6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفہم القرآن

Ayahs 6:51–52

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

” اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائیں جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف لے جا کر اکٹھے کیے جائیں گے اس کے سوا ان کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا تاکہ وہ بچ جائیں “ (51)

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

” اور ان لوگوں کو دورنہ ہٹائیں جو اپنے رب کو صبح، شام یاد کرتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں آپ کے ذمّہ ان کے حساب کی ذمّہ داری نہیں اور نہ آپ کا حساب ان کے ذمّے ہے تو اگر آپ دورہٹا دیں گے تو ظالموں سے ہوجائیں گے۔ “ (52)

فہم القرآن ربط کلام : غور و فکر کی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا تصور پیدا کرنا ضروری ہے جس کی یہاں تلقین کی گئی ہے۔ یہی عقیدہ اور تصور انسان کو صراط مستقیم کی طرف لاتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے گرد و پیش کے ماحول، یہاں تک کہ اپنی ساخت وپرداخت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ غور و فکر کرنا ایسی قوت ہے جس سے انسان کے بند دماغ کی گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں جو شخص ان صلاحیتوں سے عاری ہوجائے وہ اپنے سامنے کی بڑی سے بڑی حقیقت کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ منکرین حق دنیاوی مسائل کی گرہیں کھولنے اور ترقی کرنے کے دعوے دار ہونے کے باوجود حقیقی اور دائمی حقائق سے غافل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ مومن کی نسبت محشر کے میدان سے زیادہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس لیے نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے سے ڈرتے ہیں اور جن سہاروں پر یہ بھروسہ کیے ہوئے ہیں وہاں کوئی خیر خواہ ان کی خیر خواہی اور کوئی سفارشی ان کی سفارش نہیں کرسکے گا لہٰذا انھیں اپنے باطل عقیدہ کو چھوڑنا اور برے اعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مفسرین کے دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ اس آیت میں آپ ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ کفار کے مطالبات پر پریشان ہونے اور ان پر مزید صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے ان لوگوں کی تعلیم و تربیت فلاح اور اصلاح کے لیے کوشش کریں اور ڈرائیں جو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں حاضری کے تصور سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے آپ سے ہرگز دور نہ کریں جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے اور ہر وقت اس کے فضل و کرم کے طالب رہتے ہیں ان کے حساب کے بارے میں آپ مسؤل نہیں اور آپ کے حساب میں سے ان کے ذمّہ نہیں ہوگا اگر آپ خدا ترس بندوں کو چھوڑ دیں تو آپ کا شمار زیادتی کرنے والوں میں ہوگا۔ تمام مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے ایک دن آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم آپ کی محفل میں آنے اور آپ کی بات سمجھنے کے لیے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ بلال، خبیب ؓ اور اس قسم کے غریب لوگ ہماری آمد کے وقت آپ کی محفل میں نہیں ہونے چاہییں بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے کفار کی ہدایت کی طلب کے جذبے میں آکر ایسا کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کچھ لوگوں کا یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ کی محفل میں بیٹھنے والے بعض لوگ ایسے ہیں جو اسلام قبول کرنے سے پہلے بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھے۔ آپ نے اپنی پاک فطرت کی بنا پر اس چیز کو محسوس کیا جس بنا پر یہ وضاحت نازل ہوئی کہ اے نبی ! آپ نے اپنا حساب دینا ہے اور یہ اپنے حساب و کتاب کے بارے میں جواب دہ ہوں گے۔ ماضی کے حوالے سے ان لوگوں کو چھوڑنا ظالموں کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے پر خلوص ایمان کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔ (عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ فَلْأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِینَہٗ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا أَجَلَّ فِی عَیْنِی مِنْہُ وَمَا کُنْتُ أُطِیقُ أَنْ أَمْلَأَ عَیْنَیَّ مِنْہُ إِجْلَالًا لَہُ وَلَوْ سُءِلْتُ أَنْ أَصِفَہُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّی لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَیْنَیَّ مِنْہُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ وَلِینَا أَشْیَاءَ مَا أَدْرِی مَا حَالِی فیہَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِی نَاءِحَۃٌ وَلَا نَارٌ)[ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین ] ” حضرت عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں جب آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے فرمایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تب آپ پوچھتے ہیں اے عمرو ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں ارشاد ہوا کہ وہ کونسی شرط ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تو نہیں جانتا یقیناً اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے ؟ اسی طرح ہجرت کرنے سے ہجرت سے پہلے کے بھی گناہ ختم ہوجاتے ہیں اور یقیناً حج سے بھی سابقہ غلطیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ رسول معظم ﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا۔ اور نہ ہی میری آنکھ میں آپ ﷺ سے زیادہ کسی کا جلال تھا۔ میں انہیں اس جلال کی وجہ سے آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکا۔ اگر مجھ سے کوئی سوال کرے کہ میں آپ ﷺ کا کوئی وصف بیان کروں تو اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے آپ کو کبھی آنکھ بھر کے دیکھا ہی نہیں۔ اگر میں اس حال میں فوت ہوگیا تو میں امید کرتا ہوں کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا۔ پھر اللہ مجھے جنت میں ولی مقرر کر دے تو میں نہیں جانتا وہاں کس حال میں ہوں گا تو جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی اور آگ نہ لے کے آنا۔ “ حضرت عمر و بن عاص ؓ کے ذاتی احساسات : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی فوت ہونے لگتا تو عمرو بن عاص ؓ فرمایا کرتے کہ نہ معلوم لوگ نزع کے وقت کیوں نہیں بتلاتے کہ موت کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ جب عمر و بن عاص ؓ پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں نے ان کی بات یاد کرواتے ہوئے گذارش کی کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھ پر یہ وقت آئے گا تو میں بتلاؤں گا کہ موت کس طرح آتی ہے۔ اس کے جواب میں عمرو بن عاص ؓ صرف اتنا بتلاسکے کہ بھتیجے بس میں اتنا ہی بیان کرسکتا ہوں کہ مجھے نزع کا عالم یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے کسی نے احد پہاڑ میرے سینے پر رکھ دیا ہو اور پھر زارو قطار رونے لگے۔ اسی موقعہ پر ہی انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو وصیت کی تھی کہ میری قبر پر منکر نکیر کے سوالات تک کھڑے رہنا۔ تاکہ میں تسکین پاؤں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ مرنے والے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا دنیا والوں کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو آزمانے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھار نے کے لیے بیشمار آزمائشیں بنائی ہیں۔ ان میں غربت اور امارت، شہرت اور گمنامی، حاکم اور محکوم ہونا بھی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو دولت و ثروت، شہرت و ناموری اقتدار اور اختیار دے کر آزماتا ہے کہ یہ لوگ نعمتوں سے محروم انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اگر نعمتیں پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے اور اس کی مخلوق کے ساتھ عاجزی اور خیر خواہی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں مزید نعمتیں دیتے ہوئے آخرت میں اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ اگر صاحب حیثیت لوگ خدا کے نافرمان اور اس کی مخلوق کے لیے ظالم ثابت ہوتے ہیں تو انھیں اذیت ناک سزاؤں سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اسی طرح ہی نعمتوں سے محروم لوگوں کو آزمایا جاتا ہے کہ وہ دنیاوی نعمتوں سے محروم ہو کر صبر و شکر کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں قیامت کے دن عظیم اجر وثواب عطا ہوگا۔ اور اگر یہ لوگ سرکشی اور نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں اس کی سزا اور مزید محرومیوں سے واسطہ پڑے گا۔ اہل مکہ غریب صحابہ ؓ پر یہ طعن بھی کرتے تھے کیا یہ لوگ ہیں ؟ جن پہ اللہ نے احسان کیا ہے کہ جن کو پیٹ پالنے کے لیے خوراک اور تن ڈھانپنے کے لیے پوشاک بھی میسر نہیں۔ یہاں ایک طرف کفار کو بین السطور سرزنش کی جارہی ہے کہ تم خدا کی نعمتیں پانے کے باوجود سرکش اور باغی ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔ تمہارے مقابلے میں نعمتوں سے محروم لوگ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اپنے رب کے فرمانبردار یا تابع فرمان اور شکر گزار ہیں۔ اس طرح شکر گزار بندوں کو تسلی اور ان کی قدر افزائی کی گئی ہے۔ اگلی آیات میں غریب مومنین کو یہ کہہ کر اعزاز بخشا گیا ہے کہ اے نبی ! جب یہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کرنے میں پہل کیا کریں۔ مسائل 1۔ لوگوں کو اللہ کے حضور پیش ہونے کا خوف دلاتے رہنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ہے۔ 3۔ خوشحالی اور تنگدستی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ 4۔ انسان کو ہر حال میں اپنے رب کا صابر و شاکر رہنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبردار لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا ہی شکر ادا کرنا چاہے : 1۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 172) 2۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ (الاعراف : 58) 3۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے کو زیادہ عطا کرتا ہے۔ (ابراہیم : 7) 4۔ اللہ کے تھوڑے بندے ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔ (سباء 13) 5۔ شکر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ (الزمر : 7) 6۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو بہتر جزا دیتا ہے۔ (القمر : 35) 7۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (لقمان : 12)
Ayahs 6:53–55

