7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفہم القرآن

Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

” فرمادیجیے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے چہرے نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کی خالص اطاعت کرتے ہوئے اس کو پکارو، جیسے اس نے تمہیں پیدا کیا اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہوگے۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : بعض مشرکین بیت اللہ میں برہنہ طواف کرتے تھے انہیں اس حرکت سے روکا جاتا تو وہ کہتے اس طرح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ یہ پرلے درجے کی بےانصافی کی بات ہے۔ اس کی نفی کرنے کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دینے کی بجائے حیاداری کا حکم دیتا ہے۔ مشرکین نے برہنہ طواف کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھا تھا اس کے جواب میں انہیں یہ کہا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا علم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ باطل مذاہب کی شروع سے یہ روش رہی ہے کہ وہ اپنے فرسودہ نظریات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے انہیں دین کا لبادہ پہناتے ہیں تاکہ عوام الناس ثواب سمجھ کر ان رسومات کی پیروی کریں۔ باطل مذہب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے اس میں ہر قسم کی افراط وتفریط پائی جاتی ہے اس کے مقابلہ میں آسمانی دین اعتدال پر قائم ہوتا ہے جس میں کسی قسم کی افراط وتفریط نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں نبی اکرم ﷺ کو حکماً فرمایا جارہا ہے کہ آپ اعلان فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ” القسط “ پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔ اہل لغت اور مفسرین نے قسط کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے اس سے مراد اللہ کی توحید پر پختگی اختیار کرنا اور ” فکروعمل میں اعتدال قائم کرنا ہے “ یاد رہے کہ سارے کا سارا دین القسط کے اصول پر قائم ہے۔ سورۃ الرحمان، آیت : 9 میں ماپ تول میں قسط کا حکم دیا ہے اور سورة الحجرات، آیت : 9 میں ہر معاملے میں قسط یعنی ہر قسم کی افراط وتفریط سے بچ کر عدل و انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں مسجد سے مراد مفسرین نے سجدہ لیا ہے کیونکہ مسجد عبادت کے لیے ہی بنائی جاتی ہے۔ سجدہ نماز میں انتہائی عاجزی اور انکساری کی علامت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری کی پوری نماز اور ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ اس بنا پر حقیقتاً مسجد وہی ہوگی جس کی بنیاد تقویٰ اور لِلّٰھیت پر رکھی گئی ہو۔ سورة الجن، آیت : 18 میں یہی ارشاد ہوا ہے کہ مساجد اللہ ہی کے لیے ہونی چاہییں اور اس میں خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے مسجد کے ذکر کے بعد حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کے دین کے تابع کرتے ہوئے خالص اپنے رب کی عبادت کرو۔ کیونکہ اس نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اسی کی طرف لوٹایاجانا ہے۔ جس کی یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ جس طرح انسان ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن لوگ برہنہ اٹھائے جائیں گے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ تُحْشَرُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُہِمَّہُمْ ذَاکَ )[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کیف الحشر ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیے جاؤ گے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس دن معاملہ اس قدر شدید ہوگا کہ انھیں اس کا خیال بھی نہیں آئے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں القسط یعنی عدل و انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔ 2۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے دین کے تابع ہونا چاہیے۔ 3۔ عبادت خالص اللہ کے لیے ہی ہونی چاہیے۔ 4۔ انسان ننگے بدن پیدا ہوتا ہے اور قیامت کے دن بھی لوگ ننگے اٹھائے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن دین میں اخلاص کی اہمیت : 1۔ نبی اکرم ﷺ کو اخلاص کا حکم۔ (الزمر : 2، 11) 2۔ پوری امت کو اخلاص کا حکم۔ (غافر : 14) 3۔ پہلی امتوں کو بھی اخلاص کا حکم۔ (البینۃ : 5) 4۔ مشرکین بھی مشکل کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے پکارتے تھے۔ (یونس : 22) 5۔ مخلص لوگ شیطان کی چالوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ (الحجر : 40) 6۔ اللہ کے عذاب سے اخلاص والے بندے محفوظ رہتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 74)
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

” ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ پر گمراہی ثابت ہوچکی، بیشک انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا اور سمجھتے ہیں کہ وہ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔ “ (30)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خالص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں جو سراسر گمراہی ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت 256، 257 میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو گمراہی سے الگ اور ممتاز کردیا ہے جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ پرسچا ایمان لائے۔ درحقیقت اس نے ایسی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ہے جس کا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان وایقان اور علم کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ کافر اپنے ساتھیوں کو ایمان کی روشنی سے نکال کر کفرو شرک کی تاریکیوں میں دھکیلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت پر صاحب ایمان لوگ رہنمائی پاتے ہیں اور دوسروں پر گمراہی مسلط ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے بجائے شیطان کو اپنا ساتھی اور خیر خواہ بنایا ہوتا ہے۔ جو انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ دشمن کو خیر خواہ سمجھنے والا کبھی خیر نہیں پاسکتا۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ وہ سراسر گمراہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ تصور کرتے ہیں۔ یہی کچھ شیطان نے کہا تھا کہ میرا مؤقف ٹھیک ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُول اللّٰہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دینِکَ ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الدعاء، باب دعاء رسول اللّٰہ ﷺ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول معظم ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان لانے والے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی پاتے ہیں۔ 2۔ شیطان کی سنگت اختیار کرنے والوں پر گمراہی مسلط ہوجاتی ہے۔ 3۔ شیطان کے ساتھی گمراہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ تصور کرتے ہیں۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

