6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفہم القرآن

Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

” اور ظاہر گناہ کو چھوڑ دو اور چھپے ہوئے کو بھی بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جس کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ (120)

فہم القرآن ربط کلام : صرف حرام کھانا ہی نہیں چھوڑنا بلکہ خفیہ اور اعلانیہ گناہ بھی چھوڑ دینے چاہییں۔ اس سے پہلے حکم میں مجبور انسان کو حرام کھانے کی اجازت دی گئی تھی جس سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ کسی دوسرے کو کیا معلوم کہ حرام کھانے والا کس حد تک مجبور ہے۔ یعنی حالت کا صرف متعلقہ آدمی کو ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے واضح کردیا گیا کہ مومن وہ ہے جو پوشیدہ اور کھلے گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذا انتباہ فرمایا کہ جو لوگ خفیہ یا اعلانیہ گناہ کریں گے بہت جلد سزا سے دو چار ہوں گے۔ جلد سے مراد دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی شکل میں گرفت ہوسکتی ہے پھر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی نہایت مختصر ہے۔ اس لحاظ سے آخرت کی سزا بھی بہت جلد ملنے والی ہے اللہ سے ڈرنے والا شخص ہمیشہ آخرت کو قریب ہی سمجھا کرتا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ موت انسان کی جوتی کے تسمے سے بھی قریب ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ الْجَنَّۃُ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ) [ رواہ البخاری : بابالْجَنَّۃُ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ تم میں سے ہر کسی کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ “ ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دینے کے حکم کے ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ یہ بھی گناہ ہے کہ تم وہ جانور کھاؤ جس کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ ایسے جانور کا گوشت کھانا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کرنے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے بجائے کسی غیر کا نام لے کر یا بظاہر تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا رہا ہو لیکن ذبح کسی مزار، بت یا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر کیا گیا ہو۔ اس موقع پر بعض لوگ یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ کسی فوت شدہ کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے ذبح کرنا بھی تو غیر اللہ ہی کے لیے ہوگا۔ یہی وہ مغالطے ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے ہمیشہ سے مسلمانوں کو دینے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔ اسی لیے غیر اللہ کے نام پر کوئی چیز دینے اور ذبح کرنے سے روکتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شیطان اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ذہن میں ایسی ایسی باتیں اور دلیلیں ڈالتا ہے جس سے وہ موحدوں کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔ لہٰذا موحدین کا فرض ہے کہ وہ ایسی چیزیں نہ کھائیں اور نہ استعمال کریں اور نہ ہی ایسے دلائل سے دھوکا کھائیں۔ اگر کوئی غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز کھائے یا استعمال کرے گا تو وہ مشرکوں کے زمرہ میں سمجھا جائے گا۔ اس مقام پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو روا داری میں ایسی چیزیں ہڑپ کر جاتے ہیں یا غیر اللہ کے نام دی ہوئی چیز وصول کرلیتے ہیں حالانکہ اس کا لینا بھی حرام ہے بیشک وہ چیز باہر پھینک دی جائے یا کسی جانور کو کھلا دی جائے اس کا وصول کرنا کسی نہ کسی درجے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ مسائل 1۔ کھلے اور پوشیدہ گناہوں سے بچنا چاہیے۔ 2۔ نیکی ہو اور برائی کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ 3۔ غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز کھانا حرام ہے۔ 4۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کو مومنین کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ 5۔ اللہ کے طریقہ کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرنا گمراہی ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر قسم کے گناہ چھوڑ دینے کا حکم : 1۔ آپ ﷺ فرما دیں کہ میرے رب نے ظاہر و باطن کی بےحیائی اور گناہ کے کاموں سے منع کردیا ہے۔ (الاعراف : 33) 2۔ درویش اور علماء لوگوں کو گناہ کی باتوں سے منع کیوں نہیں کرتے۔ (المائدۃ : 63) 3۔ اللہ کے بندے کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ (الشوریٰ : 37) 4۔ بیشک نیک لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ (النجم : 32)
Ayahs 6:121–122

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس (جانور) پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھاؤ اور یقیناً یہ سراسر نافرمانی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں باتیں ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے۔ “ (121)

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

” اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنادی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں اسی طرح کافروں کے لیے وہ عمل خوبصورت بنادیے گئے جو وہ عمل کرتے تھے۔ “ (122)

