6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفہم القرآن

Ayahs 6:138–140

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

” اور انہوں نے کہا یہ چوپائے اور کھیتی منع ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق جسے ہم چاہیں اس کے سوا کوئی نہیں کھائے گا اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام کی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ عنقریب اللہ انہیں اس کی سزا دے گا جو وہ جھوٹ بناتے تھے۔ (138)

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری بیویوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب وہ انہیں ان کے کہے کی سزا دے گا بیشک وہ کمال حکمت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ (139)

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

” بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنی اولاد کو حماقت اور بےعلمی سے قتل کیا اور اللہ نے انہیں جو کچھ دیا تھا اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام ٹھہرالیا۔ یقیناً گمراہ ہوگئے اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔ “ (140)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔ 1۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ 2۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔ 3۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا کھانا مردوں کے لیے حلال تھا۔ اگر بچہ مردہ ہوتا تو اس کے کھانے میں مرد و زن شریک ہوجاتے تھے۔ مالی عبادات میں مشرکوں کے شرک و رسومات کی تفصیل کے ضمن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شرک میں اس قدر آگے بڑھ چکے تھے کہ جو جانور غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے انھیں ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا خود ساختہ شریعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور غیر اللہ کے نام وقف کیے ہوئے جانور اور کھیتوں کو مجاورین کا اپنے نام مخصوص کرلینا، ایسے جانوروں پر سواری نہ کرنا، زندہ پیدا ہونے والے بچے پر مردوں کی ملکیت سمجھنا اگر مردہ پیدا ہو تو اس میں مرد و زن کی شرکت جائز قرار دینا، یہ ان کے من گھڑت دین کی نمایاں علامات تھیں۔ دراصل یہ دین کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی مالی کرپشن تھی جس کے نام پر انھوں نے بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں اور مذہب کے نام پر عوام کا استحاصل کیا۔ جس کی مثالیں مسلمانوں سمیت ہر مذہب کے نام نہاد دینی رہنماؤں میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے پہلی آیت کے آخر میں انھیں وارننگ دی گئی کہ عنقریب انھیں اس مکر و فریب اور گھناؤنے دھندے کی سزا دی جائے گی، آیت : 138 کے آخر میں فرمایا یہ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لوگوں کے سامنے من گھڑت شریعت پیش کرتے ہیں انھیں اسی پر چھوڑ دیجیے۔ بہت جلد انھیں اس جرم کی سزا مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزائم اور کردار کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کے تحت انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ ان لوگوں کا بغیر کسی جواز کے محض حماقت کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اللہ ہی کے ذمہ لگا کر حرام قرار دینا انتہا درجے کی گمراہی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں وہ ہدایت نہیں پایا کرتے۔ (عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ سُءِلَ عَلِیٌّ ؓ أَخَصَّکُمْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ بِشَیْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ بِشَیْءٍ لَمْ یَعُمَّ بِہِ النَّاسَ کَافَّۃً إِلَّا مَا کَانَ فِی قِرَابِ سَیْفِی ہٰذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِیفَۃً مَکْتُوبٌ فیہَا لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَہٗ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا) [ رواہ مسلم : کتاب الأضاحی، باب تحریم الذبح لغیر اللہ ] ” حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں حضرت علی ؓ سے پوچھا گیا کیا رسول معظم ﷺ نے آپ کو کسی بات کے ساتھ خاص کیا تھا حضرت علی ؓ نے فرمایا رسول معظم ﷺ نے مجھے عام لوگوں سے ہٹ کر کوئی خاص بات نہیں کہی مگر یہ میری تلوار کی میان میں جو ہے پھر انھوں نے میان میں سے کاغذ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے جو چوری کرتا ہے اور اللہ اس پر لعنت کرے جو اپنے والد کو لعن طعن کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔ “ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِذَا خَطَبَ ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ ] ” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ جب بھی خطبہ ارشاد فرماتے تو کہا کرتے۔۔ اما بعد بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت کا راستہ محمد ﷺ کا ہے اور برے کاموں میں سے بدعات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “ مسائل 1۔ مشرکین جانوروں کے بارے میں من گھڑت باتیں منسوب کیا کرتے تھے۔ 2۔ حلال و حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ 3۔ اولاد کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والے کبھی ہدایت نہیں پاسکتے۔ تفسیر بالقرآن گمراہ لوگ : 1۔ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران : 164، الجمعۃ : 2) 2۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (الاحزاب : 36) 3۔ بہت بڑا ظالم ہے وہ شخص جو اللہ پر جھوٹ باندھے بغیر علم کے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ (الانعام : 144) 4۔ کفار اللہ کے راستہ سے روکنے والے اور خوددور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : 167) 5۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور آخرت کے دن کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 136) 6۔ اللہ کے سوا غیروں کو پکارنے والے گمراہ ہیں۔ (الاحقاف : 5)
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

” اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھاؤ جب پھل لائے اور اس کے کاٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور حد سے نہ گزرو یقیناً اللہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ “ (141)

