت کعب ؓ سمجھ گئے کہ یہ آزمائش پر آزمائش ہے۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا کہ مجھ پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ میرا دشمن مجھ سے اس بات کی توقع کرے کہ میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایلچی کی موجودگی میں غسان کے حاکم کا خط آگ میں پھینک دیا اور فرمایا کہ اس خط کا میرے نزدیک یہی جواب ہوسکتا ہے۔ ان آیات سے صحابہ کرام ؓ کی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وارفتگی اور آپ کی تابعداری اور نبی اکرم ﷺ کی جماعت کینظم و ضبط کا اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کن اخلاقی بنیادوں پر صحابہ کرام ؓ کو منظم کیا تھا۔ جس بنا پر وہ عرب و عجم کے حکمران بنے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابِنْ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیْکُمْ بالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِیْ اِلٰی الِبِرِّ وَاِنَّ الْبِرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَمَایَزَال الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیْقًا وَاِیَّاکُمْ وَاْلکَذِبَ فَاِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ اِلَی الْفُجُوْرِ وَاِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ وَمَا یَزَال الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّاباً ۔ (متفق علیہ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُِسْلمٍ قَالَ اِنَّ الصّدْقَ بِرٌّ وَّ اِنَّ الِبرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃ، وَاِنَّ الْکَذِبَ فُجُوْرٌوَّ اِنَّ الفُجُوْرَ یَہْدِیْ اِلَی النَّارِ )[ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب قبیح الکذب وحسن الصدق ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا ! تم سچائی اختیار کرو۔ اس لیے کہ سچائی نیکی کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آدمی سچی بات کہنے کا عادی اور سچائی کا طلب گار ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ سے کنارہ کش رہو۔ اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی جانب لے جاتا ہے۔ اور گناہ دوزخ میں پہنچا دیتے ہیں۔ ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کا عادی ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے، بلا شبہ سچ بولنا نیک کام ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور جھوٹ بولنا برا کام ہے اور برا کام دوزخ کی طرف لے جاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہر حال میں تسلیم کرنا چاہیے۔ 2۔ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ 4۔ انسان کو ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے : 1۔ اللہ بڑا شفیق اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : 117) 2۔ اللہ توبہ قبول کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبۃ : 118) 3۔ اللہ سے بخشش طلب کرو بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے (المزمل : 20) 4۔ اللہ سے ڈرو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات : 12) 5۔ بیشک اللہ نرمی کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (الطور : 28) 6۔ میرا رب رحم کرنے اور محبت فرمانے والا ہے۔ (ہود : 90) 7۔ میرے رب مجھے معاف اور مجھ پر رحم فرما تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 118)
Ayahs 9:120–121

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

” مدینہ والوں اور ان کے آس پاس جو دیہاتی ہیں، ان کے لائق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو آپ کی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے۔ یہ اس لیے کہ اللہ کے راستے میں انھیں کوئی پیاس پہنچی اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھے ہیں جو کافروں کو غصہ دلاتے۔ اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ “ (120) ”

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں مگر وہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے، تاکہ اللہ انھیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (121)

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرتے ہوئے آئندہ کے لیے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اب کے بعد ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ رسول معظم ﷺ جہاد کا حکم دیں، یا بنفس نفیس نکلیں تو اے مسلمانو ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم آپ سے پیچھے بیٹھے رہو۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب خلیفہ وقت جہاد کا اعلان عام کردے تو پھر جہاد فرض عین ہوتا جاتا ہے۔ اس سے پیچھے رہنا سنگین ترین جرم ہوگا۔ جس کی خلیفۂ وقت کوئی بھی سزا تجویز کرسکتا ہے۔ جس طرح نبی معظم ﷺ نے تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی تادیب کی تھی۔ اس لیے حکم صادر ہوا کہ جب نبی معظم جہاد کے لیے نکلیں تو کسی شہری اور دیہاتی کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ اور نہ ہی انھیں اپنے آپ کو نبی ﷺ کی ذات سے مقدم سمجھنا چاہیے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بعض معرکے ایسے ہونے چاہییں جن میں مسلمانوں کے حکمران کو کمانڈر انچیف کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاکہ قوم میں انتہا درجے کا جوش و جذبہ پیدا ہو۔ اس کے ساتھ جہاد کی مشکلات گنوائیں ہیں تاکہ مجاہد ذھنی، جسمانی طور پر اور ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہو کر میدان کارزار میں اتریں۔ درج ذیل مشکلات میں سے کوئی ایک یا بیک وقت تمام کی تمام مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ بھوک، پیاس، تھکان اور ہر قسم کی جسمانی مشقت، جنگ میں مشکل مراحل کا آنا، دشمن کے ساتھ آمنا سامنا اور ہر وقت ٹکراؤ کا خطرہ، گھمسان کا آن پڑنا۔ مالی وسائل کی کمی۔ ان مشکلات کے باوجود جہاد کرنا ہے اس کے بدلے مجاہد کو ہر قدم پر بہترین اجر سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور خدمت کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَغَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا صبح یا شام اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگانا دنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔ “ (عن عَبْد الرَّحْمَنِ بن جَبْرٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِی سَبِیل اللَّہِ فَتَمَسَّہُ النَّارُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب من اغبرت قدماہ فی سبیل اللّٰہ ] ” حضرت عبدالرحمن بن جبر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوئے ہوں انہیں آگ نہیں چھوئے گی۔ “ (عَنْ الْبَرَاءِ یَقُوْلُ أَتَی النَّبِیّ ﷺ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بالْحَدِیْدِ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللَّہِ أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ قَالَ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ عَمِلَ قَلِیلاً وَأُجِرَ کَثِیرًا) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب عمل صالح قبل القتال ] ” حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں ایک زرہ پوش آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں لڑائی کروں اور اسلام لاؤں آپ نے فرمایا اسلام لاؤ، پھر لڑائی کرو، وہ اسلام لایا، پھر لڑائی کی پس وہ شہید ہوگیا آپ نے فرمایا اس نے عمل تھوڑا کیا ہے اور اجر زیادہ پا گیا۔ “ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَّلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللّٰہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور اللہ کی آیات کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ نفلی روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔ “ مسائل 1۔ مسلمان جو نیکی کا کام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بہترین اجردیتا ہے۔ 2۔ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس برداشت کرنا اور کفار کے خلاف جہاد کرنا اجر عظیم کا باعث ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بہترین اجر دینے والا ہے : 1۔ اللہ نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دے گا۔ (التوبۃ : 121) 2۔ اللہ صابر لوگوں کو ان کے صبر کی بہترین جزا دے گا۔ (النحل : 96) 3۔ اللہ نیکوں کو ان کے اعمال سے بہتر جزا دے گا۔ (العنکبوت : 7) 4: اللہ اپنے فضل سے مزیداجر عطا کرے گا۔ (النور ؛ 38) 5۔ ایمان لانے والوں، نماز قائم کرنے والوں اور زکٰوۃ دینے والوں کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہے۔ (البقرۃ : 277) 6۔ ہم ان کے اعمال سے انہیں بہتر صلہ عطاکریں گے۔ (النحل : 97) 7۔ ہم ایمان لانے والوں کو ان کا اجر دیں گے۔ (الحدید : 27) 8۔ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10)
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

