7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الاعراف کا تعارف سورۃ الاعراف ٢٠٦ آیات اور ٢٤ رکوع پر مشتمل ہے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پانچ چھ آیات کو چھوڑ کر باقی تمام کی تمام آیات مکہ معظمہ میں نازل ہوئیں اس کے مضامین، اسلوب بیان سورة الانعام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہے۔ ” سورة البقرۃ “ میں دیگرادیان کے حاملین کے ساتھ یہودیوں کو زیادہ مخاطب کیا گیا ہے اور ” آل عمران “ میں دوسروں کی نسبت عیسائیوں کو کثرت کے ساتھ خطاب کیا ہے ” سورة الانعام “ اور ” سورة الاعراف “ میں اہل مکہ اور باقی مشرکین کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس سورة کے پہلے رکوع میں قرآن مجید کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قرآن کے بارے میں آپ کو اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں منکروں کے لیے انتباہ اور ماننے والوں کے لیے خیرخواہانہ نصیحت پائی جاتی ہے۔ اس لیے مومنوں کو صرف اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر کسی بزرگ، ولی اور خیرخواہ کی بات کو اللہ تعالیٰ کے فرمان سے مقدم نہیں جاننا چاہیے لیکن کھلی اور واضح ہدایت کے باوجود تھوڑے لوگ ہیں جو قرآن کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد نافرمان اقوام کا انجام بیان کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ قیامت کے روز ہر کسی کے اعمال کو عدل کے ترازو میں رکھ کر تولا جائے گا۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ہوگا اور جس کی نیکیوں کے مقابلے میں گناہ بھاری رہے وہ ہمیشہ کے لیے ذلت و رسوائی سے دوچار ہوں گے، پھر واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوال کریں گے اور ان کی دعوت کے مقابلہ میں جن لوگوں نے انکار اور انحراف کا رویہ اختیار کیا ان کا پوری طرح احتساب کیا جائے گا۔ اس کے بعد انسان اور شیطان کی جبلت کا فرق بیان کرکے ان کی آپس میں ازلی اور ابدی کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں واضح اشارہ ہے کہ انسان وہ ہے جو اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی اتباع میں غلطی کا اعتراف کرکے اپنے رب سے معذرت خواہ رہے اور شیطان وہ ہے جو غلطی کرنے کے بعد اس کا جواز پیش کرکے اس پر اڑ جائے بیشک وہ جنات میں سے ہو یا بنی نوع انسان سے۔ کچھ ضمنی مسائل بیان کرنے کے بعد آیت ٤٠ میں دو اور دو چار کی طرح واضح کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے شیطان کی طرح تکبر کیا ان کا جنت میں داخل ہونا اس طرح ہی محال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے سوراخ میں سے گزرنا محال ہے۔ اس کے ساتھ جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ان کی آپس میں ہونے والی گفتگو کا ذکر ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نیکوں اور بروں میں کیا فرق ہوگا۔ جہنمیوں کا اقرار جرم انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ جو انسان دنیا میں اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔ پھر توحید کے ٹھوس دلائل دے کر توحید کو ٹھکرانے والی قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم مدین اور قوم فرعون کے کردار کا تفصیلی تذکرہ کرکے ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا ہے تاکہ ان کے بعد آنے والے لوگ اس کردار اور انجام سے بچ جائیں۔ سورة کی ١٧٢ آیت میں اس عہد کا ذکر کیا جو آدم اور اس کی اولاد سے روز آفرنیش لیا گیا تھا جس میں ذکر ہے کہ اچھی طرح غور کرلو کہ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ تمام بنی نوع انسان نے ذات کبریا کی توحید کا اقرار کیا کہ کیوں نہیں تیرے سوا کون ہمارا رب ہوسکتا ہے۔ اس اقرار کے بعد فرمایا گیا۔ اب تمہارا یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ ہمارے آباؤ اجداد شرک کرتے رہے جن کی وجہ سے ہم اس سنگین جرم کے مجرم بنے۔ سورة کا اختتام ان آیات پر ہوا کہ اگر شیطان تمہیں پھسلانے کی کوشش کرے تو اس سے اپنے رب کی پناہ طلب کرو اور جس طرح اللہ کا حکم سمجھ کر ملائکہ نے عاجزی اختیار کی اس طرح تم بھی اپنے رب کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے اسی کی ذات اور فرمان کے سامنے جھک کر زندگی گزارو یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

” المص (1)

Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے آپ کے سینہ میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو۔ تاکہ آپ اس کے ساتھ ڈرائیں اور ایمان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔ “ (2)

فہم القرآن المص۔ حروف مقطعات ہیں ان کے بارے میں سورة البقرۃ کی ابتداء میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان حروف کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان کا شریعت کے مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے صحابہ ؓ نے ان کے معانی رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة البقرۃ کے ابتدائی حروف ا آم کی تشریح ملاحظہ فرمائیں چناچہ مقطعات کے بعد حکم ہوا۔ اے پیغمبر ! یہ کتاب مقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی ذات اطہر پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھائیں اور سمجھائیں۔ اگر لوگ اسے ماننے سے انکار اور آپ سے تکرار کرتے ہیں تو آپ کو دل میں تنگی اور لوگوں کو سمجھانے میں اکتاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کتاب تو تنگ دلی کا علاج، الجھنوں کا حل، قلب ونظر کے لیے نور، دینی و دنیاوی مسائل کا مداوا ہے۔ اس میں اللہ کے منکروں، حق کا انکار کرنے والوں کے لیے بڑا انتباہ ہے اور ایمان وایقان والوں کے لیے خیر خواہی، رحمت اور موعظت کی بےمثال اور لازوال دولت ہے بشرطیکہ لوگ اس کی چاہت اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَآ أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الأجر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ ” الف “ ایک حرف ہے اور ” لام “ ایک حرف ہے ” اور ” میم “ ایک حرف ہے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید نبی مکرم ﷺ پر نازل کیا گیا۔ 2۔ دعوت و تبلیغ میں مبلغ کو پر عزم اور بلند حوصلہ ہونا چاہیے۔ 3۔ وعظ و نصیحت سے مومن ہی صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان : 3) 3۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ : 185) 4۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : 92) 5۔ قرآن مجید میں ہدایت واضح کردی گئی ہے۔ (النحل : 89) 6۔ قرآن مجید روشن اور بین کتاب ہے۔ (المائدۃ : 15) 7۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (یوسف : 3) 8۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ (الشعراء : 192) قرآن و سنت کے علاوہ کسی کی بات کو شریعت کا درجہ حاصل نہیں : 1۔ جب ان سے کہا جاتا ہے پیروی کرو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی تو جواب میں اپنے آباء و اجداد کی پیروی کا حوالہ دیتے ہیں۔ (البقرۃ : 170، لقمان : 21) 2۔ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (الزمر : 55) 3۔ آپ ﷺ پیروی کریں جو آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ (الاحزاب : 2) 4۔ بےعلم لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (الجاثیۃ : 18) 5۔ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ (البقرۃ : 208) 6۔ اس کتاب بابرکت کی پیروی کرو۔ (الانعام : 155) 7۔ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے لہٰذا ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (المائدۃ : 77)
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

