Ayahs 7:194–198فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مذمت اور توحید کے دلائل جاری ہیں۔
سورۂ نور آیت 117 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الٰہ مانتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حق دلائل پر قائم ہے اور جھوٹ کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا شرک کی حمایت میں جتنے بھی جھوٹے دلائل دیے جاتے ہیں وہ دلیل کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے شرک کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (یوسف : 40) یہی وجہ ہے جب بھی مشرک سے اس کے باطل معبودوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے سوا کوئی جواب نہیں دے پاتا۔ یہاں ان کے سامنے ان کے معبودوں کی حیثیت اور حقیقت بیان کی جارہی ہے۔
اگر واقعی یہ تمہاری کوئی بھلائی کرسکتے ہیں تو انھیں رہنمائی کے لیے بلاؤ۔ لیکن وہ تمہاری کوئی رہنمائی نہیں کرسکتے۔ تمہارا ان کو بلانا یا نہ بلانا ان کے لیے یکساں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن فوت شدہ بزرگوں کو تم پکارتے ہو۔ وہ تمہاری طرح کے ہی بندے تھے یعنی جس طرح تم رب کے سامنے بےبس اور بےاختیار ہو۔ اسی طرح ہی وہ اپنے رب کے سامنے عاجز اور بےاختیار تھے اور ہیں۔ جس طرح بیماری اور شفا، غربت اور دولت، عزت اور ذلت نفع اور نقصان تمہارے اختیار میں نہیں اسی طرح وہ بھی ان امور پر کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے۔ اس کے باوجود تم انھیں مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو۔ اگر تم اپنے عقیدہ اور دعویٰ میں سچے ہو تو ان کو آواز دو ۔ چاہیے تو یہ کہ وہ جواب دیں لیکن وہ تمہیں کبھی جواب نہیں دے سکتے۔ سورة الفاطر، آیت : 34 میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ نہ صرف تمہاری پکار کا جواب نہیں دے سکتے بلکہ قیامت تک کے لیے ان باتوں سے لا تعلق اور بیخبر ہیں اور محشر کے دن وہ صاف صاف تمہارے عقیدہ اور باتوں کا انکار کریں گے۔ ان دلائل کے باوجود مشرکین انبیاء اور موحّدین کو دھمکیاں دیا کرتے ہیں کہ ہمارے معبود یہ کچھ کرسکتے ہیں۔ اس کے جواب میں انھیں چیلنج دیا گیا ہے کہ کیا ان کے پاس پاؤں ہیں جن سے وہ چل سکیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑ سکیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکیں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سن سکیں۔ فوت ہونے کے بعد ان کے اعضا مٹی کے ساتھ مٹی ہوچکے اگر کسی کا وجود قبر میں سلامت بھی ہے تو اس دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ اس لیے نبی محترم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ انھیں چیلنج دیں تم اپنے معبودوں کو میرے خلاف اکٹھا کرو اور جو تم میرا بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑ لو میں تم سے ایک لمحہ کی مہلت بھی نہیں مانگتا۔
میرا مالک اور خیر خواہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن مجید نازل کیا ہے وہی نیک بندوں کی خیر خواہی اور دستگیری کرتا ہے۔ جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنے آپ کی۔ اگر تم انھیں رہنمائی کے لیے بلاؤ وہ سنتے ہی نہیں۔ آیت 198 میں فرمایا۔ حالانکہ وہ نہیں دیکھ سکتے۔ دیکھنے والوں سے مراد مدفون لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں مشرکین کا عقیدہ ہے کہ ہمارے حالات دیکھتے اور جانتے ہیں۔ تب ہی تو مشرک کہتے ہیں۔
یَا عَبْدَ الْقَادِرْ جَیْلَانِیْ ۔ اُنْظُرْ اَلِیْنَا۔ اے عبدالقادر جیلانی ہماری حالت دیکھیے۔
ان سے مرادبت بھی ہوسکتے ہیں جنھیں اس طرح خوبصورتی سے تراشا اور بنایا جاتا تھا کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ خاص کر جو شخص ان مجسموں کو خدا کا اوتار سمجھتا ہو، وہ تو عقیدت و محبت سے ایسا سمجھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ ان کے ہاتھ، پاؤں آنکھ، ناک سب کچھ بنایا گیا ہے۔ لیکن یہ کچھ حرکت نہیں کرسکتے یہی صورت قبر میں مدفون بزرگوں کی ہے جو گرتے کو تھام نہیں سکتے، رونے والے کو دلاسہ نہیں دے سکتے۔
