Ayahs 7:135–136فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اور اس کی قوم جب تمام اخلاقی حدود پامال کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی قوم کفر و شرک تکبر اور تمرد میں آگے ہی بڑھتی جائے تو اس کا وجود انسانی معاشرے میں کینسر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس سے اس علاقے کے رہنے والے ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس پر لعنت بھیجتی ہے اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے مجرم قوم کا صفایا کردیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اب وقت آن پہنچا تھا کہ فرعون اور آل فرعون کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اس قوم کو دریا میں ڈبکیاں اور غوطے دے دے کر ختم کردیا گیا۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتے اور دنیا کی لذات میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کلیتاً غافل اور بےپرواہو چکے تھے۔ جس کے نتیجہ میں انھیں غرقاب کیا گیا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اے میرے رب یہ قوم پر لے درجے کی مجرم ہوچکی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ بس میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر یہاں سے نکل جاؤ لیکن یاد رکھنا مجرم قوم تمہارا تعاقب ضرور کرے گی۔ (الدُّخان، آیت : 22 تا 23)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب رات کی تاریکیوں میں اپنی قوم کو لے کر دریا عبور کرنے کے لیے نکلے تو فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے بھیجے کہ اکٹھے ہوجاؤ۔ ایک چھوٹی سی جماعت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اس طرح انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا جب بنی اسرائیل نے انھیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے موسیٰ ! ہم تو گھیرے جا چکے ہیں۔ سامنے بحر قلزم ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور پیچھے سے دشمن آپہنچا ہے۔ ہم جائیں تو کدھر جائیں ؟ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ انھیں تسلی دیجیے کہ میرا رب دریا کو عبور کرنے کے لیے کوئی راستہ بنائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دریا میں اپنا عصا مارا جس سے بحر قلزم پھٹ گیا اور اس کی لہریں پہاڑوں کی طرح بلند ہو کر اپنی جگہ جم گئیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بحیرۂ قلزم میں اترے تو فرعون بھی اپنے لشکر و سپاہ لے کر ان کے تعاقب میں بحیرۂ قلزم میں اتر ا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” (اور کہلا بھیجا کہ) یہ مٹھی بھر لوگ ہیں جو ہمیں غصہ چڑھا رہے ہیں۔ اور ہم یقیناً ایک مسلح جماعت ہیں۔ ہم فرعونیوں کو نکال لائے ان کے باغات اور چشموں سے اور خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنا دیا۔ چناچہ ایک دن صبح کے وقت فرعونی ان کے تعاقب میں چل پڑے، جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اصحاب موسیٰ چیخے ہم پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ جلد رہنمائی کرے گا۔ چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ چناچہ سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوا۔ ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا اور دوسروں کو غرق کردیا۔ اس میں لوگوں کے لیے عبرت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بہت سے نشان ہیں۔ اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور نہایت مہربان ہے۔ “ (الشعراء، آیت : 54 تا 68)
قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے :
” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر عبور کر وایا اس کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر زیادتی اور ظلم کے ارادے سے چلا یہاں تک کہ وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس اللہ پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل کا رب ہے۔ اور میں اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہوں۔ لیکن اس کے جواب میں فرمایا گیا کیا اب تو ایمان لاتا ہے ؟ جب کہ اس سے پہلے بغاوت اور فساد کرنے والا تھا۔ ہم تیری لاش کو باقی رکھیں گے تاکہ تیرے بعد آنے والے عبرت حاصل کریں۔ اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں۔ “ (یونس آیت 90 تا 92) مفسرین نے تاریخ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ فرعون کے لشکر میں ایک لاکھ گھوڑ سوار اور پندرہ لاکھ پیادے تھے بنی اسرائیل کی تعداد چھوٹے بچوں کے علاوہ چھ لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور یہ واقعہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مصر پہنچنے کے 426 شمسی سال بعد پیش آیا بظاہر اتنی بڑی تعداد پر یقین نہیں تاہم واللہ اعلم۔ (حوالہ قصص الانبیاء امام ابن کثیر )
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون سے بنی اسرائیل پر مظالم کرنے کا انتقام لیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی آیت کو جھٹلانے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوتا ہے۔
Ayah 7:137فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور بنی اسرائیل کا کردار۔
بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے۔ اور مدت دراز تک انھیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا گیا۔ جس سر زمین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس کے مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ نے برکات وثمرات کے خزانے رکھے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا فرمایا کہ انھیں آزادی جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ فرعون اور اس کی قوم جو کچھ کرتی تھی اسے تباہ کردیا گیا۔ ” یَعْرِشُوْنَ “ کا معنی کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے محلات اور انگوروں کے باغات ہیں جن کی بیلیں ٹہنیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ دشمن کا خاتمہ اور آزادی کی نعمت بنی اسرائیل کو اس لیے حاصل ہوئی کہ انھوں نے طویل عرصہ تک صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