” اس پرچلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اولیاء کے پیچھے مت چلو بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت کے متلاشی لوگوں کے لیے نہایت ہی لازم بات ہے کہ وہ ادھر ادھر سے راہنمائی لینے کی بجائے صرف اور صرف قرآن مجید کی اتباع کریں۔ قرآن مجید کے انتباہ سے ڈرنے اور اس کی نصیحت سے مستفید ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آدمی اس بات کی پیروی کرے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر انسان کا نہ کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کے کاموں کا والی اور ذمہ دار بن سکتا ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے جس کا معنٰیہے دوست اور خیر خواہ۔ یہ لفظ لاکر انسان کی اس فطری کمزوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس بناء پر آدمی کسی سے دھوکا کھاتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی اس فطری کمزوری کی بناء پر شیطان سے دھوکا کھاگئے۔ جب شیطان نے ان کے قریب آکر باربار قسمیں کھا کر کہا کہ جناب آدم ! میں خیرخواہی کے لیے آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اس درخت کا پھل کھالیں تاکہ ہمیشہ جنت میں رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کلی علم رکھنے والا ہے اس کو معلوم تھا اور ہے کہ شیطان ان لوگوں کو اولیاء کے نام پر گمراہ کرے گا لہٰذا حکم دیا کہ اولیاء کی پیروی نہ کرنا۔ بیشک اولیاء کا اللہ کے ہاں ایک مرتبہ اور مقام ہے ہمارے لیے ان کا احترام ومقام لازم ہے لیکن دین اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے نہ کہ اولیاء پر۔ اس لیے اتباع صرف اور صرف نبی محترم ﷺ کی ہوگی کیونکہ آپ پر رب کا قرآن نازل ہوا۔ یہاں انسانوں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو اس اصول کا خیال رکھتے ہوئے صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتے ہیں۔ اس اصول کو چھوڑنے اور محبت میں غلو کا نتیجہ تھا اور ہے کہ امت پہلے آئمہ کرام کے نام پرچار فرقوں میں تقسیم ہوئی اور پھر ہر فرقے کے کئی کئی گروہ وجود میں آئے اور آتے جا رہے ہیں صرف ایک فرقہ کا حال دیکھیں پہلے امام ابوحنیفہ ؓ کی نسبت سے حنفی کہلائے اور اس کے بعد سہروردی، چشتی، قادری، نقشبندی، نظامی، گیلانی اور جیلانی۔ نہ معلوم یہ سلسلہ کہاں تک پہنچا اور پہنچ جائے گا۔ ایسے بھائیوں کو قرآن و حدیث کا حوالہ پیش کیا جائے تو فوراً کہتے ہیں کہ کیا امام صاحب کو یہ حدیث یاد نہ تھی۔ کیا تم بزرگوں سے زیادہ قرآن و حدیث سمجھنے والے ہو۔ کچھ لوگ اس سے آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں کہ کیا پہلے بزرگ گمراہ تھے ؟ نعوذ باللہ من ذالک۔ حالانکہ یہ حضرات غور کریں تو ان کا رویہ خود آئمہ کرام کی توہین کے مترادف ہے۔ اگر واقعتا امام موصوف کو زیر بحث مسئلہ کا علم تھا تو، پھر انھوں نے اس پر عمل کیوں نہ کیا۔ کیا اس میں امام صاحب کی توہین ہے یا تکریم ؟ جہاں تک اولیاء اللہ کا مقام اور احترام ہے اس کا خیال رکھنا ہمارے لیے فرض ہے۔ لیکن دین اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کا نام ہے۔ مسلمان کو صرف قرآن و سنت کی پیروی کا حکم ہے۔ مسائل 1۔ قرآن و سنت کی ہی پیروی کرنی چاہیے۔ 2۔ قرآن و حدیث کے علاوہ باقی تمام راستے گمراہی کے ہیں۔ 3۔ گمراہ لوگوں کی اکثریت سے متاثر نہیں ہونا چاہے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ وحی کے پابند تھے : 1۔ آپ ﷺ اپنے رب کی وحی کی اتباع کریں۔ (الاحزاب : 2) 2۔ میں اتباع کرتا ہوں اس کی جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (الاحقاف : 9) 3۔ مجھے قرآن وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں ڈراؤں۔ (الانعام : 19) 4۔ نبی ﷺ اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے مگر آپ کو جو وحی کی جاتی ہے۔ (النجم : 3 تا 4) 5۔ میں تو اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (یونس : 15۔ الاعراف : 203) 6۔ آپ ﷺ اپنے رب کی وحی کی اتباع کریں۔ (یونس : 109)
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

” اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا۔ ان پر ہمارا عذاب رات ہی رات آیا یا وہ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے۔ (4)

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو اس کے سوا ان کی پکار کچھ نہ تھی کہ انہوں نے کہا یقیناً ہم ہی ظالم تھے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فرمان نہ ماننے اور اس کی نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام۔ سورة کے تعارف میں ہم نے عرض کیا ہے کہ سورة کے پہلے رکوع میں ساری سورة کے مضامین کا خلاصہ ذکرہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام اور امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے جو انکو اللہ تعالیٰ کے احکام بتلاتے اور باربار نصیحت کرتے تھے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی ہدایات پر عمل کرو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے اور ہم تمہارے خیرخواہ ہیں لیکن لوگوں نے اپنے رب کی ہدایات ماننے اور انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے آبا کے رسم و رواج، بزرگوں کے اقوال اور ذاتی خیالات کو مقدم جانا۔ اس فکروعمل پر انہیں بار بار تنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے اپنی طرزحیات کو نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں آلے گا لیکن وہ اپنے فکروعمل پر مصر اور انبیاء (علیہ السلام) کی توہین کرتے اور ان سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت تمام ہوئی تو اس کے عذاب نے انہیں ایسے وقت میں آدبوچا جب وہ غفلت کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ یعنی ایسی حالت میں عذاب آیا کہ وہ آہ وزاری بھی نہ کرسکے۔ بڑا ہی بدقسمت ہے وہ انسان اور قوم جسے اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے آخر وقت میں توبہ نصیب نہ ہو۔ انہوں نے غفلت میں زندگی گزاری اور غفلت کی حالت میں پکڑے گئے اگر کسی کو ہوش آیا بھی تو وہ یہی کہہ رہا تھا کہ واقعی ہم ظالم ہونے کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا ہوئے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ 2۔ عذاب عموماً اس وقت آتا ہے جب لوگ غفلت و بےفکری میں پڑے ہوتے ہیں۔ 3۔ عذاب کے وقت سبھی اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہیں۔
Ayahs 7:6–7

