7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsفہم القرآن

Ayahs 7:100–101

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

” اور کیا وہ لوگ جو زمین کے وارث بنے اس کے رہنے والوں کے بعد ان کی رہنمائی اس بات نے نہیں کی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں وہ نہیں سنتے۔ (100)

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے وہ ایسے نہ تھے کہ اس بات کو مان لیتے جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے اسی طرح اللہ انکار کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ (101)

فہم القرآن ربط کلام : دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کا رویہ اور ان کی عادات۔ ایک مرتبہ پھر غافل اور نافرمانوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج جن بستیوں اور سر زمین کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےخوف ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں ملیا میٹ کردیا۔ ان کے بعد آنے والوں کی بصیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی غلطیوں سے بچیں اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جن کے واقعات اللہ تعالیٰ نے اس لیے بار بار اور کھول کھول کر بیان کیے تاکہ نئی نسل اپنے سے پہلے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ بعد کے لوگ اپنی اصلاح اور فلاح کی طرف توجہ کریں بلکہ یہ لوگ وہی کام کرتے ہیں جو پہلے لوگوں کی تباہی کا سبب ہوتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) دلائل کے ساتھ تشریف لائے اور انھوں نے ایمان باللہ اور اپنی اطاعت کا حکم دیا تو لوگوں نے انھیں جھٹلایا اور پھر اپنی ضد پر پکے ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی اور پھر وہ کفر کی حالت میں ہی ہلاک ہوئے۔ یہاں پہلے لوگوں کی ضد اور ان کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد توجہ دلائی ہے کہ ان کے وارث بننے والوں کو یہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے اگر یہ بھی یہی راہ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر بھی مہرثبت کر دے گا۔ پھر یہ ہوگا کہ یہ حق بات سننے اور نگاہ عبرت سے محروم ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ہدایت کسی پر مسلط نہ کی جائے گی۔ مہر کس طرح لگتی ہے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَّسُوْلِ اللَّہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْٓءَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَاد زیدَ فِیْہَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللَّہُ (کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب وَمِنْ سُورَۃِ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (حسن )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ گناہ کرتا ہے اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی سیاہی دل پر غالب آجاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ نے کیا ہے ” کیوں نہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ پڑچکا ہے۔ “ مسائل 1۔ پہلی اقوام سے نصیحت و عبرت پکڑنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو واضح دلائل کے ساتھ مبعوث فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے : 1۔ کافروں کے دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ (البقرۃ : 7) 2۔ مشرکوں کے دلوں پر مہرلگادی جاتی ہے۔ (الانعام : 46) 3۔ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود بنانے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (الجاثیۃ : 23) 4۔ اللہ تعالیٰ پر افتراء بازی کرنے والوں کے دل پر مہر لگتی ہے۔ (الشوریٰ : 24) 5۔ مرتد ہونے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے۔ (المنافقون : 3) 6۔ تکبر کرنے والے کے دل پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (المومن : 35) 7۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (التوبۃ : 93)
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

” اور ہم نے ان میں سے اکثر کے لیے کوئی عہد نہیں پایا اور بیشک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔ “ (102)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے دلوں پر مہر ثبت ہونے اور ان کی ہلاکت کا سبب، اللہ کے ساتھ ان کی عہد شکنی تھی۔ کفار کی ہلاکت اور ان کی گمراہی کا سبب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو نافرمان اور بد عہد پایا تھا۔ عہد سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو روز آفرینش اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ جس کی تفسیر اسی سورة کی آیت 172 میں بیان کی جائے گی انشاء اللہ عہد سے مراد وہ اقرار اور عہد ہے جو آدمی ایمان لاتے ہوئے کلمۂ شہادت کے الفاظ میں اقرار کرتا ہے۔ جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والا اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میرا کوئی خالق، مالک اور معبود نہیں، محمد رسول اللہ ﷺ میرے رہنما اور مقتدا ہیں، میں انھی کی اتباع میں زندگی بسر کروں گا۔ اس عہد کے تحت وہ عہد و اقرار بھی شامل ہیں جو ہم ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں یہ تین قسم کے عہد و اقرار ہیں جن پر پورا اترنا انسان کی ذمہ داری ہے اگر کوئی جان بوجھ کر عہد شکنی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے باز پرس ہوگی۔ یہاں انسانوں کی اکثریت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو عہد شکن اور نافرمان ہی پایا ہے۔ جو لوگ جمہوریت کو حق و باطل، صحیح اور غلط کا معیار قرار دیتے ہیں۔ انھیں اس اصول پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ کیونکہ حق و باطل، غلط اور صحیح کا معیار لوگوں کی اکثریت نہیں بلکہ اس کا معیار مسلمہ اقدار اور قرآن و سنت کے اصول ہیں۔ لوگوں کی اکثریت تو لکیر کی فقیر ہوا کرتی ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ اپنے ہر خطبے میں یہ فرماتے جو امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ مسائل 1۔ لوگوں کی اکثریت گمراہ اور فاسق ہوا کرتی ہے۔ 2۔ گمراہوں کا انجام آخرت میں بد ترین ہوگا۔
Ayahs 7:103–108

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب بھیجا۔ انہوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا پھر دیکھیں فساد کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا ؟ (103)

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون ! بیشک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ “ (104) ”

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں سو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ (105)

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ (106)

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

اس نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک واضح اژدہا تھا۔ (107)