” اے آدم کی اولاد ! ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بیشک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : مکہ کے مشرک بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے اس سے منع کرتے ہوئے تمام انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ اور مساجد میں ننگا آنے کی بجائے لباس پہنا کریں۔ مشرک اور بےدین لوگوں کی زمانہ قدیم سے عادت رہی ہے کہ وہ ننگے ہو کر عبادت کرنے کو ترک دنیا اور لِلّھیت تصور کرتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ تو سراپا برہنہ ہوتے اور کچھ صرف لنگوٹی کا ستعمال کرتے ہیں جس طرح کہ ہندوستان کے سب سے بڑے لیڈر مہاتما گاندھی اکثر لنگوٹی پہنا کرتے تھے اور آج بھی کئی پنڈت اور گوتم بدھ کے ماننے والے اپنی شرم گاہ کو ڈھانپنے کے سوا ننگا رہنا رہبانیت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں صوفی لوگ برہنہ تو نہیں ہوتے تاہم ناقص اور گندا لباس پہننے کو نیکی تصور کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مزارات پر نیم برہنہ لوگ سرعام پھرتے دکھائی دیتے ہیں اسلام نے نہ صرف تارک الدنیا ہونے کی مذمت کی ہے بلکہ دین اسلام نے بلاشرعی عذر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھانے کو گناہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح وسائل ہونے کے باوجود جو شخص مناسب لباس نہیں پہنتا شریعت نے اسے بھی پسند نہیں کیا۔ کیونکہ جہالت کی بنیاد پر لوگ بیت اللہ اور عبادت گاہوں میں برہنہ آتے تھے اس لیے بالخصوص حکم دیا ہے کہ جب بھی مسجد میں آؤ تو پاک جسم اور اچھا لباس پہنا کرو اس سے پہلے ” القسط “ کا حکم دیا گیا تھا جس کا معنیٰ افراط وتفریط سے بچنا اور ہر معاملہ میں عدل و انصاف اور توازن قائم رکھنا ہے لہذا عبادات، ملبوسات، اور کھانے پینے میں بھی اعتدال اور توازن ہونا چاہیے اس لیے ہر قسم کے اسراف سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ صفت بھی بیان کی ہے وہ خرچ کرتے ہوئے نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی بخل کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (فرقان : 67) (عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فِی ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ ﷺ أَلَکَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَالَ مِنْ أَیِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِی اللّٰہُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَیْلِ وَالرَّقِیقِ قَالَ فَإِذَا آتَاک اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ أَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ )[ رواہ النسائی : کتاب الزینۃ، باب الجلاجل ] ” حضرت ابو الاحوص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بالکل معمولی کپڑوں میں آئے تو انھیں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے انھوں نے کہا ہاں ہر طرح کا مال ہے نبی معظم ﷺ نے پوچھا کون کون سا ؟ میرے والد نے کہا اللہ نے اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام اور لونڈیاں بھی دی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ہے تو تم پر اس کی نعمت اور فضل کے آثار بھی دیکھے جانے چاہییں۔ “ (عَنْ عُمَرَ بْنَ أَبِی سَلَمَۃَ ؓ یَقُولُ کُنْتُ غُلَامًا فِی حَجْرِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَکَانَتْ یَدِی تَطِیشُ فِی الصَّحْفَۃِ فَقَالَ لِی رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِینِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِی بَعْدُ ) [ رواہ البخاری، کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام ] ” حضرت عمر بن ابو سلمہ ؓ کہتے ہیں میں رسول معظم ﷺ کے ہاں گود میں بچہ تھا اور میرا ہاتھ کھانے کے دوران برتن میں گھوم رہا تھا مجھے رسول معظم ﷺ نے فرمایا اے بچے کھانا اللہ کے نام سے شروع کرو۔ دائیں ہاتھ اور اپنے آگے سے کھاؤ اس کے بعد میں ہمیشہ کھانا اسی طرح کھاتا ہوں۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَإِنْ نَسِیَ أَنْ یَذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِی أَوَّلِہٖ فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ ) [ رواہ ابوداؤد والترمذی : کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام ] ” حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے لگے تو بسم اللہ پڑھ لے اگر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ کہے اللہ کے نام سے ہی ابتدا اور انتہا کرتا ہوں۔ “ (عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہُ فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِہٖ ) [ رواہ احمد والترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ کثرۃ الأکل ] ” حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا کسی بھی برتن کا بھرنا آدمی کے پیٹ سے بھرنے سے برا نہیں۔ ابن آدم کی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں اگر اس طرح گزارہ نہ ہو تو ایک حصہ کھانے، ایک حصہ پینے اور ایک حصہ سانس لینے کے لیے ہونا چاہیے۔ “ مسائل 1۔ مساجد میں آتے ہوئے اچھا لباس پہننا چاہیے۔ 2۔ رہنے سہنے اور کھانے پینے میں اعتدال ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اسراف کو ہرگز پسند نہیں کرتا ہے۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

” آپ فرما دیں کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں ؟ فرما دیں یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ہیں جبکہ قیامت کے دن ان کے لیے مخصوص ہوں گی اسی طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔ “ (32)