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

” جن کی طرف رسول بھیجے گئے ہم ان سے ضرور پوچھیں گے اور رسولوں سے بھی ضرور سوال کریں گے۔ “ (6) ”

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ان کے سامنے علم کے ساتھ بیان کریں گے اور ہم غائب نہ تھے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کس قدر بھی اکھڑ مزاج ہو اور تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہو اسے آخر وقت تک سمجھانا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی سنت ہے کیونکہ ہر نبی سے اپنی امت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جس طرح نبی سے اس کی امت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی طرح امت سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنے نبی کی دعوت کا کیا جواب دیا۔ چناچہ قیامت کے دن تمام انبیاء ( علیہ السلام) وقت مقررہ کے مطابق اپنی اپنی امت کو لے کر عدالت کبریا میں حاضر ہوں گے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر فرد کے سامنے اس کا اعمال نامہ پیش فرمائیں گے۔ جس میں ایک بات بھی حقیقت کے خلاف نہ ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر بات پر حاوی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر امت اور نبی سے سوال کرے گا : 1۔ اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کیا تمہارے پاس رسول نہ آئے جو میری آیات پڑھ کر سناتے تھے ؟ (الزمر : 71) 2۔ اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ (الانعام : 130) 3۔ اے بنی آدم کیا تمہارے پاس رسول نہ آئے ؟ (الاعراف : 35) 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز رسولوں کی جماعت کو اکٹھا کرکے امتوں کے سلوک کے بارے میں سوال کرے گا۔ (المائدۃ : 109) 5۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ بن مریم سے سوال کرے گا۔ (المائدۃ : 116)
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

” اور اس دن وزن انصاف کے ساتھ ہوگا پھر جس شخص کی میزان بھاری ہوگئی تو وہی کامیاب ہوں گے۔ (8)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں ارشاد ہے کہ ہم انبیاء اور ان کی امتوں سے پوچھیں گے۔ پھر انہیں ان کے اعمال کے بارے میں بتلائیں گے یہاں ارشاد ہے کہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ پھر وزن کی بنیاد پر جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔ گو یا کہ یہ پوچھ نہیں بلکہ جزا سزا بھی ہوگی۔ منکرین قرآن اور آخرت کے عقیدہ کا انکار کرنے والے کہا کرتے تھے کہ اعمال کا وزن کس طرح ہوگا۔ یہ نبی جھوٹ بولتا ہے الفاظ ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں زنا کرتا ہے اس کا وزن کیسے ہوگا۔ کفر و شرک کا تعلق عقیدہ کے ساتھ ہے۔ عقیدہ فکر کا نام ہے۔ فکر کی پیمائش اور وزن ہو نہیں سکتا۔ لیکن سائنس نے کا فی حد تک ثابت کردیا ہے کہ ہوا کا وزن ہوسکتا ہے بخار کا ٹمریچر معلوم کرلیا جاتا ہے۔ آواز اور تصویر منتقل کی جاسکتی ہے علیٰ ہذا القیاس کیا جس رب نے انسان کو سب کچھ سکھایا ہے وہ اعمال کا وزن نہیں کرسکتا ؟ یقیناً کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ وہ وقت آئے گا اور وزن ہوگا اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے سب کچھ ہو کر رہے گا۔ ہاں جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا۔ وہ کامیاب ہوگا اور جس کا برائیوں کا پلڑا ہلکا ہوا وہ رسوا ہوجائے گا۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن اعمال کا وزن ہوگا۔ 2۔ جن کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ہوگا۔ 3۔ دنیا میں نیک اعمال نہ کرنے والے خائب و خاسر ہوں گے۔
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جس شخص کی میزان ہلکی ہوگئی تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔ “ (9)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ نیک اعمال کرکے نیکیوں کے پلڑے کو بھاری بنائے لیکن اس نے برائی کے پلڑے کو بھاری بنایا اور جہنم کا ایندھن بنا۔ انسان کو زمین پر بھیجتے وقت ہدایت کی گئی تھی کہ اب تیرا رہنا، مرنا اور محشر کے دن اٹھنا زمین سے ہی ہوگا۔ لہٰذا زمین ہی تیرا ٹھکانہ اور اس میں تیرے لیے زینت کا سامان ہے۔ ہاں یا درکھنا میری طرف سے تیری رہنمائی کے لیے احکام نازل ہوتے رہیں گے۔ جس نے اس رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کی۔ اسے دنیا اور آخرت میں خوف و خطر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بسنے کے لیے وسائل اور کچھ اختیارات دیے ہیں تاکہ اسے آزمائے کہ وسائل کس طرح بروئے کار لاتا اور اپنے اختیار ات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ وسائل اور اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا گویا کہ اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز اور اللہ کے دیے ہوئے وسائل کو غلط استعمال کرکے اس کے شکر گزار بندے بننے کے بجائے باغی اور نافرمان ثابت ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا انسان کے لیے کھلا پیغام ہے کہ اپنے رب کا شکر ادا کرے گا تو وہ تجھے مزید عنایت فرمائے گا۔ شکر کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی تابع داری میں لگائے۔ اس کی دی ہوئی طاقت کو اس کے بندوں کی خدمت اور دین کی سربلندی پر صرف کرے اس کے دیے ہوئے مال کو غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرے۔ تفسیر بالقرآن شکر گذار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں : 1۔ شکر گذار بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ (السباء : 13) 2۔ لوگوں کی اکثریت نا شکری ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 243) 3۔ آپ انکی اکثریت کو شکر کرنے والے نہیں پائیں گے۔ (الاعراف : 17)
Ayahs 7:10–11

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

” اور بلاشبہ ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے بہت کم تم شکر کرتے ہو۔ “ (10)

