7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفہم القرآن

Ayahs 7:47–50

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں جہنم والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔ “ (47)

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

” اور اعراف والے کچھ لوگوں کو آواز دیں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے۔ کہیں گے تمہارے کام نہ تمہاری جماعت آئی اور نہ تمہارا بڑا پن کام آیا۔ (48)

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ انہیں کسی رحمت سے نہیں نوازے گا ؟ جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ (49)

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی ڈال دو یا اس سے ہمیں کچھ دو جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے وہ کہیں گے بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اصحاب اعراف کا جنتیوں کو سلام اور جہنمیوں کو شرم دلانا۔ اعراف کا معنیٰ بلندی ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان لامتنا ہی طول و عرض اور بلند وبالا قسم کی دیوار ہوگی اور اس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر سورة الحدید آیت 13 میں کیا گیا ہے اس پر تشریف فرما لوگوں کو اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا یہ کون حضرات ہوں گے ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں دو اور دو چار کے الفاظ میں وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ مفسرین نے متقدمین کے اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے مراد وہ اصحاب ہوں گے جنھوں نے والدین کی اجازت کے بغیر قتال فی سبیل اللہ میں حصہ لیا ہوگا۔ یہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے۔ ایسے حضرات کو الاعراف پر براجمان کیا جائے گا تاکہ انھیں ان کی کمزوریوں کا کچھ نہ کچھ احساس دلایا جائے۔ یہ اہل جنت کو ان کے نام اور اعزازات سے پہچان کر ان کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کریں گے گو ہمیں اب تک تمہاری رفاقت کا اعزاز اور جنت میں داخلہ نصیب نہیں ہوا لیکن ہمیں اپنے رب کے فضل و کرم سے پوری امید ہے کہ وہ ہمیں اپنی جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا اس گفتگو کے بعد ان کے چہروں کو جہنم کی طرف پھیر دیا جائے گا وہ جہنم کی بلاؤں اور سزاؤں اور ان میں مبتلا جہنمیوں کو دیکھ کر اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کریں گے۔ بار الٰہا ! ہمیں جہنم کی ہولناکیوں اور ظالموں کی معیت سے محفوظ فرما کر جنت میں داخلہ نصیب فرما۔ پھر وہ جہنمیوں کے نام اور ان کے چہروں سے پہچانتے ہوئے انھیں شرم دلائیں گے کہ افرادی قوت، اسباب و وسائل کی کثرت اور تمہارا انکار و استکبار تمہیں جہنم میں داخل ہونے سے نہ بچا سکے اور جن لوگوں کو تم دنیا میں حقیر سمجھ کر ان کے ایمان اور صالح کردار پر طعنہ زنی کرتے تھے کہ یہ لوگ کسی صورت میں ہم سے بہتر نہیں ہوسکتے۔ اگر یہ واقعی اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں تو انھیں ہمارے مقابلہ میں دنیا کی نعمتیں کیوں حاصل نہیں ہو سکیں۔ اے جہنم والو ! یہ بھی دنیا میں کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ آخرت میں بھی اللہ کے فضل و کرم سے محروم رہیں گے۔ اب دیکھو کہ یہ خوش نصیب کس طرح اپنے رب کی نعمتوں سے سرفراز کیے جا رہے ہیں۔ اصحاب الاعراف کی جہنمیوں کے ساتھ اس گفتگو کے بعد انھیں جنت میں داخلہ کی اجازت دیتے ہوئے اطمینان دلایا جائے گا کہ اب تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ اعراف پر بیٹھے ہوئے جہنم کی ہولناکیوں کو دیکھتے ہوئے خوفزدہ تھے اس لیے جنت میں داخلہ عنایت کرکے انھیں حزن و ملال اور خوف و خطر سے مامون رہنے کی تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ جنت آسائش و آرام اور سکون و اطمینان کا گہوارا ہے۔ جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جہنمی آہ و زاریاں کرکے ان سے فریاد کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ماکولات اور مشروبات تمہیں عنایت کیے ہیں ان میں سے پانی اور کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ہمیں بھی عنایت کیجیے۔ ان کے جواب میں جنتی فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کا اکل و شرب کافروں پہ حرام کر رکھا ہے اس لیے ہم تم کو پانی کا ایک گھونٹ اور کھانے کے لیے ایک ذرّہ بھی نہیں دے سکتے۔ 1۔ اَھآؤُلآءِ کا اشارہ لایا گیا ہے جو قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے ممکن ہے کہ جہنمیوں کی حسرتوں اور ذلتوں میں اضافہ کرنے کے لیے جنت اور دوزخ کے درمیان واقع اس دیوار کا دروازہ ایک دفعہ کھول دیا جائے جس سے یہ جنتیوں کو قریب سے دیکھ سکیں۔ 2۔ اصحاب الاعراف اونچی دیوار پر بیٹھے جنتیوں کو بھی دیکھ رہے ہوں گے شاید ان کے لیے قریب کا اشارہ کیا گیا ہے۔ 3۔ رجال سے مراد مفسرین نے جنت اور جہنم کے سردار لیے ہیں۔ مسائل 1۔ اصحاب اعراف جنتی اور جہنمیوں کو ان کے نام سے آواز دیں گے۔ 2۔ اصحاب اعراف بالآخر جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔ 3۔ جہنمیوں کو ان کا تکبر اور مال و اسباب کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ 4۔ جنت میں کسی قسم کا خوف و خطر اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنتی بےخوف ہوں گے : 1۔ تم جنت میں داخل ہو جاؤتمہارے اوپر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (الاعراف : 49) 2۔ جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کرلیا اس پر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 112) 3۔ اے میرے بندو ! تمہارے اوپر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (الزخرف : 68)
Ayahs 7:51–52

