Ayahs 8:42–44فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ میدان بدر کا نقشہ اور فریقین کا ایک دوسرے کو اصل تعداد سے کم دکھائی دینا۔
اس سے پہلی آیت میں غزوۂ بدر کے معرکہ کو یوم الفرقان کہا گیا ہے۔ یعنی ایسا دن جس میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان دو اور دو چار کی طرح فرق واضح کردیا گیا۔ غزوۂ بدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو مرے وہ دلیل پر مرے اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل پر زندہ رہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے نکلنے کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو آپ کے رب نے ہی گھر سے نکالا تھا حالانکہ مومنوں میں سے ایک جماعت اسے پسند نہیں کر رہی تھی۔ (الانفال : 6)
یہاں بدر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ جب تم نے بدر میں مدینہ کی جانب اور کفار نے مکہ کی جانب پڑاؤ ڈالا تھا اور جس قافلہ کے لیے تم نکلے تھے وہ نیچے کی طرف ساحل کے کنارے کنارے نکل گیا۔ اگر کفار اور تم آپس میں جنگی اصول طے کرتے تو یہ معرکہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جس طرح تم جنگ کرنے میں متردد تھے اسی طرح کفار کے درمیان بھی اختلاف تھا۔ سیرت کی کتب میں تفصیل ہے کہ بدر سے پہلے ابو جہل اور ان کے ساتھیوں کے درمیان اختلاف ہوا، کہ جب قافلہ بچ کر نکل چکا ہے تو اب جنگ کرنے کا کیا مقصد ؟ لیکن ابو جہل کی رائے غالب آئی جس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مشیت کار فرما تھی۔ اس آیت میں اسی اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح غزوہ بدر کی جزیات بیان کی گئی ہیں۔ اس طرح احد، احزاب، فتح مکہ اور غزوۂ تبوک کی جزیات کی تفصیل بیان نہیں کی گئیں کیونکہ اس معرکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ ہم نے اس مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر رزم آرا کیا تھا
1۔ اللہ تعالیٰ اپنی نصرت کے ساتھ حق ثابت کرنا چاہتا تھا تاکہ حق، حق اور باطل، باطل ثابت ہوجائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں جو فیصلہ کر رکھا تھا اسے لوگوں کے سامنے آشکار کرنا چاہتا تھا۔
3۔ ہلاک ہونے والا دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو اور زندہ رہنے والا دلیل کی بنیاد پر زندہ رہے۔
دلیل پر مرنے اور دلیل کی بنیاد پر زندہ رہنے کا میرے نزدیک دو معانی ہوسکتے ہیں۔ بدر میں مرنے والے کفار نے اپنی آنکھوں سے اللہ کا وہ وعدہ دیکھ لیا۔ جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ مکہ میں انھیں بتایا کرتے تھے کہ تم جتنی چاہو مخالفت کرلو۔ اللہ تعالیٰ دین کو غالب کرکے رہے گا۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا گویا کہ دونوں فریق نے حق کی پاسداری اور باطل کی ناپائیداری اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرلی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے وجود کی ایک بنیاد قائم فرمائی خواہ وہ چیز روحانی وجود رکھتی ہو یا مادی۔ انسانی وجود روح اور جسم پر مشتمل ہے۔ انسان کا وجود زمین سے بنا ہے۔ اس کی خوراک بھی زمین سے پیدا کی گئی ہے۔ اگر اسے مادی خوراک نہ ملے تو وجود لاغر، کمزور یہاں تک کہ مردہ ہوجاتا ہے۔ روح آفاقی اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اس کی خوراک روحانی یعنی آسمانی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی شکل میں اتارا ہے۔ جو شخص کفر و شرک کی راہ اختیار کرتا ہے اس کا روح مردہ ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے حق زندۂ جاوید اور حیات بخش ہے۔ باطل کے لیے دلیل نہ ہونے کی وجہ سے مردہ اور مردگی کی علامت ہے۔ اس بنا پر ایمان والا زندہ اور کفر والا مردہ ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جس کی بنا پر مذکورہ بالا حقائق کو نمایاں اور مسلمانوں کو غالب کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو خواب میں کفار کی تعداد اصل تعداد سے کم دکھائی۔ آپ نے اسی طرح صحابہ کرام ؓ کے سامنے اپنا خواب بیان فرمایا اور مسلمانوں کی تعداد کفار کو کم دکھائی گئی۔ جس سے فریقین کے حوصلے دوبالا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم کثیر تعداد دکھلا دیتے تو اے مسلمانو ! تم بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اختلاف سے بچا لیا۔ اسی کا مقصد تھا کہ اللہ وہ کام پورا کردے جو اس کے ہاں ہونا طے پا چکا تھا اور ہر کام کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے خیالات اور دلوں کے جذبات کو جاننے والا ہے۔
مسائل
1۔ فریقین کے نہ چاہنے کے باوجود بدر کا معرکہ برپا ہوا۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ آشکار کرنا چاہتا تھا۔
3۔ باطل مردہ اور اس کی دلیل بھی مردہ ہے۔
4۔ حق زندۂ جاوید اور اس کی دلیل بھی حیات بخش ہے۔
5۔ تمام امور کا انجام اللہ تعالیٰ کے ہاں طے شدہ ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ تمہارے نفسوں کی خباثت کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 187)
2۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اللہ جانتا ہے۔ (النور : 41)
3۔ اللہ نے جان لیا جو ان کے دلوں میں ہے۔ (الفتح : 18)
4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : 7)
5۔ اللہ پر بھروسا کیجیے کیونکہ وہ سنتا اور جانتا ہے۔ (الانفال : 61)
6۔ اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (النور : 18)
7۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : 16)
8۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے وہی غیوب کا جاننے والا ہے۔ (التوبۃ : 78)
Ayahs 8:45–46فہم القرآن
ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کی روشنی میں آئندہ کے لیے ہدایات۔
