8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الانفال کا تعارف انفال کا معنی ہے غنیمت کا مال۔ یہ سورة دس رکوع ٧٥ آیات اور ١٠٧٥ کلمات پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز ہی انفال کے متعلقہ سوال سے کیا گیا ہے۔ اس کی تمام آیات مدینہ یا اس کے گرد ونواح میں نازل ہوئیں ہیں۔ سورة کے واقعات اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس کے بنیادی مسائل اور مرکزی مضامین درج ذیل ہیں۔ ١۔ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ ٢۔ مال غنیمت پر قانونی حق اللہ اور اس کے رسول کا ہے اس کی تقسیم مجاہد کی مرضی پر نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے مطابق ہونی چاہیے۔ ٣۔ بدر کی فتح اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کا نتیجہ ہے ملائکہ کی کمک تو مجاہدین کے حوصلے بڑھانے کا بہانہ تھا۔ ٤۔ بدر کے معرکہ کا مقصد اللہ کا کلمہ بلند کرنا اور کفار کا غرور خاک میں ملانا تھا۔ ٥۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں کسی قسم کی خیانت نہیں ہونی چاہیے۔ ٦۔ اللہ ہی مومنوں کا مولیٰ اور بہترین مددگار ہے۔ ٧۔ مال غنیمت میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے۔ ٨۔ حالات جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنے کا حکم ہے۔ ٩۔ آپس کے اختلاف سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے ساکھ اکھڑ جاتی ہے۔ ١٠۔ شیطان اپنے کارندوں کی نظروں میں ان کے اعمال خوبصورت کر کے دکھاتا ہے۔ ١١۔ میدان بدر میں مسلمانوں کے جوش اور ملائکہ کی مدد دیکھ کر شیطان بھی ڈر کے مارے بھاگ گیا تھا ١٢۔ جب تک لوگ نعمتوں کی ناشکری نہ کریں اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کو زحمت میں تبدیل نہیں کرتا۔ ١٣۔ اہل مکہ کا کردار اور آل فرعون کے کردار میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دونوں کا اپنے اپنے انداز میں ہولناک انجام ہوا۔ ١٤۔ اللہ کے نزدیک پوری مخلوق میں کون بد ترین مخلوق ہے۔ ١٥۔ سربراہ قوم کو اپنی قوم ہر وقت جہاد پر آمادہ رکھنا چاہیے۔ ١٦۔ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں اپنے گھوڑے جہاد کے لیے تیار رکھنے چاہیں۔ ١٧۔ کفار ایک دوسرے کے دوست اور مسلمان آپس میں خیر خواہ اور بھائی بھائی ہیں۔

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں فرما دیں غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں پس اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔ “ (1)

فہم القرآن عربوں کے ہاں یہ اصول تھا کہ جنگ میں شریک ہونے والے شخص کے جو ہاتھ آتا وہ اسی کا مال سمجھا جاتا تھا غزوۂ بدر میں جب مسلمانوں کو مال غنیمت ہاتھ آیا تو اس کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس جنگ میں کچھ صحابہ ] رسول معظم ﷺ کے کیمپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ ایک گروہ نے بھاگتے ہوئے کفار کا تعاقب کیا اور دوسروں نے مال غنیمت جمع کیا۔ اس صورت حال میں مال غنیمت جمع کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ یہ مال و اسباب ہم نے جمع کیا لہٰذا قدیم اصول کے مطابق اس کا استحقاق ہمارے سوا کسی کو نہیں ہے اس پر کچھ صحابہ ] نے نبی معظم سے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں سوال کیا۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ انھیں بتلائیں کہ یہ مال اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔ جس میں دو حکمتیں پنہاں ہیں۔ 1۔ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تابع ہو اس لیے اس کے حقیقی مالک اللہ اور اس کے رسول ہیں۔ 2۔ تمہاری اکثریت گھروں سے قتال کے ارادے سے نہیں نکلی تھی یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت کے تحت تمہیں تمہارے گھروں سے نکال کر یہاں لاکھڑا کیا ہے اس لیے یہ مال انفال کا درجہ رکھتا ہے۔ جو مال مسلمانوں کو حالت جنگ میں ملتا ہے اس کے بارے میں قرآن مجید میں تین الفاظ پائے جاتے ہیں : 1۔ انفال 2۔ فئی 3۔ غنیمت اہل علم نے ان الفاظ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انفال نفل کی جمع ہے جس کا معنی زائد چیز ہے اس لیے فرض عبادت کے علاوہ دوسری عبادت کو نفلی عبادت کہا جاتا ہے۔ مجاہد کے سامنے مال کے بجائے اعلائے کلمۃ اللہ کا مقصد ہوتا ہے اس کے لیے مال ایک زائد چیز ہے جس کی وجہ سے انفال کہا گیا ہے۔ 1۔ کفار کا جو مال بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ آئے اسے مال فئی کہا جاتا ہے۔ (الحشر : 6 ) 2۔ غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو باضابطہ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ آئے اسے غنیمت کہا جاتا ہے۔ لیکن عمومی طور پر تمام اموال کو مال غنیمت ہی شمار کیا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ اصول بیان ہوا۔ پورے مال میں اللہ اور اس کے رسول کا پانچواں حصہ ہوگا۔ (الانفال، آیت : 41) اس جواب کے بعد یہ ہدایات دی گئیں کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کرتے رہو اور ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لیے کمر بستہ رہو اگر تم حقیقتاً ایمان رکھنے والے ہو۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ )[ رواہ مسلم : کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمام انبیاء (علیہ السلام) پر چھ فضیلتیں عنایت کی گئیں : 1۔” مجھے جوامع الکلم کی صلاحیت عطا کی گئی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی رعب اور دبدبہ سے میری مدد فرمائی۔ 3۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا۔ 4۔ میرے لیے ساری زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا۔ 5۔ مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا۔ 6۔ مجھ پر سلسلۂ نبوت ختم کردیا گیا۔ “ مسائل 1۔ غنائم اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ 2۔ آدمی کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ مسلمانوں کو اپنی اصلاح پر توجہ رکھنی چاہیے۔ 4۔ سچے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے فائدے : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ایمان کی نشانی ہے۔ (الانفال : 1) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت باعث رحمت ہے۔ (التوبۃ : 71) 3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ (النور : 52) 4۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (النساء : 13) 5۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صلحاء شہداء، اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء : 69)
Ayahs 8:2–3

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

” مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (2)

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3)