فہم القرآن ربط کلام : بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دینے کے ساتھ فرمایا تھا کہ کھاؤ اور پیو مگر اعتدال کے ساتھ۔ اس حکم کے باوجود جو لوگ شریعت کی جائز کردہ زیب وزینت اور حلال چیزوں کو حرام کرتے ہیں انہیں انتباہ کے انداز میں ایک سوال کیا ہے۔ ذرا بتاؤ تو سہی کہ جن چیزوں کو تم مذہب کے نام پر حرام کہتے ہو وہ کس نے تمہارے لیے حرام کی ہیں ؟ جبکہ حرام و حلال کا اختیار اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں دیا پھر کون ہے جو اللہ کی نعمتوں کو اسکے بندوں پر حرام کرے ؟ سورۃ التحریم کی پہلی آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کو حق نہیں ہے کہ آپ اپنی ازواج کو خوش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو اپنے لیے حرام قرار دیں۔ اس فرمان سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کو بھی کسی حلال کو حرام کرنے اور حرام کو حلال کرنے کا اختیار نہیں تو دوسرا کون ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حلال قرار دی ہوئی چیزوں کو حرام کی فہرست میں شامل کرے۔ اس لیے بطور انتباہ ایسے لوگوں سے پوچھا جارہا ہے بتاؤ وہ کون سی ذات ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو تم پر حرام قرار دیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرماکر حلال قرار دیا۔ یہاں نعمتوں کے لیے زینت اور طیبات کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ زینت سے مراد مردوزن کا لباس ہے لہٰذا انسان کے لیے ہر چیز اور سب کے سب لباس جائز ہیں سوائے ان کے جن سے شریعت نے منع کیا ہے جہاں تک عمدہ اور قیمتی لباس کا تعلق ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی۔ کیا عمدہ لباس پہننا تکبر میں شامل ہے ؟ آپ نے فرمایا اچھا لباس پہننا تکبر میں شامل نہیں۔ اسی طرح خوردونوش کے بارے میں ہر وہ چیز مسلمان کو کھانے کی اجازت ہے جو پاک ہو اور شریعت نے اسے حلال قرار دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان سے آگہی حاصل کریں۔ یہاں زینت اور طیبات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی میں صاحب ایمان لوگوں کے لیے ہیں جن سے کفار بھی فائدہ اٹھاتے ہیں البقرۃ کی آیت 126 میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر ہے جب انہوں نے بیت اللہ تعمیر کرنے کے بعد اور دعاؤں کے ساتھ یہ بھی دعا کی کہ الٰہی حرم کے رہنے والوں میں ان لوگوں کو رزق عنایت فرما جو تیری ذات اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ جواباً ارشاد ہوا کہ میں ان کو بھی رزق دوں گا جو کفر کریں گے البتہ انہیں آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ یہاں اس بات کا کنایۃً ذکر ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زینت اور طیبات کے حقدار حقیقتاً اس کے تابع فرمان بندے ہیں۔ لیکن دنیا آزمائش گاہ بنائی گئی ہے اس سے کافر بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ اس لیے عمومی طور پر یہی نظر آتا ہے کہ مومنوں کے بجائے دنیا کے اسباب ووسائل۔ اللہ کے باغیوں کے ہاں زیادہ پائے جاتے ہیں (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا بلاشبہ بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے جبکہ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ زینت اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو کھانا اور استعمال کرنا چاہیے۔ 2۔ دنیا کی نعمتوں سے کافر بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 3۔ آخرت کی نعمتیں کفار کے بجائے سب کی سب مومنوں کے لیے ہوں گی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اس لیے نازل فرمائے ہیں تاکہ لوگ ان کا علم حاصل کریں اور ان پر عمل بھی کریں۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

” فرما دیں میرے رب نے تو صرف بےحیائیوں کو حرام کیا ہے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔ گناہ اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور یہ کہ تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاؤ جو تم نہیں جانتے۔ “ (33)

