Ayah 5:12فہم القرآن
ربط کلام : دین کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ انہی کا بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا۔ جس کے بڑے بڑے اصول یہ ہیں، جن کی پاسداری کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہود و نصاریٰ کو انہی پر ایمان لانا چاہیے۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کی اٹھارہ باتوں کا ذکر کیا ہے۔ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے کوہ طور کو ان کے
سروں پر منڈلایا گیا اور ان کے قبائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں بارہ 12 نقیب مقرر کیے۔ نقیب کا معنیٰ ہے کڑی نگرانی اور دوسرے کے معاملات کو کنٹرول کرنے والا۔ ان نقباء کی تعیناتی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو تعینات فرمایا تھا۔ جن باتوں کا بنی اسرائیل سے بار بارعہد لیا گیا ان کا خلاصہ اس آیت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل اگر ان باتوں پر سختی سے عمل پیرا ہوجاؤ تو نہ صرف اللہ کی دستگیری اور معیت تمہیں حاصل ہوگی۔ بلکہ گناہوں کی معافی اور تمہارا جنت میں داخلہ یقینی ہوگا۔ جس نے اس عہد کی خلاف ورزی کی وہ ہماری دستگیری سے محروم اور صراط مستقیم سے گمراہ تصور ہوگا۔ ” سواء السبیل “ سے مراد شریعت کا متوازن اور معتدل راستہ ہے جو ہر قسم کی افراط وتفریط سے پاک ہے۔
عہد کی بنیادی شرائط اور اہمیت :
1۔ نماز قائم کرنا : ہر دین میں نماز اللہ تعالیٰ کی نہایت ہی پسندیدہ عبادت رہی ہے۔ جو فکر وعمل کی پاکیزگی کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے حقوق کی ترجمان ہے۔
2۔ زکوٰۃ : یہ غرباء سے عملی ہمدردی کا مظہر، بخل کا علاج اور تزکیۂ مال کے ساتھ غریبوں کے حقوق کی محافظ ہے۔
3۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی تکریم و معاونت کرنا کیونکہ انبیاء ہی اللہ تعالیٰ کے ترجمان اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرکے دکھلانے والے ہیں۔ لہٰذا ان کی تکریم اور تابعداری فرض ہے۔ ایمان لانے اور تکریم کرنے میں بدرجۂ اولیٰ نبی آخر الزمان ﷺ شامل ہیں۔ کیونکہ ہر نبی اور رسول آپ ﷺ کی آمد کا اعلان کرتا رہا۔ اور سب انبیاء سے نبی ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی تائید کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔
صدقہ سے مراد عام صدقہ بھی ہے اور زکوٰۃ بھی :
صدقہ کرنے کی یہ کہہ کر تلقین فرمائی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے قرض کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا تاکہ دینے والے کے دل میں حوصلہ اور امید پیدا ہو کہ مجھے اس سے زیادہ ملنے والا ہے۔
عہد کی پاسداری کا صلہ :
اے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے عہد کی پاسداری کرتے رہو اس سے تمہیں اللہ تعالیٰ کی دستگیری اور تائید حاصل ہوگی تمہاری بشری کوتاہیوں کو معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کی شرائط :
1۔ لاَ تَعْبُدُوْنَ إِلاَّ اللّٰہَ ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔
2۔ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِ حْسَاناً ۔ والدین کے ساتھ احسان کرنا۔
3۔ وَذِي الْقُرْبٰی۔ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ
4۔ وَالْیَتَامٰی۔ یتیموں کے ساتھ
5۔ وَالْمَسَاکِیْنِ ۔ اور غریبوں کے ساتھ احسان کرنا۔
6۔ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْنًا۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔
7۔ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ ۔ نماز قائم کرنا۔
8۔ وَآتُوا الزَّکٰوۃَ ۔ زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ : 83)
9۔ لاَ تَسْفِکُوْنَ دِمَاءَ کُمْ ۔ آپس میں خون نہ بہانا۔
10۔ وَلاَ تُخْرِجُوْنَ أَنْفُسَکُم مِنْ دِیَارِکُم۔ کمزوروں کو ان کے گھروں سے نہ نکالنا۔ (البقرۃ : 84)
11۔ خُذُوْا مَا آتَیْنَاکُم بِقُوَّۃٍ ۔ اللہ کے احکام کو پوری قوت کے ساتھ پکڑے رکھنا۔
12۔ وَاسْمَعُوْا۔ اللہ کے احکام سننا۔ (البقرۃ : 93)
13۔ لَتُبَیِّنُنَّہٗ للنَّاس۔ انھیں لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔
14۔ وَلاَ تَکْتُمُوْنَہٗ ۔ انھیں ہرگز نہ چھپانا۔ (اٰل عمران : 187)
15۔ آمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ ۔ اللہ کے انبیاء پر ایمان لانا۔
16۔ وَعَزَّرْتُمُوْھُمْ ۔ ان کی تعظیم کرنا۔
17۔ وَأَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا۔ اللہ کو قرض دینا یعنی صدقہ کرنا۔ (المائدۃ : 12)
مسائل
1۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل اور بارہ سردار تھے۔
2۔ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے والوں کا اللہ مددگار ہوتا ہے۔
3۔ نیکی کے کام کرنے سے برائیاں مٹ جاتی ہیں۔
4۔ اللہ کے عہد کی پاسداری نہ کرنے والے گمراہ ہوجاتے ہیں۔
5۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائیں گے۔
Ayah 5:13فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