یہاں ہم نہایت خیر خواہی کے جذبہ سے چند سوالات پیش کرتے ہیں جنھیں غور سے پڑھنا چاہیے۔
1۔ فوت ہونے والے بزرگ بیمار ہوئے، ہزارد عاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکے۔
2۔ فوت ہوئے تو گھر میں میت ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں، تڑپتی ہوئی والدہ، بلکتی ہوئی بیوی، سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ و بکا کرنے والے مرید کو تسلی نہ دے سکے۔
3۔ شرم وحیا کے پیکر ہونے کے باوجود اپنے آپ استنجا کرسکے نہ غسل۔
4۔ زندگی میں خود اپنی قبر بنوانے والے بھی اپنے پاؤں پر چل کر قبر تک نہ پہنچ سکے۔
5۔ جو زندگی میں صرف پنجابی یا کوئی ایک زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد قبر پر آنے والوں اور دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبان سے کس طرح واقف ہوگئے ؟
6۔ جو خود اولاد سے محروم تھے وہ دوسرے کو کس طرح اولاد عطاکر سکتے ہیں ؟
7۔ جو خراٹے لینے والی نیند یا کسی وجہ سے بےہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے تھے اب موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوگئے ؟
8۔ جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے اب قبر کی منوں مٹی اور مضبوط پتھروں کے درمیان کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔
9۔ جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں ؟
10۔ جو زندگی میں بیک وقت ایک یا دو ، تین آدمیوں سے زیادہ کی بات سن اور سمجھ نہیں سکتے تھے۔ اب بیک وقت سینکڑوں، ہزاروں آدمیوں کی فریاد کس طرح سن سکتے ہیں ؟
مسائل
1۔ ہٹ دھرم لوگ کبھی ہدایت نہیں پا تے۔
2۔ ساری مخلوق اللہ کے سامنے بےبس اور بےاختیار ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نیک اور متقین کا دوست ہے۔
تفسیر بالقرآن
فوت شدگان نہیں سنتے :
1۔ اللہ جسے چاہے سنا سکتا ہے جو قبروں میں ہیں آپ ﷺ ان کو نہیں سنا سکتے۔ (الفاطر : 22)
2۔ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ (النمل : 80)
مشرکین کو انبیاء (علیہ السلام) کے چیلنج :
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا مشرکوں کو چیلنج۔ (ھود : 35)
2۔ (آپ ﷺ فرما دیں کہ بلاؤ اپنے شرکاء کو وہ انھیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ (القصص : 64)
3۔ (آپ ﷺ فرما دیں اپنے شرکاء کے بارے میں خبر دو جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو۔ (الفاطر : 40)
4۔ (آپ ﷺ فرما دیں کیا تمہارے شرکاء پیدا کرنے اور زندہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ؟ (یونس : 34)
5۔ (آپ ﷺ فرما دیں کیا تمہارے شرکاء حق کی راہ دکھلا سکتے ہیں ؟ (یونس : 35)
6۔ (آپ ﷺ استفسار فرمائیں کہ تمہارے شرکاء کچھ کر بھی سکتے ہیں ؟ (الروم : 40)
7۔ مشرکین اپنے شرکاء کو بلائیں اگر سچے ہیں۔ (القلم : 41)
8۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں کو چیلنج۔ (الممتحنۃ : 4)
Ayahs 7:199–202فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانے اور سمجھانے پر مشرک اور کافر اشتعال میں آکر بد کلامی کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں درگزر کرنے کا حکم۔
یہاں مبلغ کو چار ہدایات دی گئی ہیں۔
1۔ اختلاف اور اشتعال کے مقابلہ میں حوصلہ رکھنا اور درگزر کرنا۔
2۔ عرف کے مطابق تبلیغ کرنا۔
3۔ جہلا سے اعراض برتنا۔
4۔ انسان ہونے کے ناتے سے طبیعت میں غصہ اور اشتعال پیدا ہو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔
تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر دین کا کارکن اور مبلغ مشتعل ہوجائے تو کام آگے بڑھنے کے بجائے نہ صرف رک جاتا ہے بلکہ معاملہ جنگ وجدال تک پہنچ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فطری اور جبلی طور پر حوصلہ اور برد باری کے پیکر تھے۔ آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں کہ آپ نے اشتعال میں آکر کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دیا ہو۔ اس کے باوجود آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ معافی اور درگزر کا رویہ اختیار کریں۔ یہی تعلیم آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل کو ؓ کو یمن بھیجتے ہوئے دی تھی۔ پہلے آپ نے ارکان اسلام کی ترتیب بتلائی اور فرمایا کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو توحید و رسالت سے آگاہ کرنا جب لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت دیں تو پھر انھیں نماز پر لگانا اور نماز کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دینا اور لوگوں سے زکوٰۃ لے کر وہاں کے غریبوں پر خرچ کرنا اور یاد رکھنا کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے سے اجتناب کرنا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَۃٌ مِنْ الرَّحْمٰنِ فَقَال اللّٰہُ مَنْ وَصَلَکِ وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَکِ قَطَعْتُہٗ )[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب من وصل وصلہ اللہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے فرمایا بلاشبہ رحم رحمٰن سے ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کوئی تمہیں ملائے گا اسے میں ملاؤں گا اور جو کوئی تمہیں قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَیْسَ الشَّدِید بالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ )[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب الحذر من الغضب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا طاقتور وہ نہیں جو مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر کنٹرول رکھے۔ “
(عن سُلَیْمَان بن صُرَدٍ ؓ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَہٗ جُلُوسٌ وَأَحَدُہُمَا یَسُبُّ صَاحِبَہٗ مُغْضَبًا قَدْ اِحْمَرَّ وَجْہُہٗ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ فَقَالُوا للرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُول النَّبِیُّ ﷺ قَالَ إِنِّی لَسْتُ بِمَجْنُونٍ )
[ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ]
” حضرت سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں باہم گالی گلوچ کی اور ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک شدید غصے میں تھا وہ دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے کہہ دے تو اس سے اس کا غصہ جاتا رہے۔ وہ کہے : اَعُوْذُ بالِلّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ “ صحابہ کرام ؓ نے اس شخص سے کہا کیا تم نبی اکرم ﷺ کا فرمان نہیں سنتے ہو ؟ اس شخص نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا)
[ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب ماکا یتخولہم بالموعظۃ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا آسانیاں پیدا کرو مشکلات پیدا نہ کرو لوگوں کو خوشخبریاں دو اور متنفر نہ کرو۔ “
2۔ دوسرا حکم آپ اور آپ کے حوالے سے ہر مبلغ کو یہ دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو عرف کی تبلیغ کریں اور عرف کا معنیٰ نیک کام، تبلیغ اور نصیحت کرنا بھی ہے کہ مبلغ کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ مرقع، مسبح، ردیف اور قافیہ ملانے کے بجائے سادہ اور مؤثر الفاظ میں لوگوں کو وعظ کرے۔ اس کے لب و لہجہ، انداز اور الفاظ میں تکلف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اعلان فرمائیں کہ میں آپ سے تبلیغ کے بدلے نہ کوئی اجر طلب کرتا ہوں اور نہ ہی کسی قسم کا تکلف کرنے والا ہوں۔ (ص، آیت : 86) اس کے ساتھ ہی مبلغ کو وعظ بالخصوص خطبہ جمعہ میں شعر و شاعری سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آپ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی آپ کی شان کے لائق ہے کہ آپ شعر گوئی کا مظاہرہ کریں۔ ( یٰسٓ، آیت : 69)
(عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ ؓ قَالَ رَأٰی بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَی الْمِنْبَرِ رَافِعًا یَدَیْہِ فَقَالَ قَبَّحَ اللّٰہُ ہَاتَیْنِ الْیَدَیْنِ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَا یَزِیدُ عَلٰی أَنْ یَقُولَ بِیَدِہٖ ہٰکَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہٖ الْمُسَبِّحَۃِ )
[ رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ ]
” حضرت عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر دیکھا کہ وہ دونوں ہا تھوں کو بلند کیے ہوئے تھے حضرت عمارہ کہنے لگے اللہ ان ہاتھوں کو تباہ کرے ! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھا آپ اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ “
3۔ اعراض :
اس سے مراد بحث و تکرار اور جنگ جدال سے بچنا ہے۔ مبلغ تبلیغ کے میدان میں مخالف کی بدکلامی کا جواب ترکی بہ ترکی دے تو سننے والے اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔ بدکلامی اور طعنہ زنی کرنے والے مبلغین کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے وہ کونسا الزام اور بدکلامی ہے۔ جس سے نبی اکرم اور انبیاء کو واسطہ نہیں پڑا لیکن آپ اور کسی نبی نے اپنے مخالف کو برا کہنا تو درکنار کوئی سطحی لفظ بھی نہیں بولا۔
4۔ وعظ و نصیحت کے میدان میں درگزر کرنے اور حوصلہ مندی کے باوجود بعض دفعہ ایسے جہلا سے واسطہ پڑتا ہے جو الجھے بغیر نہیں رہ سکتے ایسی صورت میں ایسے لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے اگر ان کی اشتعال انگیز باتوں پر طبیعت میں غصہ پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوا کرتا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے بچنے اور اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں جو نہی انھیں شیطان کا غلبہ یا اس کے اثرات محسوس ہوں تو وہ اس پر چوکنے ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب نہ کی جائے تو شیطان اور اس کے ساتھی انسان کو گمراہی میں مبتلا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔
غصہ اور اشتعال ہمیشہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی فریاد سننے والا اور مبلغ کی نیت اور مخالف کی جہالت کو جاننے والا ہے۔
(عن ابی ہُرَیْرَۃَ قال قال رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَأْتِی الشَّیْطَانُ أَحَدَکُمْ فَیَقُولُ مَنْ خَلَقَ کَذَا مَنْ خَلَقَ کَذَا حَتّٰی یَقُولَ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَإِذَا بَلَغَہُ فَلْیَسْتَعِذْ باللّٰہِ وَلْیَنْتَہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس و جنودہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے فلاں چیز کس نے پیدا کی ؟ فلاں چیز کس نے پیدا کی ؟ یہاں تک کہ وہ کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا۔ جب کوئی اس خیال کو پہنچے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی پناہ مانگے اور اس سے باز آجائے۔ “
مسائل
1۔ جھگڑے اور مخالفت میں حوصلے اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔
2۔ برے خیالات آنے پر شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
جاہل لوگوں کی نشانیاں :
1۔ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بنانا جاہلوں کا کام ہے۔ (الاعراف : 138)
2۔ جاہل اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی ترغیب دیتے ہیں۔ (الزمر : 64)
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ (النمل : 55)
