Ayah 6:153فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی وصیتوں کا خلاصہ اور نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ اے لوگو ! بس صراط مستقیم پر چلو۔
نو نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ نصائح کے آغاز میں لفظ ” قل “ سے حکم دیا گیا تھا کہ اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں کو یہ نصائح پڑھ کر سنائیں اب ان کے اختتام پر فرمایا ہے کہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ یہی میرا صراط مستقیم ہے لہٰذا تم سب کے سب اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں اور طریقوں کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم اس راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلو گے تو سیدھے راستے سے ہٹ جاؤ گے اس لیے تمہیں وصیت کی جاتی ہے کہ تم اسی راستہ پر چلنا تاکہ تم گناہ اور گمراہی کے راستوں سے بچ جاؤ۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ رسول اللہ ﷺ ]
” حضرت جا بر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے آپ ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔ “
Ayah 6:154فہم القرآن
ربط کلام : صراط مستقیم کے نو سنگ میلوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اشارہ دیا ہے کہ یہ نصیحتیں تورات میں بھی موجود ہیں۔
یہاں لفظ ” ثُمَّ “ لا کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس کتاب کی دعوت اور جس راستے کی طرف بلاتے تھے اس کے بنیادی اصول بھی یہی تھے تورات میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا احکام کی تفصیلات نازل فرمائی تھیں۔ تاکہ اس شخص کے لیے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھل جائیں جو اپنے رب کی ملاقات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور یہی صفات اس کتاب یعنی قرآن مجید میں ہیں جو ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیش خیمہ ہے جس میں انسان کی ہدایت کے لیے مکمل اور جامع رہنمائی کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر یقین رکھتے ہوئے کتاب مبین کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارے جس کی سب کو دعوت دی جاتی ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ کر اس کی شفقت و رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن مجید سے ہدایت پانے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حق دار ہونے کے لیے قیامت کے دن حساب و کتاب کا خوف دلانے کی بجائے رب کی ملاقات کی یاد دلائی گئی ہے مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور محبوب ترین نعمت ہے۔
(عَنْ جَرِیرٍ ؓ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِی رُؤْیَتِہٖ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَّ تُغْلَبُوا عَلٰی صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوع الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوب الشَّمْسِ فَافْعَلُوا)
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ وجوہ یومئذ ناضرۃ ]
” حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک نبی اکرم ﷺ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا عنقریب تم اپنے رب کو ایسے ہی دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تمہیں چاند دیکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آرہی ؟ اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ تم سست نہ ہوجاؤ فجر اور عصر کی نماز کا خیال رکھو۔ “
مسائل
1۔ تورات اپنے دور میں مکمل ہدایت تھی لیکن اب قرآن مجید ہدایت کا مل کا ذریعہ اور سرچشمہ ہے۔
2۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت اور ہدایت کا سبب ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا عقیدہ انسان کو اپنے رب کی ہدایت پر گامزن رکھتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک :
1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 1)
2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
3۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ (ھود : 1)
4۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1)
5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185)
6۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174)
Ayahs 6:155–156فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔
سابقہ آیات میں اہل کتاب سے خطاب تھا اور اب اہل مکہ کے حوالے سے پوری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اہل مکہ اور باقی لوگوں کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ یہود و نصاریٰ کی ہدایت کے لیے تو کتاب نازل کی گئی تھی۔ ہمیں کتاب سے کیوں محروم رکھا گیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے لیے تورات اور انجیل کا الگ الگ ذکر کرنے کے بجائے ” الکتاب “ فرما کر صرف ایک کتاب یعنی تورات کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس لیے کہ انجیل تورات ہی کے احکام کا تتمہ اور تفصیل ہے۔ اس بنا پر عیسائیوں، یہودیوں کے لیے ” الکتاب “ لا یا گیا ہے۔ پھر اہل مکہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو مخاطب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جیسی مفصل اور مبارک کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے کہ تمہیں یہ بات کہنے کا جواز نہ مل سکے کہ ہمارے پاس براہ راست کوئی کتاب نہیں آئی۔ جس سے ہم ہدایت حاصل کرتے۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ تمہیں یہ کہنے کا موقع نہ مل پائے کہ اگر ہم پر اللہ کی کتاب نازل ہوتی تو ہم یہود و نصاریٰ کی طرح گمراہ ہونے کے بجائے ہدایت یافتہ ثابت ہوتے۔ اس بہانے کو رفع کرنے اور اتمام حجت کے لیے تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ جو سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا سر چشمہ اور اس کی رحمت کا ذریعہ ہے جو شخص اس کتاب کی ہدایت، دلائل اور بینات کو جھٹلاتا اور ان سے منہ پھیرتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔ ایسا شخص گمراہی میں پڑ کر اپنے آپ پر ہی ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی نسل اور لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلائیں، ان سے انحراف کریں اور ہدایت کے راستہ میں رکاوٹ بنیں انھیں بد ترین عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد زبان سے ان کی تکذیب کرنا یا جان بوجھ کر ان سے اعراض کرنا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا تاکہ لوگوں کو اپنی گمراہی کا بہانہ نہ رہے۔
2۔ قرآن مجید مفصل، جامع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رحمت کا پیغام ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا یا اس سے انحراف کرنے والا ظالم انسان ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظالم لوگ :
1۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 144)
2۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اس کی آیات کو جھٹلانے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 21)
3۔ جو اللہ کی آیات سن کر اعراض کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ (الکہف : 57)
4۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا اور سچائی کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (العنکبوت : 68)
5۔ اسلام کی دعوت پہنچ جانے کے باوجودجو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ ظالم ہے۔ (الصف : 7)
6۔ گواہی کو چھپانے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 140)
7۔ مسجدوں سے روکنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114)
Ayah 6:157فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔
سابقہ آیات میں اہل کتاب سے خطاب تھا اور اب اہل مکہ کے حوالے سے پوری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اہل مکہ اور باقی لوگوں کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ یہود و نصاریٰ کی ہدایت کے لیے تو کتاب نازل کی گئی تھی۔ ہمیں کتاب سے کیوں محروم رکھا گیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے لیے تورات اور انجیل کا الگ الگ ذکر کرنے کے بجائے ” الکتاب “ فرما کر صرف ایک کتاب یعنی تورات کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس لیے کہ انجیل تورات ہی کے احکام کا تتمہ اور تفصیل ہے۔ اس بنا پر عیسائیوں، یہودیوں کے لیے ” الکتاب “ لا یا گیا ہے۔ پھر اہل مکہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو مخاطب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جیسی مفصل اور مبارک کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے کہ تمہیں یہ بات کہنے کا جواز نہ مل سکے کہ ہمارے پاس براہ راست کوئی کتاب نہیں آئی۔ جس سے ہم ہدایت حاصل کرتے۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ تمہیں یہ کہنے کا موقع نہ مل پائے کہ اگر ہم پر اللہ کی کتاب نازل ہوتی تو ہم یہود و نصاریٰ کی طرح گمراہ ہونے کے بجائے ہدایت یافتہ ثابت ہوتے۔ اس بہانے کو رفع کرنے اور اتمام حجت کے لیے تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ جو سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا سر چشمہ اور اس کی رحمت کا ذریعہ ہے جو شخص اس کتاب کی ہدایت، دلائل اور بینات کو جھٹلاتا اور ان سے منہ پھیرتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔ ایسا شخص گمراہی میں پڑ کر اپنے آپ پر ہی ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی نسل اور لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلائیں، ان سے انحراف کریں اور ہدایت کے راستہ میں رکاوٹ بنیں انھیں بد ترین عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد زبان سے ان کی تکذیب کرنا یا جان بوجھ کر ان سے اعراض کرنا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا تاکہ لوگوں کو اپنی گمراہی کا بہانہ نہ رہے۔
2۔ قرآن مجید مفصل، جامع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رحمت کا پیغام ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا یا اس سے انحراف کرنے والا ظالم انسان ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظالم لوگ :
1۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 144)
2۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اس کی آیات کو جھٹلانے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 21)
3۔ جو اللہ کی آیات سن کر اعراض کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ (الکہف : 57)
4۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا اور سچائی کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (العنکبوت : 68)
5۔ اسلام کی دعوت پہنچ جانے کے باوجودجو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ ظالم ہے۔ (الصف : 7)
6۔ گواہی کو چھپانے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 140)