بار بار عہد لینے، اور بارہ نگران مقرر کرنے کے باوجود بنی اسرائیل کو جو نہی کچھ ڈھیل حاصل ہوتی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی ایک ایک شق کو نہ صرف ٹھکراتے بلکہ اس کے مفہوم کو بدل دیتے یہاں تک کہ الفاظ بھی تبدیل کرکے ہر نصیحت اور سرزنش کو فراموش کردیتے۔ جس کا بنیادی سبب ان کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر پڑنے والی لعنت اور پھٹکار تھی۔ لعنت کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم ہونا ہے۔ جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوجائے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ جس کے سبب اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے کے درپے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی یہ عادت خبیثہ اور فطرت ثانیہ بن جاتی ہے، جس وجہ سے ان کی اکثریت ہر قسم کی خیانت کو جائز سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل یہود کی تاریخ عہد شکنی، مالی اور اخلاقی خیانت سے بھرپور ہے۔ یہاں پھر اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خیانت کے حوالے سے مستثنیٰ قرار دیے جاسکتے ہیں۔ آیت کے آخر میں نبی ﷺ کو یہ تعلیم دی گئی ہے اے نبی ﷺ آپ ان سے الجھنے کی بجائے معاف کریں یا درگزر فرمائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیءَۃً نُکِتَتْ فِی قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہُ وَإِنْ عَاد زیدَ فیہَا حَتَّی تَعْلُوَ قَلْبَہُ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِی ذَکَرَ اللّٰہُ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ قَالَ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة ویل للمطفین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول معظم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ ایک غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ توبہ استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ اس غلطی کا اعادہ کرتے ہوئے مزید گناہ کرے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ پورے دل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے اور وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے : ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ لگا دیا گیا ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یُنْصَبُ لِغَدْرَتِہِ )
[ رواہ البخاری : باب إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ ہر بد عہد کے لیے جھنڈا ہوگا جو اس کی بد عہدی کے مطابق نمایاں ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ وعدہ پورا نہ کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے۔ 2۔ وعدہ پورا نہ کرنے کی و جہ سے دل سخت ہوجاتے ہیں۔
3۔ نیکی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
یہودیوں پر لعنت کے اسباب :
1۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدلنے کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی۔ (النساء : 46)
2۔ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے کفر کی وجہ سے حضرت داؤد اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے لعنت کی۔ (المائدۃ : 78)
3۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو توڑنے پر لعنت ہوئی۔ (الرعد : 25)
4۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے کی وجہ سے لعنت کی گئی۔ (البقرۃ : 159)
5۔ اللہ تعالیٰ پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر لعنت ہوئی۔ (ھود : 18)
Ayahs 5:14–15فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے بعد عیسائیوں کے کردار کا بیان۔
اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں لیکن کبھی کبھی اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ یہ فرق متعلقہ آیات کے سیاق وسباق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے، یہاں پہلی آیات میں یہودیوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب عیسائیوں سے خطاب ہو رہا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو عہد یہودیوں سے لیا گیا تھا وہی عہد عیسائیوں سے بھی لیا گیا۔ انجیل سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ میں تورات کی تکمیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کے لیے آیا ہوں۔ اس بنا پر یہاں فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کا عہد توڑتے ہوئے انجیل میں تحریف اور اس میں نازل شدہ نصیحتوں کو یکسر فراموش کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی اسی طرح عیسائی بھی مستوجب عذاب قرار پائے۔
جو اللہ کی کتاب لوگوں کو متحد رکھنے کے لیے نازل ہوئی تھی جب اس میں تغیر و تبدّل کردیا گیا تو وہ ناقابل اعتمادبن گئی اب اس کا منطقی نتیجہ تھا کہ عیسائی بھی یہودیوں کی طرح کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اب ان کی باہمی مخاصمت اور عداوت قیامت تک باقی رہے گی جس کا انجام اللہ تعالیٰ ان کے سامنے لائے گا۔ باہمی عدوات سے مراد یہودیوں اور عیسائیوں کی عداوت بھی ہوسکتی ہے۔
(عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ افْتَرَقَتِ الْیَہُودُ عَلَی إِحْدَی وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَی عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَإِحْدَی وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِی النَّار قیلَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ ہُمْ قَالَ الْجَمَاعَۃُ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم ]
” حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں بٹے تھے ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور عیسائی بہتر فرقوں میں بٹے تھے ان میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی، صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں آپ نے فرمایا وہ جماعت (جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے) ہے۔ “
مسائل
1۔ یہودیوں کی طرح عیسائیوں سے بھی پختہ عہد لیا گیا۔
2۔ یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔
3۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو آشکار فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 76)
2۔ بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (الممتحنۃ : 8)
3۔ غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 134)
4۔ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 146)
5۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 148)
6۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ : 108)
7۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں منظم ہو کر لڑتے ہیں۔ (الصف : 4)
Ayah 5:16فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کو الگ، الگ خطاب کرنے کے بعد مشترکہ خطاب۔
اب یہود و نصاریٰ کو اکٹھا خطاب کرتے ہوئے نصیحت کی جا رہی ہے کہ اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا آخری رسول آپہنچا ہے جو تورات اور انجیل کی ایسی حقیقتیں منکشف کر رہا ہے جن کو تم نے کلی طور پر چھپا رکھا تھا اور بہت سی تمہاری ذاتی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا ہے یقیناً تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا نور اور واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی خوشی کا طلب گا رہے اور اس کی جستجو کرتا ہے اللہ اپنے حکم سے اسے تاریکیوں سے نکال کر روشن فضا اور سیدھے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ سبل السلام سے مراد وہ سیدھا راستہ ہے جس کی صراط مستقیم کہہ کر وضاحت کی گئی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 257 میں ” ظلمات “ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا جا چکا ہے کہ دنیا میں شرک و بدعت، رسومات و خرافات اور دیگر گمراہیوں کی شکل میں بہت سے اندھیرے ہیں لیکن روشنی ایک ہی ہے جو ہدایت کی صورت میں ہمیشہ سے ایک ہی چلی آرہی ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کا متلاشی اور ہدایت کے راستے کا راہی بنتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ یقیناً ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔
یہاں ایک مفسر نے اپنے باطل عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے تفسیر ابن جریر سے ایک غیر مستند قول نقل کیا ہے کہ نور سے مراد رسول محترم ﷺ کی ذات ہے جبکہ ایک معمولی گرائمر جاننے والا شخص بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ” نورو کتاب مبین “ سے مراد ایک ہی چیز ہے۔ یھدی بہ میں ضمیر تثنیہ کی بجائے واحد کی استعمال کی گئی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی تفسیر کتاب مبین کی ہے اس آیت میں قرآن کو واضح طور پر نور قرار دیا ہے۔ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کا معاملہ ہے۔ آپ بشر اور انسان تھے۔
مسائل
1۔ نبی معظم ﷺ نے دین کو کھول کر بیان فرمادیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو قرآن مجید کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔
3۔ قرآن مجید ہدایت کے لیے نور ہے۔ 3۔ اہل کتاب اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات چھپاتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
نور سے مراد :
1۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور (ہدایت دینے والا) ہے۔ (النور : 35) 2۔ اللہ ہی اندھیرے اور روشنی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام : 1)
3۔ کفار اور مشرک اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ (التوبۃ : 32) 4۔ اندھیرا اور نور برابر نہیں ہوسکتے۔ ( الرعد : 16)
5۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے انھیں اندھیروں سے نور کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
6۔ نبی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ (ابراہیم : 5)
7۔ اللہ جس کی چاہتا ہے اپنے نور (قرآن) کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (النور : 35)
تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر اور بندے تھے :