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

” اور بلاشبہ ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر ہم نے تمہاری صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، نہ ہوا سجدہ کرنے والوں سے۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں قیامت کے دن اعمال کا وزن کرنے، انبیاء اور امتوں سے ان کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ ہم نے ہی تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہاری حیثیت کا انتظام کیا۔ اب فرمایا کہ اے انسان ہم نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت سیمزین کیا۔ پھر تمہارے باپ آدم کو مسجود ملائکہ کا اعزاز بخشا۔ اس آیت کے الفاظ اور انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا فرما کر انہیں شکل و صورت سے نوازا بعد ازاں ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں جبکہ قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ سب سے پہلے صرف آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور ان سے بیشمار مرد وزن کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا۔[ النساء آیت : 1] یہاں ( وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ) کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا اور ہمیں نے تمہاری شکلیں بنائیں۔ یہاں مخاطب کی ضمیر (کُم) لائی گئی ہے جس کے اہل علم نے تین مفہوم لیے ہیں : 1 آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے باپ اور نمائندہ ہیں ان کے لیے جمع کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ 2 تمام ارواح آدم (علیہ السلام) کی پشت یعنی جبلت میں تھیں اور عالم ارواح میں ان کی شکلیں متعین کردی تھیں۔ جس بنا پر جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے۔ سورة الاعراف آیت : 172 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے اس کی اولاد کو پیدا فرما کر استفسار کیا کہ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ تمام بنی آدم نے جواب دیا (بلٰی) کیوں نہیں تو ہی ہمارا رب ہے۔ 3 آیت کے الفاظ پر معمولی غور کیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود واضح ہوتی ہے تخلیق اور شکلوں کے بارے میں جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے لیکن سجدے کا ذکر کرتے ہوئے واضح الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں۔ گویا کہ ملائکہ نے آدم (علیہ السلام) کی پوری اولاد کو نہیں بلکہ صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ جو ساری زمین سے لی گئی آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں سخت ہیں اور نرم طبیعت کے ہیں کچھ نیک اور بد ہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ] ” حضرت ابوہریرۃ ؓ آپ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا۔ اور اسی دن ہی قیامت برپا ہوگی۔ “ ( وَعَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ لَمَّاصَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِیْ الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَتْرُکَہٗ فَجَعَلَ اِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَا ھُوَفَلَمَّارَاٰہُ اَجْوَفَ عَرَفَ اَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ ) [ رواہ مسلم ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی جنت میں شکل و صورت بنائی اس پیکر کو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا جنت میں اسی طرح رہنے دیا ابلیس اس کے گرد گھوما اور وہ غور کرتا رہا کہ یہ کیا ہے ؟ جب اس نے مجسمہ کو دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے ‘ تو سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق تخلیق کی جارہی ہے ‘ جو مستقل مزاج نہیں ہوگی۔ “ تفسیر بالقرآن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اعلان۔ (البقرۃ : 30) 2۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح : 17) 3۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر : 26) 4۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جس مٹی سے پیدا کیے گئے وہ کھڑ کھڑاتی تھی۔ (الحجر : 26) 5۔ انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن : 14) 6۔ سب سے پہلے حضرت آدم پھر ان سے ان کی بیوی پھر دونوں سے تخلیق انسانی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ (النساء : 1)
Ayahs 7:12–13

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

” فرمایا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہ کرے، جب میں نے تجھے حکم دیا ؟ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (12)

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا، پھر اس سے اترجا کیوں کہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں تکبر کرے۔ سو نکل جا یقیناً تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے۔ (13)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔ ( وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا)[ الاسراء : 61] ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “ ( اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ) [ الاعراف : 12] ” میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “
Ayahs 7:14–18

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔ (14)

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا بیشک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔ “ (15)

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

” اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔ (16)

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ (17)

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

فرمایا اس سے نکل جا، ذلیل ہوکر، دھتکارا ہوا، بیشک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔ “ (18)

(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً ) [ الاسراء : 62] ” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “ ( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : 82] ” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “ ( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : 33] ” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “ حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم ﷺ نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں : (اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِيْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِيْ مَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِيْ جَھَنَّمَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔ “ غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں : (عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ إِنّيآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ ) [ رواہ أبوداؤد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ] ” حضرت قیس بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بتلاؤ ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ “ مسائل 1۔ سب سے پہلے ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ 2۔ تکبر کرنا ابلیس کا کام ہے۔ 3۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو قطعاً پسند نہیں۔ 4۔ ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

” اور اے آدم ! تو اور تیری بیوی اس جنت میں رہو، پس دونوں جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا کہ دونوں ظالموں سے ہوجاؤ گے۔ “ (19)

فہم القرآن ربط کلام : شیطان کو دھتکارنے اور راندۂ درگاہ کرنے کے بعد آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو جنت میں قیام کرنے کا حکم ہوا۔ اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1 جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 شاید اس کی یہ بھی حکمت ہو کہ وہ آسمانی نظام کا براہ راست مشاہدہ کریں تاکہ بحیثیت خلیفہ زمین کے انتظامات کرنے میں انہیں سہولت رہے۔ 3 بطور آزمائش اس درخت سے اس لیے منع کیا گیا کہ وہ خدا کے منع کردہ امور سے بچنے کی تربیت پائیں اور غلطی ہونے کی صورت میں معذرت کا رویہ اختیار کریں۔ 4 اس میں یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں شیطان کے ساتھ عداوت اور دشمنی کا مزید مشاہدہ ہو۔ تاکہ دنیا میں جا کر شیطانی اثرات و حرکات سے بچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو جنت میں ٹھہراتے ہوئے کھلی اجازت عنایت فرمائی گئی کہ جنت میں جہاں سے چاہو اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہو لیکن ایک بات یاد رکھو کہ اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے۔ جنت میں وہ کون سادرخت تھا جس کے قریب نہ جانے سے منع کیا گیا اس کے بارے میں قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں کوئی وضاحت موجود نہیں بعض مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے وہ محض اسرائیلی روایات اور اٹکل پچو ہیں۔ قرآن مجید میں کئی بار یہی الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اس درخت کے قریب جاؤگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے یہاں اہل علم نے ظلم کے مختلف معانی بیان کیے ہیں لیکن جوہری اعتبار سے سب کا ایک ہی معنیٰ بنتا ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصلیت سے آگے پیچھے کرنا۔
Ayahs 7:20–22

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

” پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو ان سے چھپائی گئی تھیں یعنی ان کی شرمگاہیں اور کہا تم دونوں کے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (20)