فہم القرآن ربط کلام : جن کھیتوں میں مشرک غیر اللہ کا حصہ مقرر کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی پیدا کرنے، اگانے اور پکانے والا ہے۔ زیتون : Olive (انگریزی، فرانسیسی، جرمن ) Oliva (روسی، لاطینی ) زیتون ( عربی، فارسی، ہندی، اردو، پنجابی) zayit , Zaith ( عبرانی) نباتاتی نام : Ole ae uropae a Linn. قرآنی آیات بسلسلہ زیتون : 1۔ سورة الانعام آیت : 100 2۔ سورة الانعام آیت : 142 3۔ سورة النحل آیت : 11 4۔ سورة المومنون آیت : 20 4۔ سورة التین آیت :2 زیتون کا ذکر قرآن پاک میں اس کے نام سے چھ بار آیا ہے اور ایک مرتبہ سورة المومنون، آیت : 20 اس کی جانب یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے طور سینا کے اطراف ایک ایسا درخت پیدا کیا ہے جس میں ایسا تیل ہوتا ہے جو سالن کے کام آتا ہے۔ زیتون کا نباتاتی نام (Oleaeuropaea) ہے۔ یہ ایک چھوٹا درخت ہے جس کی اونچائی اوسطاً 25 فٹ ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار قلم لگا کر ہوتی ہے کیونکہ بغیر قلم لگائے ہوئے پودے اچھے پھل نہیں دیتے ہیں۔ اس کے کچے پھل چٹنی اور اچار کے کام میں لائے جاتے ہیں، جبکہ پکے ہوئے پھل انتہائی شیریں اور لذیذ ہوتے ہیں۔ یہ بیضاوی شکل کے 2 سے 3 سنٹی میٹر لمبے ہوتے ہیں ان کے گودے میں پندرہ سے چالیس فیصد تک تیل ہوتا ہے جو اپنی خصوصیات اور صاف و شفاف ہونے میں بےمثال مانا جاتا ہے۔ دل کے امراض میں زیتون کا تیل سود مند ثابت ہوتا ہے۔ زیتون کا اصل وطن فلسطین اور شام کا وہ علاقہ ہے جو فینی شیا (Phoenicia) کہلاتا ہے۔ یہیں اس کی کاشت تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح شروع کی گئی اور اسی خطہ سے یہ پودہ مغرب اور مشرق کے ممالک میں لے جایا گیا۔ زیتون کی وطنیت (Nativity) کا حوالہ قرآن کریم کی سورة النور کی آیت 35 میں دیا گیا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے ” ایک مفید درخت زیتون ہے جو نہ پورب کا ہے نہ پچھم کا۔ “ زیتون کے باغات جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور عرب کے کئی ممالک میں ملتے ہیں، لیکن اسپین اور اٹلی زیتون کے پھل اور تیل پیدا کرنے میں سرفہرست ہیں۔ روغن زیتون کی عالمی پیداوار تین ملین میٹرک ٹن سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ روغن زیتون چراغ کی روشنی کے لیے زمانہ قدیم سے بڑا مشہور اور بڑا اہم رہا ہے۔ عمدہ قسم کا تیل نہایت شفاف ہوتا ہے۔ اسے اگر کسی صاف برتن یا گلاس یا گلاس کی قندیل میں رکھ دیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا کہ کوئی شے ہے جو خود ہی روشن ہے اور اگر اس سے چراغ جلایا جائے تو ایسا لگے گا کہ گویا نور سے نور نکل رہا ہے۔ اسی حقیقت کی منظر کشی سورة النور آیت 35 میں کی گئی ہے اور روغن زیتون سے روشن قندیل کی روشنی کو ” نور علی نور “ کہا گیا ہے۔ انار قرآنی نام : رُمَّانٌ دیگر نام : Pomegranate (انگریزی) Granade (فرانسیسی) Granat ( روسی) Granatapfel ( جرمن) Punicum (لاطینی) Me lagrana ( اطالوی) Rimmon (عبرانی) Granada (ہسپانوی) Roa (یونانی) (سنسکرت) تیلگو داون (کشمیری) رمان (عربی) انار (فارسی، اردو، ہندی، پنجابی) نباتاتی نام : Punica granatum linn.(Family:punicaceae) قرآنی آیات بسلسلہ انار : (1) سورة الانعام آیت :100 (2) سورة الانعام آیت : 142 (3) سورة الرحمن آیت : 68, 69 انار کا ذکر ’ رمان ‘ کے نام سے قرآن حکیم میں تین بار آیا ہے اور تینوں بار انسان کو اہم نصیحتیں کی گئی ہیں۔ مثلاً سورة الانعام کی آیت :142 میں حکم ہوا کہ کھجور، زیتون اور انار وغیرہ کی جب فصلیں کاٹی جائیں تو فوراً اس میں سے ایک حصہ حقدار کو دے دیا جائے اس طرح اشارہ کیا گیا قدرت کی نعمتیں عام انسانوں کے لیے بھی ہیں جو لوگ باغ کے پھلوں کو اور کھیت کی پیداوار کو اپنے لیے مخصوص رکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ناپسند یدہ انسان ہیں۔ قرآن کا یہ ارشاد سماج میں اجارہ داری اور سرمایہ داری کو نامناسب قرار دیتا ہے۔ نباتاتی سائنس کی رو سے انار کا نام Pumigranatum ہے۔ انار کے دانوں کا رس ایک ہلکی اور فرحت انگیز غذا ہے جو دل کے امراض میں بہت سود مند ہے میٹھا انار قبض کشا ہوتا ہے جبکہ تھوڑی سی کھٹاس والے انار کے دانے معدہ کے ورم اور دل کے لیے لا جواب دوا اور ٹانک ہیں ان دانوں سے تیار کیا گیا شربت Dyspepsia جیسے معدہ کی روگوں کو فائدہ دیتا ہے۔ اسہال یا پیچش میں مبتلا مریضوں کے لیے پچاس گرام انار کا رس ایک بہترین علاج بھی ہے اور کمزوری رفع کرنے کا طریقہ بھی۔ قلت خون، یرقان، بلڈ پریشر، بواسیر اور ہڈیوں وجوڑوں کے درد میں انار کے طبی فوائد طب یونانی آیورویدک اور ایلو پیتھی میں بھی تسلیم کیے گئے ہیں۔ شہد کے ساتھ انار رس Biliousness میں کمی لاتا ہے۔ انار کا پھل دل و دماغ کو فرحت اور تازگی بخشتا ہے۔ انار کی جڑ کی چھال ایک ایسی بےمثال دوا ہے جسے پانی میں ابال کر مریض کو پلانے سے Tape worm سمیت پیٹ کے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے اس کا ابلا ہوا پانی ٹی بی اور پرانے بخار کو ختم کرنے میں موثر ثابت ہوا ہے۔ مزید براں ملیریا کے بعد کی کمزوری کو بھی دور کرتا ہے۔ بعض نسوانی امراض میں انار کی جڑ کی چھال کا استعمال ایک حتمی علاج سمجھا جاتا ہے۔ انار کے پھولوں سے ایک لال رنگ حاصل کیا جاتا ہے جو غذائی اشیاء میں استعمال ہوسکتا ہے انار کے پھول اسقاط حمل کو روکنے کی بھی دوا ہیں۔ انار کے پھل کا چھلکا بھی طبی اہمیت کا حامل ہے۔ دودھ میں چھلکا ابال کر پلانے سے پرانی پیچش کے مریض کو فوراً افاقہ ہوتا ہے۔ یہ چھلکا تجارتی طور پر بھی بڑے کام کی چیز ہے کیونکہ اس میں بیس فیصد سے زیادہ ؓ annin ہوتا ہے اس لیے کچے چمڑے کو پکانے کے لیے ان چھلکوں کا استعمال بڑے پیمانے پر افریقہ کے کچھ ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ مراکش اور اسپین کا جو چمڑا کسی زمانے میں بہت مشہور تھا اس کی ؓ anning انار کے چھلکوں سے کی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ نعمتوں میں انار بھی ایک بڑی نعمت ہے جس کی بابت خدائے برتر فرماتا ہے : (فِیہِمَا فَاکِہَۃٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ فَبِأَیِّ آَلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ )[ الرحمٰن : 68] ” ان دونوں میں میوے ہوں گے اور کھجور اور انار۔ تم اپنے پرور دگا رکی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی مختلف انواع و اقسام کے درخت اگاتا ہے۔ 2۔ پھلوں کے علیحدہ رنگ و مختلف ذائقے ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ 3۔ فصل کاٹتے وقت اس کا حق ادا کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayahs 6:142–144