فہم القرآن ربط کلام : انفال کے بارے میں ابتدائی حکم دینے کے بعد مومن کی صفات کا بیان اور اس کا صلہ۔ پہلی آیت میں ایک سوال کا جواب دینے کے بعد مسلمانوں کو جامع ہدایات دی گئی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان میں یہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن سے وہ پکا مومن بن جاتا ہے۔ درجات بلند ہونے کے ساتھ مومن کو اللہ کی طرف سے اس کی بخشش اور بہترین رزق کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام ] نے مال غنیمت کی تقسیم کا حکم سنتے ہی ایک ایک چیز رسول اکرم ﷺ کے حوالے کی اور دل و جان سے اس پر راضی ہوگئے۔ اس پر ان کی تعریف کرتے ہوئے مزید تاکید کی گئی ہے کہ مومن تو وہ ہیں کہ جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو ان کے دل موم سے زیادہ نرم ہوجاتے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے اس کی آیات تلاوت کی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ عسر اور یسر میں اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کر رکھا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہی لوگ پکے اور سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔ اگر ان سے کوئی گناہ سرزدہو جائے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنے کرم سے معاف کردیتے ہیں۔ ان کے لیے نہایت ہی عمدہ رزق تیار کیا گیا ہے یعنی جنت کی نعمتوں کے ساتھ دنیا میں رزق کی فراخی نصیب ہوگی۔ صحابہ کرام ] اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سمجھ کر مال غنیمت کی تقسیم پر راضی ہوئے اس پر انھیں رزق کریم کی خوشخبری دی گئی۔ جس کے صلہ میں وہ دنیا میں کثیر مال و اسباب کے مالک ہوئے اور قیامت کے دن انھیں جنت کی نعمتوں سے مالا مال کیا جائے گا جو مسلمان بھی ان اوصاف کا حامل ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ان نعمتوں کے ساتھ سرفراز فرمائے گا۔ ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام اور زبانی جسمانی ذکر ہے۔ مسائل 1۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی آیات سن کر اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2۔ مومنوں کو ہر حال میں اپنے رب پر توکل کرنا چاہیے۔ 3۔ مسلمان کو نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ 4۔ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے درجات، بخشش اور عمدہ رزق ملے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رزق کریم : 1۔ مومنوں کے لیے رب کے پاس درجات، بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الانفال : 4) 2۔ نیک اعمال کرنے والوں کا بدلہ بخشش اور رزق کریم ہے۔ (سبا : 4) 3۔ ایمان دار نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج : 50) 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے دوہرا اجر اور رزق کریم تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب : 31) 5۔ یہ لوگ مبرا ہیں ان کی باتوں (بہتان طرازی) سے ان کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (النور : 26)
Ayahs 8:4–6

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی لوگ سچے مومن ہیں انہی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور بہترین رزق ہے۔ “ (4)

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

” جس طرح آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ مومنوں کی ایک جماعت ناپسند کرنے والی تھی (5)

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑتے تھے اس کے بعد کہ وہ صاف واضح ہوچکا تھا، جیسے انہیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ (6)

فہم القرآن ربط کلام : انفال کے بارے چند بنیادی احکام کے بعد غزوۂ بدر کی چند تفصیلات کہ غنیمتیں کیوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ رسول محترم اور آپ کے عظیم رفقاء نے مکہ میں تیرہ سال بےپناہ مصائب و آلام کا سامنا کیا بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے مکہ والوں نے آخر وقت تک آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر و سلامتی کے ساتھ آپ کو مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ یہاں پہنچ کر رسول معظم ﷺ نے مسلمانوں میں مواخات قائم فرمائی اور یہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا۔ جس میں فریقین کے حلیف قبیلے بھی شامل تھے۔ عبداللہ بن ابی جسے آپ کی آمد سے پہلے اہل مدینہ نے اپنا سربراہ بنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ آپ کی تشریف آوری کی وجہ سے اس منصب سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔ اس نے آپ کی شخصیت اور منصوبہ بندی سے مرعوب ہو کر بظاہر کلمہ پڑھا۔ منافقت کا لبادہ پہن کر مدینہ کے یہودیوں اور مکہ والوں کے ساتھ ساز باز کا منصوبہ بنایا جس بنا پر مکہ والوں کو مدینہ کے بارے میں پل پل کی خبر دیا کرتا تھا۔ عقیدے کا اختلاف اور رسول محترم ﷺ کا اہل مکہ سے بچ نکلنا اور مدینہ میں آپ کی منصوبہ بندی کو اہل مکہ کس طرح برداشت کرسکتے تھے اس لیے انھوں نے خفیہ طور پر مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا جس کے لیے کثیر سرمایہ کی ضرورت تھی اسی خاطر انھوں نے
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کررہا تھا اور تم چاہتے تھے۔ کہ جو غیر مسلح گروہ ہے وہ تمہیں ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنے احکام کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑکاٹ دے۔ (7)

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ وہ حق کو سچا کردے اور باطل کو جھوٹا کردے، خواہ مجرم ناپسند ہی کریں۔ “ (8)