” اور ٹھیک نہیں کہ ایمان دار سب کے سب جہاد کے لیے نکل جائیں، ان میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے، تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ جب اپنی قوم کی طرف لوٹیں تو انھیں ڈرائیں، اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ جائیں۔ “ (122)

فہم القرآن ربط کلام : جہاد میں بھی فہم دین اور علم کی طرف توجہ مبذول رکھنے کا حکم۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ہوتا ہی وہ ہے جس کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہو یعنی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر محاذ پر کوشش کرنا۔ مگر جب کوئی قوم یا مجاہد مسلسل جہاد میں مصروف رہے گا تو دین کے بنیادی علم کی طرف اس قدر توجہ نہیں دے پائے گا۔ جس کا حصول ایک مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اس لیے عین حالت جنگ میں حکم ہوا ہے کہ تم میں ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو جہاد میں مصروف کار ہونے کی بجائے صرف اور صرف دین سیکھنے سکھانے پر توجہ مبذول رکھے۔ تاکہ میدان کارزار سے واپس آنے والے مجاہد اپنے ایمان کی بیٹری چارج کرسکیں۔ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر پوری کی پوری قوم جہاد میں نکل کھڑی ہو تو علم و عرفان کے ادارے بند اور مملکت کے دیگر امور سست پڑجائیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ خارجی طور پر مسلمان پیش قدمی کر رہے ہوں گے۔ لیکن علمی، ایمانی اور اندرونی طور پر کمزور ہورہے ہوں گے۔ جس کی تلافی مشکل ہوجائے گی اس نقصان سے بچانے کے لیے حالت جہاد میں بھی اس اہم ترین فرض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس آیت مبارکہ کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ میدان کارزار میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلو، تاکہ تمہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل ہوتی رہے۔ دوسرے الفاظ میں حالت جنگ میں بھی تعلیم و تعلم اور تربیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ فہم دین سے مراد صرف قرآن و حدیث یاد کرنا نہیں بلکہ اس کی حقیقی فہم سیکھنا بھی ضروری ہے۔ حقیقی فہم سے مراد دین کی روح پر عمل کرنا ہے۔ جو حدیث رسول کے علم کے بغیر ممکن نہیں۔ جہاں تک موجودہ فقہ کا تعلق ہے۔ اس میں وہی فقہ مسلمان کی ضرورت ہے جو قرآن و سنت کا ترجمان ہو۔ بعض علماء یہاں سے اپنی اپنی مروجہ فقہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آئمہ کی تقلید کو اپنے لیے لازم ثابت کرتے ہیں، حالانکہ چاروں آئمہ نے ایسی فقہ کی تردید کی ہے جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ تقلید کے بارے میں ائمہ کے اقوال : امام ابوحنیفہ ؓ کا قول : (اِذَا صَحَّ الْحَدِیْثُ فَھُوَ مَذْھَبِیْ ) [ تفسیر مظہری ] ” جب صحیح حدیث موجود ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔ “ امام مالک (رح) کا قول : امام مالک نے روضۃ النبی ﷺ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” ہر شخص کی بات تسلیم کی جاسکتی ہے اگر درست ہو۔ اور اسے ٹھکرایا جاسکتا ہے جب درست نہ ہو۔ مگر اس روضے والے کی بات کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ “ [ حیات امام مالک۔ از امام زہری ] امام شافعی (رح) کا قول : (اَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی اَنَّ مَنِ اسْتَبَانَ لَہٗ سُنَّۃٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَایَحِلُّ لَہٗ اَنْ یَّدَعَھَا لِقَوْلِ اَحَدٍ ) [ اعلام المعوقین ] ” اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کی سنت سامنے آجائے، پھر اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ اسے کسی کے قول کی بنا پر حدیث رسول کو ترک کردیا جائے۔ “ امام احمدبن حنبل (رح) کا قول : (مَنْ رَدَّ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَھُوَ عَلٰی شَفَا ھَلَکَتِہِ )[ ابن جوزی ] ” جس نے رسول کریم ﷺ کی حدیث کو رد کیا وہ تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا۔ “ علم سے پہلی مراد علم دین ہے۔ باقی علوم اضافی اور عصری ضرورت ہیں قرآن مجید ان کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ (عَنْ کَثِیرِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِی الدَّرْدَآءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَآءَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا أَبَا الدَّرْدَآءِ إِنِّیْ جِءْتُکَ مِنْ مَدِیْنَۃِ الرَّسُوْلِ ﷺ لِحَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّہِ ﷺ مَا جِءْتُ لِحَاجَۃٍ قَالَ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللَّہُ بِہِ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَإِنَّ الْمَلاَءِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ لَیَسْتَغْفِرُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ وَالْحِیْتَانُ فِی جَوْفِ الْمَآءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلَی سَاءِرِ الْکَوَاکِبِ وَإِنَّ الْعُلَمَآءَ وَرَثَۃُ الأَنْبِیَآءِ وَإِنَّ الأَنْبِیَآءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَلاَ دِرْہَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم ] ” حضرت کثیر بن قیس کہتے ہیں میں ابو درداء کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک آدمی آیا اس نے کہا اے ابودرداء میں آپ کے پاس حدیث رسول ﷺ حاصل کرنے کے لیے مدینۃ الرسول سے آیا ہوں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں اس کے علاوہ میں کسی غرض سے نہیں آیا۔ حضرت ابو دردا ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص علم کی طلب کے لیے نکلا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستہ پر چلا تا ہے اور فرشتے طالب علم کی تکریم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں اور یقیناً عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ہر چیز یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اور بیشک عالم کو عابد پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو ستاروں پر اور یقیناً علماء انبیاء (علیہ السلام) کے وارث ہیں اور انبیاء (علیہ السلام) درہم و دینار کے وارث نہیں ہوتے وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں جس نے اسے حاصل کیا اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔ “ (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ )[ النمل : 15] ” ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا اور ان دونوں نے کہا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ “ نبی اکرم ﷺ کو حکم : (وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا)[ طٰہٰ : 114] ” اور کہہ دیجیے اے میرے پروردگار ! میرے علم میں اضافہ فرما۔ “ مسائل 1۔ تعلیم و تعلم کے لیے کچھ لوگوں کا وقف ہونا ضروری ہے۔ 2۔ مجاہدین کے لیے تعلیم و تعلم کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ 3۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن علم اور اس کے فہم کی فضیلت : 1۔ جہاد کے ساتھ ساتھ دین کا فہم حاصل کرنا لازم ہے۔ (التوبۃ : 112) 2۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزمر : 9) 3۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : 11) 4۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15) 5۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر : 28) 6۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں عالم لوگ ہی ان کو سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : 43)
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان لو کہ بیشک اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔ “ (123)