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

” اور چوپاؤں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے ہیں۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ (142)

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

”(پیدا کیے) آٹھ قسموں کے جوڑے، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ۔ فرمائیں کیا اس نے دونوں نرحرام کیے یا دونوں مادہ ؟ یا وہ بچہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہوئے ہوں ؟ مجھے علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔ “ (143)

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

” اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو ، فرمائیں کیا اس نے دونوں نرحرام کیے ہیں یا دونوں مادہ ؟ یا وہ بچہ جس کو دونوں مادائیں پیٹ میں لیے ہوئے ہوں ؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس کی وصیت کی تھی ؟ پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ لوگوں کو علم کے بغیر گمراہ کرے۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (144)

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ جس طرح من ساختہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی فصلوں میں اللہ کے سوا دو سروں کا حصہ مقرر کرتے تھے۔ اسی باطل اصول کی بنیاد پر انھوں نے جانوروں کے بارے میں بھی یہ اصول بنالیا تھا کہ فلاں مردوں کے لیے جائز ہے اور فلاں جانور صرف عورتوں کو کھانے کی اجازت ہوگی۔ شریعت نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کا۔ رسول اکرم ﷺ بھی اسی چیز کو حلال اور حرام قرار دینے کے پابند ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کرنے کا حکم دیا ہو۔ بصورت دیگر کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال و حرام کے ضابطے بنائے اور ان کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے۔ سورة التحریم کی پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اسی اصول کی وضاحت فرمائی کہ اے نبی ﷺ آپ کو کسی طرح بھی یہ اختیار نہیں کہ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیں۔ یہاں ” حمولہ “ سے مراد وہ جانور ہیں جو سواری، باربرداری اور کاشتکاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے اور خچر۔” الفرش “ کا لفظ استعمال فرما کر ان جانوروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کھیتی باڑی، سواری اور بار برداری کی بجائے انسان کی دوسری ضروریات پورا کرتے ہیں۔ بھیڑ، بکری اور مرغ وغیرہ جس میں گوشت، انڈے، زیبائش اور میڈیکل کی ضروریات یہاں تک کہ ان کی کھال اور ہڈیوں سے بیشمار چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ یہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا رزق ہے انھیں کھاؤ اور استعمال کرو لیکن شیطان کی پیروی کرنے سے بچو۔ کیونکہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ یہ شیطان کی کارستانی اور اس کی پیروی کا نتیجہ ہے کہ لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے ان پر غیر اللہ کا نام لیتے اور انھیں بتوں اور مزارات کی نذر کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پرلے درجے کی ناشکری اور اس کی بغاوت کے مترادف ہے۔ اہل مکہ نے اپنے من ساختہ اصولوں کے مطابق کسی جانور کا مادہ اور کسی کا نر حرام ٹھہرا لیا تھا۔ جیسا کہ اسی سورة کی آیت ، 139, 138 میں ان کا عقیدہ بیان ہوا ہے کہ جس جانور یا کھیتی کو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے ان کے بارے میں یہ اصول کار فرما تھا کہ اس میں جو بچہ پیدا ہو وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال اور ہماری عورتوں کے لیے اس کا کھانا ہرگز جائز نہیں اگر اونٹنی اور گائے وغیرہ سے پیدا ہونے والا بچہ مردہ ہو تو اس کو مرد اور عورتیں کھا سکتی ہیں۔ یہاں بھیڑ، بکری کے چار جوڑوں کا ذکر کرنے کے بعد مشرکین سے استفسار فرمایا کہ اگر تمہارے بےہودہ اصول اور باطل عقیدہ کی کوئی ٹھوس دلیل ہے تو اس کی علمی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے من ساختہ حرام و حلال کے نظریہ میں سچے ہو۔ علم سے مراد وحی کا علم ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے من گھڑت اصولوں کی کسی بھی شریعت سے تائید نہیں ہوتی گویا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول پر یہ حکم نازل نہیں کیا کہ جس میں یہ ہو کہ فلاں جانور کا مادہ حلال ہے اور اس کا نرحرام ! بھیڑ اور بکری کے جوڑوں کے بعد اونٹ اور گائے کے چار جوڑوں کا ذکر فرما کر سوال کیا ہے ان کے نر یعنی مذکر حرام ہیں یا ان کے مادے ؟ یا ان کے بچے جو ان کی مؤنث کے پیٹ میں ہوتے ہیں۔ اگر تم اپنے نقطہ نظر میں سچے ہو تو بتاؤ کہ کیا جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جائز اور ناجائز کا حکم دیا تھا تو تم میں سے کوئی اس وقت موجود تھا۔ حرام و حلال کے یہ اصول دراصل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان ہیں۔ یاد رکھو وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو اپنے جھوٹ کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے تاکہ اس جہالت کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کرے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے انھیں کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ مسائل 1۔ ہر طرح کے جانوروں کو پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا عنایت کیا پاکیزہ اور حلال رزق کھانا چاہیے۔ 3۔ شیطان تمام لوگوں کا واضح دشمن ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو حلال کو حرام اور حلال کو حرام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگا کر لوگ ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
Ayahs 6:145–147