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کے لیے بلاشبہ خیرخواہوں میں سے ہوں۔ “ (21)

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

” پس اس نے دونوں کو دھوکے سے پھسلادیا جب دونوں نے اس درخت کو چکھا تو ان کے لیے ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور دونوں جنت کے پتے اپنے آپ پر چپکانے لگے اور ان دونوں کو ان کے رب نے آواز دی کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تم دونوں سے نہ فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلادشمن ہے۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اسی سورة کی آیت 189 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواکو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا فرمایا۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا۔ اور ساتھ یہ بات بتلادی گئی کہ صرف اس ایک درخت کے سوا باقی ہر چیز کھا سکتے ہو۔ اس کے قریب گئے تو ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انتقام لینے اور ان کو برہنہ کرنے کے لیے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کرکے انہیں باور کرایا کہ تمہیں اس درخت سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہیں تم فرشتے بن کر ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی نہ بن جاؤ۔ نامعلوم شیطان لعین ان کو پھسلانے کی کتنی مدت کوشش کرتا رہا جب اس نے دیکھا کہ یہ دونوں میرے جال میں نہیں پھنس رہے تو اس نے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ میں تمہیں دشمنی کی بناء پر نہیں بلکہ خیر خواہی کے جذبہ سے مشورہ دے رہا ہوں کہ تمہیں اس درخت کا ذائقہ ضرور چکھنا چاہیے۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) اور ان کی رفیۂ حیات نے شیطان کی قسموں پر اعتبار کرتے ہوئے اس درخت کا ذائقہ چکھ لیا۔ جونہی انہوں نے درخت کا ذائقہ چکھا تو ان کے لباس اتر گئے اور وہ شرم کے مارے جنت کے پتوں سے اپنی شرم گاہوں کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہے تھے اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو آواز دی کیا میں نے تمہیں اس سے پہلے منع نہیں کیا تھا کہ تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا اور میں نے یہ بھی تمہیں سمجھایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس سے بچ کر رہنا لیکن تم نے وہ کیا جس سے تمہیں روکا گیا تھا۔ ” وسوسہ “ کا معنیٰ ہے کہ کسی کے دل میں برا خیال ڈالنا یا اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بری بات کہنا بعض مفسر یہاں اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ شیطان کو جنت میں جانے کی اجازت نہ تھی تو پھر اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کے دل میں کس طرح وسوسہ ڈالا۔ اس الجھن سے نکلنے کے لیے اسرائیلی روایات کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ شیطان سانپ کی شکل میں جنت میں داخل ہوا۔ کچھ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت کے دروازے کے قریب آئے تو شیطان ان کو ورغلانے میں کامیاب ہوا یہ تفسیر لکھنے والے اگر حدیث رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تو انہیں ان مضحکہ خیز تاویلات کی ضرورت پیش نہ آتی۔ شیطان کی قوت و حرکت کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی معظم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان دور کھڑا ہو کر بھی انسان پر اثرا نداز ہوتا ہے اور کبھی خون کی گردش کی طرح انسان کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے۔ جہاں تک دور کھڑے ہو کر اثر انداز ہونے کا تعلق ہے ٹیوی کے فحش پروگرام اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بعض اہل علم نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) تو مسجود ملائکہ ہونے کی وجہ سے افضل المقام تھے پھر انہیں فرشتہ یا اس کا ہم پلہ ہونے کا کس طرح خیال آیا ؟ اس کے ساتھ ہی وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم دیا تھا تو پھر انہیں کس طرح خدشہ پیدا ہوا کہ وہ یہاں سے نکال دیے جائیں گے ؟ مذکورہ بالا خیالات کی توجیہ کے لیے بھی کئی راستے نکالے گئے ہیں۔ شاید کچھ مفسرین نے قرآن کے الفاظ پر غور نہیں فرمایا ورنہ قرآن مجید نے اسی مقام پر لفظ ” غرور ‘ استعمال کرکے اس الجھن کو دور کردیا ہے ” غرر “ کا معنیٰ ہے حقیقت کے خلاف کوئی چیز پیش کرنا یا حقیقت کے خلاف مغالطہ دینا۔ غرر کا مقصد ہی دوسرے کی عقل وفہم پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس لیے شیطان باربار اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھانے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوا کیونکہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے نام کی یہ پہلی قسم تھی جس کی وجہ سے وہ دھوکا کھا گئے آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شیطان اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم بھی اٹھا سکتا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمْ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ رَجُلٌ عَلٰی فَضْلِ مَاءٍ بِطَرِیقٍ یَمْنَعُ مِنْہُ ابْنَ السَّبِیلِ وَرَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا لَا یُبَایِعُہٗ إِلَّا للدُّنْیَا فَإِنْ أَعْطَاہُ مَا یُرِیدُ وَفٰی لَہٗ وَإِلَّا لَمْ یَفِ لَہٗ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ باللّٰہِ لَقَدْ أَعْطٰی بِہَا کَذَا وَکَذَا فَأَخَذَہَا)[ رواہ البخاری : کتاب الأحکام، باب من بایع رجلا لا یبایعہ إلا للدنیا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے نہ ان کو گناہوں سے پاک کریں گے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔۔ ایسا آدمی جو دوسرے شخص کو سودا عصر کے بعد اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر فروخت کرے کہ وہ اسے فلاں قیمت پر ملا ہے تو لینے والا اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے لے لے حالانکہ بیچنے والے نے وہ چیز اس قیمت پر نہیں خریدی۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ رَفَعَہُ إِلَی حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْبَیِّعَان بالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا أَوْ قَالَ حَتَّی یَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ لَہُمَا فِی بَیْعِہِمَا وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہِمَا) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب إذا بین البیعان ولم یکتما ] ” عبداللہ بن حارث حضرت حکیم بن حزام ؓ کے پاس گئے حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا خریدو فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ علیحدہ نہ ہوجائیں یا فرمایا یہاں تک کہ وہ علیحدہ ہوجائیں تو اگر وہ دونوں سچے ہوں گے اور چیز کے نقص کی وضاحت کریں گے تو ان کے لیے اس سودے میں برکت ڈال دی جائے گی، اگر وہ چھپائیں اور جھوٹ بولیں گے تو ان کے سودے سے برکت ختم کردی جائے گی۔ “
Ayahs 7:23–25

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

” دونوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا یقیناہم خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے۔ (23)

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا اترجاؤ تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور فائدہ ہے۔ (24)