شام کے لیے ایک تجارتی قافلہ تیار کیا کہ جس کی رقم کا پیشتر حصہ مدینہ فتح کرنے پر لگانا تھا ادھر نبی محترم بھی مکہ والوں کی سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ تھے جناب عباس اور کچھ دوسرے لوگ نبی ﷺ کو مکہ کے حالات سے باخبر رکھتے تھے۔ آپ کو تجارتی قافلہ کی غرض وغایت کا علم ہوا تو آپ نے اس قافلہ پر شبخون مارنے کا فیصلہ کیا۔ حالات کی تیزرفتاری کی وجہ سے آپ نے اعلان فرمایا کہ جو لوگ بھی اس ایمر جنسی میں تیار ہوسکتے ہیں وہ ہمارے ہم رکاب ہوجائیں۔ آپ کے اس فیصلے کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ آپ کے رب نے ہی آپ کو آپ کے گھر سے نکالا تھا۔ یہاں گھر سے مراد مدینہ طیبہ کا گھر اور شہر ہے۔ بدر مدینہ طیبہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر دور تھا جب آپ بدر کے مقام کے قریب پہنچے تو آپ کے مخبروں نے آپ کو اطلاع دی کہ قافلہ جرنیلی راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کرکے یہاں سے نکل چکا ہے۔ راستہ تبدیل کرنے سے پہلے مکی قافلہ کے سربراہ ابو سفیان نے مکہ والوں کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے پیغام بھیجا کہ فوری طور پر قافلے کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ مکہ والے پہلے ہی ادھار کھائے بیٹھے تھے اس لیے ابو جہل نے حفاظتی دستہ بھیجنے کے بجائے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابو سفیان کا نمائندہ مکہ پہنچا تو اس نے قدیم روایت کے مطابق شدید ترین ہنگامی صورت حال کا تاثر دینے کے لیے اپنی سواری کا ناک چیر ڈالا اپنا گریبان چاک کیا اور مکہ کے شاہر اہوں میں کھڑے ہو کر دہائی دی کہ قافلہ لٹنے ہی والا ہے۔ اس پر مکہ کے ایک ہزار سورما مرنے مارنے کے لیے تیار ہوگئے۔ رسول معظم ﷺ نے بدر کے قریب جا کر اپنے ساتھیوں کو تجارتی قافلے اور مکہ کے لشکر کے بارے میں بتلایا۔ اور مشورہ طلب کیا کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ اس پر تین سو تیرہ مجاہدین فکری طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک حصہ کا خیال تھا جس قافلہ کے لیے ہم آئے تھے وہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ہم تھوڑے اور بےسروسامان ہیں۔ اس لیے ہمیں واپس پلٹ جانا چاہیے۔ دوسرے فریق کا نکتہ نگاہ اس کے برعکس تھا۔ اس صورت حال میں آپ نے وقفہ، وقفہ کے بعد تین چار مرتبہ صحابہ سے فرمایا : اَشِیْرُوْا عَلیٰ ہٰذَا اَیُّہَا النَّاس لوگو مجھے مشورہ دو ۔ جس پر حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ﷺ ہم آخر دم تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ لیکن آپ کا مطمع نظریہ تھا کہ انصار کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔ جس کی مؤرخین نے یہ توجیہ بیان کی ہے کہ بیعت عقبہ کے موقع پر یہ بات طے پائی تھی کہ آپ ہجرت کرکے مدینہ آئیں اگر کوئی آپ پر حملہ آور ہوا تو انصار اس کا دفاع کریں گے۔ اس لیے آپ نے مناسب جانا کہ انصار بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ جونہی انصار نے آپ کا نقطہ نظر جانا تو وہ تڑپ گئے۔ ان کے نمائندے سعد بن معاذ ؓ نے اٹھ کر عرض کی یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اگر آپ ہمیں سمندر میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں تو ہمیں اس کے لیے بھی تیار پائیں گے۔ کل جب دشمن سے مقابلہ ہوگا تو ہم اس طرح اپنی جان پر کھیل جائیں گے۔ جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی پھر حضرت مقداد ؓ اٹھے اور انھوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ آپ ہمیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح نہیں پائیں گے جنھوں نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ! آپ اور آپ کا خدا لڑیں ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ اے اللہ کے رسول ! آپ حبشہ کے دو دراز علاقہ ” برق الغماد “ تک جانا چاہیں تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان جذبات اور بھرپور تائید کے ساتھ آپ نے بدر کی طرف پیش قدمی فرمائی۔ جس کی تائید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور بدر کی طرف روانہ ہونا۔ اللہ تعالیٰ ہی کا آپ کو حق کے ساتھ نکالنا تھا۔ حق سے مراد دین کی سربلندی کے لیے بروقت نکلنا اور صحیح فیصلہ کرنا ہے۔ حضرت مقدار ؓ کا دلیرانہ جواب : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ ؓ یَوْمَ بَدْرٍ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَاءِیلَ لِمُوسٰی فَاذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا ہَا ہُنَا قَاعِدُونَ وَلَکِنْ امْضِ وَنَحْنُ مَعَکَ فَکَأَنَّہُ سُرِّیَ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب قول اللّٰہ اذ تستغیثون ربکم ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں حضرت مقداد ؓ نے بدر کے دن رسول معظم ﷺ سے کہا ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہا تھا تم اور تمہارا پروردگار دونوں جاؤ اور لڑو۔ ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں آپ نکلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں رسول معظم ﷺ اس بات سے خوش ہوگئے۔ “ یہاں جھگڑا کرنے سے مراد بحث و تکرار ہے۔ صحابہ ؓ کی دوسری جماعت کا خیال تھا کہ ہم سراسر موت کے منہ میں جا رہے ہیں اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن کہہ رہا ہے کہ گویا کہ وہ موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ دو جماعتوں میں کوئی ایک جماعت تمہارے ہاتھ لگے گی۔ یعنی تجارتی قافلہ یا مکہ کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ آج حق کو اپنے حکم کے ساتھ بالا کر دے اور کفار کی جڑ کاٹ دے حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے فیصلہ اور امتیاز ہوجائے خواہ یہ بات مجرموں کے لیے کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو ثابت کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کو غزوۂ بدر کے لیے نکالا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مومنین کو مشکل وقت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ حق کو سچا ثابت کرتا ہے اگرچہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناپسند ہو۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے وعدے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ زمین میں خلیفہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ (النور : 55) 2۔ مومنوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ (المائدۃ : 9، الفتح : 29) 3۔ اللہ تعالیٰ مومن مرد مومن عورتوں کے ساتھ جنت کا وعدہ کرتا ہے۔ (التوبۃ : 72) 4۔ ہر مومن کے ساتھ اللہ نے اچھا وعدہ فرمایا ہے۔ (النساء : 95) 5۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ (ابراہیم : 22) 6۔ اے اللہ ہمیں اس جنت میں داخل فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ (المومن : 8) 7۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ (آل عمراٰن : 9) 8۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یونس : 55) 9۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں مبتلانہ کرے۔ (فاطر : 5) 10۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر سچی بات کرنے والا ہو۔ (النساء : 122) 11۔ اللہ نے تمہارے ساتھ اپناوعدہ سچا کر دکھایاجب تم کفار کو اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے۔ (آل عمراٰن : 152)
Ayahs 8:9–12

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

” جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں جو یکے بعد دیگرے آنے والے ہیں۔ (9)

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمہارے دل مطمئن ہوں اور نہیں ہے مدد مگر اللہ کی طرف سے۔ بیشک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (10)

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے اپنی طرف سے تم پر اونگھ طاری فرمائی خوف دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی اتارتا کہ اس کے ساتھ تمہیں پاک کردے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کرے تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور قدموں کو جما دے۔ “ (11)