7۔ مسجدوں سے روکنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114)
Ayah 6:158فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جو لگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب یا ان سے انحراف کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے ملائکہ آئیں جو ان کو اپنے زور سے کتاب اللہ کو ماننے پر مجبور کریں یا پھر اللہ کی طرف سے ایسی نشانی یا عذاب نازل ہو کہ یہ مجبور ہو کر پکار اٹھیں کہ واقعی یہ رسول سچا اور اس پر نازل ہونے والی کتاب برحق ہے۔ یاد رہے اہل مکہ برملا یہ اظہار کیا کرتے تھے۔ اس نبی کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتے نازل کیوں نہیں کرتا یا اب تک ایسا عذاب نازل کیوں نہیں ہوا کہ جس کو دیکھ کر ہم قرآن مجید کی تائید اور نبی کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کیا جا رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ یا کوئی فیصلہ کن نشانی آئے گی تو جو پہلے ایمان نہیں لایا۔ اس کے ایمان لانے کا اس وقت اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اور وہ شخص بھی نہیں بچ پائے گا جس نے ایمان لانے کے باوجود نیک کام نہیں کیے۔ اس کی مثالیں پہلی اقوام کے حوالے سے بیشمار ہیں کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کن عذاب آیا تو وہ چیخ چیخ کر اپنے ایمان کی دہائی دے رہے تھے لیکن ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ لہٰذا اے نبی انھیں فرمائیں اگر تم اس گھڑی کے انتظار میں ہو تو مزید انتظار کرو میں بھی تمہارے انجام کا انتظار کرتا ہوں۔
( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ ؓ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ )
[ رواہ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب أمارات الساعۃ ]
” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی ہماری آوازیں بھی بلند ہوگئیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں پوری نہ ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کا نزول، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخری آگ یمن کے علاقہ سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو کہ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب استحباب الاستغفار ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو بندہ بھی سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے۔ “
(عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ )[ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس کی جان ہنسلی میں اٹکنے سے قبل تک قبول کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیشمار نشانیاں نازل ہوئی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں مگر ظالم لوگ پھر بھی ان کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں۔
Ayah 6:159فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی گمراہی کے اسباب میں ایک کا سبب دین میں اختلاف کرنا ہے۔ باہمی اختلاف کی صورت میں لوگ ٹھوس دلائل کے باوجود انکار کی روش پر قائم رہتے ہیں۔
سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی دین حق ہے۔ جس کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ وہ توحید و رسالت کے بارے میں ہوں یا حلال و حرام اور اخلاق و معاملات کے متعلق۔ لہٰذا جو دین کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کی نظروں میں مختلف فیہ بناتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ! آپ کا ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی آپ کے ماننے والوں کا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق ہونا چاہیے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ ان کو بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ دین میں تفرقہ بازی کا ذکر کرتے ہوئے رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ یہودی اپنے دین میں اختلاف کرنے کی وجہ سے اکہتر فرقے ہوئے، عیسائی اختلاف کی بنا پر بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت ایک قدم آگے بڑھتی ہوئی تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ) اختلاف اخلاق و اعمال اور باہمی محبت کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اگر یہ اختلاف نیکی اور دین کے نام پر ہو تو اس کے نتائج بڑے ہولناک اور گمراہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ دین انسانوں میں وحدت اور اکائی پیدا کرنے کے لیے آیا ہے اگر اسی کو ہی اختلاف کی بنیاد بنا لیا جائے تو قیامت تک لوگ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے نہ صرف یہود و نصاریٰ الگ الگ امت کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں بلکہ ان کے اپنے اپنے گروہ ایک دوسرے کو کافر گمراہ اور جہنمی قرار دیتے ہیں اس صورتحال سے بچنے کے لیے قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے الٰہ ماننے اور نبی آخر الزمان ﷺ کو بہترین اسوہ قرار دیتے ہوئے آپ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ تاکہ توحید اور نبی کو ماننے والے متحد و متفق رہیں۔ یہودی تحقیق کے نام پر دین میں غلو کرکے گمراہ ہوئے اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی عقیدت میں حد سے بڑھے اور صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔
