7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفہم القرآن

Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

” اور جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے اوپر اس طرح رکھا، جیسے وہ ایک سائبان ہو اور انہوں نے جانا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔ “ (171)

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کو تو رات کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے ان کے سروں پر کوہ طور کا اٹھایا جانا۔ بنی اسرائیل پر کوہ طور کو اٹھائے جانے کا واقعہ قرآن مجید میں چار مرتبہ بیان ہوا ہے سورة البقرۃ، آیت : 63، 93 اور سورة النساء 154 میں اس کے لیے ” وَرَفَعْنَا “ کا لفظ استعمال ہوا۔ جس کا معنیٰ ہے ہم نے ان پر طور کو بلند کیا۔ جس کے بارے میں بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ کوہ طور کو جڑ سے نہیں اٹھایا گیا تھا۔ بلکہ یہ شدید زلزلہ کے باعث اس طرح ڈولنے اور حرکت کرنے لگا کہ انھوں نے سمجھا کہ بس یہ پہاڑ ہمارے اوپر گرنے ہی والا ہے لیکن یہاں قرآن نے ” نَتَقْنُا الْجَبَلَ فَوْ قَہُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ جن کا معنیٰ ہے کہ ہم نے کوہ طور کو بنیاد سے اٹھا کر ان کے سروں پر منڈلایا۔ مزید فرمایا کہ پہاڑ ان کے سروں پر ” ظُلَّۃٌ“ کی مانند ہوا۔ ظُلّہ کا معنی ہے سائبان جب انسان کا ذہن اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت کے بجائے پہاڑ کی جسامت اس کی گہرائی اور اونچائی کی طرف مائل ہو تو پھر اسے یہ بات سمجھنے میں دقت محسوس ہوتی ہے کہ اتنا بڑا پہاڑ کس طرح ان کے سروں کے اوپر منڈلایا جاسکتا ہے۔ لیکن جب انسان کا ذہن اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت کی طرف مائل ہو تو اسے یہ سمجھنے میں کوئی مشکل اور کسی تاویل کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ جو قادر مطلق ہمارے سروں پر آسمانوں کو بلا سہارا اربوں سال سے قائم رکھے ہوئے ہے اور جس نے زمین کو پانی کے اوپر بچھا رکھا ہے اور جو کھربوں ٹن بادلوں کو ہمارے سروں پر منڈلا تا ہے اس قادر مطلق کے سامنے کوہ طور کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے اس لیے قرآن کے الفاظ کا حقیقی مفہوم اور لفظی معنیٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ لاکھڑا کیا تھا اور جب ان کو یقین ہوگیا کہ یہ تو ہمارے اوپر گرنے ہی والا ہے تب انھوں نے اقرار کیا تھا۔ قرآن مجید میں ” ظن “ کا لفظ اکثر مقامات پر یقین کے معنوں میں آیا ہے۔ یاد رہے کہ بنی اسرائیل جیسی مجرم قوم محض گمان کی بنیاد پر ماننے والی نہ تھی۔ لہٰذا یہاں ظن سے مراد یقین کرلینا ہے۔ اس حالت میں انھیں حکم ہوا کہ جو کچھ ہم تمہیں دے رہے ہیں ا سے مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور اس سے رہنمائی حاصل کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکو۔ لیکن یہ قوم اس قدر منافق اور ظالم تھی کہ انھوں نے بظاہر بلند آواز سے کہا کہ ہم نے سن لیا لیکن اپنے دلوں میں کہہ رہے تھے کہ ہم نہیں مانیں گے۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ اتنی بڑی سرکشی اور نافرمانی کا سبب ان کا شرک کرنا تھا۔ کیونکہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں پوری طرح سرایت کرچکی تھی۔ (وَإِذْ أَخَذْنَا میثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّورَخُذُوا مَا آَتَیْنَاکُمْ بِقُوَّۃٍ وَاسْمَعُوا قالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَأُشْرِبُوا فِی قُلُوبِہِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِمْ قُلْ بِءْسَمَا یَأْمُرُکُمْ بِہٖ إِیمَانُکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ )[ البقرۃ : 93] ” اور جب ہم نے طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر تم سے اقرار لیا کہ جو کتاب ہم نے نہیں دی ہے اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا اور غور سے سننا۔ تو تمہارے اسلاف کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور (دل میں کہا) ہم مانیں گے نہیں۔ ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑا ان کے دلوں میں رچ بس گیا۔ آپ ان سے کہیے اگر تم مومن ہو تو تمہارا یہ ایمان تمہیں بری باتوں کا حکم دیتا ہے۔ “ ایسی کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید قبول کرنا اور ہدایت کے راستہ پر آنا مشکل ترین عمل بن جاتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جب تک انسان قلبی طور پر ہدایت کی طرف راغب نہ ہو۔ اسے جبراً کوئی بات منوائی نہیں جاسکتی۔ جبری ہدایت جبر کے قائم رہنے تک رہتی ہے۔ جونہی جبر ختم ہوگا وہ شخص برائی کی طرف پلٹ جائے گا۔ البتہ کلمہ گو کو جبراً نماز، روزہ اور نیک کاموں کی طرف راغب کرنا حکومت کا فرض ہے لیکن غیر مسلم کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ مسائل 1۔ بنی اسرائیل کے سروں پر کوہ طور بلند کیا گیا تھا۔ 2۔ مسلمان کو جبراً اسلام پر عمل کرنے کا حکم دیاجا سکتا ہے۔ 3۔ غیر مسلم کو جبراً مسلمان نہیں کیا جاسکتا۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ کے فوائد : 1۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : 31 تا 33) 2۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34) 3۔ متقی کا ہر کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5) 4۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)
Ayahs 7:172–174

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم شہادت دیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بیشک ہم اس سے غافل تھے۔ (172)

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو گمراہ لوگوں نے کیا ؟ (173)

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔ “ (174)

