6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفہم القرآن

Ayahs 6:25–26

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

” اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں اس سے کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر وہ ہر نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے آتے ہیں تو جن لوگوں نے انکار کیا کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔ (25)

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ اس سے روکتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے سوا کسی کو ہلاک نہیں کر رہے اور وہ نہیں سمجھتے۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : کفارکا شہادت حق سے انکار، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھنے اور ہدایت کے لیے سننے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ ہماری سماعت پر ایک بوجھ ہیں۔ اور ہم انہیں پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے۔ (إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ)[ قٓ : 37] ” اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو دل رکھتا ہو اور حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہو کر بات سنے۔ “ لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ عادت خبیثہ ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کا سننا ہی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تو کفار اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے چہرے چھپاتے ہوئے ان سے دور بھاگ جاتے۔ کفار کے دلوں پر مہریں ثبت ہونا : (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُونَ )[ البقرۃ : 18] ” ایسے لوگ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں یہ لوٹنے والے نہیں۔ “ (قَالَ رَبِّ إِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَہَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَآءِ یْ إِلَّا فِرَارًا۔ وَإِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوْا أَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ وَأَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا۔ ) [ نوح : 5 تا 7] ” نوح نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت دی۔ مگر میری دعوت سے ان کے فرار میں اضافہ ہوا۔ میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ اور اپنے کپڑے اپنے منہ پر ڈال لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہا کردی۔ “ یہی رویہ منکرین حق نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اختیار کیا جب انھیں غور کے ساتھ قرآن سننے کی طرف توجہ دلائی جاتی تو وہ بظاہر غور کے ساتھ سنتے لیکن حقیقت میں عدم توجہ اختیار کیے رکھتے اور آخر میں کہتے یہ باتیں ہمارے فہم و ادراک سے باہر اور ہماری قوت سماعت پر بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس طرح جو حکم بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مسلسل انکار کیے رکھتے۔ جس کی بنا پر نبی ﷺ کو بتلایا گیا کہ ان کے سامنے ایک سے ایک بڑھ کر نشانی پیش کی جائے یہ لوگ ایمان لانے کی بجائے آپ کے ساتھ بحث و تکرار میں آگے ہی بڑھتے جائیں گے کیونکہ یہ غور و فکر کرنے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنھیں زیب داستاں کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف ہدایت سے دور ہیں بلکہ دوسروں کی ہدایت کے لیے بھی رکاوٹ بن چکے ہیں یہی ان کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے۔ حقیقتاً یہ ہدایت یافتہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال رہے ہیں جس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔ جہاں تک قرآن مجید پر قصہ، کہانیاں بیان کرنے کا الزام ہے اس میں ذرہ برابر بھی صداقت نہیں کیونکہ دو تین واقعات کو چھوڑ کر کوئی ایسا واقعہ نہیں جسے قرآن مجید نے ابتدا سے آخر تک ایک ہی موقعہ اور مقام پر ذکر کیا ہو۔ قرآن مجید کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں رطب و یا بس اور داستان گوئی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ اس میں سب سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر پایا جاتا ہے۔ جسے ایک ہی جگہ بیان کرنے کے بجائے موقع اور اس کے محل کے مطابق مختلف مقامات اور الفاظ میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا اسے قصہ کہانی سمجھنے کے بجائے نصیحت و عبرت کے طور پر پڑھے اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہو سکے۔ مسائل 1۔ کافر لوگ قرآن مجید پر طعن وتشنیع کرتے ہیں۔ 2۔ کافر نبی مکرم ﷺ سے جھگڑتے تھے۔ 3۔ کافر اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 4۔ دین اسلام کے بارے میں ہر زہ سرائی کرنے والے اپنے آپ کو ہی ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن کفار نے قرآن مجید کو پہلے لوگوں کے قصّے قرار دیا : 1۔ کفار قرآن کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ (الانعام : 25) 2۔ جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (المطففین : 13) 3۔ جب کفار سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (النحل : 24) 4۔ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (القلم : 15) 5۔ انہوں نے کہا یہ تو سراسر پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں لکھی ہوئی ہیں۔ (الفرقان : 5)
Ayahs 6:27–29

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

” اور کاش آپ دیکھیں جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاویں اور ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔ (27)

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ ان کے لیے ظاہر ہوگیا جو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے اور اگر انہیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔ (28)