آپ ﷺ نے غلو سے بچنے کے لیے مسائل کی کھال اتارنے اور دین میں قیل و قال سے منع فرمایا اور عقیدت و محبت میں آکر کسی شخصیت کو اس کے مرتبہ و مقام سے بڑھانے سے روکا ہے۔ یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جن کی وجہ سے دین دار لوگ گمراہ ہوا کرتے ہیں۔
(عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ؓ قَالَ وَعَظَنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا بَعْدَ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَوْعِظَۃً بَلِیغَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُونُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوبُ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ ہٰذِہٖ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ إِلَیْنَا یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ أُوصِیکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ فَإِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ یَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیرًا وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّہَا ضَلَالَۃٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَعَلَیْہِ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ عَضُّوا عَلَیْہَا بالنَّوَاجِذِ )[ رواہ الترمذی : کتاب العلم، باب ماجاء فی الأخذ بالسنۃ ]
” حضرت عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے ہمیں نماز فجر کے بعد بلیغ وعظ کیا۔ اس سے ہمارے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ ایک شخص نے عرض کی یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ہم سے کیا وعدہ لینا چاہیں گے ؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ سمع اور اطاعت کی بھی۔ اگرچہ تم پر ایک حبشی غلام ہی ذمہ دار بنا دیا جائے۔ جو کوئی تم میں سے زندہ رہا میرے بعد وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تم دین میں نئے نئے کاموں سے بچو۔ بلاشبہ وہ گمراہی ہے جو کوئی تم میں سے ایسی صورت حال پائے تو وہ میرے اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے کو لازم پکڑے اور اسے دانتوں سے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھے۔ “
(عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آیَۃً وَسَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقْرَأُ خِلَافَہَا فَجِءْتُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ فَأَخْبَرْتُہٗ فَعَرَفْتُ فِی وَجْہِہِ الْکَرَاہِیَۃَ وَقَالَ کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ وَّلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ اخْتَلَفُوا فَہَلَکُوا) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سنا جب کہ میں نے نبی معظم ﷺ کو وہی آیت تلاوت کرتے سنا تھا۔ آپ اس سے مختلف انداز سے تلاوت کر رہے تھے۔ میں اس شخص کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی تلاوت کے بارے میں بتلایا۔ میں نے آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے آپ نے فرمایا دونوں طریقے ٹھیک ہیں اور تم اس طرح اختلاف نہ کیا کرو بلاشبہ جو لوگ تم سے پہلے تھے انھوں نے اختلاف کیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔ “
( عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلٰی بَنِی إِسْرَاءِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتٰی أُمَّہُ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ وَإِنَّ بَنِی إِسْرَاءِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی)[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح جو تا ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی جبکہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گئے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے رسول معظم ﷺ ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کرام ؓ کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔
مسائل
1۔ فرقہ واریت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
2۔ جو لوگ تفرقہ بازی کرتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
3۔ فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کو ضرور سزا دی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
دین میں تفریق کی ممانعت :
1۔ دین پر قائم رہو جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ (الشوریٰ : 13)
2۔ کئی راستوں کی اتباع نہ کرنا وہ تمہیں سیدھے راستہ سے گمراہ کردیں گے۔ (آل عمران : 153)
3۔ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو جدا جدا ہوگئے اور انہوں نے باہم اختلاف کیا۔ (آل عمران : 105)
4۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (آل عمران : 103)
5۔ دین میں تفرقہ ڈالنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ (الانعام : 159)
6۔ مشرکین سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور کئی فرقے بن گئے۔ (الروم : 32)
Ayah 6:160فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت کے آخری الفاظ ” بما کانو یفعلون “ ہیں۔ یہاں اعمال کی تشریح اور ان کی حیثیت بیان فرمائی کہ اگر لوگ نیکی کریں گے تو اس کا کم ازکم دس گنا اجر پائیں گے اگر برائی کریں گے تو صرف اس کے برابر سزادی جائے گی۔