غزوۂ بدر کے معرکہ سے پہلے مسلمانوں میں اس بات پر کچھ اختلاف تھا کہ اب اس معرکہ کی ضرورت ہے یا واپس مدینہ پلٹ جانا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ معرکہ برپا ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی کچھ کمزوریوں کو صرف نظر فرما کر ان کی زبردست مدد فرمائی۔ جس کا نتیجہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اب مسلمانوں کو آئندہ کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب تمہارا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہو۔ تو تمہیں ان باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بصورت دیگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجاؤ گے۔
1۔ جنگ میں ثابت قدمی دکھانا۔
2۔ مسلسل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔
3۔ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا۔
4۔ باہمی اختلاف اور انتشار سے بچ کر رہنا۔
5۔ عسرو یسر میں مستقل مزاجی اور صبر و حوصلہ کا مظاہرہ کرنا۔
6۔ اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ جنگ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ لیکن اگر کفار تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنیں اور عوام الناس پر مظالم ڈھائیں یا مسلمانوں پر جنگ مسلط کریں تو پھر کفار کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے کی بجائے مسلمانوں کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے اسی کے پیش نظر رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ کفار سے جنگ کی آرزونہ کرو اگر تم پر جنگ مسلط کی جائے تو پھر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ (حوالہ بخاری : کتاب القتال)
حالت جنگ میں دشمن کے خلاف ثابت قدمی دکھانا پہلی اور بنیادی بات ہے۔ اس کے بغیر جنگ جیتنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مجاہد میں ثابت قدمی تبھی پیداہو سکتی ہے جب اس کا دل قائم رہے۔ دل کو قائم رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہی دل کی استقامت کے لیے دعا کی جائے۔ دعا کی ایک صورت اللہ تعالیٰ کو مسلسل یاد رکھنا ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ لوگو ! دلوں کا اطمینان اور سکون میرے ذکر میں ہے۔ ( الرعد : 28)
ذکر جتنی کثرت کے ساتھ کیا جائے گا اتنا ہی دل میں ٹھہراؤ اور سکون پیدا ہوگا۔ جب مجاہد کے قدموں میں ثبات اور اس کے دل میں ٹھہراؤ ہو تو اس کی کامیابی یقینی ہے۔ جس کی بشارت دی گئی ہے۔ البتہ کامیابی اس وقت ناکامی میں تبدیل ہوسکتی ہے جب جنگ کے دوران اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی جائے۔ اس سے مراد شریعت کے مقرر کردہ جنگ کے اصول و ضوابط کی پابندی، برائی اور بےحیائی سے اجتناب اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے لڑنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو بالعموم اور مجاہدین کو بالخصوص باہمی اختلافات سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر دشمن کو مسلمانوں کے باہمی اختلاف کا علم ہوجائے تو ان کے حوصلے بلند ہوں گے کیونکہ اختلاف کی وجہ سے قوم کا اجتماعی رعب اور دبدبہ ختم ہوجاتا ہے۔ آخر میں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ صبر کا معنی مستقل مزاجی اور تنگی اور خوشحالی میں حوصلہ رکھنا ہے۔ جنگ کے دوران اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران بھوک، پیاس اور ہر قسم کی تکلیف سے مجاہد کو واسطہ پڑتا ہے ان حالات میں مجاہدین صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا جس کی تازہ مثال بدر میں مسلمان دیکھ چکے تھے۔
(عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ وَکَانَ کَاتِبًا لَہٗ قَالَ کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی ؓ فَقَرَأْتُہُ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فِی بَعْضِ أَیَّامِہِ الَّتِی لَقِیَ فیہَا انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا قَالَ أَیُّہَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا واعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَال السُّیُوفِ ثُمَّ قَال اللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر ]
” حضرت سالم، ابونضر جو کہ عمر بن عبیداللہ کے غلام ہیں اور وہ ان کے مکاتب ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ان کی طرف عبیداللہ بن ابو اوفی ؓ نے خط لکھا میں نے اسے پڑھا۔ اس میں تھا رسول معظم ﷺ جن دنوں غزوہ میں کفار کے خلاف برسر پیکار تھے۔ انتظار کیا یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا پھر نبی معظم ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو ! دشمن سے سامنا کی خواہش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ جب تمہارا دشمن سے سامنا ہوجائے تو ڈٹ جاؤ اور جانو بلاشبہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر دعا کی اے اللہ کتاب نازل فرمانے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے۔ دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
مسائل
1۔ مجاہدین کو جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
2۔ مسلمان کو ہر وقت بالخصوص حالت جنگ میں اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔
3۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے۔
4۔ باہمی اختلاف سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اختلاف میں ساکھ اور وقار ختم ہوجاتا ہے۔
5۔ عسر ویسر میں مستقل مزاجی اور صبر و حوصلہ سے کام لینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے :
1۔ صبح اور شام اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ (آل عمران : 41)
2۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد زمین میں نکل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الجمعۃ : 10)
3۔ ایام تشریق میں اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ (البقرۃ : 202)
4۔ جب حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (البقرۃ : 198)
5۔ جنگ کے دوران۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الانفال : 45)
