5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر ٥ کے سوا باقی تمام آیات مدینہ طیبہ اور اس کے گرد ونواح میں نازل ہوئی ہیں۔ جس بنا پر اس سورت مبارکہ کو مدنی کہا جاتا ہے۔ اس کی آیات ایک سو بیس (١٢٠) رکوع سولہ (١٦) اور اس کے حروف بارہ ہزار چار سو چونسٹھ ہیں۔ اس کا نام آیت ١١٤ کی بنا پر رکھا گیا ہے جس کا معنی ہے دستر خوان کیونکہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے آسمان سے دستر خوان نازل ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ سورت کے نزول کا آغاز صلح حدیبیہ کے زمانہ میں ہوا اور اس کی تکمیل حجۃ الوداع کے موقعہ پر میدان عرفات میں ہوئی۔ اس میں دوٹوک انداز میں اعلان ہوا ہے کہ اے مسلمانوں ! آج کے بعد کفار تمہارے دین سے قطعی طور پر مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں پوری طرح باور ہوچکا ہے کہ اس دین (جن کفار کو پوری طرح باور ہوگیا کہ ” اسلام “ دین حق ہے وہ اسے قبول کرکے مسلمان ہوگئے) کو مٹانا کسی کے بس کا روگ نہیں دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب فرمایا کہ اب تمہارے دشمن کا زور ٹوٹ چکا ہے ان کی ہر سازش اور شرارت ناکام ہوئی اور انہیں ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی لہٰذا اب دین اسلام کے غلبہ اور تمہارے عروج کا دور ہے کہیں ایسانہ ہو کہ تم اقتدار اور اختیار کے نشہ میں آکر دین اسلام کی اخلاقی اقدار کو پامال کرو۔ تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ہر قسم کے عہد کی پاسداری کرنا چاہے وہ ایمان کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو یا ایک فرد یا قوم کا دوسرے فرد اور قوم کے ساتھ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حرام جانو۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں شریعت کی حدود اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے پر آمادہ نہ کرپائے۔ اس کے بعد تیسرے رکوع میں بنی اسرائیل سے لیے گے عہد کا تذکرہ کیا تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ دین کے بنیادی تقاضے ہمیشہ ایک رہے ہیں جو بندے کا اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد یہود ونصارٰی کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ جو وہ لوگوں پر اپنا تقدس قائم کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ اس میں یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور اس کا محب وہی ہوسکتا ہے جو قرآن مجید کی تعلیمات کو تسلیم کرنے اور نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والا ہو۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا جہاد سے انحراف بیان کیا اور آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کا واقعہ بیان کرنے کے ساتھ دین کے فوجداری قوانین ذکر فرمائے، پھر مسلمانوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شخصیات کو وسیلہ بنانے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ اور تقوٰی کے ذریعے اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ آیت نمبر ٥٦ سے لیکر نمبر ٦٦ میں یہ بیان کیا کہ یہود ونصارٰی مسلمانوں کے دلی دوست اور کبھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے لہٰذا اے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو رائے عامہ کے خوف اور یہود ونصارٰی سے ڈرے بغیر رسالت کے پیغام کو من وعن لوگوں تک پہنچانا چاہیے یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے باطل عقیدہ اور گھناؤنے کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء نے ان پر لعنت کی ہے حضرت داؤد اور جناب عیسیٰ کا اس لیے ذکر کیا کہ یہودی موسیٰ کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم یہ وضاحت فرمائی کہ عیسائیوں میں ایک فرقہ ایسا ہے کہ جو مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتا ہے اور اسی نرمی کی بناء پر ان میں کئی لوگ قرآن مجید سن کر نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل وکرم کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا۔ آیت نمبر ٨٧ تا ١٠٨ تک قسم کے کفارے کا بیان ہے شراب، جوا، بتوں اور مختلف طریقوں سے اپنی قسمت معلوم کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار کرنا حرام اور بحری سفر میں دریائی شکار کو جائز قرار دیا ہے۔ ان مسائل کے بعد مسلمانوں کو یہ تلقین فرمائی کہ نزول قرآن کے زمانہ میں سوالات کرنے سے اجتناب کرو اور اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کرنے کی بجائے رسول کی اتباع کو مقدم جانو اگر تم ایساکرو گے تو تمہارے دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ سورۃ المائدۃ کے اختتام میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عظیم الشان معجزات بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اتنے عظیم معجزات ملنے کے باوجود عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دستر خوان نازل ہونا چاہیے تاکہ ہم اس سے کھا کر مطمئن اور لطف اندوز ہوں۔ اس سورت کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ محشر کے میدان میں عیسائیوں کے مشرکا نہ عقیدہ کی وجہ سے حضرت عیسیٰ سے وضاحت طلب کی جائے گی کہ اے عیسیٰ کیا آپ نے عیسائیوں کو یہ عقیدہ پڑھایا اور سمجھا یا تھا کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کا شریک بنا لیں جس کے جواب میں حضرت عیسیٰ نہایت ہی عاجزانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ اے مولائے کریم ! اگر میں نے یہ بات کہی تو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کیونکہ آپ دلوں کے بھید اور سینوں کے راز جاننے والے ہیں۔ اس التجا کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بھی عرض کریں گے اے رب ذوالجلال ! اگر آپ ان کو عذاب کریں تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اگر آپ معا ف فرمادیں تو آپ کو کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ آپ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور آپ کے حکم میں بڑی حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کی در خواست کو یہ کہہ کر مسترد فرما دیں گے کہ آج سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا ہی فائدہ پہنچے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہاں سچائی سے مراد اللہ کی توحید کا عقیدہ ہے جس کے بغیر کوئی نیک سے نیک عمل بھی اللہ کے حضور قبول نہیں ہوگا۔

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! عہد پورے کرو تمہارے لیے چوپائے حلال کیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمہیں بتلائے جائیں شکار کو حلال نہ جانو جب تم حالت احرام میں ہو، یقینا اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ “ (1)