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

” اور اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو دوسرے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟ (53)

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہیں تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے بلاشبہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کربیٹھے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو یقیناً وہ بےحد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ (54)

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ اچھی طرح واضح ہوجائے۔ “ (55)

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ غریب صحابہ ؓ کو اپنے سے دور نہ کیجیے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کو قدر افزائی اور فضل و کرم کا پیغام سنایا گیا ہے۔ کفار کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کی حوصلہ شکنی اور طعنہ زنی کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی، فضل و کرم کا پیغام اور گناہوں کی بخشش کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ کفار نے غریب صحابہ ؓ کو حقیر سمجھ کر ان کی دنیاوی پسماندگی کا مذاق اڑایا تھا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر چار کرم فرمائے۔ 1۔ صحابہ کے ایمان اور اخلاص کی قدر افزائی فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا پیغام آیا۔ 3۔ رب رحیم کی رحمت کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ 4۔ گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دی گئی۔ یہاں جہالت کو گناہ کا سبب قرار دیا ہے۔ جہالت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے جہالت سے مراد یہ نہیں کہ آدمی کو گناہوں کے بارے میں علم نہ ہو بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آدمی جب گناہ کرتا ہے تو اس وقت وہ عملاً جاہل ہوجا تا ہے۔ اس لیے ہر زبان میں یہ معروف ہے کہ جب کوئی پڑھا لکھا انسان غلطی کا ارتکاب کرے تو لوگ اسے جاہل قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ گناہ کا دوسرا نام جہالت ہے۔ یہاں اس لیے بھی جہالت کا لفظ استعمال کیا ہے تاکہ کفارکو اس بات کا احساس ہو کہ دین سے بےبہرہ ہونا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ بہر حال جہالت کی کسی شکل میں انسان سے غلطی ہوجائے پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ کافر کی توبہ یہ ہے کہ وہ کفر سے تائب ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہوئے اصلاح کا رویہ اختیار کرے۔ یقیناً اس کے سابقہ گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے یہاں ہدایت کے بجائے مجرموں کا راستہ واضح کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح گمراہی کے مقابلے میں ہدایت اور کفر و نفاق کے مقابلے میں دین کا راستہ خود بخود نمایاں ہوجاتا ہے۔ مجرموں کے راستے کو واضح کرنے کا یہ بھی مقصد ہے کہ جس طرز حیات پر وہ اتراتے ہیں انھیں احساس ہو کہ یہ اللہ کے فرماں بردار بندوں کا طریقہ اور راستہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مجرموں کا راستہ جہنم ہوگا جو نہایت ہی برا راستہ ہے۔ یہاں مومنوں کو اپنی رحمت کی خوشخبری سنانے کے بعد مجرموں پر واضح فرمایا کہ اگر تم بھی بغاوت اور تکبر کا راستہ ترک کرکے نیک بندوں کے ساتھ عاجزی اور اپنے رب کے حضور سرافندگی کا طریقہ اختیار کرلو۔ تو اس کی رحمت تمہیں بھی اپنے دامن میں پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر تم نے اس کے نیک بندوں کے ساتھ تکبر اور اپنے رب کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اپنائے رکھا تو یاد رکھو اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِی کِتَابِہٖ فَہُوَ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کائنات کی تخلیق سے فارغ ہوا تو اپنی کتاب میں جو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے عرش کے اوپر لکھا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
Ayahs 6:56–58

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

” فرمادیں بیشک مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو فرمادیں کہ میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا یقیناً اس وقت میں گمراہ ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں سے نہیں ہوں گا۔ (56)

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

فرمادیں بیشک میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلادیا ہے میرے پاس وہ چیز نہیں ہے جسے تم جلد مانگ رہے ہو فیصلہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ (57)

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

فرما دیں اگر واقعی میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو میرے درمیان اور تمہارے درمیان ضرور فیصلہ ہوجاتا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین نہ صرف خودگمراہ ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں سے بھی اپنا عقیدہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا کفر و شرک واضح کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ سے اعلان کرایا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مشرکین اور منکرین کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ توحید پرستوں کو ان کے راستے سے ہٹا کر شرک اور نافرمانی کے راستہ پر لگائیں۔ جس کے لیے قرآن مجید نے متعدد بار نبی ﷺ کی زبان اطہر سے یہ اظہار اور اعلان کروایا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں لوگوں کو بتلائیں کہ مجھے غیر اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ اگر میں ہدایت کے خلاف لوگوں کی خواہش کی پیروی اور غیر اللہ کی عبادت کروں تو اللہ کا رسول ہونے کے باوجود میں بھی ہدایت سے تہی دامن اور گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ آپ کی زبان اطہر سے یہ اعلان سن کر کفار انتہائی مایوس ہو کر یہ مطالبہ کرتے کہ اگر آپ وا قعتا اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہیں تو پھر ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ۔ اس حماقت کا جواب دیتے ہوئے آپ سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ بلاشبہ میں اپنے رب کی دلیل پر ہوں جس کو تم مسلسل جھٹلاتے ہو۔ جہاں تک تمہارے مطالبے کا تعلق ہے جس پر تم آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہو یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کس طرح تم پر عذاب نازل کرے گا میں اس پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ کیونکہ کسی کی ہدایت یا گرفت کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی حاکم مطلق ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ 2۔ خود ساختہ خداؤں کی عبادت کرنے والے گمراہ ہیں۔ 3۔ جزاء و سزا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 4۔ فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ 5۔ ظالموں کو دنیا و آخرت میں عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن حکم اللہ ہی کا چلتا ہے : 1۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ (المائدۃ : 1) 2۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔ اس کا حکم ہے کہ نہ عبادت کرو مگر صرف اسی کی۔ (یوسف : 40) 3۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور فیصلہ کرتا ہے ان کے درمیان اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الممتحنۃ : 10) 4۔ اللہ فیصلے کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جس بات میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 113) 5۔ قیامت کے دن آپ کا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ (النحل : 124، النساء : 141)
Ayahs 6:59–60

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (59)