صبر بےبسی اور بےکسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت، قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرأت، بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسائل و مصائب کا سامنا کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آخرت میں بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت و دستگیری حاصل ہوگی
مشکلات زندگی کا حصہ ہیں ان سے نکلنے کے لیے روحانی اور الہامی طریقے اختیار کرنے کے ساتھ مادی وسائل اپنانے کا حکم ہے مگر جب تک پوری دلجمعی اور صبر و استقلال کے ساتھ اسباب کو استعمال اور ان کے اثرات و نتائج کا انتظار نہ کیا جائے اس وقت تک مشکلات سے نکلنا ناممکن ہے۔ شریعت نے صبر و استقامت کو مشکلات سے نجات پانے کا اولین درجہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ جب تک آدمی مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے اسباب کو مستقل مزاجی اور حوصلے کے ساتھ اختیار نہیں کرے گا تو نہ صرف اس کی جسمانی اور روحانی تکلیف میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ اپنی جذباتیت اور عجلت پسندی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں بہتر نتائج سے محروم رہے گا جو صبر و استقامت کے سبب اس کو حاصل ہونے والے تھے۔
(عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔ وَالصَّبْرُ ضِیَاءٌ )
[ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء ]
” حضرت ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔۔ صبر روشنی ہے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْہَبْتُ کَرِیمَتَیْہِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ کَانَ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃَ )[ رواہ احمد ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ جس کی دو محبوب چیزیں (دو آنکھیں) میں لے لوں تو پھر وہ صبر کرے اور مغفرت کی امید رکھے تو اس کا بدلہ جنت ہوگا۔ “
مسائل
1۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے۔
2۔ صبر و استقامت کے مقابلہ میں ظالم کا ظلم بالآخر ناکام ہوجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی فضیلت :
1۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 152)
2۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : 152)
3۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10)
4۔ بیشک جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کا ثبوت دیا انھیں کوئی خوف اور حزن وملال نہیں۔ (الاحقاف : 13)
Ayahs 7:138–141فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ٓزادی حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کا پہلا جرم۔
بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے ایسے علاقے میں پہنچے جہاں کے لوگ بت اور قبر پرست تھے۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اسے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود مقرر کیا جائے جس طرح ان لوگوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم انتہائی جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ انھوں نے بنا رکھا ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے اور یہ سب کا سب تباہ ہوجائے گا۔ کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمہارا معبود ٹھہراؤں حالانکہ اس نے پوری دنیا پر تمہیں فضیلت و عظمت عطا کی ہے اور ابھی تو چند دنوں کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آل فرعون کے مظالم سے نجات دی جو تمہارے بیٹوں کو تہہ تیغ کرتے تھے اور تمہاری بچیوں اور بیویوں کو اپنے لیے رہنے دیتے تھے یہ تم پر بڑی کربناک آزمائش تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی توحید پر جمے رہتے لیکن اس کے برعکس تم بت پرستی کا مطالبہ کر رہے ہو۔ بنی اسرائیل نسل در نسل غلام رہنے اور مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اس قدر ضعیف الاعتقاد اور متلون مزاج ہوچکے تھے کہ جونہی انھوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ پتھروں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کر رہی ہے تو انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ ہمارے لیے بھی ایسے بت بنا دیں۔ ناہنجار قوم سب کچھ بھول گئی۔ کہ ہماری بےبسی اور کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں ظالموں سے نہ صرف نجات عطا فرمائی بلکہ ہمارے سامنے ہمارا دشمن ڈبکیاں لے لے کر دہائی دیتے ہوئے ذلیل ہو کر مار دیا گیا۔ اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں ہماری فضیلت و عظمت اور بزرگی کی دھاک بٹھا دی ہے۔
یاد رہے شرک بذات خود ہر قسم کی جہالت اور برائی کا سرچشمہ اور منبع ہے لیکن اس قوم کی جہالت کی کوئی حد نہیں ہوتی جو اپنے نبی سے شرک کرنے کی نہ صرف اجازت طلب کرتی ہو بلکہ اس سے مطالبہ کرے کہ ہمارے لیے ایسا ہی بت خانہ بنایا جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں جاہل قرار دیتے ہوئے متنبہ فرمایا کہ شرک پر لے درجے کی جہالت ہے۔ مشرک جو کچھ کرتے اور بناتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ سب کا سب باطل ہے اور باطل قائم رہنے کے بجائے بہت جلد تباہی کے گھاٹ اترجاتا ہے۔
(عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ زَاءِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْہَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ )
[ رواہ النسائی : کتاب الجنائز، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے قبروں پر جانے والی خواتین اور ان پر مساجد بنانے والوں اور ان پر چراغ روشن کرنے والوں پر لعنت کی ہے “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ فِیْ مَرَضِہِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَاءِہِمْ مَسْجِدًا)[ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبر نبی ]
” حضرت عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتی ہیں آپ ﷺ نے اپنی اس مرض میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت فرمائے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ “
(عَنْ اَبِی مَرْثَدَنِ الْغَنَوِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَجْلِسُوْا عَلٰی الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا اِلَیْہَا) [ مسلم ]
ٗٗ ” حضرت ابو مرثد غنوی ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “
مسائل
1۔ بتوں اور مزارات کے سامنے چلہ کشی کرنا شرک ہے۔
2۔ شرک پرلے درجے کی جہالت ہے۔
3۔ شرک کی دین میں کوئی حقیقت نہیں۔
تفسیر بالقرآن
الٰہ صرف ایک ہی ہے :
1۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (البقرۃ : 163)
2۔ ا لٰہ ٰ تمہارا ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22)
3۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : 110)
4۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98)
5۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء : 108)
6۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 24)
7۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے لیے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46)
8۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140)
Ayah 7:142فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے آزاد ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی شکل میں مفصل ہدایات دیں تاکہ وہ اپنی قوم کی تربیت کرسکیں۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آزادی عنایت فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا کہ انھیں مفصل کتاب دی جائے۔ تاکہ بنی اسرائیل کو شام و فلسطین کا اقتدار ملنے سے پہلے ان کی تربیت کرسکیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر یہ لوگ اپنے آپ کو قیادت کے اہل ثابت کریں۔
چنانچہ حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! آپ تیس دن تک کوہ طور پر اعتکاف کریں۔ جس کو بعد میں چالیس دن کردیا گیا۔ یہ اعتکاف آزادی کا شکریہ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور کتاب کی دستیابی کے لیے روحانی بلندی کا ارتقا بھی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) میں روحانی صلاحیت پیدا ہو سکے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور وحی الٰہی کا بار اٹھانے کے لیے ضروری تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جاتے ہوئے اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) جو عمر میں تین سال بڑے تھے مگر ان کے نائب نبی تھے کو یہ ہدایات دے کر رخصت ہوتے ہیں کہ میری غیر حاضری میں میرا قائم مقام ہوتے ہوئے قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔ اور اگر قوم برائی کا راستہ اختیار کرے تو ان کی اتباع ہرگز نہ کریں۔ اس سے ثابت ہوا کہ قوم کا حقیقی مصلح وہ ہوتا ہے جو قومی رسم و رواج کے پیچھے لگنے کے بجائے قوم کی اصلاح کرکے انھیں سیدھے راستے پر چلائے۔ ایسے مصلح کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے نیک کاموں کے ساتھ اس کی تحریک پر نیکی کرنے والوں کے اجر کا بدلہ بھی اسے دیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کی مدت پوری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات عنایت فرمائی اور اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا۔
( عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ إِنِّی أُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِی فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللّٰہِ أَنَا أَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ ) [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی ]
” حضرت ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا میرے پاس سواری نہیں ہے مجھے سواری عنایت کیجیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے پاس بھی نہیں ہے۔ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں اس کو اس شخص کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو اسے سواری دے سکے۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی کی بھلائی کی طرف رہنمائی کی تو اسے بھی وہ نیکی کرنے والے کی طرح ہی اجر دیا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف فرمایا۔
2۔ حضرت ہارون جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ، نبی اور ان کے بھائی تھے۔
3۔ آدمی کو مفسدین کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
مفسد اور گمراہ لوگوں کے طریقہ سے اجتناب کا حکم :
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ فساد کرنے والوں کی راہ سے اجتناب کرنا۔ (الاعراف : 142)
2۔ اگر تم پھر جاؤ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ (آل عمران : 63)
3۔ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : 64)
4۔ اللہ فساد کرنے والوں کے کام نہیں سنوارتا۔ (یونس : 81)
5۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا زمین میں فساد کا باعث نہ بنو۔ (الاعراف : 85)
6۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس کے بگاڑ کا سبب نہ بنو اور اللہ تعالیٰ کو خوف طمع سے پکارو۔ (الاعراف : 56)
Ayahs 7:143–144فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور ذات اقدس کے دیدار کا مطالبہ۔