6۔ اے ایمان والو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الاحزاب : 41)
7۔ جب نماز ادا کر چکو تو۔ اللہ کو یاد کرو۔ (النساء : 103)
8۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35)
Ayah 8:47فہم القرآن
ربط کلام : جنگ کے بارے میں مزید ہدایات۔
جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی ہدایات دینے کے بعد شکست سے دو چار کردینے والی مذموم حرکات سے روکا گیا ہے۔
1۔ غرور، تکبر اور اترانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
2۔ شہرت، نمائش سے بچ کر اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
3۔ بےمقصد جنگ کرنے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے جہاد کرنا چاہیے۔
مشرکین مکہ بدر کے لیے نکلے تو ان میں اس قدر غرور تھا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی حالت یہ تھی کہ جس کسی نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تجارتی قافلہ بچ کر مکہ پہنچ چکا ہے اور قافلے کے سردار ابو سفیان کا پیغام آچکا ہے کہ اب لڑنے کی بجائے واپس آجانا چاہیے۔ اس کے بعد آگے بڑھنے کا کیا جواز ہے ؟ اس کا جواب ابو جہل یہی دیتا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا صفایا کردیا جائے۔ اس غرور اور تکبر کے ساتھ وہ آگے بڑھتے رہے اور جہاں پڑاؤ ڈالتے، شراب اور شباب کا دور چلتا۔ مکہ سے نکلتے وقت انھوں نے ناچ گانے اور عیاشی کے لیے کچھ بےحیا عورتوں کو ساتھ لیا ہوا تھا۔ اس گھناؤنے کردار کے ساتھ ان کا جنگ کرنے کا مقصد محض عربوں پر دھاک بٹھانا اور شہرت حاصل کرنا تھا۔ تاکہ لوگ ان کی کامیابی اور قوت و سطوت دیکھ کر اسلام قبول کرنے سے رک جائیں۔ انھیں کیا خبر کہ انسان کی تدبیر اور اس کی کوئی کوشش بھی اللہ تعالیٰ کے احاطۂ قدرت سے باہر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ قدرت کا نتیجہ ہے کہ جب کوئی شخص یا قوم اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتی ہے تو وہ اسے ذلیل و خوار کردیتا ہے۔ کفار کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور دنیوی رعب اور دبدبہ جمانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس لیے شکست اور ذلت ان کا مقدر ٹھہری۔ مسلمانوں کو ان حرکات سے منع کیا گیا ہے۔
ان کے مقابلے میں صحابہ کرام ؓ کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کو بلند کرنا تھا جس کی وجہ سے وہ تھوڑے اور کمزور ہونے کے باوجود فتح یاب ہوئے۔
(عَنْ أَبِی مُوْسٰی ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَال الرَّجُلُ یُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ شَجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ رِیَاءً فَأَیُّ ذٰلِکَ فِی سَبِیل اللّٰہِ قَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیل اللّٰہِ )
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )]
” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا ایک آدمی اس لیے قتال کرتا ہے کہ اسے غیرت مند اور حمیت والا کہا جائے اور وہ بہادری جتلانے کے لیے لڑتا ہے دوسرا آدمی وہ ہے جو لوگوں کے دکھاوے کے لیے لڑتا ہے۔ ان میں سے کون سا قتال فی سبیل اللہ ہے ؟ نبی معظم ﷺ نے فرمایا جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ “
مسائل
1۔ جہاد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
2۔ غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے :
1۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو اپنے احاطہ قدرت میں لے رکھا ہے۔ (النساء : 126)
2۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ان سب چیزوں کو اللہ نے احاطہ میں لے رکھا ہے۔ (النساء : 108)
3۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک میرے رب نے جو تم کرتے ہو اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ (ھود : 92)
4۔ جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (آل عمران : 120)
5۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم کے ذریعہ احاطہ کر رکھا ہے۔ (الطلاق : 12)
6۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ (البقرۃ : 255)
Ayah 8:48فہم القرآن
ربط کلام : بدر کے دن شیطان کا کردار۔ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، فخر و غرور اور نمود و نمائش کا مظاہرہ کرنا شیطانی کام ہے۔ شیطان ان کاموں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
اللہ کے راستے کو اختیار کرنا، عاجزی اپنانا اور فخر و غرور، ریاکاری سے اجتناب کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہے اس کے مقابلے میں فخر و غرور، نمود و نمائش اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بننا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ شیطان برائی پر پکا رکھنے کے لیے رواج، خاندانی روایات اور برائی کو خوبصورت بنا کر فیشن کے طور پر دکھاتا ہے۔ اکثر اوقات شیطان انسانوں کے ذریعے ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کبھی خود بھی کسی آدمی کی شکل میں آکر برائی کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جس کا برائی کرنے والے کو علم نہیں ہوتا ایسی ہی صورت حال بدر کے میدان میں پیش آئی۔ پہلے تو شیطان نے مشرکین مکہ میں ایسا ماحول پیدا کیا کہ وہ یہ سمجھتے ہوئے میدان بدر کی طرف بڑھے کہ آج ہمارے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن مسلمانوں کا کٹ مرنے کا جذبہ دیکھا تو پھر سوچنے پر مجبور ہوئے۔ قریب تھا کہ وہ جنگ سے پسپائی اختیار کرتے لیکن اس حالت میں شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا اور اس نے آکر کہا کہ مسلمانوں کے خلاف ڈٹ جاؤ۔ میرا قبیلہ بھی تمہاری مدد کے لیے پہنچنے والا ہے۔ لیکن جب دونوں جماعتوں نے صف بندی کی اور مسلمانوں کی حمایت میں ملائکہ قطار اندر قطار اترنا شروع ہوئے تو شیطان گھبرا کر پیچھے مڑا اور یہ کہتے ہوئے کفار کے لشکر سے نکل گیا کہ میرا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ مجھے رب ذوالجلال سے ڈر لگ رہا ہے۔ کیونکہ جب وہ پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی شدید ہوا کرتی ہے۔ (الرحیق المختوم) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی کبھی شیطان بھی رب ذوالجلال سے ڈرتا ہے حالانکہ اسے شیطنت کے لیے قیامت تک مہلت دی گئی ہے۔
