Ayah 6:1فہم القرآن
قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار واضح فرمایا ہے کہ زمین کا ذرہ ذرہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش میں رطب اللّسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اسی بنا پر اس سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ اپنی حمد کا استحقاق بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور اسی نے ظلمات اور نور بنایا لیکن کافر اتنے ناعاقبت اندیش ہیں کہ وہ اس عظیم الشان ہستی کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں حالانکہ وہ ایسی ہستی ہے جس نے نہ صرف سب کو پیدا فرمایا ہے بلکہ ہر کسی کی ضرورت کے مطابق اس کی پرورش کا انتظام فرمایا ہے۔ یہاں زمین و آسمانوں کے لیے تخلیق کا لفظ استعمال فرمایا۔ اندھیروں اور روشنی کے لیے ” جَعَلَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شاید اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو جو موجودہ سائنس دانوں نے ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے جس طرح زمین ایک کرَّہ ہے اسی طرح سورج چاند اور بیشمار کرّہ جات ہیں۔ جس طرح سورج کے عکس سے چاند روشن ہوتا ہے اسی طرح بلندی پر جاکر دیکھیں تو زمین چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور ہر کرّہ ایک دوسرے کو روشن کیے ہوئے ہے۔ پھر اندھیرے کے لیے جمع کا لفظ استعمال کیا اور روشنی کو واحد قرار دیا۔ اس لیے اکثر مفسرین نے واضح فرمایا کہ اندھیرے کئی قسم کے ہیں اور روشنی ایک ہی ہوتی ہے۔ ظلمات سے مراد مختلف قسم کی گمراہیاں ہیں اور نور کا مفہوم ہدایت لیا گیا ہے کیونکہ ہدایت ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اور گمراہی ہر دور میں اپنا روپ بدلتی رہتی ہے۔ لفظ ظلمات کو پہلے اس لیے لایا گیا یہ کائنات پہلے دھواں کی شکل میں تھی جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ اور موجودہ سائنس بھی اس کی تائید کر رہی ہے۔
Ayah 6:2فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : جس میں توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف کے حوالے سے پہلی آیت میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں سب سے پہلے مٹی کو پیدا فرمایا۔ اب ارشاد ہوا کہ اے انسان ہم نے اسی مٹی سے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تخلیق انسانیت کے پہلے مرحلہ کا ذکر کرنے کے بعد اجل کا ذکر کیا ہے۔ اجل کا معنی وہ مدت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان اور ہر چیز کی مقرر کر رکھی ہے۔ جسے دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی اجل سے مراد انسان اور ہر چیز کی ابتدا اور موت ہے دوسری اجل کا مفہوم قیامت لیا گیا ہے دونوں قسم کی اجل کا ایک وقت مقرر ہے جس میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوسکتی اور دنیا کا کوئی سائنس دان اس اجل کی مدت کو نہیں پاسکتا۔ یہاں انسان کو اس کی تخلیق کے ساتھ اس کی اصلیت بتائی گئی ہے کہ اے انسان ! تو جو کچھ بھی ہوجائے تیری اصلیت مٹی ہے۔ اور بالآخر تجھے اسی میں جانا ہے دوسرے لفظوں میں انسان کی تخلیق سے لے کر اس کی موت اور پھر قیامت کے دن اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پیش ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا لیکن صد حیف ہے ایسے انسان پر جو نہ صرف اپنی ابتدا اور انجام کو بھول چکا ہے بلکہ وہ خالق حقیقی کے بارے میں بھی شک کرتا ہے۔
(عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ )[ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ]
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی سے پیدا کیا۔ جو اس نے ساری زمین سے لی تھی تو آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور ان کی درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں کچھ سخت اور کچھ نرم طبیعت کے لوگ ہیں اسی طرح کچھ نیک اور کچھ بد ہیں۔ “
(عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَال النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَخَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة الحجرات ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا فرمایا۔ “
(خَلَقَ الإِْنسَانَ مِن صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ )[ سورة الرحمن : 14]
” اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا “
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ )[ سورة الحجر : 26]
” اور ہم نے انسان کو گلے سڑے گارے، کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا “
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنسَانَ مِن سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ )[ سورة المؤمنون : 12]
” اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَی ہَذَا الَّذِی فِی الْوَسَطِ ، مِنْ جَانِبِہِ الَّذِی فِی الْوَسَطِ وَقَالَ ہَذَا الإِنْسَانُ ، وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِیطٌ بِہِ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہِ وَہَذَا الَّذِی ہُوَ خَارِجٌ أَمَلُہُ ، وَہَذِہِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا )[ رواہ البخاری : باب فِی الأَمَلِ وَطُولِہِ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے چوکور خط کھینچا اور ایک خط اس کے درمیان میں سے کھینچا جو چوکور خط سے باہر نکل رہا تھا اور اس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے اور خط کھینچے آپ نے فرمایا درمیان والا خط انسان ہے اور چاروں طرف سے اس کی اجل اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو خط باہر نکل رہا ہے یہ اس کی حرص ہے اور چھوٹے چھوٹے جو خطوط ہیں یہ اس کی خواہشات ہیں اگر ایک سے بچے تو دوسری خواہش دامن تھام لیتی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا۔ 2۔ ہر نفس کی موت وحیات کا ایک وقت مقرر ہے۔
3۔ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز کا وقت مقرر ہے :
1۔ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : 34)
2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو وقت مقررہ تک ڈھیل دیتا ہے۔ (ھود : 104)