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

” اور وہی ہے جو تمہیں رات کو فوت کرتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا، پھر وہ تمہیں اس میں اٹھا دیتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : کفار نے نبی اکرم ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا جس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو بتلا دیا گیا ہے اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کس نے ہدایت قبول کرنا ہے اور کس نے گمراہی میں مرنا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر 50 میں کفار کے ایک مطالبہ کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ اے نبی ﷺ آپ فرما دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک، غیب جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہاں دوسرے زاویے سے جواب دیا گیا ہے کہ عذاب نازل کرنے یا اللہ کے خزانوں کی ملکیت کا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا۔ غیب کے پردوں اور دروازوں کے پیچھے جو کچھ چھپا ہے اس کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ وہ زمین کے ذرّے ذرّے اور پانی کے ایک ایک قطرے سے واقف ہے وہ زمین پر پیدا ہونے والے اربوں درخت اور ان پر لگنے والے کھربوں پتوں کو جانتا ہے اور کروڑوں کی تعداد میں بیک وقت زمین پر گرنے والے پتوں کا اسے علم ہوتا ہے۔ اسی طرح زمین کی تہوں اور اندھیروں میں زندہ، مردہ خشک اور تر کروڑ ہا قسم کے بیجوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے ہاں لوح محفوظ میں ہر چیز کا ریکارڈ ثبت ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو رات کے وقت فوت کرتا ہے اور وہ سوتے اور جاگتے ہوئے جو حرکات کرتے ہیں وہ ان سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اسی طرح جو دن کی روشنی میں لوگ اعمال کرتے ہیں وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں ہوتے ہیں۔ وہی اللہ لوگوں کو نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اسی طرح صبح و شام، رات اور دن، سونے اور جاگنے کے عمل سے ہر انسان کی زندگی کے دن پورے ہوتے ہیں۔ جس طرح سونے اور جاگنے کا معاملہ ہے ایسے ہی انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہر کسی کو اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے پھر وہ ہر انسان کو اس کے اچھے برے اعمال اور اس کے انجام سے آگاہ فرمائے گا یہاں نیند کو موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اسے گرد و پیش میں ہونے والے واقعات کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ نیند اور موت کے درمیان یہ فرق ہے کہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی بہت آواز سے جاگ اٹھتا ہے، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے۔ مرنے والے کو قیامت کا شدید ہنگامہ ہی بیدار کرسکے گا۔ جب انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے تو پھر سب کو اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں پیش ہونا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہی ہر کسی کو اس کے اعمال اور انجام سے باخبر فرمائے گا۔ مسائل 1۔ عالم الغیب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 2۔ بحر و بر میں ہونے والی تمام حرکات و سکنات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : 1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ( الانعام : 59) 2۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ ( یونس : 20) 3۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ ( ھود : 31) 4۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

” اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر محافظ بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے فوت کرلیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا سچامالک ہے۔ سن لو اسی کا حکم ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “ (62)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح نیند اور بیداری پر اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح ہی انسان کی موت کے بعد اسے زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں حاضر کرنے پر قوت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ بندوں پر مکمل اختیار رکھنے کے باوجود ہدایت کے بارے میں جبر اختیار نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، قدرت، علم، حکمت اور ہر لحاظ سے اپنے بندوں پر قادر اور قاہر ہے۔ وہی ہر چیز کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور ایک مدت معینہ کے بعد اس کے وجود کو ناپید کردیتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر چیز کو وجود میں لائے گا۔ وہ ظلمت پر روشنی کو اور روشنی پر ظلمت کو غالب کرتا ہے۔ وہی ہر نعمت دینے والا ہے۔ اور جب چاہتا ہے اسے واپس لے لیتا ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کے اقتدار اور اختیار، قدرت و سطوت کے سامنے دم مار سکے۔ وہ ہر وقت اور ہر لحاظ سے اپنے بندوں پر غالب اور قادر ہے۔ وہی بندوں کے اجسام اور اعمال کی حفاظت کرتا ہے۔ اس نے انسان کی جان اور اعمال محفوظ رکھنے کے لیے ملائکہ مقرر کر رکھے ہیں۔ جو آدمی کی آخروقت تک حفاظت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ اپنے عملے کے ساتھ آدمی کی جان اچک لیتا ہے۔ پھر وہ اسے پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا تے ہیں۔ جو انسان کا حقیقی مالک ہے۔ یہاں مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ کا لفظ استعمال فرما کر یہ حقیقت باور کروائی ہے کہ دنیا میں کافر اور مشرک بیشمار جھوٹے مولیٰ بنائے پھرتے ہیں جو آدمی کی موت کے ساتھ ہی اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے حقیقی مولیٰ اور حاکم مطلق اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ اس لیے انسان کی انسانیت یہ ہے کہ وہ اللہ کو سچا مولیٰ اور حاکم مطلق تصور کرے جو بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ یَتَعَاقَبُون فیکُمْ مَلَاءِکَۃٌ باللَّیْلِ وَمَلَاءِکَۃٌ بالنَّہَارِ وَیَجْتَمِعُونَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فیکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی فَیَقُولُونَ تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے ہاں گئے تو بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر بندے پر حفظ وضبط کے لیے فرشتے مقرر فرمارکھے ہیں۔ 2۔ وقت مقررہ سے فرشتے ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہونے دیتے۔ 3۔ اللہ ہی مالک حقیقی ہے۔ 4۔ فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ تفسیر بالقرآن موت کے وقت مہلت نہیں دی جاتی : 1۔ ہر امت کے لیے ایک اجل ہے جب آجائے تو ایک منٹ آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ (یونس : 49) 2۔ جب لوگوں کی اجل آجائے تو ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ (النحل : 61) 3۔ اللہ تعالیٰ ہرگز کسی جان کو مہلت نہیں دیتا جب اس کی اجل آجائے۔ (المنافقون : 10 تا 11)
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

” فرما دیں کہ کون تمہیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے ؟ تم اسے عاجزی اور چپکے چپکے پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں سے ہوجائیں گے۔ (63)