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے عہد کی مناسبت سے وہ عہد بھی بنی نوع انسان کو یاد کروایا جا رہا ہے جو روز آفرینش ان سے لیا گیا تھا۔ خالق کائنات نے زمین و آسمان بنانے کے بعد جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھا جس سے قیامت تک نسل در نسل پیدا ہونے والے بنی نوع انسان اس کی بار گاہ میں حاضر ہوگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سب سے یہ استفسار فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں کہ نہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ شہادت دی کیوں نہیں ! آپ ہی ہمارے خالق، مالک، اور پیدا کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اس پر قائم رہنا کہیں قیامت کے دن یہ بہانہ نہ بنانا کہ ہمیں تو اس عہد اور شہادت کا علم ہی نہیں تھا۔ یا تم یہ کہو کہ ہم اس لیے شرک کے مرتکب ہوئے کہ ہمارے آباء و اجداد اس طرح کرتے تھے اور ہم تو ان کے بعد آنے والے ان کی اولاد تھے لہٰذا ہمارا کوئی گناہ نہیں جو کچھ کیا ہم سے پہلے لوگوں نے کیا۔ اس لیے ہمیں کسی قسم کی سزا نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت بنی نوع انسان کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اس عہد کو بھول جانا یا اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے کا بہانہ بنانا قیامت کے دن اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے اس عہد کی یاد دہانی کروائی۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا۔ جس میں اللہ کی توحید کو ہر قسم کے دلائل کے ساتھ کھول، کھول کر بیان کرتے ہوئے شرک کو سب سے بڑا ظلم، گمراہی اور جہالت قرار دیا گیا ہے۔ تاکہ شرک سے لوگ بچیں اور اپنے رب کی توحید پر پکے ہوجائیں۔ بعض لوگ عقلی موشگافیوں میں پڑ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انسان سے یہ عہد لیا اور عقیدۂ توحید اس کی فطرت میں رکھا ہے تو پھر انسان اسے فراموش کرکے شرک کا ارتکاب کیوں کرتے ہیں ؟ ایسا اعتراض اٹھانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان نسیان سے بنا ہے انسانی فطرت کے سب سے بڑے ترجمان نبی آخر الزمان ﷺ نے انسان کی اس کمزوری کو یوں بیان فرمایا ہے۔ ” نَسِیَ اٰدَمْ وَنَسِتْ اَوْلَادُہٗ “ کہ جناب آدم بھول گئے اور ان کی اولاد بھی بھول جایا کرے گی۔ اس بنا پر کچھ لوگ بھول جاتے ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصدیہ ہے کہ انسان کو اس کی غفلت اور بھول پر چوکنا کیا جاسکے۔ جہاں تک عقیدۂ توحید کو انسانی فطرت میں ودیعت کرنے کا تعلق ہے اس کی گواہی ہر انسان اپنی زندگی میں دیے بغیر نہیں رہتا۔ مکہ کے مشرک بڑے ظالم تھے اور انھوں نے شرک کی بنیاد پر نبی معظم ﷺ سے کئی جنگیں لڑیں لیکن جب کبھی ان میں سے کسی کو بھاری اور ناگہانی مصیبت آتی تو وہ اقرار کرتا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے۔ یہ فطرت ہی کی آواز ہے جب دنیا کے پرلے درجے کے مشرک اور کافر کو اس کے کفر اور شرک کی نشاندہی کی جائے تو وہ فوراً اس کا انکار کرتا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہٖ کَالذَّرِّ ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قِبَلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ )[ رواہ احمد ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی پشت کی طرف سے وعدہ لیا نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے تمام اولاد نکالی جس کو پیدا فرمایا تھا۔ انھیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلایا پھر ان سے اپنے سامنے کلام فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہنا بلاشبہ ہم تو اس سے غافل تھے یا تم کہو شرک تو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کی اولاد تھے۔ کیا تو ہمیں باطل کام کرنے والوں کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت ہی بنی نوع انسان سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید کو بھول جانا یا آباؤ اجداد کے شرک کا بہانہ مقبول نہیں ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں توحید کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ لوگ شرک سے بچ جائیں۔ 4۔ توحید فطرت کی آواز اور تمام ادیان کی بنیاد ہے۔ 5۔ عقیدۂ توحید کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن برہان کا معنی دلیل : 1۔ جنت میں داخلہ کے لیے دلیل چاہیے اہل کتاب سے مطالبہ۔ (البقرۃ : 111) 2۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے برہان آچکا ہے۔ (النساء : 174) 3۔ اگر رب کی طرف سے برہان نہ ہوتی تو یوسف بھٹک جاتے۔ (یوسف : 24) 4۔ شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ (المومنؤن : 117) 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی داتا ہے تو دلیل لاؤ۔ (النمل : 64) 6۔ حضرت موسیٰ کے معجزے برہان تھے۔ (القصص : 32) 7۔ قیامت کے دن نبی کی گواہی امت پر دلیل ہوگی۔ (القصص : 75)
Ayahs 7:175–178

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

” اور انہیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنائیں جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگالیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ (175)

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان کے ذریعے بلند کردیتے مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا۔ اس کی مثال کتے کی طرح ہے کہ اگر آپ اس پر حملہ کریں تو زبان نکالے ہانپتا ہے یا اسے چھوڑ دے تو بھی زبان نکالے ہانپتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا آپ ان کو یہ سنائیں تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “ (176)

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

” ان لوگوں کی بری مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ (177)

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کردے وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ “ (178)