فہم القرآن ربط کلام : سورة النساء کا آغاز عام لوگوں کے خطاب سے ہوا۔ سورة المائدۃ کا آغاز مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایمان کا معنی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذات اور ان کے احکام کو تسلیم کرنا۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ ” اے صاحب ایمان لوگو ! تمہارا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ایک عہد ہے۔ لہٰذا اس عہد کی پاسداری کرو۔ عقود عقد کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ” کسی سے پختہ عہد کرنا۔ “ اس کی تین اقسام ہیں۔ 1۔ بندے کا اللہ تعالیٰ سے عہد۔ جو ایمان لانے کی صورت میں کرتا ہے۔ 2۔ انسان کا اپنے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد کرنا۔ 3۔ آدمی کا دوسرے کے ساتھ عہد کرنا۔ حاکم اور رعیت کا ایک دوسرے کے ساتھ، کسی خاندان کا دوسرے خاندان اور ایک قوم کا دوسری قوم کے ساتھ عہد کرنا عقود میں شامل ہے میاں بیوی کے نکاح کے لیے بھی قرآن مجید نے عقد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ نکاح میاں، بیوی کے درمیان ایک پختہ عہد ہے۔ یہ بات بھی عہد کی پاسداری میں شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جانور حلال کیے ہیں۔ انھیں ہی کھایا جائے۔ سوائے ان کے جن کا شکار کرنا احرام کی حالت میں منع کیا گیا ہے۔ البتہ حدیث میں اس بات کی رخصت دی گئی کہ اگر محرم نے شکار کرنے میں کسی قسم کی معاونت نہ کی ہو تو وہ غیر محرم کا کیا ہوا شکار کھا سکتا ہے۔ احرام وہ لباس ہے جو عمرہ اور حج کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر میں حاضری دینے والوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ احرام اور بیت اللہ کی حاضری کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی شریعت کی عائد کردہ دوسری پابندیوں کے ساتھ شکار کرنے سے بھی اجتناب کرے۔ بہیمہ سے مراد وہ جانور ہیں جو گوشت کھانے کی بجائے زمین کی پیداوار سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ گوشت خور جنھیں عرف عام میں درندہ کہا جاتا ہے۔ ان کو حرام کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ جانور وحشی طبیعت کے ہوتے ہیں۔ جن کے کھانے سے انسان میں وحشت اور درندگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ عہد کی پاسداری کا حکم دینے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے حکم جاری کرتا ہے۔ انسان کی طبیعت کھانے پینے میں کسی قسم کی پابندی کو اپنے لیے بوجھ تصور کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کے حرام، حلال کا فلسفہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جب اسے اس چیز کا فلسفہ سمجھ نہیں آتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر لب کشائی کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ جس سے یہ کہہ کر منع کیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال کرے اور جس کو چاہے حرام قرار دے۔ حرمت و حلت کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی عطا نہیں فرمایا۔ (التحریم : 1) اس لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا ہی عہد کی پاسداری اور ایمان کا تقاضا ہے (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِلاَّ قَالَ لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَلا دینَ لِمَنْ لاَ عَہْدَ لَہُ ) [ مسند احمد، 31: مسند انس بن مالک ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں جب کبھی بھی خطبہ ارشاد فرمایا تو الفاظ ضرور ادا فرمائے کہ اس بندے کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس بندے کا دین نہیں جو وعدے کی پاسداری نہیں کرتا۔ “ مسائل 1۔ عہد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 2۔ حالت احرام میں شکار کرنا جائز نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ایفاء عہد کا حکم : 1۔ اللہ کے بندے وعدہ ایفاء کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 177) 2۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام : 152) 3۔ ایماندار اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا عہد پورا کرتے ہیں۔ (الرعد : 20) 4۔ اللہ کے عہد کا ایفاء ضروری ہے۔ (النحل : 91) 5۔ قیامت کے دن ایفائے عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔ (الاسراء : 34) 6۔ جو اللہ کا وعدہ پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ (البقرۃ : 40)
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

” اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں والے جانوروں کی اور نہ حرمت والے گھر کا قصد کرنے والوں کی، جو اپنے رب کا فضل اور خوشنودی تلاش کرتے ہیں اور جب احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ حد سے بڑھ جاؤ، اس لیے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا ہے نیکی اور تقوٰی پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ “ (2)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ حرمت و حلت کے سلسلہ میں انسان حد سے زیادہ حساس واقع ہوا ہے۔ اس لیے پھر ” یَاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ کے خطاب سے حرمت و حلت کے مسائل کی تفسیر بیان کی جار ہی ہے۔ جس کا مفہوم یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو۔ اپنے ایمان کو تازہ اور پختہ کرو اور حرمتوں کا احترام کرو حرمتوں کے لیے ” شعائر اللّٰہ “ کا لفظ استعمال کیا تاکہ ان کی اہمیت کا مزید احساس پیدا ہو شعائر ” شعیر ۃ “ کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے کہ دین کی ایسی علامت جس سے دین یا اس کے کسی رکن کی شناخت اور تکریم واضح ہوتی ہو۔ شعائر اللہ میں سے چار کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ بعض اہل علم نے شعائر میں کسی قوم یا ملک کی اس نشانی کو بھی شامل کیا ہے جس سے کسی قوم کی قومی اور مذہبی شناخت ہوتی ہے۔ جیسا کہ قومی پرچم اور مخصوص قومی لباس ہے۔ انھیں قومی شعائر تو کہا جاسکتا ہے لیکن یہ چیزیں شعائر اللہ کا مقام حاصل نہیں کرسکتیں۔ 1۔ حرمت والے مہینے۔ ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، یہ مہینے اس وقت سے محترم قرار پائے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ہے۔ (التوبۃ : 36) مفسرین نے ان کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ان مہینوں میں لوگ حج کرنے کے لیے بیت اللہ آیا کرتے تھے۔ اس لیے ابتدائے آفرینش سے انھیں محترم قرار دیا گیا تاکہ دور دراز سے آنے جانے والے زائرین کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ ان میں تین مہینے تو متواتر ہیں جبکہ چوتھا مہینہ رجب ہے جو رمضان المبارک سے دو مہینے پہلے آتا ہے اس کو اس لیے محترم ٹھہرایا گیا کہ قدیم زمانے سے لوگ اس میں بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ (2) (الھدی) اس سے مراد وہ جانور ہے جس کو بیت اللہ میں قربانی کے لیے نامزد کیا گیا ہو (3) (القلآئد) اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بیت اللہ بھیجے جانیوالے جانوروں کے گلے میں ڈالی جاتی تھیں۔ یہ پرانی جوتی، دھاگہ یا اس کے جسم پر ہلکی سی خراش دے کر اس کے بالوں پر خون لگا دیا جاتا تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ جانور اللہ کے لیے قربانی کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ (4) زائرین حرم۔ یہ لوگ اللہ کی راہ کے مسافر، اس کے گھر کے مہمان اور اس کے فضل و کرم کے طلبگار ہوتے ہیں اس لیے ان کا احترام و اکرام کرنا بھی واجب قرار دیا گیا ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کھیلنے پر پابندی تھی اب اس کی اجازت عنایت فرمائی کہ جب تم احرام کھول دو تو شکار کرنے کی اجازت ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو کفار نے مکہ داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ جو عربوں کی دینی اور ملّی روایات کے خلاف تھا۔ خطرہ تھا کہ صحابہ کرام اس حالت میں مدینہ واپس لوٹیں گے تو مدینہ کے راستے سے بیت اللہ کی زیارت کرنے والے کفار کو اس طرح روکنے کی کوشش کریں۔ جس طرح صحابہ کو روکا گیا تھا لہٰذا سختی کے ساتھ منع کردیا گیا کہ کسی قوم کا رد عمل بیت اللہ کی طرف آنے والے مسافروں کے لیے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مسلمانوں کی شان کے منافی ہے کہ وہ کفار جیسا وطیرہ اختیار کریں۔ مسلمان کی شان اور کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر نیکی اور تقوٰی کے کام میں تعاون کرے۔ چاہے نیکی کرنے والا مسلمان کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کو ظلم اور گناہ کی معاونت ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ بیشک ظلم اور گناہ کرنے والے ان کے عزیز و اقرباء کیوں نہ ہوں۔ مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے نیکی اور تقوٰی کے کام میں تعاون کرے بصورت دیگر۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت پکڑنے والا ہے۔ الا یہ کہ نیکی اور تقوٰی کا نام لے کر کوئی شخص اس کے پس منظر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کا ارتکاب کرے تو بظاہر نیکی ہونے کے باوجود ایسے آدمی سے تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے حضرت علی ؓ نے خارجیوں سے یہ کہہ کر عدم تعاون کا اعلان کیا تھا کہ یہ لوگ نیکی کے پردے میں باطل کی تائید کر رہے ہیں۔ (کَلِمَۃَ حَقٍ اَرِیْدَ بِہْ الْبَاطِلَ )[ البدایہ والنہایہ ] مسائل 1۔ اللہ کی نشانیوں (مناسک حج وغیرہ) کی بےحرمتی کرنا جائز نہیں۔ 2۔ عازمین حج کا احترام کرنا لازم ہے۔ 3۔ باہمی رنجش کی وجہ سے کسی کو بیت الحرام سے روکناجائز نہیں۔ 4۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ 5۔ گناہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کا فضل : 1۔ انسان کا خسارے سے بچنا اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ (البقرۃ : 64) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 243) 3۔ اللہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ (آل عمران : 74) 4۔ اللہ مومنوں پر اپنا فضل کرتا ہے۔ (آل عمران : 152) 5۔ اللہ کے فضل کے بغیر آدمی شیطان کا غلام بن جاتا ہے۔ (النساء : 83) 6۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر خوش ہونا چاہیے۔ (یونس : 58)
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

” تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کیا جائے اور گلا گھٹنے سے مرنے والا اور چوٹکھا کر اور گر کر اور سینگ سے مرنے والا اور جسے درندے نے کھایا ہو، مگر جو تم ذبح کرلو اور جو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے قسمت معلوم کرو یہ سراسر نافرمانی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آج تمہارے دین سے مایوس ہوگئے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کردیا ہے اور میں نے پوری کردی تم پر اپنی نعمت اور اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا، جو بھوک کی صورت میں مجبور ہوجائے اس حالت میں کہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا نہایت مہربان ہے “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : حرام و حلال کی مزید تفصیل۔ دین کے معانی : دین اسلام اپنے کام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے نام کے دامن میں بھی پوری جامعیت اور دنیا وآخرت کے معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے چناچہ دین کا معنی ہے (1) تابع دار ہونا (2) دوسرے کو اپنا تابع فرمان بنانا (3) مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا۔ (4) قانون (5) مکمل ضابطۂ حیات (6) جزاء وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی لفظ دین بولا جاتا ہے۔ ذیل میں چند حوالے ملاحظہ فرمائیں۔ اطاعت : (اِنَّآ اَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدَّےْنَ ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّےْنُ الْخَالِصُ ) [ الزمر : 2، 3] ”(اے نبی) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو (اطاعت) کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ خبردار، اطاعت خالص اللہ کا حق ہے۔ “ تابع بنانا : (ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بالْہُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ )[ التوبۃ : 33] ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب ادیان پر غالب کردے چاہے مشرک ناپسند ہی کریں۔ “ قانون اور ضابطہ : (فَبَدَاَ بِاَوْعِےَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِےْہِ ثُّمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَاءِ اَخِےْہِ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِےُوْسُفَ مَا کَانَ لِےَاْخُذَ اَخَاہُ فِی دِےْنِ الْمَلِکِ ) [ یوسف : 76] ” تب یوسف نے اپنے بھائی سے پہلے ان دوسروں کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی ‘ پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اسے یہ اختیار نہ تھا کہ بادشاہ کے دین یعنی مصر کے شاہی قانون میں اپنے بھائی کو پکڑتا۔ “ نظام حکومت : (وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْےَدْعُ رَبَّہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِےْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ )[ مومن : 26] ” ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا ‘ چھوڑو مجھے میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔ “ دین بمعنی دین : (قَاتِلُوا الَّذِےْنَ لَا ےُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَا بالْےَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا ےُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا ےَدِےْنُوْنَ دِےْنَ الْحَقِّ ) [ التوبہ : 29] ” جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ “ روز قیامت : (یَّصْلَوْنَھَا ےَوْمَ الدِّ ےْنِ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآءِبِےْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ) [ الانفطار : 15 تا 18] ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے۔ “ جزاء و سزا : (مٰلِکِ ےَوْمِ الدِّےْنِ ) [ فاتحۃ : 3] ” روز جزا کا مالک ہے۔ “ مذہب اور دین میں بنیادی فرق : عربی لغت میں مذہب نام ہے رسومات ‘ چند عبادات اور طریقے کا۔ جبکہ دین عبادات ‘ احکامات ‘ معاملات ‘ اخلاقیات گویا کہ دنیا وآخرت کے تمام امور دین میں شامل ہیں لفظ مذہب عربی زبان کا لفظ ہونے کے باوجود قرآن و احادیث کے وسیع ترین علمی ذخیرہ میں دین کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ جبکہ دین قرآن مجید اور عربی ادب میں ان تمام معنوں میں استعمال ہوا اور تمام معانی اور مفاہیم کا لفظ ” دین اسلام “ نے احاطہ کرلیا ہے۔ اسلام کا مرکزی اور جامع معنی سلامتی اور سپردگی کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں ایک اسم مبارک ” سلام “ ہے۔ اسم پاک ہونے کی وجہ سے اس کا معنی ٰ سلامتی والا اور سلامتی عطا فرمانے والا ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے امن و سلامتی کا پیغام اور اپنے ماننے والوں کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ قائم و دائم اور ہمیشہ سے سلامتی والا ہے اور رہے گا۔ اس طرح دین اسلام ہمیشہ قائم اور تسلیم ورضا اختیار کرنے والوں کو دنیاوآخرت کی سلامتی فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور دیتا رہے گا۔ دین اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائیوں اور عمل کی تمام اکائیوں کے ساتھ اس کے حلقۂ اثر میں شامل ہوجائے۔ اسلام کا مفہوم : ” ابراہیم کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا ” مسلم ہوجا “ تو اس نے فورًا کہا میں مالک کائنات کا تابع ہوگیا۔ اس طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو بھی کی تھی اور اسی کی وصیّت یعقوب اپنی اولاد کو کر گئے۔ انہوں نے کہا میرے بچو ‘ اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ “ [ البقرۃ : 131‘ 132] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ “ [ آل عمران : 102‘ 103] اسلام مکمل تابع داری کا تقاضا کرتا ہے : ” اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ [ البقرۃ : 208] ” کہیے ! میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔ کہیے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔ “ [ الانعام : 162 تا 164] دین فطرت : قرآن مجید نے اسلام کو دین فطرت قرار دیا ہے کہ اس کا ہر حکم اور ارشاد انسان کی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہے فطرت کو سمجھنے کے لیے کسی بھی نو مولود بچے کی عادات و حرکات پر غور فرمائیں۔ تجربہ اور مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ بطخ کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی کی طرف بھاگتا ہے، مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے پاؤں اور پروں میں سکون پاتا ہے، انسان کا نومولود اپنی مامتا کی چھاتی کی طرف لپکتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اس کی فطرت اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی فطرت کی ترجمانی کرتے ہوئے آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ہر گھر کے آنگن میں پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ (مَامِنْ مَوْلُوْدٍ ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْےُمَجِّسَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ ) [ مشکٰوۃ : باب الایمان بالقدر ] ” ہر جنم لینے والا بچہ فطرت سلیم پر پیدا ہوتا ہے یہ تو والدین کی تربیت کے اثرات ہونگے کہ اسے یہودی، عیسائی یا آتش پرست بنا دیں۔ “ بھینس کا بچہ اگر کچھ لمحوں کے لیے بھول کر بھینس کے تھنوں کی بجائے اگلی ٹانگوں میں منہ ڈالتا ہے تو مالک کے ایک اشارے کے بعد دوبارہ دودھ پینے والی جگہ کو نہیں بھولتا۔ انسانی فطرت کا خود اپنا تقاضا ہے کہ وہ اپنے رب سے مانگے اور اس کے سامنے جھکتا رہے۔ اس کے باوجود پیدا ہوتے ہی اس کے کانوں میں اذان اور اقامت کہہ کر اسے بتلایا ہے گیا کہ اب تمہیں یہ سبق نہیں بھولنا کہ تیرا الٰہ ایک ہے اس نے ہی تجھے پیدا کیا اور تجھے ہر حال میں اس کے سامنے جھکنا ہوگا۔ جو شخص بڑا ہو کر توحید کے اس فطری راستے اور تقاضے کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیوں پر چلتا ہے وہ اپنے رب کا نافرمان ہی نہیں بلکہ اپنی فطرت سے بھی بغاوت کررہا ہوتا ہے۔ ان آیات میں انسان کو بغاوت و سرکشی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اسی فطرت کا حوالہ دیا جا رہا ہے : ” پس اے نبی اور نبی کے ماننے والو ! یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم کرو۔ جس فطرت پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت بدلنے کی اجازت نہیں ہے ‘ یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ قائم ہوجاؤ اس بات پر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں شامل نہ ہوجاؤ۔ “ [ الروم : 30‘ 31] مومن اور مشرک کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ موحّد کی فطرت اپنی اصلّیت پر قائم رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر حال میں اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کرتا ہے۔ مشرک نے اپنی فطرت سے انحراف کیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خوش حالی اور امن و سکون کی حالت میں اپنے سچے اور حقیقی خالق کو براہ راست پکارنے کی بجائے دوسروں کے توسُّط سے سوال کرتا ہے لیکن ایسا شخص جب مسائل اور مصائب کے گرداب میں پھنس کر اسباب و وسائل سے مایوس ہوجاتا ہے تو وہ بےساختہ پکار اٹھتا ہے کہ الٰہی تیرے سوا کوئی میری مدد کرنے والا نہیں۔ گویا کہ فطرت اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اسباب کے حجاب اور وسائل کے پردے اٹھ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست پکار رہا ہے۔ یہی وہ فطرت صحیحہ اور اس کی حقیقی آواز ہے جس سے انسان وسائل کی وجہ سے بغاوت کرتا ہے۔ ” اور جب سمندر میں ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے ‘ پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اغماض برتتا ہے اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشکرا ہے۔ “ [ لقمٰن : 32] مسائل 1۔ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے۔ 2۔ شرک کی جگہ پر ذبح کیا ہوا جانور بھی حرام ہے۔ 3۔ کفار سے مرعوب ہونے کی بجائے اللہ پر ایمان پختہ رکھنا چاہیے۔ 4۔ دین اسلام مکمل ہوچکا ہے۔ 5۔ انتہائی مجبوری کی حالت میں بعض حرمت والی چیزیں جائز ہیں۔ تفسیر بالقرآن اسلام کا معنی اور مفہوم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم فرمانبردار بن جا تو ابراہیم اسی وقت رب کے مطیع ہوگئے۔ (البقرۃ : 131) 2۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے مطیع ہونے کا نام اسلام ہے۔ (الصافات : 103 تا 105) 3۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (سورۃ آل عمران : 19) 4۔ جو اسلام کے علاوہ دوسرا دین تلاش کرے گا وہ خسارہ اٹھائے گا۔ (آل عمران : 85) 5۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ (الانعام : 125) 6۔ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی روشنی پر ہے۔ (الزمر : 22) 7۔ جس نے اپنے چہرے کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔ (لقمان : 22)
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

” آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ؟ فرما دیجئے تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جو تم نے سکھلائے ہیں جنہیں تم سکھلاتے ہو، جیسے اللہ نے تمہیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھاؤ، جو وہ تمہارے لیے روک رکھیں۔ اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : حرام کے بعد حلال کی وضاحت۔ سابقہ آیات میں حرام کی ایک فہرست پڑھی گئی ہے اس لیے سوال پیدا ہوا کہ یہ چیزیں تو حرام ہیں لیکن حلال کونسی ہیں ؟ اس کے بارے میں وضاحت نازل ہوئی کہ تمہارے لیے ہر طیب چیز حلال کردی گئی ہے۔ سابقہ مذاہب میں یہ تھا کہ جو چیزیں ان کے مذہب میں حلال تھیں ان کے سوا باقی سب حرام تھا۔ دین اسلام نے اس کے خلاف فارمولا پیش فرمایا کہ حرام کے علاوہ تمام چیزیں اس شرط پر حلال ہیں کہ وہ پاک ہوں۔ پاک کے بارے میں اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ جو شریعت کے کسی اصول کے تحت حرام نہ ہوں اور اسے فطرت سلیم کھانا پسند کرے۔ وہ جانور بھی حلال ہوگا جو شکاری کتے کے ذریعے شکار کیا گیا ہو۔ جسے تم نے سدھا یا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سدھانے سے یہاں مرادشکار کرنے کے اصول و ضوابط ہیں۔ جس کی تین بنیادی شرائط ہیں۔ 1۔ کتا یا باز سدھا یا ہوا ہو۔ جس کی فقہاء نے یہ صفت بیان کی ہے کہ جب اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار کرے اور جب اسے روکا جائے تو رک جائے۔ یہاں تک کہ اگر وہ شکار پکڑنے کے لیے دوڑے یا اڑے۔ مالک اسے رک جانے کا اشارہ دے تو وہ واپس آجائے۔ 2۔ شکار خود کھانے کی بجائے مالک کے لیے شکار کرے اگر اس نے اس میں خود کھالیا تو وہ سدھایا ہوا تصور نہیں ہوگا اور نہ اس کا کیا ہوا شکار حلال ہوگا۔ 3۔ اسے چھوڑتے وقت ” بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر “ پڑھا گیا ہو۔ اس صورت میں شکار مرجائے تو پھر بھی حلال تصور ہوگا۔ یہی حکم بندوق سے شکار کرنے کا ہے۔ اس بات سے علم کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جس کتے کے ایک دفعہ برتن چاٹنے سے اسے ایک دفعہ مٹی کے ساتھ اور چھ مرتبہ پانی کے ساتھ دھونا پڑتا ہے۔ صرف علم کی بنیاد پر وہ اپنی نسل سے اس قدر ممتاز ہوا کہ اس کے ہاتھوں مرا ہوا جانور بھی حلال قرار پایا ہے۔ آیت کے آخر میں ” واتقو اللّٰہ اور سریع الحساب “ کے الفاظ استعمال فرما کر شکار کرنے والوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شکار ان شرائط پر پورا نہ اترے اور تم گوشت خوری کے شوق میں یونہی نوش کر جاؤ۔ ایسا کرنا حرام اور اللہ تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہوگی۔ لہٰذا یاد رکھو اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔ اس سے ڈرتے رہو واتقواللّٰہ کا یہ مفہوم بھی اخذ کیا گیا ہے کہ شکار کے جنون میں آکر فرض نمازوں سے غافل نہ ہونا جیسا کہ عام شکاری سارا دن شکار کے پیچھے دوڑتے ہوئے نماز کا خیال نہیں کرتے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَسَمَّیْتَ فَأَمْسَکَ وَقَتَلَ فَکُلْ وَإِنْ أَکَلَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَکَ عَلَی نَفْسِہٖ وَإِذَا خَالَطَ کِلَابًا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہَا فَأَمْسَکْنَ وَقَتَلْنَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَ وَإِنْ رَمَیْتَ الصَّیْدَ فَوَجَدْتَّہُ بَعْدَ یَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ لَیْسَ بِہٖ إِلَّا أَثَرُ سَہْمِکَ فَکُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِی الْمَاءِ فَلَا تَأْکُلْ ) ” حضرت عدی بن حاتم ؓ نبی معظم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تو اللہ کا نام لے کر کتا شکار کے لیے چھوڑے تو وہ شکار کرکے تیرے لیے پکڑے رکھے تو اس کو کھالو۔ اگر وہ کتا اس کو تھوڑا بہت کھالے تو پھر نہ کھانا۔ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ اگر اس کے ساتھ کوئی اور کتا شامل ہوجائے جس کو اللہ کا نام لے کر نہیں چھوڑا گیا اور وہ دونوں شکار کریں تو اس سے نہ کھانا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس نے شکار کیا ہے۔ اگر تم تیر کے ساتھ شکار کرو اور تم اپنے شکار کو ایک یا دو دن بعد پاؤ (بشرطیکہ وہ کھانے کے قابل ہو) تو اگر اس پر صرف تیرے ہی تیر کا نشان ہے تو اس کو کھالو اور اگر وہ پانی میں گرگیا ہو تو پھر نہ کھانا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح، ] مسا ئل 1۔ تمام پاک و صاف چیزیں حلال ہیں۔ 2۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار حلال ہے۔ 3۔ شکار کرتے ہوئے بھی بسم اللہ اللہ اکبرپڑھنا ضروری ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے احتساب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

” آج تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کردی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے جنہیں کتاب دی گئی اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور ایمان والیوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انہیں ان کے مہر دے دو ۔ عقد نکاح میں لانے والے، نہ مستی نکالنے والے اور نہ چھپی آشنایاں بنانے والے اور جو ایمان کا انکار کرے تو یقیناً اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں سے ہے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : حرام اور حلال کی مزید وضاحت۔ آج کے دن سے مراد نو ذوالحجہ ہے جس کے بارے میں پیچھے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دن تکمیل دین، اتمام نعمت اور مسلمانوں کے لیے شوکت اسلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں یہ بھی اعلان ہوا کہ باقی حلال چیزوں کے ساتھ تمہیں یہ بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اہل کتاب کا کھانا جس طرح کا بھی ہو وہ مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا۔ بلکہ اس میں اسلام کی حلال و طیب کی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ چیز نہ تو غیر اللہ کے نام پر پکائی گئی ہو اور نہ ہی ذبح کرتے وقت کسی غیر کا نام لیا گیا ہو۔ اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں جو آسمانی کتابوں پر یقین رکھتے ہوں بیشک وہ عمل اور عقیدے کے اعتبار سے کمزور ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ جن اہل کتاب کے متعلق اجازت دی گئی ہے ان کے جرائم کی قرآن مجید طویل فہرست پیش کرتا ہے۔ عقیدہ میں شرک کی آمیزش، کتاب اللہ میں تحریف کرنے والے اور سود خور بھی تھے۔ تیسری اجازت اس بات کی دی گئی کہ اہل کتاب کی باکردار اور با حیا عورتوں سے مسلمان کے لیے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ ان کا حق مہر ادا کیا جائے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے جاری کیے ہوئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی وہ کفر کا مرتکب ہوا۔ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ اعمال ضائع ہونے سے یہ بھی مراد ہے کہ بد کردار عورت سے نکاح کرنے میں آدمی کا وقار، عزت اور غیرت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی عورت سے جو اولاد ہوگی اسے بھی تشکیک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ جہاں تک اہل کتاب کی عورت سے نکاح کرنے کا تعلق ہے وہ اتنا کھلا اجازت نامہ نہیں جس طرح کہ لوگوں نے اپنی عیاشی کے لیے سمجھ رکھا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ہی کافی ہونی چاہیے۔ ابو بکر جصاص نے احکام القرآن میں شقیق بن سلمہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ جب مدائن پہنچے تو وہاں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ کو اس کی اطلاع ملی تو ان کو خط لکھا کہ اس کو طلاق دیدو۔ حضرت حذیفہ ؓ نے جواب میں لکھا کہ کیا وہ میرے لیے حرام ہے، تو پھر امیر المومنین فاروق اعظم ؓ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ میں حرام نہیں کہتا لیکن ان لوگوں کی عورتوں میں عام طور پر عفت و پاکدامنی نہیں ہے۔ اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ آپ لوگوں کے گھرانہ میں اس راہ سے فحاشی و بدکاری داخل نہ ہوجائے۔ امام محمد بن حسن (رح) نے کتاب الآثار میں اس واقعہ کو بروایت امام ابوحنیفہ اس طرح نقل کیا ہے کہ دوسری مرتبہ فاروق اعظم ؓ نے جب حضرت حذیفہ ؓ کو خط لکھا تو اس کے یہ الفاظ تھے : (اعزم علیک ان لا تضع کتابی حتّٰی تخلی سبیلھا فانی اخاف ان یقتدیک المسلمون فیخنارو النساء اہل الذمۃ لجمالھن وکفٰی بذلک فتنۃ لنساء المسلمین۔ ) (کتاب الآثار، ص : 156) ” یعنی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ میرا یہ خط اپنے ہاتھ سے رکھنے سے پہلے ہی اس کو طلاق دے کر آزاد کر دو ۔ کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ دوسرے مسلمان بھی آپ کی اقتدا کریں گے اور اہل ذمہ اہل کتاب کی عورتوں کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے مسلمان عورتوں پر ترجیح دینے لگیں گے۔ مسلمان عورتوں کے لیے اس سے بڑی مصیبت کیا ہوگی۔ “ مؤرخ اس کے جواب میں لکھتا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے امیر المومنین کا خط پڑھتے ہی اپنی پسندیدہ بیوی کو طلاق دے دی۔ مسائل 1۔ اہل کتاب کا کھانا حلال ہے۔ 2۔ اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔ 3۔ اہل کتاب کی عورتوں سے مشروط نکاح جائز ہے۔ 4۔ ایمان لانے سے انکار کرنے والے آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھولو۔ اور اگر جنبی ہو تو غسل کرلو اور اگر بیمار ہو یا کسی سفر پر یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیاہویاتم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو پھر اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر گزاربنو۔ “ (6)

فہم القرآن ربط کلام : غذائی پاکیزگی کے بعد جسمانی طہارت کا حکم۔ سورۃ النساء کی آیت 43 میں غسل اور تیمم کا مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔ اب حکم ہوا ہے کہ اے صاحب ایمان لوگو ! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو۔ اپنے سروں کا مسح کیا کرو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا کرو۔ اگر حالت جنابت میں ہو تو غسل کرکے پاک ہوجاؤ۔ کوئی شخص بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو یا اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کی ہو اور اسے پانی نہ ملے تو پاک مٹی پر ہاتھ مار کر منہ اور چہرے کا مسح کرو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سختی کا ارادہ نہیں رکھتا وہ تمہیں پاک کرنے اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان شکر گزار بن جائیں۔ وضو کی حالت میں بیوی کے ساتھ کس حد تک لمس جائز ہے ؟: آپ ﷺ نے وضو کے بعد اپنی بیوی سے بوس و کنار کیا تاکہ قرآن کا مفہوم متعین ہو اور امت کے لیے سہولت نکل آئے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَاءِہٖ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلا ۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الطہارۃ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ بلاشبہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے بوس و کنار کیا۔ پھر دوبارہ وضو کیے بغیر ہی نماز ادا کی۔ “ وضو کا طریقہ : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَہُ وَلاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالَی عَلَیْہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب التَّسْمِیَۃِ عَلَی الْوُضُوءِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی اور بسم اللہ کے بغیر وضو نہیں ہوتا۔ “ (عن عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ اَنَّہٗ دَعَا بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلٰی کَفَّیْہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَہُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِینَہُ فِی الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوءِی ہٰذَا ثُمَّ صَلٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فیہِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الو ضوء، بَاب الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ] ” حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی والا برتن منگوایا۔ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے ہوئے انھیں تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن سے پانی لے کر کلی کی اور ناک صاف کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھونے کے ساتھ بازوؤں کو کہنی تک دھویا۔ پھر سر کا مسح کرتے ہوئے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر کہا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس نے میرے وضو جیسا وضو کیا پھر دو رکعت نماز ادا کی۔ اس دوران اس نے دل میں کسی سے گفتگو نہ کی تو اس کے پہلے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنْ الْمُتَطَہِّرِینَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَاءَ )[ رواہ الترمذی : باب فیما یقال بعد الوضوء ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے داخل ہوجائے۔ “ تیمم کا طریقہ : ( عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰی ؓ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ فَقَالَ إِنِّی أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبْ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْکُرُ إِنَّا کُنَّا فِی سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فَصَلَّیْتُ فَذَکَرْتُ للنَّبِیِّ ﷺ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہٰکَذَا فَضَرَبَ النَّبِیُّ ﷺ بِکَفَّیْہِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فیہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ )[ رواہ البخاری : کتاب التیمم، باب الْمُتَیَمِّمُ ہَلْ یَنْفُخُ فیہِمَا ] ” سعید بن عبدالرحمن بن ابزی ؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا میں جنبی ہوگیا ہوں۔ میرے پاس پانی نہیں ہے، حضرت عمار بن یاسر ؓ نے عمربن خطاب ؓ سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ ہم دونوں ایک سفر میں تھے آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی اور میں نے مٹی پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ سے کی تو نبی معظم ﷺ نے فرمایا آپ کو صرف اتنا ہی کافی تھا نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ ان میں پھونکا اور پھر ان دونوں کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیا۔ “ مسائل 1۔ نماز کے لیے وضو کرنا لازم ہے۔ 2۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پاک صاف دیکھنا چاہتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

” اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سینوں کے راز جاننے والا ہے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : دین اسلام کی تکمیل، حلال چیزوں کی فہرست میں وسعت و کشادگی، پاکیزگی کے احکامات، نعمتوں کی یاد دہانی کے بعد وہ عہد یاد کروایا ہے جو انسانیت نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنی تخلیق کے وقت کیا تھا، کلمۂ طیبہ اس عہد کی تائید ہے کیونکہ انسان اس میں یہ اقرار کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کی عبادت اور اس کے حکم میں شریک نہیں کروں گا۔ وہی عبادت کے لائق اور احکم الحاکمین ہے بندہ اس میں یہ بھی اقرار کرتا ہے کہ میرے قائد اور پیشوا حضرت محمد ﷺ ہیں۔ میں انہی کے فرمان اور طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت اور زندگی کے تمام معاملات طے کرتا رہوں گا۔ مفسرین نے اس عہد سے مرادصحابہ کا صلح حدیبیہ کا عہد بھی لیا ہے۔ انسان جو بھی اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے اسے ہر حال میں پورا کرنا اور اس پر سختی کے ساتھ کاربند رہنا چاہیے۔ عہد کی پاسداری کے لیے یہاں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں ایک اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے بغیر صحیح معنوں میں نہ آدمی صالح کردار ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی عہد کی پاسداری کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے پوری طرح واقف ہے جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ظاہر اور باطن ایسا ہونا چاہیے کہ جس پر خدا خوفی کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا اور اس کا تقوٰی اختیار کرنے والا ہی اپنے عہد کی پاسداری کیا کرتا ہے۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ؓ یَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَنَحْنُ فِی مَجْلِسٍ تُبَایِعُونِی عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکُوا باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُہْتَانٍ تَفْتَرُونَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوا فِی مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَأَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْءًا فَعُوقِبَ فِی الدُّنْیَا فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْءًا فَسَتَرَہُ اللّٰہُ فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَہُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْہُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذٰلِکَ )[ رواہ البخاری : باب بَیْعَۃِ النِّسَاءِ ] ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ہمیں ایک مجلس کے دوران فرمایا کہ تم ان باتوں پر میری بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نہ تم چوری اور نہ ہی زنا کرو۔ اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو اور تم کسی پر من گھڑت بہتان نہ باندھو۔ اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کرو۔ جس نے اس بیعت کی پاسداری کی اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے جس کسی نے ان باتوں کا ارتکاب کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں سزا دے گا جو اس کے لیے کفارہ ہوگا۔ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے سزا دے اور چاہے تو اس سے درگزر فرمائے۔ ہم سب نے اس پر بیعت کی۔ “ جب رسول محترم گفتگو فرماتے تو وہ خاموشی کے ساتھ سنتے۔ اور تعظیم کی بنا پر آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہ بات کرتے۔ مکہ والوں کا نمائندہ عروہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کی طرف پلٹا تو کہا اے میری قوم میں وفود کے ساتھ بادشاہوں کے پاس گیا۔ مجھے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں بھی جانے کا موقع ملا مگر اللہ کی قسم جتنی عزت و تعظیم محمد ﷺ کے ساتھی اس کی کرتے ہیں کسی بادشاہ کی رعایا اتنی تعظیم اس کی نہیں کرتی۔ اللہ کی قسم وہ تھوک نہیں پھینکتے مگر وہ اس کے ساتھیوں کے ہتھیلیوں میں گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہروں اور جسم کے ساتھ مل لیتے اور جب وہ کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل میں جلدی کرتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو قریب ہے کہ اس کے ساتھی اس کے وضو کے پانی پر لڑ پڑیں اور جب وہ کلام کرتا ہے تو وہ اپنی آوازوں کو پست کرلیتے ہیں اور آپ کی طرف آپ کی عظمت کی وجہ سے نگاہ نہیں اٹھاتے اور تحقیق اس نے تمہارے سامنے ایک عظیم چیز پیش کی ہے اسے قبول کرلو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہر وقت یاد رکھنی چاہییں۔ 2۔ وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تفسیر بالقرآن تقویٰ کیا ہے ؟ 1۔ جنگ اور مصیبتوں میں صبر اختیار کرنا سچ بولنا تقوٰی ہے۔ (البقرۃ : 177) 2۔ حلال روزی کھانا، اللہ پر ایمان لانا اور اس سے ڈرنا تقوٰی ہے۔ (المائدۃ : 88) 3۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دینا اور اس پر قائم رہنا تقوٰی ہے۔ (طٰہٰ : 132) 4۔ شعائر اللہ کا احترام کرنا تقویٰ ہے۔ (الحج : 32) 5۔ حج کے سفر میں زاد راہ لینا تقوٰی ہے۔ (البقرۃ : 197)
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

” اے لوگو ! اللہ کی خاطر پوری طرح قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر امادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو یہ تقوٰی کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : تکمیل دین کی خوش خبری درحقیقت اسلامی انقلاب کے غلبہ کی نوید ہے اس لیے صحابہ ؓ اور مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اہل مکہ اور دیگر قبائل نے جس جس انداز سے نبی ﷺ اور آپ کے رفقاء پر جو رواستبداد کیا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ صحابہ ] جب اہل کفر پر غالب آتے تو ان سے گن گن کر بدلے لیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ ہدایت فرمائی کہ ” اے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والو ! تمہیں ہر حال میں اپنے رب کی رضا کے لیے عدل و انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ “ (النساء : 135) میں اس سے ملتا جلتا حکم پہلے گزر چکا ہے وہاں گواہی کے بارے میں اپنی ذات اور اعزاء و اقرباء کی طرف داری سے روکا گیا تھا۔ دوسری بات جو عدل کے معاملہ میں رکاوٹ بنتی ہے وہ کسی فرد یا قوم کی دشمنی اور عداوت ہوا کرتی ہے لہٰذا یہاں اس بات سے روکا گیا ہے کہ بیشک کسی فرد یا قوم کے ساتھ تمہاری دشمنی ہی کیوں نہ ہو یہ عدل و انصاف کی راہ میں آڑے نہیں آنی چاہیے دونوں آیات میں یہ تلقین فرمائی ہے کہ یہ کام عقیدت و عداوت سے بالا تر ہو کر محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا اور خدا خوفی کا خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ہر دم یہ عقیدہ تازہ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری حرکات و سکنات اور اعمال و کردار کی خبر رکھنے والا ہے۔ شہادت کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن کے مصنف مفتی محمد شفیع ؓ لکھتے ہیں :” ڈاکٹر کا میڈیکل سر ٹیفکیٹ جاری کرنا، مہتمم کا طالب علموں کے پیپروں پر نمبر لگانا، انتخاب کے وقت کسی کو ووٹ دینا بھی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔ “ فرماتے ہیں کہ ووٹ کی دو حیثیتیں ہیں۔ 