Ayahs 7:65–72فہم القرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) :
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔
اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔
قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم :
1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69)
2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 )
3۔ انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : 133)
4۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133)
5۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے۔ (الاعراف : 70)
6۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : 33)
7۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : 37)
یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : 15)
حضرت ھود (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات :
1۔ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچتے رہو۔ میں تمہارا خیر خواہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام پوری امانت داری سے پہنچارہا ہوں۔ سورة ھود میں ان کے خطاب کے اقتباسات یوں ذکر کیے گئے ہیں۔
2۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پوری خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو وہ تمہیں مزید طاقت ور اور مال دار بنائے گا۔ ہاں یاد رکھو تمہاری اصلاح اور فلاح پر میں تم سے کسی صلہ اور اجر کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ (ھود 50 تا 52)
قوم کا رد عمل اور حضرت ھود (علیہ السلام) پر الزامات :
1۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بیوقوف قرار دیا۔ (الاعراف : 66)
2۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : 33)
3۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (المؤمنون : 38)
4۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : 137)
5۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : 136)
6۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود : 54)
7۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : 138 تا 139)
8۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : 22)
حضرت ھود (علیہ السلام) کا قوم کو بار بار سمجھانا :
1۔ جھوٹے معبودوں اور خود ساختہ ناموں کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو۔ (الاعراف : 71)
2۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (الاعراف : 71)
3۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ (ھود : 57)
4۔ میرا اللہ پر بھروسہ ہے اس کے قبضہ میں ہر جاندار کی پیشانی ہے۔ (ھود : 56)
5۔ گواہ رہو میں شرک سے بیزار ہوں تم سب مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ھود : 54 تا 55)
حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب :
1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : 39)
2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7) (الشعراء : 20)
3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24)
4۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7)
5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41، 42)
6۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : 16، ھود : 59)
7۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72)
8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : 58)
مسائل
1۔ قوم نوح کے بعد قوم عاد دنیا میں آئی۔
2۔ عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا۔
3۔ قوم عادنے اللہ کی توحید ماننے کی بجائے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔
4۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
5۔ اتمام حجت کے بعد عذاب نہیں ٹلا کرتا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تذکرہ :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کیطرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ (الاعراف : 65)
2۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (ھود : 53)
3۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی (ھود : 60)
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو عذاب سے محفوظ فرمایا۔ (ھود : 58)
حضرت ھود (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 8 بار تذکرہ ہوا ہے۔
Ayahs 7:73–79فہم القرآن
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات
1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74)
3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74)
قوم صالح کی خصوصیات و عادات :
1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
5۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : 152، 151)
6۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ : 17)
7۔ انھوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : 66)
قوم کے جواب اور الزامات :
1۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : 62)
2۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود : 62)
3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74)
4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : 24)
5۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : 25)
6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153)
پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا :
1۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : 144)
2۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : 145)
3۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : 63)
4۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : 64)
5۔ میں تمہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : 79)
قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ :
1۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل و عیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : 49)
2۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : 29)