فہم القرآن ربط کلام : مردار اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور کھانے، سے آدمی کا ضمیر اور ایمان مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ان دونوں کا تقابل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی زندگی دو عناصر پر مشتمل ہے جسم کو قائم رکھنے کے لیے بہتر فضا اور اچھی غذا کی ضرورت ہے۔ روح کو بیدار اور صحت مند رکھنے کے لیے گناہوں سے اجتناب اور کفرو شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ خوراک اور آب و ہوا مناسب نہ ہو تو جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ روح کی خوراک، اچھے اعمال اور عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر آدمی کے اعمال اور اس کا عقیدہ کمزور ہوگا اتنی ہی اس کی روح کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ زندہ ہونے کے باوجود انسان روحانی طور پر مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں مردار خوری اور غیر اللہ کے نام وقف کی ہوئی چیز سے بچنے کو زندگی قرار دیا گیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ یہ طرز زندگی عطا فرمائے گو یا کہ وہ زندہ انسان ہے۔ وہ لوگوں میں تابناک، اور شاندار زندگی بسر کر رہا ہے۔ روشنی کا منبع اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اور اس پر چلنے کی توفیق ہے۔ جسے سورة ابراہیم کی دوسری آیت میں یوں بیان فرمایا ہے اس کتاب کو ہم نے اپنے رسول پر نازل کیا تاکہ اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر واضح اور شاندار روشنی میں لاکھڑا کرے۔ ( البقرۃ، آیت : 257) میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا مربی اور دوست ہے وہ انھیں ہر قسم کی ظلمات سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیاطین ہیں جو انھیں ایمان اور توحید کی روشنی سے نکال کر شرک و بدعت اور گناہوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہاں اسی بات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی عطا کردہ روشنی میں زندگی بسر کرنے والا ایسے شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو کفر و شرک کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو۔ اسے اندھیروں سے کوئی نکالنے والا نہیں گویا کہ جو علماء لوگوں کو شرک اور غیر اللہ کے نام پر وقف کی ہوئی چیزیں کھانے کی دعوت دیتے ہیں وہ لوگوں کو ایمان کی روشنی سے نکال کر بدعت و شرک کے اندھیروں میں گھسیٹتے ہیں۔ گمراہ علماء کے پیروکار اس لیے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی کی طرف نہیں آتے کیونکہ باطل عقیدہ اور برے اعمال ان کے لیے خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ ایسے لوگ توحید کے دلائل سننے اور ماننے میں گرانی محسوس کرتے ہیں اور شرک و بدعت کو اپنانے اور برے اعمال اختیار کرنے کو فیشن اور دین سمجھتے ہیں۔ مسائل 1۔ قرآن مجید ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید زندگی کی علامت ہے۔ 3۔ کافر اپنی بد اعمالیوں میں مگن رہتا ہے۔ 4۔ کافر دنیا کی خوش نما اور عارضی زندگی پر بھروسہ رکھتا ہے۔ 5۔ حرام کھانے سے انسان کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔ 6۔ ایمان روشنی ہے اور گمراہی اندھیرا ہے۔ 7۔ ایمان دار زندہ ہے اور گمراہ انسان مردہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نور اور اندھیرے : 1۔ ” اللہ “ ایمان والوں کا دوست ہے انہیں اندہیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257) 2۔ اندھا اور بینا اندہیرا اور روشنی برابر نہیں ہوسکتے۔ (فاطر : 20) 3۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ لوگوں کو اندہیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (الحدید : 9) 4۔ جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا وہ اللہ کی طرف سے روشنی پر ہے۔ (الزمر : 22) 5۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے روشنی اور اندہیروں کو پیدا کیا۔ (الانعام : 1)
Ayahs 6:123–124

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے لیڈروں کو مجرم بنادیا تاکہ وہ اس میں مکروفریب کریں اور وہ مکروفریب نہیں کرتے مگر اپنے ساتھ ہی اور وہ سمجھتے نہیں۔ (123)

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔ عنقریب ان لوگون کو جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (124)

فہم القرآن ربط کلام : جرائم پیشہ لوگ نور توحید کو مٹانے اور بجھانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ اس فرمان الٰہی میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کو گھبرانے اور ڈگمگانے کی ضرورت نہیں یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ معاشرے کے سماجی، سیاسی، معاشی اور نام نہاد مذہبی رہنما دعوت حق کی مخالفت اور انبیاء کی مخاصمت میں پیش پیش رہے ہیں۔ جو ملک و قوم کے مفاد کے نام پر مکر و فریب کے جال بنتے ہیں۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے اور اس کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے کہا جاتا تو تکبر، رعونت میں آکر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمارے پاس براہ راست یہ احکام نہیں آجاتے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے ہم کلام ہوسکتا ہے تو ہمارے ساتھ کیوں کلام نہیں کرسکتا۔ بعض اس سے آگے بڑھ کر کہتے کہ اس شخص سے ہم نبوت کے زیادہ اہل اور حق دار ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے کردار کی نبی اکرم ﷺ کے کردار سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود اپنے مکرو فریب سے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ عنقریب مکار اور مجرموں کو رب ذوالجلال کی طرف سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑئے گا اور یہ شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونگے۔ مسائل 1۔ نبوت، مال و دولت، جاہ و حشمت یا کسی بڑے پن کی وجہ سے نہیں ملتی۔ 2۔ نبوت سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انتخاب ہوتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ 3۔ نبوت کا انکار اور رسول کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن شدید عذاب کے مستحق مجرم : 1۔ اللہ تعالیٰ کفار کو شدید عذاب دے گا۔ (حم السجدۃ : 27) 2۔ اللہ سے منہ موڑنے والوں کو شدید عذاب ہوگا۔ (المجادلۃ : 15) 3۔ اے لوگو ! اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا عذاب شدید ہے۔ (ابراہیم : 7) 4۔ جان بوجھ کر بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے والے کو شدید عذاب ہوگا۔ (الطلاق : 10) 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے شدید عذاب سے دوچار ہونگے۔ (آل عمراٰن : 11) 6۔ مجرم لوگ ذلت اور سخت عذاب میں مبتلا ہو نگے۔ (الانعام : 124) 7۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ (الانفال : 13) 8۔ کفار کے لیے دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر انکا ہماری طرف لوٹنا ہوگا پھر ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (یونس : 70) 9۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ (فاطر : 7) 10۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ (صٓ: 26) 11۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کو شدید عذاب میں مبتلا کیا جا ئیگا۔ (آ : 26) 12۔ کفار کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب سے دوچار کیا جائیگا۔ (آل عمراٰن : 56)
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