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان فرمائیں جس کو ہم نے علم کے زیور سے آراستہ فرمایا تھا مگر اس نے اس زیور کو اتار پھینکا اور شیطان کی اتباع کرتے ہوئے گمراہ لوگوں میں شمار ہوا یہ کس شخص کا واقعہ ہے، کہاں کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی مقدس دستاویزات میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اکثر مفسرین نے صحابہ کرام ] کے اقوال نقل کیے ہیں جن کی بنیاد اسرائیلی روایات پر ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں : اس شخص کا نام بلعم بن بعور یا امیہ بن صلت تھا۔ یہ یہودیوں کا بڑا عالم تھا لیکن انتہائی ضمیر فروش ہونے کی وجہ سے فتویٰ فروشی اور دین کو ایک پیشہ اور دکھلاوے کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اس سے مراد کوئی شخص ہو اصل تو ایک کردار کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے مالا مال کیا مگر اس نے اسے منصب کے حصول، دنیا کے لالچ، ذاتی شہرت اور شخصی احترام کے لیے استعمال کیا جو سراسر شیطان کی پیروی کا راستہ ہے اور شیطان انسان کو گمراہ کرکے چھوڑتا ہے۔ اس نام نہاد عالم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا اور وہ بالآخر گمراہوں میں شمار ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو اسے اپنے عطا کردہ علم کے ساتھ فکر کی بلندی اور کردار کی رفعت عطا کرتے۔ لیکن اس نے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے رفعت و بلندی کے بجائے زمین کے ساتھ چمٹنا پسند کرلیا ہے یہاں زمین کے ساتھ چمٹنے سے مراد فکر و کردار کی پستی اور دنیا کی طرف مائل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ انسان کو ہدایت اور گمراہی کے راستے کی نشاندہی کرکے کھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ انسان جس راستہ کو پسند کرتا ہے اسے اختیار کرسکے۔ علم کا بنیادی مقصد اس کے ذریعے رہنمائی پانا ہے اگر کوئی شخص صاحب علم ہو کر بھی جہالت اور گمراہی کے راستہ کو پسند کرتا ہے تو اسے ہدایت پر کیوں کر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ ایسے علم والے کی مثال تو اس کتے کی ہے جس پر حملہ کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اس پر بوجھ ڈالا جائے یا نہ ڈالا جائے وہ ہر صورت زبان لٹکائے ہانپتا پھرتا ہے۔ کتے کو دیکھنے والا اس بات کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ کتا سدھایا ہوا ہو یا آوارہ، سردی ہو یا گرمی، بھوکا ہو یا اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ وہ ہر وقت ہانپتا ہے اور چلتے پھرتے زمین سونگھتا اور جگہ جگہ اپنی زبان مارتا پھرتا ہے۔ یہ ایسا جانور ہے جو کبھی سیر چشم نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر آپ اسے پتھر ماریں تو وہ اسے بھی چاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ اتنا بد خصلت اور لالچی جانور ہونے کے باوجود اپنے مالک کا وفادار اور سدھایا ہوا کتا اپنے آقا کے حکم پر عمل کرتا ہے۔ لیکن ایک دنیا پرست عالم کا حال اس سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ اقبال کے بجائے زوال اور استغنا کے بجائے بھوک اور لالچ میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ایسے علماء پکار اٹھتے ہیں کہ واقعی ہم نے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال لیا ہے اور ہم اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یہاں بین السطور یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ذیادتی نہیں کی اگر یہ ہدایت کے طالب ہوتے تو انھیں ہدایت دی جاتی لیکن یہ ہدایت کے بجائے گمراہی کے طالب ہوئے اس لیے انھیں گمراہ ہی رہنے دیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ئنات کے چپے چپے اور ذرے ذرے کا مالک ہے اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اپنی ملکیت قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ لہٰذا گمراہ لوگ نقصان ہی اٹھائیں گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے رہنمائی نہ پانے والا شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ 2۔ شیطان انسان کو گمراہ کرکے چھوڑتا ہے۔ 3۔ دین کے بدلے دنیا پسند کرنے والا عالم کتے کی مانند ہے۔ 4۔ کتا نہایت ہی حریص جانور ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اعتصام بالکتاب کا حکم : 1۔ اللہ کی رسی کے ساتھ اعتصام کا حکم۔ (آل عمران : 103) 2۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام کرنا ہے۔ (النساء : 146) 3۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے احکام ماننا اللہ سے اعتصام کرنا ہے۔ (النساء : 176) 4۔ جو نیکی کے کام کرے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام کرے اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔ (الحج : 78) نفسانی خواہش کی پیروی کے نقصانات : 1۔ جس نے اپنی خواہش کو رب بنالیا ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں ؟ (الفرقان : 43) 2۔ اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے۔ (الکہف : 28) 3۔ قیامت کا منکر اپنے نفس کا بندہ ہوتا ہے اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ (طٰہٰ : 16) 4۔ جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی وہ گمراہ ہوا۔ (القصص : 50) 5۔ ظالم اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ (الروم : 29)
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

” اور بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے ہی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو بالکل بیخبر ہیں۔ “ (179)

فہم القرآن ربط کلام : دین کے بدلے دنیا کمانے والے نقصان پانے کے ساتھ جہنم میں جائیں گے یہاں ان کے جہنم میں جانے کی بنیادی وجہ بیان کی گئی ہے۔ جہنمیوں کے جہنم میں جانے کی وجہ بیان کرنے سے پہلے فرمایا کہ ہم نے بہت سے جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ مغالطہ پیدا ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے بہت سے انسانوں اور جنات کو جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے تو اس میں انسانوں اور جنات کا کیا گناہ ہے ؟ دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ سورة الذٰریت آیت 56 میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس طرح ایک مغالطہ پیدا ہونے کے ساتھ قرآن مجید کی آیات میں بظاہر تعارض بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس مغالطہ اور سوال کا جواب دیتے ہوئے قرآن مجید کے مشہور مفسر امام الرازی (رح) لکھتے ہیں کہ عربی زبان میں حرف لام کسی چیز کا انجام اور اس کی انتہا بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں لفظ لام جہنم کے ساتھ انجام کے لیے لایا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو انھیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا تھا۔ لیکن انھوں نے اپنے کردار کی وجہ سے اپنا انجام جہنم بنا لیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں دل عطا کیے تھے تاکہ غور و فکر کریں انھیں آنکھیں دیں تاکہ ہر معاملہ کو غور سے دیکھیں انھیں کان بخشے گئے تاکہ ہر بات کو توجہ کے ساتھ سنیں لیکن انھوں نے سوچنا، غور سے دیکھنا اور توجہ کے ساتھ سننا گوارا نہ کیا اس طرح جانوروں کی مانند ہوئے کیوں کہ جانوروں کے پاس دل، آنکھیں اور کان موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں کھانے، پینے، اٹھنے، بیٹھنے، سونے اور چلنے پھرنے کے علاوہ کوئی صلاحیت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے باوجود اپنے مالک کے وفادار اور اس کے ساتھ محبت کرتے ہوئے اس کا کہنا مانتے اور اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔ انسان اور جنات جانوروں سے اس لیے بدتر ٹھہرے کہ ان کے پاس نہ صرف سوچنے، دیکھنے اور سننے کی صلاحیت چوپاؤں سے کئی گنا زیادہ ہے بلکہ ان کی رہنمائی کے لیے انبیاء اور آسمانی کتب کا انتظام کیا گیا ہے لیکن یہ دنیا کے معاملات میں اس قدر مشغول ہوئے کہ اپنے خالق ومالک اور اس کے احکام سے یکسر غافل ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا کہ گویا کہ جہنم کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ مسائل 1۔ جنوں اور انسانوں کی اکثریت جہنم میں جائے گی۔ 2۔ جہنم میں جانے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دل، آنکھوں اور کانوں کو ہدایت کے لیے استعمال نہیں کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام سے غفلت کرنے والے جانوروں سے بدتر ہیں۔ تفسیر بالقرآن اندھے، بہرے لوگ اور ان کا انجام : 1۔ اہل ایمان اور کفر کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے سننے والوں کی طرح ہے۔ (ھود : 24) 2۔ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والے اندھے بہرے ہیں۔ (الانعام : 39) 3۔ کانوں آنکھوں کا صحیح استعمال نہ کرنے والے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ (الاعراف : 179) 4۔ اندھے بہرے لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 171) 5۔ بہرے وحی کو نہیں سنتے۔ (الانبیاء : 45) 6۔ نبی کریم ﷺ بھی اندھے بہرے لوگوں کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (الروم : 52) 7۔ اندھے بہرے لوگ ہدایت کی طرف نہیں لوٹتے۔ (البقرۃ : 18)
Ayahs 7:180–183

