8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفہم القرآن

Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو جبکہ تم جانتے ہو۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : مزید ہدایات کے ساتھ نیا خطاب شروع ہوتا ہے : اس ارشاد میں مسلمانوں کو امانتوں میں خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیانت صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی دوسرے کی چیز میں خرد برد کرلے۔ اسلام میں امانت اور خیانت کا تصور بڑا وسیع ہے کیونکہ اس آیت میں امانت کے لیے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ہر مسلمان کے ذمہ پہلی امانت اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ پورے اخلاص کے ساتھ محبت کرنا اور دل و جان کے ساتھ ان کے احکام ماننا ہے۔ دوسری امانت لوگوں کے آپس کے حقوق و فرائض ہیں۔ اگر کوئی شخص معاشرے کی تفویض کردہ ذمہ داری اور منصب کے فرائض تن دہی سے ادا نہیں کرتا تو وہ بھی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ منصبی ذمہ داری کے حوالے سے امانت کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے قرآن مجید نے ٹھوس بنیاد فراہم کرکے حکم دیا ہے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جب تم کسی کو امانت سپرد کرو تو اہل لوگوں کو سپرد کیا کرو۔ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی سے اچھی نصیحت کرتا ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ (النساء : 58) سورۃ النساء میں امانت اہل لوگوں کو سپرد کرکے ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم تھا یہاں خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر امانت کی چار قسمیں ہوسکتی ہیں۔ (1) اہل شخص کو منصب سپرد کرنا۔ (2) منصب کی ذمہ داری پوری کرنا۔ (3) کسی کی رکھی ہوئی امانت میں خرد برد سے بچنا اور اسے پورا پورا ادا کرنا۔ (4) اگر کوئی مشورہ طلب کرے تو اسے اپنی فہم و فراست کے مطابق پوری دیانت داری کے ساتھ مشورہ دینا اور اگر کوئی راز بتائے تو اس کے راز کی حفاظت کرنا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الایمان، بابَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے مشورہ مانگا جائے وہ امین ہے۔ “ (عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا فَجَاءَ ہُ الْعَامِلُ حینَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِہٖ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ ہٰذَا لَکُمْ وَہٰذَا أُہْدِیَ لِی فَقَالَ لَہٗ أَفَلَا قَعَدْتَّ فِی بَیْتِ أَبِیکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ أَیُہْدٰی لَکَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَشِیَّۃً بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَتَشَہَّدَ وَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہٗ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُہٗ فَیَأْتِینَا فَیَقُولُ ہٰذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَہٰذَا أُہْدِیَ لِی أَفَلَا قَعَدَ فِی بَیْتِ أَبِیہِ وَأُمِّہٖ فَنَظَرَ ہَلْ یُہْدٰی لَہٗ أَمْ لَا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَا یَغُلُّ أَحَدُکُمْ مِنْہَا شَیْءًا إِلَّا جَاءَ بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلٰی عُنُقِہٖ إِنْ کَانَ بَعِیرًا جَاءَ بِہٖ لَہٗ رُغَاءٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَۃً جَاءَ بِہَا لَہَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاۃً جَاءَ بِہَا تَیْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَدَہُ حَتّٰی إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَۃِ إِبْطَیْہٖ قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذٰلِکَ مَعِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ النَّبِیِّ ﷺ فَسْءَلُوْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب کانت یمین النبی ﷺ ] ” حضرت ابو حمیدساعدی ؓ نے بتلایا کہ رسول معظم ﷺ نے کسی علاقے کی طرف عامل بھیجا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آیا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا اور تو دیکھتا کہ تجھے تحفہ دیا جاتا یا نہیں۔ پھر رسول مکرم عشاء کی نماز کے بعد ﷺ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا اس عامل کا کیا معاملہ ہے جسے ہم کہیں مقرر کریں تو وہ واپس آکر کہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ کیوں نہ اپنے ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! تم میں سے جو کوئی بھی خیانت کرے گا وہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اگر وہ اونٹ ہوگا تو آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوئی تو وہ بھی ڈکرا رہی ہوگی اور اگر بکری ہوگی تو وہ ممیارہی ہوگی۔ بلاشبہ میں نے یہ پہنچا دیا ہے۔ ابو حمید ساعدی ؓ فرماتے ہیں کہ پھر رسول مکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ ابوحمید ساعدی ؓ کہتے ہیں میرے ساتھ یہ زید بن ثابت ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے سنا تھا تو اس سے بھی پوچھ لو۔ “ مسائل 1۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل نہ کرنا خیانت کرنے کے مترادف ہے۔ 2۔ امانت میں خیانت کرنا جائز نہیں۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