1۔ انبیاء (علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11) 2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : 43)
3۔ نبی آخر الزمان ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (الکہف : 110)
4۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : 109) 5۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء : 34)
Ayah 5:17فہم القرآن
ربط کلام : یکے بعد دیگرے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں رسول کریم ﷺ کی تشریف آوری اور کتاب مبین کا مقصد بیان کرنے کے بعد اب پھر عیسائیوں کے عقیدہ کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قرآن مجید یہ حقیقت منکشف کرتا ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو وہ اس قدر ژود نگاہی اور کج فکری کا شکار ہوتی ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی کہ اس کے نظریات میں کس قدر تضاد اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال میں عیسائی مبتلا ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا مکمل ہوتا ہے غور فرمائیں کہ عیسائی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی زبان سے تثلیث پر بھی اصرار کیے جا رہے ہیں۔ جس چیز کو بنیاد بنا کر عیسائی تثلیث کا مغالطہ دیتے ہیں وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہونا ہے جن کے بارے میں ایک چھوٹے سے گروہ کو چھوڑ کر عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ہمارے گناہ معاف کروانے کی خاطر سولی پر لٹک چکے ہیں۔ یہ تو قرآن مجید کا عیسائیت پر احسان ہے کہ اس نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ سولی چڑھائے گئے اور نہ ہی انھیں قتل کیا گیا ہے۔ تاہم قرآن مجید انھیں یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عیسیٰ اور اس کی والدہ کو ہلاک اور زمین و آسمان کو نیست و نابود کرنا چاہے تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو انھیں بچا اور تحفظ دے سکے گی ؟
کیونکہ زمینوں، آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ اسی کے اختیار کا یہ مظہر ہے کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے جس طرح چاہے اس کو پیدا فرماتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت وسطوت رکھنے والا ہے۔ عیسائیوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف انھیں مصلوب بھی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جو اپنی موت وحیات پر اختیار نہیں رکھتا وہ اللہ یا اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے، کیا فنا ہونے والا اور باقی رہنے والا یا با اختیار اور بےاختیار دونوں برابر یا ایک دوسرے کے شریک ہوسکتے ہیں۔
مسائل
1۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا کفر ہے۔ 2۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا نہیں۔
3۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
5۔ جس کو اللہ تعالیٰ نقصان پہنچانا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی خالق ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22)
2۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20)
3۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
5۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189)
6۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54)
7۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
Ayah 5:18فہم القرآن
ربط کلام : اب عیسائیوں اور یہودیوں کو مشترکہ خطاب ہوتا ہے۔
قرآن مجید کا فرمان ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کی گمراہی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 116)
جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گو یا وہ آسمان سے گرا اور پر ندوں نے اسے نوچ ڈالا یا وہ تیز ہواؤں نے اسے کسی گہری کھڈ میں دے مارا۔ (الحج : 31)
یہ شرک کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزء قرار دیا پھر آگے چل کر مذہبی تقدس کی دھاک بٹھانے اور سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے بزعم خود اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہونے کا اعلان کیا۔ اور یہ بھی باور کرو ایا کہ ہم اس کے ایسے بیٹے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کے جواب میں ان پر اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسند یدہ لوگ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب اور ذلت میں کیوں مبتلا کرتا رہا اور کرتا ہے۔ کوہ طور کے دامن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود تمہارے ستر زعما کا ہلاک ہونا۔ جنھیں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے بدلے میں حیات نو سے نوازا گیا۔ اصحاب سبت پر پھٹکارکا نازل ہونا جس کے بدلے میں انھیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ تمہارے سروں پر کوہ طورکا منڈلایا جانا۔ اس طرح دیگر عذابوں کا نازل ہونا اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسندیدہ لوگ ہو تو یہ عذاب تم پر کیوں نازل ہوئے ؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی مشفق اور مہر بان باپ اپنی محبوب اور تابع فرمان اولاد کو اپنے ہاتھوں سے پر یشانیوں اور عذاب میں مبتلا کرے ؟ تم تو انسانوں کی طرح ہی انسان ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو پیدا کیا ہے۔ ایسے ہی اس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ وہ جس کی چاہے خطاؤں کو معاف فرما دے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی سزا دے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اللہ کی ملک ہے اور ہر کسی نے اس کے ہاں پلٹ کر جانا ہے