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکنے والا سفید تھا۔ “ (108)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا دعویٰ کیا تھا۔ فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے ممالک میں وزیر اعظم اور جرمن کا حکمران چانسلر کہلواتا ہے اسی طرح ہی مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا۔ کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو رب اعلیٰ قرار دیا۔ قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے اعلیٰ اور اولیٰ کائنات کا رب ہوں۔ اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ جن کی پیدائش کا تفصیلی تذکرہ سورة القصص کی ابتدائی 32 آیات میں کیا گیا ہے جس کی ابتدا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی۔ ” اے نبی یہ کتاب مبین کی آیات ہیں جن میں ہم آپ کے سامنے فرعون اور موسیٰ کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں فرعون زمین پر بڑا بن بیٹھا اور اس نے اپنی قوم کو طبقاتی کشمکش میں مبتلا کردیا تھا۔ ایک طبقہ کو مراعات یافتہ اور دوسرے کو غلامی اور پسپائی کی گھاٹیوں میں دھکیل رکھا تھا۔ ان حالات میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کمزور لوگوں کو زمین میں فرمانروائی سے سرفراز کیا جائے تاکہ فرعون اور اس کے لشکروسپاہ کو وہ کچھ دکھایا جائے جس کے دیکھنے سے ڈرتے تھے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بنی اسرائیل کو اس لیے دبا رکھا تھا کہیں یہ لوگ قوت حاصل کرکے ہمارے خلاف برسر پیکار نہ ہوجائیں۔ “ بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کی ابتدا۔ یوں ہوئی کہ فرعون کے درباریوں نے اسے یہ بتلایا کہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری خدائی کو چیلنج کرے گا۔ فرعون نے اس بنا پر بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو قتل کروانا شروع کیا لیکن یہ سوچ کر اپنے قانون میں ترمیم کی۔ اس طرح تو ہماری خدمت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا لہٰذا ایک سال بچوں کو قتل کیا جائے اور دوسرے سال کے بچوں کو باقی رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ ماجدہ کے ہاں اس سال جنم لیتے ہیں جس سال بچوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ انتہائی خوفزدہ ہوئیں کہ جونہی حکومت کے کار پر دازوں کو میرے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا علم ہوگا تو وہ میرے لخت جگر کو قتل کردیں گے۔ سورة القصص کی آیت 7 میں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اسے القا کیا کہ جب بیٹے کی جان کا خطرہ محسوس کرو تو اسے دریا کی لہروں کے سپرد کردینا لیکن ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم نہ صرف اسے تیرے پاس لے آئیں گے بلکہ آپ کا بیٹا انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت کا ایک فرد ہوگا۔ “ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بیٹے کو دریا کے سپرد کیا جسے آل فرعون نے اٹھا لیا۔ جب فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے لگا تو اس کی بیوی نے اسے سمجھایا کہ اتنے پیارے بچے کو قتل نہ کرو ممکن ہے بڑا ہو تو ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں۔ جب دودھ پلانے کا مرحلہ آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے غیر عورتوں کا دودھ پینے سے انکار کردیا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ پر سب عورتوں کا دودھ حرام قرار دیا تھا۔ بالآخر مجبور ہو کر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو ہی انجانے میں اس کی دایہ مقرر کردیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بھرپور جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں آل فرعون کا ایک فرد سہواً قتل ہوگیا۔ جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے ہجرت فرمائی اور وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ہاں آٹھ، دس سال داماد بن کر زیر تربیت رہے۔ پھر مصر واپس آتے ہوئے راستہ میں انھیں نبوت عطا ہوئی اور اس کے ساتھ ہی انھیں دو عظیم معجزے عطا کیے گئے۔ جس لاٹھی کے ساتھ وہ بکریاں ہانکا کرتے تھے۔ اس میں معجزانہ قدرت پیدا کی گئی کہ وہ حسب ضرورت بہت بڑا اژدہا بن جاتی اور دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عطا کیا گیا کہ جب وہ اپنا دایاں ہاتھ بائیں بغل میں دبا کر باہر نکالتے تو اس کے سامنے چاند اور سورج کی روشنی بھی مدہم دکھائی دیتی تھی۔ یہاں انھی دو معجزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورة القصص، آیت : 34 میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا معاون بنانے کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی اور معجزات کے ساتھ فرعون کے دربار میں پہنچے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب : آل فرعون انتہائی ظالم لوگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے میں تمہارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تمہیں اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو واقعی اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدہا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے جبڑوں میں سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس سے بچائیں۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا جو پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو اس کے سامنے تمام روشنائیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان) مسائل 1۔ فرعون اور اس کے ساتھی بدترین قسم کے ظالم تھے۔ 2۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کی پالیسی اور ان کے کردار سے ملک میں فساد پھیل چکا تھا۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔ 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ کی توحید کے دلائل دیے اور اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے لاٹھی اور ید بیضاء کے دو عظیم معجزے عطا فرمائے۔ تفسیر بالقرآن نافرمان اور فساد کرنے والوں کا انجام : 1۔ دیکھیں فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ (الاعراف : 103) 2۔ دیکھیں ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ (یونس : 39) 3۔ دیکھیں نافرمانوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الاعراف : 84) 4۔ زمین میں چل کر دیکھیں مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (النمل : 69) 5۔ آپ ﷺ دیکھیں جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ (الزخرف : 25)
Ayahs 7:109–122

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

” فرعون کی قوم کے سردار کہنے لگے یقیناً یہ تو ایک ماہر فن جادوگر ہے۔ (109)

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے تو تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ (110)

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

کہنے لگے اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔ (111)

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔ (112)

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور جادوگر فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے واقعی ہمارے لیے کچھ انعام ہوگا اگر ہم غالب آجائیں۔ (113)

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

کہا ہاں اور یقیناً تم ضرور مقرب لوگوں سے ہوگے۔ (114)

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ ! یا تو تو پھینکے گا یا ہم ہوں پھینکنے والے۔ (115)

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

کہا تم پھینکو۔ جب انہوں نے پھینکا لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں پوری طرح خوف زدہ کردیا وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔ (116)

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ بنا رہے تھے۔ (117)