1۔ ووٹ دینا شہادت ہے جو آدمی تحریراً یا ہاتھ اٹھا کر کسی آدمی کے اہل ہونے کے بارے میں دیتا ہے۔ 2۔ ووٹ دیناکسی کو اپنے ذاتی اور قومی معاملات میں وکیل بنانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا یہاں بھی عدل و انصاف کو پیش نگاہ رکھ کردینا چاہیے کیونکہ اس کے مضمرات ایک فرد نہیں بلکہ ملک و ملت کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ الْکَبَاءِرِ قَالَ الإِْشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ “ مسائل 1۔ ہمیشہ سچی اور انصاف پر مبنی گواہی دینی چاہیے۔ 2۔ باہم چپقلش کی وجہ سے انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ 3۔ عدل کرنا تقوٰی کے زیادہ قریب ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن عدل کی اہمیت : 1۔ عدل کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ سینوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ (المائدۃ : 8) 2۔ اور جب فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کا فیصلہ کرو۔ (النساء : 58) 3۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کا فیصلہ کروں۔ (الشوریٰ : 15) 4۔ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کا فیصلہ کریں اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ : 42) 5۔ کہہ دیجیے مجھے میرے رب نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الاعراف : 29) 6۔ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کریں۔ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (الحجرات : 9) 7۔ جب بات کرو تو عدل و انصاف کی کرو۔ ( الانعام : 152) 8۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (النحل : 90)
Ayahs 5:9–10

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

” اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ (9)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

’ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ جہنم والے ہیں۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری اور عہد کی پاسداری کا صلہ، اس کے مقابلے میں ناقدری و عہد شکنی اور تکفیر و تکذیب کی سزا بیان کی گئی ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ جب وہ اچھے اور برے اعمال کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اچھے کام کا اجر اور برے کام کے انجام کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تصویر کے دونوں رخ آدمی کے سامنے ہوں تاکہ اس کے لیے اچھے اور برے کی تمیز اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ مراد یہ ہے جس ایمان پر قائم رہنے اور صالح کردار کو اختیار کرنے کا تم سے عہد لیا گیا ہے اگر اس پر پورا اتر و گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم اور اس کی مغفرت و رحمت کے حق دار ہو گے۔ اس کے مقابلے میں کفر اختیار کروگے اور برے اعمال کے مرتکب ہوگے تو تمہیں دہکتی ہوئی جہنم میں رہنا ہوگا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے بخشش کا وعدہ فرمایا ہے۔ 2۔ نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بہت زیادہ اجر ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے جہنم میں ہوں گے۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ پر اللہ کا انعام یاد کرو جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمہاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو۔ چاہیے کہ مومن اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : نعمتوں کی یاد دہانی اور ان کی قدر شناسی کے بعد دو قسم کے انجام کا ذکر ہوا۔ اب دشمن کے مقابلہ میں تحفظ فراہم کرنے کا انعام یاد کرایا جا رہا ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اس آیت کا شان نزول ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ رسول محترم ﷺ چند صحابہ ؓ کے ساتھ یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کے ہاں پہنچے آپ کسی معاملہ کے بارے میں گفتگو فرمار ہے تھے۔ یہودیوں نے عمرہ بن جحش کو کہا کہ تم مکان کی چھت سے ایک بھاری پتھر نبی کے اوپر گراؤ تاکہ اس کا خاتمہ ہوجائے۔ کچھ اہل علم نے تنعیم کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کی ایک جماعت نے صحابہ پر شب خون مارنے کی سازش کی۔ لیکن صحابہ ؓ کے جذبہ اطاعت شعاری سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ انھوں نے آگے بڑھنے کی بجائے پسپائی میں خیر جانی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کو یاد کرو جب لوگوں نے تم پر جارحیت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اعصاب توڑ دیے۔ واقعہ یاد کروانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنانے اور اسے نافذ کرنے میں کسی قسم کا خوف خاطر میں نہیں لانا چاہیے اور غیروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے کبھی نقصان نہیں اٹھاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں کافی ہوتا ہے۔ (الطلاق : 3) اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرنے سے مسلمان کے کردار میں پرہیزگاری اور نکھار پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے غیروں کے مقابلہ میں حوصلہ، جرأت اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ( عَنْ أَبِی مُوسٰی ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ شخص کی سی ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ یَقُول اللّٰہُ تَعَالَی أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَأَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِی فَإِنْ ذَکَرَنِی فِی نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہُ فِی نَفْسِی وَإِنْ ذَکَرَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُہُ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب یحذرکم اللہ نفسہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں اپنے بندے کے ساتھ اپنے بارے میں اس کے ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ وہ جب میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میرا ذکر کسی گروہ میں کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر گروہ میں کرتا ہوں۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) [ رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کائنات ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ “ مسائل 1۔ ہرو قت اللہ تعالیٰ کے احسان یاد رکھنے چاہییں۔ 2۔ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی حفاظت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے : 1۔ مومنوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 122) 2۔ جب کسی کام کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ (آل عمران : 159) 3۔ احد کے غازیوں نے کہا ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور وہی ہمیں کافی ہے۔ (آل عمران : 173) 4۔ مومن اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ (الانفال : 2) 5۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اللہ ہی اس کو کافی ہے۔ (الطلاق : 3)