فہم القرآن ربط کلام : پہلے منکرین حق سے سوال کیا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال قرار دیا ہے بتاؤ ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ اب ایک خاص انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ بتلایا گیا ہے کہ جو چیزیں تم نے از خود اپنے آپ حرام کی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں حرام نہیں کیں بلکہ یہ چیزیں حرام قرار دی ہیں۔ 1۔ بےحیائی خفیہ ہو یا اعلانیہ۔ 2۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ 3۔ ہر قسم کی تعدّی اور سرکشی۔ 4۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات لگانا جس کا قرآن وسنت میں ثبوت نہ ہو۔ فواحش، فاحشۃ کی جمع ہے جسے کلی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔ بےحیائی سرعام کی جائے یا چھپ کر کی جائے وہ ہر صورت اور ہر حالت میں ناجائز اور حرام ہے۔ اکثر مفسرین نے فواحش سے مراد بےحیائی اثم سے مراد شراب خوری لی ہے کیونکہ سورة بنی اسرائیل آیت 32 میں زنا کو بےحیائی قرار دیا ہے۔ اثم کا معنیٰ بعض مفسرین نے شراب لیا ہے اس لیے کہ سورة البقرۃ، آیت 219 میں شراب اور جوا کو اثم کہا ہے تاہم اس تفسیر کے باوجود فواحش سے مراد یہاں ہر قسم کی بدکاری اور بےحیائی ہے چاہے عملاً ہو یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کے اخلاق تباہ اور ان کی دینی اور ایمانی قدریں کمزور ہوتی ہوں اس قسم کی تمام حرکات بےحیائی تصور کی جائیں گی۔ اثم کی تشریح کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودی ؓ لکھتے ہیں کہ اثم اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو تیز رفتار چل سکتی ہو مگر اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر سست روی کا مظاہرہ کرے یعنی انسان نیکی کرنے کی استعداد اور طاقت رکھتا ہو مگر پھر بھی نیکی کرنے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرے اس لحاظ سے اثم یعنی گناہ کا دائرہ بڑا وسیع ہوجاتا ہے شاید اسی بنیاد پر نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (اَللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ ) [ رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ] ” الٰہی میں تجھ سے سستی اور غفلت سے پناہ مانگتا ہوں۔ “ البغی کا معنیٰ تعدی اور سرکشی اختیار کرنا جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی اور ایمانی حدود سے تجاوز کرنا ہے اس لیے یہاں اَلْبَغْیُ بِغَیْرِ الْحَقِّ کے الفاظ فرمائے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی شخص کو اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے کا حق ہے بلکہ بِغَیْرِ الْحَقِّ کے الفاظ سے یہ تاکید کی جا رہی ہے کہ کسی انسان کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور سرکشی کرے بعض اہل علم نے البغی سے مراد ایسا گناہ لیا ہے جس میں گناہ کرنے والا دوسرے پر زیادتی کا بھی ارتکاب کرے جیسے قتل، چوری، زنا بالجبر وغیرہ۔ شرک : سورۂ لقمان آیت 13 میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے شرک اس لیے ظلم عظیم ہے کہ مشرک جن صفات کو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے ساتھ منسوب کرتا اور سمجھتا ہے وہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخص زندہ ہو یا فوت ہوچکا ہو۔ اس میں نہیں پائی جاتیں۔ اور نہ ہی شرک کی تائید میں کوئی معقول دلیل پیش کی جاسکتی ہے بشرطیکہ کسی کی عقل ماؤف نہ ہوچکی ہو۔ ہر زمانے کے مشرک شرک کی حمایت میں جو دلیلیں دیتے ہیں وہ عقل اور علم کے معیار پر پوری نہیں اترتیں اس لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ اس نے شرک کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اللہ اور اس کے رسول پر کذب بیانی کرنا : یعنی اپنے جی سے حلال و حرام ٹھہرانا، اپنی خواہشوں کی پیروی اور ثواب کی خاطر دین میں بدعتیں ایجاد کرنا، من مرضی سے شریعت تصنیف کرکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا۔ اس اعتبار سے جو شخص رسول معظم ﷺ کی طرف جھوٹی اور من گھڑت حدیث منسوب کرتا ہے وہ بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتا ہے۔ (عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قُلْتُ للزُّبَیْرِ ؓ إِنِّی لَا أَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَّسُول اللّٰہِ ﷺ کَمَا یُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ أَمَا إِنِّی لَمْ أُفَارِقْہُ وَلَکِنْ سَمِعْتُہٗ یَقُولُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب اثم من کذب علی النبی ﷺ ] ” حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد زبیر ؓ سے کہا میں نے آپ کو نہیں سنا کہ آپ رسول معظم ﷺ سے حدیث بیان کریں جس طرح فلاں فلاں آدمی بیان کرتا ہے۔ حضرت زبیر ؓ نے کہا میں نے ہمیشہ آپ ﷺ سے یہ بات سنی کہ آپ نے فرمایا جو کوئی میری جانب جھوٹ کی نسبت کرے اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم سمجھے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ “ ) [ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ چھوٹے بڑے، ظاہر اور باطن گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ 2۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و سرکشی کرے۔ 3۔ شرک کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ 4۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں اس لیے من گھڑت باتیں کرنے سے شرک ثابت نہیں ہوسکتا۔ 5۔ من گھڑت مسائل بیان کرنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کا عقیدہ بےبنیاد ہے : 1۔ اللہ کے سوا مشرک جس کی عبادت کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الحج : 71) 2۔ مشرک اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الانعام : 81)
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

” اور ہر امت کے لیے ایک وقت معین ہے پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے نکل سکتے ہیں۔ “ (34)