3۔ سورج اور چاند اپنے مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ (الرعد : 2) 4۔ رات اور دن اپنے وقت کے پابند ہیں۔ (الزمر : 5)
5۔ جب کسی کی اجل آجائے تو اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ ( یونس : 49)
Ayahs 6:3–4فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : توحید کے دلائل کا تذکرہ جاری ہے۔
اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق اس کی موت وحیات کا ذکر تھا۔ اب اللہ تعالیٰ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اے انسان تجھے ہوش کے ناخن لینے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح وہ زمین و آسمان کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ سے واقف اور ان کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح وہ انسان کی جلوت و خلوت اور ہر قسم کی نقل و حرکت سے واقف ہے۔ کسب کا لفظ استعمال فرما کر انسان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے کردار سے پوری طرح واقف ہے۔ تخلیق کائنات کا پہلے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان ! اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات کبریا ہے جو لامحدود وسعتوں کی حامل زمین جو تہ در تہ سات طبقات پر مشتمل ہے اور آسمان جو اپنی وسعت و کشادگی اور رفعت و بلندی کے اعتبار سے انسانی تخیلات سے ماوراء ہے جب ان کے ایک ایک ذرّے پر اللہ تعالیٰ کنٹرول کیے ہوئے ہے تو تجھے بھی غور کرنا چاہیے کہ تیری جلوت و خلوت، اچھی اور بری حرکت۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر نہیں ہوسکتی یہ تو اس کی حکمت بالغہ اور ابدی فیصلے کا نتیجہ ہے کہ اس نے انسان کو ایک مدت معینہ تک ڈھیل دے رکھی ہے لیکن انسان کی کوتاہ بینی کا عالم یہ ہے کہ وہ چار سو پھیلی ہوئی اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض اور انحراف کرتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب بھی انسان کے سامنے انبیاء (علیہ السلام) نے حق پیش کیا تو انسانوں کی غالب اکثریت نے اس کی تکذیب کی۔ اس تکذیب کا نتیجہ عنقریب ان کے سامنے آجائے گا جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی صورت میں ہوگا۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا دس فرسخ کے فاصلے سے۔ “ [ (الشفا) بحوالہ ابن کثیر ]
Ayahs 6:5–6فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو توحید اور اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض، ان کی تکذیب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا تھا۔ اب افتراء اور استہزاء پر ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔
اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ کفار اور مکذّبین کو عذاب کی وعید سنانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے عاد، ثمود، قوم فرعون اور قوم لوط کو ہلاک کردیا گیا۔ جنھوں نے اس گھمنڈ کے ساتھ تکذیب کی کہ ہم بہت طاقتور، اور مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی پکڑ کی اور ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسری قوم کھڑی کردی۔
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے جو قوم اپنے رسول کی تکذیب اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہے۔ اللہ اسے ملیا میٹ کردیتا ہے۔
قرن : کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مال اور طاقت ان کے کچھ کام نہ آئے، ایک نسل یا کسی قوم کا دور مدت سو سال بیان کی گئی ہے۔ (رازی)
نبی ﷺ نے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے فرمایا تھا تم ایک قرن زندہ رہو گے۔ تو وہ سو سال زندہ رہے۔ (الجامع لاحکام القرآن)
(عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ قَالَ عِمْرَانُ لَا أَدْرِی أَذَکَرَ النَّبِیُّ ﷺ بَعْدُ قَرْنَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً )
[ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب لایشہد علی شہادۃ جور ]
” حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین زمانہ میرا ہے پھر ان کے بعد آنے والے لوگ پھر ان کے بعد آنے والے لوگ درجہ بدرجہ ہیں۔ عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں مجھے یہ بات یاد نہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے بعد دو زمانوں کا تذکرہ کیا یا تین کا۔ “
مسائل
1۔ کافر اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کو ضرور سزا دی جائے گی۔
3۔ جو قوم بھی سرکشی کی راہ اختیار کرے گی اسے خوشحالی و مادی ترقی ہلاکت سے نہیں بچا سکتی۔
تفسیر بالقرآن
تباہ ہونے والی بڑی بڑی اقوام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6)
2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13)
3۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
4۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
5۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : 35)
6۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
7۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : 82)
Ayah 6:7فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے انتباہ اور پہلی اقوام کے انجام بیان کرنے کے باوجود کفار کے بےجا مطالبات اور ان کا جواب۔
اہل کفر انبیاء ( علیہ السلام) سے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا دعویٰ کسی نبی ﷺ نے نہیں کیا تھا اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت تک تیری تائید نہیں کرسکتے۔ جب تک تختیوں کی شکل میں ہمارے پاس تورات نہ لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی شکل میں آسمان سے تورات نازل فرمائی۔ مطالبہ پورا ہونے کے باوجود بنی اسرائیل کی اکثریت نے تورات پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ یہی حال اہل مکہ کا تھا۔ وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم پر قرطاس یعنی اوراق کی شکل میں کتاب نازل کی جائے اور ہم اس کو اپنے ہاتھوں سے اچھی طرح ٹٹول کر یقین کرلیں۔ تب جا کر ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اہل کفر کا شروع سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب ان کا مطالبہ پورا ہوجاتا تو وہ اسے جادو قرار دیتے تھے۔ یہی اہل مکہ نے کردار پیش کیا َ ۔ جب نبی محترم ﷺ سے چاند کو دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا۔ آپ کے اشارہ کرنے پر اللہ کے حکم سے چاند دو ٹکڑے ہوا تو کہنے لگے یہ شخص تو بہت بڑا جادو گر ہے۔ ایسا ہی ان کا رد عمل آپ پر نازل کیے گئے دوسرے معجزات کے بارے میں سامنے آیا۔ اس کے بعد انھوں نے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اس نبی کے ساتھ ایک فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی گئی جو جگہ جگہ اس کی تائید کرتا اور اس کا انکار کرنے والوں کو موقع پر سزا دیتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اگر ہم فرشتے کو نازل کرتے تو پھر مہلت دیے بغیر موقع پر ہی مجرموں کو سزا دے دی جاتی۔ جس طرح کہ قوم لوط کے پاس فرشتے آئے اور انھوں نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بستی سے نکل جانے کا موقع فراہم کرنے کے بعد منکروں کو تہس نہس کردیا۔