” اور جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد ایک آزمائش کے سوا کچھ نہیں اور یہ کہ یقیناً اللہ ہی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عموماً انسان ان کی وجہ سے خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ واعلموا کا معنی ہے اچھی طرح جان لو، اس میں ایک قسم کا انتباہ پایا جاتا ہے کہ اے لوگو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش کا باعث ہیں عمومی طور پر انسان اس وقت ہی خیانت کا مرتکب ہوتا اور شریعت کے احکام میں سستی اور غفلت کرتا ہے جب اس کے دل میں مال اور اولاد کی محبت غلو کر جائے۔ اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے بعد لوگوں کو بتلایا جائے کہ مال اور اولاد خیانت کا سبب بنتے ہیں لہٰذا تمہیں ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جو شخص اس آزمائش میں پورا اترے گا اللہ کے ہاں اسے اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر امت کے لیے ایک اجتماعی آزمائش ہوا کرتی ہے۔ میری امت کے لیے اجتماعی آزمائش مال ہوگا۔ دوسرے موقع پر آپ نے صحابہ کرام ؓ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے ساتھیو ! مجھے آپ کی غربت کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں میں تو تمہارے متعلق کثرت مال سے ڈرتا ہوں۔ اولاد کے متعلق آپ نے یہ آیت کریمہ اس وقت تلاوت فرمائی جب آپ منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے سامنے دیکھا تو حسن و حسین لوگوں کے درمیان اچھلتے ہوئے منبر کی طرف آرہے تھے آپ نے خطبہ منقطع کیا اور ان کو سینہ کے ساتھ چمٹاتے ہوئے اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ واقعی اولاد انسان کے لیے آزمائش ہے۔ (عَنْ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ بَیْنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلَام عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ وَحَمَلَہُمَا فَقَالَ صَدَقَ اللّٰہُ إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ رَأَیْتُ ہٰذَیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فِی قَمِیصَیْہِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰی نَزَلْتُ فَحَمَلْتُہُمَا) [ رواہ النسائی : کتاب العیدین، باب نزول الامام عن المنبر قبل فراغہ من الخطبۃ ] ” حضرت ابن بریدہ ؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک دن رسول معظم ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک حسن اور حسین ( علیہ السلام) آگئے انہوں نے سرخ قمیصیں پہن رکھی تھیں وہ چلتے اور گرتے پڑتے آرہے تھے نبی اکرم ﷺ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ سچا ہے تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے اپنے کپڑوں میں الجھتے دیکھا مجھ سے رہا نہ جاسکا یہاں تک کہ میں نے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا۔ “ (عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ وَکَانَتْ تَحْتَ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ إِنَّ ہٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ مَنْ أَصَابَہُ بِحَقِّہٖ بُورِکَ لَہٗ فیہِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فیمَا شَاءَ تْ بِہٖ نَفْسُہٗ مِنْ مَال اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ لَیْسَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا النَّارُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب ماجاء فی أخذ المال بحقہ ] ” حضرت خولہ بنت قیس ؓ جو کہ حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کی بیوی تھیں فرماتی ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے بلاشبہ یہ مال خوشنما اور دلفریب چیز ہے جو کوئی اس کو حق کے ساتھ لے گا تو اس کے لیے برکت کی جائے گی اور کتنے ہی متکلف لوگوں کے دل اللہ اور اس کے رسول کے مال سے چاہ رہے ہوتے ہیں لیکن قیامت میں آگ کے سوا ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ أَخَذَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ بِمَنْکِبِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ إِذَا أَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرَضِکَ وَمِنْ حَیَاتِکَ لِمَوْتِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب قول النبیکن فی الدنیا کانک غریب ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے میرے کندھے سے پکڑتے ہوئے فرمایا دنیا میں اس طرح رہو جس طرح تم اجنبی یا مسافر ہو اور عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے تھے جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو۔ “ مسائل 1۔ مال اور اولاد انسان کے لیے آزمائش ہیں۔ 2۔ آزمائش میں پورا اترنے والے کے لیے اجر عظیم ہے۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی بڑی قوت دے دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو ہدایات کا سلسلہ جاری ہے۔ مال اور اولاد کے فتنہ سے بچنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرے اور شریعت کے ضابطوں پر عمل پیرا رہے۔ یہی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مقصد ہے۔ جو مسلمان جلوت اور خلوت میں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ کو اس کے لیے فرقان بنا دے گا۔ فرقان قرآن مجید کا اسم مبارک ہے اور معجزہ کو بھی فرقان کہا گیا ہے اس کا معنیٰ ہے حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، غلط اور صحیح کے درمیان امتیاز کردینے والا۔ جب کوئی مسلمان صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر اس کا ڈر اختیار کرتا ہے تو پھر اس کے ضمیر میں ایسی قوت اور نور پیدا ہوتا ہے۔ جس کی روشنی میں اسے حرام کاموں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے گویا کہ اس کی زندگی میں معجزانہ تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ گناہ وہ ہے جسے انسان کا دل محسوس کرے۔ اس کے ساتھ ہی تقویٰ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی غلطیوں سے صرف نظر کرکے اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے نہ صرف انفرادی مسائل حل ہوتے ہیں بلکہ اس سے زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھلتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ تقویٰ کا مقام انسان کا دل ہے۔ اور دل انسانی جسم میں قوت متحرکہ کا کام دیتا ہے۔ دل کی حرکت بند ہوجائے تو انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اگر دل روحانی طور پر مردہ ہوجائے تو جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا انسان روحانی اور اخلاقی طور پر مردہ ہوجاتا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَاد اللّٰہِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ التَّقْوٰی ہَاہُنَا وَیُشِیرُ إِلَی صَدْرِہٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔۔ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا با ہم حسد نہ کرو اور ایک دوسرے پر بو لی نہ بڑھاؤ اور بغض نہ رکھو اور قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر تجارت نہ کرے اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے تقویٰ اس جگہ ہے آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا۔۔ “ (عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِی صَدْرِکَ وَکَرِہْتَ أَنْ یَطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والاثم ] ” حضرت نواس بن سمعان انصاری ؓ کہتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا نیکی حسن اخلاق ہے اور برائی جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ اس کے متعلق لوگوں کو پتہ چل جائے۔ “ مسائل 1۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ کا خوف مسلمان کے لیے حق و باطل کا معیار بن جاتا ہے۔ 3۔ تقویٰ اختیار کرنے والے کے۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بڑا فضل وکرم والا ہے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ کے فوائد : 1۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : 31 تا 33) 2۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34) 3۔ متقی کا ہر کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5) 4۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

