Ayahs 6:74–80فہم القرآن
ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔
مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی تربیت آپ کے چچا نے کی۔ چچا بمنزلہ باپ کے ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے آزر کو ابیہ کے نام سے پکارا ہے۔
دوسرے صاحب قلم کا عندیہ ہے کہ آپ کے والد کا اصلی نام تارخ تھا۔ لیکن وہ محب صنم ہونے کی وجہ سے آزر کہلایا۔ کیونکہ عربی میں محب صنم کو آزر کہا جاتا ہے۔ تیسرے مؤرخ نے تطبیق کا راستہ تلاش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے باپ کا اصلی نام تارخ اور وصفی (پیشہ وارانہ) نام آزر تھا۔
لیکن قرآن مجید ان تکلفات سے پاک ہے اور واضح طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزربتارہا ہے لہٰذا ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو آزر ہی کہیں گے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بت تراش کر بازار میں فروخت کیا کرتے تھے یہ بات غلط ہے کیونکہ جدید تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ کے والد مذہبی پیشوا اور اس زمانے کی حکومت میں مرکزی کابینہ کے رکن ہونے کی بنا پر حاکم وقت اور عوام الناس میں انتہائی احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت :
تورات کے نسخہ سجینہ کا جو ترجمہ عبرانی سے یونانی میں تین سو سال قبل مسیح کیا گیا اور جس میں نامور دانشور یہودی شریک تحقیق ہوئے ان کے حوالے سے ماہر اثریات سر چارلس مارسٹن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سن ولادت 2160 قبل مسیح تحریر کیا ہے۔ آپ کی عمر مبارک 175 سال تھی چناچہ مذکورہ تحقیق کے مطابق آپ کی وفات پر ملال 1985 قبل مسیح قرار پائی۔ تاہم یہ تحقیق حتمی حیثیت نہیں رکھتی۔ جدیدتحقیق میں نہ صرف وہ شہر معلوم ہوگیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی بلکہ آپ کے دور کے حالات و واقعات قدرے تفصیل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ آپ جنوبی عراق میں دریائے فرات کے کنارے واقع شہر ار میں پیدا ہوئے جس کو موجودہ جغرافیہ کی زبان میں تل ابیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر کی آبادی کا ڈھائی لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک اندازہ کیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے کھنڈرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا مقصد دولت کمانا، سود خوری اور مقدمہ بازی مشغلہ تھا۔ گویا کہ اخلاقی اور اعتقادی اعتبار سے یہ قوم تباہی کے گڑھے پر کھڑی تھی۔ اس وقت کے مذہبی حالات کا آپ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے شہر ار میں پانچ ہزار خداؤں کے نام دریافت کیے گئے ہیں۔ دوسرے شہروں اور قصبات کے الگ الگ خدا مقرر تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص خدا ہوتا تھا، جس کو رب البلد یعنی خدائے شہر کہتے تھے۔ ظاہر ہے لوگ اس کا احترام دوسرے خداؤں سے زیادہ کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر ار کا بڑا خدا ننار تھا (چاند دیوتا) اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے اس شہر کا نام قمرینہ بھی لکھا ہے۔ ننار کا بت شہر میں سب سے اونچی جگہ رکھا گیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی اس کی بیوی (نن گل) کا معبد تھا۔ لوگ بتوں، مزاروں کے سامنے مراقبے کرتے، سجدہ ریز ہوتے اور طواف کرتے تھے۔
ننار کی شان شاہی محل سرا کی تھی۔ یہاں ہر وقت نئی عورتیں آکر ٹھہرتی۔ یہاں بہت سی عورتوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ وہ عورت بڑی محترم سمجھی جاتی تھی جو اپنی چادر عفت کو یہاں قربان کردیتی۔ اس مزار کے نام بہت سے رقبے وقف تھے جن کی آمدنی مجاور ہی استعمال کرسکتے تھے۔
اس شرک و خرافات کی یلغار اور بھرمار میں رب کریم کا فضل و کرم جوش میں آیا۔ اس نے شرک ورسومات کے مرکز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ اس کی قدرت کا کرشمہ اور سنت قدیمہ ہے کہ جب بھی برائی حد سے بڑھنے لگتی ہے تو رب کبریا حق و باطل کا معرکہ برپا کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چہرۂ مبارک :
واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ شخصیت بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے تعارف کرواتے ہوئے فرمایا۔
(ہٰذَا اَبُوْکَ اِبْرَاہِیْمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ )[ مشکوۃ : باب فی المعراج ]
” یہ آپ کے والد گرامی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں آپ آگے بڑھ کر سلام عرض کریں چناچہ میں نے سلام کیا۔ “
جواباً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کہتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
(قَالَ مَرْحَبًا لاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیّ الصَّالِح) ِ [ مشکوۃ : باب فی المعراج ]
” خوش آمدید (جی آیاں نوں) نیک بیٹا اور نبی صالح بھی۔ “
نبی اکرم ﷺ نے صحابہ ؓ کا ذوق و شوق دیکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے رخ زیبا کا اندازہ لگانا ہو وہ مجھے دیکھ لے۔
(قَالَ أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء ]
جیسا کہ ابھی ابھی ذکر کیا گیا ہے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ صنم پرستی کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے بھی قائل تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معبود ان ارضی کے ساتھ معبودان فلکی (چاند سورج، ستاروں) کی پر زور تردید کی جائے۔ لیکن اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا۔ کہ شرک کا مریض، یکایک بدک نہ جائے، کیونکہ مریض شرک بہت جلد باز اور ہلکی طبیعت کا واقع ہوا ہے۔ جب بھی اس کو محسوس ہوجائے کہ نسخہ توحید کے ساتھ میرا علاج ہونے والا ہے تو پہلے ہی بھاگنا اور منہ بسورنا شروع کردیتا ہے۔
(وإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِا لْاٰ خِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ إِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ) [ الزمر : 45]
” جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت کے منکروں کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ جب اس کے علاوہ دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو یکایک خوشی سے کھل جاتے ہیں۔ “
حضرت خلیل (علیہ السلام) نے نہایت اچھے اور دلچسپ انداز میں توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ یہ انداز بیان ان کی زبردست معجزانہ فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کا مرقع ہے۔ جب شام ہوئی تو پردۂ ظلمت سے ستارے درخشاں ہوئے تو اپنی قوم کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ میرا رب ہے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد چمکتا ہوا ستارہ ڈوب گیا۔ فرمایا ڈوبنے والا رب نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند نمودار ہوا، فرمایا یہ ہے میرا رب، لیکن چاند بھی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ صبح ہوئی اور مہر جہاں روشن ہوا، فرمایا یہ میرا رب ہے یہ ان سب سے بڑا ہے، لیکن سورج کو دوام اور روشنی کو بھی قرار نہیں۔ پہلے بڑھ رہی تھی، دوپہر کے بعد ڈھلنے لگی شام کو سورج غروب ہوگیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکارا ٹھے یہ سب محکوم و مجبور اور بےبس ہیں ان کو لانے اور لے جانے والا حقیقی مالک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اب ان کا مکالمہ قرآن کے الفاظ میں سنیے !
” اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے زمین و آسمان کا نظام حکومت دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں ہوجائے۔ چناچہ جب رات چھاگئی، تو اس نے ایک تارا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ تارا ڈوب گیا تو کہنے لگے میں ڈوبنے والے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ جب چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا۔ اگر میرا رب مجھے ہدایت سے نہ نوازتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوتا۔ پھر سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے۔ اور یہ ان سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اے برادران قوم میں بری ہوں، ان سے جن کو تم شریک بناتے ہو۔ میں نے تو اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں کا سا تھی نہیں ہوں۔ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ساتھ جھگڑتے ہو۔ حالانکہ اس نے مجھے صراط مستقیم دکھائی، میں تمہارے بنائے ہوئے معبودان باطل سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب میرا نقصان چاہے تو ضرور نقصان ہوجائے گا۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے کیا اب بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے ؟ آخر تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ہم دونوں فریقوں میں کون امن و سلامتی کا حق دار ہے۔ بتاؤ اگر کچھ علم رکھتے ہو۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا، حالانکہ اس خطاب کے سیاق وسباق سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے ان کو معبود تصور کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید واقعہ کے آخر میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے۔
کہ ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے خلاف دلائل دیے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں یقیناً تیرا رب حکیم وعلیم ہے۔
(وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرَاھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْن)[ الانبیاء : 51]
” ہم نے ابراہیم کو ابتداء ہی سے ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔ “
ارشاد الٰہی سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتدا سے ہی رشد و ہدایت حاصل ہوچکی تھی، بقول بعض مفسرین، اگر پھر بھی وہ ستارے اور چاند سورج ہی کو معبود تصور کر رہے تھے تو وہ ہدایت کیا تھی جو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے عطا فرما رکھی تھی۔
چاند، سورج کی حیثیت :
(وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ )[ یٰس : 39۔ 40]
” سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ جو زبردست علیم ہستی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں، یہاں تک کہ ان منزلوں سے گزرتا ہوا بالآخر وہ کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی کی مانند پتلا ہوجاتا ہے نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ہر ایک اس فضا میں تیر رہا ہے۔ (یٰسین : 38 تا 40)
(قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلَہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآء أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فیہِ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ )[ القصص : 71، 72]
” آپ فرما دیں کیا تم نے غور نہیں کیا اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر رات کو لمبا کر دے۔ کون ہے جو اللہ کے سوا رات کو بدل کر دن کی روشنی لے آئے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ آپ اعلان کردیں ! غور کرو اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر دن چڑھائے رکھے کون ہے جو اس کے بغیر دن کو رات میں بدل دے، جس میں تم آرام کرتے ہو ؟ کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے ؟ “