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

فرما دیں اللہ تمہیں اس سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے۔ پھر تم شرک کرتے ہو۔ “ (64)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ انسانوں کی موت وحیات پر قادر، حاکم مطلق اور مولیٰ حق ہے گو اس نے ہدایت کا جبری نظام نہیں بنایا لیکن تم اس کی قدرتیں دیکھو اور ان پر غور کرو۔ آسانی اور خوشحالی میں اسی کو پکارو جس کو تم مشکل اور اضطراری حالت میں پکارتے اور اس کے مشکل کشا ہونے کا اقرار کرتے ہو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی ہے کہ مشرک اور موحد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مشرک اور کافر صرف مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔ جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے برعکس موحد کی یہ شان ہے کہ وہ عسر و یسر، آسانی اور پریشانی میں صرف اور صرف اپنے رب کو پکارتا ہے اور یہی فطرت سلیم کا تقاضا ہے، مشکل اور پریشانی کے وقت مشرک کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ اس وقت اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا۔ مشرک انتہائی مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ بڑی آہ وزاری کے ساتھ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو صداؤں پر صدائیں دے رہے ہوتے ہیں اور اپنے دل ہی دل میں یہ عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے نجات بخشی تو ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ لیکن جونہی وہ اس کرب ناک مصیبت سے نجات پاتے ہیں تو پھر اس مشکل کشائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں۔ یہاں شکر کرنے سے مراد توحید کا اقرار کرنا ہے اور بحر و بر کی ظلمات سے مراد بادل اور رات کے اندھیروں کے ساتھ صحراؤں کے گرد و غبار اور سمندر کی موجوں اور تہوں کے اندھیرے ہیں۔ ( فَإِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا ہُمْ یُشْرِکُوْنَ ) [ العنکبوت : 65] ” پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسے ہی پکارتے ہیں۔ اور جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی بحر و بر کی مشکلات سے نجات نہیں دے سکتا۔ 2۔ مصیبت سے نکلنے کے بعد خصوصاً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 3۔ عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے ساتھ شرک سے نفرت کرنا بھی لازم ہے۔ تفسیر بالقرآن خشکی اور تری میں اللہ ہی نجات دینے والا ہے : 1۔ جب تمہیں خشکی کی طرف نجات مل جاتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہو۔ (الاسراء : 67) 2۔ جب ہم انھیں خشکی کی طرف نجات دیتے ہیں تو وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ (العنکبوت : 65) 3۔ وہ اللہ کو خالص پکارتے ہیں جب انھیں خشکی کی طرف نجات ملتی ہے۔ (لقمان : 32) 4۔ ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور نافرمانی سے بچتے رہے۔ (حٰم السجدۃ : 18) 5۔ جب ان پر سائبان جیسی کوئی موج چھا جاتی ہے تو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصاً اسے پکارتے ہیں پھر جب انھیں بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو پھر کچھ بد اعتدال ہوجاتے ہیں۔ (لقمان : 32) مشرک نجات پانے کے بعد شرک کرتا ہے : 1۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو وہ بغیر حق کے زمین میں بغاوت کرتے ہیں۔ (یونس : 23) 2۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو بعد میں وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : 65) 3۔ آپ فرما دیں اللہ تمہیں اس سے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے اور تم شرک کرتے ہو۔ (الانعام : 64)
Ayahs 6:65–67

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

” فرما دیجیے وہ قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کردے اور تمہارے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھائے۔ دیکھیں ہم کیسے آیات کو بدل، بدل کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ (65)

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اسے آپ کی قوم نے جھٹلادیا، حالانکہ یہی حق ہے فرما دیں میں ہرگز تم پر کسی طرح نگہبان نہیں۔ (66)

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کا ایک وقت ہے اور عنقریب تم جان لوگے۔ “ (67)