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ دنیا میں قرآن مجید کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے کانوں کے لیے بوجھ ہے وہ جہنم کے کنارے کھڑے ہو کر آیات ربانی کی حقیقت کا اعتراف اور دنیا میں حق کی شہادت نہ دینے کے جرم کا اعتراف کریں گے۔ “ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا اور اس میں مختلف مراحل ہوں گے۔ جو ہزاروں سال پر مشتمل ہوں گے۔ قیامت کا ہر مرحلہ مجرموں کے لیے سخت سے سخت تر ہوگا۔ پہلے مرحلہ پر مجرم شرک اور اپنے جرائم کا انکار کریں گے اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہر ثبت کردی جائے گی تو ان کے اعضاء بول بول کر ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جہنم کو ستر ہزار فرشتے بھاری بھرکم زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر لوگوں کے سامنے لائیں گے۔ ہر زنجیر کے ساتھ ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جب مجرموں کو جہنم کے قریب کھڑا کیا جائے گا تو وہ آہ و بکا کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوٹنے کا موقعہ نصیب ہوجائے اور ہم دنیا میں جاکر اپنے رب کے احکام کی تکذیب کرنے کے بجائے اس کے ایک ایک حکم پر ایمان لائیں گے۔ ان کا یہ اقرار حقیقت پر مبنی یا دائمی ہونے کے بجائے عارضی اور دفع الوقتی کے لیے ہوگا۔ کیونکہ بفرض محال انھیں واپس لوٹا بھی دیا جائے تو وہ پہلے کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرتے ہوئے کفر و شرک میں ملوث ہوں گے۔ کیوں کہ وہ عادی مجرم تھے لہٰذا اب بھی کذب بیانی سے کام لیں گے۔ یہ اس لیے ہوگا کہ ان کا نظریہ تھا دنیا کی زندگی ہی مستقل زندگی ہے حالانکہ دنیا کی ہر چیز اپنی ناپائیداری کے بارے میں پکار پکار کر ثبوت دے رہی ہے کہ ہمیں قرار اور سکون نہیں ہے۔ انسان کے سایہ سے لے کر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اس بات پر گواہ ہیں کہ قرار اور دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔ ان کا یہ بھی نظریہ تھا کہ مٹی میں دفن ہونے کے بعد ہمیں ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو وہ وہی کچھ کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا یہ اس لیے کہ انھوں نے دین پر دنیا کو مقدم سمجھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اگر انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تب بھی وہ باز نہیں آئیں گے۔ مسائل 1۔ کافر جہنم کو دیکھ کر حسرت کا اظہار کریں گے۔ 2۔ کافر خواہش کریں گے کہ ہمیں دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے۔ 3۔ مشرکین، مومنین کی رفاقت کی خواہش کریں گے۔ 4۔ کافر اسی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا دنیا میں واپس لوٹنے کا مطالبہ : 1۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12) 2۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے۔ (السجدۃ : 20) 3۔ جب بھی ارادہ کریں گے کہ ہم نکلیں جہنم سے تو اس میں واپس لوٹائے جائیں گے۔ (الحج : 22) 4۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28) 5۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37) 6۔ اے رب ہمارے ! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : 107)
Ayahs 6:30–31

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

” اور کاش آپ دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے وہ فرمائے گا کیا یہ حق نہیں ؟ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم ! فرمائے گا تو چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔ (30)

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

یقیناً خسارے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس قیامت اچانک آپہنچے گی کہیں گے ہائے افسوس اس پر جس میں ہم نے کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائے ہوں گے سن لو برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھائیں گے۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی اللہ کے حضور پیشی اور اس کی بارگاہ میں سوال و جواب۔ قرآن مجید بار بار انسان پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد اپنے کیے کا جواب دینا ہے۔ جس کی ابتدا قبر کی کوٹھڑی سے ہوگی۔ جب میت کو دفنایا جاتا ہے ابھی اس کے اعزاء و اقرباء قبر پر مٹی ڈال کر رخصت ہی ہوتے ہیں کہ منکر نکیر مرنے والے سے تین سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو محمد ﷺ کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ اور تیرا دین کونسا ہے ؟ قبر سے اٹھنے کے بعد محشر کے میدان میں جب لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا مرنے کے بعد اٹھ کر حشر کے میدان میں رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا حق ہے یا نہیں ؟ تو انسان بےساختہ پکار اٹھیں گے کیوں نہیں ہم نے قدم قدم پر اپنے رب کا وعدہ سچا پایا۔ جہاں تک مجرموں کا تعلق ہے وہ دہائی دیں گے اے ہمارے رب ! آج ہمیں یقین ہوگیا کہ آپ کا فرمان سچا اور آپ کی ملاقات برحق تھی لیکن ان کا اعتراف اور معذرت کسی کام نہیں آئے گی۔ حکم ہوگا کہ اب عذاب کی سختیاں اور جہنم کی اذیتیں چکھتے رہو کیونکہ بار بار سمجھانے کے باوجود تم کفر ہی کرتے رہے تھے۔ تم نے اپنے رب کی ملاقات کو جھٹلائے رکھا یہاں تک کہ قیامت برپا ہوگئی۔ کافر، منافق، مشرک اور عادی مجرم حسرت و یاس کا اظہار کرتے ہوئے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ نہایت ہی بدترین بوجھ ہوگا جو انھیں اٹھانا پڑے گا۔ تیسرا موقع سوال و جواب کا اس وقت ہوگا جب مجرم اپنا اپنا بوجھ اٹھائے ذلت و رسوائی کی صورت میں جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے جب یہ لوگ جہنم کے کنارے پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے داخلے کے وقت جہنم کے فرشتے ان سے سوال کریں گے کیا تم میں رسول مبعوث نہیں کیے گئے جو تمہارے سامنے تمہارے رب کے احکام پڑھتے اور تمہیں آج کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے ؟ جہنمی پکار پکار کر کہیں گے کیوں نہیں ! انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے ہمیں آگاہ کیا اور اس دن سے ہمیں بار بار ڈرایا لیکن ہم نے کفر و استکبار کا رویہ اختیار کیا جس وجہ سے آج ہمیں یہ رسوائی کا دن دیکھنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب برحق ثابت ہوا یہ سنتے ہی ملائکہ ان پر لعنت کی بوچھاڑ کریں گے۔ (الزمر : 71 تا 72) مسائل 1۔ مشرکین قیامت کے دن حق کا اعتراف کریں گے۔ 2۔ آخرت کا انکار کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ 3۔ منکرین حق ہر مرحلہ پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ 4۔ ہر انسان قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کے اعترافات : 1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف : 34) 2۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28) 3۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37) 4۔ اے رب ہمارے ! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : 107)
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