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

” جب آپ کا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ان ایمان والوں کو جمائے رکھو عنقریب میں کفار کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، پس ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور ان کے جوڑ، جوڑ کو مارو۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بےکسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکہ کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی جذبات کے ساتھ اہل مکہ نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ نبی ﷺ کی دعا کے بارے میں جمع کا جو لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جس میں صحابہ کرام ؓ کو شامل فرمایا گیا ہے۔ امام رازی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ دعا کرتے تھے اور آپ کے کیمپ میں موجود صحابہ آمین کہتے تھے اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو فطرت کے زیادہ قریب ہے کہ تمام صحابہ رات کے وقت اپنے اپنے مقام پر اللہ تعالیٰ سے آرزوئیں کرتے رہے کہ اے مولائے کریم ! صبح دشمن کے مقابلے میں ہمیں کامیابی نصیب فرمانا۔ کوئی جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جاسکتی جب تک فوج کا ایک ایک سپاہی اپنی کامیابی اور دشمن کو ختم کرنے کے جذبات سے لبریز نہ ہو۔ اسی جذبہ کی یہاں ترجمانی کی گئی ہے کہ جب آپ اور آپ کے صحابہ اپنے رب کی بار گاہ میں فتح کی التجائیں کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعے انھیں ایک ہزار فرشتے نازل کرنے کی خوشخبری سنائی۔ (آل عمران 123، 124) یہ کمک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد، ان کے لیے فتح کی خوشخبری کا پیش خیمہ اور اطمینان قلب کا ذریعہ بنی۔ مدد کے لیے فرشتہ تو ایک ہی کافی تھا لیکن انسانی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے پے درپے اس مدد میں اضافہ فرما کر نہتے اور کمزور صحابہ ؓ کو شیروں سے زیادہ بہادر اور طاقت ور بنا دیا اور پھر اس کے ساتھ یہ کرم بھی فرمایا کہ رات کو تمام صحابہ ؓ کو خوب نیند آئی حالانکہ حالت جنگ میں نیندبہت ہی کم آیا کرتی ہے۔ کیونکہ خوف و خطر کی بنا پر اعصاب میں شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ مزید اللہ کا یہ کرم ہوا کہ رات کو اچھی خاصی رحمت کی برکھا برسی جس سے میدان جنگ کی صورت حال واضح طور پر صحابہ کے حق میں ہوگئی اس سے پہلے اسلامی فوج میدان کے اوپر کی طرف تھی جو ریت اور ڈھلوان ہونے کی وجہ سے پاؤں کے پھسلنے کا مقام تھا۔ بارش ہونے کی وجہ سے کفار کا میدان دلدل بنا اور صحابہ ؓ کا حصہ ریت جمنے کی وجہ سے سخت ہوگیا۔ صحابہ ؓ نے بارش کا پانی جمع کرلیا جس سے صحابہ نے وضو اور غسل کیے۔ اس سے صحابہ اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر بھی تازہ دم محسوس کر رہے تھے۔
Ayahs 8:13–14

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

” یہ اس لیے کہ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔ (13)

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ ہے ا سے چکھو اور جان لو کہ کافروں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ “ (14)

اس طرح قلبی اطمینان، ذہنی آسودگی، جسمانی نشاط اور ملائکہ کی کمک کی وجہ سے مجاہد قدم جما کر لڑے۔ اس دوران یہ وحی بھی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا ہے۔ گویا کہ وہ پوری طرح تم سے مرعوب ہوگئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھ کر ان کی گردنیں کاٹو اور جوڑ جوڑ کو نشانہ بناؤ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے باغی ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہوگا اس کو دنیا کی سزا کے ساتھ آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جس طرح بدر میں انھیں مارنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی طرح جہنم کی آگ میں جھونکتے ہوئے ملائکہ انھیں کہیں گے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیوں کا مزا ہمیشہ چکتے رہو۔ ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔۔ یہ فلاں شخص کی قتل گاہ ہے یہ فلاں شخص کی جگہ ہے آپ نے اپنا دست مبارک زمین پر رکھ کر بتایا۔ انس ؓ کہتے ہیں کافروں میں سے کوئی بھی دوسری جگہ نہیں گرا تھا جہاں جہاں رسول مکرم ﷺ نے دست مبارک رکھا تھا۔ “ [ رواہ مسلم ] (عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ وَقَفَ النَّبِیُّ ﷺ عَلٰی قَلِیبِ بَدْرٍ فَقَالَ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُمْ الْآنَ یَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ فَذُکِرَ لِعَاءِشَۃَ ؓ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّہُمْ الْآنَ لَیَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُولُ لَہُمْ ہُوَ الْحَقُّ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی حَتّٰی قَرَأَتْ الْآیَۃَ ) [ رواہ البخاری ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ بدر کے کنویں کے قریب کھڑے ہو کر پوچھ رہے تھے جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا کیا اس کو تم نے سچا پایا ہے ؟ پھر فرمایا بلاشبہ یہ اس وقت سن رہے ہیں جو میں انہیں کہہ رہا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا بیشک ان لوگوں کو اب معلوم ہوگیا جو میں انھیں کہتا تھا وہ سچ ہے پھر اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔ ” آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے “ یہاں تک کہ مکمل آیت کی تلاوت کی۔ “ مقصد یہ تھا کہ اصل اصول یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے لیکن آج یہ میری بات سن رہے ہیں۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ أَخَذَ یُحَدِّثُنَا عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بالْأَمْسِ قَالَ ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاء اللّٰہُ غَدًا قَالَ عُمَرُ وَالَّذِی بَعَثَہُ بالْحَقِّ مَا أَخْطَءُوا تیکَ فَجُعِلُوا فِی بِءْرٍ فَأَتَاہُمْ النَّبِیُّ ﷺ فَنَادٰی یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّی وَجَدْتُّ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاح فیہَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب أرواح المؤمنین ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ہم حضرت عمر ؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر میں تھے وہ ہمیں اہل بدر کے متعلق بتانے لگے۔ رسول معظم ﷺ نے وہ جگہیں متعین فرمائیں ہمیں دکھانے کے لیے جہاں اگلے دن کافروں نے قتل ہونا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو فلاں کے قتل ہونے کی جگہ ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا کافر مقررہ جگہوں سے ذرا بھی نہیں ہٹے تھے انہیں کنویں میں پھینک دیا گیا۔ کنویں کے پاس نبی معظم ﷺ آئے اور انہیں آواز دیتے ہوئے فرمایا اے فلاں بن فلاں، اے فلاں بن فلاں کیا تم سے تمہارے رب نے اور جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا ہے۔ بلاشبہ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچ پا یا ہے۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں لاشوں کے ساتھ باتیں ہوئیں جبکہ ان میں روحیں نہیں تھیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں جو میں ان سے کہہ رہا ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں فرشتوں کے ذریعے مدد کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت مختلف انداز سے نازل فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے سوا کوئی مدد کرنے والا نہیں : 1۔ نہیں ہے تمہارا کوئی اللہ کے سوا دوست اور نہ مددگار۔ (البقرۃ : 107) 5۔ نہ ملے ان کو اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مددگار۔ (الاحزاب : 17) 2۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار جو تمہاری مدد کرسکے۔ (ھود : 13) 3۔ نہیں ہے ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار۔ (التوبۃ : 74) 4۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ : 4)
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم لشکر کی صورت میں کفار سے ملو تو پیٹھ نہ پھیرو۔ (15)