پارہ تیس کی سورة الزلزال میں فرمایا کہ انسان نے ذرہ بھر بھی نیکی کی تو قیامت کے دن اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پائے گا۔ اگر اس نے ذرہ برابر برائی کی تو اسے بھی دیکھ لے گا۔ یہاں نیکی یا بدی کے اجر کے بارے میں وضاحت فرمائی کہ ہر حسنہ کا اجر اس کے دس گنا ہوگا۔ تاہم برائی کی سزا دوگنی یا دس گناہ نہیں بلکہ اسی کے برابر ہوگی۔ لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو دوگنا عذاب ہوگا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے ان کو دوگنا عذاب ہوگا۔ کیونکہ ان کا گناہ ایک کا دوگنا ہوگا۔ لہٰذا ہر کسی کو اس کے گناہ کے بدلے سزا ہوگی۔ البتہ احادیث کی روشنی سے ثابت ہوتا ہے کہ اخلاص اور آدمی کے حالات کے مطابق کی گئی نیکی کے بدلے اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہی نہیں بلکہ سات سو گنا سے بھی زیادہ دیں گے جس کی مفسرین نے اس طرح تشریح فرمائی ہے کہ کروڑ پتی آدمی کسی کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کے لیے یہ کوئی بھاری اور بڑا کام نہیں اور اگر فاقہ کش آدمی کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کی یہ نیکی بڑا مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ خود بھوکا رہ کر دوسرے کا پیٹ بھرتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں دونوں کی نیکی کے اجر میں فرق ہوگا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اسباب نہیں اخلاص کی بنا پر فرق ہوگا۔ جتنا نیکی کرنے والے میں اخلاص اور للٰھیت ہوگی۔ اتنا ہی اس کا اجر بڑھتا جائے گا اس کے مقابلہ میں برائی کی سزا برائی کے برابر ہوگی اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ ہوگی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُہَا بِیَمِینِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیہَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ صرف پاک کمائی ہی قبول کرتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتے ہوئے پھر اسے بڑھائے گا اپنے بندے کے لیے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے اللہ تعالیٰ نیکی کو پہاڑ کی مانند بنادے گا۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا یَرْوِی عَنْ رَبِّہٖ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّءَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ حَسَنَۃً کَامِلَۃً فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ ماءَۃِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِیرَۃٍ وَّمَنْ ہَمَّ بِسَیِّءَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ حَسَنَۃً کَامِلَۃً فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ سَیِّءَۃً وَّاحِدَۃً )
[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب من ہم بحسنۃ اوسیءۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں پھر ان کو واضح کردیا ہے جو کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کرسکے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں اس کی مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اگر وہ ارادے کے ساتھ عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا سے بڑھا دیتا ہے۔ جو کوئی برائی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے مکمل نیکی لکھ دیتے ہیں اور اگر وہ ارادے کے ساتھ عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنْ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ )
[ رواہ ابن ماجۃ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ ]
” حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اسی طرح ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَقُول اللّٰہُ إِذَا أَرَادَ عَبْدِی أَنْ یَّعْمَلَ سَیِّءَۃً فَلَا تَکْتُبُوہَا عَلَیْہِ حَتّٰی یَعْمَلَہَا فَإِنْ عَمِلَہَا فَاکْتُبُوْہَا بِمِثْلِہَا وَإِنْ تَرَکَہَا مِنْ أَجْلِی فَاکْتُبُوہَا لَہٗ حَسَنَۃً وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَعْمَلَ حَسَنَۃً فَلَمْ یَعْمَلْہَا فَاکْتُبُوہَا لَہٗ حَسَنَۃً فَإِنْ عَمِلَہَا فَاکْتُبُوہَا لَہٗ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِ ماءَۃِ ضِعْفٍ )
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ یریدون أن یبدلوا کلام اللہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول معظم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے۔ تم اس کو نہ لکھو یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرے اگر وہ عمل کرتا ہے تو اسے صرف اتنا ہی لکھو اور اگر اسے میری وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو ۔ اور جب وہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ بھی کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو ۔ اگر اسے عملی جامہ پہنائے تو اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دو ۔ “
(فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ )[ الزلزال : 7۔ 8]
جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
مسائل
1۔ ایک نیکی کا بدلہ کم ازکم دس گنا ہوگا۔
2۔ برائی کی سزا صرف اس کے برابر ہوگی۔
3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
نیکی کی جزا، برائی کی سزا :
1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8)
2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ : 71)
3۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160)
4۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84)
5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ جہنم ہے۔ (النازعات : 37)
6۔ صبر کرنے والوں کے لیے جنت کی جزا ہے۔ (الدھر : 12)
7۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88)
9۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس : 52)
10۔ تکبر کرنے والوں کو ذلت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف : 20)
11۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل : 63)
Ayahs 6:161–163فہم القرآن
ربط کلام : دین اسلام میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ دین اس قسم کے اختلافات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ملت ابراہیم کے متبع رہیں۔
سرور دو عالم ﷺ کا تفرقہ بازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ تو دین قیم اور سیدھی راہ کے راہی اور داعی تھے۔ لہٰذا آپ کی زبان اطہر سے اعلان کروایا گیا کہ اے محبوب برحق ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا ادھر ادھر کے راستوں اور متضاد نظریات رکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں اپنے رب کی بتلائی ہوئی راہ پر اس کی توفیق سے گامزن ہوں۔ یہی دین ہمیشہ سے قائم دائم ہے۔ اور اسی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مل یکسوئی کے ساتھ قائم رہے۔ ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ شرک سے بیزار اور توحید خالص کے پرستار تھے۔ وہ نماز قائم کرنے اور دین حق کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے والے تھے۔ ان کی موت وحیات کا مقصد ہی توحید کا پرچار اور اپنے رب کی فرمانبرداری تھا۔ یہی میرا نصب العین اور میری زندگی کا مشن ہے۔ اس لیے میری نماز، قربانی اور زندگی کا ہر لمحہ یہاں تک کہ میری موت بھی رب العالمین کے حکم پر ہوگی۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے یہی حکم ہے کہ میں عقیدۂ توحید پر قائم رہ کر اس کے دین کی دعوت دیتے ہوئے سب سے پہلے اپنے رب کی فرمانبرداری کا مظاہرہ کروں گویا کہ جس دعوت کا میں داعی ہوں اس پر سب سے پہلے میں ہی عمل کرنے والا ہوں، اسی بات کا نتیجہ ہے۔ میدان کار زار ہو یا صدقہ و قربانی آپ ﷺ اپنے صحابہ ؓ میں سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا معاملہ پیش آیا تو اپنے جسم اطہر پر پتھراٹھائے ہوئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تھا اور آپ اول المسلمین ہیں۔ اور یہی دینی قیادت کا وطیرہ ہونا چاہیے کہ وہ عوام الناس کے لیے نمونہ ثابت ہوں۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یکسو اور پکے مسلمان تھے۔
3۔ انسان کی زندگی و موت کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہونی چاہیے۔
4۔ نبی اکرم ﷺ اللہ کے حکم پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے اور امت کے لیے نمونہ تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں :
1۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ (الاسراء : 111)
2۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ (الفرقان : 2)
3۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ الٰہ ایک ہی ہے (النحل : 51)
4۔ کیا اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ شراکت داری سے پاک ہے۔ (الطور : 43)
5۔ کیا تم انہیں اللہ کے شریک قرار دیتے ہو جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : 191)
6۔ کہہ دیجیے الٰہ ایک ہی ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
7۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء : 36)
Ayah 6:164فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
کفار نبی معظم ﷺ کی جدوجہد سے تنگ آکر بالآخر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم بدل جاتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی آخری تجویز یہ تھی کہ ہم آپ کے الٰہ کی عبادت آپ کے طریقہ کے مطابق کریں گے اور آپ ہمارے بتوں کی تعظیم بھی کریں۔ اس کے جواب میں آپ سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ صاف صاف فرما دیں کیا میں ذات کبریا کو چھوڑ کر ایسا رب تلاش کروں جو تمہارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں جبکہ جس رب کی میں عبادت کرتا، اور دعوت دیتا ہوں وہ ہر چیز کا سچا اور حقیقی رب ہے۔ جن باطل معبودوں پر تم بھروسہ کرتے ہو جن کو تم اپناداتاو دستگیر اور مشکل کشا سمجھتے ہو وہ نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ کسی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ بلکہ کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ہر نفس اپنا بوجھ خود اٹھائے گا اور اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا ہے اور سب نے مالک حقیقی کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہی لوگوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ نہ اس کے سامنے کوئی دم مار سکے گا اور نہ ہی اس کے فیصلہ سے انحراف کی کسی کو جرأت ہوگی۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو اس کے اعمال کا ذمہ دار بناتا اور اس میں جوابدہی کا تصور پیدا کرتا ہے۔
(عن أَبَی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ حِینَ أَنْزَلَ اللّٰہُ (وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ لَا أُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِی عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُول اللّٰہِ لَا أُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِینِی مَا شِءْتِ مِنْ مَّالِی لَا أُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا)