3۔ اے صالح ! ہم تمہارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : 76)
4۔ اے صالح ! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : 77)
عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری :
1۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84)
2۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس :
1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : 79)
تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : 61)
2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : 73)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔
4۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : 62)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 6 بار تذکرہ ہوا ہے۔ 3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74)
4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : 24)
5۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : 25)
6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153)
پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا :
1۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : 144)
2۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : 145)
3۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : 63)
4۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : 64)
5۔ میں تمہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : 79)
قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ :
1۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل و عیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : 49)
2۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : 29)
3۔ اے صالح ! ہم تمہارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : 76)
4۔ اے صالح ! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : 77)
عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری :
1۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84)
2۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس :
1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : 79)
تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : 61)
2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : 73)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔
4۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : 62)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 6 بار تذکرہ ہوا ہے۔
3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74)
4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : 24)
5۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : 25)
6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153)
پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا :
1۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : 144)
2۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : 145)
3۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود : 63)
4۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : 64)
5۔ میں تمہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف : 79)
قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ :
1۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل و عیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : 49)
2۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : 29)
3۔ اے صالح ! ہم تمہارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : 76)
4۔ اے صالح ! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : 77)
عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری :
1۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84)
2۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس :
1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف : 79)
تفسیر بالقرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : 61)
2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : 73)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔
4۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : 62)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 6 بار تذکرہ ہوا ہے۔
Ayahs 7:80–84فہم القرآن
حضرت لوط (علیہ السلام) :
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کا سمجھانا :
قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : 160 تا 166)
قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ (الشعراء : 167 تا 168)
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس وقت اپنی قوم سے کہا تم یہ بےحیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ (الاعراف : 80)
ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا کہ وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ (الاعراف : 80 تا 82)
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو مسافروں پر ڈاکہ ڈالتے ہو۔ اور ہر قسم کی برائی میں ملوث ہو۔ (العنکبوت : 29)
قوم کا جواب : اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29)
حضرت لوط (علیہ السلام) کی اللہ کے حضور فریاد :
اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ (العنکبوت : 30)
قوم لوط پر عذاب کے فرشتوں کی آمد :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کے حاضرہونے کا قرآن مجید تفصیل سے ذکر کرتا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی۔ جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے عرض کی کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے۔ ملائکہ نے انھیں عرض کی اس بات کو جانے دیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوچکا ہے لہٰذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : 69 تا 76)
عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں :
قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں کے بارے میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود : 78)
بے حیا کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں مشکل ترین حالات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری دن ہے۔ کاش تمہارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ (ہود : 79، 80)
ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرکے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں :
عذاب کے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کیجیے۔ یہ بےحیا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جاسکیں گے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے۔ جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے اور یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں فرمانے لگے کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چناچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا۔ پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : 69 تا 83)
سورۃ القمر 37 تا 38 میں فرمایا کہ ظالموں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں پر زیادتی کرنا چاہی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مسخ دیا۔
سورۃ الصافات میں 137 تا 138 میں ارشاد ہوا یقیناً لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے جب ہم نے انھیں اور اس کے اہل کو نجات دی۔ البتہ ایک بڑھیا کو پیچھے رہنے دیا پھر ہم نے باقی سب کو ہلاک کیا۔ اے اہل مکہ تم صبح شام ان بستیوں سے گزرتے ہو لیکن اس کے باوجود عقل نہیں کرتے۔ (الصافات : 135 تا 138)
(فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُود مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ )[ ھود : 82، 83]
” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “
بحرمردار (میت):
دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “
1۔ اس کے پانی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
2۔ اسکے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ :
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ (العنکبوت : 26)
2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ (الصٰفٰت : 133)
3۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : 86)
4۔ اللہ تعالیٰ نے لوط کو دانائی اور علم عطا فرمایا۔ (الانبیاء : 74)
5۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فحاشی اور بےحیائی سے منع فرمایا۔ (النمل : 54)
حضرت لوط (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 23 بار تذکرہ ہوا ہے۔
Ayahs 7:85–87فہم القرآن
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کی بنا پر ان کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔
اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء : 176)
اہل مدین کا عقیدہ اور گھناؤنا کردار :
1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت : 85) 2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے۔ دوسروں سے لیتے تو طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ (الاعراف، آیت : 85)
3۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہیں تھے۔ (الاعراف : 86، ھود : 85)
4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ (ھود : 89)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتیں :
1۔ اے میری قوم ایک اللہ کی عبادت کرو، ماپ تول میں کمی ڈاکہ زنی اور فساد فی الارض سے توبہ کرو۔ اگر میری بات مان جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ہر لحاظ سے تھوڑے اور کم تر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثرت سے نوازا۔ (الاعراف، آیت : 86، 85)
اے میری قوم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور میری بات مانو میں نہایت ایمانداری کے ساتھ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے۔ (الشعراء، آیت : 176 تا 180)
قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب :
اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقۂ عبادت کو چھوڑ دیں اور اپنے کاروبار کو اپنے طریقہ کے مطابق نہ کریں ؟ ھود، آیت : 87۔ تم پر اے شعیب ( علیہ السلام) کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 185)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید نصیحت :
اے میری قوم میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے وافر رزق عطا فرمایا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں وہی کچھ کروں جس سے تمہیں منع کرتا ہوں۔ میں اللہ کی توفیق سے صرف اصلاح کی غرض سے یہ بات کہتا ہوں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور میں ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ھود : 88)
قوم کا جواب :
اے شعیب ! تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے آپ میں کمزور دیکھتے ہیں، اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے پتھر مار مار کر رجم کردیتے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتا۔ (ھود، آیت : 91)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ارشاد :
میری قوم کیا تم اللہ تعالیٰ سے میری برادری کو بڑا سمجھتے ہو اور تم باز نہیں آتے۔ تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوگا۔ (ھود : 90 تا 95)
قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے :
اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے اگر تو سچا ہے۔
(الشعراء : 185 تا 187)
قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب :
قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء : 189)
ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پھٹکاری گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے۔ وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان کے اوپر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا لاشوں کو خطاب :
حضرت شعیب (علیہ السلام) ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اے میری قوم میں نے نہایت خیر خواہی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ لہٰذا اللہ کے نافرمانوں پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ (الاعراف : 93)