حسب وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس راتوں سے مراد تمام مفسرین نے دن اور راتیں مراد لی ہیں کیونکہ شریعت میں قمری مہینوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جس کی ابتداء چاند کے نمودار ہونے سے ہوتی ہے اس لیے شریعت کی تمام عبادات کا حساب طلوع چاند سے لگایا جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی غرض سے کوہ طور پر پہنچے اور انھوں نے چالیس راتیں مکمل کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی ہم کلامی کا اعزازبخشا جس کی نوعیت اور کیفیت کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کا رب ہی جانتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کا کیا انداز اور کونسا طریقہ اختیار فرمایا تھا تاہم قرآن مجید صرف یہ وضاحت کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرط محبت میں آکر اپنے رب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میرے رب میں تیری زیارت کا طلب گار ہوں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے شب و روز کا ایک ایک لمحہ اسی تڑپ اور طلب میں گزر رہا تھا کہ کب اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ہم کلامی کا شرف عنایت فرماتا ہے جوں ہی ان لمحات کا آغاز ہوا جس سے کوہ طور اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات سے بقعہ نور بنا۔ رب کریم کے کلام کی مٹھاس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےخود ہوگئے۔ اور اسی بےخودی کے عالم میں انھوں نے اپنے رب کے حضور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میرے رب میں تجھے دیکھے بغیر نہیں رہسکتا۔ مجھے اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فقط اتنا فرمایا کہ اے موسیٰ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر یہ پہاڑ میرے جمال و جلال کو برداشت کرسکا تو تو بھی میرا دیدار کرسکے گا۔ جوں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا پر تو پہاڑ پر ڈالا تو ٹنوں وزنی پہاڑ کا یہ حصہ ایک لمحہ میں ریت کے ذرّات میں تبدیل ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر نیچے گرپڑے۔ جب انھیں ہوش آیا تو فوراً پکار اٹھے میرے رب تیری ذات کبریا لامحدود اور اتنی پر جلال اور صاحب جمال ہے کہ کسی آنکھ کے احاطۂ نظر میں نہیں آسکتی۔ اس لیے میں اس مطالبہ پر تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب لوگوں سے پہلے اس پر ایمان لاتا ہوں کہ تیرا فرمان سچا ہے۔ واقعی کوئی آنکھ تیرے دیدار کی سکت نہیں رکھتی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے حکم پر کوہ طور پر گئے اور رب کبریا کی زیارت نہ کرسکے تو دوسرا کون ہوتا ہے کہ جو دعویٰ کرے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ اور نہ ہی ایسا اعتقاد رکھنا چاہیے کہ فلاں بزرگ نے حالت بیداری یا خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کسی کو خواب میں اپنے جمال کی کسی جھلک سے سرفراز فرما دے تو یہ ممکن ہے۔ لیکن اسے اشتہار اور مشہوری کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔
مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے۔ رب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔
اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ رہو گے اور مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سرکشی اور بغاوت کی حدود پھلانگتے ہوئے کہا تھا۔
(وَلاَ تَجِدُاَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) [ الاعراف : 17۔ پ 8]
” اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ “
اکثر انسان خوف اور طمع کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرتے ہیں ؟ رب کریم نے انسان کی حاجات و ضروریات اور اس کی کمزوری کی وجہ سے اس انداز کو بھی نہ صرف عبادت میں شمار فرمایا بلکہ اس طرح مانگنے کا حکم دیا ہے ایسے لوگوں کو محسنین قرار دے کر اپنی رحمت و دستگیری کا یقین دلایا ہے۔ مگر جو لطف اور لذت اظہار تشکر کے جذبات میں پائی جاتی ہے وہ خوف اور طمع کی عبادت میں نہیں ہوتی۔ اسی طرح غم اور خوف کے آنسو اپنی جگہ سمندروں اور دریاؤں کے پانی سے زیادہ وزنی ہیں۔ کیونکہ سرور دو عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے خوف سے گرنے والا آنسو کا ایک قطرہ زندگی بھر کے انسان کے غلیظ ترین دامن کو دھونے کے لیے کافی ہے۔ ابھی وہ قطرہ انسان کی پلکوں سے ڈھلک کر اس کے رخسار پہ نہیں گرتا کہ غفور و رحیم مالک اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے لیکن شکر کے آنسو بندۂ مومن میں عجب جذبۂ اطاعت و عبادت پیدا کرتا ہے۔
یہی تصور اور کیفیت رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان میں پائی جاتی ہے کہ جب تہجد کی نماز میں سسکیاں لیتے ہوئے آپ طویل قیام کرتے، آپ کے مبارک قدموں پر ورم پڑجاتے تو مسلمانوں کی والدہ ماجدہ، آپ کی زوجہ سیدہ عائشہ ؓ از راہ ہمدردی عرض کرتیں کہ میرے آقا ! آپ اس قدر کیوں روتے اور مشقت اٹھاتے ہیں ؟ جبکہ بارگاہ ایزدی سے آپ کی سب کمزوریوں کو معاف کردیا گیا ہے آپ نے شکر سے لبریز کلمات کا اس طرح اظہار فرمایا :
(أَفَلاَ أَکُوْنُ عَبْدًا شُکُوْرًا۔ ) [ مشکوٰۃ، باب التحریض علی قیام الیل ]
” کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا۔ 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے جلوہ کی تاب نہ لا کر بےہوش ہو کر گرپڑے
3۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی فضیلت :
1۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجائیے۔ (الزمر : 66)
2۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (سورۂ لقمان : 14)
3۔ اگر تم شکر کا رویہ اپناؤ گے تو ہر صورت مزید عنایات پاؤ گے۔ (ابراہیم : 7)
4۔ اللہ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ، اگر تم شکر اور تسلیمات کا انداز اختیار کرو۔ وہ اللہ تو نہایت ہی قدر افزائی کرنے والا ہے۔ (النساء : 147)
5۔ بندوں میں بہت کم شکر ادا کرنے والے ہیں۔ (سبا : 13)
Ayah 7:145فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے منصب پر تو پہلے ہی فائز کردیا تھا اپنی ہم کلامی کا شرف بخشتے ہوئے تختیوں کی شکل میں تورات عطا فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے نصیحت اور دین کی متعلقہ تفصیلات درج تھیں۔
قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تحریر کی شکل میں تورات عطا کی تھی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بنی اسرائیل اہم اور حساس معاملات میں بھی ظاہر پرست واقع ہوئے تھے۔ جس کی بنا پر انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر اس پر اتنا اصرار کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے اپنی قوم کے ستر نمائندے ساتھ لے گئے جنھیں اللہ تعالیٰ نے فوت کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا پر دوبارہ زندہ کیا۔ تفصیل کے لیے اسی سورة کی آیت 155 کی تلاوت کریں۔ پھر یہ بھی ان کی ظاہر پرستی کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف چالیس دن کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ ممکن ہے کہ اسی ظاہر پرستی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تحریری طور پر تورات نازل فرمائی تاکہ تورات کی لکھی ہوئی تختیاں دیکھ کر یہ ایمان لے آئیں۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے ان تختیوں میں ان کی رہنمائی کے لیے ہر مسئلہ لکھ دیا تھا۔ ظاہر ہے تورات کی تحریر کوئی عام تحریر اور اس کی تختیاں کسی انسان کی بنائی ہوئی نہ تھیں نہ معلوم ان تختیوں کے اندر کتنی جاذبیت، کشش اور نورانیت ہوگی۔ اس کی تحریر کتنی خوش نما اور خوبصورت اور دیکھنے والے کو اس تحریر اور تختیوں سے کتناسکون ملتا ہوگا۔ پھر اس میں دین کے متعلق تمام مسائل کا اتنے مؤثر انداز سے احاطہ کیا گیا تھا جس کی نظیر اس سے پہلے دنیا میں نہیں پائی جاتی تھی۔” موعظۃ “ ایسی بات اور انداز کو کہتے ہیں جو انسان کے دل پر براہ راست دستک دے۔ اتنے اوصاف حمیدہ کی حامل کتاب کے بارے میں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ بھی اخلاص کے ساتھ نہایت اچھے طریقے سے اس کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تھام رکھیں یعنی پوری طرح اس پر عمل کرتے رہیں۔ یہی کتاب الٰہی کا سب سے بڑا ادب اور اس کا تقاضا ہے۔ جس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سر زمین کا وارث بنائے گا جس پر فاسق وفاجر لوگ قابض ہوچکے ہیں۔ اس سے مراد اکثر مفسرین نے شام اور فلسطین کی سرزمین لی ہے جو اس وقت ایک ہی ملک شمار ہوتا تھا لیکن کچھ مفسرین نے شام اور فلسطین کے ساتھ مصر کا علاقہ بھی شامل کیا ہے فرعون اور ان کے بڑے بڑے لوگ غرق ہوجانے کے باوجود مصر کے لوگ اس زمانے میں سب سے زیادہ عیاش اور فسق و فجور میں مبتلا تھے۔” دَارُ الْفٰسِقِیْنَ “ سے مراد جہنم کا گھر بھی ہوسکتا ہے۔ جس میں فاسقین کا جانا یقینی ہے۔ اور مومنوں کو جہنم میں جہنمیوں کا انجام بھی دکھلایا جائے گا۔ تفصیل کے لیے سورة المدثر کی 40 تا 47 آیات تلاوت کریں۔
(عن عمر ؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِینَ )
[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقران ]
” حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ساتھ اقوام کو بلند کرے گا اور دوسروں کو پست کردے گا۔ “
(أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ تَرَکْتُ فیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا کِتَاب اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہٖ )
[ موطا امام مالک : کتاب الجامع، باب النھی عن القول بالقدر ]
” بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑچلا ہوں جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوسکو گے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے تورات تختیوں پر تحریر کی صورت میں نازل فرمائی۔
2۔ تورات میں ہر چیز کی وضاحت موجود تھی۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل نہ کرنے والے فاسق ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کتاب اللہ سے تمسک کا حکم :
1۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ (آل عمران : 103)
2۔ آپ اسے مضبوطی سے تھام لیں جو آپ کو وحی کی گئی ہے۔ (الزخرف : 43)
3۔ وہ لوگ جو کتاب کو مضبو طی سے تھامتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ایسے نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کیا جاتا۔
(الاعراف : 170)
Ayahs 7:146–147فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ تورات کو اچھی طرح پکڑے رکھیں مگر انھوں نے اس حکم کی پرواہ نہ کی جس کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسان کی دنیا وآخرت کی بہتری کے لیے بڑے ہی مؤثر اور دل نشین انداز میں ہدایات فرمائی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور اس کی خیر خواہانہ رہنمائی کو اپنی رعونت اور تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے۔ اس کی دنیا میں یہ سزا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہدایت کو دور کردیتا ہے ایسے شخص یا قوم کے پاس کوئی بھی نشانی اور معجزہ آئے تو وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر انھیں ہدایت کے راستہ کی طرف بلایا جائے تو وہ اس پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ ان کا مزاج اس قدر بگڑ جاتا ہے کہ وہ ہر برائی اور گمراہی کے راستہ پر چلنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی رعونت اور تکبر کے سبب اللہ تعالیٰ کے احکام کو جھٹلاتے ہوئے تغافل کرتے ہیں۔ جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام جھٹلائیں اور آخرت کی جواب دہی کا انکار کریں ان کے سب کے سب اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو جھٹلاتے اور آخرت کی جواب دہی کے منکر تھے۔ یہاں متکبرین کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم انھیں اپنی آیات سے پھیر دیتے ہیں یہ مضمون مختلف الفاظ میں پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ اللہ ہی ہدایت دینے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا جب مجرم ہدایت کو اپنی رعونت کی وجہ سے قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی ہدایت کیوں مسلط کرے گا۔ یہاں آیات سے پھیر دینے کا یہی مطلب لینا چاہیے۔ جہاں تک آخرت میں متکبرین اور مکذبین کو دنیا کی کسی نیکی کے صلہ سے محروم رکھنے کا تعلق ہے وہ اس لیے ہے کہ ایسا شخص اگر کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو محض اپنی طبیعت کے سکون اور دنیا کی ناموری اور فائدے کے لیے کرتا ہے۔ اسے اچھی شہرت اور کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں اس کا صلہ مل جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس لیے اس کی نیکی کا آخرت میں بدلہ نہیں دیا جائے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیءَتِی یَوْمَ الدِّینِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول مکرم ﷺ سے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ابن جدعان جاہلیت کے زمانے میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا۔ تو کیا قیامت کے دن اسے یہ چیز فائدہ دے گی نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے کبھی یہ بات نہیں کہی تھی اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمانا۔ “ یعنی وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا تھا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب متکبر لوگ کرتے ہیں۔