فہم القرآن ربط کلام : بےحیائی کا ارتکاب، جان بوجھ کر گناہ کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور شریعت کے نام پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگانے والوں کو انتباہ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح اور چیز کی موت اور فنا کا وقت مقرر کر رکھا ہے جب وقت آئے گا تو اس میں لمحہ بھر تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ یہی اصول قوموں اور امتوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے جب کسی قوم کے زوال اور تباہی کا وقت آتا ہے تو پھر اس کے اڑوس پڑوس کی اقوام اور خیر خواہ اسے ہرگز نہیں بچا سکتے۔ افراد اوراقوام کی اجل یعنی موت میں فرق یہ ہے کہ افراد کی عمر اور مدت کے لیے سال، مہینے، ایام اور لمحے مقرر کیے گئے ہیں اور لوگ انھی کو شمار کرتے ہیں جب یہ مدت پوری ہوجائے تو انسان لقمۂ اجل بن جاتا ہے۔ عام طور پر قوموں اور امتوں کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہوتا ہے ان کی موت، ایمان، اخلاق اور کردار کے حوالے سے واقع ہوتی ہے۔ بدکردار اور بےعمل قوم کی جگہ دوسری قوم لے لیتی ہے۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے پوری کی پوری قوم کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ جس طرح قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط کے واقعات اس کی دلیل ہیں۔ تاہم جب کوئی قوم یا علاقے کے افراد برائی کے اس درجے کو پہنچ جائیں جس سے اس خطے کا نظام بگڑنے کے قریب پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کی جگہ دوسری قوم کو مسلط کردیتا ہے۔ اس حقیقت کو سورة البقرۃ، آیت 251 اور 252 میں بیان کرتے ہوئے ظالم قوم کی تبدیلی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور سورة محمد میں فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ پھیروگے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا جو تم جیسے نہیں ہوں گے۔ یہاں قوموں کے زوال اور ان کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اجل اور ساعت کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اجل سے مراد موت کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قوم کی موت یا زوال کی گھڑی متعین ہے۔ جب وہ گھڑی اپنے وقت کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے جس کے صدور میں لشکر وسپاہ، قوم کی شان و شکوہ، مادی اور عسکری وسائل رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اسی حقیقت کو یہاں بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی امت کی مقررہ گھڑی آجاتی ہے تو اس میں لمحہ بھر کے لیے آگا پیچھا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہی فرد کی موت کا معاملہ ہے جب موت کا وقت آن پہنچے تو ولی کی ولایت، صابر کا صبر موت کو ٹال نہیں سکتا۔ (یونس : 49) موت کا نقشہ : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَی ہَذَا الَّذِی فِی الْوَسَطِ ، مِنْ جَانِبِہِ الَّذِی فِی الْوَسَطِ وَقَالَ ہَذَا الإِنْسَانُ ، وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِیطٌ بِہِ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہِ وَہَذَا الَّذِی ہُوَ خَارِجٌ أَمَلُہُ ، وَہَذِہِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا )[ رواہ البخاری : باب فِی الأَمَلِ وَطُولِہِ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مربع کی صورت بنائی اور اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو مربع سے باہر نکل رہا تھا اور کچھ چھوٹے چھوٹے خط اس کے دائیں بائیں کھینچے درمیان والی لکیر پر انگلی رکھ کر فرمایا یہ انسان ہے اور اس کو چاروں طرف سے اجل گھیرے ہوئے ہے۔ باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خط اس کی خواہشات ہیں ایک خواہش ختم ہوتی ہے تو دوسری آ گھیرتی ہے۔ “ مسائل 1۔ امتوں کے عروج وزوال فنا اور بقا کا وقت مقرر ہے۔ 2۔ قوم اور کسی فرد کی تقدیر کے فیصلے کا وقت آتا ہے تو اس میں لمحہ بھر کے لییتقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز کا وقت مقرر ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کیا ہے۔ (الاعراف : 185) 2۔ تمام لوگوں کے لیے وقت مقرر ہے۔ (الانعام : 2) 3۔ چاند اور سورج کا بھی وقت مقرر ہے۔ (الرعد : 2) 4۔ گناہگاروں کو وقت مقررہ تک ڈھیل دی جاتی ہے۔ (النحل : 61) 5۔ زمین و آسمان کے لیے بھی وقت مقرر ہے۔ (الروم : 8) 6۔ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کسی کو لمحہ بھر بھی مہلت نہیں دے گا۔ (المنافقون : 11)
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

” اے آدم کی اولاد ! جب تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیات بیان کریں پس جو شخص ڈر گیا اور اصلاح کرلے تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔ (35)

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہیں ماننے سے تکبر کیا یہی آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کی اجتماعی تباہی کا اشارہ دینے کے بعد بنی آدم کو اجتماعی خطاب اور نصیحت کرتے ہوئے نیک وبد کا انجام بیان کیا ہے یہی قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ انتباہ اور نصیحت کو برابر چلاتے ہوئے لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرتا ہے تاکہ سننے والا ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو زمین پر اترنے کا حکم صادر فرمایا تو اس وقت نصیحت فرمائی کہ تم سب کے سب زمین پر اتر جاؤ۔ بس جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرو اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں کوئی خوف وخطر اور رنج وملال نہیں ہوگا۔ جنہوں نے انکار کیا اور جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں قوموں کے زوال اور ان کے فنا کا ذکر ہوا ہے لہٰذا انہیں اجتماعی طور پر مخاطب کرتے ہوئے بنی آدم کے الفاظ استعمال کرکے وہ نصیحت یاد دلائی گئی ہے جو بنی نوع انسان کے جد اعلیٰ کو زمین پر اترنے کے وقت دی گئی تھی چناچہ ارشاد ہوا کہ اے بنی آدم جب میرے رسول تمہارے سامنے میرے احکام بیان کریں تو میری نافرمانی سے بچ کر تمہیں اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ جس کا دوسرا مفہوم یہ ہے میں نے اول روز کے فرمان کو اس طرح پورا کردیا ہے کہ تمہارے پاس میرے رسول میرے احکام لے کر پہنچ چکے ہیں جن میں آخری رسول محمد ﷺ ہیں لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نبی ﷺ کی پیروی کرکے اپنی اصلاح کریں گے انہیں کوئی خوف وغم نہیں ہوگا اور جنہوں نے میرے احکام کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحر یم الکبر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا بلاشبہ بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اس لیے نازل فرمائے ہیں کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کریں۔ 2۔ اصلاح کرنے والوں کو قیامت کے دن کوئی خوف وخطر اور رنج وغم نہیں ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے ساتھ تکبر کرنے والے ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن متکبرین : 1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : 74) 2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : 39) 3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : 35) 4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المؤمن : 76)
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

” پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں لکھے ہوئی کے مطابق ان کا حصہ پہنچے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے ملائکہ آئیں گے جو انہیں فوت کریں گے تو کہیں گے کہاں ہیں وہ جنہیں تم اللہ کے سواپکارتے تھے ؟ کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ واقعی وہ کفر کرنے والے تھے۔ “ (37)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی بیان کردیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ قرآن مجید میں اِفْتَرَیٰ عَلَی اللّٰہِ کے الفاظ مختلف موقعوں پر 9 دفعہ استعمال ہوئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا۔ 3۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دین کے حوالے سے جھوٹ بولنا۔ 4۔ اپنے آپ پر وحی نازل ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ 5۔ حق بات کو جھٹلانا۔ 6۔ نبی کی نبوت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہاں اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنا ہے۔ مشرک کا یہ عقیدہ ہوتا ہے یہ مورتیاں اللہ تعالیٰ کا اوتار ہیں اور مزارات میں دفن بزرگ اللہ کے مقرب بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ یہ عقیدہ من گھڑت اور بلا دلیل ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے فرشتے ان کی موت کے وقت ان سے سوال کرکے سزا دیں گے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر افترأ بازی کرتے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں جو سزا بیان کی گئی ہے وہ ہر صورت دنیا اور آخرت میں ان کو مل کر رہے گی۔ بعض مفسرین نے کتاب میں حصہ ملنے سے مراد لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تقدیر لی ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ رکھی ہے۔ جس میں دوسری تفصیلات کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ انسان جو کرے گا وہی بھرے گا مجرموں کو عذاب صرف آخرت میں نہیں بلکہ موت کے لمحات سے شروع ہوجاتا ہے۔ روح نکالنے والے فرشتے ان سے سوال کرتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے کے ساتھ انہیں حاجت روا، مشکل کشا کیوں سمجھتے تھے دوسرے لفظوں میں ملائکہ ان سے کہیں گے کہ اگر وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں تو اپنے مشکل کشاؤں کو بلاؤ۔ جس کے جواب میں وہ موت کے وقت زبان حال اور قیامت کے دن بول، بول کر کہیں گے کہ آج تو ان میں سے ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ اس طرح ظالم اپنی موت کے وقت اور قیامت کے دن اقرار کریں گے کہ واقعی ہم اللہ کی ذات کا انکار اور اس کی آیات کا کفر کرتے تھے لیکن یہ اقرار انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ ” حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے ہم قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر اس تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح زمین سے لاش کی گندی بدبو نکلتی ہے وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کون سی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کے برے نام لے کر اس کو بلاتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہوجائے۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا لکھو۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں “ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تم لوگوں میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ تو آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کے پاس اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے اس پر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے حسب وعدہ رسوا کیا جائے وہ پوچھتا ہے تو کون ہے اس طرح کی شکل والا جو اتنی بری بات کے ساتھ آیا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں وہ کہے گا اے میرے رب کبھی قیامت نہ قائم کرنا۔ “ [ مسند احمد ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے یا اس کی ذات کے بارے میں جھوٹ گھڑنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔ 2۔ ظالموں کو اللہ کی کتاب کے مطابق سزا دی جائے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے جھوٹی بات لگانے والا اپنی موت کے وقت اپنے ظلم اور کفر کا اقرار کرتا ہے۔ 4۔ مشرک اپنی موت کے وقت اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔ تفسیر بالقرآن ظالم کون ؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 21) 2۔ شرک کرنے والا ظالم ہے۔ (لقمان : 13) 3۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور ان میں خرابی پیدا کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114) 4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ (الزمر : 32) 5۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : 57)
Ayahs 7:38–39

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

” اللہ تعالیٰ فرمائے گا ان جماعتوں کو جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں آگ میں داخل ہوجاؤ، جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ (38)