مسائل
1۔ قوم شعیب ناپ تول کی کمی بیشی کیا کرتے تھے۔
2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو پہلی قوموں کے انجام سے ڈراتے تھے۔
3۔ حق و باطل میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کردیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ناپ تول میں کمی نہیں کرنی چاہیے :
1۔ ماپ تول کو پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دو ۔ (الاعراف : 85)
2۔ ماپ تول کو انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام : 52)
3۔ ماپ کو پورا کرو اور پورا پورا وزن کرو۔ (الاسراء : 35)
4۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (ھود : 84)
5۔ ماپ کو پورا کرو اور کمی کرنے والے نہ بنو۔ (الشعراء : 181)
Ayahs 7:88–93فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و شرک اور بددیانتی سے نفرت کرتے ہیں تب بھی اسے قبول کرلیں ؟ ان کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ایک طرف ہم ان باتوں کے خلاف نفرت کرتے ہوئے مہم چلا رہے ہیں اور دوسری طرف خوف یا لالچ کی بنا پر انہیں قبول کرلیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دین چھوڑ کر دوبارہ کفر و شرک اختیار کرلیں۔ ایسا کرنا ہماری طرف سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کفر و شرک، خیانت اور بدیانتی کرنے سے منع کیا اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے کا حکم دیا۔ ہاں جو اللہ چاہے وہ ہوجاتا ہے مومنوں کے فرمان کے دو مقصد ہوسکتے ہیں۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہرگز نہیں چاہتا کہ انسان کفر و شرک، خیانت اور بد دیانتی کا راستہ اختیار کرے اس کا حکم تو وہی ہے۔ جو حضرت شعیب (علیہ السلام) اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) دیتے آ رہے ہیں لہٰذا ہمیں سب کچھ منظور ہے لیکن صراط مستقیم سے ہٹنا گوارا نہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ ایمان پر قائم رہنا اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا ہم اپنے رب سے استقامت کی توفیق مانگتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنی قوم کی یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایمان لانا اور اس پر استقامت اختیار کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہ ہمارے رب کی توفیق کا نتیجہ ہے جس پر ہم تا دم آخر قائم ہیں۔ گویا کہ انہوں نے انشاء اللہ کے مفہوم میں یہ الفاظ ادا فرمائے تھے۔ اسی لیے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے انجام کا ٹھیک ٹھیک علم تو ہمارے رب کے پاس ہے۔ ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ ہم تو دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اے ہمارے رب ظالموں کا ظلم حد سے بڑھ چکا ہے اس سے ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان بہتر فیصلہ صادر فرما تو ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ قوم شعیب اور کفارکا ابتدا ہی سے وطیرہ رہا ہے کہ ایک طرف ایمان والوں پر مظالم ڈھاتے ہیں اور دوسری طرف باقی لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں تاکہ مزید لوگ حلقۂ دین میں داخل نہ ہوسکیں۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے بھی یہی گھناؤنا کردار اختیار کر رکھا تھا۔ وہ اپنی قوم کو کہتے کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو یاد رکھو بھاری نقصان اٹھاؤ گے تمہارا برا حشر ہوگا۔ سرداروں کے پروپیگنڈے کا یہ معنٰیبھی تھا کہ اگر تم شعیب کا حکم مانو گے تو تم اپنی مرضی سے کاروبار نہیں کرسکو گے۔ جس سے تمہاری تجارت اور ترقی کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ دنیا دار لوگ شروع ہی سے ایسی باتوں سے عوام کو دین سے روکتے رہے ہیں۔ اور آج بھی نفاذ اسلام کی بات چلے تو ایسا ہی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ قوم شعیب کے کردار اور ان کے بار بار عذاب کے مطالبہ پر رات کے وقت ایسا زلزلہ آیا کہ وہ صبح اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ وسیع ترین کاروبار، بڑے بڑے حفاظتی منصوبے اور ہر قسم کے مکرو فریب انھیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہ بچا سکے جو لیڈرز قوم کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کرنے میں نقصان ہوگا۔ وہی ملک و ملت کی تباہی کا باعث بنے۔ اس المناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم میں نے سمجھانے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی۔ جو عذاب لانے کا تم مجھ سے اصرار کرتے تھے اس نے تمہیں آلیا اب تم نے اپنے کیے کا پھل پا لیا ہے۔ لہٰذا میں تم پر کیونکر افسوس کرسکتا ہوں۔
Ayahs 7:94–95فہم القرآن
ربط کلام : عرب اور اس کے گرد و نواح کی پانچ اقوام کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد دنیا میں جزاء و سزا اور آزمائش کا عمومی اصول بیان کیا گیا ہے۔
اہل علم نے ” بِالْبَاسَاءِ “ کا معنی غربت، تنگدستی اور ” ضَرَّاءِ “ کا مفہوم جسمانی بیماریاں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک بنیادی اصول ذکر فرمایا ہے کہ ہم قوموں کو تباہ و برباد کرنے سے پہلے غربت و افلاس اور جسمانی امراض کے ذریعے جھنجوڑا کرتے ہیں تاکہ بڑا عذاب آنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ گویا کہ اس معمولی اور عارضی گرفت کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ کی دائمی شفقت اور حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر ہم نے نافرمانی کی روش اختیار کیے رکھی تو کوئی ہولناک عذاب ہمیں اچک لے گا۔