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کے مسائل کے دوران اہم امور کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب پھر جہاد اور منافقوں کا ذکر ہوتا ہے۔ مملکت کے استحکام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملک اندرونی سازشوں سے محفوظ ہو۔ اس کے لیے ملک و ملت کے غداروں سے آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ جو ملک اور قوم کے لیے مار آستین ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلسل کئی آیات میں منافقوں کے عقائد اور کردار کے بارے میں تفصیلبتا کر ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اسلامی سرحدات کے ارد گرد کے دشمنوں کی سرکوبی کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ مسلمانو ! اپنے ملک کی سرحدوں کو دشمن سے محفوظ رکھو۔ جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قریب کے دشمن پر نظر رکھو اگر وہ شرارتوں اور سازشوں سے باز نہیں آتا تو ان پر اس چابکدستی اور جوانمردی کے ساتھ حملہ کرو کہ وہ تمہاری طاقت کے سامنے ٹھہرنے نہ پائیں۔ ان پر حملہ کرتے ہوئے اپنی طاقت کا اس طرح مظاہرہ کرو کہ وہ تم میں کسی قسم کی کمزوری اور نرمی محسوس نہ کریں۔ لیکن یاد رکھنا کہ ان پر ظلم نہ ہونے پائے۔ یہاں متقین کا پہلا مفہوم یہ ہے جو ظلم کرنے سے اجتناب کرنے والے ہوں ایسے انصاف پسند لوگوں کی اللہ تعالیٰ معاونت کرتا ہے۔ ان کے ساتھ لڑنا چاہیے جو اسلام کے راستے میں رکاوٹ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہوں۔ اگر وہ تبلیغ دین کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں اور بقائے باہمی کے اصول پر رہنا چاہیں تو ان پر کوئی تعارض نہیں ہونا چاہیے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ وُجِدَتِ امْرَأَۃٌ مَقْتُوْلَۃً فِی بَعْضِ مَغَازِیْ رَسُوْلِ اللَّہِ ﷺ فَنَہَی رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَا نِ )[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب قتل النساء فی الحرب ] ” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے غزوات میں سے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ “ (وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ” مَنْ کَانَتْ لَہُ مَظْلَمَۃٌلِأَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ اَوْ شِیْءٍ فَلْیَتَحَلَّلْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا یَکُونَ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ إِنْ کَانَ لَہٗ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَ مِنْہُ بِقَدَرِ مَظْلِمَتِہٖ وَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّءَاتِ صَاحِبِہٖ فَحُمِلَ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ کَانَتْ لَہُ مَظْلَمَۃٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَہَا لَہُ ، ہَلْ یُبَیِّنُ مَظْلَمَتَہُ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی کی بےعزتی کی اور اس پر زیادتی کی تو اسے چاہیے وہ اس سے آج ہی معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ جب دینار اور درہم نہ ہوں گے۔ اگر اس کے نیک اعمال ہوں گے تو اس کی زیادتی کے مطابق ان میں سے (مظلوم کو دینے کے لیے) لیے جائیں گے۔ اور اگر اس کے نیک عمل نہیں ہوں گے تو مظلوم شخص کی برائیوں کو اس پر لاد دیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ جہاد قریب کے دشمنوں سے شروع کرنا چاہیے۔ 2۔ مسلمانوں کے ساتھ نرم خو اور کفار کے ساتھ سخت ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ 4۔ ایمان والوں کو کفار کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن متقین کے فضائل اور اللہ تعالیٰ کی رفاقت : 1۔ اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبۃ : 123) 2۔ اللہ سے ڈرو اور جان لو بیشک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 194) 3۔ بیشک اللہ متقین کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 76) 4۔ اللہ متقین سے محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ : 4۔ 7) 5۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (النباء : 31) 6۔ متقین گھنے سایوں اور چشموں والی جنت میں ہوں گے۔ (المرسلات : 41)
Ayahs 9:124–125

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

” اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ؟ پس جو لوگ ایمان لائے، ان کے ایمان میں تو اس نے اضافہ کیا ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ “ (124) ”

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو اس نے ان کی پلیدی میں مزید پلیدی کا اضافہ کردیا اور وہ اس حال میں مرے کہ کافر تھے۔ “ (125)

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کی بنیادی پالیسی اور تربیتی بیان کے بعد منافقوں کی قرآن مجید کے بارے میں روش بیان کی جاتی ہے۔ منافق کا بنیادی مرض یہ ہوتا ہے کہ اس کا اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ ہر وقت شک اور تذبذب کا شکار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے منافقین نئی آیات سنتے تو تمسخر کے طور پر مسلمانوں سے کہتے کہ بتائیں جناب ان آیات کے اترنے سے تمہارے ایمان میں کیا اضافہ ہوا ہے ؟ جس کے جواب میں مسلمان کہتے کہ ہم تو اپنی راہنمائی اور ایمان میں اضافہ محسوس کررہے ہیں۔ اس پر منافق شرمندہ ہو کر رہ جاتے اور ان کی منافقت میں اور اضافہ ہوجاتا۔ یاد رہے البقرۃ آیت 10 میں منافقت کو مرض اور یہاں منافقت کو گندگی اور کفر قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ لوگ کفر کی حالت میں مریں گے۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ منافق حقیقی ایمان لانے کی بجائے تادم آخر نفاق پر ہی جان دیں گے۔ کفر اور نفاق مرض اور گندگی ہیں : (فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُوْنَ )[ البقرۃ : 10] ” ان کے دلوں میں بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں زیادہ کردیا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ “ (وَأَمَّا الَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْسًا إِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوْا وَہُمْ کٰفِرُوْنَ ) [ التوبۃ : 125] ” اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس نے ان کی پلیدی کے ساتھ اور پلیدی کا اضافہ کردیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔ “ مومن کی حالت : (إِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیَاتُہٗ زَادَتْہُمْ إِیْمَانًا)[ الانفال : 2] ” جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں۔ “ (وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَنْ یَّقُوْلُ أَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہِٓٓ إِیْمَانًا فَأَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْہُمْ إِیْمَانًا وَہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ )[ التوبۃ : 124] ” اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ؟ پس جو لوگ ایمان لائے، ان کے ایمان میں تو اس نے اضافہ کیا ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید کی تلاوت سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2۔ منافق عناد کی وجہ سے قرآن مجید کی تاثیر کا انکار کرتے ہیں۔ 3۔ ایمان والے قرآن مجید کی تلاوت سے خوش ہوتے ہیں۔ 4۔ قرآن مجید کے نزول سے منافقین کی منافقت میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ 5۔ منافق کا خاتمہ کفر پر ہوگا۔ تفسیر بالقرآن منافق کے نفاق میں اضافہ : 1۔ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے اللہ ان کی پلیدی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ (التوبۃ : 125) 2۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا۔ (البقرۃ : 10) 3۔ آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اس کی طرف جلدی کرتے ہیں۔ (المائدۃ : 52) 4۔ منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے کو فراڈ سمجھتے ہیں۔ (الاحزاب : 12)
Ayahs 9:126–127

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں پھر بھی وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔ “ (126) ”