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

” فرمادیں ! جو وحی میری طرف کی گئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتاج سے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کہ بیشک وہ گندگی ہے یا نافرمانی ہو جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ جو مجبور کردیا جائے اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو بیشک آپ کا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (145)

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

” اور جو لوگ یہودی بن گئے ان پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کردیا اور گائیوں اور بکریوں میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربی حرام کردی سوائے اس کے جو ان کی پشتیں یا انتڑیاں اٹھائے ہوں یا جو ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ ہم نے انہیں ان کی سرکشی کی سزادی تھی یقیناً ہم سچے ہیں۔ (146)

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر وہ آپ کو جھٹلائیں آپ فرما دیں کہ تمہارا رب بڑی رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں سے ہٹایا نہیں جاتا۔ “ (147)

فہم القرآن ربط کلام : حرام و حلال کے عقلی، شرعی اور توحید کے دلائل دینے کے بعد نبی اکرم ﷺ کو وضاحت کے لیے مزید کہا جارہا ہے۔ اہل مکہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ جس کی سابقہ آیات میں نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خود ساختہ شریعت کی وجہ سے اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے وہ گمراہ ہوئے۔ پھر نباتات اور حیوانات کے حوالے سے توحید کے دلائل دیے جس میں یہ ثابت کیا گیا ان کے خالق کے علاوہ کسی کو حرام و حلال کے تعین کرنے کا حق نہیں۔ کفار نے من مرضی سے قانون بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کردہ ہیں۔ اس کے ان کے پاس شرعی دلائل نہ تھے۔ کیونکہ کسی شریعت میں حرام و حلال کی یہ فہرست نازل نہیں ہوئی کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ کھانے پینے کی فلاں چیز مرد کے لیے جائز اور عورت کے لیے حرام ہے اور فلاں چیز عورت کے لیے حلال ہے لیکن مرد کے لیے حرام ہے۔ یہ ایسی تقسیم ہے جس کے بارے میں خوامخواہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا سبب ہے کہ فلاں کھانے کی چیز شرعی طور پر مرد کے لیے جائز ہے اور عورت کے لیے حرام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لباس اور زیورات کے بارے میں مرد و زن میں شریعت نے فرق قائم کیا ہے لیکن خوردو نوش کے سلسلہ میں حرام و حلال کے اصول سب کے لیے برابر ہیں۔ اس لیے ان کے پاس اپنی بنائی ہوئی شریعت کا کوئی عقلی ثبوت نہیں تھا۔ اور نہ ہی اس تقسیم کا کوئی ثبوت پہلی شریعتوں میں پایا جاتا ہے کہ کھیتی کا اتنا حصہ غیر اللہ کے نام وقف کیا جائے اور اگر اس وقف میں کسی وجہ سے نقصان ہو تو وہ فی سبیل اللہ کے کھاتہ سے پورا کرلیا جائے۔ اس کے برعکس تمام شریعتوں میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی غیر اللہ کے نام دینا شرک ہے۔ چونکہ ان کے پاس عقلی و نقلی دلائل نہیں تھے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ ان کو بتلائیں کہ وحی تمہارے پاس نہیں میرے پاس آتی ہے اور اس وحی میں کھانے والے پر کوئی چیز کھانا حرام نہیں سوائے مردار، بہنے والے خون، خنزیر کے گوشت کے کیونکہ وہ پلید اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح وہ چیز بھی حرام ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔ یہ چیزیں اس شخص کے لیے حلال ہوں گی جسے کھانے کے لیے کوئی چیز میسر نہ ہو اور اسے اپنی موت واقع ہونے کا خطرہ لاحق ہوجائے۔ اور یہ شخص عام حالات میں حرام و حلال کی تمیز کرنے والا ہو۔ ایسی صورت میں حرام کھانے والے کو اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ بعض لوگ اس آیت میں لفظاِلاَّسے غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا چیزوں کے سوا باقی تمام چیزیں حلال ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے لفظ الاَّ حصر کے لیے آتا ہے جس کا معنی ہے کہ صرف یہی چیزیں حرام ہیں جس بنا پر وہ غلط استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان چیزوں کے علاوہ کھانے پینے کی باقی چیزوں پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ حالانکہ قرآن مجید میں شراب حرام کی گئی جو پینے کی چیز ہے کھانے کے سلسلہ میں مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوئی چیز کے ساتھ وہ جانور جو گلا گھٹ کر، چوٹ کھا کر بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مرگیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ [ المائدۃ : 3] ان کا استدلال اس لیے بھی غلط ہے کہ یہاں ان چار چیزوں کی حرمت کے فوراً بعد تورات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہودیوں پر ناخن والے جانور حرام کرنے کے ساتھ، بکری اور گائے کی چربی بھی حرام کی گئی تھی سوائے اس کے جو جانور کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہوسکتی تھی یہ چربی اس لیے ان پر حرام کی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ آخر میں کفار کے بوسیدہ دلائل کا یہ کہہ کر جواب دیا گیا ہے کہ حلال و حرام کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں اس میں وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق جو فہرست مرحمت فرمائی ہے وہ سراسر سچ ہے۔ اگر ٹھوس دلائل کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کی گرفت نہیں ہو رہی تو انھیں فرمائیں چونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ظرف اور اس کی رحمت بےکنار ہے اس لیے وہ تمہیں مہلت دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھو جب اس کا عذاب نازل ہوگا تو اس سے مجرم کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ قارئین کی سہولت کے لیے ہم جلد اول کی پوری پوری عبارت درج کرتے ہیں۔ جو سورة البقرۃ 173 میں ان چار چیزوں کے حرام ہونے کے بارے میں پیش کی گئی ہے۔ (1) مردار : ہر قسم کے مردار کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے دو چیزوں کے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے : (اُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ اَلْحُوْتُ وَالْجَرَادُ ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الصید، باب صید الحیتان والجراد ] ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔ “ (2) خون : نزول قرآن کے وقت وحشی قبائل نہ صرف مردار کھایا کرتے بلکہ وہ جانوروں کا خون بھی پی جایا کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کئی وحشی قبائل جانوروں کا ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی خون پینے سے گریز نہیں کرتے۔ جدید تحقیق کے مطابق خون میں کئی ایسے جراثیم ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مردہ یا زندہ جانور کا خون پینے سے منع فرما دیا ہے البتہ کسی کی زندگی بچانے کے لیے خون کا طبی استعمال جائز ہے۔ (3) خنزیر : خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اس کے بارے میں جدید اور قدیم اطباء کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان کے جسم میں نہ صرف مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ آدمی میں بےحیائی اور بےشرمی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر جانوروں میں سب سے زیادہ بےغیرت جانور ہے۔ کوئی بھی جانور اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ اختلاط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا سوائے خنزیر کے۔ اس کی طبیعت میں اس کام میں کوئی جھجک نہیں پائی جاتی۔ (4) غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ : غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوئی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ اس سے روح، غیرت اور ایمان کی موت واقع ہوتی ہے۔ ایک غیرت مند ایمان دار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرائے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت ہی مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عََلٰی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب ماذبح علی النصب والأصنام ] ” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم ﷺ کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم ﷺ کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسکے ساتھ ہی جناب زید نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ ان جیسی کوئی اور چیز کھاتا ہوں۔ سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ “ مزارات اور بت خانوں پر ذبح کرنا حرام ہے : (عَنْ ثَابِتِ ابْنِ الضَّحَاکِ ؓ قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ إِنِّيْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فِإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ أبوداؤد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر ] ” ثابت بن ضحاک ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم تو دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی جارہی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما “ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی فوت شدہ بزرگ ‘ دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی پاک دامن کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ اگر کوئی چیز جو فی نفسہٖ حلال ہو اور اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی وہ چیز حرام ہوجائے گی۔ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر ونیاز صرف اللہ کے نام کی ہونا چاہیے اس میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ حرام جانور کی نشانی : (عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ نَہٰی عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِی نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب أکل کل ذی ناب من السباع ] ” حضرت ابو ثعلبہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے ہر کچلی والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید میں مردار، خون، خنزیر کا گوشت، غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کے ساتھ اور چیزیں بھی حرام ہیں۔ 2۔ حرام چیزوں کا کھانا انتہائی مجبور شخص کے لیے جائز ہے۔ لیکن دوسرے کے لیے حرام ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ 4۔ یہودیوں کی بار بار نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کردی گئی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی بےکنار ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں : 1۔ تم پر اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔ (البقرۃ : 173) 2۔ سودی کاروبار حرام اور لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانا حرام ہے۔ (النساء : 160، البقرۃ : 275) 3۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہر اور پوشیدہ برائی حرام کردی ہے۔ (الاعراف : 33) 4۔ کسی جان کا بغیر حق کے قتل کرنا حرام ہے۔ (الاسراء : 33) 5۔ یہود پر جانوروں کی چربی حرام کردی گئی۔ (الانعام : 146) رحمت خداوندی کی وسعتیں : 1۔ مصائب پر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت و بخشش۔ (البقرۃ : 156) 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ﷺ لوگوں کے لیے نرم دل ہیں۔ (آل عمران : 159) 3۔ آپ ﷺ کا رب غنی صاحب رحمت ہے۔ (الانعام : 133) 4۔ قرآن مومنین کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (الاسراء : 82) 5۔ اللہ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔ (الاعراف : 156) 6۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔ (الدھر : 31) 7۔ لوگوں کو اللہ کی رحمت اور فضل پر خوش ہونا چاہیے۔ (یونس : 58) 8۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا ہے۔ (الانبیاء : 86)
Ayahs 6:148–150

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

” جن لوگوں نے شرک کیا عنقریب کہیں گے کہ اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ فرمائیں کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے اسے ہمارے سامنے پیش کرو، تم تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کر رہے اور تم صرف اٹکل پچولگاتے ہو۔ (148

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

فرمادیں اللہ کی دلیل کامل ہے اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ “ (149)