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے باطل ہوا۔ (118)

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

تو اس موقع پر وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر واپس ہوئے۔ (119)

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدے میں گرادیے گئے۔ (120)

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

کہنے لگے ہم جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔ (121)

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ “ (122)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت بردباری اور بہترین انداز میں جواب دیتے ہوئے فرمایا ہاں ! نادانستہ طور پر مجھ سے آدمی مرگیا تھا۔ جس کی وجہ سے میں تمہارے خوف سے بھاگ نکلا۔ اب اللہ نے مجھے تمہارے پاس رسول بناکر بھیجا ہے۔ جہاں تک آپ کے مجھ پر احسان کا تعلق ہے کیا اس کا بدلہ یہ ہے کہ آپ میری پوری قوم کو غلام بنا رکھیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے دلائل طلب کیے جس کا جواب دیتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کو پیدا کرنے والا اور ہر جاندار کو اس کی روزی مہیا کرنے والا ہے وہ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا رب ہے بشرطیکہ تم توحید کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل استعمال کرو۔ اس پر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کا استہزاء اڑاتے ہوئے اپنے درباریوں کو کہا کہ جو تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ تو پاگل ہے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو الٰہ مانا تو میں تجھے جیل خانہ میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا واضح دلائل کے باوجود تم ایسا کرو گے تو اس نے مجبور ہو کر کہا اچھا پھر اپنی صداقت کی دلیل پیش کرو۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی صداقت کی تائید میں عصا اور یدبیضاء کے معجزے پیش فرمائے۔ جس پر فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ تم تو بہت بڑے جادو گر ہو اور جادو کے ذریعے تم ہمیں اقتدار اور ہمارے ملک سے بےدخل کرنا چاہتے ہو۔ ہم تمہارے مقابلہ میں اپنے جادوگر لائیں گے۔ سورة طٰہٰ ، آیت : 58 تا 60 میں بیان ہوا ہے کہ مقابلہ کے لیے انھوں نے قومی تہوار کا دن اور صبح کا وقت مقرر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اس عہد کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ سورة الشعراء، آیت : 36 تا 44 میں تفصیل یہ ہے کہ پھر انھوں نے ملک کے تمام شہروں سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کیا۔ جب جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اکٹھے ہوئے تو انھوں نے فرعون کے حق میں پرزور نعرے بازی کی کہ ” فرعون کی جے “ (فرعون زندہ باد) اور اس کے ساتھ ہی جادوگروں نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ ہم موسیٰ پر غالب آگئے تو ہمیں کیا انعام ملے گا۔ فرعون نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ انعام پانے کے ساتھ میرے مقرب ہوجاؤ گے۔ (الاعراف : 114) ۔ یعنی اجر تو معمولی بات ہے۔ تم ہمیشہ کے لیے میرے اقتدار میں شریک ہوگے۔ یہی دین اور دنیا دار کی سوچ میں فرق ہے جس کا جادوگروں نے مظاہرہ کیا کہ ہمیں دنیا میں کیا ملے گا ؟ پھر اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ ہم اپنے علم و ہنر کا مظاہرہ کریں یا آپ کرتے ہیں ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پہلے تم کرو جو کچھ کرنا چاہتے ہو۔ انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں جو ایک سے ایک بڑھ کر سانپ اور اژدہا بن کر دوڑ نے لگیں۔ جس سے لوگ زبردست خوف زدہ ہوئے۔ کیونکہ قرآن بیان کر رہا ہے کہ انھوں نے سحر عظیم کا مظاہرہ کیا جس سے لوگوں کی آنکھیں حیرت زدہ ہوگئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوابی حملہ اور جادوگروں کا ایمان لانا : سورۃ طٰہٰ ، آیت : 67 تا 69 میں بیان ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرنے کی ضرورت نہیں اپنا عصا زمین پر پھینک یہ سب کو کھاجائے گا اور جادو گرجہاں بھی ہوں کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہاں بیان فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ آپ اپنا عصا زمین پر پھینکیں جو نہی عصا زمین پر پھینکا گیا تو اس نے ان کے کیے دھرے کو نگل لیا۔ اس طرح حق ثابت اور بلند وبالا ہوا اور باطل ناکام اور نامراد ہو کر ذلیل ہوگیا۔ جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کی حق و صداقت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے کیونکہ ملک بھر کے نامی گرامی جادوگروں کو شکست دینا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہ تھی۔ جادوگر یہ حقیقت پوری طرح سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس رب کے فرستادہ ہیں وہی خالق کل اور مالک حقیقی ہے۔ اسی کے سامنے آدمی کو سجدہ ریز ہونا چاہیے۔ لہٰذا انھوں نے اسی بات کا اقرار اور اظہار کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے مزید وضاحت بھی کردی کہ فرعون پر نہیں جو رب ہونے کا جھوٹا دعوے دار بلکہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لائے جو پوری کائنات کا رب ہے۔ تاکہ ان کے ایمان پر کسی کو ہرگز شبہ نہ رہے۔ مسائل 1۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے۔ 2۔ جادو گروں کے سامنے دین کا مشن نہیں تھا اس لیے انھوں نے دنیا کے اجر کا مطالبہ کیا۔ 3۔ جادو سب سے پہلے انسان کی نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 4۔ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر بلند وبالا رہتا ہے۔ 5۔ آدمی کو حقیقت سمجھ آجائے تو اسے کھلم کھلا اس کا اعتراف اور اظہار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام : 1۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کھلے دلائل لے کر آئے تو قوم نے ان پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36) 2۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سباء : 43) 3۔ فرعون کے سرداروں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (الاعراف : 109) 4۔ جب کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے رسول اکرم ﷺ پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (یونس : 76) 5۔ کفار نے کہا یہ نبی نہیں جادو گر ہے۔ (یونس : 2) 6۔ کفار نے کہا یہ نبی جھوٹا اور جادوگر ہے۔ (ص : 4) 7۔ ظالموں نے کہا کیا ہم جادوگر کی اتباع کریں ؟ (الفرقان : 8) 8۔ آپ سے پہلے جو بھی نبی آیا اسے جادوگر کہا گیا۔ (الذاریات : 52) 9۔ مشرکین قرآن مجید کو جادو قرار دیتے تھے۔ (الاحقاف : 7)
Ayahs 7:123–126