مسائل
1۔ یہود و نصاریٰ اللہ کے محبوب اور اس کے بیٹے نہیں ہیں۔
2۔ سزا و جزا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔
4۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہ جسے چاہے معاف فرمائے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں :
1۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ : 107)
2۔ مالک الملک اللہ تعالیٰ ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
4۔ اللہ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
5۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ : 49)
6۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک : 1)
7۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : 14)
Ayah 5:19فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
یہاں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنھیں بطور نعمت اور احسان کے اس بات کی یاد دہانی کروائی جا رہی ہے کہ اے اہل کتاب اپنے ماضی کو ذرا جھانک کر دیکھو۔ جب تم مایوس ہو کر کہا کرتے تھے اب ہماری رہنمائی کے لیے قیامت تک کوئی پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔
اہل کتاب بالخصوص یہودیوں نے انبیاء (علیہ السلام) پر جو مظالم ڈھائے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک ان میں انبیائے کرام کی بعثت کا سلسلہ منقطع کردیا ” فترۃ “ کا معنی ہوتا ہے تسلسل کو روکنا یا ایک خاص مدت کے لیے کسی کام میں وقفہ پیدا کرنا۔ اس سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی مدت اور وقفہ ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً سترہ سو سال میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مسلسل انبیاء مبعوث فرمائے جن میں نہ صرف انبیاء تھے بلکہ ایسے انبیاء بھی مبعوث کیے گئے جو اپنے وقت کے حکمران بھی تھے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تقریباً چھ سو سال تک کوئی نبی مبعوث نہیں کیا گیا تاآنکہ نبی آخر الزمان جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا۔ آپ کی آمد سے پہلے بنی اسرائیل مایوس ہو کر کہتے تھے کہ اب ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا نہیں آئے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کرم فرماتے ہوئے ایسا رسول بھیجا جو تمام انبیاء کے اوصاف کا مرقع اور ان کی شریعتوں کا ترجمان ہے۔ لہٰذا اے بنی اسرائیل اور دنیا کے لوگو ! تمہیں بنی اسماعیل کے محمد عربی ﷺ کو آخری رسول مان لینا چاہیے۔ اس کی اتباع میں تمہاری بہتری اور نجات ہے۔ اگر تم انکار کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے کفر و شرک سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔۔ وَبُعِثْتُ إِلٰی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ )[ رواہ مسلم : کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ]
” حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ “
مسائل
1۔ نبی معظم ﷺ جنت کی خوشخبری سنایا کرتے تھے۔
2۔ رسول اکر م ﷺ دوزخ کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے۔
3۔ نبی اکرم ﷺ اتمام حجت کے لیے مبعوث کیے گئے۔
4۔ نبی اکرم ﷺ نے کھول کھول کر حقائق بیان فرما دیے۔
تفسیر بالقرآن
نبی بشیر اور نذیر ہوتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (البقرۃ : 119)
2۔ اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ (المائدۃ : 19)
3۔ نبی آخر الزمان ﷺ ڈرانے اور بشارت دینے والے ہیں۔ (الاعراف : 188)
4۔ آپ کا اعلان بیشک میں اللہ کی طرف سے تمہیں ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔ (ھود : 2)
5۔ اے نبی ہم نے تجھے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (بنی اسرائیل : 105)
6۔ اے نبی ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : 28)
Ayahs 5:20–21فہم القرآن
ربط کلام : اب پھر یہودیوں کو خطاب ہوتا ہے۔