(قَالُوْا یَا لُوْطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا إِلَیْکَ فَأَسْرِ بِأَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَکَ إِنَّہُ مُصِیبُہَا مَا أَصَابَہُمْ إِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ أَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیلٍ مَّنْضُوْدٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ) [ ہود : 81 تا 83]
” کہنے لگے : اے لوط ! ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے تم رات کا کچھ حصہ باقی ہو تو اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی بھی مڑ کر نہ دیکھے البتہ تمہاری بیوی پر وہی کچھ گزرنا ہے جو ان پر گزرے گا۔ ان پر عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا اب صبح قریب ہی نہیں ؟ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ نچلا حصہ بنا دیا پھر ان پر کھنگر قسم کے تہ بہ تہ پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے اور یہ خطہ ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں۔ “
مسائل
1۔ اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے نت نئے مطالبے کیا کرتے تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال سے بخوبی واقف ہے۔
3۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اہل کفر کا وطیرہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) پر کفار کے جادو کا الزام :
1۔ آل فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گرکا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
2۔ کفار نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
3۔ کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے اسے جادو قرار دیا۔ (سباء : 43)
4۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ (الزخرف : 30)
5۔ نبی اکرم ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ ( الصف : 6)
6۔ نبی ﷺ کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الفرقان : 8۔ بنی اسرائیل : 47)
7۔ کیا قرآن جادو ہے یا تم نہیں دیکھتے۔ (الطور : 15)
8۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : 153۔ 185)
Ayahs 6:8–9فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا دوسرا مطالبہ :
سورۂ یونس آیت 2 میں بیان ہوا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے انبیاء کو کیوں مبعوث کیا ہے ؟ سورة الفرقان کی آیت 7 میں کفار کے اس تعجب کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ نازل کرتا جو ہر مقام پر اس کی تائید کرتا۔ یہاں بھی کفار کے اسی مطالبہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ جس کے دو جواب دیے گئے ہیں کہ اگر ہم اپنے رسول کی تائید میں فرشتہ نازل کرتے اور اسکے مقابلہ میں لوگ انکار کرتے تو ان کو کبھی مہلت نہ دی جاتی۔
دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر فرشتہ کو رسول بنایا جاتا تو وہ بھی انسان کی شکل میں ہی رسول ہوتا اگر ہم ایسا کرتے تو یہ لوگ یہی یاوا گوئی کرتے کہ ہم انسان ہیں اور ہمارے لیے ہمارے جیسا انسان ہی رسول ہونا چاہیے تھا۔
انسانوں میں رسول بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح اپنی حاجات کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے بہترین نمونہ ثابت ہوں، تاکہ لوگ یہ بہانہ نہ بنا سکیں کہ تم تو فرشتے ہو جبکہ ہم حاجات میں پھنسے ہوئے انسان ہیں لہٰذا ہم شریعت پر کس طرح عمل پیراہو سکتے ہیں ؟ اس بہانے کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے وہ سارے بنی نوع انسان میں سے تھے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔
افسوس آج مسلمانوں میں کئی لوگ نبی ﷺ کو فرشتہ یعنی نوری مخلوق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو صریح طور پر قرآن مجید کی آیات کے الٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت سے نوازے۔ آمین
(أَکَان للنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَیْنَا إِلٰی رَجُلٍ مِّنْہُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِینَ اٰمَنُواْ أَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عندَ رَبِّہِمْ قَالَ الْکَافِرُونَ إِنَّ ہٰذَا لَسٰاحِرٌ مُّبِینٌ)[ یونس : 2]
” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ انہیں میں سے ایک آدمی پر ہم نے وحی کی کہ وہ لوگوں کو ڈرائے اور ایمان لانے والوں کو یہ خوشخبری دے کہ ان کے رب کے ہاں ان کی حقیقی عزت اور مرتبہ ہے تو کافروں نے کہہ دیا کہ یہ صاف جادو ہے۔ “
(وَقَالُوا مالِ ہٰذَا الرَّسُولِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِی فِی الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیرًا) [ الفرقان : 7]
” وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھر تا ہے اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو ڈرایا کرتا ؟ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی رسول منتخب فرماتا رہا ہے۔
2۔ اللہ کی آیات آجانے کے بعد لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔
3۔ کھلے معجزے کا انکار کرنا عذاب الٰہی کو دعوت دینا ہے۔
تفسیر با لقرآن
تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر اور بندے تھے۔
1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11)
2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : 43)
3۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (الکہف : 110، حٰم السجدۃ : 6)
4۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : 109)
5۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء : 34)
6۔ کفار کو ان کے رسولوں نے کہا ہم تمہاری طرح بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11)
7۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : 186)
Ayahs 6:10–11فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق اور اس کا انجام۔
اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے صرف اوٹ پٹانگ مطالبات ہی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انھیں ہر طرح زچ اور پریشان کرنے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے تھے۔ ان ہتھکنڈوں اور کٹ حجتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی نبوت کو مذاق اور ان کے کام کو کھیل تماشا سمجھتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ان سے کہنے لگی کہ کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور سچ کی بات لایا ہے یا کہ محض کھیل تماشا کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے رب کی ہی بات کہہ رہا ہوں وہ رب جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں تم پر شہادت قائم کر رہا ہوں۔ (الانبیاء : 56، 55)
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ساڑھے نو سو سال آپ کو ستایا چند لوگوں کے سوا باقی لوگ ان کی مخالفت اور کفر پر ڈٹے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں بد دعا کی اے میرے رب اب ایسا عذاب نازل فرما کہ کفار کا ایک فرد بھی نہ بچے۔ اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا آپ ہماری نگرانی اور وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کریں۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کر رہے تھے تو ان کی قوم کے بڑے لوگ دیکھ کر انھیں مذاق کرتے تھے۔ جس کے جواب میں جناب نوح (علیہ السلام) فرماتے کہ وقت آنے والا ہے۔ جس طرح ہمیں مذاق کرتے ہو ہم بھی تمہیں اسی طرح مذاق کریں گے۔ پہلی اقوام کی طرح کافر اور منافق بھی نبی ﷺ کو مذاق کرتے تھے۔ منافقوں کے بارے میں تو یہاں تک موجود ہے جب آپ پر کسی نئی سورت کا نزول ہوتا تو منافق آپ کو استہزاء کا نشانہ بناتے۔ جب آپ انھیں سمجھاتے تو وہ کہتے ہم تو محض شغل اور دل لگی کے لیے ایسی بات کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کیا تم اللہ کی ذات اور اس کے ارشادات اور اس کے معزز رسول سے مذاق کرتے ہو ؟ (التوبۃ : 64 تا 65)
یہاں ایسے لوگوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول ! اپنا عزم اور حوصلہ بلند رکھیے آپ سے مذاق ہونا کوئی عجب کی بات نہیں آپ سے پہلے انبیاء کا تمسخر اڑایا جاتا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو ان کے کردار کی سزا ملی اسی طرح آپ کو مذاق کرنے والے بھی اپنے انجام سے دو چار ہوں گے۔ لہٰذا آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور انبیاء کو مذاق کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔
مسائل
1۔ پہلی اقوام کے انجام سے عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔
2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کو نشانۂ عبرت بنا دیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء اور ” اللہ “ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ :
1۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران : 184)
2۔ آپ کو اگر انھوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ (یونس : 41)
3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : 147)
4۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح وغیرہ۔ (الحج : 42)
5۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ (الفاطر : 25)
6۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں
گے۔ (البقرۃ : 39)
7۔ انہوں نے کہا کیا بشر ہم کو ہدایت دے گا انہوں نے کفر کیا اور ایمان لانے سے اعراض کیا۔ (التغابن : 6)
8۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ (العنکبوت : 37)
Ayah 6:12فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کو عبرت آموزی کے لیے زمین میں چل پھر کر نشانات عبرت دیکھنے کا حکم دینے کے بعد بتایا گیا ہے کہ جس زمین پر تم چلتے اور آسمان کے نیچے رہتے ہو۔ وہ اللہ کی ملک ہیں۔ لہٰذا کفار اور مشرکین سے چند سوال کیے جاتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے اور آپ سے استہزاء کرنے والوں سے پوچھیے کہ یہ زمین و آسمان کس کی ملکیت اور کس کے کنٹرول میں ہیں ؟
کیونکہ اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور ان پر کلی اختیار رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا ان کے جواب کا انتظار کرنے کے بجائے آپ کو حکم ہوا کہ بےدھڑک فرما دیں کہ یہ اللہ کی ملک ہیں اور اسی کے اقتدار اور اختیار کے تابع ہیں۔
انبیاء ( علیہ السلام) کا مذاق اڑانے والے کھلے پھر رہے ہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت سے باہر ہیں بلکہ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے آپ پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک مدت تک مہلت دے گا۔ البتہ ایک دن ضرور آئے گا، جس میں سب لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ اس دن اللہ کے منکر ایسے خسارے میں ہوں گے جس کی تلافی نہیں کر پائیں گے۔
بعض لوگ اس آیت کریمہ کو سامنے رکھتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت غالب اور واجب کرلی ہے اور وہ ماں کی مامتا سے زیادہ مہر بان ہے تو پھر اس کا اپنے بندوں کو عذاب دینا چہ معنی دارد۔
مفسر قرآن امام رازی ؓ اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ماں اپنے بچے پر اس وقت تک ہی مہربان ہوتی ہے جب بچہ اپنی ماں کی مامتا کو تسلیم کرتا ہے اگر کوئی ماں کے ہونے کا کلیتاً انکار کرے اور کسی اور کو ماں کا درجہ دے دے تو کوئی غیور ماں ایسے بچے پر ترس کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ مشرک اور کافر کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے۔
(عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ سَبْیٌ فَإِذَا امْرَأَۃٌ مِّنْ السَّبْیِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْیَہَا تَسْقِی إِذَا وَجَدَتْ صَبِیًّا فِی السَّبْیِ أَخَذَتْہُ فَأَلْصَقَتْہُ بِبَطْنِہَا وَأَرْضَعَتْہُ فَقَالَ لَنَا النَّبِیُّ ﷺ أَتُرَوْنَ ہٰذِہٖ طَارِحَۃً وَلَدَہَا فِی النَّارِ قُلْنَا لَا وَہِیَ تَقْدِرُ عَلٰی أَنْ لَا تَطْرَحَہُ فَقَال اللّٰہُ أَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ ہٰذِہٖ بِوَلَدِہَا)
[ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ ]
” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ ان قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتی سے دودھ بہہ رہا تھا۔ جونہی اس نے اپنے بچے کو پایا اس کو پکڑتے ہوئے اس نے اپنے سینے سے لگا کر اسے دودھ پلانا شروع کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس عورت کی محبت سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں
2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو واجب کرلیا ہے
3۔ تمام لوگوں کو قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی رحمت بےکنار ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ (الاعراف : 156)
2۔ قیامت کے منکر اللہ کی رحمت سے مایوس ہوں گے۔ (العنکبوت : 23)
3۔ دن اور رات کو اللہ نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے پر سکون بنایا ہے۔ (القصص : 73)
4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرلیتا ہے۔ (البقرۃ : 105)
5۔ ایماندار صالح اعمال کرنے والوں کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ (الجاثیۃ : 30)
Ayah 6:13فہم القرآن
ربط کلام : صرف زمین و آسمان اللہ کی ملکیت نہیں بلکہ ان کی گردش کے نتیجہ میں رات اور دن کا وجود اور ظہور، تاریکیوں اور روشنیوں میں رہنے والی ہر چیز اس کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔
مشرکین مکہ کے الزامات میں نبی ﷺ کی ذات پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ اور توحید کا پرچار اس لیے کیا ہے تاکہ آپ اس کے بدلے میں دنیا کا مال و متاع جمع کرسکیں۔ اس کے لیے ایک موقع پر انھوں نے آپ کو پرکشش مراعات پیش بھی کی تھیں۔ جن میں آپ کو حاکم تسلیم کرنا، نکاح کے لیے خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے ساتھ انھوں نے آپ کے حسب منشاء دولت جمع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
کچھ مفسرین کے خیال کے مطابق یہ اسی پیشکش کا جواب ہے کہ تم لوگ توحید باری تعالیٰ کے بدلے میں جو پیشکشیں کرتے ہو۔ ذرا سوچو تو سہی یہ زمین و آسمان، رات اور دن ان میں رہنے اور بسنے والی ہر چیز کس کی ملکیت ہے ؟ اس میں نبی ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ایسے ہی مشکلات کے بعد آسانیوں اور کامیابیوں کا حاصل ہونا بھی یقینی ہے۔ جیسے رات کی تاریکی اور دن کی روشنی لازم و ملزوم ہیں ایسے ہی حق و باطل کی کشمکش بھی لازم و ملزوم ہے لہٰذا آپ حوصلہ پست کرنے کے بجائے اپنا کام جاری رکھیں۔ جس اللہ نے آپ کو اپنا پیغام رساں بنایا ہے۔ وہ اللہ آپ کے اخلاص اور آپ کی محنت شاقہ جاننے کے ساتھ آپ کے مخالفوں کی ہر بات کو سننے والا اور ہر حرکت کو جاننے والا ہے۔
مسائل
1۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا ظاہر و باطن جانتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا اور سنتا ہے :
1۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو ؟ جو تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
(المائدۃ : 76)
2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : 1)
3۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ : 11)
Ayahs 6:14–16فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین اور کفار سے دوسرا سوال اور اس کا جواب :
جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر کسی کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق روزی پہنچانے والا ہے اور سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں تو ایسے خالق، مالک اور رازق کو چھوڑ کر اس کے سوا کسی دوسرے کو کس طرح اپنا خیر خواہ سمجھوں ؟ اگر وہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ نہ کرے تو باپ کی شفقت اور ماں کا رحم بھی آدمی کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کروں اور مشرکوں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کروں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو زمین و آسمان کا خالق، مالک اور کسی دوسرے کو روزی رساں اور اس کے سوا مہربان تسلیم کرلوں تو میں اس نافرمانی کے بدلے عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گا جس سے میں ڈرتا ہوں۔
یاد رکھیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے اس پر اس کا بڑا کرم ہوا۔ اور یہ ایمان دار کے لیے کھلی کامیابی ہے۔
(عن أبی ہُرَیْرَۃَ قَالَ ؓ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ لَنْ یُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ لَا وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَتَغَمَّدَنِی اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ )
[ رواہ البخاری : کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جنت میں کسی کو بھی اس کے اعمال داخل نہیں کریں گے صحا بہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی محترم ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کو رزق دینے والا ہے۔
2۔ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہنا چاہیے۔
3۔ جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کی رحمت کی نشانی ہے۔
4۔ جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی انسان کو کھلاتا پلاتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58)
2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء : 39)
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
4۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212)
5۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : 58)
6۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : 60)
7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 151)