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور ان کی پہلی جماعت اپنے سے بعد والی جماعت سے کہے گی تمہیں ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔ “ (39)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جس میں مکذبین کی بری موت کے بعد ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے۔ متکبرین اور مکذبین گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جائیں گے جہنم میں ڈالا جانے والا جنوں اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے سے پہلے گروہ پر لعنت اور پھٹکار بھیجتے ہوئے کہے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں اگر تم ہدایت کا راستہ اختیار کرتے تو ہم تمہارے بعد کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم نے خود ہی ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ ہم نے تم پر کوئی جبر نہیں کیا تھا۔ (الصافات 22 تا 31) سورة الاحزاب آیت 66 تا 68 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جہنمی جہنم کی آگ سے منہ باہر نکالیں گے تو اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری کرتے ہوئے فریاد کریں گے اے ہمارے رب ! ہمیں ہمارے برے سادات اور بڑوں نے گمراہ کیا اس لیے انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار ڈال۔ یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ جب گروہ در گروہ جہنم میں جمع ہوں گے تو بعد میں آنے والے پہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ انہیں آگ کا دوگنا عذاب دیجیے۔ حکم ہوگا ہر ایک دوگنے عذاب میں مبتلا ہے جس کا تمہیں علم نہیں۔ پیچھے آنے والوں کی بددعاؤں کے جواب میں پہلے والے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر برتری حاصل نہیں لہذا تم بھی اپنے کیے کے بدلہ میں عذاب پاتے رہو یہاں جہنمیوں کے عذاب کے بارے میں ” ضعف “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنیٰ دوگنا ہے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ برے کی سزا اس کی برائی کے برابر ہوگی۔ لیکن یہاں دوگنا عذاب بیان کیا جا رہا ہے اس کا مفہوم حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے جو گناہ پہلے لوگوں کی وجہ سے دوسری نسل میں منتقل ہوں گے اس میں گناہ ایجاد کرنے والوں کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے گناہوں کا حصہ بھی ملے گا اور اکثر یہی ہوتا آرہا ہے کہ نہ صرف ایک نسل کے گناہ کسی نہ کسی صورت میں دوسری نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں بلکہ پہلے لوگوں کے گناہوں کے نتیجہ میں نئی نسل اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح ہر نسل اپنے بعد آنے والی نسل کے لیے پہلے سے زیادہ گناہ چھوڑتی ہے۔ نتیجتاً مجرموں کی غالب اکثریت اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے گناہوں کے ذمہ دار بنتے ہیں۔ اسی بناء پر انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ ان کے گناہوں کی نوعیت بھی دوگنی ہوگی۔ جہنمیوں کا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں ہوگا اس لیے جہنمیوں کے پیشوا اپنے سے پیچھے آنے والوں کو کہیں گے تمہارا ہم کو اپنے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرانا تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا اور تم سزا کے حوالے سے ہم پر کوئی امتیاز نہیں رکھتے لہٰذا اپنے کیے کی سزا بھگتتے رہو۔ اس طرح جہنمی عذاب میں مبتلا رہ کر ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ أَوْ یُنَصِّرَانِہٖ أَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فیہَا جَدْعَاءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماقیل فی أولاد المشرکین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہر نو مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور کسی کو جنم دیتا ہے تو کیا تم ان میں کسی کو مقطوع الاعضا پاتے ہو ؟ مسائل 1۔ جہنمی ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجیں گے۔ 2۔ جہنم میں پہلے داخل ہونے والے بعد میں آنے والوں کو ملامت کریں گے۔ 3۔ جہنمی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ پہلے لوگوں کو دوگنا عذاب دیاجائے۔
Ayahs 7:40–41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

” بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہیں قبول کرنے سے تکبر کیا ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے کے اندر سے نہ گزر جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ (40)

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

جہنم سے ان کے لیے بچھونا اور اوڑھنا ہوگا اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : اب مسلسل (11) گیارہ آیات میں اللہ کے باغیوں اور اس کے تابعداروں کا یکے بعد دیگرے کردار اور انجام بیان کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں ” تکذیب “ کا معنی حقیقت کو جھٹلانا یا اس کا انکار کرنا ہے۔ تکبر کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ تکذیب اور تکبر کا رویہ اختیار کریں گے ان کے بارے میں دوٹوک اور قطعی طور پر فرما دیا گیا ہے کہ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ اس فرمان میں قطعیت اور مزید تاکید پیدا کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کا جنت میں داخلہ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا محال ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ مجرم اپنے جرائم کی پوری طرح سزا پاتے رہیں مجرموں کے نیچے بھی جہنم کی دہکتی ہوئی آگ اور ان کے اوپر اور چاروں طرف بھی آگ ہی آگ ہوگی۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور ان کے ساتھ استکبار کا رویہ اختیار کرتے ہیں ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دی جائے گی۔ ” حضرت برا ا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح زمین سے لاش کی گندی بدبو نکلتی ہے وہ اسے کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں ان کا گذر فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ہوتا ہے وہ دریافت کرتے ہیں یہ خبیث روح کون سی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کے برے نام لے کر اس کو بلاتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہوجائے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا لکھو۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں “ [ رواہ أحمد ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور ان کے ساتھ تکبر کرنے والا جہنم میں داخل ہوگا۔ 2۔ مکذبین اور متکبرین کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ 3۔ مجرموں کے اوپر اور نیچے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ تفسیر بالقرآن ظلم کرنے والوں کا انجام : 1۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر : 17) 2۔ ظالموں کے لیے صرف تباہی ہے۔ (نوح : 28) 3۔ ظالم قوم کو سمندر میں غرق کردیا گیا ہے۔ (القصص : 40) 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (الشوریٰ : 40) 5۔ ظلم کرنے والوں کی بستی کو الٹا کر پتھر مارے گئے۔ (العنکبوت : 31) 6۔ ظالموں پر لعنت کی جائے گی۔ (غافر : 52 )
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہ لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (42)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلہ میں جنتیوں کا انعام و مقام۔ جنتیوں کا مرتبہ ومقام اور ان کا اجروثواب ذکر کرنے سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس میں ایک طرف جنتیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جنت کا حصول اور دین پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسری طرف جہنمیوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اپنے جرائم کی وجہ سے جہنم میں ہمیشہ سزا پائیں گے۔ یہ ان کے تکبر کا نتیجہ ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تو یہ ان کی ہمت سے باہر نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنے رب کی رضا پر مقدم جانا اور اس کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کا اوڑھنا بچھونا جہنم کی آگ کو بنادیا گیا۔ مفسر قرآن امام رازی (رح) لفظ ” وسع “ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں وسع کا معنیٰ ہے ایسا کام جو آسانی اور معمولی کوشش سے کیا جاسکے۔ اس کے مقابلہ میں ” جہد “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو کسی مشکل کام کی نشاندہی کرتا ہے اس سے پہلے جہنمیوں کا ایک دوسرے کے لیے بددعا کرنا اور لعنت کرنا بیان ہوا ہے۔ اب مومنوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کی خوش خبری دے کر یہ وضاحت کردی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ان کی آپس میں غلط فہمیوں کی وجہ سے جو ناچاتیاں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں جو رنجشیں پیدا ہوئیں۔ ان سے
Ayahs 7:43–44