مسائل
1۔ شیطان لوگوں کے لیے برے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
2۔ شیطان کے وسوسے اور خیالات دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔
3۔ کبھی کبھار شیطان انسان کی شکل اختیار کرکے لوگوں میں گمراہی پھیلاتا ہے۔
4۔ کبھی شیطان بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر جاتا ہے۔
تفسیر القرآن
شیطان کن لوگوں کے اعمال خوبصورت بناتا ہے :
1۔ اکثر مشرکین کے لئے قتل اولاد کا عمل مزین کردیا۔ (الانعام : 137)
2۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
3۔ ہر گروہ کے بد اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (الانعام : 109)
4۔ ظالموں کے دل سخت ہوگئے اور شیطان ان کے اعمال کو مزین کر دکھاتا ہے۔ (الانعام : 43)
5۔ اللہ کے علاوہ سورج کو سجدہ کرنے والوں کے برے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (النمل : 24)
Ayah 8:49فہم القرآن
ربط کلام : بدر کے موقع پر منافقین کا رد عمل۔
منافق کا لفظ ” نفق “ سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کہ چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ اگر ایک منہ بند کردیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جائے جب تک بل کے دونوں منہ بند نہ کیے جائیں چوہا قابو نہیں آسکتا۔ منافق کو اس لیے منافق کہتے ہیں کہ اگر اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو وہ اسلام اسلام پکارتا ہے اگر دین کے حوالے سے کسی آزمائش سے واسطہ پڑے تو وہ کافروں کا ہمدرد بن کر ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
انسانی جسم دو چیزوں سے مکمل ہوا ہے روح اور جسم، روح آفاقی ہے اور جسم زمین سے بنا ہے۔ جسم کی خوراک کا تعلق زمین سے ہے، روح کا تعلق اخلاقیات اور ایمانیات سے ہے۔ جس طرح جسم کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ اسی طرح روح کو بھی بیماریاں لگتی ہیں۔ روح کی بیماریوں میں نفاق ایک بد ترین بیماری ہے۔ جو روحانی اور اخلاقی مرض ہے۔ جس کی وجہ سے انسان کا کردار دوغلا ہوجاتا ہے اور وہ مفاد کا بندہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ طاقتور دھڑے کا ساتھ دیتا ہے۔ یہی کردار بدر کے موقع پر منافقوں کا تھا۔ جب انھوں نے مسلمانوں کو بدر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اس کے ساتھ منافق سمجھتے تھے کہ مسلمان جان بوجھ کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور ان کا واپس آنا مشکل ہے لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مشکلات میں سرخرو فرماتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ ہر آیت کے اختتامی الفاظ اس کے مفہوم کا خلاصہ ہوتے ہیں۔ اس معرکہ میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے۔ اس لیے بدر کا معرکہ ناگزیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ” العزیز “ صفت اس لیے لائی ہے تاکہ منافقوں کو معلوم ہوجائے کہ غلبہ اور کامیابی حربی طاقت اور افرادی قوت پر منحصر نہیں مدد تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا کرتی ہے۔
(قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ؓ إِنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ یَدْعُو یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الأَخْلاَقِ )[ رواہ ابوداوٗد : باب فِی الاِسْتِعَاذَۃِ ]
” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں بدبختی، نفاق اور برے اخلاق سے۔ “
مسائل
1۔ منافقت ایک روحانی بیماری ہے جس سے بچنا چاہیے۔
2۔ منافق ہمیشہ اپنے مفاد کو سامنے رکھتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والا حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والی جماعت :
1۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (یوسف : 67)
2۔ مومن اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ (المائدۃ : 11)
3۔ مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (التوبۃ : 51)
4۔ جب آپ ﷺ کسی کام کا عز م کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ (آل عمران : 159)
5۔ آپ ﷺ ان سے اعراض کریں پھر اللہ پر بھروسہ کریں کیوں کہ اللہ ہی نگہبان ہے۔ (النساء : 81)
6۔ سب کاموں کا انجام اللہ کی جانب ہے آپ ﷺ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ کریں۔ (ھود : 123)
7۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ پر ہی بھروسہ کرو۔ (المائدۃ : 23)
8۔ صابر لوگ اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں۔ (العنکبوت : 59)
Ayahs 8:50–51فہم القرآن
ربط کلام : منافق کا انجام اور موت کے وقت اس کی سزا۔
” تَرٰی “ کا معنی ہے بصیرت یا جسمانی آنکھوں کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا۔ یہاں صاحب ایمان شخص کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر وہ بصیرت یا بصارت کے ساتھ منافقین کی موت کا وقت دیکھ سکے تو اسے معلوم ہو کہ ان کا انجام کتنا بد ترین ہوتا ہے۔ موت کے فرشتے ان کے چہروں اور کمروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ اس آیت سے پہلے منافقوں کا ذکر ہو رہا تھا لیکن ان کا انجام بیان کرتے ہوئے منافق کی بجائے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ منافق بظاہر کلمہ گو اور مسلمانوں جیسے کام کرتا ہے لیکن اصلاً وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا منکر ہوتا ہے۔ اس لیے حقیقتاً وہ کافر ہوتا ہے۔ اگر اس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان ہو تو وہ نہ مسلمانوں کو دھوکہ دے اور نہ ہی آخرت کے بدلہ میں دنیاوی مفاد کو ترجیح دے۔ یہ سزا ان کے اپنے کردار کا نتیجہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ منافق دنیا میں اللہ کا مخلص بندہ بننے کی بجائے اپنے مفاد کے بندہ بن کر رہا۔ موت کے وقت اسے ہمدردی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت تھی لیکن یہ منافقت اور دوغلے کردار کی وجہ سے موت کے نازک لمحات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ٹھہرا اور قیامت کے دن اسے جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں پھینکا جائے گا۔ (سورۃ النساء : 145) سورة الانعام : آیت 93 میں ہے کہ جب ایسے لوگوں کی جان قبض کی جاتی ہے تو موت کے فرشتے انہیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی جان کیوں نہیں نکالتے ہو ؟
” حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے ہم قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے ہم بھی ان کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے اپنا سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے ؟ پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے وہ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کی روح کو نکال کر جس تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح لاش سے گندی بدبو زمین پر پھیلتی ہے وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کون سی ہے۔ موت کے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے اس کے برے نام لے کر اس کو بلاتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہوجائے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے لیے زمین کی تہہ میں ٹھکانہ بناؤ۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔ نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں “ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے تو وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تم لوگوں میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ تو وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے تم اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کے پاس اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے۔ اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے ذلیل کیا جائے گا وہ کہتا ہے کہ تم کون ہو اس طرح کی شکل والے جو اتنی بری بات کے ساتھ آئے ہو تو وہ کہے گا میں تیرا بد عمل ہوں وہ کہے گا اے میرے رب کبھی قیامت قائم نہ کرنا۔ “ [ مسند احمد ]
مسائل
1۔ منافق اور کافر کی روح قبض کرتے وقت فرشتے نہایت ہی سختی کرتے ہیں۔
2۔ برے لوگوں کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا :
1۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 70)
2۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (العنکبوت : 40)
3۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (الروم : 9)
4۔ اللہ لوگوں پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : 44)
5۔ قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال کو اپنے روبرو پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (الکھف : 49)
6۔ قیامت کے دن انصاف کا ترازو قائم کیا جائیگا اور کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا۔ (الانبیاء : 47)
7۔ آج کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائیگا۔ یٓس : 54)
8۔ جو شخص نیک اعمال کرتا ہے اس کا صلہ اسی کے لیے ہے اور جو برے اعمال کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا اور تیرا
رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں فرمائے گا۔ (حٰم السجدۃ : 46)
Ayahs 8:52–53فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین مکہ کا انجام :
جس طرح فرعون اور اس کے ساتھی تکبر اور غرور کی وجہ سے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اسی طرح مشرکین مکہ دنیا میں خوار ہوئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح کا رسول فرعون کے پاس بھیجا تھا۔ اس اعتبار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی قوم کے انکار اور کردار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر بدر کے واقعات، اہل مکہ اور منافقین کا کردار اور انجام بیان کرنے کے دوران فرعون اور آل فرعون کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔ جس طرح فرعون اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اور موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا مسلسل انکار کرکے اپنے انجام کو پہنچا اسی طرح ابو جہل اور اس کے ساتھی (اَنَا وَلَا غَیْرِیْ ) کا دعویٰ کرتے ہوئے اللہ کی آیات کے منکرٹھہرے اور رسول معظم ﷺ کے معجزات کا متواتر انکار کرتے رہے۔ جس طرح فرعون اور اس کے ساتھی موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں اندھے ہوئے تھے اسی طرح ابو جہل اور اس کے ساتھی اپنے غرور وتکبر اور طاقت کے زعم میں اندھے ہو کر بدر کی طرف نکلے تھے۔ چناچہ ان کا انجام بھی آل فرعون کی طرح دنیا نے دیکھا فرعون نے ڈبکیاں لیتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لانے کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ابو جہل نے مرتے وقت بھی یہ کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ مجھے مارنے والے قریشی جوانوں کے بجائے انصار کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں گویا کہ یہ آخری وقت فرعون سے بڑھ کر فرعون نکلا اس لیے اس کی لاش کو بدر کے ویران کنویں میں ڈالتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ میری امت کا فرعون تھا۔ ( البدایہ والنھایہ)
جس طرح آل فرعون اپنے گناہوں کی وجہ سے پکڑے گئے اسی طرح ابو جہل اور اس کی ساتھی اپنے جرائم کی بنا پر اللہ کی گرفت میں آئے۔ اللہ تعالیٰ سخت ترین گرفت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کیے ہوئے اپنے انعام کو نہیں بدلتاجب وہ قوم اپنی بدکردار کے ذریعے اسے بدل نہ دے اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور کام کو جاننے والا ہے۔