” اور دنیا کی زندگی کھیل اور دل لگی کے سواکچھ نہیں اور یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو ڈرتے ہیں تو کیا تم نہیں سمجھتے۔ “ (32)

فہم القرآن ربط کلام : مجرم جس دنیا کو ہمیشہ کھیل تماشا تصور کرتے ہیں اس کی حقیقت۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر نازل کرنے کے وقت یہ حقیقت آشکار کردی تھی کہ اے آدم ! تم زمین پر اتر جاؤ لیکن یاد رکھنا زمین تیرے اور تیری اولاد کے لیے عارضی قیام گاہ ہے۔ وہاں تمہارا ایک مقررہ مدت تک ہی ٹھہرنا ہوگا۔ یہاں دنیا کی حقیقت بتلائی گئی ہے یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں جس طرح کھیل اور تفریح زندگی کا مستقل حصہ نہیں کھیل مصروف کار رہنے کے بعد آدمی کے لیے دل بہلاوا اور عارضی راحت کا سبب ہوتا ہے۔ کافر کے لیے دنیا فقط اسی چیز کا نام ہے کہ وہ اس کے لہو و لعب میں مصروف ہو کر رہ جائے اس کے مقابلہ میں مومن دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہوئے کھلاڑی کے وقفۂ آرام کی طرح آخرت کی تیاری کے لیے تازہ دم ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے دنیا عارضی اور آخرت دائمی ہے یہاں کی ہر چیز فنا ہوجانے والی ہے، آخرت کی زندگی اور نعمتوں کو دوام حاصل ہے۔ اس سوچ کے پیش نظر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی بسر کرتا ہے اور یہی انسان کے عقل مند ہونے کی دلیل ہے۔ سر ور دو عالم ﷺ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ اضْطَجَعَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی حَصِیرٍ فَأَثَّرَ فِی جِلْدِہِ فَقُلْتُ بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُول اللّٰہِ لَوْ کُنْتَ اٰذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَکَ عَلَیْہِ شَیْءًا یَقِیکَ مِنْہُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَا أَنَا وَالدُّنْیَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْیَا کَرَاکِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب مثل الدنیا ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ چٹائی پر لیٹے۔ اس کے نشان آپ کے جسم اطہر پر پڑگئے میں نے آپ کو دیکھ کر عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے بستربچھا دیتے جس سے آپ کا جسم اطہر تکلیف سے بچ جاتا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میری اور دنیا کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی سوار سایہ دار شجر کے نیچے استراحت کے لیے رکے اور پھر اس کو چھوڑ دے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ أَخَذَ رَسُول اللَّہِ ﷺ بِمَنْکِبِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے سے پکڑ تے ہوئے فرمایا دنیا میں اس طرح رہو جیسے اجنبی یا مسا فررہتے ہیں۔ “ عقل مند کون ؟ (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ ] ” حضرت ابو یعلی شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنیکے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگایا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے۔ “ مسائل 1۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا محض کھیل تماشا ہے۔ 2۔ متقین کے لیے آخرت میں جنت ہے۔ 3۔ آخرت کی تیاری کرنا انسان کے عقل مند ہونے کی دلیل ہے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی حیثیت : 1۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : 60) 2۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل تماشا۔ (العنکبوت : 64) 3۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں بہت کمتر ہے۔ (التوبۃ : 38) 4۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (آل عمران : 185) 5۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : 46) 6۔ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔۔ (التغابن : 15) 7۔ آپ فرما دیں کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے۔ (النساء : 77) 8۔ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے حالانکہ اس کی آخرت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔ (الرعد : 26) 9۔ آپ ان لوگوں کو چھوڑدیں جنہوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا۔ (الانعام : 70) 10۔ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ آخرت اس سے بہتر ہے۔ (الاعلیٰ : 17)
Ayahs 6:33–34

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

” بیشک ہم جانتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو وہ بات ضرور غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں تو بیشک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات ہی کا انکار کرتے ہیں۔ (33)

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے اس پر صبر کیا جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذا دیے گئے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور کوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بلاشبہ آپ کے پاس رسولوں کی خبریں پہنچ چکی ہیں۔ “ (34)