” پھر جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ انتہائی تنگ کردیتا ہے گویا وہ آسمان میں چڑھ رہا ہے اسی طرح اللہ ان لوگوں پر پلیدی مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ (125)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے کفر، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے سینے اسلام کے بارے میں بند ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے اور بات کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ، دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کردیتا ہے۔ ( ق : 37) لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ بری عادت ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کی سماعت بھی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تو کفار اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے چہرے چھپاتے ہوئے ان سے دور بھاگ جاتے تھے۔ (قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلًا وَنَہَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَاءِی إِلَّا فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَہُمْ فِی آَذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُم وَأَصَرُّوا واسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا۔ )[ نوح : 5 تا 7] ” نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی مگر میری دعوت سے ان کے فرار میں اضافہ ہوا اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ اور اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہاکر دی۔ “ یہی رویہ منکرین حق نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اختیار کیا۔ جب انھیں قرآن مجید غور کے ساتھ سننے کی طرف توجہ دلائی جاتی تو وہ بظاہر غور کے ساتھ سنتے لیکن حقیقت میں عدم توجہ اختیار کیے رکھتے اور آخر میں کہتے یہ باتیں ہمارے فہم و ادراک سے باہر اور قوت سماعت کے لیے بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں اس طرح جو حکم بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مسلسل انکار کردیتے اور اس پر پروپیگنڈے کے ذریعے غالب آنے کی کوشش کرتے جو شخص حق بات سننے سے احتراز کرے اسے کس طرح ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہدایت اسے نصیب ہوتی جو اسے پانے کی خواہش اور کوشش کرتا ہے۔ جب انسان خلوص نیت کے ساتھ چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے لیکن جو اس سے مسلسل اعراض کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ بند کردیتا ہے۔ اس کے لیے ہدایت پانا ایسے ہی مشکل ہوتا ہے جیسا کہ انسان کا آسمان پر چڑھنا ناممکنات میں سے ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ گمراہ انسان نے اپنے لیے خود گمراہی کو پسند کیا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کج فکری اس کے لیے گندے اعمال کا سبب ہوتی ہے اور یہ گندگی اس کے برے عقیدہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ گندگی اس پر ہمیشہ کے لیے مسلط کردی جاتی ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا اسلام کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ 2۔ کافر ایمان لانے میں تنگی محسوس کرتے ہیں۔ 3۔ کافروں کے ارادۂ کفر و شرارت کی وجہ سے انھیں راہ ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ 4۔ کفر و شرک گندگی ہے جو کافر اور مشرک پر مسلط ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں پر گمراہی مسلط ہوتی ہے : 1۔ ایمان نہ لانے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الانعام : 125) 2۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف : 30) 3۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت عطا کی اور کچھ پر اللہ نے گمراہی مسلط کردی۔ (النحل : 36) 4۔ جن لوگوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔ (یونس : 96)
Ayahs 6:126–127

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

” اور یہ آپ کے رب کا سیدھاراستہ ہے۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (126)

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

انہی کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مددگار ہے ان اعمال کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (127)

فہم القرآن ربط کلام : جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جائے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ملتی ہے اور اسلام ہی صراط مستقیم اور دنیا وآخرت کی سلامتی کا ضامن ہے۔ پچھلی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یہاں ” ھٰذا “ اسم اشارہ لا کر اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ آخری نبی اور ان پر نازل ہونے والا یہی ” الاسلام “ آخری دین قرار پایا ہے۔ سورۃ المائدۃ، آیت : 3 میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ دین کامل اور مکمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو دین کے طور پر پسند کیا ہے۔ سورۃ آل عمران، آیت : 85 میں دو ٹوک انداز میں صراحت کی ہے کہ جو شخص دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا وہ شخص اور قوم آخرت میں نقصان پائے گی۔ اسی سورة کی آیت 84 میں وضاحت کی گئی ہے کہ کیا تم اللہ کے اس دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کرو گے جبکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہے۔ یہاں اسلام کو اللہ تعالیٰ کی تابعداری کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا دین اسلام ہی افراد اوراقوام کے لیے دنیا و آخرت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے اس لیے جنت کو ” دارالسلام “ قرار دیتے ہوئے دین اسلام ماننے والوں کو اس کی خوشخبری دی کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں دارالسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام پہ چلنے والوں کا والی اور دوست ہے۔ ولی کا لفظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنی قربت کا احساس دلاکر یہ وضاحت کی ہے کہ اگر تم میری قربت و محبت اور جنت کے طلب گار ہو تو تمہیں صراط مستقیم پر چلنا ہوگا جو اسلام کے بغیر کسی دوسرے دین میں نہیں مل سکتا۔ انفرادی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونے اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے سے دنیا میں بھی سلامتی نصیب ہوتی ہے اس طرح دنیادار الفساد بننے کے بجائے دارالسلام بن جاتی ہے۔ ” حضرت جا بر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے آپ ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔ “ [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ رسول اللہ ﷺ ] مسائل 1۔ اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ 2۔ اسلام دنیا میں سلامتی کا ضامن ہے اور آخرت میں جنت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ 3۔ نیک اعمال سے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی قربت اور ولایت حاصل ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم کے نشانات : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : 54) 2۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 3۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم : 36) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : 87) 5۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یسٰین : 61) 6۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام : 153) 7۔ اللہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ (الشوریٰ : 52) 8۔ نبی اکرم ﷺ صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ (الشوریٰ : 52)
Ayahs 6:128–129