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں سو اسے انہی کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں صحیح راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں انہیں جلد ہی اس کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ (180)

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہم نے جو لوگ پیدا کیے ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے اور اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں۔ (181)

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم انہیں بتدریج پکڑیں گے اس طور سے کہ وہ نہ جانتے ہوں گے۔ (182)

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انہیں مہلت دوں گا بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔ “ (183)

فہم القرآن ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی نفرت ہونی چاہیے۔ یہاں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ پکارا کرو اور ان لوگوں کو بالکل چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں۔ انھیں بہت جلد اپنے قول اور فعل کی سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔ یہ ایسا عظیم المرتبت اور عظیم الرعب اسم عالی اور گرامی ہے کہ صرف اور صرف خالق کائنات کی ذات کو زیبا اور اس کے لیے مختص ہے۔ یہ اس کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ کائنات میں انتہا درجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں اور ہوں گے۔ جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعَلٰی “ کہلوانے والے بھی ہوئے ہیں۔ مگر اس نام کی جلالت وہیبت کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ کہلوانے کی کوئی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن وہ بتوں کو اللہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ اللہ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے جس بنا پر ہر کام بِسْمِ اللّٰہِ سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اسم مبارک اپنے آپ میں خا لقیت، مالکیت، جلالت و صمدیت، رحمن و رحیمیت کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا نام 2697 مرتبہ وارد ہوا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا تعلق ہے ان کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ نام ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی خاص ہیں دوسرے وہ ہیں جن میں سے کوئی نام کسی آدمی کا بھی رکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً کریم ہے بہتر تو یہ ہے کہ یہ بھی نام عبدالکریم ہونا چاہیے تاہم کوئی صرف کریم نام رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے کیونکہ کریم کا معنی درگزر کرنے والا اور سخی ہے جو کسی آدمی کی صفت اور نام بھی ہوسکتا ہے لیکن انسان کی کریمی اور اللہ تعالیٰ کی کریمی کا آپس میں کوئی تعلق اور نسبت نہیں ہوسکتی۔ نبی رحمت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام بتلائے ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یاد کرنے سے مراد صرف حفظ کرنا نہیں بلکہ ان کے مطابق انسان کا عقیدہ بھی ہونا چاہیے۔ (بخاری کتاب التوحید) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنہ کے ساتھ پکارنے کا حکم دے کر یہ تلقین فرمائی ہے کہ (وَذَرُوْاالَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِیْٓ أَسْمَآءِہٖ ) اس کے نام میں الحاد یہ ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں وہ کسی زندہ، مردہ یا کسی کمپنی کا نام رکھا جائے جس طرح آج کل بعض مسلمان جہالت کی بناء پر کسی جنرل سٹور کا نام الرحیم یا الرحمن رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشکل کشا ہے اور آدمی کسی دوسرے کو بھی مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے اس کو اس نام سے پکارے جیسا کہ جاہل اور مشرک لوگ پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کو پیر دستگیر کہتے ہیں یعنی ڈوبتے ہوئے یا گرنے والے کا ہاتھ تھامنے والا۔ اور یہ وظیفہ بھی کرتے ہیں۔ یَا عَبْدَ الْقَادِرِ شَیْئا للّٰہِ ” اے عبدالقادر اللہ کے لیے کچھ دیجیے “ جاہل لوگ حضرت علی ہجویری (رح) کو داتا گنج بخش کہتے ہیں جس کا مطلب ہے خزانے بخشنے والا۔ غوث اعظم بڑا فریادیں سننے والا اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بہت سے جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے جس کی وضاحت آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اب استثناء کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ایک امت یعنی جماعت ایسی بھی پیدا فرمائی ہے جو لوگوں کو حق کی رہنمائی کرتے ہیں اور عدل کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں ہم ان کو اس طرح کھینچ کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں کہ انھیں اس کی خبر تک نہ ہے۔ ہم نے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مہلت دینے کی تدبیر نہایت مضبوط ہے، کسی کو مہلت دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ رب ذوالجلال کی گرفت سے بچ جائے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اس کے صفات کمال کے حامل ہیں۔ 2۔ توحید اسماء وصفات عقیدہ توحید کا حصہ ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ مخلوق کو پکارنے والوں کو عذاب ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی تدابیر نہایت مضبوط ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی : 1۔ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن۔ اللہ کے لیے اچھے نام ہیں۔ (الاسراء : 110) 2۔ اللہ کے علاوہ کوئی اِلٰہ نہیں۔ اس کے اچھے نام ہیں۔ (طٰہٰ : 8) 3۔ وہ خالق، باری، المصور ہے اس کے اچھے اچھے نام ہیں۔ (الحشر : 24) 4۔ وہ اول ہے، وہ آخر ہے، وہ ظاہر اور باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (الحدید : 3) 5۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ اور قائم ہے۔ (البقرۃ : 255۔ آل عمراٰن : 2)
Ayahs 7:184–186