4۔ بیویوں کو چھوڑ کر لونڈے بازی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ (النمل : 55)
5۔ سوال نہ کرنے والے حاجت مند کو جاہل لوگ غنی خیال کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 273)
6۔ فضول جواب دینا جہالت کی نشانی ہے۔ (البقرۃ : 67)
Ayahs 7:203–204فہم القرآن
ربط کلام : یہ شیطان کی شیطنت کا نتیجہ ہے کہ دلائل اور معجزات دیکھنے اور جاننے کے باوجود کفار ہر روز نئے سے نیا مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں مزید معجزات دکھائے جائیں۔
یہاں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن سے بڑھ کر کونسا معجزہ ہوسکتا ہے۔ مکہ کے کفار اور مدینہ کے اہل کتاب نبی اکرم ﷺ سے ایک سے ایک بڑھ کر سوال اور معجزات طلب کیا کرتے تھے۔ ان کے ہر معقول سوال کا مؤثر اور مدلل جواب دیا گیا اور ان کے مطالبہ پر بڑے بڑے معجزات بھی پیش کیے گئے۔ لیکن ان کے دل میں کھوٹ اور طبیعت میں بہانہ سازی کا عنصر غالب تھا جس وجہ سے وہ ایک مطالبہ پورا ہونے کے بعد دوسرا پیش کردیا کرتے تھے۔ اور کبھی کہتے یہ تو تیری جادوگری کا کرشمہ ہے۔ ان باتوں کا جواب دینے کے لیے آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ فقط یہ فرمائیں میں تو ایک رسول ہونے کی حیثیت سے وحی الٰہی کی اتباع کا پابند ہوں۔ جہاں تک دلائل اور معجزہ کا تعلق ہے وہ قرآن مجید فرقان حمید کی شکل میں تمہارے سامنے ہے جس کا جواب آج تک تم سے نہیں بن سکا اور قیامت تک اس کا جواب پیش نہیں کرسکو گے۔ اگر تم اپنی ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو اور قرآن مجید کو توجہ اور خاموشی کے ساتھ سنو تو یقیناً تم پر اللہ کا کرم اور اس کی مہربانی نازل ہوگی کیونکہ یہ قرآن لوگوں کے لیے ہدایت اور ان کی مشکلات کے مداوا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ لیکن کفار کا وطیرہ تھا اور ہے کہ قرآن پڑھنے اور سننے کے بجائے جونہی قرآن کی تلاوت شروع ہو تو اتنا شور و غوغا کرو کہ تم قرآن پر غالب آجاؤ۔ (سورۂ حٰم السجدہ، آیت : 36)
بعض اہل علم نے تلاوت قرآن کو خاموشی کے ساتھ سننے کے حکم کو نماز پر منطبق کیا ہے جس کی بناء پر ان کا خیال ہے کہ جب امام نماز میں بلند آواز سے قراءت کرے تو اس کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے ابتدا میں یہ صرف علمی بحث تھی لیکن جونہی ائمہ کی تقلید کا مسئلہ پیدا ہوا تو پھر اس میں یہاں تک تشدد پیدا ہوا کہ بعض لوگ من گھڑت روایات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ جو شخص امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھے گا اس کے منہ میں قیامت کے دن آگ ڈالی جائے گی حالانکہ اس کا حدیث کی کتب میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ حالانکہ صحیح روایات سے ثابت ہے نبی اکرم ﷺ نے جہری نماز میں امام کے پیچھے صرف قرآن مجید کی تلاوت سے منع کیا ہے باقی فاتحہ سمیت پوری نماز امام کے پیچھے پڑھنی ہے۔ کیونکہ یہ آیت مبارکہ نماز کے بجائے کفار کے سورة حٰم السجدہ کے جواب میں نازل ہوئی تھی اس کا تعلق نماز کے بجائے تبلیغ کے ساتھ ہے اگر کوئی صاحب علم اس آیت کو عموم پر قیاس کرتا ہے تو پھر بھی اس کا اطلاق فاتحہ پر نہیں ہوتا اس شبہ کو دور کرنے کے لیے حدیث میں فاتحہ کا الگ ذکر کیا گیا۔
مسائل
1۔ معجزات نبی مکرم ﷺ کے اختیار میں نہیں تھے۔
2۔ نبی کریم ﷺ وحی کے پابند تھے۔
3۔ قرآن مجید ہدایت اور رحمت سے بھرپور ہے۔
4۔ قرآن مجید کو توجہ اور خاموشی سے سننا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
نبی اکرم ﷺ وحی کے پابند تھے :
1۔ آپ ﷺ اپنے رب کی وحی کی اتباع کریں۔ (الاحزاب : 2)
2۔ میں اتباع کرتا ہوں اس کی جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (الاحقاف : 9)
3۔ مجھے قرآن وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں ڈراؤں۔ (الانعام : 19)
4۔ نبی ﷺ دین کے متعلق اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے مگر آپ کو جو وحی کی جاتی ہے۔ (النجم : 3 تا 4)