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ ! جب یہ دنیا عارضی اور اس کے مقابلے میں آخرت دائمی اور اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں یہاں متقین کو ان کی نیکیوں سے بڑھ کر اجر ملنے والا ہے لہٰذا آپ کو مکذّبین کی باتوں پر دل گرفتہ اور غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی معظم ﷺ کو بےحساب صبر و تحمل اور عظیم حوصلہ عطا فرمایا تھا اس کے باوجود کفار کے ظلم و ستم، یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقین کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے کبھی کبھار آپ پر یشان ہوجایا کرتے تھے۔ پریشانی کا بنیادی سبب لوگوں کی ہدایت اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ ہوا کرتا تھا۔ جس پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اے نبی ! ہم آپ کی فکر مندی، لوگوں کی خیر خواہی اور شب و روز کی مشقت کو جانتے ہیں اور یہ حقیقت بھی اللہ علیم وخبیر کے علم میں ہے کہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی وجہ سے آپ کو جھٹلاتے ہیں کیونکہ نبوت عطا ہونے سے پہلے یہ لوگ آپ کو صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔ جونہی آپ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر قَوْلُوْالَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا آوازہ بلند کیا تو ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر یہ لوگ آپ کے مخالف ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے چچا ابو لہب نے بھرے مجمع میں آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کیا : کہ کفار کے جھٹلانے کا معاملہ صرف آپ سے پیش نہیں آیا بلکہ آپ سے پہلے جتنے انبیاء آئے ان سب کی تکذیب کی جاتی رہی ہے لیکن وہ کفار کی ایذا رسانی اور تکذیب پر صبر و حوصلہ سے کام لیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ کی نصرت و حمایت آن پہنچتی۔ نصرت و حمایت سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) کی اخلاقی کامیابی اور ان کے مقابلے میں دشمن کی ذلت و رسوائی ہے۔ جس طرح کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء (علیہ السلام) کے مخالفین کو مختلف قسم کے عذاب اور ذلت ور سوائی سے دو چار ہونا پڑا۔ اے نبی ! آپ کو عزم و حوصلہ سے کام لینا چاہیے اور یاد رکھیے حالات کوئی بھی صورت اختیار کرلیں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات اپنی جگہ پر اٹل اور قائم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کلمات یعنی ارشادات تبدیل نہ ہونے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے اللہ کا وعدہ پورا ہوا اسی طرح سے آپ ﷺ کے ساتھ نصرت و ہدایت کا وعدہ پورا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں آپ کامیاب اور آپ کے دشمن ناکام اور نامراد ہوں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ ؓ قَالَ قُلْتُ لِعَاءِشَۃَ ؓ ہَلْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی وَہُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَہُ النّاسُ )[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافر ین، باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا ] ” حضرت عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پو چھا کیا نبی محترم ﷺ بیٹھ کر بھی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ ام المومنین ؓ نے فرمایا ہاں لوگوں کے بوڑھا کردینے کے بعد۔ “ مسائل 1۔ داعی حق کو مخالفین سے دل آزردہ نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ کفار اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں۔ 3۔ تمام انبیاء و رسل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 4۔ دین حق میں کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ تفسیر بالقرآن نبی کو جھٹلانے والے لوگ : 1۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران : 184) 2۔ آپ کو اگر انھوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں۔ (یونس : 41) 3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : 147) 4۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح اور دوسرے انبیاء۔ (الحج : 42) 5۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ (الفاطر : 25)
Ayahs 6:35–36

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

” اور اگر آپ پر ان کا منہ پھیرنا بھاری گزرا ہے اگر تو آپ کرسکیں کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ نکالیں پھر ان کے پاس کوئی نشانی لے آئیں تولے آئیں اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا پس آپ جاہلوں میں سے ہرگز نہ ہوں۔ (35)

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

قبول تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور جو مردے ہیں انہیں اللہ اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ ایک حقیقت بتلائی گی ہے کہ تمام کے تمام انسان سچائی پر اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔ لوگوں کی ہدایت کے بارے میں رسول محترم ﷺ کے جذبات کا جواب جس میں ایک طرح کی آپ کو تسلی دینے کے ساتھ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ صبح وشام اس تڑپ اور کوشش میں تھے کہ کسی طرح یہ لوگ ہدایت سے ہم کنار ہوجائیں۔ اس کے لیے بحیثیت ایک انسان اور داعی کے یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ کاش اللہ تعالیٰ کفار کے مطالبات کو من و عن پورا فرما دے تاکہ کوئی شخص بھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ زمین میں سرنگ لگا کر ہمارے لیے اس کے مدفون خزانے لائیں جیسا کہ انھوں نے نہروں اور باغات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کوئی ایسا معجزہ لائیں جس کا انکار کرنا ہمارے لیے ناممکن ہو۔ اس ضمن میں وہ یہاں تک مطالبہ کرتے تھے کہ ایسی کتاب لائی جائے جسے ہم اپنے ہاتھوں کے ساتھ اچھی طرح ٹٹول کر یقین کرلیں کہ واقعی یہ آسمانوں سے لائی ہوئی کتاب ہے۔ (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِأَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوْٓ اْ إِنْ ہٰذَٓا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ)[ الأنعام : 7] ” اور اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب آپ پر نازل کرتے، پھر یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے یہی کہتے کہ یہ صاف جادو ہے۔ “ کفار کی ہٹ دھرمی بتلانے کے لیے آپ کو یوں خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے رسول ! آپ پر ان لوگوں کا اعراض و انکار اس قدر گراں گزرتا ہے اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ زمین میں اتر جائیں یا آسمان پر چڑھ جائیں اور ان کے سامنے ان کے حسب منشاء معجزات لے آئیں تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگر اس طرح لوگوں کو منوانا مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور سب کو ہدایت پر جمع کردیتا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے طریقہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا سب کو ہدایت پر جمع کرنے کی خواہش رکھنا جاہلوں کا شیوہ ہے۔ جس کی آپ سے توقع نہیں ہوسکتی، لہٰذا آپ کی سوچ کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہیے یہاں مضمر الفاظ میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام حق بات لوگوں تک پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ آپ جس قدر بھی کوشش کرلیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ یہ سنتے ضرور ہیں لیکن ان کے دل مردہ ہونے کی وجہ سے مردوں جیسے ہوچکے ہیں۔ جس طرح مردے قیامت کو اٹھائے جائیں گے اس سے پہلے مردوں کا اٹھنا اور ان کا سننا مشکل ہے۔ اسی طرح کفار کا حق بات سننا اور اس کو قبول کرنا مشکل ہے۔ البتہ جو آدمی حق بات کو دل کے کانوں سے سنتا ہے وہ ضرور اس کو قبول کرتا ہے۔ مسائل 1۔ منکرین حق کی باتوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے 2۔ صاحب بصیرت لوگ ہی دعوت حق قبول کرتے ہیں۔ 3۔ ہٹ دھرم لوگ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا : 1۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60) 3۔ تمام مردوں کو اللہ اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36) 4۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : 6 تا 18) 5۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : 7)
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

