8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفہم القرآن

Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

” اور اللہ نے ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی اگر آپ زمین میں جو کچھ ہے سب کا سب خرچ کردیتے ان کے دلوں کے درمیان الفت نہیں ڈال سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بیشک وہ غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (63)

فہم القرآن ربط کلام : دشمن کے خلاف جہاد میں ہر قسم کی تیاری کے ساتھ قوم میں اتحاد اور محبت کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے پہلی آیت میں حکم تھا کہ کفار کی پیشکش کے پیش نظر مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔ اب مسلمانوں کی باہمی محبت کا تذکرہ کرنے کے دو مقاصد معلوم ہوتے ہیں۔ بے شک تمہیں دشمن کے ساتھ صلح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس پر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ وہ تمہارے دشمن ہیں ذرا سوچو تو سہی ماضی میں تم بھی ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی جس سے تم آپس میں شیر و شکر ہوگئے کیا ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ آج کے دشمن کو تمہارا کل کا مسلمان بھائی بنادے۔ اے نبی آپ زمین بھر کی دولت خرچ کرکے بھی ان کے دلوں کو جوڑ نہیں سکتے تھے یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو محبت کے رشتے سے باندھ دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر قول و عمل میں حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ وہ غالب حکمت والا تمہارے اور تمہارے دشمن کے درمیان بھی محبت پیدا کرسکتا ہے۔ یہ الفت جس کی بنا پر حبشہ کے حضرت بلال ؓ فارس کے حضرت سلمان ؓ اور غفار قبیلے کے جناب ابوذر ؓ ایک دوسرے کے اس طرح بھائی بنے کہ حقیقی رشتے بھی پیچھے رہ گئے۔ اسی طرح مدینہ کے اوس اور خزرج کے قبائل شیرو شکر ہوئے جو نبی اکرم ﷺ کی مدینہ آمد سے تھوڑی ہی مدت پہلے جنگ بعاث میں ایک دوسرے کے سینکڑوں لوگوں کو قتل کرچکے تھے۔ ان کے درمیان صلح کی دور دور تک گنجائش نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان بھی حقیقی بھائیوں جیسی محبت پیدا فرما دی غزوہ بدر کے تذکرہ اور جہادی تیاریوں کے ضمن میں صحابہ ؓ کی باہمی محبت کا حوالہ دینے کا یہ مقصد بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے جب تک مسلمان آپس میں اتفاق اور اتحاد قائم رکھیں گے اس وقت تک ہی دشمن پر غالب آسکیں گے کیونکہ جو قوم آپس میں مختلف اور منتشر ہو وہ اسلحہ اور حربی قوت کی بنیاد پر دشمن پر غالب نہیں آسکتی۔ امام رازی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی حمایت کا کلی وعدہ فرمایا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہ ؓ ۔۔ قَالَ وَکَانَ یُعَلِّمُنَا کَلِمَاتٍ وَلَمْ یَکُنْ یُعَلِّمُنَاہُنَّ کَمَا یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ اللّٰہُمَّ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِنَا وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَاہْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِکْ لَنَا فِی أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِیمُ وَاجْعَلْنَا شَاکِرِینَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِینَ بِہَا قَابِلِیہَا وَأَتِمَّہَا عَلَیْنَا) [ رواہ ابوداؤد، کتاب الصلاۃ باب التشہد ] ” حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے۔۔ فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ ہمیں کلمات اس طرح سکھا یا کرتے تھے جس طرح وہ ہمیں تشہد سکھاتے تھے۔ اے اللہ ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے اور ہمارے درمیان اصلاح فرمادے۔ اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی طرف ہدایت دے۔ ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نجات دے۔ اور ہمیں پوشیدہ اور ظاہری فحاشی سے بچا۔ ہماری قوت سماعت، بصارت، ازواج اور اولاد میں برکت نصیب فرما۔ اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بلاشبہ تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے قابل بنا۔ اور انہیں ہم پر پورا فرما۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کی باہمی محبت اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ 2۔ اللہ کے سوا کوئی دلوں میں محبت نہیں ڈال سکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ 4۔ مومن کے لیے اللہ کی مدد کافی ہوتی ہے۔
Ayahs 8:64–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی آپ کو اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو آپ کی پیروی کرتے ہیں۔ “ (64)