مسائل
1۔ آل فرعون اور مشرکین کا کردار اور انجام ایک جیسا ہوا۔
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کی شدید گرفت کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے :
1۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ (المائدۃ : 98)
2۔ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کو سخت ترین عذاب سے دو چار کرے گا۔ (آل عمران : 56)
3۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ (آل عمران : 4)
4۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ (الانفال : 13)
Ayahs 8:54–55فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
آل فرعون کی طرح اہل مکہ کی تباہی ان کے گناہوں کی وجہ سے ہوئی ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کو بےوجہ نہ تباہ کرتا ہے اور نہ ہی اپنے انعام کو عتاب میں تبدیل کرتا ہے۔
قرآن مجید اپنے طے شدہ اسلوب کے مطابق وضاحت کرتا ہے کہ آل فرعون کی اقتدار اور اختیار سے محرومی، مصر جیسے سبز و شاداب ملک سے بےدخلی اور انواع و اقسام کی نعمتوں کے بدلے مختلف قسم کی تنگیوں اور مصائب میں مبتلا ہونے کا سبب یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کردیا۔ یہ تو کسی قوم کا مسلسل منفی کردار ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے انعام و کرام سے محروم ہو کر مصائب و آلام میں گھر جاتی ہے۔ یہاں تک کہ انھیں آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں آل فرعون کا جرم یہ بیان کیا ہے کہ وہ اللہ کی آیات یعنی اس کے احکام کا انکار کرنے والے تھے۔ یہاں آل فرعون اور اس سے پہلی اقوام کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات کا انکار کرنے والے تھے جس کی وجہ سے ہم نے انھیں غرق کردیا اور وہ سب کے سب ظالم تھے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جانوروں سے بد ترین ہیں۔ لفظ رب کا ایک معنی ہے پالنے اور مختلف قسم کی نعمتوں سے نوازنے والا۔ یہاں رب کا لفظ استعمال فرما کر اپنی قربت کا احساس دلاتے ہوئے اپنی نعمتوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یاد رہے اللہ کے نام میں جلال اور اسم رب میں محبت و قربت کا احساس پایا جاتا ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ کَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَاءَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیعِ سَخَطِکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ کی دعاؤں میں سے یہ ایک دعا ہے۔” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَاءَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیعِ سَخَطِک “ (اے اللہ میں تیری نعمتوں کے زوال، تیری عافیت کے پھرنے، اور تیرے اچانک عذاب اور ہر طرح کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ بلاوجہ اپنی نعمت واپس نہیں لیتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر کسی کے ارادے کو جاننے والا ہے۔
3۔ آل فرعون نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی جس کی وجہ سے انھیں غرق کردیا گیا۔
4۔ مشرکین مکہ کا انجام بھی آل فرعون کی طرح ہوا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی بات کو نہ ماننے والے لوگ چوپاؤں سے بدتر ہیں۔
تفسیر بالقرآن
فرعون اور آل فرعون کا انجام :
1۔ فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اللہ تعالیٰ قحط سالی میں مبتلا کردیا۔ (الاعراف : 130)
2۔ فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اللہ تعالیٰ نے غر ق فرمادیا۔ ( البقرۃ : 50)
3۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کی گناہوں کی پاداش میں پکڑ فرمائی۔ (آل عمران : 11)
4۔ ہم نے انہیں انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ( الانفال : 54)
5۔ قیامت کے دن آ ل فرعون کو برے عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ (المومن : 45)
6۔ آل فرعون کو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (المومن : 46)
7۔ آسمان و زمین میں کوئی ان پر رونے والا نہیں تھا اور نہ وہ مہلت دئیے گئے۔ (الدخان : 29)
8۔ ہم نے اسے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اس کا کوئی حامی اسے نہ بچاسکا۔ (القصص : 79)
Ayahs 8:56–59فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیو ستہ : آل فرعون جیسا کردار اختیار کرنے والے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
رسول معظم ﷺ نے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد اہل مدینہ سے بقائے باہمی کا معاہدہ کیا جسے تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے مدینے کے یہودیوں اور باسیوں سے طے کیا کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم سب مل کر شہر کا دفاع کریں گے۔ اس عہد کی رو سے یہودی آپ ﷺ کے حلیف تھے لیکن جب کفار نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تو اس موقع پر یہودیوں کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ تھیں اور انھوں نے میثاق مدینہ کی پرواہ نہ کی۔