(وَمِنْ اٰیٰتِہٖ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (حٰمٓ السجدۃ : 37)
” رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج چاند کو سجدہ نہ کر وبل کہ اس ذات کبریاء کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر واقعتا تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود بنانا کھلی گمراہی ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت دکھائی۔
3۔ شرک اور مشرکوں سے برأت کا اعلان کرنا سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روشن باب ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ :
1۔ آپ ابراہیم کا قرآن سے تذکرہ فرمائیں وہ سچے نبی تھے۔ (مریم : 41)
2۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ (النساء : 125)
3۔ تمہارے لیے ابراہیم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ : 4)
4۔ اے نبی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النساء : 125)
5۔ ہم نے آپ کو وحی کی کہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النحل : 123)
6۔ آپ ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق بتلائیں۔ (الحجر : 51)
7۔ یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) تحمل مزاج، آہ وزاریاں کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (ہود : 75)
8۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) آہ وزاریاں کرنے والے اور متحمل مزاج تھے۔ ( التوبۃ : 114)
Ayah 6:81فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب کا رد عمل۔
چاہیے تو یہ تھا کہ واضح قرائن دیکھنے اور ٹھوس دلائل سننے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سر تسلیم خم کرتی لیکن انھوں نے اسی روش کو اختیار کیا جو ہمیشہ سے منکرین حق اختیار کرتے ہیں۔ چناچہ وہ قیل وقال اور حیلہ سازی سے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لڑائی، جھگڑے پر اتر آئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے جھگڑنے کے بجائے فقط اتنا فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کی ذات یعنی اس کی توحید کے بارے میں مجھ سے جنگ وجدال کرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔
ابتدا ہی سے مشرکوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) اور موحدین کو نہ صرف اپنی مادی اور افرادی قوت سے ڈراتے ہیں بلکہ اپنے عقیدہ کو سچ ثابت کرنے اور موحدین کو خوفزدہ کرنے کے لیے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ اگر تم نے اسی طرح ہمارے معبودوں کی مخالفت جاری رکھی تو وہ تمہیں تہس نہس کردیں گے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ موحد کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق کوئی تکلیف پہنچے تو مشرک طعنہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے معبودوں کی گستاخی کا نتیجہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مشرکوں نے یہ کہہ کر ڈرایا کہ عنقریب ہمارے معبود تجھے خوفناک گرفت میں لینے والے ہیں۔ جس کے جواب میں جناب ابراہیم (علیہ السلام) نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے کس طرح خوف کھا سکتا ہوں۔ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے نہیں ڈرتے جبکہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کا کوئی جواز اور دلیل نہیں۔ عقیدۂ توحید اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے انسان دنیا و مافیھا کے خوف سے بےخوف، اس کا دل مطمئن اور اپنے آپ میں امن و سکون محسوس کرتا ہے اس کے مقابلہ میں مشرک پتھر سے تراشے ہوئے بتوں اور اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مزاروں یہاں تک کہ مزارات میں اگنے والے درختوں کے پتوں سے بھی کانپتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے سوال کیا کہ بتاؤ کون سے عقیدے کا حامل امن و سکون کا حق دار ہے اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو ؟ جہاں تک تمہاری بےبنیاد دھمکیوں کا تعلق ہے تو ان کی حقیقت میرا رب اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور دنیا میں وہی کچھ رونما ہوتا ہے جو میرا رب چاہتا ہے کیا ان دلائل کے ہوتے ہوئے بھی تم توحیدکو ماننے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ (مزید مطالعہ کے لیے ہماری کتاب سیرت ابراہیم (علیہ السلام) ملاحظہ فرمائیں۔ )
مسائل
1۔ عقیدۂ توحید راسخ ہو تو بندے کو کسی کا کوئی خوف نہیں رہتا۔
2۔ مشرک بزدل ہوتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا شریک نہیں ٹھہرایا۔
4۔ شرک کرنے والوں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہوتی۔
5۔ عقیدۂ توحید ہی امن و سلامتی کا ضامن ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا علم پوری کائنات پر محیط ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ وسیع علم والا ہے۔ (البقرۃ : 115)
2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 29)
3۔ ہمارے رب نے ہر چیز کو اپنے علم کے ذریعہ گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ (الاعراف : 89)
4۔ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہر چیز ہے۔ (الطلاق : 12)
شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں :
1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : 117)
2۔ انھوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24)
3۔ اس کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : 64)
4۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175)
5۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ ( الحج : 71)
6۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ (الانعام : 81)
Ayahs 6:82–83فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو میں توحید کو امن کا ضامن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔
ایمان کی ابتدا اور انتہا توحید پر ہے باقی دین کے ارکان توحید کا تقاضا ہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی کو حصہ بنانا اس کی صفات میں کسی کو شریک سمجھنا پر لے درجے کا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا بنیادی معنی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّی ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ “ ” کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا۔ “
کسی ذات کو اللہ تعالیٰ کا حصہ یا جز قرار دینا جس طرح یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صرف اللہ کا بیٹا کہا بلکہ مریم [، عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو ملا کر تثلیث کا عقیدہ پیش کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بعض لوگ نبی ﷺ کو نور من نور اللہ کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ انبیاء کو شریک بنانا اور انھیں ان کے مقام سے بڑھا کر خدا بنانا ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی صفات کو کسی زندہ یا مدفون بزرگ میں سمجھنے کا نام شرک ہے۔ جسے قرآن مجید پرلے درجے کا ظلم قرار دیتا ہے۔
یہاں ظلم سے مراد شرک اور ایمان سے مراد توحید ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ایمان کو شرک کی ملاوٹ سے محفوظ رکھا۔ ہی ہدایت یافتہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے غضب اور جہنم کی ہولناکیوں سے مامون ہوں گے۔
شرک ظلم ہے اور ظلم کے خلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل سجھائی تھی جس کی بنیاد پر انھوں نے ثابت کیا کہ چاند ستاروں اور سورج کو اپنی قسمت کا مالک سمجھنا اور انھیں خیر و شر میں دخیل جان کر ان کی عبادت کرنا ظلم ہے۔ جس کا ان کی قوم کوئی جواب نہ دے سکی اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے دلیل کے اعتبار سے سرنگوں ہوئے۔ اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم پر سربلند ہوئے۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (الَّذِینَ اٰمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب ظلم دون ظلم ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ رسول معظم ﷺ کے صحابہ ؓ نے پوچھا ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بلا شبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “
1۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سر بلند کرتا ہے کیونکہ اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقۂ تبلیغ اور دلیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دلیل قرار دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند، سورج اور ستاروں کو اپنا رب نہیں سمجھتے تھے۔
2۔ یاد رہے کہ دنیا میں کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں گزرا جو دلائل کے حوالے سے اپنی قوم کے سامنے لاجواب اور سرنگوں ہوا ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو گفتگو کا یہ طریقہ سمجھانا اور انھیں ٹھوس دلائل عطا کرنے کی اور بھی حکمتیں ہیں۔ جنھیں اللہ علیم و حکیم خوب جانتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو واضح دلائل عنایت فرمائے۔
2۔ عقیدۂ توحید ہی امن و سکون کی ضمانت دیتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جس کے چاہتے ہیں درجات بلند فرماتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی علم رکھتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک ظلم اور گناہ ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہوں نبی اکرم ﷺ کا اعلان۔ (الانعام : 164)
2۔ جو اللہ کی ملاقات چاہتا ہے وہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (الکہف : 110)
3۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جو چاہے گا معاف فرما دے گا۔ (النساء : 48 تا 116)
4۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء : 36)
5۔ جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ (المائدۃ : 72)
6۔ اے بیٹے شرک نہ کر شرک بہت بڑا ظلم ہے حضرت لقمان کی نصیحت۔ (لقمان : 13)
Ayahs 6:84–87فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف دلائل کے اعتبار سے برتری عنایت فرمائی تھی بلکہ رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز کرتے ہوئے انبیاء کی صورت میں نیک اولاد عنایت فرمائی جنھوں نے ان کے مشن کو جاری وساری رکھا تاآنکہ نبی آخر الزمان ﷺ نے دین حنیف کا پھر یرا پوری دنیا میں سربلند فرمایا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تن تنہا اپنے باپ، قوم اور حاکم و قت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دلائل کے اعتبار سے انھیں اپنی قوم پر برتری عنایت فرمائی بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ پوری دنیا کی امامت سے سرفراز کیا گیا اور ان کی دعوت کو چار سو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی اولاد اور وارث نصیب فرمائے کہ جن میں اولوالعزم انبیاء عظیم الشان خلفاء پیدا ہوئے۔ ان میں ایسی شخصیات بھی تھیں جو بیک وقت منصب خلافت و نبوت پر فائز ہوئیں اور انھوں نے توحید کی دعوت کو دنیا میں عام کیا۔ یہاں ان انبیاء کا نام بنام ذکر کیا گیا ہے جو انفرادی اوصاف کے اعتبار سے باقی انبیاء سے برتر تھے۔ جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے جو اوصاف ان شخصیات میں پائے جاتے تھے وہ سب کے سب نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات میں ودیعت کردیے گئے ہیں۔ ان انبیاء (علیہ السلام) کو ایک دوسرے کے باپ، اولاد اور بھائی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کو اپنے کام کے لیے