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

” فرمائیں اپنے گواہ لاؤ جو شہادت دیں کہ واقعی اللہ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں، پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو آپ ان کے ساتھ شہادت نہ دیں اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے مت چلیں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ “ (150)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور اللہ کے نافرمان لوگوں کے خود ساختہ بہانے۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گناہ کو چھوڑنے کے بجائے اس کا جواز اور بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ جس کے لیے یہ لوگ جھوٹے دلائل دینے کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ عادت ہر دور کے مشرک اور نافرمانوں کی رہی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ حرام و حلال کے متعلق عقلی اور نقلی دلائل نہ رکھنے والے لوگ عنقریب یہ دلیل دیں گے کہ اگر واقعی اللہ تعالیٰ شرک اور حرام خوری کو ناپسند کرتا تو پھر ہم اور ہمارے آباؤ اجداد شرک کرنے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کی کس طرح جرأت کرسکتے تھے ؟ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا یہاں تک کہ انھیں اللہ کے عذاب نے آلیا۔ قرآن مجید میں یہ بات کئی مقامات پر سمجھائی گئی ہے کہ کسی کو جبراً ہدایت کے راستے پر چلانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے منافی ہے۔ اس لیے یہاں ایسے لوگوں کو تفصیلی جواب دینے کے بجائے فقط اتنا ہی جواب دینا مناسب سمجھا گیا ہے کہ اسی طرح کے بہانے بنا کر تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ انھیں اللہ کے عذاب نے آلیا۔ اگر تمہارے پاس علم کی بنیاد پر کوئی دلیل ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ لیکن تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تم محض اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہوئے بےبنیاد باتیں بنا تے ہو۔ یہ کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کرسکتے لہٰذا انھیں فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کی دلیل تمہیں پہنچ چکی ہے جو عقل و فکر اور ہر اعتبار سے کا مل اور اکمل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ جبراً چاہتاتو سب لوگوں کو ہدایت پر اکٹھا کرسکتا تھا لیکن ہدایت واضح کرنے کے بعد اس نے انسان کو فیصلہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جبراً ہدایت قبول کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ اب پھر اتمام حجت کے لیے انہی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہارے پاس علم کی کوئی سند نہیں تو تم ایسے گواہ پیش کرو۔ جو علمی اور فکری دلائل سے ثابت کریں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے تمہاری حرام کردہ چیزوں کو حرام کیا اور شرک کا کوئی جواز پیش کیا ہے۔ یہاں گواہوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق اور سچ کی گواہی دینے والے ہوں۔ ظاہر ہے جس طرح ان کے پاس شرک اور حرام خوری کے لیے علمی اور شرعی دلائل نہیں اسی طرح ایسے گواہوں کا ملنا مشکل ہے جو تورات اور انجیل سے ان کی حرام خوری اور شرک کا ثبوت پیش کرسکیں۔ اسی بنا پر فرمایا کہ اگر علم و عقل سے عاری لوگ شہادت دینے کے لیے کھڑے ہوجائیں تو آپ ﷺ کو ان کے ساتھ ہرگز گواہی نہیں دینا چاہیے۔ اور ایسے لوگوں کے جذبات و خیالات کا ہرگز خیال نہیں کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب، آخرت کا انکار اور اپنے خالق ومالک کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ شرک اور حرام خوری کا انجام : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں بھی یہ کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔ “ مسائل 1۔ مشرک اور حرام خور، شرک اور حرام خوری کے لیے بہانے بناتے ہیں۔ 2۔ آدمی کو قرآن و سنت کے علم کے مقابلہ میں اپنے خیالات کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت پر گامزن نہیں کرتا۔ 4۔ جھوٹے گواہ کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا، آخرت کا انکار ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا پرلے درجے کے گناہ ہیں۔ تفسیر بالقرآن گمراہ لوگوں کی پیروی سے اجتناب : 1۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار اور مذاق اڑاتے ہیں تم ان کے ساتھ مت بیٹھو۔ (النساء : 140) 2۔ یہودی مسلمانوں کو اپنی طرح کافر بنا دینا چاہتے ہیں ان کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (النساء : 89) 3۔ آپ ﷺ کفار کی خواہشات کے پیچھے مت چلیں۔ (البقرۃ : 145) 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو کفار اور منافقین کی پیروی سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ (الاحزاب : 1)
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