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر وہ پھرجاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، کیوں کہ یقیناً وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ “ (127)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا دنیا میں انجام۔ منافق دوغلے کردار کا انسان ہوتا ہے۔ ظاہر ہے دوغلاپن کبھی نہ کبھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ جب آدمی کا دوغلا پن ظاہر ہوتا ہے تو سوائے رسوائی اور شرمندگی کے اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی حالت منافقین مدینہ کی تھی۔ ہر سال ایک یا دو مرتبہ انہیں اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا۔ جب یہ قسمیں اٹھا اٹھا کر اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرما دیتے کہ یہ لوگ جھوٹی قسمیں اٹھا رہے ہیں۔ تبوک سے واپسی پر بھی ان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی گئی۔ سورة التوبۃ : 95۔ 96۔ ان کی حرکتوں کی وجہ سے جب مسلمان ان کے ایمان پر شبہ کرتے تو یہ لوگ حلف دیتے نہیں تھکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ منافقین حلف دیتے ہیں کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ لیکن یہ اپنی شہادت میں جھوٹے ہیں۔ جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ حقیقتاً اللہ کا رسول ہے۔ ( المنافقون : 1) یہی حالت غزوات اور صدقات کے موقع پر ان کی ہوا کرتی تھی۔ غزوہ احد کے موقع پر پوری دنیا کے سامنے رسوا ہوئے، غزوہ خندق کے موقعہ پر ہر اعتبار سے بےنقاب ہوئے۔ فتح مکہ کے دوران ان کی منافقت کی قلعی کھول دی گئی۔ تبوک کے محاذنے تو انہیں پوری طرح رسوا کردیا، رہی سہی کسر مسجد ضرار کے مسمار کرنے سے نکل گئی۔ اس طرح قرآن مجید کا فرمان ان پر صادق آیا کہ یہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ملکی اور قومی سطح پر ذلیل ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں حالانکہ کم سے کم عقل رکھنے والا انسان بھی ایک دو دفعہ ذلیل ہونے کے بعد سنورنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن منافق نظریات اور کردار کے حوالے سے نجس اور پلید ہوتا ہے جس وجہ سے وہ سدھرنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے۔ جس وجہ سے انہوں نے دنیا کی رسوائی اور آخرت کی ذلت قبول کرلی مگر اخلاص نیت کے ساتھ اسلام قبول کرنا پسند نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی بدنیتی اور مذموم حرکات کی وجہ سے ان کے دلوں کو اسی طرف پھیر دیا۔ جس طرف یہ پھرنا پسند کرتے تھے۔ ایسے لوگ سمجھنے اور ہدایت پانے والے نہیں ہوتے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ 2۔ منافقین منافقت کی وجہ سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ 3۔ منافقین بار بار مشکلات میں مبتلا ہونے کے باوجود توبہ نہیں کرتے۔ 4۔ منافقین اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ 5۔ منافق قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن منافقین کا قرآن مجید کے ساتھ رویہّ : 1۔ جب قرآن مجید کا نزول ہوتا تھا تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے تھے۔ (التوبۃ : 127) 2۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ؟ (التوبۃ : 124) 3۔ قرآن کا جب کوئی حصہ نازل ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول سے مل کر جہاد کرو تو وہ بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبۃ : 86) 4۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوتی اور اس میں قتال کا تذکرہ ہوتا ہے تو منافق آپ کی طرف ایسے دیکھتے جیسے ان پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو۔ ( سورة محمد : 20)
Ayah 9:128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