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

” جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دیا تو آج ہم انہیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔ (51)

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ان کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے علم کے ساتھ خوب کھول کر بیان کیا ہے، ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بناکر جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ (52)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں جانا اور ان پر جنت کی نعمتوں کا حرام ہونا اس لیے ہوگا کہ یہ دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت میں غرق ہو کر آخرت کو بھول چکے تھے۔ کھیل تماشا وقتی طور پر دل بہلانے اور ایک حد تک صحت کے لیے مفید ہوتا ہے بشرطیکہ اس میں وقت اور دولت کا ضیاع اور بےحیائی کا عنصر شامل نہ ہو۔ اگر یہ چیزیں کسی کھیل اور گیم میں شامل ہوجائیں تو فائدہ کے بجائے صحت اور وقت کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل کود انسان پوری زندگی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ کھیلنے کودنے سے آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی زندگی بھر کوئی شخص اسے اختیار کرسکتا ہے۔ یہاں کھیل تماشا کا ذکر کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ سنجیدہ انسان کے سامنے ایسی چیزوں کی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں ہوتی۔ جہنم میں داخل ہونے والوں کا دین کے ساتھ یہی رویہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو وقت کا ضیاع سمجھا، دین کے احکام کو ناروا پابندی جانا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنے لیے غلامی تصور کرتے ہوئے اس سے روگردانی کی اور دنیا کی لذّات، جاہ و حشمت اور ترقی میں اس طرح غرق ہوئے کہ دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں دائمی تصور کرلیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب انھیں سمجھانے والا سمجھانے کی کوشش کرتا تو اس کے ساتھ استہزاء اور جھگڑا کیا کرتے تھے جس کے بدلہ میں آج جہنم میں ان کی آہ وزاریوں کو یکسر فراموش کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بھولنے سے مراد کسی قسم کا نسیان نہیں بلکہ اس کے بھولنے سے مراد یکسر طور پر مسترد کردینا ہے۔ بظاہر ” ھم “ کا اشارہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بنی نوع انسان کو رہتی دنیا تک مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ انسان کی رہنمائی کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے اس لیے اس میں ہدایت کے متعلق تمام تفصیلات اور ہدایات بیان کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنے قطعی اور جامع علم کے مطابق نازل فرمایا ہے یہی وجہ ہے اس کی ہدایت کے مقابلہ میں کوئی ہدایت اور رہنمائی نہیں ہوسکتی جو کچھ اس میں دنیا اور آخرت کے حوالے سے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ وہ من و عن آج تک پورے ہوئے ہیں اور ہمیشہ عقل، علم اور سچائی کے اصولوں پر پورے اترتے رہیں گے۔ جو فرد اور قوم اس کی رہنمائی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارے گی۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سزاوار ہوگی۔ ہر قسم کی کامیابی پاکر آخرت میں سرخرو ہوگی۔ لیکن رحمت اور ہدایت انھی لوگوں کو حاصل ہوگی جو قرآن مجید پر کامل ایمان لائیں گے۔ مسائل 1۔ قرآن مجید تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ 2۔ دین کو کھیل اور تماشا سمجھنے والا آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہدایت کے متعلق ہر بات کھول کر بیان کردی ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 1) 2۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 3۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138) 4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ (ھود : 1) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ (البقرۃ : 185) 6۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1)
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

” وہ اس کے انجام کے سواکس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ جس دن اس کا انجام آپہنچے گا تو وہ لوگ جنہوں نے اس سے پہلے اسے بھلادیا تھا کہیں گے یقیناً ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے کیا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں کہ جو ہماری سفارش کریں یا ہمیں واپس بھیجا جائے تو ہم اس کے برخلاف عمل کریں جو ہم کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے۔ “ (53)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی ہدایت سے روگردانی کرنے اور آخرت کو بھول جانے کا انجام اور جہنمیوں کی حسرتوں کا بیان۔ قرآن مجید میں لفظ تاویل سترہ آیات میں آیا ہے ان مقامات کی تلاوت سے یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ یہ لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورة آل عمران آیت 7 میں تفسیر اور تشریح کے لیے استعمال ہوا۔ سورة النساء، آیت : 59 میں نتیجہ اور انجام مراد ہے۔ الاعراف، آیت : 53 سورة یونس، آیت : 39 میں ایسے واقعہ کا ظہور پذیر ہونا جس کی کسی رسول یا نبی نے خبر دی ہو۔ سورة یوسف میں تین دفعہ خواب کی تعبیر کے معنی میں آیا ہے، سورة الکہف، آیت : 78 اور 83 میں کسی کام کے محرک اور سبب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ جات میں اس آیت کا حوالہ بھی شامل ہے یہاں دو مرتبہ تا ویل کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ انبیاء (علیہ السلام) بیان کیا کرتے تھے۔ اس کا من و عن سچا ثابت ہونا۔ دنیا کے اسباب و وسائل اور ان کی ہوس میں مدہوش ہو کر آخرت کو بھول جانے والے قیامت کے دن جب کھلی آنکھوں سے اپنا انجام اور جہنم کی ہولناکیاں دیکھیں گے تو اس بات کا برملا اظہار کریں گے کہ واقعی ہمارے رب کے فرستادہ رسول قیامت کے بارے میں حق اور سچ فرماتے تھے۔ لیکن ہماری بدبختی کہ ہم نے انکار کردیا۔ اس اعتراف کے باوجود مجرموں کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا پھر وہ بڑی حسرت اور آہ وزاری کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ کاش آج کوئی سفارش کرنے والا ہماری سفارش کرے تاکہ ہم جہنم سے نجات پائیں یا ہمیں ایک دفعہ دنیا میں واپس لوٹایا جائے تاکہ ہم برے اعمال کے بجائے صالح اعمال کرسکیں۔ یہ فریاد بھی مسترد کردی جائے گی۔ سورة الانعام آیت 27، 28 میں بیان ہوا ہے کاش آپ دیکھیں جب یہ لوگ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو وہ فریاد کریں گے۔ کاش ہمیں واپس لوٹایاجائے اور ہم اپنے رب کی آیات کی تکذیب ہرگز نہ کریں گے اگر انھیں دنیا میں ایک دفعہ لوٹا بھی دیا جائے تو یہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ بڑے جھوٹے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچانے والے ہیں اور دنیا میں جو دعوے کیا کرتے اور جن کو دستگیر اور مشکل کشا سمجھتے تھے سب کو بھول جائیں گے۔ مسائل 1۔ مجرم اپنا انجام دیکھ کر قیامت کے دن اعترافِ حق کریں گے۔ 2۔ مجرم خواہش کے باوجود کسی کو اپنا سفارشی نہیں پائیں گے۔ 3۔ مجرم دنیا میں واپس آنے کی خواہش کریں گے جو کبھی قبول نہ ہوگی۔ 4۔ کافر اور مشرک ایک دوسرے سے کیے ہوئے وعدے بھول جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن مجرموں کا افسوس کرنا : 1۔ عذاب کے وقت کفار کا حسرت و افسوس کرنا۔ (البقرۃ : 167) 2۔ موت کے وقت آہ و زاریاں کرنا۔ (المومنون : 99) 3۔ محشر کے میدان میں حسرت و افسوس کا اظہار کرنا۔ (النباء : 40) 4۔ جہنم میں ان کا آہ و بکا کرنا۔ (فاطر : 37)
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

” بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلاآتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے، اس حال میں کہ اس کے حکم کے تابع ہیں سن لو پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک جن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتے ہیں۔ ان کا کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں پھر وہ کس بنیاد پر سفارش کریں گے ؟ قرآن کریم نے مادی کائنات کے آغاز و انجام کا ایک خاص تصور دیا ہے۔ یہ تصور ڈیڑھ سو برس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھا۔ یقیناً نزول قرآن کے زمانے میں تو اس کا شاید تصور بھی کسی انسان کے لیے محال تھا۔ مگر جدید کائنات کے علم نے حیرت انگیز (کسی مسلمان کے لیے تو یہ بالکل حیرت انگیز نہیں ہے۔ ہاں غیر مسلموں کے لیے ضرور ہوسکتا ہے) طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔ قرآن کریم میں مظاہر فطرت، تخلیق اور دیگر اہم موضوعات کا تذکرہ ایک مسلسل اور مربوط انداز کی بجائے پورے قرآن میں پھیلا ہوا۔ جس کا مقصد موقعہ محل کے مطابق اس سے اللہ کی توحید کا استدلال کرنا ہے۔ چناچہ متعدد سورتوں میں پھیلے ہوئے اجزا کو یکجا کرکے ہم تخلیق کائنات اور سماوات وارض کے مختلف ارتقائی مراحل کا قرآنی تصور حاصل کرکے جدید سائنسی تحقیقات سے ان کا موازنہ کرسکتے ہیں۔ ان آیات سے تخلیق کے چند نکات بالکل واضح ہیں۔ 1۔ عام تخلیق کے لیے چھ ادوار کا ہونا۔ (جن کا دورانیہ اربوں کھربوں سالوں پر محیط ہے، صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ ) 2۔ آسمان اور زمین کے وجود کا آپس میں جڑا ہونا۔ 3۔ کائنات کی تخلیق ابتدائی نوعیت کے ایسے مادے سے جو ایک بڑے تودے کی شکل میں تھا اور بالآخر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ 4۔ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان مخلوق کی تخلیق۔ 5۔ آسمانوں اور زمینوں کا مقررہ وقت پر طے شدہ وقت کے مطابق و خاتمہ۔ تشکیل کائنات سے متعلق چند جدید سائنسی معلومات کائنات کی ابتداء Big Bang Teory انیسویں صدی کے نصف اول میں چند علماء یورپ کا یہ خیال تھا کہ شاید کائنات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ لیکن جدید سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور اس کا ایک انجام بھی مقدر ہے۔ جدید طبیعات کا ایک قانون (Second law of the rmodynamics) ” احرکیات حرارت کا دوسرا قانون “ ہے۔ اس کا ایک ضمنی قانون جسے ” ضابطۂ ناکارگی “ (Law of enterophy) کہا جاتا ہے۔ ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ حرارت، مسلسل، باحرارت وجود سے بےحرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے مگر اس چکر کو الٹا نہیں چلایا جاسکتا کہ خود بخود حرارت، کم حرارت والے جسم سے زیادہ حرارت والے جسم میں منتقل ہونے لگے۔ ناکارگی دستیاب توانائی (Available Energy) اور غیر دستیاب توانائی (Unavailable Energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے اور اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ناکارگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہیں رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور زندگی بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عمل جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں۔ وگرنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی۔ اسی جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات ( Edward Futher Kesel) لکھتا ہے : ” اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning) رکھتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ جو چیز اپنا آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہوسکتی۔ یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔ “ (The evidence of God , p51) چناچہ کائنات کے وجود میں آنے کا مسلمہ جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ ابتداً مادہ مرکوز اور مجتمع (Concentrated and Condensed) حالت میں تھا۔ (أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ )[ سورة الأنبیاء : 30] ” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ارض و سماوات آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کی خلاقی) پر ایمان نہیں لاتے ؟ “ یہ مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی پھر اچانک یہ ایک عظیم دھماکہ (Big Bang) (یہ عظیم دھماکہ ایک اندازہ کے مطابق 15 کھرب سال پہلے ہوا) سے پھٹ پڑا اور اس نے ایک عظیم گیسی بادل یا قرآن کے لفظ میں دخان (ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ) کی صورت اختیار کرلی۔ سائنس کی یہ دریافت قرآنی بیان کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ یہ گیسی بادل بہت عظیم الجثہ تھا اور آہستہ آہستہ گردش کر رہا تھا۔ یہ عظیم سدیم (Primery nebula) انجام کار متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا جن کی لمبائی چوڑائی اور مقدار مادہ بہت ہی زیادہ تھا۔ نجمی طبیعات (Astrophysicist) کے ماہرین اس کی مقدار کا اندازہ سورج کے موجودہ مادہ کے ایک ارب سے لگا کر ایک کھرب گنا تک لگاتے ہیں۔ ان اعداد سے ابتدائی گیسی مقدار مادہ (Hydrogen and Helium) کے ان ٹکڑوں کے عظیم جثوں کا کچھ تصور ملتا ہے جن سے بعد میں عمل انجماد (Condensation) کے ذریعے کہکشائیں وجود میں آئیں۔ وسعت کائنات یہ کائنات جس کا ابھی تک انسان احاطہ نہیں کرسکا ہے اتنی وسیع ہے کہ اس کو تصور میں لانا ہی مشکل ہے اگر ساری دنیا کے ریگستانوں اور سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت اکٹھی کرلی جائے تو ریت کے اس عظیم ڈھیر میں جتنی حیثیت، ریت کے ایک ذرّے کی ساری ریت کے مقابلے میں بنتی ہے کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین کی شاید اتنی حیثیت بھی نہیں بنتی۔ اگر ہم ایک خیالی جہاز تصور کریں جو روشنی کی ہیبت ناک رفتار یعنی ایک لاکھ چھیا سی ہزار میل فی سیکنڈ (1, 86, 000 Miles/Sec) کی رفتار سے سفر کرسکتا ہو کائنات کے گرد گھومے تو اس ہوائی جہاز کو پورا چکر لگانے میں ایک ارب سال لگیں گے۔ پھر بھی ہمارا یہ فرضی جہاز کبھی کائنات کا چکر مکمل نہ کرسکے گا کیونکہ اتنی وسعت کے باوجود یہ کائنات ٹھہری ہوئی نہیں بلکہ غبارے کی طرح پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار اتنی ہے کہ ہر 130 کروڑسال بعد کائنات کے تمام فاصلے دگنے ہوجاتے ہیں۔ کائنات کا یہ پھیلاؤ جدید سائنس کی سب سے مرعوب کن دریافت اور اب یہ ایک نہایت مستحکم تصور ہے اور بحث صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ امر کس طرح انجام پا رہا ہے۔ جبکہ قرآن نے 14, 00 سال پہلے اس کا انکشاف کردیا تھا۔ (وَالسَّمَاء بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ )[ سورة الذاریات : 47] ” آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم ہی اس میں توسیع کر رہے ہیں۔ “ نزول قرآن کے وقت کسی بھی شخص کے لیے ناممکن تھا کہ وہ وسعت کائنات کا مطالعہ و مشاہدہ کرسکتا ہو۔ چناچہ سائنس کی یہ دریافت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن خالق کائنات یعنی اللہ کا کلام ہے۔ نظام شمسی اور کہکشائیں نظام شمسی ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس کے مرکز میں ایک سیارہ ہو اور اس کے گرد مختلف سیارے اپنے اپنے مداروں میں چکر لگا رہے ہوں۔ چناچہ کائنات کے جس نظام شمسی میں ہم رہتے ہیں اس کے مرکز میں سورج ہے اور اس کے گرد بشمول ہماری زمین 9 سیارے چکر لگا رہے ہیں۔ صرف اس نظام کی وسعت کا یہ حال ہے کہ سورج کی (یاد رہے کہ روشنی 1, 86, 000 میل فی سیکنڈ کی تیز ترین رفتار سے سفر کرتی ہے) روشنی کو اپنے بعید ترین سیارے یعنی پلوٹو (Pluto) جو کہ اعداد میں دیکھیں تو سورج سے تین ارب سر سٹھ کروڑ بیس لاکھ میل (3, 66, 2000000) دور ہے، کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور پلوٹو سورج کے گرد ساڑھے سات ارب میل کے دائرے میں چکر لگا رہا ہے۔ ہماری زمین جو سورج سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے۔ سورج کے گرد انیس کروڑ میل کا دائرہ ہے جو ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ تمام سیارے اپنے سفر میں اس طرح مصروف ہیں کہ ان کے گرد اکتیس چاند بھی اپنے اپنے سیاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان کے علاوہ تیس ہزار چھوٹے سیاروں (Asteroids) کا ایک حلقہ، ہزاروں دمدار ستارے (Comets) اور لاکھوں شہاب ثاقب ہیں جو اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے درمیان میں سورج ہے جس کا قطر (Diameter) آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے اور وہ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے، پھر یہ سورج خود بھی رکا ہوا نہیں۔ سورج کس طرح سفر کر رہا ہے ؟ کیلیفورنیا کی ایک رصد گاہ کے ڈائریکٹر آرجی ایٹکن کا اندازہ ہے کہ سورج اپنے نظام شمسی سمیت اپنی کہکشاں کے ساتھ چوبیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ جو جدید انکشاف کے مطابق سورج مجمع النجوم شلیاق کے مرکز جس کو Solar Apex ہا گیا ہے کی طرف جا رہا ہے۔ یہ دریافت بھی قرآن کی صداقت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جیسا کہ قرآن نے چودہ صدیاں قبل ہی یہ اعلان کردیا تھا۔ (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیم)[ یس : 38] ” اور سورج اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ “ علمائے فلکیات کے ایک جدید اندازے کے مطابق ہر کہکشاں (Galaxy) میں دو کھرب ستارے ہیں اور اب تک معلوم کائنات میں تقریباً دو کھرب یہ کہکشائیں ہیں۔ جو کہکشاں ہم سے قریب ترین ہے وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً نو لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یہ کہکشاں مراۃ السلسلہ (Andromida) نامی مجمع النجوم میں واقع ہے۔ لہٰذا روشنی کو ان ستاروں سے جو معلوم سماوی جہاں کے اس سرے پر واقع ہیں ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ کائنات کی پہنائیاں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی پیمائش کے لیے خاص اکائیاں مثلاً نوری سال اور پارسک وغیرہ وضع کی گئیں ہیں۔ نوری سال یا سال نوای اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور یہ تقریباً 58 کھرب ستر ارب میل کے برابر ہوتا ہے اور پارسک 3.26 نوری سال یا ایک نیل 92 کھرب میل کے لگ بھگ ہے۔ (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) کائنات کی ان وسعتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس حدیث میں ذرا بھی مبالغہ نہیں جس میں بتایا گیا ہے وہ آخری آدمی جسے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجے گا اور اسے وہ وسیع و عریض باغ دکھا کر کہا جائے گا یہ سب تمہارا ہے تو وہ حیران ہو کر کہے گا۔ ” یا اللہ تو اللہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ “ طرّہ پھر اس پہ یہ کہ یہ کہکشائیں بھی ٹھہری ہوئی نہیں ہیں بلکہ اپنے محور پر گردش کر رہی ہیں۔ چناچہ وہ کہکشاں جس میں ہمارا نظام شمسی واقع ہے اس کا اپنے محور پر ایک دور 20 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ ساری حرکتیں اور گردشیں حیرت انگیز طور پر نہایت تنظیم اور باقاعدگی کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ نہ ان میں باہم کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ رفتار میں کوئی فرق پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق Big Bang کے وقت اگر مادے کے پھیلنے کی رفتار میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لاکھویں حصے جتنا بھی فرق پڑجاتا تو ساری کائنات آپس میں ٹکرا کر درہم برہم ہوجاتی ! (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) یہ نظام اس حدتک مربوط اور مستند (Accurate) ہے کہ ایک کہکشانی نظام جو اربوں متحرک ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے دوسرے کہکشانی نظام میں حرکت کرتا ہوا داخل ہوتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے مگر باہم کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا ! اس عظیم اور حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر انسانی عقل بےاختیار اعتراف کرتی ہے کہ کوئی تو ہے، زبردست، غیر معمولی طاقت اور علم والا جس نے اس اتھاہ نظام کو قائم کر رکھا ہے۔ یہاں پر یہ واقعہ باعث بصیرت وتقویت ایمان ہوگا جس کا تعلق مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز (Sir James Jeans) England (1877-1946) سے ہے۔ موصوف مشہور کتاب (The Mysterious Universe) کے مصنف ہیں۔ اس واقعہ کو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے بیان کیا ہے انھی کے الفاظ میں سنیے۔ ” 1909 کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے قریب ہو کر سلام کیا۔ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا دو باتیں۔ اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھتری بغل میں دبا رکھی ہے۔ سر جیمز جینز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے۔ یہ کیا ؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز جینز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ” آج شام کی چائے میرے ساتھ پیو “ چناچہ شام کو میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں : ” سر جیمز تمہارے منتظر ہیں “ اندر گیا تو ایک چھوٹی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے : ” تمہارا سوال کیا تھا ؟ “ میرے بولنے کا انتظار کیے بغیر ہی اجرام فلکی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بےانتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا اور جبروت پر دہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونہ کیفیتیں عیاں تھیں، اللہ کی ہیبت اور دانش سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، عنایت اللہ خاں ! جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں ” تو بہت بڑا ہے “ تو میری ہستی کا ذرہ ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے۔ مجھے بےحد خوشی اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے کہو عنایت اللہ خاں ! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے کیوں جاتا ہوں ؟ “ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام مچا دیا۔ میں نے کہا :” جناب والا آپ کی روح افروز تفصیلات سے میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن پاک کی ایک آیت یاد آئی ہے اگر اجازت ہو تو پیش کروں۔ “ فرمایا ضرور چناچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔ (وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ غَفُورٌ)[ سورة فاطر : 28] ” اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے لیے بھی رنگ مختلف ہیں بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرتے وہی ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر غالب اور بخشنے والا ہے۔ “ آیت سنتے ہی پروفیسر بولے ” کیا کہا ! اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے 50 برس کے مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد ﷺ کو کس نے بتائی۔ کیا قرآن میں واقعی ہی یہ آیت موجود ہے ؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمد ﷺ ان پڑھ تھے، انھیں یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہوسکتی۔ انھیں یقیناً اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب بہت عجیب۔۔ “ (بحوالہ : ” ماہنامہ نقوش “ ) مسائل 1۔ جہانوں کا رب اللہ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش کے اوپر متمکن ہے۔ 3۔ رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے۔ 4۔ سورج، چاند، ستارے اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ 5۔ کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ 6۔ کائنات پر صرف اللہ کا حکم چلتا ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔
Ayahs 7:55–56