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

” اور کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں کوئی پاگل پن نہیں ہے ؟ وہ تو ایک کھلم کھلے ڈرانے والے کے سواکچھ نہیں (184)

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

اور کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین کی عظیم الشان سلطنت میں اور کسی بھی ایسی چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے، اور اس بات میں کہ شاید ان کا مقررہ وقت بالکل قریب آچکا ہو، پھر اس (قرآن) کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ (185)

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ “ (186)

فہم القرآن ربط کلام : نبی معظم ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے اور بتلاتے تو وہ دیگر الزامات کے ساتھ آپ کو مجنوں اور پاگل کہتے تھے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار نبی محترم ﷺ کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مجنون کہتے تھے۔ 1۔ ایک الٰہ تمام لوگوں کی مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے۔ 2۔ کفار کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کب انکار کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ہمارے معبودوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ 3۔ نبی اس لیے مجنون ہے کہ توحید کے سوا کوئی اور بات نہیں کرتا۔ ہر وقت توحید، توحید کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ 4۔ معاشرہ اور برادری میں اس کا بڑا مقام اور احترام تھا مگر اس نے اپنے مقام اور احترام کو برباد کرلیا ہے۔ 5۔ ہم نے اسے ہر قسم کی مراعات کی پیشکش کی ہے لیکن یہ جنونیوں کی طرح ایک ہی بات کہے جارہا ہے۔ 6۔ کفار نبی اکرم ﷺ کو مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر عوام میں مجنون کہتے تھے۔ لیکن ذاتی طور پر پوری دیانت داری سے سمجھتے تھے کہ آپ انتہائی ذہین، دانشور اور صاحب بصیرت انسان ہیں۔ جس کا تجربہ انھوں نے قومی سطح پر اس وقت کیا تھا۔ جب آپ کی عمر مبارک 35 سال کی تھی۔ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حجر اسود رکھنے پر اہل مکہ کے درمیان کشت و خون کی نوبت پیدا ہوچکی تھی۔ آپ نے انتہائی پر آشوب حالات اور جذباتی فضا میں ایسا فیصلہ فرمایا کہ آپ کی ذہانت کے نہ صرف اہل مکہ قائل ہوئے بلکہ پورے حجاز میں آپ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ آپ کی 63 سالہ زندگی میں بدترین دشمن بھی کسی ایک کام یا بات کی نشاندہی نہ کرسکے۔ جس وجہ سے آپ کو معمولی عقل رکھنے والا انسان کہا جاسکے۔ ان حقائق کی بنیاد پر سورة سباء آیت 46 میں کفار کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ دو دو اور ایک ایک ہو کر سوچو ! کہ کیا اس نبی کو کوئی جنون ہے۔ یہ تو صرف اس لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے لہٰذا آپ کھلے الفاظ میں لوگوں کو ڈرانے والے ہیں۔ جس عقیدۂ توحید کی بناء پر تم اس رسول کو پاگل کہتے ہو بتاؤ کبھی تم نے زمین و آسمان کے انتظام و انصرام اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان پیدا کیا اس پر غور کیا ؟ کیا نظام قدرت میں کسی اعتبار سے بھی کسی کا عمل دخل ہے ؟ اور کبھی سوچا کہ اس نظام کے خاتمہ کا وقت کتنا قریب آلگا ہے، یہ اشارہ فرما کر توحید کے منکروں کو قیامت برپا ہونے کا احساس دلاکر فرمایا ہے کہ مزید کونسی دلیل ہوگی جس پر تم ایمان لاؤ گے۔ دراصل جسے اللہ تعالیٰ اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ انھیں ان کے گناہوں میں اس لیے چھوڑا جا رہا ہے تاکہ یہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہیں۔ مسائل 1۔ رسول لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے آتا ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ کی مخلوق پر غور و خوض کرے۔ 3۔ آدمی کو اپنی موت سے پہلے اپنا عقیدہ اور اعمال درست کرلینے چاہییں۔ 4۔ جس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ 5۔ گمراہ شخص ہر وقت اپنے گناہوں میں پریشان رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی ﷺ کی داعیانہ حیثیت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حق دے کر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (البقرۃ : 119) 2۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے دین کے داعی اور روشن چراغ ہیں۔ (الاحزاب : 46) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شاہد، بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : 45) 4۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : 28) 5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء : 107)
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

” آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی ؟ فرمادیں اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا وہ آسمانوں اور زمین پر بھاری واقع ہوئی ہے تم پر اچانک ہی آئے گی آپ سے یوں پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی خوب تحقیق کرچکے ہوں فرمادیں اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (187)