2۔ کافر ہدایت کی بجائے گمراہی کے راستے پر چلتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کن لوگوں کے اعمال ضائع ہونگے :
1۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کے اعمال ضائع ہوجا تے ہیں۔ (الاعراف : 147)
2۔ مشرکین کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ (التوبۃ : 17)
3۔ ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرنے والوں کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔ (المائدۃ : 5)
4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کے اعمال برباد کردئیے جاتے ہیں۔ (محمد : 33)
5۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے اعمال غارت کر دئیے جائیں گے۔ (آل عمران : 21۔ 22)
Ayahs 7:148–149فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد بنی اسرائیل کا مشرکانہ کردار۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے چالیس دنوں کے لیے کوہ طور پر معتکف ہوئے ان کی غیر حاضری میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص جس کا نام سامری تھا۔ اس نے بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنایا۔ پھر اس میں مٹی ڈالی جس مٹی کے بارے میں سورة طٰہٰ آیت 96 میں بیان ہوا ہے کہ یہ مٹی اس نے اس وقت اٹھائی تھی جب بحر قلزم میں فرعون نے ڈبکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے مٹی اٹھا کر اس کے منہ پر ماری تھی۔ سامری نے دیکھا کہ جس گھوڑے پر جبریل امین (علیہ السلام) انسانی شکل میں سوار ہیں اس کے سم جہاں پڑتے ہیں۔ گھاس ہری ہوجاتی ہے۔ اس نے اس مٹی کو اٹھا لیا۔ کچھ حضرات نے لکھا ہے کہ اثر رسول سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن مجید نے سامری کی اس بات کی تردید یا تائید نہیں کی جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہی میں نے یہ مٹی فلاں موقع پر اٹھائی تھی۔ اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس مٹی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ قرار دیا تاکہ وہ سزا سے بچ جائے۔ بہر کیف الرسول سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا جبرائیل امین (علیہ السلام) سامری نے شیطانی تکنیک سے ایک ایسا بچھڑا بنایا کہ جس کے منہ سے مختلف قسم کی آوازیں نکلتی تھیں۔ بچھڑے کو سمجھنے کے لیے آج کے دور کے کھلونے اور ربوٹ دیکھنے چاہییں کہ جو ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کے ذی روح ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کی ظاہر پرستی اور مشرکانہ جبلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری انھیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس رب کے حکم سے کوہ طور پر گئے ہیں وہ ہمارے پاس خود آن پہنچا ہے۔
بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے بچھڑے کو معبود سمجھ کر اس کی تکریم اور عبادت شروع کردی جس طرح کہ مشرک لوگ بتوں اور قبروں کی عبادت کرتے ہیں۔ ایک احترام کے طور پر اس کے سامنے کھڑا ہے اور دوسرا اس بچھڑے کے سامنے رکوع کر رہا ہے۔ کوئی اس کے سامنے ہاتھ جوڑے ہوئے اپنی حاجات پیش کرتا اور کوئی اس کے حضور سجدہ اور نیاز پیش کر رہا ہے انھوں نے یہ دیکھنے اور سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ یہ تو ہمارے ہی زیورات سے بنایا ہوا ایک مجسمہ ہے جو نہ خودبات کرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری فریاد کا جواب دیتا ہے۔ اسے اپنے قدموں پہ چلنے کی طاقت نہیں اور نہ ہی اسے شعور اور اس کے وجود میں کوئی حرکت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ مشکل کشا حاجت روا کس طرح ہوسکتا ہے اور ہماری رہنمائی کیونکر کرسکتا ہے مشرکانہ عقیدہ کا یہی اندھاپن ہے کہ لوگ اس عقیدہ کو سوچے سمجھے بغیر محض بھیڑ چال کے طور پر قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے مشرکانہ عقیدہ اور کردار ایسا ظلم ہے جس کے مقابلے میں تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ ظلم نام ہے کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کا یہی کچھ مشرک کرتا اور سوچتا ہے کہ جو تکریم اور عبادت کے آداب صرف اور صرف ایک اللہ کے لیے ہونے چاہییں مشرک قبروں، بتوں اور دیگر چیزوں میں تصور کرتا ہے۔
یہاں الوہیت کی صرف دو صفات کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو یہ فرما کر گئے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کرنے اور مستقبل کے لیے ہدایات لینے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس لیے اس قوم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے ساتھ ہمارے لیے مزید ہدایات لائیں گے۔ جس بچھڑے کو انھوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ اس میں باقی صفات تو چھوڑ یے یہ دو بھی نہیں پائی جاتی تھیں۔ پھر اس کو معبود بنانے کا ان کے پاس کیا جواز تھا۔
(قَالَ فَاذْہَبْ فَإِنَّ لَکَ فِی الْحَیَاۃِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَہٗ وَانْظُرْ إِلٰی إِلٰہِکَ الَّذِی ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا۔إِنَّمَآ إِلٰہُکُمُ اللّٰہُ الَّذِی لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَ نْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ آَتَیْنَاکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا)[ طٰہٰ : 97 تا 99]