Ayahs 6:17–18فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ہی جزا و سزا اور رحم و کرم کا مالک نہیں بلکہ دنیا میں بھی خیر و شر کا اختیار رکھنے والا ہے۔
خیر و شر کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو نقصان سے آپ کو بچا سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو بھلائی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے آپ کو براہ راست مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب رسول معظم ﷺ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکے۔
یہ ایسا عقیدہ ہے جو مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی سے بےنیاز کردیتا ہے اسی عقیدہ کی بنیاد پر مجاہد میدان کار زار میں اترتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ نے میری حفظ وامان کا ذمہ لیا ہوا ہے۔ اس وقت تک دشمن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور یہی عقیدہ اخلاص کی دولت عطا کرتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہر مسلمان دوسرے مسلمان سے پر خلوص محبت کا ناتہ جوڑتا ہے۔
کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ خیر و شر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی اللہ اپنے بندوں کو نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے فیصلے کے سامنے کسی جابر کا جبر اور کسی صالح کی صالحیت رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ کسی کو خیر پہنچانے اور عذاب دینے کی حکمت سے خوب واقف ہے۔
(عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ ؓ إِلَی الْمُغِیرَۃِ اُکْتُبْ إِلَیَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ فَأَمْلٰی عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ )
[ رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللہ ]
” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد کہتے ہیں معاویہ ؓ نے مغیرہ کی جانب لکھا کہ مجھے لکھ کر بھیجئے۔ جو آپ نبی اکرم ﷺ سے نماز کے بعد سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ ایک ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی نہیں دینے والا۔ اور تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مصیبت دور کرنے والا نہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب حکمت ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔
5۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھلائی عطا نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی مشکل کشا، حاجت روا ہے :
1۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : 41)
2۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوجائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ (یونس : 107)
3۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (الاسراء : 56)
4۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے۔ (النمل : 62)
5۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا کوئی نقصان دور کرسکتا ہے۔ (الفتح : 11)
6۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : 16)
Ayah 6:19فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں نبی ﷺ کی نبوت پر کفار کے اعتراضات کا جواب، اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قوت وسطوت ثابت کرنے کے آفاقی اور طبعی دلائل دیے ہیں۔ جو شہادت کا درجہ رکھتے ہیں یاد رہے اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کسی کی شہادت نہیں ہوسکتی۔ توحید کی گواہی سب سے پہلی اور سب سے بڑی گواہی ہے۔
اب ان دلائل پر شہادت قائم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں ہوسکتی۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہی اس کی ابتدا اور انتہا کو جانتا ہے۔ وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور اس پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اس کی شہادت سے بڑھ کر کسی اور کی شہادت ٹھوس اور بڑی نہیں ہوسکتی۔ یاد رہے شہادت کی دو بڑی اقسام ہیں۔
عینی اور یقینی شہادت :
عینی شہادت کا معنی ہے کہ واقعہ شہادت دینے والے کے سامنے پیش ہوا ہو اور یقینی شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے اتنے ٹھوس دلائل ہوں کہ کوئی اس کی تردید نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت ان دونوں اصولوں کی بنیاد پر کامل اور اکمل حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کو شہادت اکبر کا درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ اپنے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کو شاہد کے طور پر پیش فرمائیں کہ اسی نے آپ پر یہ قرآن وحی فرمایا تاکہ آپ ہر اس شخص کو اس کے برے اعمال کے انجام سے ڈرائیں جس تک قرآن کا پیغام پہنچجائے۔ پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کیا تم ان دلائل کے باوجود شہادت دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوسکتا ہے ؟ اس سوال کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ میں یہ کہنے اور شہادت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوسکتا ہے۔ بلکہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ وہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ اس آیت میں توحید کے اثبات کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام یعنی قرآن مجید لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ غیر مسلموں پر توحید و رسالت کی شہادت قائم ہو سکے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی ہر گواہی سے بڑی ہے۔
2۔ قرآن مجیدلوگوں پر اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی اور معتبر ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (النساء : 33)
2۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ (الفتح : 28)
3۔ اللہ کی گواہی سے کسی کی گواہی بڑی نہیں ہے۔ (الانعام : 19)
4۔ اللہ لوگوں پر گواہ ہے۔ (آل عمران : 98)
5۔ نبی پر جو کچھ نازل ہو اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے۔ (النساء : 166)
Ayah 6:20فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت پر آفاقی دلائل دینے اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کبریٰ کے بعد اہل کتاب کے زندہ ضمیر اور مصنف مزاج لوگوں کی شہادت کا تذکرہ۔