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جنگ کے دن جو کوئی کفار سے اپنی پیٹھ پھیرے ماسوائے اس کے جو لڑائی کے لیے پینترا بدلنے والا ہو یا جماعت کے ساتھ ملنے والاہوتو یقیناً وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کا بیان جاری ہے۔ زمانۂ قدیم اور آج بھی بنیادی طور پر جنگ دو طرح لڑی جاتی ہے۔ گوریلا وار، اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے برسرپیکار ہونا۔ بدر کا معرکہ فریقین کے آمنے سامنے کی لڑائی تھی۔ جس کے لیے ” زَحْفاً “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ زحفا بچے کے گھسٹ گھسٹ کر چلنے کو کہا جاتا ہے۔ لشکر بڑا ہو تو وہ بھی اپنے ساز و سامان کے ساتھ سست رفتاری سے چلتا ہے۔ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور ان کے ساتھ گھوڑے، خچر اور اونٹ بھی تھے۔ جس کی نقشہ کشی لفظ ” زَحْفاً “ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب دشمن سامنے ہو یا مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو اس صورت میں پیٹھ پھیر کر بھاگنے کے بجائے جان پر کھیل جانا چاہیے۔ جو مجاہد دشمن کے مقابلے میں پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹے گا۔ اگر وہ اسی حالت میں مرجائے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا کیونکہ اس نے اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے مفاد پر اپنے آپ اور اپنے مفاد کو ترجیح دی۔ البتہ جنگی حکمت عملی کے تحت مورچہ چھوڑنا یا ایک محاذ کے بجائے اپنے کمانڈر کے حکم پر دوسرے محاذ پر جانا یا دشمن پر حملہ آور ہونے کے لیے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملنے کی خاطر پیچھے پلٹتا ہے تو اس پر کوئی جرم نہیں۔ کیونکہ حالت جنگ میں یہ تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔ حالت جنگ میں بھاگنا اس لیے سنگین جرم ہے کہ ایک شخص کے بھاگنے سے دوسرے ساتھیوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ اس طرح بھاگنا مسلمان کی غیرت کے منافی ہے۔ جنگ سے فرار موت کے ڈر سے ہوتا ہے۔ جبکہ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے لہٰذا بھاگنا بزدلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا یَا رَسُول اللّٰہِ وَمَا ہُنَّ قَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیمِ وَالتَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَات) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب رمی المحصنات ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ کرام ؓ نے استفسار کیا۔ اے اللہ کے رسول ! وہ کون سی ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی کو ناجائز قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال ہڑپ کرنا، لڑائی کے دن میدان سے بھاگنا، معصوم اور بےگناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ “ مسائل 1۔ مجاہد کو میدان کارزار میں دشمن کے خلاف ڈٹ کر لڑنا چاہیے۔ 2۔ حالت جنگ میں پیٹھ پھیرنا سنگین جرم ہے۔ 3۔ میدان جنگ سے بھاگنے والے پر اللہ کا غضب ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جہاد میں ثابت قدم رہنے کا حکم : 1۔ مسلمانوں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔ (الانفال : 15) 2۔ جب کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں اڑادو۔ (محمد : 4) 3۔ غم نہ کرو تم ہی غالب آؤ گے اگر تم ایماندار ہو۔ (آل عمران : 139) 4۔ اے ایمان والو ! جب کسی لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔ (الانفال : 45)
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

” پھر تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکا جب آپ نے پھینکا لیکن اللہ نے پھینکا تاکہ وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھا انعام عطاکرے۔ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ (17)

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یقیناً اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔ “ (18)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ غزوۂ بدر کی کامیابی کا اصل سبب۔ بدر کے لیے نبی اکرم ﷺ کا اپنے گھر سے نکلنا، بدر کی رات بارش کا ہونا، رات کو مسلمانوں کا پرسکون ہو کر سونا، پے درپے ملائکہ کی کمک کا پہنچنا، کفار پر مسلمانوں کا رعب طاری ہونا، نبی اکرم ﷺ کا مٹھی بھر کنکریوں کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکنا، اللہ تعالیٰ کا کفار کی آنکھوں میں کنکریوں کا پہنچانا۔ سب کے سب اقدام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کا نتیجہ تھے۔ اس لیے بدر کی کامیابی کے بارے میں ارشاد فرمایا اے مسلمانو ! اس کا میابی پر اترانے کے بجائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو یاد رکھو کیونکہ تم تو ہر اعتبار سے کفار کے مقابلے میں کمزور اور ناتواں تھے۔ تم نے کفار کو قتل نہیں کیا یہ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قتل کیا ہے پھر نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے کنکریاں نہیں پھینکیں وہ تو اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہیں گویا کہ ایک ایک کافر کی آنکھ میں کنکریاں جھونکنا۔ نبی اکرم ﷺ کے بس کی بات نہ تھی۔ بدر میں مسلمانوں کو کامیابی سے اس لیے ہمکنار کیا گیا تاکہ ان کو فتح دے کر آزمائے اور دوسری طرف کفار کو ذلیل کردیا جائے۔ دنیا میں یہ پہلا معرکہ تھا کہ اتنے کمزور اور تھوڑے لوگوں نے اپنے سے تین گنابڑی قوت کو نہ صرف شکست دی بلکہ ان کے ستر سر کردہ لوگوں کو جہنم و اصل کرکے ستر آدمیوں کو گرفتار کرلیا جہاں تک اس میں مسلمانوں کی آزمائش کا تعلق ہے۔ اس کے لیے بلاءً حَسَنًا کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ بدر میں عظیم الشان کامیابی دے کر مسلمانوں کو آزمایا گیا اسی لیے سورة الحدید آیت 23 میں یہ اصول بتلایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم سے کوئی چیزلے لے تو زیادہ افسوس نہ کیا کرو اور جب وہ عطا فرمائے تو اس پر فخر و غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آَتٰاکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ )[ الحدید : 23] ” اس لیے کہ جو تمہیں نہ مل سکے اس پر غم نہ کرو اور جو اللہ تمہیں دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ “ (عَنْ أَبِی دَاوُدَ الْمَازِنِیِّ وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا قَالَ إِنِّی لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِّنْ الْمُشْرِکِینَ لِاَضْرِبَہٗ إِذْ وَقَعَ رَأْسُہٗ قَبْلَ أَنْ یَصِلَ إِلَیْہِ سَیْفِی فَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ قَتَلَہٗ غَیْرِی) [ رواہ أحمد ] ” حضرت ابی داؤد المازنی ؓ جو کہ بدر کے معرکہ میں شامل تھے بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مشرک کے پیچھے اسے قتل کرنے کے لیے بھاگ رہا تھا کہ اچانک میرے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی گردن کٹ گئی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اسے کسی اور نے قتل کیا ہے۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ یَوْمَ بَدْرٍ ہٰذَا جِبْرِیلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِہٖ عَلَیْہِ أَدَاۃُ الْحَرْبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرا ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا یہ جبرائیل ہیں جنہوں نے اپنے گھوڑے کی پیشانی پکڑی ہوئی ہے اور اس پر اسلحہ رکھا ہوا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کبھی دے کر آزماتا ہے اور کبھی لے کر آزماتا ہے۔ 2۔ آزمائش کبھی نعمت کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی بیماری اور نقصان کی صورت میں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں بھی ذلیل کردیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار کی تدابیر کی حقیقت : 1۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے تدبیر کی اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔ (الانفال : 30) 2۔ انکے مکر کا انجام دیکھو ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : 51) 3۔ اللہ نے ان کی خفیہ تدبیروں سے آپ کو محفوظ رکھا۔ (المومن : 45) 4۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے تدبیر کی اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔ (آل عمراٰن : 54)
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

” اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو یقیناً تمہارے پاس فیصلہ آچکا اور اگر باز آجاؤ تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر پھر ایسا کروگے تو ہم بھی یہی کریں گے اور تمہاری جماعت ہرگز تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، خواہ بہت زیادہ ہو اور جان لو کہ بیشک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ “ (19)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدر کی ذلت کے بعد کفار کو انتباہ۔ قریش خاندانی سردار اور بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں معزز اور محترم سمجھے جاتے تھے۔ اس پر انھیں بڑا ناز اور فخر تھا۔ لیکن حق کی پے درپے مخالفت اور بدر میں ذلت ناک شکست کی وجہ سے اس قدر ذلیل ہوئے کہ ان کا نام اور مقام خاک میں مل گیا۔ یہاں مفسرین نے ایک عجب واقعہ نقل کیا ہے کہ بدر کی طرف نکلنے سے پہلے۔ سرداران قریش اور ابو جہل نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے کعبہ کے رب ! تیری نگاہ میں مسلمانوں اور ہم میں جو حق پر ہے اسے کامیابی عنایت فرما۔ (جامع البیان ) ہو سکتا ہے یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس حق کے لیے تم فتح کے طلبگار ہوئے تھے اس حق پر صرف نبی آخرالزمان ﷺ اور آپ کے ساتھی ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے فتح سے ہمکنار فرمایا۔ لہٰذا تمہاری دعا کے نتیجہ میں جب حق ظاہر ہوچکا تو پھر تمہیں اس حق کی مخالفت سے باز آنا چاہیے۔ یہی تمہاری دنیا و آخرت کے لیے بہتر ہے۔ اگر تم باز آنے کے بجائے پھر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے پلٹو گے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی پہلے کی طرح امداد کرے گا اور تمہیں تمہاری عددی قوت اور جنگی ساز و سامان کی کثرت کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا ساتھی ہے۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لیے اپنے وسائل کو یکجا کرکے متحد ہو کر نکلے تو کفار کی کثرت اور ساز و سامان کی بہتات انھیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکی۔ وہ اپنے سے کمزور اور تھوڑے مسلمانوں کے مقابلہ میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوئے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو تو کفار کی کثرت مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ 2۔ اگر کلمہ گو پکے مومن ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہمیشہ مدد فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی مدد کے بغیر جنگ میں اکثریت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی : 1۔ تھوڑی جماعتیں اللہ کی مدد سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں۔ (البقرۃ : 249) 2۔ اے ایمان والو ! جب تمہارا کسی لشکر سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ سے مدد کی دعا کرو۔ (الانفال : 53) 3۔ نہیں ہے کوئی گروہ جو ان کی مدد کرے اللہ تعالیٰ کے سوا۔ (الکہف : 43) 4۔ بدر میں دو جماعتوں کے لڑنے میں تمہارے لیے عبرت تھی۔ اللہ طاقت دیتا ہے اپنی مدد سے جسے چاہتا ہے۔ (آل عمران : 13) 5۔ تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن بن جاؤ۔ ( آل عمران : 139) تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 2۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبۃ : 36) 3۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ (النساء : 146) 4۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128) 5۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128)
Ayahs 8:20–22

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس سے منہ نہ پھیرو جب کہ تم سن رہے ہو۔ (20)

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ (21)

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک تمام جانوروں سے برے وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں وہ سمجھتے نہیں۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر پر تبصرہ کے بعد مومنین کو ہدایات۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جب تک مومن اس مشن پر کاربند رہے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اس کے شامل حال رہے گی۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سورة الاحزاب آیت 71 میں فرمایا جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا سورة محمد، آیت : 33 میں حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کی نافرمانی کرکے اپنے اعمال ضائع نہ کرنا۔ سورة النور، آیت : 51 میں ارشاد ہوا کہ مومن تو وہ ہیں جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف بلایا جائے تو وہ یہ کہتے ہوئے سرتسلیم خم کرتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں سے بچ جائے وہی لوگ بامراد ہوں گے۔ (النور : 51 تا 52) یہاں یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ حکم سننے کے باوجود انحراف نہ کرو کسی بات کو تسلیم کرنے کے تین مدارج ہوتے ہیں۔ بات کو اچھی طرح سننا۔ اس پر غور کرنا۔ اس پر پورے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں جب تک تینوں باتیں شامل نہ ہوں۔ اطاعت کا حق ادا نہیں ہوتا اس لیے حکم فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا۔ حالانکہ وہ سننے والے نہیں ہیں ایسا کرنے والوں سے مراد کافر، منافق اور وہ کلمہ گو بھی اس میں شامل ہوں گے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم سننے کے باوجود اس طرح زندگی گزارتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم سنا ہی نہیں۔ ان کی مثال تو دوّاب کی ہے جو دابۃ کی جمع ہے جس کا معنی ہے زمین پر چلنے والے جانور جو بہرے، گونگے اور بےعقل ہیں جنھیں کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور سونے، جاگنے کے سوا کوئی فکر نہیں ہوتی۔ یہی طرز زندگی ان لوگوں کا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی بات سنتے ہیں مگر اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ مسائل 1۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے کے باوجود اس پر عمل نہ کرنا جانوروں کا طرز حیات ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال : 46) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : 132) 3۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (محمد : 33) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ : 92) 5۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور صاحب امر کی اطاعت کرو۔ (النساء : 59) چوپاؤں اور جانوروں سے بدتر لوگ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی انھیں بہرے اور اندھے کردیا ہے۔ (محمد : 23) 2۔ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں وہ رجوع نہیں کرتے۔ (البقرۃ : 18) 3۔ ہماری آیات کا انکار کرنے والے بہرے اور گونگے ہیں۔ (الانعام : 39) 4۔ بہروں کو آپ نہیں سنا سکتے کیونکہ وہ بےعقل ہیں۔ (یونس : 42) 5۔ آپ مردوں اور بہروں کو اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ (النمل : 80) 6۔ کفار چوپائے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ (الاعراف : 179)
Ayahs 8:23–24