” اور انہوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ فرمادیجیے بیشک اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے اور لیکن ان کے اکثر نہیں مانتے۔ “ (37)

فہم القرآن ربط کلام : حق کا انکار کرنے کے باوجود کفارکا بار بار نبی ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کرنا۔ منکرین حق گاہے، گاہے رسول معظم ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے لیکن جونہی ان کے پاس کوئی معجزہ آتا تو نہ صرف اس کا انکار کرتے بلکہ الٹا آپ کو جادو گر ہونے کا الزام دیتے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو درجنوں ایسی آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار نے نہ صرف آپ ﷺ سے عجیب و غریب معجزات کا مطالبہ کیا بلکہ ایک موقع پر انھوں نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہاں تک اپنے لیے مطالبہ کیا : (وَإِذْ قَالُواْ اللّٰہُمَّ إِن کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاء أَوِ اءْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیمٍ )[ الأنفال : 32] ” جب انھوں (کافروں) نے کہا : اے اللہ ! اگر یہ قرآن واقعی تیری طرف سے ہے اور یہ نبی سچا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا پھر ہمیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کر دے۔ “ جس قوم کی ہٹ دھرمی اور گمراہی کا یہ عالم ہوا سے کیونکر ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس موقع پر فقط یہی جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مطالبات سے بڑھ کر آیات و معجزات نازل کرنے پر قادر ہے لیکن اس کے باوجود تمہاری اکثریت اس حقیقت کو ماننے اور جاننے کو تیار نہیں ہے۔ مسائل 1۔ گمراہی پر مصر قوم ہدایت نہیں پاسکتی۔ 2۔ معجزات اتمام حجت کے لیے ہوا کرتے ہیں۔ 3۔ اکثر لوگ حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں اور نہ کوئی پرندہ ہے جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمہاری طرح امتیں ہیں ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ “ (38)

فہم القرآن ربط کلام : کفار نشانی کا مطالبہ کرتے تھے اس کے جواب میں ان کی توجہ پر ندوں کی طرف مبذول کی گئی ہے تاکہ وہ ان کی ساخت، پرورش اور پرواز کے نظام پر غور کریں۔ منکرین حق کا مطالبہ تھا کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی مزید نشانیاں آنی چاہییں جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مزید نشانیاں نازل کرنے پر قادر ہے۔ تاہم اگر انسان غور کرے تو اس کی چشم کشائی کے لیے اس کے گرد و پیش اتنے نشانات عبرت ہیں کہ جن کو دیکھ کر یہ مالک حقیقی کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دور دراز سفر کرنے کی ضرورت نہیں اگر وہ اپنے سامنے زمین پر چلنے والے جانور اور فضا میں اڑنے والے پرندوں پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کی حدود وقیود کے اس طرح پابند ہیں کہ کوئی اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا۔ یہ درند اور پرند نہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں بلکہ اس کی حمدو ثنا کے گیت گاتے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل آیت 44 میں بیان کیا گیا ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے وہ تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرتے ہیں لیکن انسان ان کی تسبیحات کو نہیں سمجھ سکتے۔ سورة النحل آیت 79 میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ اللہ کے سوا کون ہے جو پرندوں کو فضا میں تھامے ہوئے ہے اس میں لا تعداد نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو تسلیم کرنے کی دولت سے بہرہ مند ہیں۔ اسی بات کو سورة الملک آیت 19 میں یوں بیان کیا کہ کیا یہ لوگ پرندوں کی طرف غور نہیں کرتے کہ وہ ان کے سروں کے اوپر فضا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے پروں کو کھولتے اور سمیٹ لیتے ہیں۔ رحیم و کریم رب کے سوا پرندوں کو کون سنبھالے ہوئے ہے۔ یہاں پرندوں کو آدمیوں کی مثل امت قرار دیتے ہوئے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ سب کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور ہر کسی نے اپنے رب کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے۔ امام رازی ؓ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 1۔ حیوان اور پرندے کو بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اور وہ اس کی حمدو تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ 2۔ جس طرح انسانوں میں تو لدوتناسل کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح پرندے بھی آپس میں محبت اور مباشرت کا عمل اختیار کرتے ہیں۔ 3۔ جس طرح انسانوں کو ایک خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کو بھی خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ 4۔ جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی حفاظت اور اس کے رزق کا ذمہ دار ہے یہی معاملہ پرندوں اور درندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 5۔ جس طرح قیامت کے دن انسانوں کو اکٹھا کرکے ان سے ایک دوسرے کا قصاص لیا جائے گا اسی طرح درندوں، پرندوں اور جانوروں کو جمع کرکے ان سے ایک دوسرے کا بدلہ چکا یا جائے گا۔ 6۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے موت وحیات اور دیگر معاملات مقرر فرمائے ہیں اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کے لیے ضابطے مقرر کیے ہیں۔ 7۔ جس طرح انسان اپنی روزی کا محتاج ہے اور اس کے لیے تگ و دو کرتا ہے اسی طرح دیگر جاندار اپنی خوراک کے محتاج ہیں اور اس کے لیے محنت کرتے ہیں۔ 8۔ انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کے درمیان عادات اور خصائل کے لحاظ سے بھی کچھ قدریں مشترک ہیں شیر کی طرح بہادر، مور کی طرح خوبصورت خنزیر کی طرح بےحمیت، کوے کی طرح حریص اور لومڑی کی طرح بعض انسان چالاک اور عیار ہوتے ہیں۔ مسائل 1۔ ہر ذی روح چیز سے حساب و کتاب ہوگا۔ 2۔ تمام مخلوقات کو قیامت کے روز اکٹھا کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن لوگوں کا اللہ کے حضور اکٹھا ہونا یقینی ہے : 1۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12) 2۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : 47 تا 50) 3۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56) 4۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن : 9) 5۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : 109) 6۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمہیں بھی جمع کردیا ہے اور پہلوں کو بھی۔ (المرسلات : 38)
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

” اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ چاہے اسے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔ “ (39)

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت کا بار بار انکار کرنے کی وجہ سے منکرین کی حالت کا بیان۔ قیامت کو جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے بہرے، گونگے ہونے، اور اندھیروں میں ٹامک ٹویاں مارنے کی وجہ سے درندوں اور پرندوں سے بھی کم تر ہیں۔ حقائق کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تکذیب کرنے کی وجہ سے انسان بالآخر چلتی پھرتی لاش کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جس طرح مردہ سن سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی اسے سردی گرمی، روشنی اور اندھیرے کا احساس ہوتا ہے بالکل یہی حالت ان لوگوں کی ہوجاتی ہے جو حق سننے اور سچ بیان کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کی بری خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر گمراہی مسلط کردیتا ہے۔ جس طرح صحت، تندرستی اور دیگر امور پر اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا اختیار حاصل ہے اسی طرح ہی ہدایت کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اسے گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ فہم القرآن کی جلد اول، صفحہ۔ 70 سورة البقرہ آیت۔ 26 میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کسی کو گمراہ نہیں کرتا جب تک کوئی شخص اپنے لیے گمراہی پسند نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے اسے عقل و شعور کی نعمت سے ہمکنار کرتے ہوئے آسمانی کتب کے ذریعے اس کی رہنمائی کا اہتمام کیا ہے لہٰذا انسان کی گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم فقط اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جبراً کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا جب تک انسان اس کی چاہت اور کوشش نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اس طرح ہدایت اور گمراہی بھی اس کے اختیار میں ہے۔ اس لیے انسان کو ہدایت کی دعا اور گمراہی سے بچنے کی توفیق مانگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم : 1۔ صراط مستقیم کی بنیاد۔ (آل عمرآن : 101) 2۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمرآن : 51)
Ayahs 6:40–41

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

” فرمادیجیے کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے کیا اللہ کے سوا کسی کو پکارو گے اگر تم سچے ہو۔ (40)

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ تم اسی کو پکارو تو وہ اس کو دور کر دے گا جس کے لیے تم اسے پکارو گے اگر اس نے چاہا اور تم بھول جاؤ گے جو شریک بناتے ہو۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : صحیح العقیدہ شخص عسر، یسر، بیماری، تندرستی، مشکل اور خوشحالی یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مشکل کشائی کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اس کے مقابلے میں باطل عقیدہ کا حامل انسان آسانی کے وقت اللہ کے سوا دوسروں سے رجوع کرتا ہے اور جب مسائل کے گرداب میں پھنس جائے تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کو صدائیں دیتا ہے اس کی اسی عادت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹے یا تم پر ناگہانی کوئی مصیبت اور قیامت آن پڑے اگر تم واقعی اپنے عقیدے میں سچے ہو تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا بلکہ صرف اور صرف تم اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو اور پکارو گے وہی تمہاری مشکل دور اور تکلیف رفع کرتا ہے مشکل کے وقت جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو تم یکسر انھیں بھول جاتے اور چھوڑ دیتے ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے والا اپنے عقیدہ میں سچا اور مخلص نہیں ہوتا کیونکہ توحید کے بغیر آدمی کو اخلاص اور کسی بات پر قرار نصیب نہیں ہوتا۔ مشرک کی عادت ہے اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی باطل عقیدہ لوگوں کو کوئی آفت آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہی پکارا کرتے ہیں۔ کیونکہ مصیبت کے وقت انسان کے دل و دماغ سے جہالت اور غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور اس کی سوئی ہوئی فطرت سلیم بیدار ہوجاتی ہے جس کی بنا پر وہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے۔ کیونکہ توحید فطرت کی آواز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت میں سمو دیا ہے۔ علامہ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو ابو جہل کا بیٹا عکرمہ ؓ اپنی جان بچانے کی خاطر جدہ کی بندرگاہ پہنچا۔ جب بیڑے پر سوار ہوا تو سفر کے دوران بیڑہ سمندر کے بھنور میں جاپھنسا۔ طوفان اس قدر شدید تھا کہ بادبان نے بیڑے پر سوار لوگوں کو تلقین کی کہ ایسے حالات میں کسی اور کو پکارنے کی بجائے صرف ایک اللہ کو صدا دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا اس لیے ہم سب کو ایک اللہ ہی سے اس گرداب سے نجات کی دعا کرنی چاہیے۔ جناب عکرمہ ؓ کا فرمان ہے کہ میں نے اسی وقت اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مصیبت سے نجات دی تو میں واپس جا کر محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا کیونکہ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ چناچہ اس واقعہ کے بعد حضرت عکرمہ بن ابو جہل ؓ مکہ واپس آکر حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے اور آخر دم تک نبی محترم ﷺ کے جانثار رہے۔ مسائل 1۔ مشرک مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں۔ 2۔ مشکل وقت میں مشرک معبودان باطل کو بھول جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اگر مدد کرسکتے ہیں تو اپنے معبودوں کو آواز دو : 1۔ بلاؤ اپنے معبودوں کو اگر تم سچے ہو۔ (البقرۃ : 23) 2۔ ان کو ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا اب ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ (الصافات : 24 تا 25) 3۔ اللہ کے علاوہ جن معبودوں کا تمہیں زعم ہے انھیں بلاؤ وہ بھی مصیبت دور نہیں کرسکتے۔ (بنی اسرائیل : 56) 4۔ بلاؤ تم ان کو وہ تمہیں جواب نہیں دیں گے۔ (الاعراف : 194) 5۔ اس دن ان سے کہا جائے گا بلاؤ اپنے معبودان باطل کو، وہ بلائیں گے تو انھیں جواب نہیں ملے گا۔ (القصص : 64)
Ayahs 6:42–45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

” اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر انہیں تنگ دستی اور تکلیف کے ساتھ پکڑ لیا تاکہ وہ عاجزی کریں۔ (42

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

) پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے جو کچھ وہ کررہے تھے خوش نما بنادیا۔ (43)

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ اس کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ اچانک ناامیدہوگے۔ (44)

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

تو ان لوگوں کی جڑکاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ “ (45)

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل جیسا کہ آیت 37 میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت ﷺ سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف صورتیں ہوا کرتی ہیں۔ جن میں ابتدائی شکل یہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ غربت و افلاس، تنگی اور حالات کی ترشی کے ذریعے لوگوں کو جھنجھوڑتا ہے تاکہ لوگ اپنی روش پر نظر ثانی کریں۔ اس ہلکی پھلکی گرفت میں اس کی رحمت پنہاں ہوتی ہے کہ جو میرے بندے مجھ سے دور اور میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں انھیں معمولی جھٹکے کے ذریعے احساس دلایا جائے کہ تمہیں ادھر ادھر کے سہارے تلاش کرنے اور دوسروں کو خوش کرنے کی بجائے صرف اپنے رب کا سہارا اور اسی کو خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن مسلسل گناہوں کی وجہ سے جب لوگوں کے دل سخت ہوجائیں اور وہ ہلکے پھلکے عذاب سے سبق حاصل کرنے کی بجائے گناہوں اور جرائم کے اس قدر دلدادہ ہوجائیں کہ برائی اور بےحیائی ان کی زندگی کا معمول اور فیشن بن جائے تو ان کو شیطانی کام خوبصورت دکھائی دیتے ہیں گویا کہ شیطان پوری طرح ان پر حاوی اور غالب ہوچکا ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور نصائح کو مسلسل نظر انداز کردینے کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تو پھر ان پر دنیا کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تاکہ گناہ کرنے میں ان کی کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ جب یہ اپنی طرز زندگی پر پوری طرح شاداں وفرحاں اور مطمئن ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک انھیں آلیتا ہے۔ پھر ایسی قوم کو صفحۂ ہستی سے ناپید کردیا جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف ان کے نشانات اور اثرات ختم ہوجاتے ہیں بلکہ مدت دراز تک لوگ ان پر حسرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ مجرموں سے اللہ کی زمین پاک ہوئی، مظلوموں اور مجبوروں کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اکثر قومیں جن پر عذاب نازل ہوئے وہ غریب ہونے کے بجائے دولت مند اور ترقی یافتہ ہوا کرتی تھیں۔ ( عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ صَلّٰی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَیْہِ بِجِنَازَۃٍ فَقَالَ مُسْتَرِیحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْہُ قَالُوا یَا رَسُول اللّٰہِ مَا الْمُسْتَرِیحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ یَسْتَرِیحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَا إِلَی رَحْمَۃِ اللّٰہِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ یَسْتَرِیحُ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ )[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب سکرات الموت ] ” حضرت ابو قتادہ بن ربعی الانصاری ؓ بیان کیا کرتے تھے رسول معظم ﷺ کے پاس سے جنازہ گزرا نبی محترم ﷺ نے فرمایا یہ راحت پا گیا اور اس سے سکون پاگئے صحابہ کرام ؓ نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول کون سکون پا گیا اور کس نے اس سے سکون پایا فرمایا ؟ آپ نے فرمایا بندہ مومن جب فوت ہوتا ہے تو دنیا کے مصائب اور اذیتوں سے اللہ کی رحمت کی طرف راحت میں چلا جاتا ہے جبکہ ایک فاجر آدمی کی موت سے لوگ، علاقہ، درخت اور جانور سکون محسوس کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ تنگدستی و تکلیف کے ذریعے لوگوں کو احساس دلاتے ہیں 2۔ مصیبت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کرنی چاہییں۔ 3۔ دلوں کے سخت ہونے سے پناہ مانگنی چاہیے۔ 4۔ دنیا کی خوشحالی حق و صداقت کا معیار نہیں ہے۔ 5۔ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن نافرمان لوگوں کے دل سخت ہوجاتے ہیں : 1۔ یہودیوں کے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے۔ (البقرۃ : 74) 2۔ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے۔ (الانعام : 43) 3۔ ان کے دل سخت اور عمر لمبی ہوگئی۔ (الحدید : 16) 4۔ ان کے دلوں میں بیماری اور سختی ہے۔ (الحج : 53) 5۔ سخت دل والوں کے لیے جہنم ہے۔ (الزمر : 22)
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