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریفیں اللہ کی ہیں۔ جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر ہمیں اللہ ہدایت نہ دیتا، بلاشبہ ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔ “ (43)

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

” اور جنت والے جہنم والوں کو آواز دیں گے کہ ہم نے تو وہ وعدہ سچاپایا ہے جو ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا۔ کیا تم نے بھی وہ وعدہ سچ پالیا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (44)

ان کے دلوں کو پاک اور صاف کردیا جائے گا۔ یہ آپس میں اس طرح شیروشکر اور الفت و محبت سے رہیں گے جیسے دنیا میں ان کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہی نہ ہوئی تھی۔ جنتی باہمی محبت اور جنت کے انعام وکرام پا کر اپنے رب کے ممنون اور شکر گزار ہوں گے اور کہیں گے کہ سب تعریفات اس ذات باری کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی ہدایت سے سرشار اور سرفراز فرمایا۔ اگر ذات کبریا ہم کو ہدایت سے سرفراز نہ کرتی تو ہم کبھی ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ یقیناً یہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی جدوجہد کا صلہ ہے جو انہوں نے حق بتلانے اور سمجھانے کے لیے فرمائیں۔ جنتی ان خیالات کا اظہار کررہے ہوں گے تو انہیں ایک آواز سنائی دے گی جس میں خوشخبری ہوگی۔ کہ اب تمہیں کوئی فکر لاحق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ تمہارے رب نے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا وارث بنا دیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ دونوں سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا اے اہل جنت ! تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، زندہ رہو گے تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی، جوان رہو گے تم پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا، عیش میں زندگی گزاروگے تمہیں کبھی حزن وملال نہ ہوگا۔ یہی مطلب ہے اللہ کے اس فرمان کا۔ مسائل 1۔ ایمان کے ساتھ صالح عمل کرنے والے ہی جنتی ہوں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے دلوں سے رنجشیں دور کردے گا۔ 3۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے والے جنت کے وارث ہوں گے۔
Ayahs 7:45–46

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور وہ آخرت کے منکر تھے

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

” اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہوگا اور اس کی بلندیوں پر کچھ مردہوں گے جو سب کو ان کی نشانی سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو آواز دیں گے کہ تم پر سلامتی ہو وہ اس میں داخل نہ ہوئے ہوں گے جبکہ وہ امید رکھتے ہوں گے۔ (46)

فہم القرآن ربط کلام : جنتی اور جہنمیوں کا اپنے اپنے مقام اور انجام کا اعتراف۔ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے توجہنمیوں کو ان کی ذلت کا احساس دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جہنمیوں کے ساتھ سوال و جواب کرنے کا موقع عنایت فرمائے گا۔ جنتی حضرات جہنمیوں سے جنت کی آسائش وزیبائش، انعام وکرام اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کا تذکرہ کرکے کہیں گے کہ ہم نے رب کریم کی طرف سے وہ سب کچھ پالیا جس کا ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں وعدہ فرمایا تھا۔ اے مجرمو ! تم بتاؤ کہ کیا تم نے وہ بلائیں اور سزائیں دیکھ لیں جن کو تم دنیا کی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے اقرار کریں گے کہ ہاں ہم اپنے جرائم اور گناہوں کی سزا پا رہے ہیں۔ جب ذلت و خواری کی حالت میں اپنے کیے کی سزا کا اعتراف کر رہے ہوں گے تو ان کی ذلت و حسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ان پر موسلادھار پھٹکار کا سلسلہ جاری ہوگا کہ ظالموں پر واقعتا اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہونی چاہیے۔ لعنت کرنے والے ملائکہ اور جنتی ہوں گے، یہاں ظالموں کے ظلم کی وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ یہ لوگ ہر برائی اور گمراہی کے طلبگار ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بنتے اور اپنے قول اور فعل کے ساتھ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے۔ مسائل 1۔ جنتی اپنے رب کی عطاؤں کا اقرار کرتے ہوئے اس کے شکرگزار ہوں گے۔ 2۔ جہنمیوں پر مسلسل لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔ 3۔ اللہ کی راہ سے روکنے اور یوم آخرت کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ تفسیر بالقرآن لعنتی کون ؟ 1۔ بےگناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت اور اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء : 93) 2۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب۔ (الاحزاب : 64) 3۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : 57) 4۔ ظالموں کے لیے جہنم کا عذاب اور لعنت ہے۔ (حٰم ٓ السجدۃ : 52) 5۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ : 64) 6۔ جہنمی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ (الاعراف : 38) 7۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح : 6) آخرت میں خسارہ پانے والے لوگ : 1۔ حقیقی خسارے پانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن نقصان اٹھایا۔ (الشوری : 45) 2۔ کفار کے لیے شدید عذاب ہے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (النمل : 5) 3۔ کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے خسارہ پانے والے لوگوں کے متعلق نہ بتائیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی کوشش رائیگاں گئی۔ (الکھف : 103۔ 104) 4۔ اللہ تعالیٰ پر افترابازی کرنے والے آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (ھود : 22۔ 23)