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

” فرعون نے کہا اس پر تم اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ تو ایک چال ہے جو تم نے اس شہر میں چلی ہے تاکہ اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دو تو تم بہت جلد جان لو گے۔ (123)

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹوں گا مخالف سمت سے پھر تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔ (124)

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے کہا یقیناً ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (125)

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہم سے اس کے سواکس چیز کا بدلہ لے گا کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے ہیں، جب وہ ہمارے پاس آچکیں۔ اے ہمارے رب ! ڈال ہم پر صبر اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں فوت فرما۔ “ (126)

فہم القرآن ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔ حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار ہو۔ “ (سورۃ الصف : 8، 9) سورۃ المجادلۃ کی آیت 21 میں یہ فرمایا کہ ” اللہ نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ قوت رکھنے والا غالب ہے۔ “ یہی بات جادوگروں کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے کہی گئی تھی۔ اے موسیٰ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیے کہ آپ ہی غالب رہیں گے۔ جادوگر جہاں سے بھی حملہ آور ہو کامیاب نہیں ہوتا۔ “ (طٰہٰ 68 تا 69) اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اور جو جادوگر تھوڑی دیر پہلے فرعون زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے جونہی ان کے سامنے حقیقت منکشف ہوئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لانے کا دو ٹوک الفاظ میں نہ صرف اعلان کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے تاکہ دیکھنے والے یہ جان جائیں کہ جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست کھاچکے ہیں۔ فرعون یہ ہزیمت کس طرح برداشت کرسکتا تھا اس لیے اس نے اپنی ذلت چھپانے اور لوگوں پر تسلط قائم رکھنے کے لیے ایمان لانے والوں پر سازش کا الزام لگایا کہ تم نے میری اجازت کے بغیر ایمان لانے کا اعلان کیا یہ تم جادوگروں کی ہمارے خلاف بہت بڑی سازش ہے تاکہ تم ہمیں اقتدار سے محروم کرکے ملک سے نکال دو ۔ لیکن یاد رکھو کہ عنقریب تمہارا انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ سورۃ طٰہٰ آیت 71 تا 73 میں یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون نے یہ بھی الزام لگایا کہ درحقیقت یہ تمہارا استاد جادوگر ہے جس کے ساتھ مل کر تم نے یہ کام کیا ہے لہٰذا میں تمہارے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجوروں کے بلند تنوں پر تمہیں پھانسی دی جائے گی اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم سزا دینے میں کتنے سخت لوگ ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایمانداروں نے کہا کہ ہمارے پاس سچ اور حق کے دلائل آچکے ہیں جن پر ہم تمہیں اور تمہارے مفادات کو ہرگز تر جیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کر گزر تیری سزا تو اس دنیا کی حد تک محدود ہے بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے اور جو ہم نے جادو کا مظاہرہ کیا ہے اسے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ یہ بیان ہوا ہے کہ جب فرعون نے ان کے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو صاحب ایمان لوگوں نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا کہ یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔ ہمارا صرف اتنا قصور ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جو ہم تک پہنچ چکی ہیں۔ ہم اپنے رب کے حضور یہ فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے پالنہار ہمیں فرعون کی اذیتوں پر صبر و استقامت عنایت فرما اور ہماری موت تیرے تابعدار بندوں جیسی ہو۔ فرعون نے صاحب عزیمت لوگوں کو مار ڈالنے کی دھمکی دی تھی اس لیے انھوں نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے جواب دیا کہ دنیا میں کسی نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا لہٰذا ہمیں موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ موت تو اپنے رب تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے اس لیے ہم مر کر اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے اپنے رب کے ہاں بہتر انجام کی دعا کی تھی مومن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی کہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اللہ کے راستے میں جان قربان کر دے۔ سچے ایمان کی یہ نشانی ہے کہ وہ انسان کو ایک لمحہ میں صبر و استقامت اور ایمان و ایقان کی ایسی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے جس کا دنیا دار شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہی وہ جذبہ اور ایمان کا درجہ ہے جس کا اظہار حضرت خبیب ؓ نے تختۂ دار پر چڑھتے ہوئے اہل مکہ کے سامنے کیا تھا۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے دس آدمیوں کو کفار کی جاسوسی کے لیے روانہ کیا اور ان کا ذمہ دار عاصم بن ثابت انصاری کو بنایا جو کہ عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے یہ لوگ جب ہداۃ مقام پر پہنچے جو کہ عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو کسی نے بنی لحیان کے لوگوں کو بتایا جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے انھوں نے دو سو تیرا نداز ان کے تعاقب میں بھیجے یہ لوگ ان کے نشان ڈھونڈتے چل پڑے۔ رسول معظم ﷺ کے صحابہ ؓ نے ایک جگہ کھجوریں کھائیں تھیں جو مدینہ سے ساتھ لی تھیں۔ بنولحیان کے لوگوں نے وہاں کھجوریں دیکھیں تو پہچان لیں کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں عاصم اور ان کے ساتھیوں کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب عاصم نے ان کو دیکھا تو ایک ٹیکری پر پناہ لی کافروں نے ان کو گھیر لیا اور کہنے لگے تم ٹیکری سے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو ۔ اور ہم تم سے پکاوعدہ کرتے ہیں کہ تم کو نہیں ماریں گے یہ سن کر عاصم بن ثابت جو کہ ان کے سردار تھے نے کہا اللہ کی قسم ! میں اپنے آپ کو کافروں کے سپرد نہیں کروں گا۔ اے اللہ ! ہمارے نبی ﷺ کو ہماری خبر دے دے۔ اس پر کافروں نے تیروں کی بارش شروع کردی اور عاصم سمیت سات کو شہید کردیا۔ باقی جو تین بچ گئے وہ کافروں کے اقرار پر بھروسہ کرکے اتر آئے انھی میں خبیب، زید بن دثنہ اور ایک اور شخص تھے جب کافروں کے قابو میں آگئے تو انھوں نے دھوکہ دیا اور اپنی کمانوں کی رسی کھول کر ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ تیسرا شخص کہنے لگا یہ پہلا دھوکہ ہے میں تمہارے ساتھ نہیں جانے والا۔ میں تو اپنے شہید ساتھیوں کی پیروی چاہوں گا۔ کافروں نے ان کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے۔ آخر کار انھوں نے اسے شہید کر ڈالا۔ اور خبیب اور زید بن دثنہ کو پکڑ کرلے گئے۔ ان دونوں کو غلام بنا کر مکہ میں مشرکین کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ خبیب کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خریدا۔ بدر کے دن خبیب نے ان کے باپ حارث کو قتل کیا تھا۔ خبیب چند دنوں تک ان کے پاس قید رہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے عبید اللہ بن عیاض نے بیان کیا ان سے حارث کی بیٹی بیان کرتی تھی جب حارث کے گھر کے افراد متفق ہوگئے کہ انھیں قتل کردیا جائے تو انھی دنوں خبیب نے زینب سے ایک استرا مانگا تو زینب نے ان کو دے دیا۔ اس وقت اتفاق سے میرا ایک بیٹا انجانے میں خبیب کے پاس آگیا۔ میں نے دیکھا تو کم سن ان کے ران پر بیٹھا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے یہ منظر دیکھ کر میں گھبرا گئی۔ خبیب نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا میں گھبرا رہی ہوں اور پوچھا کیا تو یہ سمجھتی ہے میں اس بچے کو مار ڈالوں گا یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ زینب کہتی ہیں میں نے خبیب کی مانند کوئی نیک آدمی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن دیکھا کہ وہ لوہے کی زنجیر میں جکڑے ہوئے انگور کا گچھا ان کے ہاتھ میں تھا کھا رہے تھے۔ ان دنوں مکہ میں پھل بالکل نہیں ملتا تھا۔ زینب کہتی تھیں یہ اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو خبیب کو اس نے عنایت فرمایا۔ جب خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو انھوں نے درخواست کی مجھے دو رکعت پڑھنے دو ۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ خبیب نے دو رکعت ادا کیں، پھر وہ کہنے لگے اگر تم یہ خیال نہ کرتے کہ میں مارے جانے سے ڈرتا ہوں تو میں اپنی رکعات لمبی ادا کرتا۔ یا اللہ ان کافروں کو ایک ایک کرکے ہلاک کر دے۔ پھر حارث کے بیٹے نے انھیں شہید کردیا۔ حضرت خبیب ؓ نے اس چیز کی ابتدا کی جو بھی مسلمان اسیر ہو کر مارا جائے تو وہ دو رکعت نماز ادا کرلے۔ جس دن حضرت عاصم ؓ شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی۔ نبی مکرم ﷺ نے اسی دن اپنے صحابہ ؓ کو خبر دی اور ان کی مصیبت بیان کی۔ ان کے شہید ہونے کے بعد قریش کے کافروں نے کسی کو عاصم کی لاش پر بھیجا کہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر لائے جس کو وہ کاٹ نہ سکے۔ حضرت عاصم ؓ نے بدر کے دن قریش کے سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عاصم کی لاش پر بھڑوں کا چھتہ بھیج دیا۔ انھوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کو بچا لیا وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب یستأسر الرجل) مسائل 1۔ سچا ایمان نصیب ہوجائے تو آدمی دنیا کی تکالیف کی پروا نہیں کرتا۔ 2۔ مشکل اور مصیبت کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ سے صبر اور استقامت مانگنا چاہیے۔ 3۔ ہر انسان نے بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے ایمان کی سلامتی اور اس پر استقامت طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مواحد لوگوں پر مشرکین کے مظالم : 1۔ فرعون قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ (البقرۃ : 49) 2۔ فرعون مومنوں کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کرتا تھا۔ (الاعراف : 141) 3۔ فرعون نے موحد ین کو ٹانگ اور بازو کاٹنے کی دھمکی دی۔ (الاعراف : 124) 4۔ فرعون نے اللہ پر ایمان لانے والوں کو ہاتھ پاؤں کاٹنے اور کھجور کے تنوں پر پھانسی دینے کی دھمکی دی۔ (طہٰ : 71) 5۔ فرعون نے اپنی موحدہ بیوی کو دین سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کی تکالیف دیں۔ (التحریم : 11)
Ayahs 7:127–130

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

” اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ فرعون نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور یقیناً ہم ان پر غالب ہیں۔ (127)

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور متقی لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے۔ (128)

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

انہوں نے کہا تیرے ہمارے پاس آنے سے پہلے ہمیں تکلیف پہنچائی گئی اور تیرے آنے کے بعد بھی۔ اس نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں جانشین بنادے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ “ (129)

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

” اور بلاشہ ہم نے فرعون کی آل کو قحط سالی اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (130)