منتخب فرما کر صراط مستقیم کی ہدایت سے نوازا تھا۔ اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ہدایت وہی ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے اور وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے ہدایت کی دولت سے مالا مال فرماتا ہے۔
Ayah 6:88یہاں ہدایت سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے کیونکہ اس عقیدے کے بغیر کوئی عبادت بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔ عقیدۂ توحید کی ضد شرک ہے جو ہر برائی کا منبع، عظیم گناہ اور انتہا درجے کا ظلم ہے اس لیے یہاں اٹھارہ عظیم المرتبت ہستیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ ہستیاں بھی شرک کا ارتکاب کرتیں تو ان کی زندگی بھر کی عبادت و ریاضت ضائع کردی جاتی۔
(عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ؓ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ أَلَا أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلٰی یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ اَلْإِشْرَاک باللَّہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِءًا فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتَّی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَت) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ما قیل فی شہادات الزور ]
” عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو بڑے گناہ کی خبر نہ دوں آپ نے ان الفاظ کو تین مرتبہ دہرایا صحابہ کرام ؓ نے عرض کی کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور پھر آپ ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ فرمایا اور جھوٹی بات کہنا۔ آپ ﷺ اس بات کو دہراتے رہے یہاں تک ہم نے سوچا کاش ! آپ خاموش ہوجائیں۔ “
(عن ابْن عَبَّاسٍ ؓ یَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِیُّ ﷺ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی نَحْوِ أَہْلِ الْیَمَنِ قَالَ لَہُ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَی أَنْ یُوَحِّدُوا اللّٰہَ تَعَالَی فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِہِمْ وَلَیْلَتِہِمْ فَإِذَا صَلَّوْا فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ زَکَاۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِیِّہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فَقِیرِہِمْ فَإِذَا أَقَرُّوا بِذٰلِکَ فَخُذْ مِنْہُمْ وَتَوَقَّ کَرَاءِمَ أَمْوَال النَّاسِ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید،]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو اہل یمن کی طرف بھیجا آپ ﷺ نے فرمایا تم اہل کتاب کی طرف جا رہے ہو سب سے پہلے تم جس بات کی انہیں دعوت دو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جانیں جب وہ اس کی توحید کے قائل ہوجائیں تو انہیں بتانا۔ اللہ نے ان پر پانچ نمازیں دن اور رات میں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو ان کو بتانا اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں سے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے۔ جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر ان کے غرباکو دی جائے۔ جب وہ اس بات کا اقرار کرلیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کرنا اور ان کے بہترین مال سے بچنا۔ “
نواسے بھی آدمی کی اولاد ہوتے ہیں :
(عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنْ الْأَسْبَاطِ )[ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین ]
” یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا جو حسین سے محبت کرے گا حسین میری اولاد سے ہے۔ “
انبیاء ( علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں :
(عن ابی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ أَنَا أَوْلَی النَّاس بابْنِ مَرْیَمَ وَالْأَنْبِیَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَیْسَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ)[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء،]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگو ! میں ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ “
مسائل
1۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی یعنی ایک ہی خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تمام انسانوں سے ممتاز فرمایا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خصوصی ہدایت سے نوازا۔
4۔ اگر انبیاء (علیہ السلام) میں سے کوئی بھی شرک کرتا تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔
Ayahs 6:89–90فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، نبی اکرم ﷺ کو ابراہیم (علیہ السلام) اور انکے بعد آ نے والے انبیاء کی دعوت کو پھیلانے اور اس پر قائم رہنے کا حکم۔