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

” اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا تو فرمائے گا اے جنوں کی جماعت ! بلاشبہ تم نے بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لیا اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم ایک دوسرے سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی اللہ فرمائے گا آگ ہی تمہارا ٹھکانا ہے تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو مگر جو اللہ چاہے بیشک آپ کا رب کمال حکمت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ (128)

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنادیتے ہیں اس وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (129)

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کو چھوڑنے والے انسانوں اور جنوں کا انجام اور ان کا اقرار۔ جن لوگوں اور جنات نے اسلام کے بغیر کوئی اور دین اپنایا وہ صراط مستقیم سے گمراہ ہوئے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ ” دارالسلام “ یعنی جنت سے محروم ہوگئے۔ انسان کی گمراہی شیطان کی وجہ سے ہوتی ہے اور شیاطین کی اکثریت کا تعلق جنات سے ہے اس لیے محشر کے دن اللہ تعالیٰ جنات کو خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا۔ اے جنو ! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا جس کا اقرار شیاطین کے ساتھ انسان اس طرح کریں گے اے ہمارے رب تیرا فرمان سچا ہے اور واقعی ہم نے ایک دوسرے سے مفادات اور فائدے اٹھائے اور ہم نے بڑے بڑے جرائم کیے ہیں یہاں تک کہ ہماری اجل آن پہنچی جو آپ نے ہمارے لیے مقرر کر رکھی تھی یعنی ہمیں موت نے آلیا۔ آج تیری بارگاہ میں مجرم کی حیثیت سے اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حکم ہوگا کہ اب آگ ہی تمہارا ٹھکانہ ہے جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ما شاء اللہ کے الفاظ کے بارے میں مفسرین نے دو تفسیریں کی ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ان الفاظ میں مجرموں کے لیے بالآخر نجات کی نشاندہی کی گئی ہے جب کہ اہل علم کی اکثریت کا نظریہ ہے کافر اور مشرکوں کا جہنم سے نجات پانے کا بھی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بار بار ان کے بارے میں خٰلِدِیْنَ فِیْھٰآ اَبَدًا کا اعلان کیا ہے۔ انھیں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا اور جنت ان پر حرام کردی گئی ہے۔ البتہ کلمہ گو گناہگار جنات اور انسانوں کو سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ کچھ مفسرین نے الا ما شاء اللہ کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اختیارات کا اشارہ دیا ہے کہ دنیا میں کئی لوگ جنات کو مشکل کشا سمجھتے تھے الا ما شاء اللہ میں ان کے باطل عقیدہ کی نفی کی گئی ہے کہ وہی کچھ دنیا میں ہوتا ہے اور آخرت میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور چاہے گا۔ اگر دنیا میں تم شرک و کفر اور صراط مستقیم چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اللہ کے علم، طاقت اور دسترس سے باہر ہو بلکہ یہ مہلت اس کی حکمت کا نتیجہ ہے۔ اسی مہلت اور حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ ظالموں کو ایک دوسرے کی مدد کا موقع دیتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنوں اور انسانوں سے ان کے عقیدہ و عمل کے بارے میں سوال کرے گا۔ 2۔ قیامت کے دن مجرم ایک دوسرے کو گمراہ کرنے کا اعتراف کریں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو اس لیے ڈھیل دیتا ہے کہ وہ زیادہ گناہ کرسکیں۔ 4۔ مشرک اور کافر ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔ 5۔ دنیا میں برے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ 6۔ مجرم آخرت میں اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے۔ 7۔ مجرموں کا اقرار قیامت کے دن انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

” اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے جو تم پر میرے فرامین بیان کرتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہم اپنے آپ پر گواہی دیتے ہیں کہ انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ واقعی وہ کافر تھے۔ “ (130)

فہم القرآن ربط کلام : جہنم میں جانے والے جنات اور انسانوں کو مشترکہ خطاب۔ اللہ تعالیٰ اظہارِ حق اور مجرموں کو ان کے جرائم کا احساس دلانے کے لیے جنوں اور انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھیں گے کیا میں نے تمہارے پاس تم ہی سے رسول نہیں بھیجے تھے جو تمہیں میرے احکام پڑھ کر سناتے اور اس دن کے ہولناک انجام سے ڈراتے تھے۔ مجرم جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے رب آپ کے بھیجے ہوئے رسول تشریف لائے اور ہمیں سمجھاتے اور ڈراتے رہے لیکن ہمیں دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے ہم تیرے حضور پیشی کو بھول گئے۔ اس طرح وہ اپنے بارے میں شہادت دیں گے کہ بلاشک ہم اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن انسانوں کے ساتھ جنوں کو سوال کرنے کے بارے میں مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے جتنے رسول دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سب کے سب انسان ہی تھے مگر ان کا پیغام جنوں اور انسانوں کے لیے مشترکہ ہوا کرتا تھا اس لیے نبی آخر الزمان ﷺ نے طائف سے واپسی پر جنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھیں توحید و رسالت کی دعوت دی تھی۔ اس کی تفصیل جاننے کے لیے سورة الاحقاف اور سورة الجن کی تلاوت کرنی چاہیے۔ اسی بنیاد پر آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ )[ مسند احمد ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 2۔ میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے۔ 3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ 4۔ میری رعب سے مدد فرمائی گئی ہے کیونکہ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ 5۔ مجھے ( قیامت کے دن) کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔ “ اعمش کہتے ہیں مجاہد کا خیال ہے کہ احمر سے مراد انسان اور اسود سے مراد جن ہیں جہاں تک قیامت کے دن مجرموں کا اپنے خلاف شہادت دینے کا تعلق ہے مجرم پہلے اپنے شرک و کفر اور برے اعمال سے انکار کریں گے۔ جب ان کے خلاف ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے تو پھر مجبور ہو کر اس کا اعتراف کریں گے۔ اس اعتراف کا قرآن مجید نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ مسائل 1۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت جنوں اور انسانوں کے لیے تھی۔ 2۔ نبی آخر الزمان ﷺ جنوں اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن مجرم اپنے گناہوں کا خود اعتراف کریں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کے اعترافات : 1۔ جہنمیوں سے ملائکہ کا خطاب۔ (الزمر 71، 72) 2۔ جہنمیوں سے جنتیوں کے سوالات اور جہنمیوں کا اپنے گناہوں کا اقرار۔ (المدثر : 40 تا 48) 3۔ جہنمیوں کے ایک دوسرے سے سوالات۔ (حآ، السجدۃ، الاحزاب) 4۔ جہنمیوں سے اللہ تعالیٰ کا سوال۔ (الصٰفٰت) 5۔ جہنمیوں کی باہم گفتگو۔ (الصفت : 27 تا 33)
Ayahs 6:131–134