فہم القرآن ربط کلام : کفار نہ صرف عقیدہ توحید کے منکر تھے بلکہ قیامت کے برپا ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتے تھے جس وجہ سے وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتے کہ قیامت کب آئے گی۔ یہاں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار قیامت کے قائم ہونے کا استہزاء اڑانے اور نبی اکرم ﷺ کو پریشان کرنے کے لیے آپ سے مطالبہ کرتے کہ جس قیامت کے برپا ہونے سے آپ ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں یہ کب آئے گی اگر تیرے پاس کوئی اختیار ہے تو اسے ہم پر برپا کر دے۔ اس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یوں دلوایا جا رہا ہے کہ آپ انھیں فرمائیں کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ میرارب ہی اسے اس کے وقت پر برپا کرے گا لیکن یاد رکھو قیامت کا برپا ہونا زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز پر بھاری ہوگا۔ کوئی چیز بھی اس کی ہولناکیوں کو برداشت نہ کرسکے گی۔ جس قیامت کا تم مذاق اڑاتے ہو وہ تمہارے پاس اچانک اور آناً فاناً آجائے گی۔ جسے کسی کا تکبر اور بڑائی ٹال نہیں سکے گی۔ اے رسول ! یہ تو قیامت کے بارے میں آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے آپ ہر وقت اس کی تلاش میں لگے ہوئے ہوں۔ انھیں بتائیں کہ قیامت کے دن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ اچانک اور ہر حال میں برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو جاننے یعنی اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ اس آیت میں کفار کے مزاج اور انکار کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس تکرارو استکبار کے ساتھ آپ سے قیامت کے برپا ہونے کا مطالبہ کرتے تھے جس کے جواب میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ 2۔ قیامت کی ہولناکیوں کو زمین و آسمان بھی برداشت نہیں کرسکیں گے۔ جب یہ اتنا بھاری اور ہولناک واقعہ ہوگا تو اس کا مذاق اڑانا اور اس کے لیے جلدی کرنا سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌمبِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔ ) ” اس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سر زمین میں اس کو موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ بَارِزًا یَوْمًا للنَّاسِ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ ۔۔ فقَالَ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ مَا الْمَسْءُولُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّاءِلِ )[ رواہ البخاری : کتاب الایمان باب سؤال جبریل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کے پاس بیٹھے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) آئے۔۔ انہوں نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔ “ ؟ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فیہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِی مِنْہٗ )[ رواہ احمد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والے ابھی سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا۔ اس کو کھا نہیں سکے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ إِلَّا عَلٰی شِرَار النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب قرب الساعۃ ] ” حضرت عبداللہ ؓ نبی معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ قیامت صرف برے لوگوں پر قائم ہوگی۔ “ (عَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی لَا یُقَالَ فِیْ الْاَرْضِ اَللّٰہُ اَللّٰہُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ عَلٰی اَحَدٍ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَللّٰہُ ۔ )[ رواہ مسلم : باب ذَہَابِ الإِیمَانِ آخِرَ الزَّمَانِ ) حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ‘ رسول محترم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کی آواز آنا ختم نہ ہوجائے گی ایک روایت میں ہے قیامت ایسے شخص پر قائم نہیں ہوگی، جو اللہ اللہ کہنے والا ہوگا۔ مسائل 1۔ قیامت وقت مقررہ سے ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکے گی۔ 2۔ قیامت اچانک واقع ہوگی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کی ہولناکیاں : 1۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1) 2۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : 1) 3۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1) 4۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187) 5۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 4) 6۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 5) 7۔ قیامت کا دن انتہائی دردناک ہوگا۔ (ھود : 26) 8۔ زمین کو ہلا کر تہہ وبالا کردیا جائے گا۔ (واقعۃ : 3، 4) 9۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر پر اگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے۔ (الواقعۃ : 5، 6) 10۔ زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ ( الواقعہ : 4 )
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

” فرما دیں کہ میں تو اپنے لیے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں ! جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی خیر حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں صرف ایک ڈرانے والا ہوں اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ (188)