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

” اے نبی ! ایمان والوں کو لڑائی پر ابھارو، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گئے اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں تو وہ ہزار کفار پر غالب آئیں گئے یہ اس لیے کہ وہ لوگ سمجھتے نہیں۔ (65)

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے پس اگر تم میں سے سو صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزارہوں تو اللہ کے حکم سے دوہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ (66)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور اپنی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد قتال کا حکم دیا۔ سربراہ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کرنے کا حکم دینا چاہیے جب مسلمان کردار کے حوالے سے پختہ تھے تو اس وقت کفار کے خلاف تناسب یہ قائم کیا گیا کہ اگر کفار اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو دس کفار کے مقابلے میں ایک مسلمان کافی ہے یہ تعداد اس لیے کافی ہے کہ کافر موت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ قتال اور موت سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد اور منزل نہیں ہوتی۔ جس وجہ سے اس میں وہ جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا جو مجاہد کے سینے میں موجزن ہوتا ہے مجاہد موت سے ٹکرانے کے لیے ہر وقت تیار ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے مولا کی رضا کی خاطر اس کے دین کی سربلندی کے لیے میدان کا رزار میں اترتا ہے وہ اپنے خالق ومالک سے ملاقات کی تمنا اور اس کی جنت کے لیے جان کی بازی لگا دیتا ہے اسی بناء پر غزوہ احد کے موقع پر ایک صحابی کھجوریں کھا رہے تھے جونہی اس نے قتال فی سبیل اللہ کی آواز سنی تو یہ کہتے ہوئے کھجوریں پھینک دیں کہ اللہ کی قسم مجھے احد پہاڑ کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ایسا ہی خوبصورت منظر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے اس وقت دیکھا۔ جب توحید کی پاداش میں اس کے نازک جسم پر میخیں ٹھونکی جا رہی تھیں۔ (قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) [ التحریم : 11] ” اس نے دعا کی : ” اے میرے رب ! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا اور ان ظالموں سے بھی نجات دے۔ “ مفسرین نے لکھا کہ حضرت آسیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی موت سے پہلے جنت میں اس کا گھر دکھلایا دیا تھا۔ یہی وہ فرق ہے جو مجاہد اور کافر کے درمیان ہوتا ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ کافر اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ پہلے حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہوا۔ جس میں تخفیف کردی گئی جسے مضمون میں تسلسل کی خاطر یہاں رکھا گیا ہے۔ آج اس کی صورت یہ ہوگی کہ اگر کفار مسلمانوں پر جنگ مسلط کریں اور جنگی تناسب ایک کے مقابلے میں دس کا ہو تو پھر مسلمانوں پر قتال فرض ہوجائے گا۔ اگر تناسب میں اس سے زیادہ فرق ہو تو پھر مسلمانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کفار کے ساتھ اپنے وقار سے کم درجہ شرائط پر صلح کرسکتے ہیں۔ لیکن جب جنگی تناسب ایک اور دو کا ہو اور کافر تبلیغ اسلام میں رکاوٹ یا مسلمانوں پر جارحیت کرنے لگیں تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اللہ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے کیونکہ فتح اور شکست اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر مسلمان ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ انھیں ضرور فتح سے سرفراز فرمائے گا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَغَدْوَۃٌ فِی سَبِیل اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الغدوۃ والروحۃ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کے راستے میں صبح یا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “ (عن ابی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیل اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ وَتَوَکَّلَ اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِہِ بِأَنْ یَّتَوَفَّاہُ أَنْ یُّدْخِلَہٗ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرْجِعَہُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ )[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب أفضل المؤمنین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو بہتر جانتا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے روزے رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کی طرح۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کو یہ بدلہ دے گا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا صحیح سلامت واپسی کی صورت میں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔ “ مسائل 1۔ سربراہ کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتال کے لیے تیار رکھے۔ 2۔ مجاہد کے سامنے اللہ کی رضا اور اس کی جنت ہوتی ہے۔ 3۔ کافر کے سامنے وطن، قوم اور ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ 4۔ جب جنگی تناسب ایک کے مقابلے میں دو ہو تو قتال فرض ہوجاتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کافر بیوقوف ہوتا ہے : 1۔ متقین کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے مگر کافر نہیں سمجھتے۔ (الاعراف : 169) 2۔ میرا اجر میرے پیدا کرنے والے اللہ کے ذمہ ہے بےعقل نہیں سمجھتے۔ حضرت صالح کا اعلان۔ (ھود : 51) 3۔ منافق بےسمجھ ہوتے ہیں۔ (المنافقون : 7) 4۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ (التوبۃ : 127) 5۔ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کی اکثریت بےعقل ہوتی ہے۔ ( المائدۃ : 103) 6۔ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں اور وہ عقل نہیں کرتے۔ (البقرۃ : 171)
Ayahs 8:67–69