فہم القرآن ربط کلام : سمندر کے طوفان اور صحرا کے گرداب اور بھنور میں ہی نہیں وہ اللہ جب چاہے انسان کو دیگر آزمائشوں اور عذابوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اے لوگو تم ہر حال میں اپنے رب کے سامنے مجبور محض ہو۔ پہلی آیات میں برّی گرداب اور سمندری طوفانوں کا ذکر ہوا ہے۔ جن کے ساتھ عام طور پر مسافر کو واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ لازم نہیں کہ صرف سفر میں ہی تمہیں مشکلات اور عذاب کے ساتھ واسطہ پڑے۔ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں تمہارے گھروں میں بیٹھے ہوئے آسمانی اور زمینی عذاب سے دو چار کردے، یہی نہیں بلکہ تمہیں تمہاری نافرمانی، بداخلاقی اور باہمی منافقت ور نجشوں کی بنا پر آپس میں اس طرح الجھا دے کہ تم ایک دوسرے کے لیے عذاب اور مصیبت بن جاؤ۔ آسمانی عذاب سے مراد بارشوں کا بےموقع اور غیر معمولی برسنا ہے۔ دیگر آفات کا لوگوں کے پاؤں تلے سے نمودار ہونا ہے۔ پاؤں تلے نمودار ہونے کی مثال قوم نوح کے عذاب کی طرح پانی کا آسمان سے اترنا اور زمین سے نکلنا اور اگلنا ہے۔ لوگوں کا زمین کے اندر دھنسائے جانا اور اس طرح کے دیگر عذاب ہیں اس مقام پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے کو عذاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ باہمی جنگ وجدال کو اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب قرار دیا اور فرمایا کہ غور کرو کہ ہم اپنے احکام کو مختلف زاویوں کے ساتھ کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ بوجھ سے کام لیں۔ انسانی اعضاء وجوارح اور وجود میں سمجھ بوجھ ہی وہ قوت ہے۔ جو انسان کو دینی اور دنیاوی نفع و نقصان سے باخبر رکھتی ہے اگر سوجھ بوجھ کی صلاحیت سلب ہوجائے تو آدمی کا صحیح راستے پر چلنا، نفع اور نقصان کو پہچاننا ناممکن ہوجاتا ہے۔ نبی معظم ﷺ کے بار بار سمجھانے کے باوجود کفار ہر بار حقائق کی تکذیب کرتے۔ جس پر رسول محترم ﷺ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام لوگوں کو سمجھانا اور بتلانا ہے منوانا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں پر چوکیدار بنانے کے بجائے مبلغ بنایا ہے۔ جہاں تک عذاب یا قیامت لانے کا مطالبہ ہے انھیں خبر ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بات اور کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا حکم اور کام اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوا کرتا ہے۔ (عَنْ جَرِیرٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَہٗ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب الانصات للعلماء ] ” حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم ﷺ نے اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ۔ اس کے بعد فرمایا میرے بعد کفر میں لوٹ نہ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کا عذاب نازل کرسکتا ہے۔ 2۔ ہر نبی کا کام دعوت حق پہنچانا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ حق بات دلائل و شواہد سے واضح کرتا ہے تاکہ لوگ شرک و مصیبت سے باز آجائیں۔ 4۔ عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ تفسیر بالقرآن باہمی اختلاف اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے : 1۔ شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔ (المائدۃ : 91) 2۔ باہمی اختلاف انسان کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیتا ہے۔ (آل عمران : 103) 3۔ اختلاف سے ساکھ اکھڑ جاتی ہے۔ (الانفال : 46) 4۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان قیامت تک کے لیے باہم اختلافات رہیں گے۔ ( المائدۃ : 64) 5۔ اللہ نے یہود و نصاریٰ کے درمیان بغض اور دشمنی قیامت تک کے لیے ڈال دی ہے۔ (المائدۃ : 14)
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

” اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات کے بارے میں فضول بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں اور اگر کبھی شیطان آپ کو بھلادے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں۔ “ (68)

فہم القرآن ربط کلام : پیغمبر (علیہ السلام) کی تکذیب، آپ سے بار بار آیات کا مطالبہ کرنا اور حقائق کو ٹھکرانا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ منکرین کا شروع سے یہی وطیرہ رہا ہے۔ ایسے موقعہ پر مومنوں کو ہدایت۔ کفار بار بار پیغمبر (علیہ السلام) سے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے تھے جب ان کا مطالبہ پورا کردیا جاتا تو وہ ایک اور مطالبہ پیش کردیتے۔ اس طرح انھوں نے اللہ کے دین کو کھیل اور شغل بنا رکھا تھا۔ خوض کا معنی کسی حقیقت کو کھیل تماشا بنانا یا اسے مذاق سمجھنا ہے۔ کفار کھلم کھلا دین اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے کہتے کہ یہ کیسا نبی ہے۔ جسے سفر کے لیے سواری، رہنے کے لیے عمدہ مکان، کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی اور پہننے کے لیے اچھا لباس میسر نہیں۔ جہاں تک اس کے متبعین کا تعلق ہے ان کی اکثریت معاشرے کے کم تر لوگوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس استہزاء کے ساتھ جب صحابہ ؓ اور نبی محترم ﷺ نماز پڑھتے تو یہ لوگ سیٹیاں بجایا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کو عطا ہونے والے معجزات کا مذاق اڑاتے۔ چاند دو ٹکڑے ہوا تو انھوں نے آپ کو جادوگر کہا۔ آپ معراج پر پہنچے تو کفار نے اسے دیوانے کی بڑ قرار دیا۔ قرآن مجید نے اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کی بات کی تو مخالفین نے اسے یوں استہزاء کا نشانہ بنایا کہ ہاں یہ کنگال اور بےخانماں لوگ ہی سلطنت روما کے وارث اور فارس کے فاتح قرار پائیں گے۔ ایسے ماحول اور مجالس کے بارے میں آپ اور آپ کے رفقاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بنایا جا رہا ہو تو آپ لوگوں کو وہاں ہرگز نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اگر شیطان کے بہلاوے سے ایسی مجلس میں بیٹھ گئے ہوں تو یاد آنے کے بعد فوراً اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جو شخص یاد آنے اور مسئلہ جاننے کے باوجود ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر ظالموں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ آپ کا کام تو فقط اتنا ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع بموقع سمجھاتے رہیں تاکہ ظالم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں کی زندگی سے بچ جائیں۔ (عَنْ اَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسٰی ؓ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْجَلِیس الصَّالِحِ وَالْجَلِیس السَّوْءِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِیرِ الْحَدَّادِ لَا یَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِمَّا تَشْتَرِیہِ أَوْ تَجِدُ ریحَہُ وَکِیرُ الْحَدَّادِ یُحْرِقُ بَدَنَکَ أَوْ ثَوْبَکَ أَوْ تَجِدُ مِنْہُ ریحًا خَبِیثَۃً )[ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب فی العطار ] ” حضرت ابو بردہ بن ابو موسیٰ ؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا نیک اور برے آدمی کی مثال خوشبو بیچنے والے اور بھٹی والے کی ہے۔ خوشبو والے سے تم خوشبو خریدو گے یا اچھی خوشبو محسوس کرو گے۔ جو بھٹی والا ہے اس کی چنگاری تمہارے بدن یا کپڑے کو جلادے گی یا تم اس سے دھواں کی بد بو محسوس کرو گے۔ “ مسائل 1۔ جہاں اللہ کی آیات کا مذاق اڑا یا جائے وہاں جانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ شیطان کے بہکاوے سے خبردار رہنا چاہیے۔ 3۔ دین کے ساتھ مذاق کرنے والے لوگوں سے کنارہ کشی بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن ظالم کون : 1۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114) 2۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 140) 3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 21) 4۔ نبوت کا جھوٹا دعو یٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 93) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : 37) 6۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا بہت بڑا ظالم ہے۔ (لقمان : 13)
Ayahs 6:69–70