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

” یہ اس لیے کہ آپ کا رب کبھی بستیوں کو کفر کے سبب ہلاک کرنے والا نہیں جب کہ اس کے رہنے والے بیخبر ہوں۔ (131)

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے ان اعمال کی وجہ سے درجات ہیں جو انہوں نے کیے اور آپ کا رب اس سے ہرگز بیخبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ (132)

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا رب بےنیاز، کمال رحمت والا ہے اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے جانشین بنا دے جس طرح اس نے تمہیں پہلے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ (133)

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

بیشک وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے ضرور آنے والی ہے اور تم کسی صورت عاجز کرنے والے نہیں۔ “ (134)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ نہیں کہ وہ کسی بستی اور اہل علاقہ کو ان کے اچھے برے انجام سے آگاہ کیے بغیر اسے فنا کے گھاٹ اتار دے بلکہ پہلے وہ رسول بھیج کر لوگوں کی اصلاح اور فلاح کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن لوگ انبیاء کی مخلصانہ اور بےمثال محنت کے باوجود غفلت اور مجرمانہ زندگی کو ترجیح دیتے رہے اور جرائم میں اتنے آگے بڑھے کہ اللہ کی مخلوق ان سے پناہ مانگنے لگی اور زمین کا نظام درہم برہم ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس گرفت میں بھی انھیں اتنی ہی سزا دی گئی جتنے ان کے اعمال برے تھے۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔ جس طرح دنیا میں ان کے کردار کے مطابق گرفت کی گئی بالکل اسی طرح قیامت کے دن نیک لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور برے لوگوں کو ان کے جرائم کے مطابق سزا ہوگی۔ لوگوں کے اعمال جاننے، پرکھنے اور ان کو جزا اور سزا دینے میں اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غافل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو بار بار نصیحت اور انتباہ اس لیے نہیں کرتا ہے کہ لوگوں کے نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کو فائدہ اور برے کردار سے اسے نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی اور برائی کا کوئی فائدہ اور نقصان نہیں ہوتا۔ وہ ذات کبریا مفادات، خدشات اور نقصانات سے بےنیاز ہے۔ اس کی ذات بےنیاز ہونے کے باوجود سراپا رحمت ہے۔ وہ نیکوں کو ان کی نیکی سے بڑھ کر عنایات ورحمت سے نوازتا ہے۔ دنیا میں ظالموں کی گرفت میں اس کی یہ رحمت ہوتی ہے کہ اس کی مخلوق ان کے ظلم سے نجات پائے۔ اگر وہ چاہے تو ساری انسانیت کی صف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دے اور ان کی جگہ اتنے ہی اور لوگوں کو لے آئے۔ جس طرح کہ پہلی اقوام میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اس سچائی کو جاننے کے لیے دنیا کے ہر علاقے کی تاریخ اس حقیقت کی ترجمان ہے۔ عرب کی سرزمین کے بارے میں قرآن مجید تفصیل کے ساتھ ایک کے بعد دوسری قوم کے آنے کے واقعات بیان کرتا ہے۔ کبھی اس سرزمین پر قوم نوح کے کفر و شرک کا غلبہ تھا جنھیں اللہ تعالیٰ نے پانی کے سیلاب میں ڈبکیاں دے دے کر مارا۔ زمین کو شرک کی غلاظت سے پاک کردیا۔ ان کے بعد قوم عاد نے سرکشی اور تمرد کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ان پر سات دن مسلسل زور دار آندھیاں چلیں جس سے ان کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مارا اور صفحۂ ہستی سے ان کا وجود ختم کردیا۔ قوم ثمود کو زور دار آسمانی دھماکے نے آلیا۔ جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اللہ کی مخلوق نے ان سے سکھ پایا۔ ان کے بعد قوم لوط نے بےحیائی کا وطیرہ اپنایا۔ جس کی پاداش میں انھیں زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی پھر اس دھرتی پر کبھی ایرانی دندنائے اور کبھی رومیوں کا غلبہ ہوا۔ ان کے بعد یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے۔ عربوں کے بعد ترکوں کا دور آیا۔ ترکوں کے بعد تاتاری بادو باراں کی طرح زمین پر پھیل گئے گویا کہ ایک کے بعد دوسری قوم اور دوسری کے بعد تیسری قوم نے اس کی جگہ لی یہاں نہ داراو سکندر کا اقتدار باقی رہا ار نہ ہی نمرود، فرعون اور ہامان کا تسلط قائم رہ سکا۔ پھر خاندانی نظام کو دیکھیں کس طرح نسل درنسل سلسلہ چل رہا ہے۔ آج ہمیں اپنے ہی آباؤ اجداد کی تیسری نسل سے اوپر کا کچھ علم نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا نتیجہ تھا اور ہے جس کے بارے میں یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اور جسے چاہے لوگوں کو ایک دوسرے کی جگہ پر لاکھڑا کرے۔ اے اہل مکہ اور دنیا جہان کے انسانو ! اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور قوت اختیار پر سوچو اور غور کرو کہ تم نے پہلوں کی طرح ہمیشہ نہیں بیٹھا رہنا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے گا تو تم اس کی قدرت و سطوت کے سامنے دم نہیں مار سکو گے۔ یاد رکھو قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے اور تم اس کے برپا ہونے پر اللہ تعالیٰ کو بےبس اور عاجز نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ہوش کے ناخن لو اور اپنے رب کے تابعدار بن جاؤ۔ (عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی عَلٰی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِی السَّمَاءِ إِضَاءَ ۃً ثُمَّ ہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنَازِلُ لَا یَتَغَوَّطُونَ وَلَا یَبُولُونَ وَلَا یَمْتَخِطُونَ وَلَا یَبْزُقُونَ أَمْشَاطُہُمُ الذَّہَبُ وَمَجَامِرُہُمُ الْأَلُوَّۃُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ أَخْلَاقُہُمْ عَلٰی خُلُقِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ عَلٰی طُولِ أَبِیہِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ونعیمہا، باب أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے چہروں کے ساتھ ہوگا پھر ان کے بعد آسمان پر روشن ستاروں کی طرح پھر درجہ بدرجہ ہوں گے جنتی نہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کی ضرورت ہوگی وہ تھوکیں گے بھی نہیں ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیاں عود کی اور ان کے پسینے مشک عنبر کی طرح ہوں گے۔ ان سب کا ایک ہی طرح کا اخلاق ہوگا اور قدو قامت آدم (علیہ السلام) کے برابر یعنی ساٹھ ہاتھ ہوگی۔ “ ( عَنْ قَتَادَۃَ ؓ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِی أَمْشَاہُ عَلٰٰی رِجْلَیْہِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰٰٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا)[ رواہ مسلم، کتاب القیامۃ والجنۃ والنار، باب یحشر الکافر علی وجھہ ] ” حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ایک شخص نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! کافروں کو قیامت کے دن چہرے کے بل کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا وہ ذات جو سب کو دنیا میں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ؟ حضرت قتادہ کہتے ہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم کیوں نہیں “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیمٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا مَرَّ بِی بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب الکافر الغداء لملء الأرض ذھبا ] ” حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں پلنے والے شخص کو لایا جائے گا تو اسے جہنم میں صرف ایک غوطہ دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تو وہ کہے گا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، پھر دنیا میں مصائب میں زندگی گزارنے والے کو لایا جائے گا اسے جنت کا ایک جھونکا دیا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا اے انسان کیا تم نے کبھی کوئی تنگدستی دیکھی ؟ تو وہ کہے گا اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی مشکل نہیں دیکھی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اپنا پیغام پہنچائے بغیر ہلاک نہیں کرتا۔ 2۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ہی جزا، سزا ملے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل سے غافل نہیں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے بےنیاز ہونے کے باوجود اس دنیا میں اپنی رحمت سے نوازنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ختم کرکے دوسری قوم کو لانے پر قادر ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا : 1۔ تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں فرماتا۔ (الانفال : 51) 2۔ جو شخص نیک اعمال کرے اس کا صلہ اسے ملے گا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اس پر ہوگا تیر ارب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 46) 3۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان تبدیل نہ ہوگا اور اللہ کسی پر ظلم نہیں فرمائے گا۔ (آ : 29) 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں فرماتا لیکن لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : 44)
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