” فرمادیں کیا تم نے دیکھا اگر اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری نگاہوں کو چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ چیزیں لادے ؟ دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیرپھیر کر بیان کرتے ہیں، پھر وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ “ (46)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عذاب کی یہ بھی ایک شکل ہے کہ وہ سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کی مختلف شکلیں ہیں جلد یا بدیر دنیا میں کسی نہ کسی عذاب میں مجرم کو مبتلا کرتا ہے یا پھر اس کی سماعت یا بصیرت و بصارت اور تفہیم کی صلاحیتوں کو مسلوب کردیتا ہے جس سے مجرم کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہے جس کی بنا پر مجھے دنیا کی فراوانی اور ہر قسم کی آزادی سے نواز رکھا ہے حالانکہ اس کا اصول یہ ہے کہ جسے جرائم میں مزید بڑھانا مقصود ہوتا ہے اس کی حیات مستعار کی رسی دراز کردیتا ہے تاکہ یہ گناہ اور جرائم کرتا رہے اور آخرت میں اسے ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے۔ یہاں اعضاء اور جوارح کے بارے میں یہ احساس دلایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری صلاحیتیں سلب کرلے تو بتلاؤ کہ اس کے سوا کون ان کی قوت کار کو بحال کرسکتا ہے یاد رہے کہ جب اللہ تعالیٰ جسمانی اعضاء میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر مفلوج کردیتا ہے تو دنیا کا کوئی ڈاکٹر اور سرجن اسے بحال نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی انگلی کٹ جائے تو دوبارہ انگلی کا وجود میں آنا ناممکن ہے اسی طرح اگر آنکھ اور کان اپنے مکمل نظام کے ساتھ ناکارہ ہوجائیں تو انھیں دوبارہ کا رآمد بنانا کسی سرجن کے بس کا روگ نہیں۔ اس لیے لفظ ” اُنْظُرْ “ کہہ کر توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ حقائق اور اپنی آیات کو کسی طرح مختلف زاویوں کے ساتھ بیان کرتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ بات سمجھنے اور ہدایت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تیسری بار غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اللہ کے لیے مشکل نہیں۔ (اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) [ رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل ] ” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور پیدا فرما۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُول اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی جَسَدِی وَعَافِنِی فِی بَصَرِی وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن النبی ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میرے جسم کو عافیت دے اور میری بصارت کو بھی عافیت دے اور میری طرف سے اس کو وارث بنا دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو کہ بردبار اور عزت والا ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے اور بہت بڑے عرش کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ “ مسائل 1۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی کسی نعمت سے محروم کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لاسکتی۔ 2۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو نواز نا چاہے تو کوئی اس کی نوازش کو روک نہیں سکتا۔ تفسیر بالقرآن آنکھ، کان اور دل اللہ کے قبضہ میں ہیں : 1۔ اللہ نے تمہاری سماعت اور بصارت بنائی ہے۔ (المؤمنون : 78، الملک : 23) 2۔ کیا اللہ کے سوا کان اور آنکھ کا کوئی اور مالک ہے ؟ (یونس : 31) 3۔ اگر اللہ چاہے تو ان کے کان، آنکھیں چھین لے۔ (البقرۃ : 20) 4۔ اللہ نے ان پر لعنت کردی اور بینائی سے محروم کردیا۔ (محمد : 23) 5۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ (البقرۃ : 7)
Ayahs 6:47–50

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

” فرمادیجیے کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک کیا جائے گا ؟ (47)

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، پھر جو ایمان لے آئے اور اصلاح کرلے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (48)

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا انہیں عذاب پہنچے گا اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ “ (49)

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دیجیے میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس کے پیچھے چلتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے فرمادیں کیا اندھا اور دیکھنے والابرابر ہوتے ہیں ؟ تو کیا تم غور نہیں کرتے۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔ قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز ہستیوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ یہی وطیرہ رسول معظم ﷺ کے مخالفوں نے اختیار کر رکھا تھا چناچہ وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی غریب اور کنگال ہیں ہمارے لیے نہ سہی کم ازکم تمہیں اپنے لیے تو رزق کی فراوانی کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس طرح کبھی وہ قدرت کے پوشیدہ امور یعنی غیب کی خبروں کے بارے میں آپ سے سوال کرتے اور کبھی یہ اعتراض اٹھاتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح انسانی حاجات کا اہتمام کرنے پر مجبور ہے۔ اسے تو ان حاجات اور ضروریات سے مبرا ہونا چاہیے تھا۔ ان مطالبات اور اعتراضات کے جواب میں آپ کو فقط یہی بات کہنے کا حکم دیا گیا کہ آپ فرمائیں کہ میں نے کبھی ان باتوں کا دعویٰ نہیں کیا میرا دعویٰ تو صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں مجھ پر میرے رب کے پیغامات نازل ہوتے ہیں۔ میں ان کی اتباع اور ابلاغ کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا ہوں اس لیے میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق بات کرتا ہوں اس کی پیروی وہ ہی شخص کرے گا جو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسا شخص ہی دانا اور بینا کہلانے کا حق دار ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور و فکر نہیں کرتا وہ حقیقتاً اندھا ہے۔ اندھا اور دیکھنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ بس تمہیں اس حقیقت پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ کا عذاب ظالموں کے لیے خاص ہوتا ہے۔ 2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے اور جنت کی خوشخبری دینے والے تھے۔ 3۔ فاسقین کو دنیا و آخرت میں رسوا کن عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ 4۔ تمام رسول اللہ کی وحی کے پابند تھے۔ 5۔ کافر و مومن کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ تفسیر بالقرآن نبی غیب نہیں جانتے : 1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59) 2۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ (یونس : 20) 3۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 4۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (ھود : 31)