اپنی قوم کا مزاج دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارض مقدّس میں داخل ہونے کا حکم دینے سے پہلے انھیں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ماضی کی عزت رفتہ اور اقتدار یاد دلا کر حکم دیا کہ میری قوم ارض مقدس کی طرف پیش قدمی کرو۔ اس کے ساتھ ہی خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے فتح کو یقینی بنا دیا ہے یہاں دوسرے انعامات کے ساتھ بالخصوص دو انعام کا نام لے کر یہ احساس دلایا کہ یہ مقدس زمین انبیاء کی سرزمین ہے اور یہاں تمہارے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال تک حکومت کی ہے اور تمہیں وہ کچھ عنایت فرمایا تھا جو دنیا میں تم سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا۔ اس یاد دہانی کرانے کا مقصد یہ تھا کہ اس سرزمین میں داخل ہونا تمہارا مذہبی اور سیاسی حق بنتا ہے لہٰذا پیچھے نہ ہٹنا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ دشمن کے مقابلہ میں پیچھے ہٹنا کبیرہ گناہ ہونے کے ساتھ دنیا میں ذلت اٹھانا پڑتی ہے بسا اوقات ایسی قوم اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔ اس سے مؤرخین کی اس غلط فہمی کا ازالہ ہوتا ہے کہ جن کا خیال ہے کہ فلسطین میں بنی اسرائیل کے عروج کی تاریخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خطاب میں اپنے سے پہلے بنی اسرائیل کے شاندار ماضی کا حوالہ دے رہے ہیں۔ جس کے بارے میں قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عظیم مملکت سے نوازا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے سینکڑوں سال پہلے گزر چکے تھے۔ یہاں اہل علم نے نکتہ وردی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے ” فیکم “ کے الفاظ استعمال کیے جس کا معنیٰ ہے تم میں سے کچھ شخصیات کو نبی بنایا جس سے ثابت ہوا کہ نبوت لوگوں کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ جس کو چاہے نبوت کے لیے منتخب فرمائے ” وجعلکم “ کا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں حکمران بنایا کسی قوم اور ملک کا حکمران تو ایک ہی ہوتا ہے۔ لیکن خبر جمع لائی گئی ہے جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ صحیح حکمران وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو ساتھ لے کر چلے یعنی اپنے اقتدار میں عوام کو شرکت کا حق دے۔
(عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ خِیَارُ أَءِمَّتِکُمْ الَّذِینَ تُحِبُّونَہُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَیْہِمْ وَشِرَارُ أَءِمَّتِکُمْ الَّذِینَ تُبْغِضُونَہُمْ وَیُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَہُمْ وَیَلْعَنُونَکُمْ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ أَفَلَا نُنَابِذُہُمْ بالسَّیْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فیکُمْ الصَّلَاۃَ وَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَیْءًا تَکْرَہُونَہُ فَاکْرَہُوا عَمَلَہُ وَلَا تَنْزِعُوا یَدًا مِنْ طَاعَۃٍ )[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب خیار الائمۃ وشرارھم ]
” حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن کو تم پسند کرو اور وہ تم سے مروت رکھیں تم ان کے لیے رحمت مانگو اور وہ تمہارے لیے رحمت کی دعائیں مانگیں اور تمہارے برے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر لعن طعن کرو اور وہ تمہیں ملعون قرار دیں۔ صحابی رسول فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا کہ کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں جب تک وہ نماز قائم کریں جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جس کو تم ناپسند کرتے ہو تو ان کے فقط اس عمل کو ناپسند کرو اور ان کی فرمانبرداری سے ہاتھ نہ کھینچو۔ “
مسائل
1۔ انبیاء کو مبعوث فرمانا اور بادشاہت کا عطا فرمانا اللہ کا انعام ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو وہ کچھ عطا فرمایا جو پہلے اور ان کی ہم عصراقوام کو نہیں دیا گیا تھا۔
3۔ اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات نہ ماننے والے نقصان اٹھائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات :
1۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام فرمائیں۔ (البقرۃ : 47)
2۔ بنی اسرائیل کو ساری دنیا پر فضیلت دی گئی۔ (البقرۃ : 47)
3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دی۔ (البقرۃ : 49) 4۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ ( البقرۃ : 50 )
5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : 160)
6۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من وسلویٰ نازل فرمایا۔ (البقرۃ : 57)
Ayahs 5:22–23فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت عملی کے تحت قوم کے سرداروں کو فلسطین کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ان کی فوجی طاقت کا جائزہ لے کر مجھے رپورٹ دینا لیکن یاد رکھنا یہ خبر بنی اسرائیل یعنی عوام کو نہیں پہنچنا چاہیے۔ اس کے باوجود بارہ میں سے دس لیڈروں نے موسیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو صورت حال بتلائی کہ جس سر زمین کی طرف ہمیں پیش قدمی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے کڑیل جوان، جنگ جو اور بہادر لوگ ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں چناچہ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو جہاد کی تیاری کا حکم دیا اور فرمایا آگے بڑھنا پیچھے نہ ہٹنا۔ ورنہ شکست ہوگی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں تمہیں اس فرار اور انکار کی سزا ملے گی۔ دو لیڈروں کے سوا باقی سب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہاں ہمارے مقابلے میں انتہائی طاقت ور لوگ رہتے ہیں۔ ہم ان کا ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتے ہم تبھی ارض مقدس میں داخل ہوں گے جب وہ لوگ خود بخود وہاں سے نکل جائیں لیکن ان میں سے دور ہنما ایسے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے ثابت قدم رہنے کا انعام فرمایا تھا کیونکہ وہ خوف خدا رکھنے والے تھے نہ انھوں نے راز افشا کیا اور نہ ہی جہاد سے فرار اختیار کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤقف کی پر زور تائید کرتے ہوئے اپنی قوم کو سمجھایا کہ حوصلہ نہ ہارو اور دل چھوٹا نہ کرو۔ اگر تم ایماندار ہو توجناب موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان پر یقین رکھو۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو جوں ہی تم اس سرزمین پر قدم رکھو گے فتح تمہاری ہوگی۔ لیکن سمجھانے اور کوشش کے باوجود انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ ہمارے وہاں داخل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر آپ کو فتح کا اتنا ہی شوق اور یقین ہے تو تم اور تمہارا رب جہاد کرے ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔
مسائل
1۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر اللہ کا انعام ہوتا ہے۔
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننے والے غالب آتے ہیں۔
3۔ مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ پہ توکل کرتے ہیں۔
4۔ نیک لوگوں کو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے :
1۔ رسول کریم کو اللہ پر تو کل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79)
2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : 10)
3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129)
6۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
7۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59)
8۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : 36)
Ayahs 5:24–26فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء :
جب نا ہنجار اور نافرمان قوم نے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کا انکار کیا بلکہ پرلے درجے کی گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو اور تیرا رب جاکرقتال کریں۔ غور فرمائیں، جس قوم کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیشمار مصائب وآلام برداشت کیے اور جس کے لیے اتنی جدوجہد کی کہ اس کا جواب کتنا گستاخانہ اور بزدلانہ ہے۔ یہ سن کر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر کیا گزری ہوگی ؟ لیکن اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کچھ کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فریاد کی کہ الٰہی ! میں اپنی اور اپنے بھائی کی ذمہ داری لیتا ہوں جس کا یہ معنی ہے کہ ہم تو تیری راہ میں لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں اگر یہ نافرمان اپنے فائدے کی خاطر بھی تیرے راستے میں لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ بس تو ہمارے اور ان کے درمیان علیحدگی فرما دیجیے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ارض مقدس کو حرام کیا اور انھیں چالیس سال تک تیہ کے صحرا میں ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا اور ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ آپ کو نافرمان قوم پر افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ کچھ مدت کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہوئے۔ ان کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل ارض مقدس میں داخل ہوئے لیکن اس وقت بھی انھوں نے بغاوت کا مظاہرہ کیا جس کا ذکر گزر چکا ہے۔ جغرافیہ دانوں نے اس صحرا کا رقبہ 27 فرسخ طول اور 9 فرسخ عرض بیان کیا جس کا مطلب ہے کہ یہ صحرا 90 میل لمبا اور 27 میل چوڑا ہے جس میں تقریباً 70 لاکھ کے قریب بنی اسرائیل مقید کیے گئے جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ صبح سے شام تک اس کوشش میں سرگرداں رہتے کہ کسی طرح وہ واپس پلٹ جائیں لیکن مغرب کے وقت اسی مقام پر ہوتے جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا ہوتا تھا گویا کہ وہ بغیر کسی دیوار اور بیڑیوں کے اللہ تعالیٰ کی جیل میں جکڑ دیے گئے تھے تاہم اس دوران انھیں صبح و شام کھانے کے لیے من اور سلویٰ دیا جاتا اور پینے کے بارہ چشموں کا انتظام اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے بادلوں کا سا یہ کیا گیا۔