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کو دھمکیاں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو قتل کرنے کی دھمکی۔ فرعون نے اہل ایمان کو اذیتیں دینے اور تختۂ دار پر لٹکانے کی دھمکی دی تھی اس کے ہم زبان ہو کر فرعون کے وزیروں، مشیروں، درباریوں اور سرکاری اہلکاروں نے اسے مزید اشتعال دلاتے ہوئے مطالبہ کیا، کیا موسیٰ اور اس کی قوم کو ملک میں بد امنی پھیلانے اور اپنی خدائی کا انکار اور بغاوت کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس پر اس نے پورے جاہ و جلال سے اعلان کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے بلکہ عنقریب ہم ان کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنائیں گے کیونکہ ہم ہر اعتبار سے ان پر جاہ و جلال اور اقتدار و اختیار رکھنے والے ہیں۔ ان کے خلاف پوری قوت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ سورة المومن (26) میں فرعون کی اس دھمکی کا ذکر بھی موجود ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے راستے سے ہٹ جاؤ کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینا چاہتا ہوں اور میرے مقابلہ میں یہ اپنے رب کو بلا لائے۔ اگر میں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل نہ کیا تو میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ تمہارے دین کو بدلنے کے ساتھ ملک اجاڑ دے گا۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط اتنا فرمایا کہ میں متکبر اور قیامت کے حساب و کتاب کو جھٹلانے والے ہر شخص کے شر سے، اس رب کی پناہ مانگتا ہوں جو میرا اور تمہارا حقیقی رب ہے۔ ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ فرعون کے جبر و استبداد کے مقابلہ میں پورے صبر و استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ زمین کا وارث اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے بنایا کرتا ہے حقیقی اور بہتر انجام مومنوں کے لیے ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم افسوس کرنے لگی کہ ہمیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے اور آپ کے آنے کے بعد بھی تکلیفیں ہی اٹھانا پڑی ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہوسکتا ہے کہ عنقریب ہی تمہارا رب تمہارے دشمن کو تباہ و برباد کردے اور پھر تمہیں ملک میں خلافت عنایت کرے اور دیکھے تمہارا کردار کیا ہے۔ سورة یونس آیت 84 تا 85 میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ بھی فرمایا اگر تم صحیح معنوں میں مسلمان ہوئے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ جس کے جواب میں ایماندار لوگوں نے کہا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ظالموں کے ظلم سے نجات دے۔ قرآن مجید کے انداز بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ فرعون نے جادو سے توبہ کرنے والے ایمانداروں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے بنی اسرائیل ہی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جادوگر پورے ملک سے لائے گئے تھے اور ان کا اپنے اپنے مقام پر لوگوں میں گہرا اثر و رسوخ تھا۔ اس کے پیش نظر فرعون اور اس کے درباریوں نے ان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے مناسب سمجھا کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو تہس نہس کیا جائے تاکہ بنیادی مسئلہ حل ہوجائے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا یہ دوسرا دور شروع ہوا۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے قبل بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی کئی سال تک مہم جاری رہی تھی۔ جسے اب دوبارہ پوری قوت کے ساتھ شروع کیا گیا۔ جس کا اندازہ قرآن کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ جبر و استبداد کی یہ مہم اتنی سخت تھی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (سورۂ یونس، آیت : 87) ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اپنی قوم کو حکم دو کہ اپنے گھروں کو قبلہ رخ بناتے ہوئے نماز قائم کریں اور عنقریب مومنوں کے لیے خوشخبری ہوگی۔ “ مسائل 1۔ متکبر اور بےدین حکمران ہمیشہ سے انبیاء ( علیہ السلام) اور مصلحین کو فسادی قرار دیتے آئے ہیں۔ 2۔ ظالم حکمران اور متکبر لوگ حق کا مقابلہ طاقت سے کیا کرتے ہیں۔ 3۔ مشکل اور مصیبت کے وقت صبر و استقامت کے ساتھ اللہ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ 4۔ صبر و استقامت اختیار کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توحید باری تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کا صبر و حوصلہ : 1۔ سخت آزمائش کے وقت رسولوں اور ایماندار لوگوں نے گھبرا کر کہا کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ (البقرۃ : 214) 2۔ مومن پر اللہ کی طرف سے خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان میں آزمائش ضرور آتی ہے۔ مومن صابر کے لیے خوشخبری ہے۔ (البقرۃ : 155) 3۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ (العنکبوت : 3) اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو بنایا۔ (النور : 55) 2۔ اللہ چاہے تو تمہیں اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے خلیفہ بنائے۔ (الانعام : 133) 3۔ تمہارا رب جلد ہی تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ (الاعراف : 129)
Ayahs 7:131–133

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارا ہے اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ سن لو ! ان کی نحوست تو اللہ کی طرف سے ہے لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ (131)

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔ “ (132)

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

” پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، جو الگ الگ نشانیاں تھیں، پھر بھی انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ (133)