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

” کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خون نہ بہالے تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب حکمت والا ہے۔ (67)

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اور اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی جو پہلے طے ہوچکی تھی تو تم نے جو کچھ لیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ (68)

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو تم نے جو غنیمت حاصل کی ہے اس میں سے کھاؤ کہ حلال طیب ہے اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (69)

فہم القرآن ربط کلام : جنگ کے مسائل کا بیان جاری ہے اب قیدیوں اور مال غنیمت کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں تین الفاظ ایسے ہیں جن کا معنی جاننے سے آیت کا مفہوم بہتر طور پر ذہن نشین ہوجائے گا اسرٰی اس تسمے کو کہا جاتا ہے جس سے پرانے زمانے میں لوگ قیدیوں کو باندھا کرتے تھے اثخان کا معنی ہے خون کا گاڑھا ہونا مراد گھمسان کا رن پڑنا یعنی ایسی لڑائی کہ جس میں ایک فریق کی کمر ٹوٹ جائے عَرَضْ دنیا کے ساز و سامان کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے نبی ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپ کفار کی کمر توڑے بغیر قیدیوں کو دنیا کے مال کے بدلے رہا کردیتے۔ یہاں قیدیوں کے بارے میں مخاطب نبی اکرم ﷺ کو کیا گیا ہے لیکن فدیہ لینے کے بارے میں صحابہ کو مخاطب کیا ہے کیونکہ صحابہ ؓ کے مشورہ اور ان کے فائدے کے لیے ہی نبی ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لینا قبول فرمایا تھا اس لیے صحابہ ؓ کو فرمایا کہ تم دنیا کا تھوڑا اور عارضی مال چاہتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آخرت کی بیش بہا اور دائمی نعمتوں کا ارادہ رکھتا ہے اگر تم قیدیوں کا فدیہ لینے کی بجائے ان کو قتل کردیتے تو یہ تمہارے مستقبل کے لیے نہایت ہی بہتر ہوتا۔ جہاں تک غنیمت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ تمہیں آئندہ غزوات میں عطا فرماتا جیسا کہ مسلمانوں کو بےانتہا غنائم سے نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر غالب ہے۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے سے نہ کر رکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر عذاب نہیں کرے گا تو وہ تمہاری ضرور گرفت کرتا اب تم اس غنیمت سے کھاؤ اور اسے استعمال کرو یہ تمہارے لیے حلال اور طیب ہے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ بدر کے قیدیوں کا فدیہ لینے کے بارے میں مفسرین کی دو آرا ہیں ایک فریق کا خیال ہے کہ اس وقت تک قیدیوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا جس وجہ سے آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کرکے فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ فدیہ لینے کے متعلق حکم ہی نازل نہیں ہوا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل کرنے کا کیا معنی ؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ہاں لوح محفوظ پر لکھ رکھی ہے کہ بدر میں آپ ﷺ قیدیوں سے فدیہ لیں گے لیکن اس پر آپ ﷺ کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ لیکن میرے خیال میں ان مفسرین کا نقطۂ نگاہ زیادہ مضبوط ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ سورة محمد آیت 4 میں یہ حکم پہلے نازل ہوچکا تھا کہ جب تم کفار کے ساتھ جنگ کرو تو ان کی اچھی طرح گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے اور قیدیوں کو مضبوطی سے باندھ لو پھر چاہو تو انھیں یوں ہی رہا کر دو اور اگر چاہو تو ان سے فدیہ قبول کرو۔ لیکن شرط یہ ہے پہلے کفار کی کمر توڑ دی جائے بدر میں ایسا نہیں ہوسکا تھا۔ جب کفار بدر کا میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ چند صحابہ ؓ کو چھوڑ کر جو رسول معظم کی حفاظت کرتے رہے باقی مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ بعد ازاں ان میں غالب اکثریت کی رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے جس سے ہماری اعانت ہوجائے گی اور شاید کفار بھی احسان شناسی کا مظاہرہ کریں اس رائے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنی نرم طبع کی وجہ سے پیش پیش تھے لیکن حضرت عمر ؓ حضرت معاذ بن جبل ؓ اور کچھ صحابہ کا خیال تھا کہ ان کی گردنیں اڑا دینی چاہییں تاکہ کفار کی کمر ٹوٹ جائے۔ حضرت عمر ؓ نے یہاں تک عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہر شخص اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کو قتل کرے سب سے پہلے میں اپنے عزیزوں کو قتل کروں گا لیکن رسول محترم ﷺ نے اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فدیہ لینا قبول کیا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انتباہ نازل ہوا۔ (عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ ” یَا اَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صالِحًا “ (پ 18۔ رکوع 3) وَقَالَ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اِغْبَرَ یَمُدُّیَدَیْہِ اِلٰی السَّمَاءِیَارَبِّ وَمَطَعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ) [ رواہ مسلم : باب قَبُول الصَّدَقَۃِ مِنَ الْکَسْبِ الطَّیِّبِ وَتَرْبِیَتِہَا ] حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم نے فرمایا ‘ بیشک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک صاف کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” میرے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو۔ “ اے ایمان والو ! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ “ پھر آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر طے کرتا ہے۔۔ پراگندہ بال ‘ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے دعا کرتا ہے۔ یارب ! یارب ! جب کہ اس کا کھانا حرام ‘ اس کا پینا حرام ‘ اس کا لباس حرام اور حرام غذا سے اس کی نشوونما ہوئی اس حالت میں اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟۔ مسائل 1۔ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔ 2۔ تمام انسانوں کی تقدیر پہلے لکھی جا چکی ہے۔ 3۔ مال غنیمت امت محمدیہ کے لیے حلال ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنے کا حکم : 1۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 194) 2۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ اور سچی بات کرو۔ (الاحزاب : 70) 3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (البقرۃ : 196) 4۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ (البقرۃ : 203) 5۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ (البقرۃ : 223) 6۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ (البقرۃ : 231) 7۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (البقرۃ : 233) 8۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقلمندو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100) 9۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : 102) 10۔ اللہ سے ڈر جاؤ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : 7)
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

” اے نبی ! آپ کے ہاتھ میں جو قیدی ہیں ان سے فرما دے اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کرے گا تو تمہیں اس سے بہتر دے دے گا جو تم سے لیا گیا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (70)