” فرمادیں اے میری قوم ! تم اپنے مقام پر عمل کرو میں بھی عمل کرنے والا ہوں تم عنقریب جان لوگے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہے بلاشبہ ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ “ (135)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان بےبس اور کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے احکام جبراً نہیں منواتا۔ میرے پیارے رسول ! کھلا اعلان کر دو کہ اے لوگو ! تم میری بات نہیں مانتے ہو تو تمہاری مرضی مجھ سے الجھنے اور میرا راستہ روکنے کے بجائے تم اپنے اپنے طریقہ پر عمل کرو۔ میں اپنے طریقہ پر عمل پیرا رہوں گا۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہوگا۔ یقین رکھو کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ وعظ و نصیحت کے میدان میں داعی کو ایسے افراد کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے کہ نہایت خلوص اور سوز مندی کے ساتھ سمجھانے کے باوجودلوگ آباؤ اجداد کی تقلید، زمانے کی رسومات اور بری عادات سے باز نہیں آتے۔ ایسے افراد نہ صرف حق قبول نہیں کرتے بلکہ وہ حق کا راستہ روکنے اور داعی کو پریشان کرنے کے لیے ہر قسم کی زیادتی اور شرارت کرتے ہیں۔ سرور دو عالم ﷺ کو بھی ایسے افراد اور حالات سے بار بار واسطہ پڑا جس کے رد عمل میں آپ پر یشان ہو کر سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں جو حق کو قبول کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں بحث و تکرار، جنگ وجدال کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس پر آپ کو حکم ہوا کہ آپ ایسے لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر تم حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو میرے ساتھ مزید الجھنے کے بجائے تم اپنے طریقہ کے مطابق کام کرو اور میں اپنے طریقے پر گامزن رہوں گا لیکن یاد رکھو عنقریب تمہیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔ اس وقت تم کھلی آنکھوں کے ساتھ اپنے ٹھکانے اور ہمارے مقام کو دیکھو گے۔ یاد رہے کہ دنیا میں تو بعض دفعہ ظالم کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن آخرت کے بارے میں دو ٹوک انداز میں واضح کیا گیا ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ بلکہ انہیں ان کے گناہوں اور جرائم کی ٹھیک ٹھیک سزا ملے گی۔ قرآن مجید میں یہ اصول کئی بار بیان ہوا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ کسی کے عمل کے بدلے پکڑا جائے گا۔ ہر کسی نے اپنے اعمال اور عقیدہ کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ (أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی۔ وَأَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعٰی۔ وَأَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الْأَوْفٰی۔ وَأَنَّ إِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہَی)[ النجم : 38 تا 42] ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے کوشش کی۔ اور اس کی کوشش جلد دیکھی جائے گی۔ پھر اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور بیشک سب کو آپ کے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔ “ مسائل 1۔ ظالم عنقریب اپنے انجام کو دیکھ لیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن فلاح نہ پانے والے لوگ : 1۔ ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ (الانعام : 21) 2۔ مجرم فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 17) 3۔ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ (المؤمنون : 117) 4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 69) 5۔ جادوگر فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 77) 6۔ اے کافرو تمہارے لیے تمہارا دین، ہمارے لیے ہمارا دین۔ (الکافرون : 1) 7۔ اے ایمان والو ! اگر تم ہدایت پر رہو تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ (المائدۃ : 105) 8۔ پہلے لوگوں کے لیے ان کے عمل تمہارے لیے تمہارے عمل۔ (البقرۃ : 141)
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

” اور انہوں نے اللہ کے لیے ان چیزوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا جو اس نے کھیتی اور چوپاؤں میں سے پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے اپنے خیال کے مطابق کہا کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے شریکوں کے لیے ہے جو ان کے شرکاء کا حصہ ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو اللہ کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ “ (136)

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے شرک کے مرتکب جن اور انسان جس طرح قولی اور جسمانی عبادات میں گمراہ ہوتے ہیں اسی طرح مالی معاملات اور صدقہ کرنے میں شرک کرتے ہیں۔ اب مشرکوں کے مالی عبادات میں شرک کی نشاندہی اور اس کی مذمت کی جاتی ہے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ذکر کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ اپنی خود ساختہ تقسیم کے مطابق اپنے جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کرتے تھے اور دوسرا حصہ معبودان باطل کے لیے۔ جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ ان کی حرمت و طفیل اور صدقہ سے ملتا ہے۔ جو حصہ ان کے معبودوں کے نام کا ہوتا وہ پورے کا پورا ان کے نام پر بتوں کی آرائش و زیبائش کے لیے نذرانہ کیا جاتا، جسے بت خانہ کے متولی اپنی مرضی سے خرچ کرتے۔ جو حصہ اللہ تعالیٰ یعنی فی سبیل اللہ مقرر کرتے اسے غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ معبودوں کے مقرر کیا ہوا حصہ میں اگر نقصان ہوجاتا تو یہ نقصان فی سبیل اللہ کے حصہ سے پورا کردیتے۔ اگر فی سبیل اللہ کے کھاتے میں کمی واقع ہوجاتی تو اس کو کم ہی رہنے دیتے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی، بےنیاز اور بڑے حوصلے والا ہے۔ اس کا حصہ کم بھی رہ جائے تو اسے کوئی پروا نہیں۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں اس لیے اگر ان کا حصہ پورا نہ کیا گیا تو وہ ناراض ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوسکتا ہے۔ تقسیم کا یہ اصول کسی شریعت سے ماخوذ نہیں تھا بلکہ انھوں نے من ساختہ بنایا ہوا تھا جس کی بنا پر فرمایا ہے کہ بدترین ہے فیصلہ اور ان کی تقسیم جو وہ کرتے ہیں۔ غور فرمائیں کہ چودہ سو تیس سال پہلے کی رسومات اور شرک قریب قریب اسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ آج بھی مزارات پر دیے جانے والے نذرانوں کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کے نام گیارہویں پیش نہ کی، فلاں مزار پر اتنا حصہ نہ دیاتو بزرگ ناراض ہو کر ہمارا نقصان کردیں گے اور مال سے برکت اٹھ جائے گی۔ مکہ کے مشرکوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں۔ اس کے باوجود انھیں اپنی مشکلات کے حل کا ذریعہ اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ یہی عقیدہ آج بیشمار کلمہ گو حضرات کا ہے۔ مزارات میں مدفون بزرگوں کو مشکلات کے حل کے لیے اللہ کے حضور واسطہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید بار بار وضاحت کرتا ہے۔ یہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ انھیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ ہَلْ کَان فیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ہَلْ کَان فیہَا عیدٌ مِنْ أَعْیَادِہِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فیمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ ابوداؤد : باب مایومر بہ من الوفاء بالنذر ] ” حضرت ضحاک بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ’ بوانہ ‘ مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرور عالم ﷺ نے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی ؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرورِکائنات نے استفسار فرمایا بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا ؟ عرض کی کہ نہیں۔ حبیب کبریا ﷺ نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہیے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اسے جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ “ مسائل 1۔ غیر اللہ کے نام پر صدقہ یا نذرانہ کرنا شرک ہے۔ 2۔ اپنی مرضی سے حرام و حلال کا فیصلہ کرنا بدترین جرم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں کو غیر اللہ کے نام منسوب کرنا حرام ہے۔ 4۔ مالی اور دیگر عبادات میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی بنانا شرک ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے نام وقف کی ہوئی چیز کو غیر اللہ کے نام وقف کرنا بدترین گناہ ہے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

” اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کو مارڈالناان کے شریکوں نے خوش نما بنادیا ہے تاکہ وہ انہیں ہلاک کریں اور ان پر ان کا دین خلط ملط کریں اور اگر اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے، پس انہیں چھوڑ دیجئے جو وہ جھوٹ بناتے ہیں۔ “ (137)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک جس طرح مال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو شریک بناتے ہیں اس طرح اولاد میں بھی غیر اللہ کو شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کو غیر اللہ کے نام پر قربان کرتے تھے۔ مشرکوں کا شروع سے عقیدہ ہے کہ جب تک فلان بزرگ کی روح کو خوش نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہمارے مال اور اولاد میں برکت پیدا نہیں ہوسکتی اسی وجہ سے بےاولاد مشرک غیر اللہ کے نام پر چڑھاوے اور بزرگوں کے مزارات پر نذرانے پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی گود ہری ہوجائے۔ اولاد کی خواہش میں اس قدر آگے بڑھ کر منتیں مانتے ہیں اگر بزرگوں نے اولاد عنایت کر وا دی تو ایک بچے کو فلاں بت پر قربان کریں گے۔ اسی عقیدہ کی بنا پر اپنے بچوں کو بت خانوں پر ذبح کیا کرتے تھے۔ ہندوستان میں آج بھی بعض دیوتاؤں کے نام پر بچوں کو قربان کرنے کی خبریں اخبار میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ تہذیب و تمدن کے دور میں قبروں اور بتوں پر اس کثرت کے ساتھ بیٹوں کو ذبح کرنے کا رواج تو نہیں رہا لیکن یہ رواج تو مشرکوں میں عام ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بت خانوں اور مزارات کے لیے وقف کرتے ہیں جو آگے چل کر مجاور کا روپ دھار کر دولت اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ بدکاری کو رواج دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے جہلا کو مزارات اور بت خانوں پر بیٹیاں وقف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید کوئی بت خانہ اور مزار ہو۔ جہاں دن رات عورتیں قیام نہ کرتی ہوں۔ اسی وجہ سے مزارات اور آستانوں کے آئے دن اخلاق باختہ واقعات سننے میں آتے ہیں۔ بچوں کو غیر اللہ کے نام پر ذبح یا وقف کرنا اس لیے ہے کہ عیسائیوں کے پادریوں، ہندوؤں کے پنڈتوں اور مسلمانوں کے غلط عقیدہ پیروں کی وجہ سے اصلی اور حقیقی دین کی جگہ من گھڑت دین کا غلبہ ہوگیا ہے جو عزت، مال اور اولاد کی بربادی کے ساتھ آخرت کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ ایسے لوگوں کو جب شرک و رسومات سے منع کیا جائے تو وہ سمجھنے کے بجائے سمجھانے والوں کو بزرگوں کا گستاخ اور بےدین ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اس لیے فرمایا انھیں ان کے من گھڑت دین پر چھوڑ دیجیے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انھیں شرک و خرافات سے بچا لیتا کیونکہ یہ ہدایت کی چاہت نہیں رکھتے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کی چاہت کے مطابق انھیں گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنِّی فَرَطُکُمْ عَلٰی الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَیَّ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ أَبَدًا لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُونِی ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِی النُّعْمَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ فَقَالَ ہٰکَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَہْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَشْہَدُ عَلٰی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ لَسَمِعْتُہُ وَہُوَ یَزِید فیہَا فَأَقُولُ إِنَّہُمْ مِنِّی فَیُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِی مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَیِّرَ بَعْدِی) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق باب الحوض ] ” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تمہارا حوض کوثر پر انتظار کروں گا جو بھی میرے پاس آئے گا وہ اس سے پیے گا اور جو شخص بھی اس سے ایک مرتبہ پیے گا وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا۔ میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے وہ مجھے پہچان لیں گے اور میں انھیں اپنے امتی کے طور پر سمجھوں گا پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا ابو حازم نے کہا نعمان بن ابی عیاش نے مجھ سے سنا اور کہا کیا تم نے اسی طرح سہل سے سنا ہے میں نے کہا ہاں، پس اس نے کہا میں ابو سعید خدری ؓ سے سنا وہ اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا یہ تو میرے امتی ہیں کہا جائے گا آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا بدعتیں شروع کیں میں ان سے کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔ “ مسائل دنیا میں قتل اولاد کی ہر دور میں چار صورتیں رہی ہیں : 1 غیر اللہ کے نام پر بچوں کو قربان کرنا۔ 2 رزق کی تنگی کی وجہ سے سے اولاد کو قتل کرنا۔ 3 کسی کے داماد بننے کی عار سے بچیوں کو قتل کرنا۔ 4 جنگ وجدال میں بچیوں کی گرفتاری کے پیش نظر انھیں قتل کرنا۔ تفسیر بالقرآن اولاد کا قتل کرنا جرم ہے : 1۔ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ (الاسراء : 31) 2۔ غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ (الانعام : 151)