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

” اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں ضرور سنوا دیتا اور اگر وہ انہیں سنوا دیتا تو بھی وہ منہ پھیرجاتے کیونکہ وہ منہ پھیرنے والے ہیں۔ (23)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسول کی دعوت قبول کرو، جب وہ تمہیں اس چیز کے لیے دعوت دے جو تمہیں زندگی بخشتی ہے اور جان لو کہ بیشک اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے اور یہ کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ “ (24)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق نہیں سننا چاہتے تو نہ سنیں۔ اے مومنوں تمہیں ضرور اللہ اور اس کے رسول کی بات سننا اور ماننا چاہیے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا ارشاد سننے کے باوجود ایسا طرز حیات اختیار کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اسے سنا ہی نہیں۔ ان کو جانوروں کے ساتھ تشبیہ دے کر فرمایا یہ عقل و فکر سے عاری ہیں۔ سورة الاعراف آیت 179 میں ان لوگوں کو جانوروں سے بدتر شمار کرتے ہوئے انھیں غافل قرار دیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے اگر اللہ تعالیٰ ان میں خیر کا جذبہ دیکھتا تو ان کو بات سننے، سمجھنے کی توفیق دیتا۔ کیونکہ یہ جانوروں کی طرح محض اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں سمجھتے نہیں۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے۔ اسی لیے انھیں ہدایت سے نہیں نوازا گیا۔ ایسے لوگوں کو اگر جبراً کوئی بات سنوائی جائے تو پھر بھی وہ اعراض کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں آیا ہے کہ ان کے سروں پر پہاڑ بلند کیا گیا لیکن پھر بھی انھوں نے ماننے سے انکار کردیا تھا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو جان بوجھ کر بات کو سننا اور اسے سمجھنا نہیں چاہتے لہٰذا اے مسلمانو ! تم اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کرو۔ جب بھی تمہیں اللہ کا رسول ﷺ بلائے تم اس کی طرف دوڑتے ہوئے آؤ یہی تمہارے زندہ اور عقل مند ہونے کا ثبوت ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا یہ معنیٰ نہیں کہ بندہ ہدایت طلب کرنا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ بندے اور ہدایت کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔ اس فرمان کا مفہوم یہ ہے جب کوئی شخص ہدایت سے ارادۃً انحراف کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے ارادے کے مطابق اس کو ہدایت کی طرف نہیں آنے دیتا کیونکہ ہدایت خیر ہے اور خیر ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اس کے طالب اور اس کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اسی بات کو نبی اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا۔ (عَن عَبْدَ اللّّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَّاحِدٍ یُصَرِّفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ) [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب تصریف اللہ القلوب کیف شاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو بن ؓ عاص فرماتے ہیں کہ بلاشبہ رسول معظم ﷺ کو انہوں نے یہ فرماتے سنا کہ آدم کی اولاد کے دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں جو ایک ہی دل کی طرح ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جس طرح چاہتا ہے پھیرتا رہتا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُولَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دینِکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ما جاء ان القلوب بین اصبعی الرحمان ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ اے اللہ دلوں کو پھیرے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “ (عن مُعَاوِیَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّینِ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّین ] ” حضرت معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کردیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہدایت کے طالب کو ہی ہدایت سے نوازتا ہے۔ 2۔ ہدایت نہ چاہنے والے کو جبراً ہدایت کی طرف بلایا جائے تو وہ پھر بھی اس سے اعراض کرتا ہے۔ 3۔ ایماندار کو ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کرنا چاہیے۔ 4۔ جو شخص رسول اکرم ﷺ کے فرمان سے بےپروائی برتتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اور دور کردیتا ہے۔ 5۔ تمام لوگوں نے بالآخر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

” اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً انہی لوگوں کو نہیں پہنچے گا جنہوں نے خاص طور پر تم میں سے ظلم کیا ہوگا اور جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت سز ادینے والا ہے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے لاپروائی کریں گے اور آخرت کو بھول جائیں گے تو پھر فتنوں کا شکار ہوں گے۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو انسان کے لیے حیات بخش قرار دیا گیا ہے۔ یعنی مسلمان اور امت کی بقا اسی وقت تک ہے۔ جب تک اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے رہیں گے۔ جب مسلمان اس کو چھوڑ دیں گے تو پھر من حیث القوم آزمائش اور فتنوں کا شکار ہوں گے۔ اس سے یہاں ڈرایا گیا ہے کہ اے مسلمانو اس آزمائش سے بچو جس میں صرف برے لوگ ہی نہیں مبتلا ہوں گے بلکہ اس آزمائش اور فتنہ کی لپیٹ میں مخلص مسلمان بھی آجائیں گے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ شدید پکڑنے والا ہے۔ قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے قریب لوگوں سے ایمان اٹھ جائے گا اور فتنے اس طرح نازل ہوں گے جس طرح تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو اس کے دانے ایک دوسرے کے اوپر گرتے ہیں ان فتنوں سے ایماندار بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ مسلمانوں کو اس فتنہ سے متنبہ کرنے کے لیے پے درپے زور دار چار الفاظ بولے گئے ہیں۔ 1۔ فتنہ سے بچ جاؤ۔ 2۔ نیک لوگ بھی اس فتنہ سے نہیں بچ سکیں گے۔ 3۔ خبردار ہوجاؤ۔ 4۔ اللہ تعالیٰ شدیدترین عذاب والا ہے۔ رسول معظم ﷺ کا فرمان ہے کہ جب لوگ نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیں گے۔ تو پھر وہ اس فتنہ خاصہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ (عَنْ ثَوْبَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُوشِکُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعٰی الْأَکَلَۃُ إِلٰی قَصْعَتِہَا فَقَالَ قَاءِلٌ وَمِنْ قِلَّۃٍ نَحْنُ یَوْمَءِذٍ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ یَوْمَءِذٍ کَثِیرٌ وَلٰکِنَّکُمْ غُثَاءٌ کَغُثَاء السَّیْلِ وَلَیَنْزَعَنَّ اللّٰہُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّکُمْ الْمَہَابَۃَ مِنْکُمْ وَلَیَقْذِفَنَّ اللّٰہُ فِی قُلُوبِکُمْ الْوَہْنَ فَقَالَ قَاءِلٌ یَا رَسُول اللّٰہِ وَمَا الْوَہْنُ قَالَ حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ ) [ رواہ ابو داود : کتاب الملاحم، باب فی تداعی الامم علی الاسلام ] ” حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا عنقریب لوگ تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے کھانے والے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کی ہم اس وقت تھوڑی تعداد میں ہوں گے ؟ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تم اس وقت سیلاب میں بہنے والے تنکوں کی طرح ہوگے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب ودبدبہ ختم کردے گا اور تمہارے دلوں میں ” وہن “ ڈال دیا جائے گا۔ کسی صحابی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! وہن کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دنیا سے محبت اور موت سے کراہت۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُولُ یَا لَیْتَنِی مَکَانَہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الفتن، بَاب لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی یُغْبَطَ أَہْلُ الْقُبُورِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا تو خواہش کرے گا کاش ! میں آج اس کی جگہ ہوتا۔ “ مسائل 1۔ اجتماعی آزمائش سے نیک لوگ بھی نہیں بچ سکتے۔ 2۔ فتنہ سے بچتے رہنا چاہیے۔ 3۔ پر فتن دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی مشکل ہوجائے گی۔ تفسیر بالقرآن آزمائش کی مختلف صورتیں : 1۔ ہم تمہیں کسی چیز کے خوف، بھوک، مال اور پھلوں کی کمی سے ضرور آزمائیں گے۔ (البقرۃ : 155) 2۔ کیا لوگوں نے تصور کرلیا ہے کہ وہ ایمان کا اقرار کریں اور انہیں آزمایا نہ جائے۔ (العنکبوت : 2) 3۔ یقیناً تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔ (التغابن : 15)
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

” اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے زمین میں کمزور شمار ہوتے تھے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہیں قوت بخشی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا تاکہ تم شکر کرو۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : فتنۂ خاصہ سے بچنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلمانوں کو ان کی مکی زندگی کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتلایا ہے اور اس سے نجات کا تذکرہ کیا ہے۔ کیونکہ مکہ میں مسلمان اجتماعی آزمائش میں مبتلا تھے۔ مسلمان مکہ معظمہ میں تھوڑے اور کمزور ہونے کی وجہ سے مشرکین کے مظالم کا اس قدر شکار تھے کہ ہر وقت سہمے اور ڈرے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ ؓ اور رسول کریم ﷺ کی ذات بھی ان مظالم سے محفوظ نہ تھی۔ سر بازار آل یا سر ؓ کو پیٹتے ہوئے حضرت سمیہ ؓ کو دولخت کردیا گیا۔ مزدور صحابہ کی خون پسینے کی کمائی ضبط کرلی گئی، نبی کریم ﷺ اور آپ کے خاندان کو مسلمانوں کے ساتھ تین سال شعب ابی طالب میں محصور رکھا گیا۔ مسلمانوں کو پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور کردیا کیا۔ ان مصائب و آلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول نہیں کرو گے تو یاد رکھو تم پر دوبارہ ایسے حالات وارد ہوسکتے ہیں۔ لیکن تم نے رسول کی دعوت کو قبول کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اس کربناک صورت حال سے نجات دیتے ہوئے تمہیں مدینہ کی ریاست عطا فرمائی اور اپنی خاص مدد سے اسے مضبوط کرتے ہوئے تمہارے لیے رزق حلال کے دروازے کھول دیے تاکہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنو۔ اس آیت میں غزوۂ بدر کی طرف بھی اشارہ ہے جس کو موت سمجھتے ہوئے تم دشمن سے کانپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تم جیسے کمزور اور بےسروسامان لوگوں کو دشمن پر غلبہ عطا کر کے مال غنیمت اور فتح کی کامیابی سے ہمکنار کرکے مدینہ کی ریاست کیا اور تمہیں مال غنیمت عطا فرمایا قدر محفوظ کردیا کہ جس سے تمہارے لیے رزق حلال کے دروازے کھلے اور فتح و کامرانی کے راستے روشن ہوئے۔ اللہ کی نصرت و حمایت اور رزق حلال کی فراوانی کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اس کے شکر و حمد کے خوگر ہوجاؤ۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ دُعَاءٌ حَفِظْتُہُ مِنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ لاَ أَدَعُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ وَأَتَّبِعُ نَصِیحَتَکَ وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ [ رواہ الترمذی : باب فِی الاِسْتِعَاذَۃِ ] حضرت ابی سعید مقبری حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ دعاء میں نے رسول اللہ ﷺ سے جب سے یاد کی اس کو چھوڑا نہیں۔ اے اللہ مجھے سب سے زیادہ شکر گذار، کثرت سے ذکر کرنے، ہدایت کی پیروی کرنے اور وصیّت کی حفاظت کرنے والا بنا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی کمزور اور تھوڑے لوگوں کی مدد کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد نہ فرمائے تو دشمن مسلمانوں کو ختم کردیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ رزق حلال اور فتح و کامیابی عطا فرمائے تو انسان کو اس کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا حکم : 1۔ لوگو ! اللہ کو یاد کرو اللہ تمہیں یاد کرے گا اور اس کا شکر ادا کرو کفر نہ کرو۔ (البقرۃ : 152) 2۔ لوگو ! تم اللہ کا شکر ادا کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ بہت ہی قدر دان ہے۔ (النساء : 147) 3۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو وہ مزید عطا فرمائے گا۔ (ابراہیم، آیت : 7) 4۔ اللہ نے تمہیں دل، آنکھیں اور کان دیے تاکہ تم شکر کرو۔ (السجدۃ : 9) 5۔ اللہ کی پاکیزہ نعمتیں کھا کر اس کا شکر کرو۔ (البقرۃ : 172) 6۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو۔ (العنکبوت : 17) 7۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں تمہارے لیے متاع حیات بنایا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 10) 8۔ اللہ نے جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم شکر کرو۔ (الحج : 36)