6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفہم القرآن

Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

” اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمہیں پہلی بارپیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارش کرنے والے نہیں دیکھتے جنہیں تم نے گمان کیا تھا کہ وہ تمہارے درمیان وہ شریک ہیں۔ بلاشبہ تمہارا آپس کا رشتہ کٹ گیا اور جو کچھ تم گمان کیا کرتے تھے تم سے گم ہوگیا۔ “ (94)

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں کفار اپنی اجتماعی قوت اور مالی وسائل کی بنا پر قرآن مجید اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن موت کے بعد سب کو اکیلے، اکیلے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جس کے لیے موت کے بعد اٹھنے اور محشر کے میدان میں حاضری کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف اور موت کے بعد اٹھنے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کو خبردار کیا گیا ہے۔ کہ اس وقت کا تصور کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ایک، ایک کو اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑا کریں گے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ جس دولت پر تم اتراتے ہو، جو اقتدار اور اختیار تمہارے تکبر کا باعث بنا ہے جن پیروں فقیروں اور باطل معبودوں پر بھروسہ کرتے ہوئے موت کا انکار اور ہماری آیات سے انحراف کیا وہ سب کا سب پیچھے رہ جائے گا۔ کوئی ایک شخص بھی تمہاری سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ اس وقت تمام وسائل ختم اور ہر قسم کے رشتے ناتے کٹ چکے ہوں گے اور وہ زعم بھی ختم ہوجائے گا جس کی بنا پر مشرک دنیا میں شرک کیا کرتے تھے۔ کہ فلاں، فلاں ہمیں اللہ سے چھڑوائے گا۔ ظالم کو اس کی کربناک موت کا احساس دلاتے ہوئے یہ بھی بتلایا جا رہا ہے کہ جس طرح موت وحیات کی کشمکش اور نزع کے عالم میں مرنے والے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور موت کے فرشتے ظالم کو جھڑکیاں دیتے ہوئے اسے اپنی جان نکالنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ جان نکالنا یعنی روح قبض کرنا مرنے والے کے اختیار میں نہیں یہ اختیار صرف اور صرف روح قبض کرنے والے فرشتہ کو دیا گیا۔ اس کے سوا کوئی کسی کی روح نہیں نکال سکتا۔ بیشک کوئی آگ میں چھلانگ لگائے یاد ریا میں کود پڑے وہ وقت معین سے پہلے مر نہیں سکتا۔ جس طرح موت کی سختیاں اور نزع کی کربناکیاں انسان کو کسی کی مدد اور سہارے کے بغیر ہی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ایسے ہی ہر انسان تن تنہا رب کبریا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ وہاں نہ سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی مددگار اور غم خوار قریب آئے گا۔ اس تصور کو یہ کہہ کر مزید واضح کیا گیا ہے کہ تم ایسے ہی اکیلے اکیلے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس طرح پیدائش کے وقت انسان اکیلا پیدا ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخلیق کے وقت انسان گناہوں سے پاک پیدا ہوتا ہے اور مرتے وقت انسان گناہوں کے انبار ساتھ لے کرجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو باور کرایا گیا ہے کہ جن سہاروں پہ تم تکیہ اور جن امیدوں کو سہارا بنائے ہوئے ہو۔ وہ سب کی سب دم توڑ جائیں گی اور اس وقت تمہارے اس طرح اوسان خطا ہوں گے کہ کوئی دنیا کے سہاروں کا تصور بھی نہیں کرسکے گا۔ (عَنْ عَاءِشَۃ َ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَلٰی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِءْتُمْ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ رسول معظم ﷺ نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! میرے مال میں سے جو چاہومانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّکُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ وَأَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِی یُؤْخَذُ بِہِمْ ذَات الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِی أَصْحَابِی فَیَقُولُ إِنَّہُمْ لَمْ یَزَالُوا مُرْتَدِّینَ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ مُنْذُ فَارَقْتَہُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ )[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی وَاتَّخَذَ اللَّہُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنوں کے اکٹھا کیا جائے گا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ( کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ) اور سب سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا میری امت کے بائیں جانب کچھ لوگوں کو علیحدہ کردیا جائے گا میں کہوں گا میری امت میرے اصحاب کدھر گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ لوگ تو آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دین سے پھرگئے تھے پھر میں اللہ کے نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح کہوں گا میں تو اس حد تک گواہ ہوں جب تک میں ان میں موجود تھا۔ جب تو نے مجھے فوت کرلیا وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیم “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی وَہِیَ نَاءِلَۃٌ إِنْ شَاء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْہُمْ لَا یُشْرِکُ باللَّہِ شَیْءًا) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ باب فضل لا حول ولا قوۃ الا باللہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے اور میں نے وہ دعا اپنی امت کی سفارش کے لیے رکھی ہے۔ انشاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو فائدہ دے گی جو شرک کی حالت میں فوت نہ ہوا ہوگا۔ “ مسائل 1۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فرداً فرداً بلائے جائیں گے۔ 2۔ لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اکٹھا کیا جائے گا۔ 3۔ دنیا کا سازوسامان دنیا میں ہی رہ جائے گا۔ 4۔ دنیا کے تمام، رشتے اور تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کسی کی سفارش قبول نہیں ہوگی : 1۔ کون ہے جو اس کے حکم کے بغیر سفارش کرے۔ (البقرۃ : 255) 2۔ کافر قیامت کے دن سفارشی تلاش کریں گے۔ (الاعراف : 53) 3۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : 18) 4۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (الانبیاء : 38) 5۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109) 6۔ قیا مت کے دن کسی سفارشی کی سفارش کام نہیں آئے گی۔ (المدثر : 38) 7۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ (یونس : 3)
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

” بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے یہی اللہ ہے پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو ؟ “ (95)

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ زمین میں پڑے ہوئے دانے کو اگاتا اور نکالتا ہے۔ اسی طرح وہ مردہ انسان کو قبر سے زندہ کرکے نکالے گا۔ اب مسلسل آیات میں نباتات، آفاق اور دیگر حوالوں سے توحید باری تعالیٰ کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ زندگی کی پیدائش اور حرکت ایک معجزہ ہے جسے پیدا کرنا ایک طرف، اس کے بھید کو بھی کوئی نہیں پاسکتا۔ زمین میں ہر لحظہ دانوں سے پھوٹ پھوٹ کر تنا ور اور پھلنے پھولنے والے درخت نکلتے ہیں۔ خاموش، ساکن، اور سوکھی گٹھلیوں سے بلند کھجوریں پھوٹتی ہیں۔ جو زندگی دانے اور گٹھلی میں پوشیدہ ہے وہ پودے اور کھجور میں آکرظاہر اور متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کا بھید ایک سر بستہ راز ہے جسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ حیات کی حقیقت اور اس کا مصدر صرف خالق کو معلوم ہے۔ انسان آج بھی پہلے انسان کی مانند ظواہر و اشکال کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے خصائص واطوار کا مشاہدہ تو کرسکتا ہے مگر اس سے پہلے انسان کی طرح اس کے غیب سے پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ حرکت و نشو و نما کو دیکھتا ہے مگر مصدر اور جو ہر سے ناواقف ہے۔ لیکن زندگی اپنی راہ پر رواں دواں ہے، اور معجزہ ہر لحظہ واقع ہو رہا ہے۔ زندہ کا مردہ سے نکلنا شروع سے چلا آیا ہے، یہ کائنات تھی، زمین تھی مگر اس میں حیات نہ تھی۔ پھر زندگی آئی جس کو موت میں سے نکالا گیا کیسے نکالا گیا ؟ ہم نہیں جانتے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کہ زندگی موت سے اور زندہ مردہ سے نکل رہا ہے ! ہر لحظہ ذرات زندوں کے اجسام و اعضا کا حصہ بن رہے ہیں اور زندہ خلیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ پھر اس کے برعکس ہر لحظہ زندہ خلیے مردہ ذروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ حتی کہ ایک دن پورا زندہ جسم مردہ ہوجاتا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قادر نہیں۔ ابتدا میں موت سے زندگی نکالنے والا وہی تھا، پھر مردہ ذرات کو انسانی اجسام کا حصہ بنا کر زندہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس کی ابتداء و انتہا اور اس کی کیفیت و نتائج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ اس میں کسی کا ذرہ بھر دخل نہیں ہے۔ سب کچھ اسی قادر وعلیم کی قدرت و علم سے ہو رہا ہے۔ زندگی اللہ کی صفت خلق سے وجود میں آئی۔ اس کے سوا اس کی جو تعبیر بھی کی جائے وہ غلط اور باطل ہے۔ یورپ کے لوگ جب سے کلیسا سے بھاگے ہیں ’ ’ گویا کہ وہ گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہوں “ اسی دن سے وہ کائنات کی موت وحیات کی پیدائش کا راز معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے وجود کا اعتراف کرنا چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے ان کوششوں کا نتیجہ صفر ہے۔ حیات پر جدید تحقیق کے نتائج : ڈاکٹر فرینک ایلن جو کینیڈا کی ایک یونیورسٹی کا بیالوجی کا پروفیسر ہے کہتا ہے : (مقالہ): ” علم کی نشو ونما اتفاقاً ہوئی ہے یا قصداً ؟ “ اس کا ترجمہ ڈاکٹر ترشاش عبدالمجید سرمانی ” اگر زندگی کسی حکمت سے اور کسی سابق منصوبے سے پیدا نہیں ہوئی تو، پھر یہ اتفاقاً پیدا ہوئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اتفاق کونسا ہے ؟ تاکہ ہم اس پر غور کریں اور زندگی کی پیدائش کا پتہ چلائیں۔ اتفاق اور احتمال کے نظریات کی اب کچھ درست حسابی بنیادیں موجود ہیں۔ جو انھیں ان معاملات پر منطبق کرتی ہیں۔ جہاں مطلق صحیح حکم نہ لگایا جاسکے۔ یہ نظریات ہمیں ایسے فیصلے پر پہنچاتے ہیں جو درستی سے قریب تر ہو، ریاضی کے طریقے سے اتفاق اور احتمال کا نظریہ تحقیق کے لحاظ سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ حتی کہ ہم بعض ظواہر کی پیشگوئی پر قادر ہوچکے ہیں۔ جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ اتفاق سے واقع ہوتے ہیں۔ بعض ایسی چیزیں جن کے وقوع کی ہم کوئی اور تفسیر نہیں کرسکتے۔ ان تحقیقات کی ترقی کے باعث ہم اس پر قادر ہیں کہ اتفاقاً واقع ہونے والی چیزوں میں اور ان میں جن کا اس طرح وقوع ناممکن ہے، تمیز کرسکیں۔ ہم زمانے کی ایک معین مدت میں اس وقوع کا احتمال ظاہر کرسکتے اب ہم اس چکر کو دیکھتے ہیں جو زندگی کی پیدائش میں اتفاقات کے کھیل سے ہوتا ہے۔ (معلوم رہے کہ یہ ڈاکٹر فرینکلن کا خیال ہے ورنہ اسلامی نقطۂ نظر سے کائنات میں کوئی چیز بھی اتفاقیہ طور پر نہیں ہوتی۔ ہر ایک ضابطہ، قانون وقوت، جگہ وغیرہ خدا کے ہاں مقرر ہے اور سب کچھ لگے بندھے قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔ ) تمام زندہ خلیوں میں پرو ٹین بنیادی مرکب ہے اور اس میں پانچ عناصر ہوتے ہیں : کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن اور سلفر اور ایک جزء میں ذرات کی تعداد 4 لاکھ تک ہوتی ہے۔ چونکہ کیمیاوی عناصر کی تعداد 100 سے زائد ہے، ہر ایک کو اندازے کی غیر مرتب تقسیم پر بانٹا گیا ہے۔ پس ان پانچ عناصر کا اجتماع تاکہ وہ پروٹین کے جزئیات میں سے ایک جزیہ بن جائے، اس مادے کی کمیت کو معلوم کرنے کے لیے اس کا حساب معلوم کیا جاسکتا ہے۔ جس کو ہمیشہ کے لیے باہم ملایا جائے تاکہ وہ جزئی حاصل ہو سکے، پھر زمانے کا فاصلہ بھی معلوم ہوسکتا ہے تاکہ اس جزئی کے درجات میں اجتماع ہو سکے۔ مشہور ریاضی دان عالم شارنر یوجین نے تمام عوامل کا حساب کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ اتفاقیہ طور پر ایک پروٹین جزئی کا بننا 10؍1 کی نسبت سے ہوسکتا ہے۔ یعنی ایک کو دس تک ہر ہند سے میں فی نفسہ ضرب دینا 160 بار اور یہ ایک ایسی رقم ہے جس کا بولنا یا کلمات میں اس کی تعبیر کرنا ناممکن ہے۔ مناسب ہے کہ اس تفاعل کے لیے جتنا مادہ ضروری ہے تاکہ ایک جزئی پیدا ہو سکے۔ یہ اس ساری کائنات سے لاکھوں کروڑوں مرتبہ زیادہ ہوگا اور زمین پر صرف ایک جزئی کو پیدا کرنے کے لیے۔۔ یعنی اتفاقیہ طور پر پیدا کرنے کے لیے۔۔ لا انتہا سالوں کی ضرورت ہوگی۔ جسے اس عالم ریاضی نے اندازًا یہ بتایا ہے کہ دس کو اس کے نفس میں 243 بار ضرب دی جائے تو اتنے سال لگیں گے۔ پروٹین لمبے سلسلوں کے ساتھ اپنی کھٹائیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ سو ان جزئیات کے ذریعے کس طرح تالیف پاتے ہیں ؟ جب وہ اس طریقے کے علاوہ مرکب ہوں جس سے وہ ہوتے ہیں تو زندگی کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ زہربن جاتے ہیں۔ جے بی سیتھر نے وہ طریقے شمار کیے ہیں جن سے کہ ذرات کا پروٹین کے ایک بسیط جزئی میں مرکب ہونا ممکن ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ دس کو اسی طرح فی نفسہ 18 سے ضرب دیں تو اتنے ملین اس کی تعداد ہوگی۔ اس بنا پر یہ عقلاً محال ہے کہ یہ تمام اتفاقات ایک بھی پروٹین کو پیدا کرسکیں۔ لیکن پروٹین کیمیاوی مردہ مادہ ہے اور اس میں زندگی اس وقت رینگتی ہے جب وہ عجیب بھید اس میں داخل ہوتا ہے۔ جس کی حقیقت کو ہم نہیں جانتے۔ وہ ایک غیر محدود عقل ہے (اس سے اس کی مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ ایک فلسفیانہ نام ہے) اور وہ اکیلا خدا ہے جو اپنی حکمت کے ساتھ یہ پاسکتا ہے کہ یہ پروٹینی جزئی زندگی کا مسکن بن سکتی ہے، سو اس نے اس کو بنایا، اس کی تصویر کھینچی، اور اس پر زندگی کا بھید انڈیل دیا۔ مشی گن یونیورسٹی کا علوم طبیعات کا پروفیسر ڈاکٹر ایرفنگ ولیم اپنے مقالے :” مادیت تنہا کافی نہیں “ (جو اسی نام کی کتاب میں وارد ہے ! ) میں لکھتا ہے : ” سائنس ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے غیر محدوددقائق کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انھی سے تمام مادے بنتے ہیں۔ اسی طرح سائنس ہم پر یہ کھولنے سے بھی قاصر ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرے کیونکر جمع ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کیونکر آتی ہے۔ اس کا مدار محض اتفاقات پر ہے۔ بیشک یہ نظریہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ ترقی یافتہ حیات کی تمام صورتیں موجودہ ترقی کی حالت تک محض اندھا دھند چھلانگوں اور اجتماعات کے باعث پہنچی ہیں بلاشبہ ایک نظریہ ہے مگر اسے قبول نہیں کیا جاسکتا، صرف فرض کیا جاسکتا ہے۔ پس یہ منطق اور دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ ڈاکٹر مالکوم ونسٹر پروفیسر زوالوجی بائلر یونیورسٹی اپنے مقالے : ” سائنس میرے ایمان کو مضبوط کرتی ہے “ میں لکھتا ہے کہ : میں زوالوجی کے مطالعہ میں مشغول ہوا۔ جو ان وسیع علمی میدانوں میں سے ہے جو علم الحیاۃ سے بحث کرتے ہیں۔ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اللہ کی ساری مخلوقات میں کائنات میں بسنے والی کوئی چیز زندوں سے زیادہ حیران کن نہیں ہے۔ تم کسی راستے کے کنارے پر اگی ہوئی کمزور سی برسیم کو دیکھو، کیا تمہیں انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزوں اور آلات میں اتنی تابناک چیز نظر آتی ہے ؟ یہ ایک زندہ آلہ ہے جو دن رات ایک دائمی صورت میں کھڑا رہتا ہے۔ اس میں ہزار ہا کیمیاوی اور طبیعی عمل پائے جاتے ہیں۔ اور یہ سب پروٹو پلازم کی قوت کے تحت پورے ہوتے ہیں۔ یہ وہی مادہ ہے جو تمام زندہ کائنات کی ترکیب میں داخل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ پیچ در پیچ زندہ آلہ کہاں سے آیا ہے ؟ اللہ نے اس کو یوں اکیلا نہیں بنایا۔ بلکہ اس نے حیات کو پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کی حفاظت پر اسے قادر بنایا ہے۔ یہ کہ وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک برابر چلتا ہے اور ان تمام خاصیتوں اور امتیازات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جو ہمیں ایک نبات اور دوسری میں تمیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ زندہ چیزوں میں کثرت کا مطالعہ کرنا نہایت عجیب اور چونکا دینے والا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوئی ہے۔ جدید نبات جس تناسلی خلیے سے بار آور ہوتی ہے وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ طاقتور خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ نباتات کی صفات میں سے ہر صفت، ہر رگ، و ریشہ، ہر شاخ، ہر بیج یا پتہ ان انجینئروں کے زیر نگرانی بنتا ہے جو نہایت چھوٹے ہیں۔ وہ اس خلیے کے اندر رہ سکتے ہیں جس سے نبات پیدا ہوتی ہے۔ انجینئروں کا یہ فرقہ کروموسوم کہلاتا ہے۔ (یعنی وراثت کو نقل کرنے والے) حیات اور حیاتیات پر اسی قدر بات چیت کے بعد اب ہم قرآنی آیات کی طرف لوٹتے ہیں۔ (ذلکم اللّٰہ ربکم)[ الانعام : 102] ” یہ ہے تمہارا اللہ تمہارا رب “ جو اس دائمی مسلسل و متواتر معجزے کا موجد ہے۔ وہی اس کا حق دار ہے کہ تم اس کے آگے جھکو۔ اس کی عبودیت، خضوع، خشوع اور اتباع کا اقرار و اعلان کرو۔ پھر فرمایا : ” پھر تم کہاں اور کیونکر پھرائے جاتے ہو ؟ “ (ظلال القرآن) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی بےجان سے جاندار چیزوں کو پیدا کرتا ہے۔ 2۔ زندگی وموت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھتے ہی اپنا ایمان پختہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ نباتات اگانے والا ہے : 1۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ ( النحل : 11) 2۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنوں : 19) 3۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ ( یٰسٓ: 34) 4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ ( الانعام : 99) 5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ( الانعام : 141)
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

” صبحوں کو پھاڑ نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا یہ نہایت غالب، سب کچھ جاننے والے کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ (96)

فہم القرآن ربط کلام : آفاق سے توحید کے دلائل۔ اللہ تعالیٰ جس طرح ” فَالِقُ الْحُبِّ وَالنُّوَیٰ “ ہے اسی طرح ” فَالِقُ الْاِصْبَاحِ “ بھی ہے۔ اسی نے رات کو سکون کے لیے بنایا اور شمس وقمر کو حساب کے لیے۔ ماہ وسال کا حساب انہی سے ہوتا ہے۔ البتہ کہیں سورج سے اور کہیں چاند سے، اسلام نے لوگوں کی آسانی کے لیے سورج کا پیچیدہ حساب چھوڑ کر چاند کا حساب اختیار کیا۔ چاند کے طلوع و غروب سے ماہ وسال کا حساب لگانا آسان تر ہے۔ حج، رمضان، عیدین وغیرہ کا حساب چاند پر مبنی ہے۔ صبح کی تاریکی سے روشنی پھوٹنے کو دانے اور گٹھلی کے پھوٹنے کی مانند ٹھہرایا گیا ہے۔ دونوں سے حیات پھوٹتی ہے۔ نور کا پھوٹنا نباتات اور پودے کے زمین سے پھوٹنے کی مانند ہوتا ہے۔ نور کا تاریکی سے پھوٹ کر نکلنا ایسی حرکت رکھتا ہے جو اپنی شکل میں دانے اور گٹھلی کے پھٹنے سے مشابہ ہوتا ہے۔ اس حرکت کے ساتھ نور کا نکلنا یوں ہے جیسے کہ انگوری مٹی کے پردے میں سے ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں میں حرکت، زندگی رونق اور جمال کی صفات و علامات مشترک ہیں۔ پھر دانے اور گٹھلی کے پھٹنے اور صبح کے پھٹنے میں اور رات کے سکون میں ایک تعلق یہ بھی ہے۔ کہ اس کائنات کے اندر صبح وشام کا آنا، حرکت و سکون کا پیدا ہونا، نباتات اور حیات کے ساتھ براہ راست متعلق ہوتا ہے۔ سورج کے سامنے زمین کا گھومنا، چاند کا اتنے بڑے حجم کے باوجود اور زمین کا اس قدر دوری کے با وجود، سورج کا اتنے بڑے حجم اور حرارت میں اتنا زیادہ گرم ہونے کے باوجود یہ سارے کام کو مل کر انجام دینا اور باشندگان کرۂ ارض کی خدمات ہر وقت اور ہر لمحہ انجام دینا۔ ایک صاحب غلبہ واقتدار اور علیم اللہ کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔ اگر یہ اندازہ اور خدائی حساب نہ ہوتا تو زمین پر یوں زندگی نمودار نہ ہوتی۔ نباتات واشجارنہ پھوٹتے، نور و ظلمت اور حیات وموت کا یوں ظہور نہ ہوتا۔ یہ ایک دقیق ٹھہرایا ہوا، مقرر کردہ حساب ہے۔ جس کے ساتھ یہ کائنات بندھی ہوئی ہے۔ یہ کوئی محض اتفاقی حادثہ نہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ زندگی کائنات کے اندرمحض ایک عبوری لمحہ ہے، خالق کائنات کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ ایسے اقوال کبھی فلسفہ اور علم کہلاتے تھے۔ مگر علم کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بےدین حضرات کی اہواء و خرافات ہیں جو ان کے قلوب ونفوس میں رچی ہوئی ہیں۔ انسان جب ان کے فیصلوں کو پڑھے تو محسوس کرتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مقرر کردہ علمی حدود کی تعریفات سے خود تجاوز اور فرار کر رہے ہیں۔ وہ اللہ سے بھاگنا چاہتے ہیں جس کے دلائل وجودتوحید وقدرت خود ان کے نفوس وقلوب کو گھیرے ہوئی ہیں۔ وہ بھاگ کر جہاں بھی چلے جائیں۔ اللہ کو آخر کار اپنے سامنے پائیں گے۔ پھر وہ گھبرا کر ایک اور راستہ اختیار کریں گے اور آخر کار اس کی انتہا پر بھی انہیں اللہ سامنے ملے گا ! یہ بیچارے مصیبت زدہ مسکین ہیں جو ایک زمانے میں کلیسا اور اس کے اللہ سے بھاگے تھے، مگر اللہ نے ان کی گردنیں پھر اپنے سامنے جھکا لیں۔ وہ اس صدی کے اوائل تک برابر بھاگتے رہے، مگر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا مگر اللہ تعالیٰ تو ان کے تعاقب میں تھا ! اگر وہ پیچھے دیکھیں تو شک کریں گے کہ کلیسا کی دوڑ ان کے پیچھے ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اور شاید ان کی طاقت ہی ختم ہوچکی ہے۔ ان بےچارے مساکین کے ” علمی نتائج “ آج خود ان کے مد مقابل بن کر سامنے کھڑے ہیں، بھاگ جانے کا کیا سوال ہے ؟ فرینک ایلن جس کے کچھ اقتباسات ہم نے گزشتہ صفحات میں پیش کیے ہیں لکھتا ہے :” زمین کا زندگی کے لیے مناسب ہونا ایسی صورتیں اختیار کرتا ہے کہ ہم اسے محض اتفاق یا حادثہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ زمین ایک گول کرّہ ہے جو فضا میں لٹکا ہوا ہے اور اپنے گرد گردش کرتا رہتا ہے۔ اسی سے رات دن کا چکر چل رہا ہے۔ اور وہ سال بھر میں ایک دفعہ سورج کے گرد گھومتا ہے۔ جس سے موسم اور فصول پیدا ہوتے ہیں۔ یہ گھومنا ہمارے اس کرّے کی سطح کو زندگی کی پیدائش اور نشوونما کا مزید صالح جز مہیا کرتا ہے۔ زمین کے ٹھہراؤ کی صورت میں اس قدر مختلف انواع و اقسام کی نباتات کا پیدا ہونا اور ان کی نشوونما ممکن نہ ہوتی۔ پھر زمین گیس کے ایک غلاف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جس میں بہت سی ایسی گیسیں موجود ہیں جو زندگی کے لیے لازم ہیں۔ یہ گیسیں بہت بلندی تک زمین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جو پانچ سو میل سے زائد فاصلہ ہے۔ پھر ان گیسوں کی موٹائی اس قدر ہے جو لاکھوں کروڑوں شہاب ثاقب کو ہم تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ ان تاروں کا ٹوٹنا تیس میل فی منٹ کی رفتار سے بھی تیز تر ہوتا ہے۔ اور یہ فضائی غلاجو زمین کو محیط ہے وہ زمین کے درجۂ حرارت کو زندگی کے لیے مناسب حدود کے اندر قائم رکھتا ہے۔ وہ سمندروں سے پانی کے بخارات کو اٹھا کر بر اعظموں کے اندر تک لے جاتا ہے۔ وہاں پر وہ گاڑھا ہو کر بادل بنتا ہے اور بر ستا ہے۔ جو زمین کی مردگی کو زندگی میں بدلتا رہتا ہے۔ بارش خالص پانی کا مصدر ہے اگر وہ نہ ہوتی تو زمین ایک لق ودق صحرا بن کر رہ جاتی اور اس میں زندگی کی کوئی علامت باقی نہ رہ سکتی۔ یہاں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فضا اور سمندر جو زمین پر ہیں وہ اس کے توازن کو بر قرار رکھنے کی مشینیں ہیں۔ “ ان لوگوں کے سامنے علمی دلائل بیشمار موجود ہیں۔ جو ان کے ” اتفاقات “ کے نظر یے کو رد کرتے ہیں اور زندگی کی نشوونما کے متعلق ان کے عجز کا اعلان کرتے ہیں۔ اس طبیعات کے عالم نے جن موافقات اور مناسبات کا ذکر کیا ہے۔ کائنات میں زندگی کے لیے صرف یہی نہیں اور بھی بیشمار اسباب وعلل موجود ہیں۔ اب نتیجہ اس کے سوا نہیں کہ کہا جائے ” ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۔ “ اسی ذات نے ہر چیز کو اس کی پیدائش اور رہنمائی بخشی اور ہر چیز کو پیدا فرماکر اس کے خاص اندازے مقرر کیے ہیں۔ ستاروں کی پیدائش اور ان کے مقا صد : ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے خشکی وتری کی تاریکیوں میں راستہ پاؤ۔ ہم نے جاننے والوں کے لیے آیات کو کھول دیا ہے۔ “ جدید علمی ایجادات چاہے جتنی زیادہ ہوجائیں، لیکن انسان کا اجرام فلکی سے راہ پانا ایسی حقیقت ہے جس کا ظہور ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، اب بھی ہے اور مستقبل میں بھی ہوگا۔ اسرار کائنات چاہے انسان پر کس قدر منکشف ہوجائیں مگر یہ حقیقت قاہرہ اپنا آپ منواتی رہے گی۔ جدید علوم نے ستا روں کے متعلق بیشمار نئے انکشافات بھی کیے ہیں جو بڑے حیرت انگیز ہیں۔ جس مقام پر تمام انسانی آلات ناکام ہوجائیں، وہاں ستاروں کو دیکھ کر سمتیں متعین کرتے، وقت کا پتہ چلاتے، موسموں کا حال معلوم کرتے، بارش اور آندھی وغیرہ کی پیش گوئی کرتے اور سنتے ہیں۔ ستاروں کا علم نہایت وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ ذرا غور کرنے والا اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کارخانہء قدرت کے پیچھے ایک علیم و بصیرہستی کی مشیت وقدرت اور ارادہ کار فرما ہے۔ جو تمام کرّوں کی رفتار اور گردش کا انتظام کرتا ہے اور انھیں باہم تصادم سے بچاتا ہے۔ یہ سب کچھ محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے، اس کے پیچھے قادر مطلق کی کار فرمائی کام کر رہی ہے۔ اسی لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ جاننے والوں کے لیے ہم نے آیات کی تفصیل بیان کردی ہے، ستاروں کی رفتار اور گردش کائنات تو حسی رہنمائی کے لیے ہے مگر تفصیل آیات سے عقل و فکر کو رہنمائی میسر آتی ہے۔ (ماخوذ از ظلال القرآن ) نظام فلکی اور علم نجوم کی حقیقت قرآن و حدیث میں کافی تفصیل کے ساتھ زمین و آسمان کی ساخت ‘ ہیئت اور ان کی وسعت و کشادگی کے بارے میں بتلایا گیا ہے۔ آسمان کی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ستارے آسمان کی خوبصورتی اور سجاوٹ کے ساتھ مسافروں کی رہنمائی اور نظام فلکی کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انسان کی قسمت اور تقدیر کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا نظام ہے جس میں نہ کوئی مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کی گردش و تغیر کے بارے میں کوئی علم کامل رکھتا ہے۔ نبی محترم ﷺ کے زمانے میں رات کے وقت ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ آج کچھ لوگ ابرباراں کی وجہ سے ہدایت یافتہ ٹھہرے کچھ لوگ اسی بارش کی وجہ سے گمراہی کے گھاٹ اتر گئے۔ صحابہ ؓ کے استفسار پر وضاحت فرمائی کہ جن لوگوں نے یہ عقیدہ ٹھہرایا کہ بارش ستاروں کی وجہ سے ہوئی ہے وہ گمراہ ہوگئے اور جنہوں نے بارش کو فضل ربی قرار دیا وہ ہدایت پر قائم رہے۔ علم نجوم کی مرکزیت اور دارومدار ستاروں کی گردش پر ہے۔ اس علم کی بنیاد نجومیوں نے سورج کی منازل پر قائم کی ہے۔ جس کو قرآن مجید نے منازل اور بروج کا نام دیا ہے۔ بروج کی تفصیلات جاننے سے پہلے نظام فلکی کی ایک جھلک کا نظارہ فرمائیں۔ ( اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ط فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئاً وَّھُوَ حَسِیْرٌ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَا بِیْحَ وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْ ما لّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) [ الملک : 3 تا 5 ] ” اسی نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کیے۔ تم رحمن کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی بےربطی نہیں دیکھ سکتے۔ ذرا دوبارہ آسمان کی طرف دیکھو، کیا تمہیں اس میں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ پھر اسے بار بار دیکھو۔ تمہاری نگاہ تھک کر ناکام پلٹ آئے گی۔ “ (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجاً وَّزَیَّنّٰھا للنّٰظِرِیْنَ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ) [ الحجر : 16 تا 18] ” بلا شبہ ہم نے آسمان میں بروج بنائے اور دیکھنے والوں کی لیے انھیں خوبصورت بنایا اور ہر شیطان مردود سے محفوظ کردیا ہاں اگر شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ “ (فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَابَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ۔ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیاَ بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ ۔ وَحِفْظاً مِّنْ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّارِدٍ ۔ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلأَِ الْاَعْلٰی وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ ۔ دُحُوْرًا وَّلَھُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ) [ الصافات 3 تا 9] ” پھر ان کی قسم جو کہ تلاوت کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ اور ان چیزوں کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہیں اور مشرقوں کا بھی پروردگار ہے۔ بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنا دیا۔ وہ عالم بالا کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔ ہر طرف سے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں۔ اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ “ جنات کا اعتراف : (وَاَنَّھُمْ ظَنُّوْاکَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْ نٰھَا مُلِءَتْ حَرَساً شَدِیْداً وَّشُھُبًا۔ وَّاَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَہٗ شِھَابًارَّ صَدًا۔ ) [ الجن 7 تا 9] ” اور یقیناً انسان بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو کہ اللہ کبھی کسی کو دوبارہ نہ اٹھائے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرے دار اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم سننے کے لیے آسمان کے ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔ “ تعلیم یافتہ حضرات کی فکری کمزوری : علم نجوم کے بارے میں صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ بھی تو ہم پرستی کا شکار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر اس بیماری کا شکار ہیں کہ پامسٹوں اور علم نجوم جاننے والوں کے پاس جا کر انگوٹھی کا نگینہ ‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ ‘ شادی یا کسی تقریب کا دن مقرر کرنے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ کون سے دن اور کس چیز میں ان کیلئے برکت رکھی گئی ہے۔ حالانکہ رحمت اور زحمت ‘ برکت اور نحوست صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انکے نازل ہونے کے اوقات جانتا ہے۔ کوئی چیز اپنی ذات میں نہ منحوس ہوسکتی ہے اور نہ ہی برکت کا سرچشمہ۔ ان توہّمات سے بچنے کے لیے اسلام نے علم نجوم کو کفر کے مترادف قرار دیا ہے۔ جس سے بچنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ علم نجوم کے بارے میں ترقی یافتہ اقوام کے پراگندہ تصورات : ترقی یافتہ اقوام اپنے مقابلے میں دوسروں کو اجڈ ‘ جاہل اور غیر مہذب تصور کرتی ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مسلمان غیر مہذب ‘ جاھل اور بنیاد پرست لوگ ہیں۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ان فرسودہ خیالات اور تصورات کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ مکمل نفی کی ہے۔ ستاروں اور چاند کو مسخر کرنے کا دعوے کرنے والی اقوام ایسے جاہلانہ تصورات رکھتی ہیں کہ انہوں نے ہفتے کے ایام کو انہی بروج اور سیاروں کی طرف منسوب کر رکھا ہے۔ انہوں نے تو ایّام کے نام بھی ستاروں اور سیاروں پر رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً : 1۔ Sun-day (سورج کا دن) 2۔ Mon-day ( چاند کا دن) Moon کا مخفّف ہے۔ 3۔ Tues-day (مریخ کا دن) ۔ یہ (Tues) فرانسیسی زبان کے لفظ (Mars) کا ترجمہ ہے۔ 4۔ Wednes-day (عطارد کا دن) کیونکہ Wednes کا لفظ فرانسیسی لفظ Mercury کا ترجمہ ہے۔ اور فرانسیسی زبان میں Mercuary سیارہ عطارد کو کہا جاتا ہے۔ 5۔ Thurs-day ( مغربی لغت میں "Thurs" سیارہ مشتری کو کہتے ہیں۔ ترجمہ ہوا ” مشتری کا دن “ 6۔ Fri-day ( زہرہ کا دن) 7۔ Satur-day ( زحل کا دن) کیونکہ سیارہ زحل کو انگریزی زبان میں Saturn کہتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں ہماری کتاب جادو کی تباہ کاریاں اور ان کا شرعی علاج۔ ) مسائل 1۔ دن اور رات کا نظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 2۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔ 3۔ ستارے راستے ڈھونڈنے میں معاون ہیں۔ تفسیر بالقرآن سورج، چاند، ستاروں کے فوائد : 1۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اندھیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ ( الانعام : 97) 2۔ یہ لوگ ستاروں کی علامات سے راہ پاتے ہیں۔ (النحل : 16) 3۔ چاند، سورج اور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیں۔ ( الاعراف : 54) 4۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو ضیاء اور چاند کو باعث روشنی بنایا۔ ( یونس : 5) 5۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں چاند کو روشنی کا باعث اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ ( نوح : 16)