فہم القرآن ربط کلام : آل فرعون پر برے حالات اور مومنوں کے صبر و استقامت کا صلہ۔ فرعون اور آل فرعون کے بےپناہ مظالم کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو تباہ و برباد کرے گا بشرطیکہ تم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور نماز ادا کرتے رہو۔ فرعون نے جب اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظالم سے نجات پانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کے اسباب و وسائل عنایت فرمائے۔ لیکن انھوں نے تیرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرنے پر صرف کردیے ہیں۔ اے ہمارے رب ان کے مال و اسباب تباہ و برباد فرما۔ اور ان کے دلوں کو اس قدر سخت کردے کہ تیرا عذاب دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی کہ تمہاری دعا قبول کی جاتی ہے۔ اب تم اور ہارون اس بات پر قائم رہنا اور گمراہوں کے بارے میں جلد بازی نہ کرنا۔ (سورۂ یونس : 88 تا 89) ۔ (وَلَنُذِیقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ )[ سورة السجدۃ : 21) ” ہم انھیں (قیامت کے) برے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا ذائقہ بھی ضرور چکھاتے ہیں شاید وہ باز آجائیں۔ “ ہم مجرموں کو پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب یہ لوگ سمجھنے کی طرف توجہ نہ کریں تو ان کو بڑا عذاب آلیتا ہے۔ یہی صورت آل فرعون کو پیش آئی۔ یہ ہدایت پانے کے بجائے گمراہی اور عہد شکنی میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ چناچہ آل فرعون کو کئی سال تک قحط سالی کے عذاب میں مبتلا کیا گیا تاکہ ان کے دماغ سے دولت کا نشہ اتر جائے اور یہ چھوٹے جھٹکوں کے بعد ہدایت کے راستے پر آجائیں۔ لیکن جونہی انھیں کچھ مہلت اور نعمت میسر ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کہتے یہ تو ہماری بہتر منصوبہ بندی اور حسن تدبیر کا نتیجہ ہے اور جب انھیں نقصان کے ذریعے جھٹکا دیا جاتا تو نصیحت حاصل کرنے کے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو الزام دیتے کہ یہ نحوست تمہاری وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ جس کا یہ جواب دیا گیا کہ نحوست مومنوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری بد اعمالیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس بات کو جاننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ قدیم زمانے سے جہلا کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے مختلف چیزوں سے بدشگونی لیا کرتے ہیں جن چیزوں سے بدشگونی لی جاتی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مخصوص اوقات میں اگر کوئی پرندہ ان کے مکان کی چھت پر آبیٹھے اگر وہ دائیں جانب اڑے تو ضعیف الاعتقاد لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کا دن بہتر گزرے گا یا ہمارا فلاں کام ہوجائے گا اگر یہی پرندہ بائیں طرف اڑ جائے تو سمجھتے ہیں کہ آج کا دن منحوس ہوگا یا فلاں کام الٹ جائے گا۔ ایسے ہی بعض دوسری چیزوں اور آدمیوں کے بارے میں بدشگونی لی جاتی ہے۔ آل فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو برا سمجھتے ہوئے نحوست ان کے ذمہ لگایا کرتے تھے۔ اس طرح نہ صرف خود گمراہی میں مبتلا رہتے بلکہ دوسرے لوگوں کو اس بہانے سے مزید گمراہ کرنے کے درپے ہوتے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے سامنے معجزہ پیش کرتے تو یہ لوگ انھیں جادو گر قرار دیتے ہوئے چیلنج دیتے کہ اے موسیٰ ! تم جس قدر چاہو کرشمہ سازیاں کرو ہم تمہاری اس جادوگری کی وجہ سے کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ” اَلْحَسَنَۃُ “ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت ہو اور اس کی طرف انسان کا دل مائل ہو۔ یہ دنیا کی کوئی بھی نعمت ہوسکتی ہے اور یہ لفظ نیکی اور خیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ نیکی سے بڑھ کر نیک آدمی کو کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلہ میں السیءۃ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد دنیا کا ہر قسم کا نقصان ہے خواہ وہ بیماری کی شکل میں ہو یا مالی خسارے کی صورت میں اس کے لییالسیءۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے گناہ کو بھی سیءۃ کہا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے الحسنۃ سے مراد یہاں آل فرعون کی خوشحالی اور سیءۃ سے مراد ان کی بدحالی لی ہے۔ آل فرعون کے نحوست کے الزام کے مقابلے میں کہا گیا کہ یاد رکھو جو نحوست تم پر آئی ہے یہ کسی انسان کی طرف سے نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بڑے عذاب سے پہلے مجرم قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ 2۔ مجرم لوگ نیک لوگوں کو ہمیشہ سے منحوس قرار دیتے آئے ہیں۔ 3۔ نحوست کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں کیونکہ خیر اور شر کا مالک اللہ ہے۔ 4۔ آل فرعون نے بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تمسخر اڑایا۔ تفسیر بالقرآن آل فرعون پر مختلف قسم کے عذاب : 1۔ اللہ نے قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب بھیجے : طوفان، مکڑی، جوئیں، مینڈک، خون وغیرہ۔ (الاعراف : 133) 2۔ قحط سالی۔ پھلوں میں نقصان۔ (الاعراف : 130) 3۔ آل فرعون پر صبح وشام آگ پیش کی جاتی ہے اور قیامت کے دن انہیں سخت ترین عذاب سے دوچار کیا جائیگا۔ (المومن : 46) 4۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136) 5۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103) 6۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الانفال : 54) 7۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور دوسروں کو ہم نے غرق کردیا۔ (الشعراء : 66۔ 67) 8۔ ہم نے تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (البقرۃ : 50)