اہل کتاب کے اس اعتراف کے بارے میں مفسرین نے دو مفہوم لیے ہیں۔ امام رازی ؓ اور ان کے ہمنوا مفسرین کا خیال ہے کہ ” ہ “ کی ضمیر نبی ﷺ کی ذات والاصفات اور آپ کی رسالت کے متعلق ہے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ آیت 46 میں رسالت کے بارے میں اہل کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ مولانا مودودی ؓ اور کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں ” ھو “ کی ضمیر توحید کے متعلق ہے کہ جس طرح اہل کتاب نبی ﷺ کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنے ضمیر میں اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے دونوں مفاہیم کی تائید ہوتی ہے۔ لہٰذا جس نے توحید و رسالت میں سے کسی ایک کا اعتقاداً یا عملاً انکار کیا، وہ لوگ نقصان پائیں گے۔
حضرت صفیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے والد حیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر صبح کے وقت رسول محترم ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر اسلام کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوگیا کہ حقیقتاً آپ نبی آخر الزماں ﷺ ہیں۔ جب آپ سے گفتگو کے بعد مغرب کے وقت واپس آئے تو نہایت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔
چچا ابو یاسر میرے والد سے پوچھتے ہیں : أَھُوَ ھُوَ ؟ ” کیا یہی وہ نبی ہے جس کا تذکرہ تورات وانجیل میں پایا جاتا ہے ؟ “
والد : کیوں نہیں یہ وہی رسول ہے۔
ابو یاسر : أَتَعْرِفُہٗ وَتُثَبِّتُہٗ ؟ ” کیا واقعی تو اسے پہچانتا ہے ؟ “
والد : ہاں میں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔
ابویاسر : فَمَافِیْ نَفْسِکَ مِنْہُ ؟ ” پھر آپ کا کیا ارادہ ہے ؟ “
والد : عَدَاوَۃٌ وَاللّٰہِ مَابَقِیْتُ ” کہ اللہ کی قسم ! جب تک زندہ ہوں عداوت کا اظہار کرتا رہوں گا “۔
[ ابن ہشام : شہادۃ عن صفیۃ ]
امام رازی نے اس ضمن میں عجب واقعہ ذکر کیا ہے لکھتے ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر اخنس بن شریق نے ابو جہل کو لوگوں سے الگ کرکے پوچھا کہ اے ابو الحکم ! یہ بتائیں کہ محمد ﷺ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے یا سچا ؟ ابو جہل نے کہا کہ ابن شریق تجھ پر نہایت ہی افسوس کہ اس میں کیا شک ہے کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کا سچا رسول ہے۔ اس لیے کہ اس نے آج تک کسی فرد کے ساتھ جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن ہماری مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہی بڑے بڑے مناصب اور اعزاز۔ ان کے خاندان کے پاس ہیں۔ جنگ کے موقع پر پرچم اٹھانا، کعبہ کی دربانی اور نگہبانی، لوگوں کو زم زم پلانا اور یہ سب اعزازات ان کے پاس ہیں۔ اگر ہم نے اس کی نبوت کو تسلیم کرلیا تو ہمارے پاس کیا رہ جائے گا۔
مسائل
1۔ اہل کتاب نبی مکرم ﷺ کو پہچاننے کے باوجود ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
2۔ توحید و رسالت کا انکار کرنا اپنے آپ کو نقصان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
تفسیر بالقرآن
یہود و نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہیں :
1۔ اہل کتاب آپ کو پہچانتے تھے۔ (البقرۃ : 146)
2۔ انھوں نے نبی کو پہچان لیا ہے۔ (المؤمنون : 69)
3۔ اہل کتاب نبی آخر الزمان ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ (البقرۃ : 146)
4۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ آپ کو پہچانتے ہیں۔ (الانعام : 20)
Ayah 6:21فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کا نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور اپنے باطل نظریات کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ظلم ہے۔
شریعت کی نظر میں جھوٹ بولنا انتہائی قبیح گناہ ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں اس وقت بےپناہ اضافہ ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اپنے باطل نظریات کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا کر اسے حق ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا شخص نہ صرف پرلے درجے کا کذّاب شمارہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین ظالم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ذات حق پر جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہی کا راستہ دکھانا انتہائی سنگین جرم ہے۔ ایسے ظالم آخرت میں ہر قسم کی مدد سے محروم ہوں گے اکثر اوقات دنیا میں بھی ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔ منکرین حق اللہ تعالیٰ پر درج ذیل جھوٹ بولا کرتے ہیں۔
1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنا اور ان پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانا۔
2۔ معبودان باطل کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی خدائی میں شریک کرنا۔
3۔ زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا اور پھیلانا کہ ان کی بزرگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے اختیارات میں شریک بنا لیا ہے۔
4۔ اپنے گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ایسا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجازت دے رکھی ہے۔ (الاعراف : 28)
5۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیں چند دنوں کے سوا جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔ (البقرۃ : 80)
6۔ یہودیوں کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور محب قرار دینا۔ ( المائدۃ : 18)
7۔ یہودیوں کا حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا گرداننا۔ (التوبۃ : 30)
8۔ عیسائیوں کا حضرت مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا جز قرار دینا۔ (المائدۃ : 17، 72)
9۔ نبی آخر الزمان ﷺ پر جھوٹ بولنا اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرنا۔ (البقرۃ : 91)
10۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اس کے احکام کی صورت میں ہو یا اس کی قدرت کے نشانات کی شکل میں۔ (النساء : 150)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے افترا پر دازی نہیں کرنی چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ بولنا بڑا ظلم ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا بہت بڑا ظلم ہے۔