Ayahs 6:97–98

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ساتھ خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راستہ معلوم کرو۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کردی ہیں جو جانتے ہیں۔ “ (97)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

” اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر ایک ٹھہرنے کی جگہ اور ایک جائے امانت ہے۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں جو سمجھتے ہیں۔ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق انسان سے توحید کی دلیل۔ ” اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، پھر اس کا ایک ٹھکانا ہے اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ ہم نے گہری سوچ رکھنے والوں کے لیے آیات کو کھول کر بیان کیا ہے۔ “ انسان ایک نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد ایک خلیہ ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل بنتا ہے مرد کی صلب کے اندر ایک ٹھکانے پر ہوتا ہے، پھر اس کا مستقر عورت کا رحم ہوتا ہے اس کے بعد زندگی نشو و نما اور پھیلاؤ حاصل کرتی ہے۔ جب تک اللہ کے حکم سے روئے زمین پر انسانی حیات موجود رہے گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حیات کو سمجھنے کے لیے فقہ گہرائی پر اترنا، غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ جتنی بات انسان کے سمجھنے کی ہے اور اس کے لیے ضروری یا مفید ہے وہ اللہ تعالیٰ نے کھول کر بیان فرما دی ہے۔ جہاں سے عالم غیب کی حدود شروع ہوتی ہیں وہاں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ نفس واحدہ سے حیات کا نکلنا اور پھر ایک طویل سلسلہ قائم ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے۔ جسے سوچ کر انسان اللہ کی طرف گامزن ہوسکتا ہے۔ مذکر اور مؤنث کی ایک متناسب تعداد ہر وقت دنیا میں موجود رہتی ہے تاکہ توالد و تناسل کا سلسلہ قائم رہ سکے اور ایک مقرر وقت تک دنیا کا سلسلہ چل سکے۔ اس موضوع پر مفصل گفتگو کی گنجائش نہیں۔ صرف مذکر یا مؤنث کے نطفے کی پیدائش کی کیفیت اور اس کے متعلق بعض باتوں پر مختصراً کلام کرنا ضروری ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ربانی تقسیم سے کس طرح یہ تذکیر و تانیث کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ جو حیات کے قیام و استمرار کا ذریعہ ہے۔ نر و مادہ کا تناسب و توازن : اللہ تعالیٰ علیم و قدیر کی تقدیر سے نر و مادہ کے کروموسوم باہم ملتے اور مذکر یا مؤنث بچے کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک غیبی تدبیر ہے۔ جس میں اللہ کے سوا کسی کا ہاتھ کار فرما نہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی مذکر اور کبھی مونث یا صرف مذکر یا صرف مؤنث پیدا فرماتا ہے۔ یہ اس توازن و تناسب کو برقرار رکھتا ہے جو زمین پر توالد و تناسل کے لیے ضروری ہے۔ اس سے انسانیت میں انتشار نہیں پڑتا۔ کوئی شخص یہ بھی سوچ سکتا تھا کہ صرف نسل کی بقاء و کثرت کے لیے تو چند نروں کا وجود کافی ہوسکتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ توازن و تناسب کیوں قائم فرمایا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حیوانات میں تو واقعی ایسا ممکن اور درست تھا مگر نسل انسانی میں صرف پیدائش کافی نہ تھی۔ بلکہ انسانی نشو و نما اور تربیت اولاد کے لیے ضروری تھا کہ بچے ایک خاندان میں والدین کے زیر سایہ پیدا ہوں اور نشو و نما پائیں۔ صرف اسی صورت میں زمین پر انسانیت برقرار رہ سکتی تھی۔ پس قضاء و قدر خداوندی کا یہ فیصلہ ہوا کہ نر و مادہ میں عدد کا تناسب بھی قائم رکھا جائے۔ حیوانات میں یہ ضروری نہ تھا لہٰذا وہاں پر اس تعداد اور توازن کا قائم رکھنا لازم نہ ہوا۔ اگر صرف اس توازن ہی کو لیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ خالق کائنات کی حکمت و تدبیر اور رحمت و تقدیر پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس آیت کا اختتام جو اس جملے پر فرمایا گیا ہے کہ (قَدْ فَصَّلْنَا الاْٰ یَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَھُوْنَ ) کی گہرائی یہی ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسانی تخلیق کے مختلف مراحل مقرر فرمائے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے بعد اس کے رہنے سہنے کی منازل متعین فرمائی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنی توحید کے دلائل اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ہر اعتبار سے اسے لاشریک سمجھیں۔ تفسیر بالقرآن انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ ( النحل : 4) 2۔ اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ ( آل عمران : 59) 3۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ ( النساء : 1) 4۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ ( المؤمنون : 12) 5۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ ( الدھر : 2) 6۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ ( النساء : 1)
Ayahs 6:99–100

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

” اور وہی ہے جس نے آسمانوں سے پانی اتارا تو ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی، پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس میں سے ہم تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے ان کے گابھے میں سے جھکے ہوئے خوشے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغات ملتے جلتے اور مختلف ہیں۔ اس کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کی طرف۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ “ (99)

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

” اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنادیا، حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا اور بغیرعلم کے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں بنالیں، وہ پاک ہے اور اس سے بہت بلند ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ (100)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قرآن مجید میں انسانی زندگی، پھل، پھول، نباتات اور درخت وغیرہ کے اگانے کے سلسلے میں پانی کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سبب حیات قرار دیا ہے۔ زمین کی زینت، مردہ زمین کی زندگی، پودوں اور سبزی ترکاری کی شادابی، ان کی پیدائش اور قیام، پھر ان کا رنگ برنگے پھل پھول پیدا کرنا، غلے، میوے، چارہ، بیشمار نفع آور اشیاء کا پیدا ہونا، پکنا اور انسان کے کھانے کے قابل ہونا، ان کی خوبصورتی اور زینت ان تمام چیزوں کو وجود باری تعالیٰ پر دلیل توحید الوہیت اور ربوبیت قرار دیا گیا ہے۔ ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے اوپر سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی۔ “ ہر چیز کے اگانے میں پانی کا جو کام ہے وہ شہری و دیہاتی اور عالم و جاہل پر واضح ہے۔ مگر اس کا کام اس ظاہر سے بہت آگے، بہت گہرا اور بہت مؤثر ہے۔ سائنس کی جدید ترین تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین کی سطح شروع شروع میں بالکل گرم تھی۔ اور وہ نباتات کو اگانے کے قابل نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے اسے پانی اور کئی اور فضائی عوامل سے کاشت اور بیج اگانے کے قابل بنایا۔ بارش کے ساتھ ایک قدرتی کھاد بھی نائٹروجن گیس کے ساتھ زمین پر برستی ہے۔ جو زمین کو زرخیز اور سبزی ترکاری وغیرہ اگانے کے قابل بناتی ہے۔ انسان نے بھی اسی سے کھاد بنانے اور زمین کو زرخیز کرنے کا طریقہ سیکھا ہے، پھر سورج، چاند، ہوا وغیرہ بھی اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ سطح زمین کے اوپر اور اس کے اندر بیشمار ایسے کیمیاوی اور غیر کیمیاوی مادے موجود ہیں جو اس سارے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ نباتات کے مختلف ادوار واطوار : ” پس نکالا ہم نے اس سے سبز انگوری کو جس سے ہم تہ در تہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کی کونپل سے لٹکے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون و انار باہم ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ “ ہر انگوری شروع میں سبز ہوتی ہے اور یہاں پر خضرا کا لفظ زیادہ مؤثر اور گہرا ہے بہ نسبت اخضر کے۔ اس سبز انگوری سے دانے پیدا ہوتے ہیں جو اوپر نیچے بالیوں میں سجے ہوتے ہیں۔ بعض غلے اور پھل شکل و صورت اور مزے میں باہم ملتے جلتے ہوتے ہیں اور بعض نہیں۔ ایک ہی پھل کسی زمین میں ترش اور تلخ ہوتا ہے۔ اور دوسری جگہ میٹھا۔ تاثیر میں بھی بعض ایک جیسے ہیں بعض مختلف، پھر فرمایا : ” جب وہ درخت پھل لائے تو اس کے پھل کو دیکھو، اور پھر اس کے پکنے کا مشاہدہ کرو۔ “ ان پھلوں کو دیکھ کر دل میں سرور اور آنکھوں میں نور پیدا ہوتا ہے۔ جب کچے ہوں تو رنگ و روپ اور رونق ہوتی ہے۔ پکنے پر آئیں تو آہستہ آہستہ بدلتے جاتے ہیں۔ اور پک کر تیار ہوں تو ہر دیکھنے والے کا جی للچا تا ہے۔ سبحان اللہ ! یہ صنعت، یہ مہارت، یہ کاری گری ایک ہی عزیز وعلیم کی ہے۔ اس لیے فرمایا : ” بیشک اس میں بہت سے دلائل ہیں ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ “ انھیں کھا تو ہر ایک لیتا ہے لیکن نور بصیرت اور حس ایمان کے ساتھ وہی دیکھتا ہے جس میں ایمان ہو۔ پھلوں اور غلوں کے مختلف ادوار پر غور کریں گے تو ان میں ایمان باللہ، وحدانیت، قدرت، علم و صنعت ملیں گے۔ جو تمہیں زبان حال اور زبان قال سے احسن الخالقین کی حمد و ثنا پر آمادہ کریں گے۔ اتنی آیات قدرت کو دیکھ کر جو انسان کے ماحول میں اس کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے بکھری پڑی ہیں۔ جو لوگ توحید خداوندی کا اعتراف و اقرار نہ کریں، خود ساختہ معبودوں کو پکاریں، ان میں ایسی صفات اور طاقت مانیں جس کا ان میں کہیں نام و نشان نہیں۔ تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ مشرک اندھے، بہرے اور گونگے ہیں۔ بےعقل وبے شعور ہیں، ناشکرے ہیں، حیوانات سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے اگلی آیت میں شرک اور مشرکین اور ان کے بنائے ہوئے شرکاء کا رد کیا گیا ہے۔ زمین کے جن پودوں کے نام قرآن مجید میں آئے ہیں ان کی تعداد اور نام درج ذیل ہیں۔ 1۔ من 2۔ کھجور 3۔ زیتون 4۔ انگور 5۔ انار 6۔ انجیر 7۔ سدرہ یا بیری 8۔ جھاؤ 9۔ شجر مسواک 10۔ حنا یا کافور 11۔ ادرک 12۔ مسور 13۔ پیاز 14۔ لہسن 15۔ ککڑی 16۔ ببول عرب یا کیلا 17۔ لوکی 18۔ رائی 19۔ ریحان 20۔ زقوم 21۔ ضریع 22۔ طوبی 23۔ شجر 24۔ ثمر 25۔ برگ 26۔ اناج 27۔ زراعت 28۔ چارہ 29۔ ترکاری 30۔ افزائش نباتات۔ کھجور : لیکن یہاں ہم صرف کھجور اور انگور کے بارے میں کچھ لکھیں گے۔ ان کو دیگر پودوں پر ایک امتیاز اور برتری حاصل ہے۔ یوں تو تمام نباتات اور پودے خالق ارض و سماء کے پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن ان چند پودوں کا تذکرہ اس ذات الٰہی نے خود اپنے کلام میں کیا ہے، اس طرح ان پودوں کا نام ابد الآباد تک کلام الٰہی میں محفوظ ہوگیا اور کلام الٰہی میں ان کا ذکر آنے سے ان کی خصوصیتوں کا سمجھنا ایک علمی و دینی ضرورت بن گئی ہے۔ قرآنی نام : 1۔ نَخْل، نَخِیل، نَخْلَۃ دیگر نام : Date (انگریزی ) ، Datte (فرانسیسی) ، Tamar-Tamarim (عبرانی ) ، کھجور (اردو، پنجابی، ہندی) ، خرما (فارسی ) ، کھرجور (سنسکرت) کر جور و (کشمیری) ۔ نباتاتی نام : (Phoenix dactylifera Linn. (Family: Palmae/Aracaceae) قرآن مجید میں کھجور کا تذکرہ : 1۔ البقرہ، آیت : 266 2۔ الانعام، آیت : 100 3۔ الانعام، آیت : 142 4۔ الرعد، آیت : 4 5۔ النحل، آیت : 11، 10 6۔ النحل، آیت : 67 7۔ بنی اسرائیل، آیت : 91، 90 8۔ الکہف، آیت : 32 9۔ مریم، آیت : 23 10۔ مریم، آیت : 25، 24 11۔ طٰہٰ ، آیت : 71 12۔ المؤمنون :، آیت : 19 13۔ الشعراء، آیت : 148 14۔ یٰس ٓ، آیت : 35، 33 15۔ 15۔ ق ٓ، آیت : 10 16۔ القمر، آیت : 20، 18 17۔ الرحمن، آیت : 11، 10 18۔ الرحمن، آیت : 69، 68 19۔ الحاقۃ، آیت : 7، 6 20۔ عبس، آیت : 32، 24 قرآنی ارشادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ان احسانوں اور مہربانیوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے پھلوں کی صورت میں انسان پر کیے ہیں۔ ان پھلوں میں یوں تو انگور، انجیر، انار اور زیتون کا تذکرہ کئی بار بار آیا ہے لیکن جس پھل اور درخت کا حوالہ سب سے زیادہ دیا گیا ہے وہ کھجو رہے۔ اس کا بیان نخل۔ النخیل (جمع) اور نخلۃ (واحد) کے ناموں سے بیس مرتبہ قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔ کھجور کی قسموں اور اس کی گٹھلیوں وغیرہ کا ذکر بھی قرآن پاک میں الگ الگ ناموں سے کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة الحشر آیت 5 میں کھجور کی ایک نفیس قسم کو ” لینۃ “ کہا گیا ہے۔ اسی طرح سورة النساء کی دو آیات 53 اور 124 میں ” نقیرا “ کا لفظ تمثیل کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی یوں تو کھجور کی گٹھلی میں چھوٹی سی نالی کے ہیں لیکن تشبیہ دی گئی ہے ایسی چیز سے جو نہ ہونے کے برابر یعنی حقیر ترین ہو۔ ایسی ہی مثال سورة فاطر آیت 13 میں لفظ ” قطمیر “ سے دی گئی ہے جس کے معنی اس باریک جھلی کے ہیں۔ جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتی ہے۔ ” النوی “ کے معنی زیادہ تر مفسرین نے عام گٹھلی کے لیے ہیں۔ ” العرجون “ کھجور کے گچھے کی ٹہنی کو کہتے ہیں جو درخت پر خشک ہو کر ہنسلی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ چناچہ سورة یٰس ٓآیت 39 میں اس کی مثال نئے چاند سے دی گئی ہے۔ ” حبل “ کے معنی یوں تو کسی بھی رسی کے ہوسکتے ہیں۔ لیکن پرانے زمانے میں عرب عام طور پر کھجور کی پتیوں سے بنی ہوئی رسی مراد لیتے تھے۔ اسی طرح سورة القمر کی آیت 13 میں لفظ ” دسر “ کا استعمال ہوا ہے، اس کے معنی بھی Palm-Fibre کے لیے گئے ہیں۔ مختلف ناموں کے حوالے سے کھجور کا ذکر قرآن حکیم میں اٹھائیس بار ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کھجور کی کاشت آٹھ ہزار سال قبل جنوبی عراق میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی پھلدار پودوں کی کھیتی کا تصور تک نہ تھا۔ عربوں میں ایک پرانی کہاوت تھی کہ سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اتنے ہی کھجور کے استعمال کے فوائد ہیں، اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔ ایک طرف اس کی لکڑی عمارت اور فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے تو دوسری جانب اس کی پتیوں سے جن کو شاخیں کہا جاتا ہے بیشمار مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ کھجور کی گٹھلیاں جانوروں کے لیے موزوں چارہ ہیں اور اس کے پھل انسان کے لیے بہترین غذا ہیں۔ اس کی غذائیت کا اندازہ اس کے کیمیاوی اجزاء سے کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں تقریباً ساٹھ فیصد Invert sugar اور Sucrose کے علاوہ اسٹارچ، پروٹین، Cellulose, Pectin, Tannin اور چربی مختلف مقدار میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن بی ٹو اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنیاتی اجزاء بھی اہمیت کے حامل ہیں، یعنی سوڈیم، کیلشیم، سلفر، کلورین، فاسفورس اور آئرن، سے بھرپور ہے۔ کھجور میں نر اور مادہ درخت ہوتے ہیں۔ دونوں کے پھولوں کے ذریعہ (Cross Polination) ہوتا ہے۔ تب ہی مادہ پودوں میں پھل آتے ہیں۔ ایک نر درخت کے پھول ایک سو مادہ درختوں کے (Polination) کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام سے قبل عرب قبائل کی آپس کی دشمنی اور رقابت میں ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ دشمن کے کھجور کے باغات تہس نہس کردیے جائیں۔ نر پودوں کو خاص طور سے کاٹ دیا جاتا تھا۔ کھجور کے بےمثال طبی فوائد ہیں۔ بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کھجور کھانا مفید ہے۔ یہ دماغ کا ضعف مٹاتی ہے اور یادداشت کی کمزوری کا بہترین علاج ہے۔ قلب کو تقویت دیتی ہے اور بدن میں خون کی کمی کو دور کرتی ہے، گردوں کو قوت دیتی ہے، سانس کی تکالیف میں بالعموم اور دمہ میں بالخصوص سود مند ہے۔ کھانسی، بخار اور پیچش میں اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہ دافع قبض کے ساتھ پیشاب آور بھی ہے۔ قوت باہ کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ غرضیکہ کھجور کا استعمال ایک مکمل غذا بھی ہے اور اچھی صحت کے لیے ایک لاجواب ٹانک بھی۔ طب نبوی میں کھجور کی بڑی افادیت بیان کی گئی ہے۔ کھجور کی عالمی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیداواری ملکوں میں مقامی کھپت کے ماسوا پانچ سے آٹھ لاکھ ٹن کھجور دنیا کے بازاروں میں بھیجی جاتی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 1982 ء میں کھجور کی عالمی پیداوار چھبیس لاکھ ٹن تھی جس کا 56 فیصد حصہ عراق، سعودی عرب، مصر اور ایران میں پیدا کیا گیا۔ عراق کا شہر بصرہ کھجور کی تجارت کے لیے زمانہ قدیم سے بہت مشہور رہا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ کھجوریں اسی بندرگاہ سے برآمد کی جاتی ہیں۔ عراق میں 445 اقسام کی کھجوریں پائی جاتی ہیں کھجور کے اعتبار سے عراق پوری دنیا میں سرفہرست ہے۔ کھجور کی تاریخی اور سماجی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی غذائی اور طبی خصوصیات کی روشنی میں اسے ” نباتاتی نعمت “ کہا جائے تو نہایت مناسب ہوگا۔ اسی نعمت کی بنا پر قرآن مجید میں اس کا کئی بار ذکر ہوا ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل و فہم رکھتے ہیں۔ انگور قرآنی نام : عنب، اعناب (جمع) دیگر نام : Grape (انگریزی) ، فرشک، انگور (فارسی) ، عنب (عربی ) ، انگور (اردو، فارسی) قرآن مجید میں انگور کا تذکرہ : 1۔ البقرہ، آیت : 266 2۔ الانعام، آیت : 100 3۔ الرعد، آیت : 4 4۔ النحل، آیت : 11 5۔ النحل، آیت : 67 6۔ بنی اسرائیل، آیت : 91 7۔ الکہف، آیت : 32 8۔ المؤمنون، آیت : 19 9۔ یٰس ٓ، آیت : 34 10۔ النباء، آیت : 32۔ 31 11۔ عبس، آیت : 28۔ 27 انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر عنب اور اعناب (جمع) کے نام سے مندرجہ بالا گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ انگور فارسی لفظ ہے جس کا نباتاتی نام Vitis Vinifera ہے۔ اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ بھی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاسکتی ہے۔ انگور سے پیدا کی گئی قسموں (Varieties) کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی کاشت دنیا کے بہت سے ممالک میں عام ہے جن میں سرفہرست ہیں اٹلی، فرانس، روس، اسپین، ترکی، ایران، افغانستان، جاپان، شام، الجیریا، مراکش، فلسطین اور امریکہ۔ انگور کی کل عالمی پیداوار کا نصف یورپ کے ممالک پیدا کرتے ہیں۔ کیمیاوی طور سے انگور، گلوکوز اور فرکٹوزکا بہترین ذریعہ ہے جو اس میں پندرہ سے پچیس فیصد تک پائے جاتے ہیں اس کے سوا Tartaric acid اور Malic acid بھی خاصی مقدار میں ملتے ہیں۔ سوڈیم پوٹاشیم، کیلشیم اور آئرن کی قابل قدر مقدار اس میں موجود ہے جبکہ پروٹین اور چربی برائے نام ہے۔ اس میں ایک بہت اہم کمپاؤنڈ بھی دریافت ہوا ہے جس کو وٹامن ” پی “ (P) کہا گیا ہے۔ یہ کیمیاوی جز ذیابیطس سے پیدا شدہ خون کے بہنے کو روکتا ہے۔ جسم کے ورم اور نسوں کی سو جن کو کم کرتا ہے اور Atherosclerosis کا مؤثر علاج ہے۔ کیمیاوی اجزاء کی بنا پر انگور ایک ایسا لاجواب ثمر ہے جو نہایت ہاضم ہونے کے ساتھ انتہائی فرحت بخش اور Demulcent ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور جسم میں خون کی مقدار بڑھاتا ہے اور عام جسمانی کمزوری کو دفع کرتا ہے۔ کچے انگور کا رس گلے کی خرابیوں میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پتیاں اسہال کو روکتی ہیں۔ اس کی بیلوں سے حاصل کیا گیا رس (Sap) جلد کی بیماریوں میں کام میں لایا جاسکتا ہے۔ یورپ میں یہی رس Ophthalmia کا بہترین علاج مانا جاتا ہے۔ انگوری سرکہ معدہ کی خرابیوں، ہیضہ اور قولنج کی اچھی دوا ہے