عظیم الشان اٹھارہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی پاک باز اولاد کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ سب کے سب مواحد، ہدایت یافتہ اور شرک سے سخت اجتناب کرنے والے تھے اگر وہ شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع کردیے جاتے۔ شرک سے بچنے کی ہمت اور توحید کی سمجھ انھیں اس لیے نصیب ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب، حکمت اور نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو کتاب و حکمت اور نبوت کی تعلیم سے آگاہ کرے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ شرک سے اجتناب کرے اور اللہ کی توحید کا پر چار کرنے والی ہو۔ الحکم سے مراد وہ قوت ہے جس کے ذریعے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ تکمیل پاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب اور نبوت کی روشنی عطا فرمائے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ حکماً شرک کا قلع قمع اور توحید کا نفاذ کرے۔ یہاں نبی ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین کفر و شرک کا رویہ اپنائے رکھیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے آپ کے مقدر میں ایسے ساتھی رکھ دیے ہیں جو اللہ کی کتاب کا انکار نہیں کرتے۔ دین اور آپ کی ذات پر تن، من دھن قربان کرنے والے ہیں۔ لہٰذا آپ کو پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی اقتدا کرنی چاہیے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ افراد تھے۔ اقتدا سے مراد انبیاء کا اسوۂ مبارکہ ہے جو وہ مخالفین کے مقابلہ میں اختیار کیا کرتے تھے۔ اقتدا میں دوسرا اشارہ یہ ہے تمام انبیا کی دعوت کے بنیادی اصول ایک ہی رہے ہیں۔ جس میں سرفہرست توحید کا اقرار، پرچار اور شرک سے نفرت کا اظہار ہے۔ جس طرح پہلے انبیاء دعوت کے بدلے کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ آپ بھی ان کی اقتدا میں اعلان کرتے جائیں کہ اے لوگو ! میں اس دعوت کے بدلے تم سے کسی مفاد اور اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ میرا کام تو نصیحت کرنا ہے اور یہ قرآن مجید پورے عالم کے لیے ذکر اور نصیحت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنَ الْأَنْبِیَاءِ نَبِیٌّ إِلَّا أُعْطِیَ مَا مِثْلہُ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِی أُوتِیتُ وَحْیًا أَوْحَاہ اللَّہُ إِلَیَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَہُمْ تَابِعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )
[ رواہ البخاری : کتاب فضائل القران، باب کیف نزل الوحی ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام میں سے ہر نبی کو ایسی چیزیں دی گئی ہیں جس پر لوگ ایمان لے آئیں مجھے وحی عنایت کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا میں امید کرتا ہوں قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گئے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کو خصوصی حکمت سے نوازا۔ 2۔ لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے طریقہ کی ہی پیروی کرنی چاہیے۔
3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) دعوت دین کے بدلے کسی سے معاوضہ طلب نہیں کرتے تھے۔
4۔ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) کسی سے اجرت نہیں لیتے تھے :
1۔ (حضرت نوح (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا۔ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 109)
2۔ (حضرت ھود علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 127)
3۔ (حضرت صالح (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 141 تا 145)
4۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 164)
5۔ (حضرت شعیب (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 180)
6۔ نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (السباء : 47)
8۔ (حضرت ھود علیہ السلام) نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ھود : 51)
9۔ (اے محمد ﷺ ! ) کہہ دیجیے میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتانہ ہی میں متکلف ہوں۔ (صٓ: 86 )
Ayah 6:91فہم القرآن
ربط کلام : توحید سے انحراف، اور نبی ﷺ کی بشریت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔
انسان جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار یا اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک بناتا ہے تو پھر وہ بڑے بڑے حقائق ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت اور آج بھی کفار اور مشرکوں کی یہی حالت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی رسالت کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ آپ بشر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر اپنی کتاب نازل نہیں کی۔ مکہ کے لوگ اکثر جاہل تھے وہ اپنی جہالت کی بنا پر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بشر کے بجائے کسی فرشتہ کو نبی بنانا چاہیے تھا۔ ان کے مقابلہ میں یہودی عصبیت میں آکر یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی شخص کو رسول منتخب نہیں کیا۔ بس موسیٰ (علیہ السلام) ہی آخری رسول اور نبی ہیں۔ اسی بنا پر انھوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے وہ نبی رحمت ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں بشر پر نبوت نازل نہیں کی۔ یہ سوچنا اور کہنا اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔ اس ناقدری، عصبیت اور ہٹ دھرمی پر سوال کیا گیا ہے کہ وہ کونسی ہستی ہے جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل کی جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا سرچشمہ تھی۔ جسے تم نے مختلف اوراق میں تبدیل کردیا ہے کچھ حصہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہو جبکہ کثیر حصہ تم نے لوگوں سے چھپالیا ہے جسے بہت کم لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہو حالانکہ اس کتاب میں تمہیں اس تعلیم سے آراستہ کیا گیا جس سے تم اور تمہارے آباو اجداد بیخبر تھے۔ اس سوال میں یہ استفسار بھی موجود ہے کہ بتاؤ موسیٰ بشر نہیں تھے۔ تورات کو مختلف اوراق میں تبدیل کرنے کا یہ بھی مفہوم ہے کہ انھوں نے ذاتی اور گروہی مفادات کے پیش نظر اس کے حصے، بخرے کردیئے تھے۔ جن کو موقع محل کے مطابق لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔ اگر مجبوراً کہیں اصل مسئلہ بیان کرنا پڑتا تو اس کی ایسی تاویل کرتے کہ جس کا تورات کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح جب چاہتے تورات کے احکام کی من مرضی تاویل کردیتے۔ اس صورت حال پر نبی ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ ایسے ناعاقبت اندیش اور ناہنجار لوگوں پر اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