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

” اور ان لوگوں کے ذمے جو ڈرتے ہیں ان کے حساب میں سے کوئی چیز نہیں اور لیکن نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ بچ جائیں۔ (69)

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا۔ قرآن کے ساتھ نصیحت کریں کہ کہیں کوئی جان ان اعمال کے بدلے ہلاکت میں ڈال دی جائے۔ اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ فدیہ دیں تو ان سے نہ لیاجائے گا یہی لوگ ہیں جو ہلاک کیے گئے اس کے بدلے جو انہوں نے کمایا ان کے لیے پینے کو گرم پانی ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ “ (70)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مشرکین اور منکرین اللہ تعالیٰ کی سطوت وقدرت جاننے کے باوجود معبودان باطل پر امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں اور دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کا انجام بتلایا گیا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 1۔ جو دین کو کھیل اور تماشا سمجھتے ہیں۔ 2۔ جو دنیا کے اسباب و وسائل اور ترقی پر غرور کرتے ہیں۔ یہاں اجتناب سے مراد ان لوگوں کے ساتھ قلبی محبت اور ان کے لادینی اشغال میں حصہ دار بننا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایک حد تک دور رہتے ہوئے نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ دنیا پرست لوگوں نے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے جس طرح تما شا دل بہلانے کے لیے اور کھیل جسمانی تقویت کے لیے ہوتا ہے یہی سوچ اور وطیرہ دنیا دار کا دین کے بارے میں ہوا کرتا ہے یہ دین کو دنیاوی مفاد، شہرت و منصب اور محض ذہنی سکون کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے مشاغل سے دور رہتے ہوئے انھیں موقع بموقع نصیحت کرتے رہنا چاہیے اور ان کو یہ حقیقت باور کرانی چاہیے کہ جس دنیا کے جاہ و جلال اور اسباب و وسائل پر تم نازاں خود سپردگی کا انداز اختیار کیے ہوئے ہو۔ مرنے کے بعد یہ سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا اور تمہیں ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جہاں کسی ولی کی ولایت، سفارشی کی سفارش اور فدیہ دینے والے کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح دنیا کے اسباب ہی نہیں بلکہ جن لوگوں اور معبودان باطل پر بھروسہ کیے ہوئے ہو وہ بھی تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ جو لوگ دنیا کے بندے اور برائی کے دھندے میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں جائیں گے انھیں جہنم میں پینے کے لیے ابلتا ہوا پانی اور اذیّت ناک عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کے بندے بن کر توحیدو رسالت کا انکار کرنے والے تھے۔ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ فِی قَوْلِہٖ وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ قَالَ یُقَرَّبُ إِلَیْہِ فَیَتَکَرَّہُہُ فَإِذَا دَنَا مِنْہُ شُوِیَ وَجْہُہُ وَوَقَعَتْ فَرْوَۃُ رَأْسِہٖ وَإِذَا شَرِبَہُ قَطَّعَ أَمْعَاءَ ہُ حَتَّی خَرَجَ مِنْ دُبُرِہٖ )[ رواہ احمد ] ” حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے جہنمیوں کے بارے فرمایا کہ ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا وہ ان کو جلا دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ ان کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کریں گے۔ جونہی وہ اس کے قریب ہوگا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا۔ اس کے سر کے بال بھی گرجائیں گے اور جب وہ پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ وہ اس کی پشت سے نکل جائے گا۔ “ (إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ ۔ طَعَامُ الْأَثِیْمِ کَالْمُہْلِ یَغْلِیْ فِی الْبُطُونِ کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ۔ خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ إِلٰی سَوَآءِ الْجَحِیمِ ۔ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ۔ ذُقْ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْکَرِیْمُ ۔ إِنَّ ہٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہِ تَمْتَرُوْنَ ) [ الدخان : 43 تا 50] ” بلاشبہ زقوم کا درخت گنہگار کا کھانا ہوگا۔ جو پگھلے تانبے کی طرح پیٹ میں جوش مارے گا۔ جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے پکڑ لو پھر اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیان تک لے جاؤ۔ پھر حکم ہوا کہ کھولتے پانی کا عذاب اس کے سر پر انڈیل دو ۔ پھر اسے کہا جائے گا چکھ ! تو بڑا معزز اور شریف بنا پھرتا تھا۔ یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔ “ مسائل 1۔ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ 2۔ دین کو کھیل تماشا سمجھنے والوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کار ساز نہیں۔ 4۔ کافروں کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا : 1۔ وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ ہی کوئی مددگار پائیں گے۔ (الاحزاب : 17) 2۔ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وہ خیر خواہ اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : 65) 3۔ نہیں ہے کوئی ان کے لیے اللہ کے سوا خیر خواہ۔ (ھود : 20) 4۔ نہیں ہے تمہارے لیے کوئی اللہ کے سوا خیر خواہ اور پھر تم نہیں مدد کیے جاؤ گے۔ (ھود : 113) 5۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ مدد گار۔ ( العنکبوت : 22)
Ayahs 6:71–73