” فرما دیجیے کہ آؤ میں پڑھتا ہوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ خوب احسان کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور ہر قسم کی بےحیائی کے قریب نہ جاؤ جو ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے تاکہ تم عقل کرو۔ “ (151)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین مکہ من گھڑت حلال و حرام کی فہرست کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے تھے جس کی تردید کرنے کے بعد اب وہ فہرست پیش کی جارہی ہے جس کو حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس میں اعتقادی، اخلاقی، اور معاشی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ شرک کے پیشواؤں اور یہودیوں کے رہنماؤں نے اپنی طرف سے حلال و حرام کے قواعد بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا ہوا تھا۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کی گئی ہیں۔ پہلی آیات میں ان کے جھوٹ کی قلعی کھول کر اس فہرست کو عقل و نقل کے خلاف ثابت کیا ہے پھر اس پر ان سے گواہی طلب کی گئی جب وہ ان چیزوں کی حرمت و حلت کے بارے میں گواہی دینے سے انکاری اور ان کے جواز کی دلیل دینے میں ناکام ہوئے تو آپ کو حکم ہوا کہ انھیں بلائیں اور ارشاد فرمائیں کہ وہ چیزیں حرام نہیں جنھیں تم حرام کہتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں میرے دین اور پہلی شریعتوں میں حرام قرار دی ہیں۔ 1۔ شرک : اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں غیروں کو شریک سمجھنا اور شرک کرنا ہے۔ شرک کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی۔ اس لیے اسے ظلم عظیم قرار دیا گیا جو شخص شرک کے حق میں دلیل دیتا ہے گویا کہ وہ خاکم بدہن، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا قرار دے کر اس کی ذات اور صفات میں شریک ثابت کرنے کی گھٹیا ترین کوشش کرتا ہے۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے لیے اپنی زندگیاں صرف کردیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اس کے جواز کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے شدید ترین الفاظ میں اسے ظلم اور ناجائز ثابت کر کے ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْکَبَاءِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شہادۃ الزور ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ سے استفسار کیا گیا کہ گناہ کبیرہ کون سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، بےگناہ کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ “ 2۔ والدین کی نافرمانی : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا اثبات اور شرک کی نفی کرتے ہوئے والدین کے احترام و مقام اور ان کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے۔ ہر مرتبہ والدین کی اطاعت کا حکم دے کر لفظ احسان استعمال فرمایا ہے۔ حدیث میں احسان کا لفظ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بارے میں استعمال ہوا ہے کہ عبادت گزار کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر احسان کا یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا تو کم ازکم یہ تو ضرور ہونا چاہیے کہ وہ یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ (مسلم : باب بیان الایمان والاسلام والاحسان) ” احسان “ کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی نیکی نہ بھی کرے پھر بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تمام شریعتوں میں اخلاق کے اس درجہ کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں والدین کے بارے میں یہ لفظ 5 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ جس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو والدین کی کمزور یوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کے مرتبہ و مقام اور احسانات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقام و مرتبہ کے ساتھ والدین کے مقام کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ والدین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعد انسان کی تخلیق اور پرورش کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے اور اسی تصور کو تازہ کرنے اور یاد رکھنے کے لیے یہ دعا کرنے کا حکم دیا۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب قول اللہ تعالیٰ ووصینا الانسان بوالدین احسانا ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ باتیں نبی اکرم ﷺ نے بتائیں اگر میں مزید پوچھتا تو آپ مجھے اور بھی بتاتے۔ “ 3۔ قتل اولاد : سورة الانعام کی آیت 137 کے تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا گیا ہے کہ ہمیشہ سے دنیا میں قتل اولاد چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت رہی ہے۔ 1۔ رزق کی تنگی کی وجہ سے اولاد قتل کرنا۔ 2۔ غیر اللہ کے نام پر بچوں کو قتل کرنا۔ 3۔ رشتۂ داماد کی عار سے بچنے کے لیے بیٹیوں کو قتل کرنا۔ 4۔ جنگ وجدال میں بچیوں کی گرفتاری کے خوف سے قتل کرنا۔ قتل اولاد کے جرم کے بارے میں سورة الانعام آیت 137 کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ ” زمانۂ جاہلیت کا یہ فعل قبیح آج کل ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔ “ کھلی اور پوشیدہ بےحیائی سے اجتناب کا حکم : دین اسلام اپنے ماننے والے کو صرف بےحیائی کرنے سے ہی نہیں روکتا بلکہ دین ایسے ذرائع اور مقامات کے قریب جانے سے بھی منع کرتا ہے جس سے اس کی آنکھوں میں بےحیائی، دماغ میں بری سوچ اور اس کا وجود برائی کی طرف مائل ہوجائے۔ اس کے لیے سورة بنی اسرائیل آیت 32 میں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یہ بےحیائی کے ساتھ بدترین راستہ ہے۔ سورة الانعام، آیت 120 میں حکم دیا گیا کہ گناہ کھلا ہو یا پوشیدہ اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ سورة النحل، آیت : 90 میں کھلی بےحیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں بھی یہی حکم ہوا کہ بےحیائی کھلی ہو یا پوشیدہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ جو شخص بےحیائی کی طرف توجہ کرتا ہے اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ کسی وقت بھی اس میں ملوث ہوجائے گا۔ اسی خطرے کے پیش نظررسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : (عن أبی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ وَیُکَذِّبُہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد پر اس کا حصہ زنا کا مقرر کردیا ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا وہ اس کو پالے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا فحش باتیں کرنا ہے۔ انسان کا نفس اس کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِیفَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَجَاءَ تْہُ امْرَأَۃٌ مِّنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِیہٖ فَجَعَلَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَتَنْظُرُ إِلَیْہِ فَجَعَلَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَر) [ رواہ ابوداؤد : کتاب المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں فضل بن عباس ؓ نبی معظم ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت خثعم قبیلہ کی آئی اور کوئی مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور عورت اس کی طرف دیکھنے لگی رسول معظم ﷺ نے فضل بن عباس ؓ کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔ “ 5۔ قتل نفس : سورۃ المائدۃ، آیت 31 اور 32 میں دنیا میں انسانی قتل کے پہلے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اسی وقت سے بنی اسرائیل پر یہ بات لاگو کردی تھی کہ جس نے کسی شخص کو ناجائز قتل کیا یا زمین میں دنگا فساد اور تخریب کاری کی تو گویا اس نے سب انسانوں کو تہہ تیغ کردیا ہے اور جس نے ایک شخص کی جان بچالی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا اسلام میں کسی کو قتل کرنے کی بنیادی طور پر چار صورتیں ہیں۔ 1۔ جو شخص دین اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے اسے قتل کردیا جائے۔ 2۔ قتل کے بدلے قتل۔ 3۔ شادی شدہ زانی کو پتھر مار مار کر ختم کیا جائے۔ 4۔ خلیفہ، برحق کے ہوتے ہوئے جو شخص اس کی خلافت میں دوسری خلافت قائم کرے یا بغاوت کرے اسے قتل کردیا جائے۔ قیامت کے دن حقوق اللہ کے بارے میں پہلا فیصلہ نماز کے بارے میں اور حقوق العباد کے بارے میں پہلا مقدمہ انسانی قتل کے بارے ہوگا۔ (عَنْ جَرِیرٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَہٗ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتْ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ )[ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب الانصات للعلماء ] ” حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی معظم ﷺ نے اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ پھر فرمایا اے لوگو ! میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم باہم ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردو۔ “ اس آیت میں شرک سے منع کرنا، قتل اولاد سے روکنا، کھلی اور پوشیدہ برائی سے دور رہنا اور ناجائز قتل کرنے سے روکنے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے شرک سے پوری طرح بچ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ اپنایا جائے اور اولاد کو رزق کی تنگی کی بنا پر قتل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رزاقی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی پرورش اور تربیت کی جائے۔ ہر قسم کی بےحیائی کے قریب جانے کے بجائے عفت و عصمت کی حفاظت کی جائے اور دوسرے کو ناحق قتل کرنے کے بجائے اس کے مال وجان، عزت وآبرو کی حفاظت کی جائے اور والدین کی نافرمانی کی بجائے ان کے ساتھ حسن سلوک برتا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دانشمندوں کے لیے وصیت ہے۔ مسائل 1۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا درحقیقت حماقت کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ توحید کا عقیدہ انسان کو اس کے رب کے قریب کرنے، غیرت مند بنانے کے ساتھ اس کے شرف میں اضافہ کرتا ہے۔ 2۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں انسان کا اپنا فائدہ اور گھر میں محبت و الفت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ والدین کی دعائیں ملتی ہے۔ 3۔ انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے فائدہ اٹھائے اور ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہو مگر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو قتل کر دے عقلمندی کے بجائے پرلے درجے کی حماقت ہے۔ 4۔ کسی کو ناجائزقتل کرنا انسان دشمنی اور درندگی ہے جس کی عقلمند شخص سے توقع نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

” اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے، ماپ، تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب بات کرو تو انصاف سے کرو، خواہ رشتہ دار ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو یہ تاکیدی حکم اس نے تمہیں دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ “ (152)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :۔ پہلی آیت میں ایک کام کو کرنے اور چار کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اب معاشرے کے نہایت ہی پسماندہ طبقے یتیموں کے مالی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ سن بلوغت کو پہنچ جائے۔ شریعت کے مطابق یتیم وہ ہوتا ہے جس کا بلوغت سے پہلے باپ فوت ہوجائے۔ نابالغ بچے میں کاروبار کرنے اور مال کے تحفظ کے سلسلے میں وہ شعور اور پختگی نہیں ہوتی جو جوان اور بالغ بچے میں ہوتی ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ یتیم کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانا سخت منع ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں یتیم کی پرورش اس کے مال کا تحفظ کرنا اس کے سرپرست کی ذمہ داری قرار پائی ہے۔ یہاں یتیم کے سرپرست کو دو ہدایات دی گئی ہیں اگر اس کا کوئی اور کاروبار نہ ہو تو وہ نہایت عدل و انصاف کے ساتھ یتیم کے مال سے اپنے مناسب اخراجات پورے کرسکتا ہے جب یتیم عمر اور شعور کے اعتبار سے اپنے معاملات چلانے کا اہل ہوجائے تو اس کا مال گواہوں کی موجودگی میں اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یتیم کے مال کا تحفظ کرنے کے ساتھ سب لوگوں کے مال کو تحفظ دیا گیا ہے کہ ماپ تول میں کمی بیشی کرنے سے بچنا چاہیے کوئی چیز دیتے ہوئے طے شدہ اصول اور پیمانے سے کم نہیں ہونی چاہیے اور جب کسی سے کوئی چیز لی جائے تو پھر بھی عدل و انصاف کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے طے شدہ اصول اور پیمانے سے زیادہ نہیں لینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت فرمائی کہ کاروبار اور معاشرتی زندگی میں جو تمہیں اصول دیے جا رہے ہیں یہ کوئی ایسی پابندی اور بوجھ نہیں جس پر کوئی شخص عمل نہیں کرسکتا۔ شریعت کے تمام اصول اور قانون ایسے ہیں جو انسان کی طاقت و ہمت کے مطابق ہیں۔ آٹھویں نصیحت یہ کی جاتی ہے کہ جب بھی بات کرو تو وہ اخلاق کے مطابق اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ بیشک حق گواہی کسی عزیز کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک فرمایا کہ اگرچہ یہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو تمہیں ہر حال میں سچ اور حق کہنا چاہیے۔ عدالت میں گواہی کے ساتھ اس میں مبلغ کی حق گوئی، جج کا انصاف اور ہر قسم کی گفتگو شامل ہے۔ یہاں نویں اور آخری نصیحت یہ کی جارہی ہے کہ ہر حال میں اپنے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کی تین صورتیں مفسرین نے بیان کی ہیں۔ 1۔ عہد سے مراد وہ ازلی عہد ہے جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھتے ہوئے ” کن “ کا حکم صادر فرمایا جس کا معنی ہے کہ ہوجا۔ قیامت تک کے لیے جتنے انسان پیدا ہونے ہیں وہ سب کے سب آدم (علیہ السلام) کے سامنے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے یہ استفسار فرما کر عہد لیا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں ؟ جس کا سب نے اقرار کیا تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس کی تفصیل سورة آل عمران : 81 میں ملاحظہ فرمائیں۔ 2۔ عہد سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان کسی مشکل یا عام حالات میں اپنی زبان یا دل ہی دل میں اپنے رب کے ساتھ کرتا ہے وہ گناہوں سے توبہ کی شکل میں ہو یا اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت کے بدلہ میں اس کا شکریہ ادا کرنے کی صورت میں۔ اس عہد کی پاسداری بھی آدمی پر لازم قرار دی گئی ہے۔ 3۔ عہد کی تیسری شکل یہ ہے کہ جب فرد یا قوم کا ایک دوسرے سے عہد و پیماں ہو تو اس کی پاسداری کرنا فرض ہے۔ اس عہد کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ لہٰذا یہ بھی بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وصیتیں کی گئی ہیں جس کا تمہیں ہر صورت خیال رکھنا ہوگا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ احمد ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ (عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یُّنْصَبُ بِغَدْرَتِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجزیۃ، باب اثم الغادر للبر والفاجر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی معظم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا ہر بد عہد کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی بد عہدی کی وجہ سے قیامت کے دن نصب کیا جائے گا۔ “ (عَنْ سَہْلٍ ؓ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْءًا )[ رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما ] ” حضرت سہل ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ ﷺ نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ “ مسائل 1۔ کسی کمزور کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہے۔ 2۔ کاروبار انصاف سے کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ 4۔ عدل و انصاف کرنا چاہیے خواہ قرابت داری ہی کیوں نہ ہو۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو وفا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے : 1۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جائیں مگر احسن طریقہ کے ساتھ۔ (الانعام : 152) 2۔ یتیم کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ (النساء : 10) 3۔ کسی یتیم پر ظلم زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ (الضحیٰ : 6) 4۔ یتیموں کو انکے مال لوٹادو۔ (النساء : 2) 5۔ والدین، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ (النساء : 36)