Ayahs 7:205–206فہم القرآن
ربط کلام : تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو کفار سے جھگڑنے اور الجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔
سورۃ الاعراف کا آغاز اس فرمان سے ہوا تھا کہ اے نبی ﷺ ! یہ قرآن آپ کی طرف اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجے سے ڈرائیں بیشک یہ کام مشکل ہے لیکن اس پر آپ کے دل میں کوئی گھٹن محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تو مومنوں کے لیے ایک ذکر اور نصیحت ہے اب اس سورة کا اختتام بھی قرآن اور ذکر سے کیا جا رہا ہے کیونکہ قرآن مجید ملائکہ کے سردار جبرائیل امین (علیہ السلام) کے واسطے سے نازل ہوا ہے۔ اس لیے یہاں ملائکہ کی عجز و عاجزی اور ان کے ذکر اور عبادت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو بھی ہر قسم کے تکبر سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور ہر دم عاجزی کا اظہار، اس کی عبادت میں انہماک اور اس کی زبان رب کی یاد میں محور رہنے کے ساتھ اس کا سر اللہ کے حضور جھکا رہنا چاہیے۔ جہاں تک ذکر کا تعلق ہے اس میں نمود و نمائش کا ذرہ برابر بھی شائبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ذکر سے مراد نماز بھی ہے کیونکہ سورة العنکبوت آیت 45 میں نماز کو ذکر اکبر قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے نماز کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جہری نماز میں قرأت درمیانی آواز میں ہونی چاہیے اور اگر ذکر سے عام ذکر مراد لیا جائے تو اس کے لیے بھی یہی اصول ہے کہ جہاں نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز سے ذکر کیا ہے وہاں بلند آواز سے اور جہاں آہستہ اور خفیہ انداز میں کیا ہے وہاں خفیہ طریقہ ہونا چاہیے جیسا کہ فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ اللہ اکبر اور تین دفعہ استغفر اللہ بلند آواز سے کہنا اور باقی اذکار آہستہ کرنے چاہییں۔ حج وعمرہ کا احرام باندھنے کے بعد تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہیے ایسا ہی ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد آپ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیرات کہا کرتے تھے اور عیدین کے وقت بھی بلند آواز سے تکبیرات کہنا سنت سے ثابت ہے جہاں تک بعض لوگ نماز کے بعد اور اجتماعی شکل میں اللہ ھو یا کلمہ کا ورد کرتے ہیں اس کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
(عَنْ أَبِی مُوسٰی ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہٗ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل ]
” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔ “ یعنی جو ذکر کرتا ہے وہ زندہ ہے جو ذکر نہیں کرتا وہ مردہ ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ یَقُول اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَأَنَا مَعَہٗ إِذَا ذَکَرَنِی فَإِنْ ذَکَرَنِی فِی نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِی نَفْسِی وَإِنْ ذَکَرَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُہٗ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِی یَمْشِی أَتَیْتُہٗ ہَرْوَلَۃً )
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ میں اپنے بندے کے خیال کے مطابق ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں (مراد فرشتوں میں) اور اگر وہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زبان تر رہنی چاہیے۔
2۔ ذکر انتہائی عاجزی کے ساتھ کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
سجدہ صرف ” اللہ “ کو کرنا چاہیے :
1۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : 62)
2۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو اس ذات کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 37)