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ! اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے دعا کرو جو اس نے تجھے دے رکھا ہے اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کردے تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور بھیج دیں گے۔ (134)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ آل فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار عہد شکنی کرنے کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور قوم فرعون کو کئی مرتبہ عظیم الشان معجزات دکھائے بار بار اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ملک بھر کے نامی گرامی جادو گر نہ صرف شکست فاش کھاچکے بلکہ انھوں نے سرمیدان پوری قوم کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لانے کا اقرار اور اظہار کیا۔ فرعون نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بد ترین سزاؤں اور الٹا لٹکا دینے کی دھمکیاں دیں، صاحب ایمان لوگوں نے پوری جوان مردی کے ساتھ آل فرعون کے مظالم کا مقابلہ کیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم سمجھنیکے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اولوالعزم ساتھیوں کو منحوس قرار دیتے ہوئے جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے رہے۔ جس پر انھیں ہلکے عذابوں کے بعد پانچ سخت اور ذلیل کردینے والے عذابوں میں مبتلا کیا گیا۔ سیلاب : 1۔ بارش انسانی صحت اور ہر چیز کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر زمین مردہ اور ہر چیز مرجھائی نظر آتی ہے۔ بشرطیکہ یہ بر وقت اور مناسب مقدار میں ہو۔ اگر یہی بارش بےوقت اور غیر معمولی ہو تو اس سے ہر چیز تباہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون پر بےموسم اور غیر معمولی بارشیں نازل کیں۔ جس سے ان کی فصلیں تباہ، جانور بدحال اور مکانات گرگئے۔ باد و باراں کے طوفان اس لیے نازل کیے گئے تاکہ یہ لوگ توبہ و استغفار کریں۔ لیکن یہ توبہ کرنے کے بجائے تکبرّاور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اس کے بعد ٹڈیوں کا عذاب نازل ہوا۔ ٹڈیوں کے جھنڈ : 2۔ ٹڈیوں کے دل کے دل امڈ آئے اور انھوں نے نہ صرف باقی ماندہ کھیتوں اور فصلوں کو تباہ کیا بلکہ درختوں کی ٹہنیاں تک کھاڈالیں سرسبز و شاداب ملک ویرانی اور تباہی کا منظر پیش کرنے لگا۔ جوؤں کی بہتات : 3۔ ان کے لباس اور جسم کی رگ رگ میں اس قدر کثرت کے ساتھ جوئیں پیدا ہوئیں کہ ان کا رات کا سونا اور دن کا سکون غارت ہوگیا۔ ان لوگوں نے خارش کر کر کے اپنے جسم زخمی کرلیے۔ مگر ایمان نہ لائے۔ مینڈکوں کی بہتات : 4۔ جوؤں کے بعد مینڈکوں کا اتنا شدید سیلاب آیا کہ مینڈکوں کے ڈَل کے ڈَل ان کے کھیتوں، کھلیانوں اور گھروں میں اس طرح گھس آئے کہ ان کے لیے چار پائی کے اوپر بستروں میں سونا بھی حرام ہوگیا۔ خوفناک شکل اور بھاری بھرکم مینڈک ملک میں اس طرح پھیل گئے کہ ہر شخص خوف کے مارے چھپتا پھرتا تھا۔ لیکن جائیں تو کہاں جائیں۔ خون ہی خون : 5۔ ہر کھانے پینے والی چیز میں خون ہی خون پیدا ہوا، یہاں تک کہ ماؤں کی چھاتیوں میں دودھ کی بجائے خون اتر آیا حتیٰ کہ آل فرعون میں سے کوئی اگر کسی اسرائیلی سے پانی طلب کرتا تو وہ جونہی اس پانی کو پینے لگتا تو وہ بھی گندے خون میں تبدیل ہوجاتا۔ بعض مفسرین نے یہاں تک لکھا ہے کہ آل فرعون کی ایک عورت نے انتہائی قلق کی حالت میں اپنی پڑوسن اسرائیلی عورت کو کہا کہ پانی کی ایک کلی میرے منہ میں ڈال دے تاکہ مجھے سکون حاصل ہو۔ جب اس کی پڑوسن نے ایسا کیا تو پانی کی کلی آل فرعون کی عورت کے منہ میں جا کر خون میں تبدیل ہوگئی۔ نہ معلوم فرعون نے پہلے پہل ان عذابوں کے بارے میں عوام میں کیا تاثر دیا ہوگا اور ان کے مقابلہ میں سرکاری سطح پر کیا کیا جتن کیے ہوں گے لیکن جب اس کی تمام کوششیں نامراد ہوئیں تو وہ ہر عذاب کے بعد مجبور ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہو کر انتہائی آہ وزاری اور عاجزی کے ساتھ پختہ وعدہ کرتے ہوئے کہتا کہ اے موسیٰ ! اپنے رب کے حضور دعا کیجیے کہ یہ عذاب ہم سے ٹل جائے ہمیں اس عذاب سے نجات ملے گی تو ہم آپ پر ایمان لاکر بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے۔ لیکن جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ٹلتا تو وہ عہد شکنی کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ شرک و کفر اور بنی اسرائیل کو اذیتیں دیا کرتے تھے۔ قرآن و حدیث میں ان عذابوں کے دورانیہ کی وضاحت نہیں ملتی تاہم تفسیر روح المعانی اور قرطبی کے مؤلفین نے بنی اسرائیل کی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر عذاب کا دورانیہ ایک ہفتہ پر محیط ہوتا تھا۔ اور اس کے بعد ایک مہینہ کی مہلت دی جاتی تھی جونہی وہ لوگ آسودہ حال ہوتے تو پہلے سے زیادہ کفر و شرک اور مظالم کا ارتکاب کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر فرعون نے یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : (وَقَالُوْا یٰاَیُّہَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَجاِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ ۔ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ ۔ وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَ ہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَ الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَّلَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَہُ الْمَلٰءِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ )[ الزخرف، آیت : 49 تا 53] ” اے جادوگر اپنے رب سے عذاب ٹلنے کی دعا کیجیے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ضرور ہدایت پائیں گے۔ لیکن جب عذاب ٹل گیا تو اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے میری قوم کیا تم نہیں دیکھتے کہ مصر کا اقتدار میرے ہاتھ میں ہے اور نہریں میرے محلات کے نیچے چلتی ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو میرے مقابلہ میں ذلیل ہے اور اپنی بات واضح نہیں کرسکتا۔ اگر یہ واقعی سچا ہے تو اس کے لیے سونے کے کنگن اور اس کی اردل میں فرشتے اترنے چاہییں تھے۔ “ مسائل 1۔ فرعون اور اس کی قوم بدترین مجرم اور متکبر لوگ تھے۔ 2۔ فرعون اور اس کی قوم بار بار موسیٰ (علیہ السلام) سے بد عہدی کرتے رہے۔ 3۔ آل فرعون پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب آئے لیکن وہ سمجھنے کے بجائے کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے گئے۔