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب وانذر عشیرتک الاقربین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ کھڑے ہوئے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی : ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ آپ ﷺ نے فرمایا اے قریش کے لوگو ! تم اپنی ذمہ داری خود اٹھاؤ میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنو عبد مناف میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اور اے صفیہ رسول معظم ﷺ کی پھوپھی میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اور اے فاطمہ بنت محمد میرے مال سے جو چاہتی ہے مجھ سے سوال کرلے میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ “
(عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ )
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم ]
” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، وہ آدمی دیکھے گا تو سامنے آگ ہوگی جو بھی تم میں سے استطاعت رکھتا ہے آگ سے بچنے کی کوشش کرے چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ جو یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے۔
2۔ آخرت میں ہر بندہ صرف اپنا ہی بوجھ اٹھائے گا۔
3۔ ہر کسی کو اللہ رب العالمین کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 6:165فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام ایسے منضبط اور مربوط طریقہ سے بنایا ہے کہ اس میں کبھی خلل اور خلا پیدا نہیں ہوا۔ رات، دن ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایک نسل دوسری نسل کی خلیفہ بنتی ہے۔ ایسے ہی انسانوں کی ایک کھیپ دوسری کھیپ کی جگہ سنبھالتی ہے۔ بیٹا باپ کی اور باپ اپنے باپ کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ آج کا بچہ کل کو باپ بنتا ہے پھر اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی اولاد اس کی جائیداد اور معاملات کی وارث بن جاتی ہے۔ اسی طرح ملکوں کی حکمرانی کا معاملہ ہے۔ کل کا حکمران آج نہیں اور آج کے حکمران کی مسند پر ایک مدت کے بعد کوئی اور بیٹھ جائے گا۔ خلافت کے اس نظام میں ایک فرد سے لے کر کسی بڑے سے بڑے، جابرحکمران اور نیک کو مفر نہیں سب کے سب خلافت کی زنجیر میں بندھے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے آنے پر مجبور ہیں۔ کوئی نہیں جو وسائل اور لشکر و سپاہ کی مدد سے یا اپنی نیکی اور ولایت کے بل بوتے پر اپنی جگہ پر ہمیشہ قبضہ جمائے رکھے۔
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول ترین بندے انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی اسی نظام کے تحت ایک دوسرے کے وارث بنے۔ اس نظام کو بنانے اور چلانے والا۔ اللہ اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ وہی تو ہے جو تمہیں ایک دوسرے کے پیچھے لاتا یعنی خلیفہ بناتا ہے۔ ( سورة یونس : آیت۔ 14) میں فرمایا کہ تمہیں ایک دوسرے کا خلیفہ اس لیے بناتا ہے کہ تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنی اپنی باری میں اپنے رب کی کتنی تابعداری اور کیا کردار ادا کرتے ہو۔ آپ ﷺ نے اس ذمہ داری کے بارے میں یوں فرمایا کرتے تھے۔
دین کے بارے میں پرکھنے، دنیا کا نظام چلانے اور ایک کو دوسرے کے ساتھ آزمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور وسائل دے کر درجہ بدرجہ مراتب پر فائز فرمایا ہے۔ داعی کو رعایا کے ساتھ، امیر کو غریب کے ساتھ باپ کو اولاد اور اولاد کو والدین کے حقوق کے بارے میں، آجر کو اجیر اور چھوٹے بڑے کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کے ساتھ آزمانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ تاکہ دیکھے کہ کون کیا عمل کرتا ہے ؟ جو لوگ برے عمل کرتے ہیں۔ انھیں وارننگ دی کہ یاد رکھو دنیا کی مہلت نہایت مختصر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہارا حساب لینے والا ہے۔ جو لوگ نیک اعمال کی کوشش کرتے رہے لیکن پھر بھی ان سے بتقاضائے بشریت غلطیاں ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بیماری، تکلیف اور استغفار کے ذریعے گناہ معاف کرتا ہے بالآخر اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے اور نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے۔
(عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ وَالْأَمِیرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی أَہْلِ بَیْتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِہَا وَوَلَدِہٖ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب النکاح، باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجہا ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر کسی کو اپنی ذمہ داری کے بارے میں جواب دینا ہے، امیر نگران ہے آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی اور اپنے بچوں کی نگران ہے تو تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ درجات میں تفاوت آزمائش کے لیے ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نعمتیں دے کر اور کسی کو محروم رکھ کر آزماتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
آزمائش کی مختلف صورتیں :
1۔ اللہ نے موت وحیات کو انسان کی آزمائش کے لیے پیدا فرمایا۔ (الملک : 2)
2۔ اللہ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام : 165)
3۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15)
4۔ ہم تمہیں خوف، بھوک، مال واولاد اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کر کے ضرور آزمائیں گے۔ (البقرۃ : 155)