” بلاشبہ یقیناً تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے جس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت شاق گزرتا ہے، تمہاری بھلائی کے بارے میں بہت حرص رکھنے والا ہے، ایمان والوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (128)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا بار بار بد عہدی کرنا، ہر موقع پر سازشیں کرنا اور نبی اکرم ﷺ کی مجالس میں آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کرنا۔ ایک سے ایک بڑھ کر بدتمیزی اور برا عمل تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ بردباری و درگزر کا مظاہرہ فرماتے رہے جس کی یہاں شاندار الفاظ میں تعریف کی گئی اور آپ کو خراج تحسین سے نوازا گیا ہے۔ جہاں تک مخلص مسلمانوں کا معاملہ ہے رسول کریم ﷺ ان کے ساتھ اس قدر کرم فرما اور خیر خواہ تھے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیف کو ان سے بڑھ کر اپنی تکلیف سمجھتے اور صبح و شام اس فکر میں رہتے کہ لوگوں کو کس طرح اصلاح اور فلاح کے راستے پر گامزن کیا جائے۔ آپ ﷺ کے حلم اور بردباری کا عالم یہ تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کی غلطیوں سے صرف نظر فرماتے اور ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیا کرتے تھے۔ جہاں تک آپ کی ہمدردی اور خیر خواہی کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طبعاً اور فطرتاً ہمدرد اور خیر خواہ پیدا فرمایا تھا۔ مزید یہ کہ آپ نے دنیا کی مشکلات اور مصائب کو براہ راست دیکھا اور اپنے آپ پر برداشت کیا تھا ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے کہ والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ تقریباً چھ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ مدینہ کے سفر کے دوران انتقال کر گئیں۔ آٹھ سال کے ہوئے تو مشفق اور مہربان دادا جناب عبدالمطلب دنیا سے کوچ کر گئے۔ اس طرح چھوٹی عمر میں آپ نے وہ صدمات برداشت کیے جس کے تصور سے کلیجہ دہل جاتا ہے۔ ان حالات میں جوں جوں عمر مبارک جوانی کے قریب پہنچی تو آپ ﷺ ہر وقت اس سوچ و بچار میں رہتے کہ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جب چالیس سال کے ہوئے تو حالت یہ ہوگئی کہ کئی کئی دن تک غار حرا میں بیٹھ کر سوچا کرتے کہ آخر یہ بگڑی ہوئی قوم کس طرح راہ راست پر آئے گی۔ ایک دن غار حرا میں اسی سوچ و بچار میں بیٹھے تھے۔ کہ اللہ کا آخری پیغام آپہنچا۔ جس کا آغاز اس طرح ہوا کہ اللہ کے نام سے ابتدا کیجیے جس نے انسان کو ایک لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ (العلق : 1۔ 2) آپ جب یہ پیغام لے کر سوئے قوم آئے تو پھر تئیس سال تک اسی غم اور کام میں زندگی گزاردی۔ لوگوں کی اصلاح کی خاطر بڑے بڑے مصائب اٹھائے، مشکلات کا سامنا کیا، طائف میں پتھر کھائے یہاں تک کہ حق اور سچ کی خاطر گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد منافقوں کی سازشوں اور کفار کے ساتھ بدر، احد، خندق، مکہ اور تبوک کے محاذوں پر معرکے ہوئے، عزیزو اقرباء کی قربانیاں پیش کیں، کاروبار اور ہر قسم کا نقصان اٹھایا مگر لوگوں کی خیر خواہی اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ آپ سراپا ہمدرد اور خیر خواہ تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین کے خطاب اور روف و رحیم کے القاب سے نوازا ہے۔ یہاں ہم آپ کی ہمدردی اور خیر خواہی کے تین واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ کو وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی مانند سامنے آجاتا۔ پھر آپ تنہائی پسند ہوگئے اور غار حرا میں تنہائی میں وقت گزارنے لگے۔ وہاں آپ عبادت میں مشغول رہتے۔ اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آنے سے پہلے آپ کئی کئی راتیں وہاں گزارتے۔ اس عرصہ کے لیے سامان خورد ونوش ساتھ لے جاتے۔ سامان ختم ہونے پر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آتے۔ وہ پھر پہلے کی طرح سامان آپ کے ساتھ کر دیتیں۔ حتّٰی کہ غار حرا میں وحی کا نزول شروع ہوا۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ” پڑھیے “ آپ نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جبریل (علیہ السلام) نے مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں “۔ آپ نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ پھر اس نے دوسری بار اسی طرح زور سے دبایا۔ جس پر میں نے سخت تکلیف محسوس کی۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں “۔ میں نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ پھر اس نے مجھے دبوچ لیا اور تیسری بار زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کی تخلیق کی جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے۔ پڑھیے اور آپ رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ “ چناچہ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے ساتھ واپس لوٹے آپ کا دل گھبرا رہا تھا۔ آپ ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ چناچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک آپ سے خوف کی کیفیت دور ہوگئی۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ ؓ کو سارا ماجرا کہہ سنایا اور فرمایا، مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے تسلی دی کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کی خبر گیری کرتے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں اور مصیبت زدہ اور ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں۔ بعد ازاں خدیجہ ؓ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو خدیجہ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے ورقہ سے کہا، اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کا معاملہ سنیے۔ چناچہ ورقہ نے آپ سے دریافت کیا، اے میرے بھتیجے ! تجھے کیا نظر آتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے کہا، یہ تو وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی دے کر بھیجتا تھا۔ اے کاش ! میں تمہارے عہد نبوت میں جوان ہوتا اور کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی۔ رسول اللہ نے پوچھا، کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا، ہاں ! کیوں کہ جب بھی کسی کو رسالت سے نوازا گیا تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی۔ اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا، جب لوگ تمہیں نکالیں گے، تو میں تمہاری بھر پور معاونت کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ بن نوفل زیادہ دیر زندہ نہ رہے اور آپ پر وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع رہا۔ “ [ رواہ البخاری : باب کیف کان بدء الوحی ] (عَنْ عُرْوَۃُ أَنَّ عَاءِشَۃَ ؓ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ حَدَّثَتْہٗ أَنَّہَا قَالَتْ للنَّبِیِّ ﷺ ہَلْ أَتَی عَلَیْکَ یَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ قَالَ لَقَدْ لَقِیْتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِیْتُ ، وَکَانَ أَشَدُّ مَا لَقِیْتُ مِنْہُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِیْ عَلَیْ ابْنِ عَبْدِ یَالِیْلَ بْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ ، فَلَمْ یُجِبْنِیْ إِلَی مَآ أَرَدْتُ ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَہْمُومٌ عَلٰی وَجْہِی، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلاَّ وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ ، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِی، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فیہَا جِبْرِیلُ فَنَادَانِی فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَیْکَ ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِءْتَ فیہِمْ ، فَنَادَانِی مَلَکُ الْجِبَالِ ، فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ ذَلِکَ فیمَا شِءْتَ ، إِنْ شِءْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمِ الأَخْشَبَیْنِ ، فَقَال النَّبِیُّ ﷺ بَلْ أَرْجُوْ أَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ مِنْ أَصْلاَبِہِمْ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ وَحْدَہُ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق، باب اذا قال أحدکم آمین والملائکۃ فی السماء ] ” عروہ کہتے ہیں نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا، کیا آپ پر احد سے بھی زیادہ سخت دن آیا ہے، آپ نے فرمایا عائشہ میں نے تیری قوم سے پایا ہے جو پایا ہے اور سب سے زیادہ سختی عقبہ والے دن پائی۔ جب میں نے اپنی دعوت ابن عبد یا لیل بن عبدکلال پر پیش کی۔ اس نے میری خواہش کے برعکس جواب دیا۔ میں انتہائی افسردہ چہرے کے ساتھ واپس ہوا۔ میرا غم ہلکا نہ ہوا تھا کہ میں قرن ثعا لب میں آگیا میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک بادل کو سایہ کیے ہوئے پایا میں نے دیکھا اس میں جبرائیل (علیہ السلام) تھے اس نے مجھے آواز دی اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے جواب کو سن لیا ہے جو انہوں نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے اگر آپ ان کو جو حکم دینا چاہیں دیں۔ مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اس نے مجھے سلام کہتے ہوئے کہا اے محمد ﷺ ! آپ ان کے متعلق جو کہنا چاہتے ہیں کہیں اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان پر دو پہاڑوں کو ملادوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرنے والے اور شرک نہ کرنے والے ہوں گے۔ “ (ہِنْدَ بْنِ أبِیْ ہَالَۃَ یَصِفُ لَنَا رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ ہِنْدٌ فِیْمَا قَالَ کَانَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَاصِلُ الأحْزَانِِ ، دَاءِمُ الْفَکْرَۃِ ، لَیْسَتْ لَہٗ رَاحَۃٌ، وَلاَ یَتَکَلَّمُ فَیْ غَیْرِحَاجَۃٍ ، طَوِیْلُ السُّکُوْتِ ، یَفْتَتِحُ الْکَلَامِ وَیَخْتِمُہٗ بَأَشْدَاقِہِ لِا بِأطْرَافِ فَمِہِ وَیَتَکَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْکَلَمِ ، فَصْلاً ، لَا فُضُوْلَ فِیْہِ وَلَا تَقْصِیْرِ ، دَمَثاً لَیْسَ بالجَافِیْ وَلَا بالْمَہِیْنِ ، یُعَظِّمْ النِعْمَۃِ وَإنْ دَقَتْ ، لَایَذُمُّ شَیْئاً ، وَلَمْ یَکُنْ یَذُمُّ ذَوَاقاً مَا یُطْعِمُ وَلَا یَمْدَحُہُ ، وَلَا یُقَامُ لِغَضَبِہِ إذَا تَعَرَّضَ لِلْحَقِّ بِشَیْءٍ حَتّٰی یَنْتَصِرُ لَہٗ ، لَا یَغْضِبُ لِنَفْسِہِ ، وِلَا یَنْتَصِرُ لَہَا سَمَاحَۃً وَإذَا أشَارَ أشَارَ بِکَفِّہِ کُلِّہَا، وَإذَا تَعَجَّبَ قَلْبُہَا، وَإذَا غَضِبَ أعْرَضَ وَأشَاحَ ، وَإذَا فَرحِ غَضَّ طَرْفَہٗ ، جَلَّ ضِحْکَہٗ التَبَسُّمُ ، وَیَفْتِرَ عَنْ مَثَل حَبِّ الغَمَامِ ) [ الرحیق المختوم ] ” ہند بن ابی ہالہ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں رسول محترم ﷺ پیہم غموں سے دوچار تھے، غور و فکر کرنے والے تھے، آرام طلب نہیں تھے بغیر ضرورت کے کلام نہ کرتے کم گو، آپ کلام شروع کرتے اور اس کا اختتام جبڑوں کے ساتھ کرتے، زبان کی نوک سے نہیں اور آپ جامع گفتگو کرتے مناسب وقفے کے ساتھ اس میں فضول اور ناقص گفتگو نہ ہوتی، نرم خو تھے، جفاجو اور حقیر نہ تھے، آپ چھوٹی نعمت کو بھی بڑا سمجھتے، کسی چیز کی مذمت نہ کرتے اور آپ کسی کھانے کے ذائقے کی مذمت نہ کرتے، نہ اسے کھاتے اور نہ اس کی تعریف کرتے، اور آپ غضب ناک نہ ہوتے مگر جب حق کا معاملہ آتا تو آپ بدلہ لیتے، اپنے لیے غصے میں نہ آتے اور نہ بدلہ لیتے، نرمی فرماتے اور جب اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے اشارہ کرتے۔ اور جب تعجب کرتے تو اسے الٹ دیتے اور جب ناراض ہوتے اعراض کرتے اور پھرجاتے اور جب خوش ہوتے تو اپنی نگاہ کو جھکالیتے، آپ کا ہنسنا تبسم سے ظاہر ہوتا جب ختم ہوجاتا جیسے بادل چھٹ جاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ رسول اکرم ﷺ اپنی امت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ 2۔ رسول معظم ﷺ اپنی امت کے لیے بہت فکر مند رہتے تھے۔ 3۔ رسول معظم ﷺ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ 4۔ رسول کریم ﷺ کو اپنے ساتھیوں کی تکلیف بڑی گراں گزرتی تھی۔ 5۔ رسول محترم ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی کرنے، رحم فرمانے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ نبی اکرم مومنوں کے ساتھ شفیق و مہربان ہیں۔ (التوبۃ : 128) 2۔ ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا ہے۔ (الانشراح : 4) 3۔ ہم نے آپ کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء : 107) 4۔ ہم نے آپ کو جہان والوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : 28) 5۔ ہم نے آپ کو دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : 46) 6۔ آپ تمام انسانوں کے نبی ہیں (الاعراف : 158) 7۔ آپ خا تم المرسلین نبی ہیں۔ ( الاحزاب : 40 ) 8۔ آپ رسولوں میں سے ہیں، اور آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ (یٰس : 3۔ 4)
Ayah 9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