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا تم اسی میں زندگی گزاروگے اور اسی میں مروگے اور اسی سے نکالے جاؤگے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر توجہ دلانا اور آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا اللہ کے حضور معذرت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جونہی آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب نہ جانے اور شیطان کی دشمنی سے آگاہ نہیں کیا تھا ؟ یہ فرمان سنتے ہی دونوں نہایت عاجزی اور شرمساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان الفاظ میں معافی مانگنے لگے اے ہمارے رب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا ہے۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والوں میں ہوں گے۔ آخرت کا خسارہ واضح ہے دنیا کی زندگی میں نقصان یہ ہے کہ تو نے ہمیں عزت و عظمت سے نوازا لیکن ہم اپنی غلطی کی وجہ سے یہ مقام کھوچکے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ” دَلَّ “ کا لفظ آیا ہے جس کا معنیٰ ہے اوپر سے نیچے آنا یہ گراوٹ روحانی بھی ہوسکتی ہے اور مکانی بھی۔ یہاں دونوں قسم کا تنزل پایا جاتا ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 32 تا 37 کی تفسیر میں ہم نے عرض کیا ہے کہ اس مقام پر تینوں قسم کی مخلوق کی فطرت کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ملائکہ نے معمولی لغزش پر لفظ ” سبحان “ کے ساتھ معذرت کی انہیں اسی طرح ہی قرب الٰہی حاصل رہا۔ شیطان اپنے گناہ پر مصر رہا تو ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ اور لعنتی قرار پایا۔ آدم (علیہ السلام) اپنی خطا پر معذرت خواہ ہوئے تو ان کی معذرت قبول کرلی گئی تاہم یہ حکم ہوا تم سب کے سب زمین پر اترجاؤ کیونکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ زمین تمہارے لیے عارضی طور پر جائے قرار اور ایک معین مدت تک زیست کا سامان ہے ہاں یاد رکھو کہ اب تمہیں زمین میں جینا اور مرنا ہے اور اسی سے ہی محشر کے دن اٹھایا جانا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارتے وقت کہا گیا تھا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو یہاں ایک دوسرے کا دشمن ہونے سے مراد پہلا دشمن شیطان ہے جو انسان کا ابدی اور ازلی دشمن ہے جس کی دشمنی میں کوئی شک نہیں۔ جس نے دشمن پر بھروسہ کیا وہ مارا گیا اور بسا اوقات میاں بیوی بھی آپس میں دشمن اور ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ اولاد بھی ماں باپ کی مخالف اور دشمن بن جایا کرتی ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی فطرت کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ کُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِین التَّوَّابُونَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی ﷺ نے فرمایا ابن آدم خطا کرنے والا ہے اور خطا کاروں میں اچھے وہ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہٖ اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہٗ دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ وَأَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ وَعَلَانِیَتَہٗ وَسِرَّہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے اے اللہ میرے چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد والے، علانیہ اور پوشیدہ کیے تمام کے تمام گناہ معاف فرمادے۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ رحم کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ غفور ہے۔ (الحجر : 49) 2۔ اللہ تعالیٰ رحمن ہے۔ (الفاتحۃ : 2) 3۔ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی : 25) 4۔ اللہ بخشنے اور رحمت کرنے والا ہے۔ (الکہف : 58) 5۔ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ (الاعراف : 156) 6۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰسٓ: 43) 7۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر : 56) 8۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53) 9۔ اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر خاص رحمت ہوتی ہے۔ (الاحزاب : 43)
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