” اور جب کفر کرنے والے لوگ آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو نکال دیں اور وہ سازش کررہے تھی جبکہ اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ “ (30)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ حالات پر تبصرہ جاری ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو مکی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے احساس دلایا گیا کہ اپنا ماضی یاد کرو جب تم کمزور اور قلیل تھے تمہیں ہر وقت خطرہ لاحق رہتا تھا کہ تمہارا دشمن تمہیں نیست و نابود نہ کردے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہاری نصرت و حمایت کی اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے سامنے آپ کی ہجرت کا پس منظر رکھا گیا ہے۔ اے نبی ! وہ وقت یاد کیجیے جب کفار نے یہ طے کیا تھا کہ آپ کو ہمیشہ کے لیے قید و بند کردیا جائے یا آپ کو قتل کردیا جائے یا پھر جلا وطن کردیا جائے۔ جب وہ آپ کے خلاف مکر و فریب اور سازشیں کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ایک فیصلہ کر رکھا تھا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی فیصلہ اور تدبیر کرنے والا نہیں ہے۔ اہل مکہ آپ کی عظیم اور پر خلوص جدوجہد سے تنگ آکر۔ دارالندوہ میں بھرپور نمائندہ اجتماع کرتے ہیں۔ جس کا ایجنڈا یہ تھا کہ ہم نے محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہر حر بہ استعمال کیا مگر وہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں ان حالات میں ہمیں فیصلہ کن اور آخری قدم اٹھانا چاہیے۔ مکہ کے ایک سردار نے یہ تجویز پیش کی کہ اسے تا حیات قید رکھا جائے۔ جس کی مخالفت کرتے ہوئے دوسروں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کیونکہ اس کے ساتھی اپنی جانوں پر کھیل کر اسے چھڑوا نے کی کوشش کریں گے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ اسے جلاوطن کردیا جائے اس کا جواب یہ آیا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہمارے خلاف لوگوں کو منظم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ آخری تجویز ابو جہل نے پیش کی کہ اسے قتل کردینا چاہیے جس کی تائید میں مجلس میں بیٹھے ہوئے عجمی شیخ کی صورت میں شیطان نے کہا کہ میں اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اسے قتل کرنے کے لیے مکہ کے تمام خاندانوں سے ایک ایک جوان لیا جائے تاکہ محمد ﷺ کا خاندان خون بہا کا مطالبہ کرے تو یہ ذمہ داری کسی ایک فرد پر عائد نہ ہو سکے اور ہم سب اس کی دیت دے کر اس کے خاندان سے نجات پاجائیں گے۔ چناچہ اگلی رات آپ کے گھر کا گھیراؤ کرلیا گیا حسب فیصلہ انھوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا۔ اس وقت آپ کو بذریعہ وحی اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ آپ کی سبز دھاری دار چادر لے کر چار پائی پر لیٹ جائے۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین سے مٹی اٹھاتے ہوئے مکان کے چاروں طرف پھینکی جو کفار کے سروں پر پڑی۔ جس سے وہ مدہوش ہوگئے اس طرح آپ اپنے گھر سے باہر نکلے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو لے کر تین دن غار ثور میں روپوش رہے بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کو کامیاب فرمایا جس سے آپ ﷺ کفار کی دست برد سے محفوظ رہے اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ تفصیل کے لیے سیرت کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ مسائل 1۔ کفار کی ہر سازش ناکام ہوئی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور تدبیر ہمیشہ غالب رہتی ہے کیونکہ اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے : 1۔ عیسائیوں نے خفیہ تدبیر کی اللہ نے وہ تدبیر انھی پر لوٹا دی اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 54) 2۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی تدبیر کی سب تدبیر اللہ ہی کے لیے ہے۔ (الرعد : 42) 3۔ انھوں نے مکرو فریب کیا جبکہ اللہ نے بھی تدبیر کی لوگ اس کی تدبیر کو نہیں سمجھتے۔ (النمل : 50) 4۔ انھوں نے سازشیں کیں اللہ کے ہاں بہتر تدبیریں ہیں۔ (ابراہیم : 46) 5۔ کیا لوگ اللہ کی تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں۔ (الاعراف : 99)
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

” اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اس جیسا ہم بھی کہہ دیں یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیوں کے سواکچھ نہیں۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کفار کی دشمنی قرآن کی وجہ سے تھی۔ جس بنا پر کفار نے آپ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا ان کی عادت اور غلطی یہ تھی کہ وہ دل لگا کر قرآن سنتے ہی نہیں تھے اگر کسی طرح سن لیتے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ رسول محترم ﷺ مشرکین مکہ کے سامنے قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے مختلف قسم کے بہانے بناتے اور الزامات لگایا کرتے تھے۔ ان الزامات میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے ایسا کلام بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ حالانکہ اس پر کسی قسم کی وحی نازل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر انھیں یکے بعد دیگرے چیلنج دیے کہ اگر تمہیں اس بات پر شک ہے کہ اس نبی ﷺ پر ہم نے قرآن مجید نازل نہیں کیا اور اس نے خود یہ کلام بنا لیا ہے تو تم جس، جس کو چاہو اپنے ساتھ ملا کر ایک سورة ایسی بنا لاؤ۔ لیکن وہ اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے تھے اور قیامت تک کوئی اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے گا۔ اس کے باوجود ہر زہ سرائی کرتے ہوئے کہتے اے محمد ! ہم نے آپ کے قرآن کو سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں اور ایسے قصے کہانیاں بنانا ہمارے لیے مشکل نہیں ہے۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے بندے پر جو قرآن نازل کیا ہے اس کے من جانب اللہ ہونے پر تمہیں شک ہے اور تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا جہاں کے جن و انس اور جس کو جیسے اور جب چاہو اپنے ساتھ ملا کر انفرادی یا اجتماعی طور پر ایک ہی سورة بنا کرلے آؤ۔ لیکن یاد رکھو ! اب تک نہ ہوا اور نہ قیامت تک ایسا ہو سکے گا۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے اعلیٰ وارفع، لازوال اور بےمثال ہے اسی طرح اس کا کلام اعلیٰ ، ارفع، لازوال اور بےمثال ہے۔ قرآن مجید انسانوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے اللہ کریم کی طرف سے نبی محترم ﷺ کو ایسا معجزہ عطا کیا گیا ہے۔ جس کی بلاغت نے قیامت تک دنیا کے سخن وروں، قانون دانوں، شاعروں اور ادیبوں کو لا جواب کردیا ہے۔ اس کے باوجود ہر دور کے کافر قرآن مجید ‘ فرقان حمید کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لیکن بالآخر انہیں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا پڑا اور کرتے رہیں گے۔ جس کی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ قرآن کے طالب علم کو معلوم ہوجائے کہ منکرین قرآن کس طرح اپنی نا کامی کا اعتراف کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جب مقابلہ تمہارے بس کا روگ نہیں تو اس آگ سے بچو جس میں پتھروں اور انسانوں کو جھونکا جائے گا جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (البقرۃ : 24 ) فرانس کا مشہور مستشرق ڈاکٹر مارڈریس جس کو حکومت فرانس کی وزارت معارف نے قرآن حکیم کی باسٹھ سورتوں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کرنے پر مامور کیا تھا اس نے اعتراف کیا : ” بیشک قرآن کا طرز بیان اللہ تعالیٰ کا طرز بیان ہے، بلا شبہ جن حقائق و معارف پر یہ کلام حاوی ہے وہ کلام الٰہی ہی ہوسکتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ اس میں شک وشبہ کرنے والے بھی جب اس کی عظیم تاثیر کو دیکھتے ہیں تو تسلیم واعتراف پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پچاس کروڑ مسلمان (اس تحریر کے وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی ہی تھی 2005 میں یہ تعداد سوا ارب سے زائد ہے) جو سطح زمین کے ہر حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں قرآن کی خاص تاثیر کو دیکھ کر مسیحی مشن میں کام کرنے والے بالاجماع اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ “ [ معارف القرآن مفتی محمد شفیع ] ڈاکٹر گستادلی بان نے اپنی کتاب ” تمدن عرب “ میں قرآن کی حیرت انگیزی کا اعتراف کیا، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اُمّی اسلام کی ایک حیرت انگیز سر گزشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہنجار کو جو اس وقت تک کسی ملک کے زیر حکومت نہ آئی تھی رام کیا، اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ “ مسٹر وڈول جس نے قرآن مجید کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا لکھتے ہیں : ” جتنا بھی ہم اس کتاب یعنی قرآن کو الٹ پلٹ کر دیکھیں۔ اسی قدر پہلے مطالعہ میں اس کی مرغوبیت نئے نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، فوراً ہمیں مسخر اور متحیر کردیتی ہے، اور آخر میں ہم سے تعظیم کرا کر چھوڑتی ہے۔ اس کا طرز بیان با عتبار اس کے مضامین کے، عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جا بجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا پر زور اثر دکھاتی رہے گی۔ “ (شہادۃ الاقوام، ص 13) مسائل 1۔ مشرکین قرآن مجید کو غور سے نہیں سنتے۔ 2۔ قرآن مجید کو، کافر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہتے ہیں۔ 3۔ قرآن مجید کے منکر جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ 4۔ قرآن مجید کا لوگوں کو قیامت تک کے لیے چیلنج ہے۔
Ayahs 8:32–33

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

” اور جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ (32)

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور نہیں اللہ ہے کہ انہیں عذاب دے جب کہ آپ ان میں ہیں اور اللہ انہیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔ “ (33 )

فہم القرآن ربط کلام : قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی وجہ جدوجہد سے تنگ آکر کفار کی انتہا درجے کی جہالت، اکھڑ مزاجی اور اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی۔ مکہ کے سردار اس قدر ہٹ دھرمی اور جہالت پر اتر آئے کہ ایک دن ابو جہل کے ساتھ مل کر بیت اللہ میں جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور اس کی توفیق مانگنے کے بجائے بیت اللہ کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگتے ہیں۔ بار الٰہا ! اگر واقعی محمد ﷺ سچارسول ہے اور اس پر تو نے حق نازل کیا ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ یا ہمیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور آخری واقعہ ہوگا کہ جس میں انسان اس حد تک بغاوت پر اتر آیا ہو کہ وہ اللہ کے گھر میں کھڑے ہو کر اس سے اس کی رحمت اور ہدایت طلب کرنے کے بجائے۔ اس کے غضب کو چیلنج کر رہا ہو۔ جس طرح مکہ والوں نے انتہا کی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کی منہ مانگی مراد پوری کرتے ہوئے انھیں ایک لمحہ کی تاخیر دیے بغیر بیت اللہ کے صحن کے اندر ہی تہس نہس کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی، حلم اور بردباری اس قدر بےکنار ہے کہ ان پر پتھر برسانے کی بجائے یہ کہہ کر مہلت دی کہ اللہ کے لیے عذاب نازل کرنا کوئی مشکل نہیں کہ وہ تم پر قوم لوط کی طرح پتھر برسائے یا قوم عاد کی طرح پٹخ پٹخ کر زمین پردے مارے کیونکہ تم واقعی اس لائق ہو کہ تمہیں فی الفور ختم کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا وجود معاشرے کے لیے ناسور اور دین حق کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تم پر اس لیے عذاب نازل نہیں کر رہا کہ اس کا محبوب اور اس کے توبہ و استغفار کرنے والے ساتھی تم میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ جس بستی میں اس کا رسول ہو اس بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک رسول کو وہاں سے ہجرت کا حکم نہ ہوجائے۔ دوسری بات جو اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتی اور اس کے عذاب کو ٹالتی ہے۔ وہ اس کے مومن بندوں کا توبہ و استغفار کرنا ہے جس بستی میں توبہ و استغفار کرنے والے لوگ زیادہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کبھی ہلاک نہیں کرتا اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم صبح و شام اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتے رہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ عَبْدًا اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ فَاغْفِرْہُ فَقَالَ رَبُّہُ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُبِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَا شَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْہُ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَ ےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا اٰخَرَ فَاغْفِرْہُ لِیْ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْےَفْعَلْ مَا شَآءَ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تو اے رب معاف فرما۔ اس کا رب فرشتوں سے کہتا ہے ‘ کیا میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے ؟ لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ کی توفیق ہوتی ہے وہ گناہ سے باز رہتا ہے ‘ پھر اس سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے رب کو پکارتا ہے۔ میرے پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا ہے۔ میرے اللہ ! مجھے معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے استفسار کرتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ کوئی اس کا مالک ہے جو گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور ان پر پکڑ بھی کرتا ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا ! اب وہ جو چاہے کرے۔ “ (یعنی سابقہ گناہ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ ) “ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ قَال حینَ یَأْوِی إِلٰی فِرَاشِہٖ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ ذُنُوبَہُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ کَانَتْ عَدَدَ أَیَّام الدُّنْیَا) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ] ” حضرت ابو سعید ؓ نبی مکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے ” أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیَّ الْقَیُّومَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ “ تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں، اگرچہ درختوں کے پتوں کی تعداد کے برابر بھی ہوں، اگرچہ صحرا کی ریت کے ذروں کے برابر بھی ہوں، اگرچہ دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر بھی ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت نہیں دینی چاہیے۔ 2۔ استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جاتا ہے۔
Ayahs 8:34–35