” پھر اگر وہ منہ موڑیں تو فرما دیں مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ “ (129)

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی کریم ﷺ ! آپ کے اخلاص، بےمثال جدوجہد، ہمدردی اور خیر خواہی کے باوجودلوگ انحراف کرتے ہیں تو آپ کو ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کو ہر حال میں اپنے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ اس سورة مبارکہ کے آخر میں نبی پاک کو تسلی دینے کے ساتھ یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ مشرکین اور کفار کی طرف سے اعراض ہو یا ان کی طرف سے آپ کے بارے میں عدم توجہ اور انحراف۔ آپ کو کسی صورت میں بھی دل چھوٹا اور حوصلہ نہیں ہارنا کیونکہ آپ عرش عظیم کے مالک کے نمائندہ ہیں اس لیے آپ کو لوگوں کی مخالفت اور ان کی عدم توجہ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ آپ کی دعا، عقیدہ اور عمل یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مدد کرنے والا نہیں اور اسی پر میرا بھروسہ ہے جو عرش عظیم کا رب ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس بنا پر دنیا کا کوئی خوف اور لالچ مومن کے قدموں میں تزلزل پیدا نہیں کرسکتا یہی عقیدہ اور وظیفہ ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جھونکا جارہا تھا تو ملائکہ آکر ان کو پیش کش کرتے ہیں کہ اگر آپ حکم فرمائیں تو یہ آگ نمرود اور اس کے ساتھیوں پر الٹا دی جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ کیا ایسا کرنے کا میرے رب نے حکم دیا ہے ملائکہ نے کہا کہ اب تک حکم نازل نہیں ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ” حسبی اللّٰہ “ مجھے اللہ ہی کافی ہے۔ ادھرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب پر بھروسہ اور اعتماد کی انتہا کردی ادھر آسمان سے آگ کو حکم نازل ہوا۔ (وَقُلْنَا یَا نَارُوکُوْنِیْ بَرْدًا وَسَلاَمًا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ )[ الانبیاء : 69] ” اور ہم نے کہا اے آگ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ “ یہی وہ وظیفہ اور عقیدہ ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ ایک غزوہ سے واپس آرہے تھے تو دوپہر کے وقت ایک درخت کے نیچے استراحت فرما تھے۔ اچانک ایک بدو نے آپ کی تلوار پکڑ کر یہ کہتے ہوئے آپ کے سر پر لہرائی کہ اے محمد ! تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا مجھے اللہ بچانے والا ہے بدو کا وجود کانپنے لگا اتنے میں آپ نے اس سے تلوار اچک لی اور فرمایا تجھے کون بچائے گا ؟ اس نے معذرت کی اور حلقہ اسلام میں داخل ہوا۔ یہی وہ عمل اور ذکر ہے کہ جب احد کے میدان میں صحابہ کرام ؓ کو شکست ہوئی اور وہ زخمی حالت میں مدینہ پہنچے تو کفار کے سردار ابو سفیان کا پیغام آیا کہ ہم مدینہ میں پہنچ کر تمہیں تہس نہس کرنے والے ہیں۔ اس کے رد عمل میں صحابہ کرام ؓ ” حسبنا اللہ “ پڑھتے ہوئے کفار کے لشکر کے تعاقب میں نکلے جس کے نتیجہ میں ابوسفیان نے مکہ کی راہ لینے میں عافیت سمجھی اور صحابہ کرام ؓ اپنے مقصد میں کامیاب مدینہ پلٹے۔ (وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ إِنَّ اللَّہَ بَالِغُ أَمْرِہِ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا ) [ الطلاق : 3] ” جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے اور ہر چیز کا اللہ نے اندازہ مقرر فرمایا ہے۔ “ مسائل 1۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 2۔ صرف اللہ ہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے عرش کا مالک ہے۔ 4۔ سب لوگ منہ موڑ جائیں تو مومن کے لیے اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ تفسیر بالقرآن مومن کو اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرنا چاہیے : 1۔ مومن کو اللہ پر توکل کرنے کا حکم ہے۔ (المجادلۃ : 10) 2۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67) 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129) 4۔ جب کسی کام کا ارادہ کرلو تو اللہ پر توکل کرو۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 59) 5۔ اللہ کی عبادت کرو اور اسی پر توکل کرو۔ (ہود : 123) 6۔ اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ : 23) 7۔ اللہ پر توکل کیجیے، وہی کارساز کافی ہے۔ (الاحزاب : 3) 8۔ اللہ پر توکل کرو یقیناً آپ واضح حق پر ہیں۔ (النمل : 79) 9۔ اس ذات پر توکل کرو جو زندہ ہے اور اسے موت نہیں آئے گی۔ (الفرقان : 58)