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ سے خیانت کا ارادہ کریں تو بیشک وہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں اللہ نے انہیں گرفتار کروایا اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : فیصلہ کن جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد قیدیوں کے بارے میں اصول بیان کیا اور بدر کے مال غنیمت کی اجازت دیتے ہوئے تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری کوتاہی کو معاف کردیا ہے۔ اب ان قیدیوں کو نبی اکرم ﷺ کی زبان اطہر سے نصیحت کی جا رہی ہے جن کے متعلق آپ نے بہترین سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اے نبی ! جو لوگ تمہارے ہاتھ آئے ہیں انھیں سمجھاؤ اور تسلی دو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں خیر دیکھی۔ خیر سے مراد ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس فدیہ کے بدلے بہتر مال عنایت فرمائے گا۔ اگر تم ایمان لے آؤ تو تمہارے سابقہ جرائم اور گناہ معاف کردیے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ اس کے بعد نبی محترم ﷺ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ سے خیانت کریں تو ان میں سے پہلے بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ سے خیانت کرچکے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں پہلے آپ کا قیدی بنایا ہے اگر انھوں نے آئندہ خیانت کی تو اللہ تعالیٰ پھر انھیں تمہاری ملک میں دے گا اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور اس کے ہر حکم میں حکمت مضمر ہوتی ہے۔ خیانت سے مراد عہد شکنی اور ہر قسم کی خیانت ہے یہ آیت بھی ایک وقفہ کے بعد نازل ہوئی لیکن مضمون کی مناسبت سے اسے یہاں رکھا گیا ہے۔ ہوا یہ کہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگوں نے آپ ﷺ سے اللہ کا واسطہ دے کر وعدہ کیا تھا کہ ہمارے ساتھ کچھ رعایت کی جائے ہم واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام لانے پر آمادہ کریں گے لیکن واپس جا کر انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا گویا کہ یہ عہد شکنی انھوں نے بالواسطہ اللہ تعالیٰ سے کی ہے اس میں بھی آپ کے لیے تسلی کا پہلو ہے۔ کہ آپ سے خیانت نہیں کی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ سے انھوں نے خیانت کی ہے لہٰذا آپ کو افسردہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں قیدیوں کے ساتھ مشروط وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر ایمان لے آؤ تو تمہارے گناہ بخشنے کے ساتھ دنیا میں بھی بہتر بدلہ دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حضرت عباس ؓ کا واقعہ بیان کرنا کافی ہے بدر میں نبی اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس آپ کے چچا زاد عقیل اور آپ ﷺ کے داماد ابو العاص بھی قیدیوں میں شامل تھے جن سے فدیہ لیا گیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ میرے چچا کے ساتھ ایک اوقیہ وزن کے برابر بھی رعایت نہ کی جائے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ مال دار ہونے کے باوجود بخل کی طرف مائل ہیں۔ جب صحابہ نے ان سے چار ہزار درہم کا مطالبہ کیا تو جناب عباس نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے انھیں مخاطب فرمایا کہ چچا وہ بات کس طرح ہے کہ جب آپ بدر کی طرف آنے لگے تھے تو میری چچی ام الفضل سے آپ نے کہا تھا کہ یہ درہم و دینار حفاظت سے رکھنا اگر بدر میں مجھے کچھ ہوگیا تو تیری گزران کے لیے کافی ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت عباس ؓ نے کلمہ پڑھا اور کہا کہ میرا دل مان گیا ہے کہ آپ ﷺ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جب میں نے آپ کی چچی سے یہ بات کی تھی تو اس وقت کوئی تیسرا شخص موجود نہیں تھا اس کے بعد حضرت عباس نے اپنے دو بھتیجوں اور ایک حلیف عتبہ بن عمرو کا فدیہ بھی ادا کیا حضرت عباس فرمایا کرتے تھے میں نے بیس اوقیہ فدیہ ادا کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے مجھے بہت ہی زیادہ مال عطا فرمایا اور نبی اکرم ﷺ نے مجھے زمزم کی تولیت دی اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری بخشش بھی فرمائے گا۔ (تفسیر ماجدی) مسائل 1۔ مومن کے لیے ایمان سب سے بڑی دولت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا ہے کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔ 3۔ خائن بالآخر ذلیل ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور اس کے حکم میں ہمیشہ حکمت پائی جاتی ہے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی یہ لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں یہاں تک کہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مددمانگیں تم پر مدد کرنا لازم ہے مگر اس قوم کے خلاف کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ “ (72)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ مہاجر اپنا وطن اور عزیز و اقربا کو چھوڑ کر تنہائی محسوس کرتا اس لیے آپ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کروائی تاکہ باہمی محبت پیدا ہونے سے مہاجرین کے معاشی، معاشرتی، اور خاندانی مسائل حل ہو سکیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہاجرین کے مسائل حل کرنا حکومت اور عام مسلمانوں کا فرض ہے۔ سورۃ النساء آیت نمبر 89 میں صاف طور پر فرمادیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت نہیں کرتے ان سے تمہیں رشتے ناطے اور دوستی رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ایک دوسرے کا دوست اور وارث قرار دیا گیا ہے۔ جنھوں نے ایمان لانے کی پاداش میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کیا اور جن لوگوں نے مہاجروں کو جگہ دی اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا یہ لوگ ایک دوسرے کے دوست اور وارث قرار پائے۔ جو لوگ ایمان لائے مگر مجبوری نہ ہونے کے باوجود ہجرت کے لیے آمادہ نہ ہوئے ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی نہ دوستی ہونی چاہیے اور نہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کرکے مدینہ پہنچ جائیں۔ ہجرت کرنے کا ارادہ رکھنے والے لوگ دوسرے مسلمانوں سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں۔ تو ان کی مدد کرنا مسلمانوں پر لازم ہے ہاں ان لوگوں کی مسلمان مدد نہیں کرسکتے کہ جس قوم میں وہ رہ رہے ہیں اس کے ساتھ تمہارا صلح اور آشتی کا معاہدہ قرار پا چکا ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی عہد شکنی نہیں کرنی چاہیے۔ سورۃ النساء میں ہجرت کو ایمان اور دوستی کا معیار قرار دیا ہے اور یہاں ہجرت کو دوستی اور وراثت کے لیے بنیاد متعین فرمایا ہے کہ ہجرت نہ کرنے والوں کے ساتھ نہ تم دلی دوستی رکھ سکتے ہو اور نہ ہی تم کسی کے مرنے کے بعد اس کی وراثت کے وارث ہوسکتے ہو۔ یہاں وہ لوگ مستثنٰی ہیں جو دار الکفر میں ہیں مگر اس قوم کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا معاہدہ ہوچکا ہے ایسی صورت میں ہجرت نہ کرنے والوں کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کرنا چاہیے حالانکہ وہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض ہونے کے ساتھ اسے ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا تھا۔ ایک شخص کلمہ پڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ کسوٹی پر پورا نہیں اترتا اور وہ دار کفر کو چھوڑ کر دارالسلام جانے کی بجائے اپنا مفاد، رشتہ داری اور دارالکفر کو مقدم سمجھتا ہے تو اس کی مدد کرنے کا اخلاقی، قانونی اور ایمان کے حوالے سے کیا جواز باقی رہتا ہے ؟ سوائے اس کے کہ جو لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے دار الکفر میں رہنے پر مجبور ہوں ان کے بارے میں اسلامی حکومت پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دارالکفر کی حکومت کو ان پر ظلم کرنے سے باز رکھے بصورت دیگر ان کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے پر نظر ثانی کرنا ہوگی کیونکہ سورة النساء آیت نمبر 75 میں قتال فی سبیل اللہ کا ایک جواز یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تمہیں ایسے لوگوں کی خاطر بھی جہاد کرنا چاہیے کہ جو کمزور ہیں اور ان کے لیے دارالکفر سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ (وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیْرًا) [ النساء : 75] ” مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے جبکہ کئی کمزور مرد عورتیں اور بچے ایسے ہیں جو یہ فریاد کرتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی جناب سے ہمارے لیے کوئی حامی مقرر کر دے اور اپنی جناب سے کوئی مددگار بھی پیدا فرما دے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃ ؓ قَالَتْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْہِجْرَۃِ فَقَالَ لَا ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا)[ رواہ مسلم، کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکہ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول معظم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد کی نیت رکھنی چاہیے اور جب تم کو نکلنے کا کہا جائے تو تم نکل پڑو۔ “ (یہ صحابہ ؓ کے لیے فرمان تھا ورنہ کسی ملک میں مسلمانوں کا رہنا اور ان کا ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو ان کے لیے وہاں سے ہجرت کرنے کی اجازت ہے۔ اور ان کا اپنے گھروں سے نکلنا ہجرت میں کہلائے گا۔ مسائل 1۔ مہاجر اور انصار ایک دوسرے کے دوست اور وارث ہیں۔ 2۔ ولایت کا معنی دوستی، بھائی چارہ اور ایک دوسرے کا وارث بننا ہے۔ 3۔ معاہد قوم کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو دیانت داری کے ساتھ نبھانا چاہیے۔ 4۔ دارالکفر میں رہنے والے لوگوں کی مشروط مدد کرنا فرض ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے : 1۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : 70) 2۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : 74) 3۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پرورش پانے والے خیالوں سے بھی واقف ہے۔ (البقرۃ : 235) 4۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (البقرۃ : 233)
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

” اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم یہ نہ کروگے تو زمین میں بڑافتنہ اور بہت بڑافساد ہوگا۔ “ (73)

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دوست اور وارث قرار دینے کے بعد کفار کے بارے میں فیصلے کا اعلان۔ اس سے پہلے مسلمانوں کی آپس میں اخوت اور باہمی وارث ہونے کے بارے میں ارشاد تھا۔ اب کفار کے بارے میں فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ کافر ایک دوسرے کے خیر خواہ، دوست اور وارث ہیں۔ اسی بنیاد پر پوری دنیا کے کفار کو ایک ملت قرار دیا گیا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی بنا پر دو قومی نظریہ کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر کسی قوم کا تشخص علاقائی ٗلسانی اور جغرافیائی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ حقیقی تشخص نظریہ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلام نے کفار اور مشرکین سے قلبی دوستی، رشتہ داری اور ایک دوسرے کی موروثیت کو حرام قرار دیا ہے۔ اگر مسلمان معاہد قوم کے ساتھ عہد شکنی اور کفار کے ساتھ قلبی دوستی اور رشتہ داری قائم کریں گے تو دنیا میں دنگا فساد پیدا ہوگا۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، دین میں بگاڑ، مسلمانوں کے وقار میں کمی اور ایک دوسرے کے معاملات میں بلا سبب مداخلت کرنے سے دنیا میں مسلسل جنگ وجدال جاری رہے گا۔ جو کسی کے لیے بھی بہتر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ دارالکفر میں مسلمانوں کی مدد کا معاملہ ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں اگر وہ منظم ہو کر اپنے حقوق منوائیں گے تو جلد انھیں تحفظ مل جائے گا کیونکہ ہر ملک کے دستور میں اقلیتوں کے حقوق تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے بالخصوص جس کافر ملک کے ساتھ مسلمان حکومت کا معاہدہ ہو پہلے زمانے میں ایسی گارنٹی نہیں ہوتی تھی۔ تفسیر بالقرآن کافر ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں : 1۔ کافر ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ (المائدۃ : 51) 2۔ اے ایمان والو کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ : 23) 3۔ جو بھی کفار کو اپنا دوست بنائے گا وہ ظالم ہوگا۔ (الممتحنۃ : 9) 4۔ کفار کے شیطان دوست ہیں۔ (البقرۃ : 257) 5۔ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (الجاثیۃ : 19)
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

” اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں ان کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مقابلہ میں مومنوں کا کردار اور ان کی آپس میں محبت۔ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا وارث اور دوست قرار دیا گیا ہے۔ کفار اور جان بوجھ کر ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں سے لاتعلقی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر ان مسلمانوں کے ایمان کی تصدیق فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت کرنے والے اور اس کفار سے تعلقات توڑتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رہتے ہوئے مہاجروں کی ہر قسم کی امداد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے ہاں پکے اور سچے مومن ہیں۔ ان کے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور انھیں بہترین رزق سے نوازا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی اللہ کی رضا کی خاطر ہجرت اور یہ کام کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میں بھی مال واسباب سے مالا مال فرمایا۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ فَآخَی النَّبِیُّ َ بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ الْأَنْصَارِیّ ِ وَکَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًی فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ وَأُزَوِّجُکَ قَالَ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ دُلُّونِی عَلٰی السُّوقِ فَمَا رَجَعَ حَتَّی اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا فَأَتَی بِہٖ أَہْلَ مَنْزِلِہِ فَمَکَثْنَا یَسِیرًا أَوْ مَا شَاء اللّٰہُ فَجَاءَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ ﷺ مَہْیَمْ قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَیْہَا قَالَ نَوَاۃً مِّنْ ذَہَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ ) [ رواہ البخاری، کتاب البیوع، باب قول اللہ تعالیٰ فإذا قضیت الصلاۃ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں عبدالرحمن بن عوف ؓ مدینہ منورہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے سعد بن ربیع انصاری ؓ اور ابن عوف ؓ کے درمیان مواخات قائم کی۔ سعد مال دار آدمی تھے۔ انھوں نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے کہا میں اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں اور آپ کے نکاح کا اہتمام کرتا ہوں عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور اہل میں برکت کرے۔ مجھے بازار کے بارے میں معلومات دیجیے وہ بازار گئے اور وہاں سے گھی اور پنیر لے کر واپس آئے۔ ہمیں مدینہ میں ٹھہرے کچھ دیر گزری تھی تو وہ آئے اور ان پر زرد رنگ کے نشانات تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم نے کتنا مہر ادا کیا ہے ؟ عبدالرحمن نے کہا گٹھلی کے برابر سونا یا اس کے کم و بیش سونا ادا کیا ہے۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ولیمہ کیجیے خواہ ایک بکری ہی ذبح کرو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اور جہاد کرنا باعث مغفرت ہے۔ 2۔ مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کے لیے باعزت رزق ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں کے لیے مغفرت ہے : 1۔ اللہ سے بخشش طلب کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (آل عمران : 136) 2۔ اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (آل عمران : 157) 3۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (النساء : 96) 4۔ صبر کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (ہود : 11) 5۔ ایمان کے ساتھ صالح اعمال کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (الحج : 50) 6۔ پاکباز لوگوں کے لیے مغفرت ہے۔ (النور : 26) 7۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (یٰسٓ : 11)
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

” اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ تم ہی سے ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (75)

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا گیا تھا اب اس حکم کو منسوخ کرکے صرف رشتہ دار ایمانداروں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ اس فرمان میں دو حکم دئیے گئے ہیں۔ یہاں ان مسلمانوں کو بھی ملت اسلامیہ کا حصہ قرار دیا گیا ہے جو پہلی مرتبہ مدینہ کی طرف ہجرت نہ کرسکے لیکن بعدازاں وہ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ ان کے بارے میں حکم دیا ہے کہ وہ جہاد اور ہجرت کرنے کی بناء پر تمہارے ساتھی اور ملت اسلامیہ کے رکن ہیں۔ تم ان کے ساتھ قلبی دوستی، اور مواخات قائم رکھو مگر تم ہجرت اور مواخات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اب وہی مسلمان وراثت میں حق دار ہوں گے جو آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں۔ جن کی تفصیل اللہ کی کتاب یعنی سورة نساء کی آیات 11، 12، 174 میں بیان ہوچکی ہے۔ مسائل 1۔ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر معاملے کو خوب جانتا ہے۔