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

” اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں اس کے متولی تو متقی لوگوں کے سوا کوئی نہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ (34)

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا نہیں ہوتی سو عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم کفر کرتے تھے۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین مکہ نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر اپنے لیے عذاب کی دعا کی جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ انھیں عذاب نہ دینے کی و جہ یہ ہے کہ ہمارا رسول ﷺ اور اس کے استغفار کرنے والے ساتھی یہاں موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ یہ مسجد حرام میں توحید کی دعوت دینے سے روکتے ہیں۔ جب کہ بیت اللہ کی بناء کا مقصد ہی اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کی توحید کا پرچار ہے۔ لیکن یہ بیت اللہ کی تولیت کے زعم میں آکر اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں جبکہ مسجد کی تولیت کا مطلب صرف اس کی خدمت کرنا ہے۔ یہ لوگ اپنے عقیدہ اور کردار کی وجہ سے اس لائق نہیں رہے کہ مسجد حرام کی تولیت کے منصب پر سرفراز رہیں۔ مسجد حرام اور دیگر مساجد کی تولیت کا استحقاق صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک و بدعت سے اجتناب کرتے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔ اہل مکہ کا نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنے کے ساتھ یہ جرم بھی تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں نماز پڑھتے یا توحید کی دعوت دیتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ اس پر انھیں عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے۔ یہاں مسلمانوں کو اشارہ دیا گیا ہے کہ عنقریب بیت اللہ کا انتظام و انصرام تمہارے سپرد کیا جائے گا۔ جس کی نبی کریم ﷺ نے اس وقت پیش گوئی فرمائی جب آپ نے ہجرت سے پہلے عثمان بن طلحہ ؓ سے بیت اللہ کی چابی طلب کی تاکہ بیت اللہ کے اندر داخل ہو کر نفل ادا کرسکیں۔ لیکن اس نے بڑی رعونت کے ساتھ چابی دینے سے انکار کردیا۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ اے عثمان وہ وقت کیسا ہوگا جب یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی جس کو چاہوں گا دوں گا۔ عثمان بن طلحہ نے کہا کیا اشراف مکہ اس وقت مرچکے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا نہیں تم زندہ ہو گے۔ چنانچہ یہی کچھ ہوا کہ مکہ فتح کرنے کے بعد آپ نے عثمان سے چابی طلب کی اس نے سر جھکاتے ہوئے چابی آپ کی خدمت میں پیش کردی۔ آپ نے بیت اللہ کے اندر داخل ہو کر نفل ادا کیے بعد ازاں عثمان بن طلحہ کو چابی عطا کرتے ہوئے فرمایا۔ عثمان اسے اپنے پاس رکھو جو تجھ سے چابی چھیننے کی کوشش کرے گا وہ ظالم ہوگا۔ اس موقعہ پر حضرت علی ؓ نے درخواست کی کہ زم زم کا کنٹرول ہمارے پاس ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ بیت اللہ کی چابی بھی۔ ہمیں عنایت کردیں۔ آپ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس موقعہ پر عثمان بن طلحہ ؓ نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ مسائل 1۔ لوگوں کو مسجد حرام سے روکنا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ 2۔ مساجد اور مسجد حرام کی تولیت صرف صاحب تقویٰ لوگوں کے پاس ہونی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مسجد سے روکنا جائز نہیں : 1۔ مسجد سے روکنا بہت بڑا ظلم ہے۔ (البقرۃ : 114) 2۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا کرتے تھے۔ (الانفال : 34) 3۔ مسجد سے روکنے والے سزا کے مستحق ہیں۔ (الانفال : 34) 4۔ مسجدیں تو اللہ کا گھر ہوتی ہیں۔ (الجن : 18) 5۔ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھتے تو کفار آپ پر آوازیں کستے تھے۔ (الجن : 19)
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے روکیں، پس جو وہ خرچ کریں گے عنقریب وہ ان کے لیے افسوس کا باعث ہوں گے، پھر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے کردار کا آئینہ دکھاتے ہوئے یہ احساس دلایا گیا ہے عنقریب تمہیں اپنے کیے پر حسرت و افسوس ہوگا۔ کفار صرف زبانی اور جسمانی طور پر ہی اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے ہوئے تھے بلکہ وہ اس کے لیے اپنا مال بھی خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے نبی محترم ﷺ کو دعوت توحید سے روکنے کے لیے بڑی بڑی پیش کشیں کی تھیں جب آپ نے ان کی پیشکشوں کو مسترد کردیا تو پھر ان لوگوں نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس پر بس نہیں کی پھر آپ کے خلاف جنگ وجدال کا راستہ اختیار کیا اور بہت سامال خرچ کر ڈالا لیکن بدر سے لے کر فتح مکہ تک نہ صرف ان کا جانی نقصان ہوا بلکہ بےپناہ وسائل بھی ضائع ہوئے اس طرح حسرت کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا اسی حسرت و افسوس کے ساتھ جہنم واصل ہوگئے۔ (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُولُ یَا لَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً )[ سورة الفرقان : 27] ” اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا میں نے رسول کے ساتھ اپنا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ “ اس وقت ان کی آہیں اور صدائیں انھیں کچھ فائدہ نہیں دیں گی اور انھیں ہمیشہ جہنم میں رہنا پڑے گا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر خرچ کیا ہوا مال ضائع ہوجاتا ہے۔ 2۔ قیامت کے دن یہ مال حسرت و افسوس کا باعث ہوگا۔ 3۔ خدا کے منکر اور باغی جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

” تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے اور ناپاک کے بعض کو بعض پر رکھے اور اسے اوپر تلے ڈھیر لگادے، پھر اسے جہنم میں ڈال دے یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ “ (37)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرک اور کافر فکر و عمل کے اعتبار سے گندے لوگ ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے مومنوں اور مشرکوں کے درمیان ایک امتیاز پیدا کرنا چاہتا ہے اور قیامت کے دن اسی امتیاز کی بناء پر انھیں الگ کردیا جائے گا۔ انسان جب کفر و شرک کا وطیرہ اختیار کرلیتا ہے تو وہ فکری طور پر منتشر اور عملی طور پر خبیث اور گندا ہوجاتا ہے قرآن مجید میں عقیدۂ کفر و شرک کو شجرۂ خبیثہ کہا ہے اور شرک کے مرتکب شخص کو نجس قرار دیا ہے۔ (ابراہیم : 26) عربی میں گندی، پلید اور بری چیز کو خبیث کہا جاتا ہے۔ شیطان ہر قسم کی خباثت کا منبع ہے اس بنا پر اس کا دوسرا نام خبیث ہے۔ خبیث کے مقابلہ میں طیب کا لفظ آیا ہے۔ عقیدۂ توحید کو سورة ابراہیم میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے۔ جس کی جڑیں مضبوط اور اس کی شاخیں آسمان تک بلند ہیں۔ یہ ایسا سدا بہار درخت ہے جو ہر آن پھل دیتا ہے۔ اس عقیدہ کے تقاضے پورے کرنے والا شخص طیب ہوگا۔ جس کا معنیٰ پاک، عمدہ اور بہترین ہے۔ نبی محترم نے حلال و حرام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ طیب ہے اور وہ طیب مال کو پسند کرتا ہے گویا کہ طیب اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ یہاں کافر و مشرک کو خبیث اور مسلمان کو طیب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان امتیاز کرے گا۔ یہ امتیاز اللہ تعالیٰ دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور آخرت میں بھی ہوگا۔ اسلام کے نفاذ سے یہ امتیاز دنیا میں مدت تک قائم رہا لوگوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ قرآن کے ماننے اور عقیدہ توحید اختیار کرنے والوں کا کیا کردار ہوتا ہے اور خدا کے باغیوں کے عقیدہ و عمل سے دنیا میں کیا غلاظت اور تعفن پیدا ہوتا ہے اسی امتیاز کی بنا پر آخرت میں مومنوں اور مشرکوں کے درمیان فرق کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہنم میں مشرکوں اور کافروں کو ایک دوسرے کے اوپر جمع کرے گا اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے نقصان میں رہیں گے۔ ایک دوسرے کے اوپر جمع کرنے سے مراد جہنم کے طبقات ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنمیوں کو ذلیل کرنے اور سزا کے طور پر ایک دوسرے پر پھینکا جائے۔ (أَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لَّا یَسْتَوُونَ )[ سورة السجدۃ : 18) ” کیا مومن ایسے ہی ہوتا ہے جیسے فاسق ؟ یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ “ (إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا )[ النساء : 145] ” بلاشبہ منافق جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوں گے اور تو ان کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرق کرتا ہے۔ 2۔ مشرک لوگ جہنم میں اکٹھے پھینکے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : مشرک اور مومن دنیا اور آخرت میں برابر نہیں ہوسکتے : 1۔ مشرک پلید ہوتا ہے۔ ( التوبۃ : 28) 2۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) 3۔ اللہ تعالیٰ مجرموں اور مومنوں کو برا بر نہیں رکھے گا۔ (القلم : 35۔ 36) 4۔ اندھا اور بینا برابر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کرنے والے اور برے اعمال کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ (المومن : 58) 5۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوسکتے جنتی ہی کامیاب ہیں۔ (الحشر : 20) 6۔ نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ (حٰم السجدۃ : 34) 7۔ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو تعمیر کرنے کو ان لوگوں کے برابرسمجھ لیا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں وہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہوسکتے۔ (التوبۃ : 19)
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

” جن لوگوں نے کفر کیا ان سے فرما دیں اگر وہ باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا انہیں بخش دیا جائے گا اور اگر پھر ایسا ہی کریں تو پہلے لوگوں کا طریقہ گزرہی چکا ہے۔ “ (38)