” موسیٰ نے کہا : جاؤ تمہارے لیے زندگی بھر یہ (سزا) ہے کہ (دوسروں سے) کہتے رہو کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے عذاب کا ایک وقت ہے جو تجھ سے کبھی نہیں ٹل سکتا اور اپنے الٰہ کی طرف دیکھ، جس کے آگے تو معتکف رہتا تھا کہ ہم کیسے اسے جلا ڈالتے ہیں پھر اس کی راکھ کو کیسے دریا میں بکھیر دیتے ہیں۔ تمہارا الٰہ تو صرف وہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اے نبی ! اسی طرح ہم گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں تجھ سے بیان کرتے ہیں نیز ہم نے اپنے ہاں سے تجھے قرآن عطا کیا ہے۔ “
قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے بچھڑے پر ٹوٹ پڑے تھے انھیں موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے سے پہلے احساس ہوگیا کہ ہم سے گناہ ہوا ہے۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ لیکن قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ انھیں دنیا میں ذلیل کردینے والی سزا دی گئی۔ جو یہ تھی کہ تم اپنے ہاتھوں ایک دوسرے کو قتل کرو۔” اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے آپ پر ظلم کیا ہے لہٰذا اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو۔ تمہارے رب کے ہاں یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پھر اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی وہ توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (البقرۃ : 54)
مسائل
1۔ مشرک جن کی عبادت کرتے ہیں وہ نہ ان سے کلام کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔
2۔ شرک کرنا اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
3۔ کفر و شرک کی حالت میں مرنے والا شخص قیامت کے دن بڑا نقصان پائے گا۔
تفسیر بالقرآن
خسارہ پانے والے لوگ :
1۔ ( حضرت آدم اور حضرت حوانے کہا) اے اللہ اگر تو نے معاف نہ کیا اور رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والے ہوں گے۔ (الاعراف : 23)
2۔ دنیا اور آخرت کا خسارہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ (الحج : 11)
3۔ جس کا نیکی والا پلڑا ہلکا ہوا خسارہ پائے گا۔ (الاعراف : 9)
4۔ جنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہ خسارہ پائیں گے۔ (الزمر : 63)
5۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم خسارہ پانے والے ہوجا تے۔ (البقرۃ : 64)
6۔ جن کے اعمال برباد ہوگئے وہ خسارہ پائیں گے۔ (المائدۃ : 5)
7۔ ارکان اسلام کو چھوڑنے والے آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (النمل : 5)
8۔ اسلام سے رو گردانی کرنے والے دنیاء و آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (آل عمران : 85)
Ayahs 7:150–151فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر مطلع فرمایا کہ تیری قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے۔
ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی مدت اعتکاف پوری ہوئی اور انھیں تورات عنایت فرما دی گئی۔ اُدھر ان کی قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ جس کی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اطلاع دی کہ ” اے موسیٰ ٰتمہارے یہاں آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کی آزمائش کی اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔ “ (طٰہٰ ، آیت : 84)
اب موسیٰ (علیہ السلام) غم و غصہ کی حالت میں قوم کی طرف واپس پلٹے اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو فرمایا کہ تم نے میری جانشینی کا حق ادا نہیں کیا تم برے جانشین ثابت ہوئے ہو۔ پھر بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرمایا اے لوگو ! تم نے اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کا مظاہرہ کیا پھر تورات کی تختیاں ایک طرف پھینک دیں غم و غصہ کی حالت میں اپنے بھائی کے سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے جس کے جواب میں حضرت ہارون (علیہ السلام) نے نہایت عاجزانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے مادر زاد بھائی میری قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے جان سے مار دیتی آپ ترس کھائیں اور مجھ پر دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دیں اور نہ ہی مجھے ظالموں کا ساتھی سمجھیں۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات ٹھنڈے ہوئے اور انھوں نے اس حرکت پر نہ صرف اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی بلکہ اپنے بھائی کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی کہ اے میرے رب ہمیں معاف فرما کر اپنی رحمت کے دامن میں لے لیجیے۔ تو سب سے بڑا مہربان ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غیرت توحید میں آکر حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ہاتھ اٹھایا جس پر انھوں نے اپنے رب کے حضور معافی مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں مظلوم تھے پھر ان کے لیے جناب موسیٰ نے کیوں ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔
اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) قوم کے مقابلے میں کمزور واقع ہوئے اور قوم ان کے سامنے شرک میں مبتلا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی خطا پر معافی مانگنے کے ساتھ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اس کمزوری پر بھی اللہ سے معافی طلب کی کیونکہ انسان سے گناہ دانستہ طور پر سرزد ہو یا غیر دانستہ طور پر اسے بہرحال اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے۔ یہی قرآن مجید اور سنت سے ثابت ہے کہ انسان کو بھول چوک اور دانستہ کیے ہوئے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لیے معافی مانگنے کی وجہ ان کی دل جوئی بھی ہوسکتی ہے تاکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو یقین ہوجائے کہ بھائی مجھ پر دلی طور پر راضی ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰٰٰٗ ( علیہ السلام) مرتبہ کے لحاظ سے بڑے تھے۔ بزرگ دعا مانگتے ہیں اور چھوٹے آمین کہتے ہیں۔
تختیوں کے بارے میں بعض مفسرین نے بنی اسرائیل کی من گھڑت روایات کی بنیاد پر یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سات میں سے چھ ٹوٹ گئیں جن میں دین کے متعلق مکمل تفصیلات تھیں انھیں آسمان پر اٹھا لیا گیا اور باقی جو بچی تھیں اس میں صرف عبادات کے مسائل تھے۔