” اے آدم کی اولاد ! ہم نے تم پر لباس اتارا ہے جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی ہے اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ شجرِممنوعہ کو چکھنے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی رفیقہ حیات کا لباس اتر گیا جس کی وجہ سے شرم کے مارے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ رہے تھے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ لباس کی افادیت کا بیان کردیا جائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے خطا سرزد ہونے کی وجہ سے ان کا لباس اتر گیا جس کی بناء پر اولاد آدم کو لباس پہننے اور گناہوں سے بچنے کا حکم دے کر فرمایا ہے کہ لباس پہننے اور گناہوں سے پرہیزگاری اختیار کرنے میں تمہاری خیر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس سے نصیحت حاصل کرو۔ خیر سے مراد ظاہری کثافت، یا موسم کی حدّت وبرودت سے بچاؤ اور بےحیائی سے بچنا ہے۔ لباس کی فرضیت کے لیے انزلنا اور اسے آیت اللہ قرار دیا ہے۔ جس لباس سے انسان کی حیا، عفّت اور عزت و وقار پامال ہو وہ نہیں پہننا چاہیے لباس کو ظاہری زینت اور شرافت نفس کا ضامن قرار دے کر اس کی اہمیت وفرضیت کو انزلنا کے ساتھ بیان فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا۔ لفظ انزلنا میں لباس کی فرضیت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اون، روئی اور چمڑا پیدا کرنے کے ساتھ تمہیں لباس سینے اور پہننے کا سلیقہ سمجھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لباس کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے صرف مسلمان یا کسی خاص قبیلے اور قوم کو ہی مخاطب نہیں فرمایا بلکہ لباس کی مقصدیت اجاگر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لباس آدمی کی زینت اور ستر پوشی کا مظہر ہے۔ (یَا بَنِیْٓ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِی سَوْءَ اتِکُمْ وَرِیشًا وَلِبَاس التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ) [ الأعراف : 26] ” اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا جو تمہارے جسموں کو ڈھانپنے کے ساتھ تمہارے وجود کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ ہے۔ بہترین لباس پرہیزگاری کا لباس ہے۔ “ ریش : ریش پرندے کے پروں کو بھی کہا جاتا ہے جو اس کا لباس ہونے کے ساتھ ساتھ حسن و زیبائی کا باعث اور پھر اس کی اڑان اور پروان کا ذریعہ بھی ہیں۔ انسان کیونکہ پوری مخلوق میں ظاہری اور معنوی اعتبار سے خوبصورت ترین پیدا کیا گیا ہے۔ “ (لَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ ) [ التین : 4) ” بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین انداز میں تخلیق کیا ہے۔ “ اس لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا لباس زیب تن کرے جو وضع قطع اور رنگ و ڈیزائن کے اعتبار سے اس کی قدوقامت نکھارو سنوار میں اضافہ کرے۔ لباس کا دوسرا مقصد تقویٰ قرار پایا۔ یہاں تقویٰ کے دونوں معنی لینے چاہییں۔ ظاہری کثافت و نجاست اور موسموں کی حدت و برودت، ہوا اور فضا کے برے اثرات سے اپنے آپ کو بچانا اسی کے باعث آپ ﷺ ہمیشہ موسم کے مطابق لباس زیب تن فرماتے۔ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ گرمیوں میں آپ کھلا کرتا پہنتے۔ آپ ﷺ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو بسا اوقات سامنے بیٹھا ہوا آدمی آپ ﷺ کی آستینوں سے بغلوں کے قریب بازوؤں کی سفیدی دیکھ لیتا تھا۔ (وَاِنَّہُ یَرفَعُ حَتّٰی یُریٰ بَیَاضُ اِبْطَیْہٖ ) [ مشکوٰۃ : کتاب الاستسقاء ] ” آپ ﷺ نے اس قدر ہاتھ بلند کیے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ “ اور اسی طرح آپ ﷺ سردیوں میں نسبتاً چست لباس استعمال فرماتے۔ آپ ﷺ ایک دفعہ وضو کرنے لگے تو کہنیوں کو دھونے کے لیے آستینیں چڑھانا چاہیں، جب اوپر نہ ہو پائیں تو آپ ﷺ کو اچکن اتارنا پڑی۔ (اَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَبِسَ جُبَّۃً رُومِیَۃً ضَیِّقَہَ الْکُمَّیْنِ )[ رواہ البخاری و مسلم : کتاب اللباس ] ” بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ “ لباس کا دوسرا مقصد شرم و حیا کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہے۔ قرآن کریم اس کو تقویٰ سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر لباس موسم کے مطابق نہیں تو صحت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر شریعت کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو حیا کے رخصت ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی بنا پر خاص کر عورت کو شرم و حیا کی تلقین فرماتے ہوئے پردے کا حکم دیا ہے۔ ” جناب عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت بےپردہ باہر نکلتی ہے تو شیطان صفت لوگ اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔ “ [ رواہ الترمذی :] اور یہ بھی فرمایا کہ عورتیں زیادہ باریک لباس نہ پہنیں۔ جس سے ان کا جسم نظر آئے۔ لباس پہننے کے باوجود برہنہ دکھائی دینے والی عورتوں پر پھٹکار کے الفاظ استعمال کیے۔ ” حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں (میری بہن) اسماء بنت ابی بکر ؓ رسول پاک ﷺ کے پاس آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف سے چہرہ پھیرلیا اور فرمایا کہ اے اسماء ! جب عورت جوان ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ نظر آئے۔ “ [ مشکوۃ، کتاب اللباس ] دوسری روایات میں یہ وضاحت موجود ہے کہ چہرے کا ڈھانپنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر چہرہ ننگا ہو تو پردے کا تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ غرور اور تکبر سے بچیے : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَااَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَارِ فِیْ النَّارِ ) [ مشکوۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھے گا اس کے ٹخنوں کو آگ میں جلایا جائے گا۔ “ آپ ﷺ کے ملبوسات کے رنگ وڈیزائن : (عَن سَمُرَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اِلْبَسُوا الثِّےَابَ الْبِےْضَ فَاِنَّھَا اَطْہَرُ وَاَطْےَبُ وَکَفِّنُوْا فِےْھَا مَوتَاکُمْ ) ” حضرت سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ زیا دہ صاف ستھرے اور نفیس ہوتے ہیں۔ اور اپنے فوت ہونے والوں کو سفید کپڑوں میں کفن دیا کرو۔ “ [ مشکوٰۃ : کتاب اللباس ] آپ ﷺ سفید لباس پسند کرنے کے باوجود رنگ دار لباس بھی زیب تن کرتے تھے۔ خصوصاً وفود سے ملاقات کرتے ہوئے گیرورنگ کا لباس پہنتے۔ بالکل کالا، سبز اور سرخ رنگ کا لباس کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔ مخصوص لباس اور ہمیشہ ایک ہی رنگ اختیار کیے رکھنا نیکی کی نمائش اور جاہل صوفیا کا طریقہ ہے۔ احادیث کی مقدس دستاویز ات میں کالے یا سرخ رنگ کے لباس کے جو اشارات ملتے ہیں اس سے مراد سرخی یا سیاہی مائل کپڑے ہیں۔ حافظ ابن قیم ؓ نے لکھا ہے کہ بالکل سیاہ، سبز اور سرخ لباس آپ ﷺ نے نہیں پہنا۔ حدیث میں ایسے رنگوں سے مراد ان رنگوں کا غالب ہونا ہے۔ البتہ دستار مبارک اور سردیوں میں اوپر لینے والی چادر خالص کالے رنگ کی استعمال فرمائی۔ (عَنْ عَمْرِ وبْنِ حُرَےْثٍ ؓ قَالَ رَأَےْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ وَعَلَیْہِ عَمَامَۃٌ سَوْدَآءَ ) ” حضرت عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر تشریف فرما دیکھا اور آپ ﷺ سیاہ پگڑی سجائے ہوئے تھے۔ “ [ مشکوٰۃ : کتاب اللباس ] وضع قطع کے اعتبار سے چند معمولی تبدیلیوں کے علاوہ آپ ﷺ نے وہی لباس استعمال فرمایا جو اس زمانے میں لوگ پہنا کرتے تھے۔ اس دور میں لوگ اکثر قمیص کے ساتھ تہبند اور سر پر دستار سجایا کرتے تھے۔ یہی بڑے اور معزز لوگوں کا لباس ہوا کرتا تھا۔ البتہ معاشرے میں پاجامہ اور شلوار بھی لوگوں کے زیراستعمال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن قیم ؓ نے اس بات کی طرف اشارے دیے ہیں کہ نبی محترم ﷺ شلوار بھی پہنا کرتے تھے۔ جبکہ صحابہ کرام ؓ سے شلوار یا پاجامہ اور سروں پر ٹوپیاں پہننے کے تو کافی ثبوت موجود ہیں۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہٰذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَسَانِی ہٰذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِیہٖ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ )[ رواہ ابو داؤد : کتاب اللباس ] ” حضرت سہل بن معاذ بن انس اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانا کھائے تو کہے تمام تعریفات اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے بغیر مشقت کے عنایت فرمایا تو اس کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ جو کوئی کپڑا پہنے تو کہے تمام تعریفات اس اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے مجھے یہ کپڑا پہنا یا اور مجھے بغیر کسی مشقت کے عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے لباس اس لیے نازل فرمایا تاکہ لوگ اس کے ساتھ جسم اور اپنی شرافت کی حفاظت کریں۔ 2۔ لباس پہننے میں ہی بہتری ہے بشرطیکہ انسان اس کی حقیقت سمجھ جائیں۔ 3۔ لباس پہننے کا مقصدزینت اور تقویٰ کا حصول ہے تفسیر بالقرآن نصیحت حاصل کرو : 1۔ ہم نے قرآن مجید کو واضح کردیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل : 41) 2۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : 130) 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے لیے نازل فرمایا۔ (آ : 29) 4۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے (نرومادہ) بنادیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الذاریات : 49) 5۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : 27) 6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : 221) 7۔ صاحب عقل و دانش ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر : 9)
Ayahs 7:27–28