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو جہنم کی وارننگ دینے کے بعد ایک دفعہ پھر نبی اکرم ﷺ کو انھیں نصیحت کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ اے رسول ! کفار کو پوری سوز مندی کے ساتھ سمجھائیں کہ یہ لوگ اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں تو ان کے تمام جرائم اور گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ اگر یہ کفر و شرک کی روش پر قائم رہیں تو انھیں اپنے سے پہلے مجرموں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے کفار کو ایک دفعہ پھر سمجھانے کا ارشاد فرمایا کہ اے رسول ! ان کو پھر سمجھاؤ کہ جو کچھ تم کرچکے سو کرچکے۔ اگر اب بھی کفر و شرک سے باز آجاؤ تو نہ صرف تمہارے ماضی پر کوئی عقوبت نہیں ہوگی بلکہ تمہارا رب اتنا رحیم و کریم ہے کہ وہ تمہاری ماضی کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس قدر حلیم و غفور ہے جو شخص بھی سچے دل کے ساتھ توبہ کرتا ہے نہ صرف اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے بلکہ اس کی سیئات کو حسنات میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ لوگ بار بار موقع دینے کے باوجود اپنا فکر و عمل نہیں بدلتے تو انھیں فرمائیے کہ تمہارا انجام تم سے پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ہے۔ (عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ فَلْأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِینَہٗ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَلَا أَجَلَّ فِی عَیْنِی مِنْہُ وَمَا کُنْتُ أُطِیقُ أَنْ أَمْلَأَ عَیْنَیَّ مِنْہُ إِجْلَالًا لَہُ وَلَوْ سُءِلْتُ أَنْ أَصِفَہُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّی لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَیْنَیَّ مِنْہُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ وَلِینَا أَشْیَاءَ مَا أَدْرِی مَا حَالِی فیہَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِی نَاءِحَۃٌ وَلَا نَارٌ) [ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین ] ” حضرت عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ جب آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے فرمایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تب آپ پوچھتے ہیں اے عمرو ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ وہ کونسی شرط ہے ؟ میں نے عرض کی کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تو نہیں جانتا یقیناً اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے اسی طرح ہجرت سے پہلے کے بھی گناہ ختم ہوجاتے ہیں۔ اور یقیناً حج سے بھی سابقہ غلطیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ رسول معظم ﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا۔ اور نہ ہی میری آنکھ میں آپ ﷺ سے زیادہ کسی کا جلال تھا۔ میں انہیں اس جلال کی وجہ سے آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکا۔ اگر مجھ سے کوئی سوال کرے کہ میں آپ ﷺ کا کوئی وصف بیان کروں تو اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے آپ کو کبھی آنکھ بھر کے ہی نہیں دیکھا۔ اگر میں اس حال میں فوت ہوگیا تو میں امید کرتا ہوں کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا۔ پھر اللہ مجھے جنت میں ولی مقرر کر دے تو میں نہیں جانتا وہاں کس حال میں ہوں گا تو جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی اور آگ نہ لے کے آنا۔ “ (إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّءَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَان اللّٰہُ غَفُورًارَّحِیمًا)[ سورة الفرقان : 70] ” ہاں جو شخص توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ خدا کے منکروں کو بار بار سمجھانا چاہیے۔ 2۔ توبہ کرنے اور کفر و شرک سے باز آنے والے کے اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔ 3۔ خدا کے باغیوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ (39)

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ منہ موڑلیں تو جان لو کہ یقیناً اللہ تمہارا دوست ہے وہ اچھا دوست اور اچھا مددگار ہے۔ “ (40)

فہم القرآن ربط کلام : جو کفار اپنی روش سے باز نہیں آتے ان کے خلاف جہاد کا حکم ہے۔ اسلام میں قتال فی سبیل اللہ کا تصور یہ ہے کہ اگر کفار بقائے باہمی کی بنیاد پر مسلمانوں کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہیں تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن پسند کفار کے ساتھ قتال کرنے سے باز رہیں۔ بشرطیکہ اہل کفر تبلیغ دین میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ لوگوں تک حق پہنچانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اگر لوگ اپنی خوشی سے حلقۂ اسلام میں داخل ہونا چاہیں تو ان کی راہ میں رکاوٹ بننے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ لیکن کفار دین اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اگر وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آتے تو پھر مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر ایسی قوت پیدا کریں کہ جس سے کفار کو ان کے مذموم عزائم سے روکا جاسکے کیونکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنا یا اسلامی مملکت کے خلاف سازشیں کرنا ایک فتنہ ہے جسے کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اس بناء پر مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ فتنہ کا قلع قمع کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ اس کے خلاف سینہ سپر ہوجاؤ اور اس وقت تک قتال فی سبیل اللہ سے پیچھے نہ ہٹوجب تک دین کا غلبہ نہ ہوجائے۔ اگر کفار اپنی سازشوں سے بازآجائیں اور بقائے باہمی کے اصول پر امن سے رہنا چاہیں تو پھر ان سے تعارض کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر وہ باز نہیں آتے تو دین کے غلبہ تک جہاد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے۔ کیونکہ اسلام کے نفاذ سے سب کو امن وامان اور سلامتی حاصل ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ کفار سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ان کے کردار کو دیکھ رہا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا والی اور خیر خواہ ہے۔ اس سے بہتر تمہارا کوئی خیر خواہ اور مدد کرنے والا نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی جس کی اللہ تعالیٰ خیر خواہی اور دستگیری فرمائے وہی کامیاب اور سرفراز ہوگا۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ فتنہ کے خاتمہ تک قتال فی سبیل اللہ کرنا چاہیے۔ 2۔ دین کا غلبہ ہونا ضروری ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا خیر خواہ اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے : 1۔ رسول کریم ﷺ کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : 10) 3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129)
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

” اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم اللہ اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی جس دن دو جماعتیں مقابل ہوئیں اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی ابتدا مال غنیمت کے متعلق ایک سوال سے ہوئی۔ جس کا مختصر جواب یہ دیا گیا کہ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے تمہارا کام اپنی اصلاح کرنا اور اللہ، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہے یہاں اس کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے۔ مال غنیمت کے حقدار لوگوں کی تفصیلات بتانے سے پہلے ” واعلموا “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں کسی بات سے آگاہ کرنے کے ساتھ انتباہ بھی پایا جاتا ہے۔ یعنی اچھی طرح جان لو کہ جو تمہیں بتلایا جا رہا ہے یہ معمولی مسئلہ نہیں حقیقت ہے کہ یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اس لیے کہ وہی اسے حلال کرنے والا اور تمہیں فتح دینے والا ہے۔ مال غنیمت کے حق داروں میں رسول محترم ﷺ کا نام پہلے اس لیے لیا کہ پہلے انبیاء اور ان کی امتوں پر یہ مال حرام تھا۔ پھر یاد رکھو کہ رسول محترم کی قیادت اور محنت کی و جہ سے تم اس قابل ہوئے ہو۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی خصوصیت ہے کہ ان کے لیے غنیمت کا مال جائز قرار دیا گیا جس کی تقسیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے مال غنیمت میں پانچواں حصہ ہے جس کا مفہوم ائمہ کرام ؓ نے یہ متعین کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حصہ سے مراد بیت اللہ کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنا ہے کچھ مفسرین کا خیال ہے اللہ تعالیٰ کا نام صرف تبرک کے طور پر لیا گیا ہے۔ میرا ذاتی نقطہ نظریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا نام اس لیے لیا ہے تاکہ غازیوں کو احساس ہوجائے کہ یہ مال ہماری بہادری اور جواں مردی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔ اس لیے اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے جس نے اس کی تقسیم اس طرح فرمائی ہے کہ پہلا حصہ رسول ﷺ کا ہے وہ جہاں چاہیں اسے خرچ فرمائیں۔ جس کے بارے میں آپ فرمایا کرتے تھے میر احصہ بھی مسلمانوں کے لیے ہے جسے آپ مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات پر خرچ کیا کرتے تھے۔ امیرالمومنین حضرت عمر ؓ جب خلیفہ بنے تو انھوں نے فرمایا کہ میں امت کا ذمہ دار ہونے کی بناء پر اس سے اتنا ہی اپنی ذات پر خرچ کروں گا۔ جتنا یتیم کی کفالت کرنے والا اس کے مال سے اپنی ذات پر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ گویا کہ خلیفۂ وقت اپنے اہل و عیال پر اس سے بڑھ کر خرچ نہیں کرسکتا۔ جہاں تک رسول کریم ﷺ کو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس کے بارے میں آپ کی سنت یہ ہے کہ جب حضرت فاطمہ ؓ نے آپ سے بیت المال میں ایک کنیز لینے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ ابھی مستحق باقی ہیں۔ اس لیے میں آپ کو کنیز دینے کے بجائے وظیفہ بتلاتا ہوں کہ آپ 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر۔ رات سونے سے پہلے پڑھا کرو۔ اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا سربراہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو کن حالات میں کس قدر مال غنیمت دے سکتا ہے۔ اس کے بعد خمس مال میں یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حصہ رکھا گیا۔ اس تقسیم پر عمل کرنا ہر اس شخص پر لازم ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ ہی نے نبی کریم ﷺ پر بدر کے دن اپنی خاص مدد نازل فرمائی تھی جب دو جماعتیں آپس میں برسرپیکار ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا اختیار رکھنے والا ہے۔ (عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَہْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَہْمًا) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب سہام الفرس ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے گھوڑے والے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔ “ (عَنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃ) ِ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ أُحِلَّتْ لَکُمُ الْغَنَاءِمُ ] ” حضرت عروہ البارقی ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر لکھ دی گئی ہے اجر اور غنیمت کی صورت میں۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ إِذَا أَصَابَ غَنِیمَۃً أَمَرَ بلاَلاً فَنَادَی فِی النَّاسِ فَیَجِیءُونَ بِغَنَاءِمِہِمْ فَیُخَمِّسُہُ وَیُقَسِّمُہُ فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِکَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ہَذَا فیمَا کُنَّا أَصَبْنَاہُ مِنَ الْغَنِیمَۃِفَقَالَ أَسَمِعْتَ بلاَلاً یُنَادِی ثَلاَثًاقَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَجِیءَ بِہِ فَاعْتَذَرَ إِلَیْہِ فَقَالَ کُنْ أَنْتَ تَجِیءُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَنْ أَقْبَلَہُ عَنْکَ ) [ رواہ ابوداوٗد : باب فِی الْغُلُولِ إِذَا کَانَ یَسِیرًا یَتْرُکُہُ الإِمَامُ وَلاَ یُحَرِّقُ رَحْلَہُ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس جب مال غنیمت پہنچتا آپ بلال کو حکم دیتے کہ لوگوں میں اعلان کرے تو صحابہ کرام مال غنیمت ایک جگہ جمع کرتے اس مال میں سے پانچواں حصہ نکال کر باقی مال تقسیم کردیا جاتا۔ ایک دن ایک آدمی مال کی تقسیم کے بعد بالوں کی ایک گھچی لیکر آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول یہ مال غنیمت میں سے ہے۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے بلال کو اعلان کرتے ہوئے سنا تھا آپ نے یہ بات تین بار دہرائی۔ اس نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا پھر تو اسے کیوں نہیں لیکر آیا۔ اس نے عذر پیش کیا۔ آپ نے فرمایا اسے اپنے پاس رکھو اور قیامت کو لیکر آنا اب ہرگز میں تجھ سے قبول نہیں کرونگا۔ “ مسائل 1۔ مال غنیمت میں اللہ اور اس کے رسول کا پانچواں حصہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ 4۔ بدر کا دن حق و باطل میں فرق کردینے والا دن تھا۔ 5۔ نبی آخر الزمان ﷺ اللہ کے بندے تھے۔ 6۔ مال غنیمت میں یتیموں اور مساکین کا بھی حصہ ہے۔ تفسیر بالقرآن فرقان کیا ہے : 1۔ اگر تم عقل مند ہو تو بتاؤ کونسا فریق امن کا زیادہ حق دار ہے۔ (الانعام : 81) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والے معجزے عطا کیے۔ (البقرۃ : 53) 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو لوگوں کے لیے ہدایت اور حق و باطل میں فرق کردینے والی کتاب بنا کر نازل کیا ہے۔ (البقرۃ : 185) 4۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے تورات و انجیل کو لوگوں کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب بنا کر نازل فرمایا۔ (آل عمران : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کرنے والی اور روشن کتاب عنایت فرمائی۔ (الانبیاء : 48) 6۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ذات ہے جس نے اپنے بندے پر حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں۔ (الفرقان : 1) 7۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر دو جماعتوں کے ٹکراؤ میں فرق واضح کردیا۔ (الانفال : 41)