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

” اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (55)

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ اور اسے خوف اور امید سے پکارو، بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔ “ (56)

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمانوں کا خالق، رات اور دن، شمس و قمر اور ہر چیز کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔ تو کسی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا کیا معنٰی ؟ لہٰذا حقیقی خالق اور بااختیار مالک سے مانگا کیجیے اس سے نہ مانگنا اور غیروں سے مانگنا اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے جس سے ساری زمین کا نظام بگڑتا ہے۔ دعا کے آداب میں شکرو حمد، درود اور توبہ استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیر کی شان یہ ہے کہ مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ ؓ نے لکھا ہے کہ دعا مانگنے والا اس بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرے جس طرح مردہ غساّل کے ہاتھ میں ہو۔ (رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرَیٰ کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَےَصِےْرُ کَا لْمَیِّتِ فِیْ ےَدِ الْغُسَّالِ ) [ حجۃ اللّٰہ ] ” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت و عظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح بےبس سمجھے جس طرح نہلانے والے کے ہاتھوں میت ہوتی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کو انکساری اس قدر پسند ہے کہ جب انسان پریشانیوں کے ہجوم، مسائل کے گرداب اور مصائب کے طوفانوں میں پھنس جاتا ہے۔ عزیز واقربا، دوست و احباب منہ پھیر چکے ہوتے ہیں، لوگوں کی بےوفائی کے جھٹکوں اور حالات و واردات کے تھپیڑوں نے اسے زمین کی پستیوں پردے مارا ہوتا ہے تمام وابستگیاں ختم اور ہر قسم کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اب نہ اٹھنے کی ہمت ہے اور نہ بیٹھنے کی سکت ہر دم بستر کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ جسمانی طور پر اس قدر کمزوری کا عالم ! کہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ ہاتھ اٹھانا چاہتا ہے مگر ہمت اور طاقت ختم ہوچکی ہے۔ کیونکہ بیماری اور غم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ معذور یاں، مجبوریاں : ان مجبوریوں اور معذوریوں میں ایک آواز اس کے کانوں کو مس کرتی ہے۔ آواز میں یہ تحریک اور امید دلائی جارہی ہے کہ میرے کمزور، ناتواں اور گناہ گار بندے تجھے اپنی درماندگیوں، لاچاریوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھنے کی بجائے میری رحمت پر امید رکھنی چاہئے کیونکہ میرے بغیر کوئی چارہ گر اور تیرا پر سان حال اور تیری غلطیاں معاف کرنے والا نہیں۔ امید کی اس پکار نے اس کے کمزور جسم میں طاقت، ناتواں ہاتھوں میں سکت اور شکستہ دل میں ایک امیدپیدا کردی ہے۔ وہ کانپتے وجود، لرزتے ہاتھوں کو اس کی بارگاہ اقدس میں پھیلا دیتا ہے۔ اس کی زبان سے نہایت نحیف آواز نکلتی ہے کہ اے رحیم وکریم مالک میں ہر طرف سے ٹھکرایا ہوا اور ہر جانب سے بےآسرا ہو کر تیری بارگاہ پاک میں اپنادامن حاجت پھیلا رہا ہوں۔ تو میری فریاد قبول فرما۔ میں تیرے در کا محتاج اور تیری رحمت کا طلب گار ہوں اس کے جواب میں آواز آتی ہے : (قُلْ ےٰعِبَادِیَ الَّذِےْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِےْعًا إِنَّہُ ھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِےْمُ ) [ الزمر : 53] ”(اے نبی) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ وہ تو غفورالرحیم ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کو عاجزی اور انکساری کے ساتھ پکارنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے خوف اور امید کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ 3۔ اللہ سے نہ مانگنے والے فسادی لوگ ہیں۔ 4۔ اللہ کی رحمت اس کے نیک بندوں کے قریب تر ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی رحمت : 1۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ (الزمر : 53) 2۔ اللہ کی رحمت دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ (الزخرف : 32) 3۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : 56) 4۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر : 56)
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

” اور وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے۔ ہوائیں خوش خبری دینے والی یہاں تک کہ جب بھاری بادل اٹھالاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ “ (57)

فہم القرآن رابط کلام : یہ اللہ کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ وہ پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل بارش کے نزول سے پہلے ہی مسرور ہوجائیں اور اپنا سازو سامان سنبھال لیں۔ پھر وہ بارش سے مردہ زمین، مرجھائی فصلوں اور مضمل طبیعتوں کو شاداں اور فرحان کردیتا ہے۔ بارش کا ذکر فرما کر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ دعا کے بعد اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے لہٰذا دعا توبہ اور عاجزی کے ساتھ مانگا کرو۔ جو شخص توحید کے منافی عقیدہ رکھتا اور اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے وہ زمین میں فساد کا موجب بنتا ہے اب پھر توحید کے آفاقی دلائل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ صرف ایک ہی ذات کبریا ہے جو کائنات کا نظام سنبھالے ہوئے ہے اسی کے حکم سے ہواؤں اور فضاؤں میں تبدیلی آتی ہے یہ اسی کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل ٹھنڈی ہوا سے مسرور ہوجائیں اور بارش آنے سے قبل اپنا سازوسامان سنبھال لیں۔ گھٹا ٹوپ ہوائیں نہ معلوم بادلوں کو کہاں سے کہاں اٹھائے ہوئے ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوتا ہے وہیں بارش کا نزول ہوتا ہے اس طرح اجڑی ہوئی بستیاں تروتازہ ویران کھیتیاں شاداب اور نہ صرف مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے بلکہ فضا مہلک جراثیم سے پاک اور درختوں کا پتہ پتہ گردوغبار سے صاف ہوجاتا ہے ہر سو سہانا موسم جس سے روحانی اور جسمانی طور پر تسکین پہنچتی ہے اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ میوہ جات سے اپنے بندوں کو لطف اندوز ہونے کا موقعہ فراہم کرتا ہے بارش کی مثال سے استدلال پیش کرتے ہوئے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا عقیدہ سمجھایا گیا ہے کہ لوگو ! غور کرو کہ اگر مردہ زمین کو زندہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں مدتوں پڑے ہوئے بیج باغ و بہار کا منظر پیش کرسکتے ہیں تو کیا انسان کو پیدا کرنا خالق کل کے لیے مشکل ہے ؟ ہرگز نہیں اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ تمہیں پیدا فرمائے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ )[ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے کہا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ روز قیامت اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بارش سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ 2۔ ہوائیں بادلوں کو لاتی ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بارش سے انگوریاں پیدا فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا۔ 5۔ انسانوں کی نصیحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ پیدا فرمایا ہے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