اس کتاب کا حق چھپانا :
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ الْیَہُودَ جَاءُ وا إِلَی رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرُوا لَہُ أَنَّ رَجُلًا مِنْہُمْ وَامْرَأَۃً زَنَیَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَا تَجِدُونَ فِی التَّوْرَاۃِ فِی شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُہُمْ وَیُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ ؓ کَذَبْتُمْ إِنَّ فیہَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بالتَّوْرَاۃِ فَنَشَرُوہَا فَوَضَعَ أَحَدُہُمْ یَدَہُ عَلٰی آیَۃِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَہَا وَمَا بَعْدَہَا فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ ؓ ارْفَعْ یَدَکَ فَرَفَعَ یَدَہُ فَإِذَا فیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ یَا مُحَمَّدُ فیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِہِمَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَرَأَیْتُ الرَّجُلَ یَجْنَأُ عَلَی الْمَرْأَۃِ یَقِیہَا الْحِجَارَۃَ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب قول اللہ تعالیٰ یعرفونہ کما یعرفون ابناۂم ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں یہود کے کچھ افراد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے رسول محترم ﷺ نے فرمایا رجم کے بارے میں تم تورات میں کیا پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا انہیں ذلیل ورسوا کرتے ہوئے پیٹا جائے گا۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا تم لوگ جھوٹ بولتے ہو اس میں تو رجم کا حکم ہے۔ وہ تورات لے کر آئے تو انہوں نے اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھا تو اس نے ان حروف سے پہلے اور بعد کی عبارت پڑھی۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا اس سے ہاتھ اٹھا ئیے۔ اس نے اپنا ہاتھاٹھا یا تو اس جگہ رجم کی آیت تھی تو انہوں نے کہا اے محمد ﷺ تو سچا ہے اس میں رجم کے متعلق آیت ہے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ مرد عورت پر جھک کر اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید کا انکار کرنے والے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرتے ہیں۔
2۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں کے ذریعے تعلیم دی۔
3۔ تمام الہامی کتابوں کو نازل کرنے والا ایک اللہ ہی ہے۔
Ayah 6:92فہم القرآن
ربط کلام : تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید مبارک کتاب ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے جو پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتی ہے۔
یہودی عصبیت کی بنا پر نبی ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن تورات سمیت آسمانی کتابوں کی تصدیق اور تائید کرتا ہے اور لوگوں کے لیے باعث برکت ہے۔ قرآن مجید کتب آسمانی کی تائید و تصدیق کرنے کے ساتھ نہایت ہی مبارک کتاب ہے۔ کائنات کے انسانوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشنی کا سرچشمہ اور حکمت و دانش کا مہرتاباں ہے اگر یہود ہٹ دھرمی کی بنا پر مسلسل انکار کر رہے ہیں تو اے رسول ان پر صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے آپ اہل مکہ اور اس کے چاروں طرف بسنے والے لوگوں کو ڈرائیں اور سمجھائیں اور ان مسلمانوں کو جو آخرت کے حساب و کتاب پر یقین رکھتے اور پنجگانہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس آیت میں مکہ معظمہ کو ام القریٰ کا درجہ دیا گیا ہے ام القریٰ کا معنی ہے ” بستیوں کی ماں۔ “ سورة آل عمران کی آیت 96 سے اشارہ ملتا ہے کہ یہی مبارک بستی ہے جو سب سے پہلے دنیا میں معرض وجود میں آئی حدیث میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ زمین کے پیدا ہونے سے پہلے آسمان کے نیچے پانی ہی پانی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو صفحۂ ہستی پر آنے کا حکم دیا۔ سب سے پہلے زمین کا جو حصہ ظہور پذیر ہوا۔ وہ مکہ معظمہ کی سرزمین تھی اس اعتبار سے بھی مکہ ام القریٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں آخری نبی کی بعثت کی دعا کی تھی اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ تبلیغ کا نیٹ ورک ایسا ہونا چاہیے جس میں ایک مبلغ اپنے نفس کے بعد اپنے اعزاء و اقرباء، اڑوس پڑوس اور اپنے ہم وطنوں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائے۔ یہ حقوق انسانی اور فطری تقسیم کے عین مطابق ہے پھر تبلیغ کے سلسلہ میں ان لوگوں پر خاص توجہ دے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو منوانا دوسروں کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ آخرت پر یقین رکھنے والے ہی نماز کی حفاظت کا التزام کرتے تھے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب کا مؤثر ذریعہ ہے اور نماز اس بات کا احساس دلاتی ہے جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرنے کے بعد اس کی بارگاہ میں عاجز اور سرافگندہ ہو کر کھڑے ہوں گے۔