4۔ ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
بڑا ظالم کون ہے :
1۔ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (الکہف : 15)
2۔ اللہ کی آیات کو سن کر اعراض کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (السجدۃ : 22)
3۔ سچائی کو جھٹلانے والا اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الزمر : 32)
4۔ اللہ کے گھر میں ذکر کرنے سے منع کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114)
5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 144)
6۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام : 21)
7۔ اللہ کی مساجد سے روکنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (البقرۃ : 114)
8۔ شہادۃ کو چھپانے والے سے بڑا ظالم کون ہے ؟ (البقرۃ : 140)
9۔ اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (الکہف : 57)
10۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (ھود : 18)
Ayahs 6:22–24فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔
” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ “ (المعارج، آیت : 4) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت 165 تا 167 میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس یقین کے بعد طالب اپنے مطلوب، تابع اپنے متبوع، مقتدیٰ اپنے مقتدی اور پیر اپنے مریدوں سے بیزاری، کارکن اپنے لیڈروں سے نفرت کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہوئے مطالبہ کریں گے کہ اے خدا ہمارے پیروں اور سرداروں کو دوگنا عذاب دیجیے۔ (الاحزاب : 67۔ 68) جھوٹے رہنماؤں کے پیچھے لگنے والے اس خواہش کا بھی اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں واپس جانے کی اجازت مل جائے تو ہم ان لوگوں سے اسی طرح بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں جیسے آج یہ ہم سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ (البقرہ : 167) جب ان کی یہ حسرت پوری نہیں ہو سکے گی تو پھر وہ اپنے گناہوں اور شرک کا انکار کرتے ہوئے قسمیں اٹھائیں گے۔ اے اللہ ! تیری ذات کی قسم ! ہم نے کبھی شرک نہیں کیا۔ ان کے انکار کی دو وجوہات ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلالت اور گرفت۔ دنیا میں جھوٹی قسمیں کھانے کی عادت کی وجہ سے وہ رب کی بارگاہ میں جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے کہ شاید دنیا کی طرح آج بھی ہم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔ یہ ضرور جھوٹ بولیں گے اس لیے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ دیکھیے ! یہ ظالم کس طرح اللہ کے حضور جھوٹی قسمیں کھانے کے ساتھ اپنے آپ پر جھوٹ بولیں گے اور وہ سب کچھ بھول جائیں گے جو دنیا میں مکر و فریب اور افتراء پر دازی کیا کرتے تھے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ اأمَّا قُوْلُہٗ وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ فَإِنَّہُمْ رَأَوْا أَنْہٗ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا أَہْلُ الصَّلَاۃَ ، فَقَالُوْا تَعَالُوْا فَلْنَجْحَدْ ، فَیَجْحَدُوْنَ ، فَیَخْتِمُ اللّٰہُ عَلٰی أَفْوَاہِہِمْ ، وَتَشْہَدُ أَیْدَیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہ حَدِیْثًا) [ ابن کثیر ]
” مفسّرِقرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس کی یوں تفسیر کیا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ توحید والوں کے گناہ بخش دے گا اور اس کے لیے کسی کے گناہ معاف کرنا مشکل نہیں۔ مشرکین یہ صورت حال دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک کے علاوہ باقی گناہ بخش رہا ہے آؤ ہم بھی یہ کہیں کہ ہم گناہ گار تو ہیں لیکن مشرک نہیں۔ جب اپنے شرک کو چھپائیں گے تو ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس وقت مشرکین یہ جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔ “ (ابن کثیر)
اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہریں لگا دی جائیں گی :
(اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی أَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَا أَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ أَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ ) [ یسٓ: 65]
” آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں سے ان کے شرک کے بارے میں پوچھے گا۔
2۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کو کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔
3۔ مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ساتھ بنائے گئے شریکوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔
4۔ قیامت کے دن معبودان باطل کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک اور ان کے معبودوں کا اکٹھا کیا جانا :
1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ (الفرقان : 17)
2۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اکٹھا کرے گا اور کہے گا یہ ہیں تمہارے معبود۔ (السباء : 40)
3۔ اس دن اکٹھا کیا جائے گا ظالموں کو اور جن کی یہ عبادت کرتے تھے۔ (الصافات : 22)
4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اکٹھا کریں گے اور مشرکوں کو کہیں گے کہاں ہیں تمہارے معبود۔ (الانعام : 22)
5۔ مشرک اپنے معبودوں کے دشمن بن جائیں گے۔ (الاحقاف : 6)
جھوٹوں کا انجام :
1۔ ان سے کہا جائے گا چکھو، آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ (السجدۃ : 20)
2۔ یہ آگ ہے جس کو تم جھٹلا تے تھے۔ (الطور : 14)
3۔ دوزخ کا عذاب ہے جھٹلانے والوں کے لیے ہے۔ (المطففین : 11)
4۔ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ (آل عمران : 137)
5۔ میری آیات کا انکار کرنے اور جھٹلانے والے دوزخی ہیں۔ (التغابن : 10)
6۔ کافر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے جہنمی ہیں۔ (الحدید : 19)
7۔ جب ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا عذاب نے ان کو پکڑ لیا۔ (النحل : 113)
8۔ انھوں نے انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (المؤمنون : 48)