” اور جو زرخیز زمین ہے اس کی پیداوار اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس سے ناقص کے سوا نہیں نکلتی اس طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے پھیرپھیر کر بیان کرتے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : بارش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے نباتات کا ظہور اور نمود ہوتا ہے بارش تو ہر کسی کے لیے یکساں ہوتی ہے مگر اس کے اثرات اور نتائج مختلف ہوتے ہیں زمین چٹیل اور بنجر ہوگی تو اس سے کسی چیز کا اخراج نہیں ہوگا۔ اگر زمین زرخیز اور ہموار ہوگی تو نہ صرف وہ زمین ٹھنڈی ہوگی بلکہ اس سے مختلف قسم کی فصلیں اور پودہ جات پیدا ہوں گے۔ زمین شوریلی ہوگی تو اس سے مزید کلر شور ابھر کر سامنے آئے گا۔ اس پر کھڑے ہوئے پانی میں تعفن کے سوا کچھ پیدا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ارشادات کو مختلف انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ شکر ادا کریں۔ بظاہر یہ بارش اور زمین کی مثال ہے لیکن حقیقت میں اس کا تعلق دین کے ساتھ ہے کیونکہ سورة البقرہ کی آیت 17 اور 18 میں دین اور بارش کو مترادف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح عقیدہ توحید اپنانے اور دین اسلام کو اختیار کرنے سے مسلمان کی روحانی زندگی میں بہار ہوتی ہے۔ اس کے ذوق وشوق میں اضافہ اور نیکی کے عمل میں ترقی ہوتی ہے۔ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ؓ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا اسْتَسْقَی قَال اللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَاءِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ) [ رواہ ابو داؤدد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت عمرو بن شعیب ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ جب بارش کے لیے دعا کرتے تو فرماتے اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے “
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

” بلاشبہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں یقیناً میں تمہیں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔ (59)

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا بیشک ہم تجھے کھلی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ (60)

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

اس نے کہا ! اے میری قوم ! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں میں تو رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ “ (61)

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

” تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (62)

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر نصیحت آئی، تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (63)

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پھر انہوں نے اسے جھٹلادیا تو ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو کشتی میں اس کے ساتھ تھے بچالیا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا یقیناً وہ اندھے لوگ تھے۔ “ (64)