جب بدر میں مسلمان کا میاب ہوئے تو یہودیوں کے سب سے بڑا قبیلہ بنو قریظہ نے آپ سے معذرت کی اور دوبارہ معاہدہ کیا کہ آئندہم ایسی غلطی نہیں کریں گے لیکن غزوۂ خندق کے موقع پر انھوں نے دوبارہ اہل مکہ کے ساتھ ساز باز کی جس کے نتیجہ میں نبی معظم ﷺ نے انھیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا جس کی تفصیل تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے یہاں یہودیوں کی اسی عہد شکنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بار بار عہد شکنی کی اور آئندہ بھی یہ لوگ اس حرکت سے ڈرنے اور رکنے والے نہیں ہیں۔ اگر عہد شکن لوگ کسی جنگ میں قابو آجائیں تو ان پر خوب سختی کرنی چاہیے تاکہ جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ عبرت حاصل کریں اگر ان لوگوں سے یہ خطرہ ہو کہ یہ آڑے وقت میں پھر عہد شکنی کے مرتکب ہوں گے تو مسلمانوں کو بھی حق ہے کہ وہ ان سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیں لیکن اس موقع پر دو باتوں کا خیال رکھنا لازم ہے ایک تو بد عہد قوم سے عہد توڑتے وقت ضروری ہے کہ ان کی عہد شکنی بالکل عیاں ہوچکی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان سے جنگ کرنے سے پہلے عہد توڑا جائے یعنی عہد توڑنے میں مسلمانوں کی طرف سے کسی قسم کا دھوکا اور بد نیتی شامل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار کے ساتھ بھی خیانت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں خیانت سے پہلی مراد اخلاقی اور سیاسی خیانت ہے جس طرح مالی خیانت حرام ہے اسی طرح سیاسی اور اخلاقی خیانت بھی ناجائز ہے۔ اس ہدایت کے ساتھ ہی کفار کو خبر دار کردیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کبھی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتے اور اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مسلمان حالت جنگ میں کفار کے ساتھ کسی قسم کی خیانت نہیں کرتے انھیں عاجز اور بےبس نہیں کیا جاسکتا۔ مؤرخین نے یہاں عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے اہل روم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جب معاہدہ ختم ہونے کے قریب آیا تو انھوں نے عساکر اسلام کو رومیوں کی سرحد کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا جونہی فوج حرکت میں آئی حضرت امیر معاویہ ؓ کو رسول ﷺ کا فرمان سنا یا گیا کہ یہ دشمن سے بھی عہد شکنی جائز نہیں اخلاقی خیانت ہے جس سے منع کیا گیا ہے امیر المومنین معاویہ ؓ نے یہ حدیث سنتے ہی فوجوں کو واپس بلا لیا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ 1 جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ 2 جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ 3 جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ “
(عَنْ ابْنِ عُمَر ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیرُ إِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کا بیان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان بکری کی ہے کبھی ایک طرف جاتی ہے اور کبھی دوسری جانب۔ “
مسائل
1۔ عہد شکن لوگوں پر سختی کرنی جائز ہے۔
2۔ کفار کی سیاسی اور جنگی خیانت کے مقابلے میں عہد شکنی کرنا جائز ہے کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ۔
3۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
4۔ کافر اللہ تعالیٰ کو کبھی بےبس اور عاجز نہیں کرسکتے۔
تفسیر بالقرآن
بدترین لوگ :
1۔ مالدار بخل کو اپنے لیے اچھا تصور کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : 180)
2۔ اللہ کے راستہ سے گمراہ لوگوں کا بد ترین ٹھکانہ ہے۔ (المائدۃ : 60)
3۔ بہرے، گونگے بےعقل لوگ چوپاؤں سے بدتر ہیں۔ (الانفال : 22)
4۔ بدترین لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا۔ (الفرقان : 34)
5۔ بدترین ظالموں کا برا ٹھکانہ ہے۔ (ص : 55)
6۔ بدترین لوگ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البینۃ : 6)
7۔ بدترین لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے۔ (الحج : 72)
Ayah 8:60فہم القرآن
ربط کلام : جب تک مسلمان اپنا دفاع مضبوط رکھیں گے کافر مسلمانوں کو کبھی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتے۔
مسلمان اگر کفار کی سازشوں اور جارحیت سے بچنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنا دفاع ہر وقت مضبوط رکھنا ہوگا قرآن مجید نے مضبوط دفاع کا اصول اس وقت پیش کیا جب دنیا کے بڑے بڑے جنگجو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اگر مسلمان دشمن کی جارحیت سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بہترین اصول یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھوڑے ہر وقت تیار رکھیں۔ جس سے اللہ اور مسلمانوں کے دشمن اور وہ دشمن بھی جو خفیہ سازشیں کرتے ہیں۔ خوف زدہ ہوں گے اور مسلمانوں پر جارحیت کرنے کا تصور بھی دل میں نہیں لائیں گے۔
مضبوط دفاع کے لیے جو کچھ بھی ہوسکے کرو۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تو اس کا تمہیں پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ زیادتی سے پہلی مراد دشمن کی جارحیت ہے۔
اس آیت کریمہ میں تین قسم کے دشمن بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مراد اس کی ذات کے ساتھ کفر و شرک کرنے والے، دین کے مخالف اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے۔ مسلمانوں کے دشمنوں سے مراد ان کی ذات اور دین کی بنیاد پر عداوت رکھنے والے ہیں۔ تیسرے دشمن منافق اور وہ لوگ ہیں جو دین کی سربلندی اور مسلمانوں کی ترقی نہیں چاہتے لیکن اپنی کمزوری اور مصلحت کی خاطر کھلی دشمنی سے پرہیز کرتے ہیں۔
دفاع کے لیے نقل و حمل کے ذرائع اور اسلحہ کی ضرورت ہوتی ہے جن کا حصول مال کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔ یہ اتنا اہم عنصر ہے کہ قرآن مجید نے جہاد فی سبیل اللہ کے تذکرہ میں اکثر مقامات پر جہاد بالنفس سے پہلے جہاد بالمال کا حکم آیا ہے۔ یہاں دفاعی فنڈ میں حصہ لینے والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہیں اس کے بدلے پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں ہونے پائے گی۔ زیادتی سے مراد اجر وثواب میں کمی ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جب تم دل کھول کر اپنے دفاع میں خرچ کرو گے تو دشمن کے ظلم سے محفوظ رہو گے۔ دشمن کی جارحیت سے بچنے کے لیے حربی قوت بڑھانے اور کھلے عام جنگی گھوڑے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قوت سے مراد ہر قسم کی طاقت اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہے۔ پرانے زمانے میں نقل و حمل کے لیے گھوڑا مضبوط اور تیز رفتار سواری تھی لیکن آج اس کی جگہ ٹینک اور بمبار طیاروں نے لے لی ہے۔ تاہم گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ کیونکہ پہاڑی علاقے میں جیپ، ٹینک یہاں تک کہ بلند پہاڑوں میں جہاز اور ہیلی کا پٹر بھی کام نہیں دیتے۔ جس کی بنا پر دنیا میں کوئی ایسی فوج نہیں جن کے پاس جنگی گھوڑے موجود نہ ہوں۔ نبی اکرم ﷺ کے دور میں تیر، تلوار اور گھوڑے جنگی ضروریات میں سب سے اہم تھے۔ اس وجہ سے آپ نے ان چیزوں کی اہمیت اور فضیلت بیان کی ہے۔