فہم القرآن ربط کلام : کفار نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے اب اس کا مزید جواب دیا جار ہا ہے۔ باطل فرقوں کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ وہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذمہ وہ بات لگاتے اور ان سے مافوق الفطرت کاموں کی توقع اور ایسے مطالبات کرتے رہے کہ جس کا انھوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ کبھی آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ ہم آپ پر تب ایمان لائیں گے جب تک آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کردیں یا پھر آپ کے پاس کھجوروں کا ایسا باغ ہونا چاہیے جس میں نہریں جاری ہوں، یہ نہیں تو آپ اپنے دعویٰ کے مطابق آسمان ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہم پر گرا ڈالیں۔ اگر یہ کام نہیں کرسکتے تو اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کو ہمارے سامنے لے آئیں تاکہ ہم ان سے ہم کلام ہونے کے ساتھ انھیں دیکھ لیں۔ اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو آپ کا گھر سونے کا ہونا چاہیے۔ آخری بات انھوں نے یہ کہی کہ آپ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چڑھ جائیں لیکن یاد رکھنا ہم پھر بھی آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ ہمارے لیے ایسی لکھی لکھائی کتاب نہ لائیں جس کو ہم خود دیکھ کر پڑھ سکیں۔ ان بےہودہ سوالات کے جواب میں آپ کو صرف اتنا کہنے کا حکم ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ میرا رب یہ کرنا چاہے تو اس کے پاس ایسا کرنے کا پورا اختیار اور طاقت ہے۔ کیونکہ وہ ہر کمزوری سے مبرا اور پاک ہے لیکن مجھے تو میرے رب نے صرف ایک انسان اور رسول بنایا ہے۔ ” اور کہنے لگے : ہم آپ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ نہ جاری کردیں۔ یا آپ کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہا دے۔ یا آپ آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہم پر گرا دیں جیسے آپ کا دعویٰ ہے یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئیں۔ یا آپ کے لیے سونے کا کوئی گھر ہو یا آپ آسمان میں چڑھ جائیں اور ہم آپ کے چڑھنے کو بھی نہ مانیں گے حتیٰ کہ آپ ہم پر کتاب اتار لائیں جس کو ہم پڑھ لیں کہیے : پاک ہے میرا رب ! میں تو محض ایک انسان ہوں پیغام پہنچانے والا۔ “ [ بنی اسرائیل : 90 تا 93] یعنی نہ میں نے کبھی ایسی باتوں کا وعدہ اور دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی یہ چیزیں میرے اختیار میں ہیں۔ یہاں تک کہ میں اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ تعالیٰ چاہے اگر میں غیب جاننے والا ہوتا تو یقیناً اپنے لیے بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے کبھی نقصان نہ پہنچتا۔ میرا دعویٰ صرف یہ ہے میں ایمان لانے والوں کے لیے ڈرانے اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر عقیدۂ توحید کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا خواہ کوئی ولی، نبی اور فرشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ اسے اپنے یا دوسرے کے نفع و نقصان کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ لیکن افسوس فرقہ واریت کی لہر میں بہہ کر بڑے بڑے علماء کھلم کھلا اپنے بزرگوں کے ایسے اقوال نقل کرتے ہیں جو واضح طور پر قرآن و سنت کے منافی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس مقام پر ایک عالم نے کچھ اقوال کے ذریعے اپنا کمزور عقیدہ ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش کی ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضور اکرم ﷺ اپنی ذات مقدسہ سے الوہیت کی نفی فرما رہے ہیں کہ میں خدا نہیں۔ کیونکہ خدا وہ ہے جس کی قدرت کامل اور اختیار مستقل ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ نہ کسی کام سے اسے کوئی روک سکتا ہے اور نہ اسے کسی کام پر مجبور کرسکتا ہے۔ اور مجھ میں یہ اختیار کامل اور قدرت مستقلہ نہیں پائی جاتی۔ میرے پاس جو کچھ ہے میرے رب کا عطیہ ہے اور میرا سارا اختیار اسی کا عنایت فرمودہ ہے۔ ” لَا اَمْلِکُ “ کے کلمات سے اپنے اختیار کامل کی نفی فرمائی اور ” اِلَّا مَا شَاء اللّٰہُ “ سے اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا کہ کوئی نادان یہ نہ سمجھے کہ حضور کو نفع و ضرر کا کچھ اختیار ہی نہیں۔ فرمایا مجھے اختیار ہے اور یہ اختیار اتنا ہی ہے جتنا میرے رب کریم نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کتنا عطا فرمایا ہے تو انسانی عقل کا کوئی پیمانہ اور کوئی اندازہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ کوئی بناوٹی حد قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس ایک آیت کریمہ میں ہی غور فرمائیے وَلَسَوْفَ یُعْطِیکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔”(اے حبیب ﷺ تیرا رب تجھے اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔ “ کیا لطف ہے حضور ﷺ نے اپنی ساری توانائیوں اور قوتوں سے برأت کرتے ہوئے ہر بات اپنے خالق ومالک کی مرضی اور مشیت کے سپرد کردی اور اس بندہ نواز نے اپنی مشیت کو اپنے محبوب بندے کی رضاو خوشنودی پر منحصر کردیا۔ بتادیا تجھے دینے والا میں ہوں۔ خود تمہیں دوں گا اور اتنا دوں گا جتنا تو چاہے گا۔ اب اس عالی ظرف آقا کی وسعت ظرف کو ملاحظہ فرمائیے۔ جب (وَلَسَوْفَ یُعْطِیکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی) کا مژدہ پہنچا تو عرض کی اے کریم ! میں تو اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ جائے۔ انصاف کردیا۔ کیا آتش جہنم سے بچا لینا دفع ضرر باذن اللہ نہیں۔ کیا جنت میں پہنچا دینا نفع رسانی باذن اللہ نہیں ؟ ہے اور یقیناً ہے۔ یہاں آپ ﷺ کو مختار کل ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے اور آپ کے بارے میں علم الغیب ثابت کرنے کے لیے عطائی علم کی اصطلاح کا سہارا لیا ہے یہ ایسا ہی کمزور سہارا ہے جس طرح مرزائی مرزا کو اصلی نبی نہیں کہتے بلکہ عوام الناس کو دھوکا دینے اور مرزا کی نبوت ثابت کرنے کے لیے ظلی اور بروزی نبی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ الفاظ کے ہیر پھیر کے سوا اس عقیدہ کی کوئی بنیاد نہیں ان کی دیکھا دیکھی ایک طبقہ نے نبی اکرم ﷺ کو عالم الغیب ثابت کرنے کے لیے عطائی علم کی اصطلاح اپنائی ہے۔ جس کا معنی ہے کہ آپ واقعی غیب نہیں جانتے تھے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا اس کے لیے قرآن مجید کی واضح اور دو ٹوک آیات کو چھوڑ کر لوگوں کو مغالطہ دینے کے لیے ایک دو ایسی آیات کا حوالہ دیتے ہیں جو متشابہات میں سے ہیں۔ متشابہات آیات کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان آیات کو قرآن مجید کی مرکزی آیات کے ساتھ ملا کر سمجھنا چاہیے لیکن جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ پن ہے اور وہ امت میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ ان آیات کی تفسیر اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ (آل عمران، آیت : 5) (عَنِ ابْنِ دَارَّۃَ مَوْلٰی عُثْمَانَ ؓ قَالَ إِنَّا لَبِالْبَقِیعِ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ إِذْ سَمِعْنَاہُ یَقُولُ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ فَتَدَاکَّ النَّاسُ عَلَیْہِ فَقَالُوا إِیہٍ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ قَالَ یَقُول اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِکُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِیَکَ یُؤْمِنُ بِی وَلَایُشْرِکُ بِکَ )[ رواہ احمد ] ” ابن دارہ جو کہ حضرت عثمان ؓ کے غلام ہیں فرماتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بقیع میں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا میں لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں قیامت کے دن محمد ﷺ کس کے ساتھ سفارش کریں گے۔ ابن دارہ کہتے ہیں لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا بتائیے اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے انہوں نے کہا اے اللہ ہر مسلمان بندے کو بخش دے جو تجھے اس حال میں ملے کہ تجھ پر ایمان لاکر اس نے شرک نہ کیا ہو۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِیٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَہِیَ نَاءِلَۃٌ إِنْ شَاء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِی لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہپ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے سارے انبیاء نے اپنی دعاؤں میں جلدی کی اور میں نے اپنی دعا کو آخرت کے لیے اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہے میری دعا ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ رَأٰی رَبَّہٗ فَقَدْ کَذَبَ وَہُوَ یَقُولُ لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَمَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہٗ یَعْلَمُ الْغَیْبَ فَقَدْ کَذَبَ وَہُوَ یَقُولُ لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ إِلَّا اللّٰہُ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جو تمہیں یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو بلاشبہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اس کو آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں “ اور جو کوئی تمہیں یہ کہے کہ آپ ﷺ غیب جانتے ہیں تو وہ بھی جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اللہ کے علاوہ کو غیب نہیں جانتا “۔ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ کسی کو نفع یا نقصان نہیں دے سکتے۔ 2۔ پیغمبر بھی عام لوگوں کی طرح بیمار ہوتے اور مالی نقصان اٹھاتے تھے۔ 3۔ نبی اکرم ﷺ جنت کی خوشخبری اور جہنم سے ڈرانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ نفع و نقصان کے مالک نہیں : 1۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ (الجن : 21 تا 22) 2۔ آپ ﷺ فرما دیں کہ اپنے متعلق بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ (الاعراف : 188) 3۔ اگر مجھے کوئی اللہ کی طرف سے تکلیف پہنچے تو اسے اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ (الانعام : 17) 4۔ آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ (یونس : 49) 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی بیویوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ (التحریم : 10) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا مجھے اللہ کے سامنے کسی قسم کا اختیار نہیں ہے۔ (الممتحنۃ : 4) 7۔ کہہ دیجئے اگر اللہ عیسیٰ ابن مریم اور اس کی والدہ کو ہلاک کرنا چاہے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ (المائدۃ : 17)
Ayahs 7:189–193