فہم القرآن حضرت نوح (علیہ السلام) : آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان : 6157) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ السلام) کی پیدائش کے درمیان ہزاروں سال کی مدت بنتی ہے۔ کیونکہ پہلے لوگوں کی عمر صدیوں پر محیط ہوا کرتی تھی جس بنا پر حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ثابت ہوتا ہے، بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ چناچہ انھوں نے ایسا کیا جب یہ کام کرنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت اور ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام پر جن بتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر 4920، طبری تفسیر سورة نوح، آیت : 23، 24) سورۃ العنکبوت آیت 14 میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورة نوح میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری بھرپور کوشش کے باوجود یہ قوم شرک اور برائی میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ قوم نہ صرف جرائم میں آگے برھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف گمراہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ ان سے بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح ! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کیجیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت ہی مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بےبس اور مغلوب ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : 10) حضرت نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی درخواست کی کہ میرے رب اب زمین پر کافروں کا ایک شخص بھی نہیں بچنا چاہیے کیونکہ ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ برا اور کافر ہی پیدا ہوگا۔ ( نوح 25 تا 27) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) فقط انھیں یہی فرماتے آج تم مجھے استہزاء کا نشانہ اور تماشا بنا رہے ہو لیکن کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ (ھود آیت 37 تا 39) قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت 11، 12 اور سورة المؤمنون، آیت 27 میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر اس قدر غضب ہوا کہ جب نوح (علیہ السلام) کا بیٹا پانی میں ڈبکیاں لے رہا تھا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو بحیثیت باپ ترس آیا انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا، میرے رب میرا بیٹا بھی ڈوب رہا ہے حالانکہ تیرا فرمان تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا۔ الٰہی تیرا وعدہ برحق ہے۔ جواب آیا اے نوح تیرا بیٹا صالح نہ ہونے کی وجہ سے تیرے اہل میں شمار نہیں۔ اب مجھ سے ایسا سوال نہ کرنا ورنہ تجھے جاہلوں میں شمار کروں گا۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہوئے معافی طلب کی اور درخواست کی مجھ پر مہربانی کی جائے ورنہ میں بھی خسارہ پانے والوں میں ہوجاؤں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے سلامت اور محفوظ رہے اور باقی قوم کو غرقاب کردیا گیا۔ کیونکہ ان کی قوم کفر و شرک میں اندھی ہوچکی تھی۔ ( ھود : 45 تا 48) قوم کا جواب اور الزامات : اے نوح (علیہ السلام) تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تیرے ماننے والے عام اور سطحی قسم کے لوگ ہیں۔ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا خطاب اور قوم کا جواب : اے میری قوم مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں۔ تم ہدایت کو پسند نہیں کرتے تو میں تم پر ہدایت کس طرح مسلط کرسکتا ہوں۔ میں تم سے تبلیغ کا اجر نہیں مانگتا۔ نہ میں ایمان والوں کو اپنے سے دھتکارنے والا ہوں۔ ہوش کرو اگر میں انھیں دھتکاردوں تو اللہ کے ہاں میری کون مدد کرے گا ؟ میں غیب دان ہونے کا دعوی نہیں کرتا۔ نہ میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں نہ میں کہتا ہوں جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو کہ اللہ انھیں بھلائی سے نہیں نوازے گا۔ اگر ایسی باتیں کہوں تو میں ظالموں میں شمار ہوں گا۔ (ھود : 123) قوم : تم ہماری طرح کے انسان ہو کر ہم پر برتری چاہتے ہو۔ ہم نے باپ دادا سے یہ باتیں کبھی نہیں سنیں۔ نوح دیوانہ ہوگیا ہے۔ بس انتظار کرو ختم ہوجائے گا۔ (المؤمنوں : 24، 25) ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ تجھے ماننے والے گھٹیا لوگ ہیں (الشعراء : 112) ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ (الشعراء : 116) قوم سے خطاب : اے میری قوم میں تمہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کر رہا ہوں صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ شرک اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما کر تمہیں مہلت دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی اجل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ کاش تم جان جاؤ۔ (نوح : 2 تا 4) قوم کا جواب : ہم اپنے معبودوں اور ود، سواع، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ( نوح، آیت : 24) حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد : میرے رب میں نے اپنی قوم کو دن اور رات خفیہ اور اعلانیہ، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھایا میں نے جب بھی انھیں دعوت دی تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی۔ اپنے چہرے چھپا لیے اور تکبر کرنے کی انتہا کردی۔ میرے رب انھوں نے میری ہر بات کو ٹھکرایا اور نافرمانی کی۔ ان کی اولاد اور مال نے تیری نافرمانی میں انھیں بہت زیادہ بڑھایا دیا ہے انھوں نے زبردست قسم کی سازشیں اور شرارتیں کیں۔ (نوح : 5 تا 9) قوم کا عذاب الٰہی کو چیلنج کرنا : اے نوح تم نے ہم سے بہت زیادہ بحث و تکرار اور جھگڑا کرلیا اور اب اس کی انتہا ہوگئی ہے بس ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ اگر واقعی تو سچے لوگوں میں ہے۔ ( ھود : 32) حضرت نوح (علیہ السلام) کا جواب : اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عذاب تم پر ضرور آئے گا اور تم اسے ہرگز نہیں ٹال سکو گے۔ (ھود : 33) نوح (علیہ السلام) کی بد دعا : حضرت نوح نے اپنے رب سے فریاد کی اے باری تعالیٰ میں ان کے مقابلے میں انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ (القمر : 10) اے میرے رب اب زمین پر کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اگر تو نے انھیں چھوڑ دیا وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے۔ اب ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ نافرمان اور ناشکرگزار ہوگا۔ (نوح : 25، 10، 27) اللہ تعالیٰ کا فرمان : اے نوح ظالموں کے بارے میں اب ہم سے فریاد نہ کرنا یقین رکھ کہ اب یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ (ھود : 3) عذاب الٰہی سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم : اے نوح ! جو کچھ یہ کر رہے ہیں ان پر غم نہ کرو اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے سامنے بناؤ۔ اب ان کے بارے میں ہمارے ساتھ بات نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہونے والے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی بنا رہے تھے۔ تو قوم ان سے مسلسل مذاق کرتی رہی جس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے فرماتے کہ آج تم مجھے ہنسی مذاق کرتے ہو کل ہم تمہیں اس طرح ہی مذاق کریں گے عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ہمیشہ کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ (ھود : 37 تا 40) عذاب کی کیفیت : قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن رات بےانتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتی کہ تنور پھٹ پڑا اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار نہ کیا جائے۔ (ہود : 40 تا 42) عذاب کی ہو لناکیاں : ہم نے موسلا دھار بار ش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے۔ اور ہم نے زمین سے ابلتے چشمے جا ری کیے۔ (القمر : 11، 12) جب ہمارا حکم صادر ہوا تو تنور جوش مارنے لگا۔ (المؤمنون : 27) جب پانی پوری طغیانی پر آیا۔ (احقاف : 11) مفسرین نے لکھا ہے جس کی تائید موجودہ دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین بھی کرتے ہیں کہ طوفان نوح نے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی ڈھانپ لیا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ سیلاب بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے 15 فٹ اوپر بہہ رہا تھا۔ امام طبری سورة الحاقۃ آیت 11 کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سیلاب اس قدر بےانتہا تھا کہ مشرق سے مغرب تک کوئی جاندار چیز باقی نہ رہی۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ (المومنون : 23) 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے سلامتی نازل فرمائی۔ (الصٰفٰت : 79) 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی کا نزول فرمایا۔ (النساء : 163) 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام فرمایا۔ (مریم : 58) 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا۔ (الانعام : 84) 6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ستائیس بار تذکرہ ہوا ہے۔