تاہم ان کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے دور کی جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے بارے میں پوری توجہ فرمائی۔
(عن عُقْبَۃَ بن عامِرٍ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ عَلٰی الْمِنْبَرِ یَقُولُ وَأَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ )
[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الرمی ]
” حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما رہے تھے کافروں کے لیے حسب استطاعت طاقت تیار رکھو۔ آگاہ ہوجاؤ بلاشبہ قوت تیر پھینکنے میں ہے۔ آگاہ رہو بلاشبہ قوت تیر اندازی میں ہے۔ “
(عن سَلَمَۃَ بن الْأَکْوَعِ ؓ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ ﷺ عَلٰی نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ یَنْتَضِلُونَ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ ارْمُوا بَنِی إِسْمَاعِیلَ فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلَانٍ قَالَ فَأَمْسَکَ أَحَدُ الْفَرِیقَیْنِ بِأَیْدِیہِمْ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَا لَکُمْ لَا تَرْمُونَ قَالُوا کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَہُمْ قَال النَّبِیُّ ﷺ ارْمُوا فَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب التحریض علی الرمی ]
” حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر ٹھیک کررہے تھے نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اے بنو اسماعیل تیر اندازی کرو بلاشبہ تمہارے والد تیر انداز تھے اور میں فلاں قبیلہ کے ساتھ ہوں۔ صحابی فرماتے ہیں مقابل فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا آپ کو کیا ہوا کہ آپ نے تیر اندازی چھوڑ دی ہے ؟ انہوں نے عرض کی ہم آپ کے مد مقابل کس طرح تیر اندازی کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ “
(عن عُقْبَۃَ بن عامِرٍ الْجُہَنِی ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْیَ ثُمَّ تَرَکَہٗ فَقَدْ عَصَانِی) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الجہاد، باب الرمی فی سبیل اللہ ]
” حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے سنا جس نے نشانہ بازی سیکھی پھر اس کو چھوڑدیا اس نے میری نافرمانی کی۔ “
(عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْجَعْدِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الخیل معقود فی نواصیہا الخیر ]
” حضرت عروہ بن جعد ؓ نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔ “
(عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ رَأَیْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَلْوِی نَاصِیَۃَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِہِ وَہُوَ یَقُولُ الْخَیْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الْأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ )
[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب الخیل معقود فی نواصیہا الخیر ]
” حضرت جریر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول مکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے اپنی انگلی سے گھوڑے کی پیشانی چھوتے ہوئے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ وہ ثواب اور مال غنیمت ہے۔ “
مسائل
1۔ کافروں کے خلاف جس قدر استطاعت ہو قوت جمع کرنی چاہیے۔
2۔ جو بھی اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا وہ پورے کا پورا واپس لوٹا دیا جائے گا۔
Ayahs 8:61–62فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کی بھرپور دفاعی تیاری کے باوجود اگر دشمن صلح کے لیے آمادہ ہو تو مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔
اسلام کے مخالف ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اسلام جارحیت پسند اور مسلمان جنگ جو قوم ہے۔ حالانکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو کفار تبلیغ دین میں رکاوٹ اور کسی پر ظلم زیادتی نہیں کرتے ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ خواہ تم کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر دشمن تمہارے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہو۔ تو کسی گھمنڈ میں آنے کے بجائے صلح کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو وہ ہر بات سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اگر صلح کرنے والادشمن بدنیتی کا مظاہرہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ کیونکہ اللہ اور اس پر ایمان لانے والے مومن آپ کی مدد کریں گے۔ یہ اصول اس دشمن کے لیے ہے۔ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ کیے گئے معاہدے پر قائم رہے گا اور اگر کسی دشمن نے پہلے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہو تو اسے نہیں کہا جاسکتا۔
صلح کی اہمیت کے پیش نظر مومنوں کو مخاطب کرنے کی بجائے واحد حاضر کی ضمیر لا کر آپ ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ صلح اور جنگ کا فیصلہ کرنا قیادت کا کام ہوتا ہے اس لیے قیادت کو اللہ تعالیٰ اور اپنے مخلص ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے صلح کر لینی چاہیے۔ کیونکہ مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی دفاعی قوت بڑھانے کا حکم ہے لہٰذا صلح کرنے سے انھیں تیاری کا مزید موقع ملے گا۔ صلح کے اقدام سے دشمن کو وسعت ظرفی اعلیٰ اخلاق اور دلیری کا پیغام ملنے کے ساتھ مسلمانوں کے اخلاق اور کردار دیکھنے کا موقعہ ملے گا۔ اسی حکمت کے تحت نبی اکرم ﷺ نے مکہ والوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا نام دیا۔