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

” فرما دیجیے کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان اور ہم اپنی ایڑیوں پر پھیر دیے جائیں۔ اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہے اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے گمراہ کردیا ہے وہ زمین میں حیران ہے اس کے ساتھی ہیں جو اسے سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ۔ فرما دیں اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی اصل راستہ ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم جہانوں کے رب کے فرمانبردار بن جائیں۔ “ (71)

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

” اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (72)

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن فرمائے گا ” ہوجا “ تو وہ ہوجائے گا اس کا فرمان ہی سچا ہے اور اسی کی بادشاہی ہے۔ جس دن صور میں پھونکا جائے گا غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہی کمال حکمت والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ “ (73)

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح معبودان باطل آخرت میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اسی طرح یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر دنیا میں بھی یہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرک کی عادات میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے معبودوں کے ساتھ محبت کرتا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے بجائے اپنے باطل معبودوں کی طرف بلاتا اور کھینچتا ہے۔ حالانکہ معبودان باطل نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ اسی بنا پر نبی مکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ مشرکوں کو سمجھائیں کہ کیا ہم ان کی طرف دعوت دیں اور ان کی عبادت کریں جو کسی کو ذرّہ برابر نفع اور رتی برابر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرکوں سے یہ بھی کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہونے کے باوجود ہم لوگوں کو شرک کی دعوت دیں۔ توحید کا عقیدہ اپنانے کے بعد شرک کی دعوت دینا الٹے پاؤں چلنے کے مترادف ہے۔ ظاہر بات ہے الٹے پاؤں چلنا عقل و فکر کے خلاف اور حقیقت سے منہ موڑنا ہے یہ تو اس شخص کا وطیرہ ہے جس کو شیطان نے کسی صحرا اور بیابان میں بہکا دیا ہو۔ وہ حیرانی اور پریشانی کے سوا کوئی راستہ نہیں پاتا۔ اور ادھر ادھر بہکا پھر رہا ہے۔ یہی مشرک کی مثال ہے کہ وہ عقیدہ و عمل کی دنیا میں صحیح فکر اختیار کرنے کے بجائے فکری اور عملی آوارگی کا شکار رہتا ہے۔ اسے توحید کی دعوت سمجھ نہیں آتی اور اس کی حالت صحرا میں بہکے ہوئے مسافر کی ہے۔ جسے صحیح راستے کی طرف بلایا جائے تو وہ اس قدر حواس باختہ ہوچکا ہوتا ہے اسے کوئی بات سنائی اور سمجھائی نہیں دیتی۔ ایسے شخص سے بحث مباحثہ کرنے کے بجائے اسے کہنا چاہیے کہ ہدایت تو اللہ کی طرف سے نصیب ہوا کرتی ہے اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم غیر اللہ کی پیروی کرنے کی بجائے صرف اور صرف رب العالمین کی غلامی اور اس کے حکم کی پیروی کریں۔ اس کا حکم اور اس کی اتباع یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرا جائے کیونکہ اسی کی طرف سب نے لوٹ کر جانا ہے۔ اس نے حق کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ جس دن وہ ” کُنْ “ فرمائے گا تو سب کچھ اس کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔ اس کا حکم صادر ہونے اور ہر چیز کا اس کے حضور اکٹھا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اسی کی زمین و آسمان پر بادشاہی ہے اسی کے حکم سے پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا وہ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہے اور وہ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَا الصُّورُ قَالَ قَرْنٌ یُنْفَخُ فیہِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصفۃ القیامہ، باب ماجاء فی شان الصور ] ” حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہو کر پوچھا کہ صور کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ “ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتٰی یُؤْمَرُ بالنَّفْخِ فَیَنْفُخُ فَکَأَنَّ ذَلِکَ ثَقُلَ عَلٰی أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ لَہُمْ قُولُوا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیا مۃ، باب ما جاء فی صفۃ الصور ] ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا میں کیسے نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤں ؟ جبکہ سینگ والے نے سینگ منہ میں ڈالا ہوا ہے اور اجازت کا منتظر ہے کب اس کو پھونکنے کا حکم ملے تو وہ پھونک مار دے۔ نبی محترم ﷺ کے صحابہ ؓ پر یہ بات گراں گزری نبی معظم ﷺ نے ان سے فرمایا تم کہو ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے اور ہم اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی نفع و نقصان نہیں دے سکتا۔ 2۔ گمراہی پر اصرار کرنا شیطان کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ 3۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سب کو اکٹھا کیا جائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان حق اور سچ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بہت حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے : 1۔ خاص مجھ ہی سے ڈر۔ (البقرۃ : 41) 2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مندو۔ (الطلاق : 10) 3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مند و تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100) 4۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور صاف گوئی اختیار کرو۔ ( الاحزاب : 70) 5۔ اے لوگو ! اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا۔ ( النساء : 1) 6۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں صلح کروا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ( الحجرات : 10)