لہٰذا ہمیں خدا کی نافرمانی کے بجائے اس کی اطاعت میں رہنا چاہیے اس میں ہمارے رب کی خوشنودی اور دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ جب لوگ ان جھٹکوں سے سمجھنے اور سلجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ دوسری آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ غربت و افلاس کی جگہ مال کی فراوانی اور کشادگی دیتا ہے۔ بیماری اور عوارض کی جگہ صحت اور فراغت آجاتی ہے یہ چیزیں اس قدر کھلے انداز میں دے دی جاتی ہیں کہ لوگ اپنے آباؤ اجداد پر آنے والے مصائب اور آلام کو یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ یہ تو حالات کے مدو جزر کا نتیجہ تھا، ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے۔ بعض لوگ اسے منصوبہ بندی کا فقدان قرار دیتے ہیں اور اپنی کوششوں پر اتراتے ہوئے خود فریبی کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بزرگ یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے تو فلاں فلاں آفت سے مامون رہ سکتے تھے۔ اسی لیے قوم ثمود نے پہاڑوں کو تراش تراش کر محفوظ محلات اور مضبوط قلعے بنائے اور قوم عاد نے دعویٰ کیا کہ ” مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً “ ” ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہوسکتا ہے ؟ “ لیکن اللہ کے عذاب نے انھیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ یہاں کبھی کوئی بندہ، بشر رہا ہی نہیں۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ کا عذاب کنگال اور کمزور لوگوں کے بجائے معاشی لحاظ سے خوشحال اور سیاسی اعتبار سے صاحب اقبال لوگوں پر آتا ہے۔ یہ عذاب اس قدر اچانک آیا کرتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب اللہ کا عذاب آجائے تو کسی قوم کی سیاسی برتری اور معاشی خوشحالی اسے ہرگز نہیں بچا سکتی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے لوگوں کے گناہ معاف فرماتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ خوشحالی کے ذریعے آزماتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ تکلیف اور تنگ دستی کے ذریعے بھی آزماتا ہے۔
6۔ تباہ ہونے والی اکثر اقوام خوشحال ہوا کرتی تھیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے :
1۔ جب وہ ہماری عطا کی ہوئی نعمتوں پر خوش ہوجاتے ہیں تو اچانک انکو عذاب کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں (الانعام : 44)
2۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45)
3۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے یا اچانک قیامت آجائے۔ (یوسف : 107)
4۔ کیا بستیوں والے بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کا عذاب رات کے وقت اپنی لپیٹ میں لے لے اور وہ نیند کی حالت میں ہوں۔ (الاعراف : 95)
5۔ کیا وہ لوگ بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں چلتے پھرتے اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ (النحل : 46)
Ayah 7:96فہم القرآن
ربط کلام : سرکشی اور بےدینی کی بنیاد پر ملنے والی فراوانی اور دین کی بدولت عطا ہونے والی خوشحالی کا فرق۔
اللہ تعالیٰ نے فرقان مجید کی سورة نساء کی آیت 115 میں ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ ہدایت واضح ہونے کے باوجود جو شخص ہمارے رسول کی مخالفت کرے گا ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ جانا چاہتا ہے۔ سورة الشوریٰ کی آیت 20 میں فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں اسے اس کے نصیب کی دنیا دے دیتے ہیں۔ جو آخرت چاہتا ہے اسے آخرت عطا کردیتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ اگر لوگ ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں گے تو ہم ان کے لیے زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیں گے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت ہمیشہ اس طرح رہی ہے کہ وہ ایمان اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے من مانی اور خدا کی نافرمانی میں دنیا کی ترقی سمجھتے ہیں۔ جو اللہ کی ذات اور اس کی تعلیمات کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ جب لوگ نیکی کے بجائے برائی، حلال کی جگہ حرام، اور خدا کی اطاعت کے بجائے نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر اکثر اوقات دنیا میں ہی انھیں اپنے کیے کی سزا مل جاتی ہے۔ یہاں اہل ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی برکات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ برکت کی جمع برکات ہے جب اللہ تعالیٰ کسی چیز میں برکت پیدا فرماتا ہے تو وہ چیز تعداد اور مقدار میں تھوڑی ہونے کے باوجود آدمی کو کفایت کر جاتی ہے۔ اور انسان اس پر مطمئن ہوتا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کی عمر میں برکت ڈال دی جائے تو وہ تھوڑی مدت میں وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دے پاتا ہے کہ لوگ اس سے مدت تک استفادہ کرتے ہیں۔ خوردو نوش میں برکت ڈال دی جائے تو آدمی کے لیے پانی کے چند گھونٹ اور خوراک کے چند لقمے ہی کافی ہوتے ہیں۔ لیکن جب برکت اٹھالی جائے تو پیٹ بھر کھانے کے باوجود طبیعت سیر نہیں ہوتی اور انواع و اقسام کے کھانے بھی اس کی قوت و توانائی میں اضافہ نہیں کرتے۔ جب برکت اٹھ جاتی ہے تو بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ گھر میں سب کچھ ہونے کے باوجود نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اور ہر نعمت میسر ہونے کے باوجود انسان اس سے اس لیے استفادہ نہیں کرسکتا کہ وہ چیزیں استعمال کرنے سے اس کی صحت مزید بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے گویا کہ کسی چیز سے برکت اٹھالی جائے تو انسان اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج دنیا کی غالب اکثریت اسی حالت سے دو چار ہے۔ کھیت سرسبز و شاداب، فیکٹریاں دن رات ٹھک ٹھک چل رہی ہیں، ذرائع مواصلات پہلے سے کہیں زیادہ اور ہر چیز کی فراوانی ہے لیکن انسان روحانی اور جسمانی اعتبار سے اپنے ہی آپ میں کھویا ہوا، مضطرب اور پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے سرور دوعالم ﷺ کھانا کھانے کے بعد اور مختلف مواقعوں پر اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
” مگر جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ اختیار کرے تو ہم اسے ادھر پھیر دیتے ہیں جدھر کا اس نے رخ کیا ہے، پھر ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ [ النساء : 115]
” جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ “ [ الشوری : 20]