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

” وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت سے صحبت کی تو اس نے ہلکا ساحمل اٹھالیا اور اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی جو ان کا رب ہے کہ اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ “ (189)

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

” پھر جب اس نے انہیں صحت مند بچہ عطا فرمایا تو دونوں نے اس میں جو اس نے انہیں عطا کیا تھا اس کے ساتھ شریک بنالیے پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔ (190)

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ انہیں شریک بناتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (191)

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ “ (192)

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

” اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ آپ کے پیچھے نہیں آئیں گے۔ آپ کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں بلالیں یا آپ چپ رہیں۔ (193)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ مختار کل اور عالم الغیب نہیں۔ مختار کل اور غیب کا علم جاننے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پہلے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید دین کی روح اور اس کی بنیاد ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے قرآن مجید نے کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں سے استدلال کرکے عقیدۂ توحید کو واضح کیا ہے۔ سب سے پہلا توحید کے لیے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ انسان کی تخلیق کے متعلق ہے۔ پہلی وحی میں فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا سورة النساء آیت (1) میں ارشاد ہوا کہ لوگو ! اس رب کی نافرمانی سے بچو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا فرمایا۔ اس سے اس کی بیوی کو جنم دیا اور پھر دونوں سے بیشمار مرد اور عورتیں پیدا فرمائیں۔ وہاں خَلَقَ اور یہاں جَعَلَ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی پیدا کرنا اور بنانا ہے۔ پھر یہاں بیوی کے رشتے کی غرض وغایت بیان فرمائی کہ یہ رشتہ باہمی سکون کا باعث ہے۔ تاکہ باہم سکون حاصل کرتے ہوئے سلسلۂ تخلیق کی بنیاد بن سکے۔ ازدواجی تعلقات کے یہاں دو مقاصد بیان کیے ہیں۔ 1۔ میاں بیوی کے درمیان باہم اطمینان اور سکون کا رشتہ ہونا چاہیے جس کی تفصیل سورة الروم آیت 21 میں یوں بیان کی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے مردوں کی جنس سے ہی ان کی بیویوں کو پیدا کیا تاکہ ان سے سکون حاصل کریں۔ اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی کا جذبہ قائم فرمایا ہے۔ سورۃ البقرۃ آیۃ 187 میں ازدواجی رشتہ کو ایک دوسرے کے لیے لباس قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ازدواجی زندگی میں چار باتیں ہونی چاہیں۔ 1۔ باہم اطمینان اور اعتماد۔ 2۔ باہمی محبت۔ 3۔ ایک دوسرے پر شفقت و مہربانی کرنا۔ 4۔ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرنا۔ یہ وہ چار بنیادی تقاضے ہیں کہ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو گھر کی زندگی پر سکون، امن وامان اور محبت و مہربانی کا گہوارا بن سکتی ہے۔ یہاں تخلیق انسانی کی ابتدائی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے تَغَشّٰہَا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا معنیٰ ڈھانپ لینا ہے جو میاں بیوی کی صحبت اور تعلق کی طرف اشارہ ہے۔ جس کے نتیجہ میں بیوی صاحب امید ہوتی ہے اور اس پر کچھ مہینے ایسے گزرتے ہیں جن میں وہ اپنے معمول کے مطابق زندگی گزارتی ہے لیکن جب مادۂ منویہ خون کے بعد لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں روح پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد عورت محتاط ہونے کے ساتھ اپنے وجود میں دن بدن ایک بوجھ محسوس کرتی ہے امید کے یہ ایام ایسے ہوتے ہیں جن میں میاں بیوی اپنے رب کے حضور مسلسل دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی ! ہمیں خوبصورت اور خوب سیرت بیٹا عنایت فرما۔ ہم تیرے شکر گزار بن کر رہیں گے لیکن جب انھیں صحت مند بیٹا عنایت ہوتا ہے تو پھر اپنے خالق ومالک کے ساتھ دوسروں کو شریک گردانتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ شرک سے مبرا اور ان باتوں سے بلند وبالا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کرتے ہیں۔ مشرک بتوں، فوت شدہ بزرگوں، چاند ستاروں فرشتوں اور جنات کو اللہ تعالیٰ کے کاموں میں شریک ٹھہراتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اور اس کی مخلوق ہیں اور پکارنے والوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ ان پر کوئی افتادآپڑے تو اپنے آپ کو بھی بچا نہیں سکتے لیکن اس کے باوجود مشرک اپنی اولاد میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک سمجھتے ہوئے پیراں دتہ، عبدالرسول، عبدالعزیٰ وغیرہ نام رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنی اولاد کو ساتھ لے کر بتوں اور مزارات کا طواف کرتے اور ان کے لیے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ یہ پہلے زمانے کے لوگ بچہ پیدا ہونے کے موقعہ شرک کرتے تھے آج کل تو مشرک اس حد تک شرک میں آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ شادی کے بعد مزارات کے چکر لگاتے ہوئے صاحب قبر سے اولاد مانگتے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس یعنی آدم سے پیدا کیا ہے۔ 2۔ میاں بیوی کے درمیان سکون اور اطمینان کا رشتہ ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مشرک کے شرک سے مبرا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ صرف اکیلا خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے سوا کوئی مالک اور خالق نہیں : 1۔ مخلوق اللہ کی ہے۔ اللہ کے سوا کسی نے کچھ پیدا کیا ہے تو مجھے دکھاؤ۔ ( لقمان : 11) 2۔ اگر آپ ﷺ ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ ( لقمان : 25) 3۔ یہ تمہارا رب ہے اس کے سوا دوسرا کوئی خالق نہیں۔ (الانعام : 102) 4۔ اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و آسمان میں رزق دیتا ہے ؟ (الفاطر : 2) 5۔ تمہارا اللہ تمہارا رب ہے کیا اس کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے ؟ (غافر : 62) 6۔ ہر چیز اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ (یٰسین : 83)