اللہ تعالیٰ سے بھول چوک کی بھی معافی مانگنا چاہیے :
( رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِینَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ) [ البقرۃ : 286]
” اے ہمارے رب اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو اس پر گرفت نہ کرنا اے ہمارے رب ہم پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب جس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ ڈال ہم سے در گزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولا ہے لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ “
(عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِیِّ ؓ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ ؓ عَمَّا کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَدْعُو بِہِ اللّٰہَ قَالَتْ کَانَ یَقُول اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء ]
” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی ؓ فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے رسول معظم ﷺ کی دعائیں جو وہ اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے ان کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں نے جو عمل کیا اور جو نہیں کیا اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم گمراہ ہونے پر اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غیرت توحید میں آکر اپنے بھائی کے سرکے بال کھینچے۔
3۔ اپنے اور مسلمان بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگنا چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظالموں کا ساتھی نہیں بننا چاہیے :
1۔ اے رب ہمارے ہمیں ظالم قوم سے بچا ئیو۔ (الاعراف : 47)
2۔ اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچائیو۔ (المومنون : 94)
3۔ اے اللہ ہمیں ظالم قوم سے بچائیو۔ (یونس : 85)
4۔ اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ (تحریم : 11)
Ayahs 7:152–153فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ان کی سزا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب استغفار سے فارغ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مشرکین کی سزا کا یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ہے ان کی سزا یہ ہے کہ ان کے قریبی عزیز ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اس کی تفصیل ” سورة البقرہ “ کی آیت 54 میں بیان ہوچکی ہے۔ ان پر دنیا میں اللہ کا یہ غضب ہوا کہ اپنے ہی اعزاء و اقرباء کے ہاتھوں مارے گئے۔ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں انھیں ایسی ہی سزا ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے دین اور ثواب کا جھانسہ دے کر ایک دوسرے کو گمراہ کیا تھا۔ اس مقام پر امام رازی ؓ نے امام مالک بن انس (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنی طرف سے کوئی مسئلہ گھڑتا ہے یا شریعت سازی کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتا ہے۔ یہاں اس سزا کے مستحق جو لوگ بیان کیے گئے ہیں دو قسم کے ہیں۔
1۔ جو موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی سے پہلے فوت ہوگئے انھیں قیامت کو سزا ملے گی۔
2۔ جو زندہ تھے انھیں دنیا میں ہی موحّدین کے ہاتھوں سزا دلوا کر معاف کردیا گیا۔
مشرکین کی سزا بیان کرنے کے بعد توبہ کے لیے عام اصول بیان کیا جا رہا ہے کہ بیشک شرک جیسا عظیم گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ جو سچے دل کے ساتھ توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیں ان کے گناہ معاف کردیے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔
(عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِےْنَ ےَتُوْبُ اِلَےْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَتْ رَاحِلَتُہُ بِاَرْضِ فُلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَےْھَا طَعَامُہُ وَشَرَابُہُ فَاَےِسَ مِنْھَا فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّھَا قَدْ اَےِسَ مِنْ رَّاحِلَتِہٖ فَبَےْنَمَا ھُوَ کَذَالِکَ اِذْ ہُوَ بِھَا قَآءِمَۃٌ عِنْدَہُ فَاَخَذَ بِخِطَامِھَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ اللّٰھُمَّ اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ۔ )[ مسلم ]
” حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی اللہ کا بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کرنے سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری اس کے کھانے پینے کے سامان کے ساتھ کسی بےآب وگیاہ میدان میں گم ہوگئی ہو۔ وہ اس کی تلاش سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ جائے۔ مایوسی کے بعد اچانک اس سواری کو اپنے سامنے کھڑا پائے۔ اس کی لگام تھامتے ہوئے اور انتہائی خوشی سے پکار اٹھے۔ اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں۔ اس بےپناہ خوشی کی وجہ سے بےساختہ اتنی بری بات کہہ دیتا ہے۔ “
مسائل
1۔ مشرک پر اللہ کا غضب ہوتا ہے اور وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے۔
2۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔
3۔ توبہ کرنے والے کے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ بڑا مہربان، رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مفتری اور اس کی سزا :
1۔ وہ بہت بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ (الانعام : 21)
2۔ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ (طٰہٰ : 61)
3۔ وہ بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے۔ (الانعام : 145)
4۔ وہ بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا نبوت کا دعویٰ کیا۔ (الانعام : 93)
5۔ وہ بہت بڑا ظالم ہے کہ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ (الکہف : 15)
6۔ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (ھود : 18)
7۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (التوبۃ : 109)
8۔ اللہ ضرور ظالموں کو ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : 13)