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

” اے آدم کی اولاد ! کہیں شیطان تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا دونوں سے ان کے لباس اتروا دیے تاکہ دونوں کو ان کی شرمگاہیں دکھائے بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ (27)

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب وہ کوئی بےحیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے فرمادیں بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کے بارے میں وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : لباس کا حکم دینے کے بعد بنی آدم کو شیطان سے بچنے کا حکم تاکہ جسمانی حفاظت کے ساتھ اس کا کردار بھی سلامت رہے۔ بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دے کر لباس کو پرہیزگاری اور ہر قسم کی خیر قرار دیا ہے۔ آدمی شریعت کے مطابق لباس کا اہتمام کرکے ظاہری و باطنی گناہوں سے تبھی بچ سکتا ہے جب شیطان کو اپنا دشمن جان کر اس کی شرارت، سازش اور فتنہ انگیز یوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اس احساس کو بیدار کرنے اور انسان کی غیرت کو ابھارنے کے لیے یہ کہہ کر غیرت دلائی گئی ہے کہ تمہیں شیطان سے بچنے کا اس لیے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ جس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے برہنہ کرکے نکلوایا تھا یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ وہ اور اس کے چیلے چانٹے تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ شیطان اور اس کی اولاد جناّت میں سے ہیں اور جناّت کو اللہ تعالیٰ نے ایسی آگ سے بنایا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی اور پھر شیطان کو یہ قوت بھی دی کہ وہ کئی روپ بدل کر انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا وہ اور اس کی اولاد تمہیں دیکھتی ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ شیطان اور اس کی دشمنی انسان کے لیے انتہائی خطرناک ہے آدمی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ساتھ آمنے سامنے کچھ نہ کچھ مقابلہ کرسکتا ہے لیکن ایسا دشمن جو ان دیکھے وار کرے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس آیت میں صرف شیطان کو آدمی کا دشمن قرار نہیں دیا گیا بلکہ شیطان کا ایک ایک روحانی اور جسمانی فرزند آدمیت کا دشمن ہے۔ یاد رہے قرآن مجید کی آخری سورة الناس میں جنات کے ساتھ بعض انسانوں کو بھی شیطان قرار دیا ہے۔ شیطان تو انسان کے دل میں صرف برائی کی طاقت اور خیال پیدا کرتا ہے جبکہ انسان کے روپ میں جو شیطان ہوتے ہیں وہ عورت کی شکل میں عورتوں کو اور مرد کی صورت میں مردوں کو الگ الگ اور مردوزن کے اختلاط سے بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی دعوت دیتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ تفریح کے نام پر ٹیوی، کیبل ڈراموں، آرٹ کونسلوں اور مختلف قسم کی سماجی تقریبات میں سامنے آتا ہے۔ سب سے پہلے شیطان انسان کے اندر جسمانی اور اخلاقی بےحیائی پیدا کرتا ہے۔ جب کسی انسان اور معاشرہ میں بےحیائی پیدا ہوجائے تو اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ اسے اپنے بڑوں کی روایت اور معاشرے کا کلچر قرار دیتے ہیں۔ جب انہیں مزید توجہ دلائی جائے تو وہ یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام ناپسند ہوتا تو لوگ اس طرح اپنی خوشیوں کا اظہار نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کوئی پتہ حرکت نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق کرتے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! انہیں بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور نہ بےحیائی کو اپنانے اور پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔ شیطان کے دوستوں کا اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ہوتا۔ جس کی بناء پر وہ ایسی باتیں کہتے اور حرکات کرتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو ہر قسم کی بےحیائی سے روکتا ہے اللہ تعالیٰ کے نام بےحیائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے جو ایمان سے تہی دامن شخص ہی کرسکتا ہے بےحیا لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بات کرتے ہیں جس کا علم و دانش اور شرم و حیا کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ (عَنْ عُقْبَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَافْعَلْ مَا شِءْتَ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ] ” حضرت عقبہ ؓ فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ لوگوں نے نبوت کے کلام سے جو چیز حاصل کی اس میں یہ ہے کہ جب تجھ میں شرم و حیاء نہ رہے تو پھر جو مرضی کرتا رہ۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کَانَتْ الْمَرْأَۃُ تَطُوف بالْبَیْتِ وَہِیَ عُرْیَانَۃٌ فَتَقُولُ مَنْ یُعِیرُنِی تِطْوَافًا تَجْعَلُہُ عَلٰی فَرْجِہَا وَتَقُولُ الْیَوْمَ یَبْدُو بَعْضُہُ أَوْ کُلُّہُ فَمَا بَدَا مِنْہُ فَلَا أُحِلُّہُ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ )[ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی اور کہتی کوئی ہے جو مجھے عاریتاً کپڑا دے اور میں اس سے شرم گاہ ڈھانپ لوں۔ پھر کہتی آج یا تو کچھ شرم گاہ کھلی رہے گی یا پوری کھلی رہے گی بہرحال جتنی بھی کھلی رہے گی اسے کسی پر حلال نہیں کروں گی۔ آیت ( خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) اسی بارے میں نازل ہوئی “ مسائل 1۔ انسان شیطان کو اس لیے بھی اپنادشمن سمجھے کیونکہ وہ ہمارے ماں باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کے ساتھ دشمنی کی تھی۔ 2۔ شیطان اور اس کی اولاد ہم کو دیکھتے ہیں جبکہ ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ 3۔ شیطان کی کوشش ہے کہ لوگوں کو برہنہ کر دے۔ 4۔ ایمان سے تہی دامن لوگ شیطان کے دوست ہوتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ برائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کا گناہ اور گمراہی ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو ہر قسم کی بےحیائی سے منع کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اولیاء الشیطان کی نشانیاں : 1۔ اولیاء الشیطان اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ (الاعراف : 28) 2۔ اولیاء الشیطان گمراہی و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔ (البقرۃ : 257) 3۔ اولیاء الشیطان اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (النساء : 38)