” حضرت عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ میرے والد کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا۔ آپ نے کھانا کھایا پھر آپ کو کھجوریں پیش کیں۔ آپ کھجوریں کھا کر گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں کے درمیان رکھتے جاتے ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ بالکل درست ہے آپ ﷺ دونوں انگلیوں کے درمیان گٹھلیاں رکھ کر پھینکتے جاتے، پھر آپ کو پانی دیا گیا۔ تو آپ نے نوش فرمایا پھر برتن دائیں جانب بیٹھے شخص کے حوالے کیا میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی انہوں نے کہا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! ان کے رزق میں برکت فرما اے اللہ ! ان کے گناہ معاف فرما اور ان پر رحم فرما۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ رَأَی النَّبِیُّ ﷺ عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؓ أَثَرَ صُفْرَۃٍ فَقَالَ مَہْیَمْ أَوْ مَہْ قَالَ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلٰی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ ) [ رواہ البخاری : ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ پر زرد رنگ کے کچھ اثرات دیکھے آپ نے استفسار فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت عبدالرحمن نے کہا میں نے سونے کی ایک ڈلی مہر کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تیرے لیے بابرکت بنائے ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری سے کرو۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَال قالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ طَعَامًا فَلْیَقُلْ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فیہِ وَأَطْعِمْنَا خَیْرًا مِّنْہُ وَإِذَا سُقِیَ لَبَنًا فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فیہِ وَزِدْنَا مِنْہُ ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الأشربۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو کہے اے اللہ ہمارے لیے اس کھانے میں برکت ڈال دے اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور جب دودھ پیے تو کہے اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت ڈال دے اور ہمیں اس سے زیادہ عنایت فرما۔ “
مسائل
1۔ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
Ayahs 7:97–99فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں پانچ اقوام کی تباہی اور اس کے اسباب بیان کرتے ہوئے دنیا میں جزاء و سزا کا ایک عمومی اصول بیان فرمایا اور اس کے بعد ایمان اور تقویٰ کی ترغیب دیتے ہوئے زمین و آسمان کی برکات کی خوشخبری سنائی اب پھر مجرموں کو وارننگ دی جا رہی ہے۔
قرٰی کا واحد ” قَرْیَۃ “ ہے یہ لفظ شہر اور دیہات دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے شہر اور بستیوں کے لیے استعمال فرمایا ہے سورة زخرف آیت : 31 میں ہے کہ لوگ شہروں کے رہنے والے ہوں یا دیہاتوں کے بسنے والے انھیں وارننگ اور انتباہ کیا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت اور نافرمانیاں کرکے کس طرح پرسکون اور امن میں رہ سکتے ہو ؟ یہ تو اللہ کی حکمت اور اس کی طے شدہ پالیسی ہے کہ وہ باغی اور نافرمانوں کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے اگر وہ لوگوں کے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے پکڑنے پر آجائے تو زمین پر چلنے والی کوئی چیز باقی نہ رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو مدت معینہ تک مہلت دیتا ہے۔ جب مہلت ختم ہوجاتی ہے تو ایک لمحہ تقدیم یا تاخیر نہیں ہونے پاتی۔ (النحل، آیت : 61)
اس لیے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا عذاب رات کی تاریکیوں میں ان کو نیند کی حالت میں اچک سکتا ہے اور اگر ہم چاہیں تو دن دیہاڑے لوگوں کو فنا کی گھاٹ اتار سکتے ہیں۔ سورة القصص آیت 71 تا 72 میں فرمایا :
(قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِطاَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ۔ قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍطاَفَلا تَسْمَعُوْنَ ۔ ) [ سورة القصص، آیت : 71، 72]
” اے نبی لوگوں سے فرما دیجیے اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات کو قیامت تک طویل کر دے تو کون ہے صبح کی روشنی لانے والا اور اگر وہ دن کو قیامت تک لمبا کر دے تو کون ہے رات لانے والا جس میں تم سکون پاتے ہو ؟ “
قوم لوط پر صبح کے وقت عذاب آیا جو قیامت تک رات کی تاریکی نہیں پاسکتے۔ قوم مدین پر رات کی تاریکیوں میں عذاب نازل ہوا جنھیں قیامت تک صبح دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔ ایسے ہی یہاں عذاب کا اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دن اور رات میں کسی وقت بھی تمہیں پکڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےخوف ہونے والے نقصان ہی پایا کرتے ہیں، یا در ہے مکر کے لفظ کی نسبت لوگوں کی طرف ہو تو اس کا مطلب مکر و فریب ہوتا ہے جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر ہوا کرتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کے دیکھیے۔ 2005 ء میں رمضان المبارک کے دوسرے دن کشمیر میں صبح 9 بجے ایسا زلزلہ آیا کہ چالیس سیکنڈ کے اندر 70000 انسان موت کا لقمہ بنے اور لاکھوں مکان زمین بوس ہوگئے۔ 1948 ء میں رات کے وقت بلوچستان میں زلزلہ آیا تو بیس سیکنڈ میں کوئٹہ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
مسائل
1۔ پہلی قوموں پر عذاب اس وقت آیا جب وہ اللہ اور آخرت کو بھولے، غفلت اور بدامنی میں پڑے ہوئے تھے۔
2۔ عذاب الٰہی سے بےخوف ہونا کفر ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے :
1۔ جو ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس کے تمام عمل برباد اور وہ دنیاء و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔ (المائدۃ : 5)
2۔ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ (الاعراف : 99)
3۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی نقصان اٹھائیں گے۔ (الزمر : 62)
4۔ کافروں کی پیروی کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ (آل عمران : 149)
5۔ اللہ کو چھوڑ کر شیطان سے دوستی کرنے والا نقصان اٹھائے گا۔ ( النساء : 119)