قرآن مجید کے نفاذ کی برکات :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ حَدٌّ یُعْمَلُ بِہٖ فِی الْأَرْضِ خَیْرٌ لِأَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا أَرْبَعِینَ صَبَاحًا) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الحدود، باب اقامۃ الحد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ حد کو زمین پر نافذ کرنا اہل زمین کے لیے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ “
قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب :
(عن عَبْد اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ ؓ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہُ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا لَا أَقُول الم حَرْفٌ وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیمٌ حَرْفٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القران ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے دس نیکیوں کے برابر ثواب ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل دوسرا حرف ہے اور میم تیسرا حرف ہے۔ “
تبلیغ کی ترتیب :
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِءْتُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الأقربین ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ رسول معظم ﷺ نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! مجھ سے مانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ “
نماز کی فرضیت اور فضیلت :
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَ رَمَضَانُ اِلٰی رَمْضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَاءِرُ )[ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس ]
” ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان درمیانی مدّت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ 2۔ قرآن مجید بابرکت کتاب ہے۔ 3۔ قرآن مجید پہلے انبیاء و رسل کی تصدیق کرتا ہے۔
4۔ مکہ مکرمہ دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا۔ 5۔ قرآن مجید کے ماننے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayah 6:93فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی آیات کا انکار کرنا، یا یہ نبوت کا دعویٰ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا بھی وحی یا کتاب نازل کرسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔
رسول محترم ﷺ کے مخالف آپ پر صرف یہ الزام ہی نہیں لگاتے تھے کہ آپ پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ بلکہ ان میں ایسے بدبخت بھی تھے جو یہ دعویٰ کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے کہ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو یہ لاف زنی کرتے کہ عنقریب ہم بھی ایسی کتاب لانے والے ہیں اس ضمن میں مفسرین نے مسیلمہ کذّاب اور عبداللہ بن ابی سرحہ کا ذکر کیا ہے مسیلمہ کذّاب کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں اس کے ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا اور عبداللہ بن ابی سرحہ نے یا وہ گوئی پر معذرت کی اور خالص توبہ کی اور فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ جہاں تک کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں بھی قرآن مجید جیسی کتاب لاسکتا ہوں تو ایسے لوگوں کو قرآن مجید نے ایک دفعہ نہیں بلکہ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے چیلنج دیا ہے اور یہ چیلنج کسی ایک فرد یا خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ روئے زمین کے ہر زمانے کے لوگوں کے لیے ہے۔ کہ کوئی ایک سورة اس جیسی بنا کر پیش کرے۔ تفصیل کے لیے سورة البقرۃ آیت 33 اور 24 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں وہاں قرآن مجید کے مقابلہ میں کوئی ایک سورة لانے کا چیلنج کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ تم سب مل کر بھی اس جیسی سورة نہیں لاسکتے۔ جب تم ایسا نہیں کرسکتے پھر تمہیں جہنم کی اس آگ سے بچنا اور ڈرنا چاہیے جس میں باغی انسان اور پتھرپھینکے جائیں گے۔ یہ سزا مرنے کے بعد ہوگی اور موت کے وقت ان کو یہ سزا دی جائے گی کہ ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ اور ان کی کمروں پر ہتھوڑے مارتے ہوئے کہیں گے کہ اپنی جان نکال کر ہمارے حوالے کرو۔ بدن سے روح نکالنا اور داخل کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے جب اپنی روح نہیں نکال سکیں گے تو انھیں اذیت ناک تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملائکہ اذیت دیتے ہوئے کہیں گے کہ آج اس عذاب کا مزا چکھو۔ یہ سزا موت کے وقت ہوگی اور مرنے کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ملائکہ انھیں مزید ذلیل کرنے کے لیے کہیں گے کہ اب ذلّت ناک عذاب جھیلتے رہو کیونکہ تم تکبر کی و جہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرتے اور اس کی ذات کے بارے میں حقیقت کے خلاف باتیں کرتے تھے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ پر افترابازی کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔
2۔ نبوت کا جھوٹادعویٰ کرنے والا بہت بڑا ظالم ہوتا ہے۔
3۔ فاسق لوگوں کو موت کے وقت ہی سزا شروع ہوجاتی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ خود ساختہ باتیں لگانے والوں کو ذلت آمیز عذاب ہوگا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو کم تر سمجھنے والوں کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