یہ مثلث نما جزیرہ ہے جو بحر الکاہل (بحیرہ روم) (شمال کی طرف) اور ریڈسی بحر احمر (جنوب کی طرف) کے درمیان مصر میں واقع ہے اور اس کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے اس کی زمینی سرحدیں سویز نہر مغرب کی طرف اور اسرائیل۔ مصر سرحد، شمال مشرق کی طرف ہیں۔ سینائی جزیرہ نما جنوب مغربی ایشیا میں واقعہ ہے اسے مغربی ایشیا بھی کہتے ہیں یہ زیادہ درست جغرافیائی اصطلاح ہے جبکہ مصر کا باقی حصہ شمالی افریقہ میں واقعہ ہے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے زیادہ سینائی کو اکثر افریقہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سینائی تقریباً مکمل طور پر صحرا ہے مگر تبا (Taba) میں سبا ساحل (Sabah Coast) کے ساتھ ساتھ واقع ہے (موجودہ اسرائیل قصبہ ایلٹ ( eilat) کے نزدیک) جہاں ایک ہوٹل اور رقص گاہ (Casino) ہے جب ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف حرکت کی جائے تو وہاں نیوویبا (N (علیہ السلام) weba) داھاب (Dahab) اور شرم الشیخ (Sharmel sheikh) واقع ہیں سینائی العریش ( I Arishel) یں غزہ پٹی کے نزدیک شمالی ساحل پر واقع ہے۔
مسائل
1۔ اللہ کے رسول کے حکم کو نہ ماننے والے فاسق ہیں۔
2۔ اللہ کا حکم نہ ماننے والے رسوا ہوتے ہیں۔
3۔ مغضوب قوم کے لیے زمین تنگ کردی جاتی ہے۔
4۔ نافرمان لوگوں پر عذاب نازل ہو تو افسوس نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 5:27فہم القرآن
ربط کلام : قابیل اور ہابیل کا واقعہ پڑھنے کا مقصد یہودیوں کو بتانا ہے کہ تمہارے اور قابیل کے کردار میں کوئی فرق نہیں جس طرح وہ اپنے بھائی پر ظلم کرنے کے بعد پچھتایا تھا۔ عنقریب تمہیں بھی اپنے کیے پر پچھتاوا ہوگا۔ کیونکہ تم بھی اپنے بعد والی امت پر ظلم کر رہے ہو۔
قربانی کا لفظ ” قربان “ بروزن ” سلطان “ سے نکلا ہے عربی محاورات میں قربان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے جیسا کہ امام ابوبکر جصاص مرحوم نے احکام القرآن میں نقل کیا۔ ” والقربان مایقصد بہ القرب من رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ من اعمال البرّ “”’ قربان ہر اس نیک کام کو کہا جاتا ہے جس کا مقصد اللہ کی قربت حاصل کرنا ہو۔ “ لیکن عرف عام میں دسویں ذوالحجہ کو بکرے، دنبے، گائے اونٹ ذبح کرنے کا نام قربانی ہے۔ واقعہ بیان کرنے سے پہلے اس کے متعلق گارنٹی دی گئی کہ واقعہ اور اس کے حقائق اتنے برحق ہیں کہ ان کے بارے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ ہر لحاظ سے حق پر مبنی ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے جس طرح قابیل قتل کرنے کے بعد نادم اور پریشان ہوا تھا نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کرنے والے بھی یقینی طور پر ندامت اور پریشانی کا سامنا کریں گے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخی واقعات کو من و عن اور بلا کم وکاست بیان کرنا چاہیے۔ جس میں نہ مبالغہ ہو اور نہ ہی کمی کی جائے۔
عَلَیْہِمْ ضمیر کا اشارہ یہود کی طرف ہے جس کا ذکر ان آیات کے سیاق وسباق سے واضح ہے مگر واقعہ میں جو نصیحت ہے وہ سب کے لیے ہے۔ یہود کو اس لیے مخاطب کیا کہ جس طرح آج تم اپنے سے بعد میں آنے والی امت محمدیہ جو کہ رشتۂ انسانی کی ترتیب کے لحاظ سے تمہارے چھوٹے بھائی ہیں تم حسد وبغض کی وجہ سے ان کو ختم کرنے کے درپے ہوچکے ہو بالکل اسی طرح آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں میں صورت حال پیدا ہوئی کہ ایک نے دوسرے کی عزت اور شرف کو تسلیم نہیں کیا بلکہ حسدو دشمنی میں بہت آگے نکل گیا نتیجتاً اللہ کی زمین پر قتل جیساعظیم سانحہ پیش آیا اور سفاکانہ کردار رکھنے والے کو پچھتانا پڑا۔
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ نسل انسانی کی ابتدائی حالت کے پیش نظر اور انسان کی افزائش کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک حمل میں بچی اور بچہ ہوا کرتے تھے۔ جب یہ جوان ہوجاتے تو بحکم خداوندی پہلے لڑکے کی شادی دوسری لڑکی، دوسرے کی پہلی کے ساتھ یعنی الٹ کرکے ازدواجی تعلق قائم کردیا جاتا تھا۔ جب قابیل کی شادی کا وقت آیاتو اس نے دوسری لڑکی کے ساتھ نکاح سے اس لیے انکار کردیا کہ وہ لڑکی اسے پسند نہ تھی۔ کہنے لگا میں تو اپنی ہم جائی کے ساتھ نکاح کروں گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا بالآخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ تم دونوں اللہ کے راستے میں قربانی دو ۔ جس کی قربانی قبول ہوجائے اس کی خواہش کے مطابق نکاح کردیا جائے گا۔ قابیل نے ناقص اور پھر خدائے ذوالجلال کی رضا کی بجائے صرف مفاد کی خاطر قربانی دی جبکہ ہابیل نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے قربانی پیش کی چھوٹے یعنی ہابیل کی قربانی قبول اور بڑے کی مسترد کردی گئی تو اس نے حسد اور بغض سے اپنے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ دنیا میں چونکہ یہ پہلا قتل تھا اس لیے قاتل کو یہ پتہ نہ تھا کہ بھائی کی لاش کس طرح دفنائے۔ بالآخر اللہ نے کوّے کو حکم دیا تو کوّے نے دوسرے کوّے کو مار کر اس کے سامنے مٹی میں دفن کیا اس کو دیکھ کر قابیل نے اپنے مقتول بھائی کو دفن کیا اور پھر حسرت کے ساتھ کہنے لگا ہائے افسوس ! میں توکوّے سے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا روز اول سے بتادیا گیا کہ قربانی اور تمام اعمال کی قبولیت کا انحصار تقوی پر ہوگا۔
مسائل
1۔ ہر نیک کام اخلاص سے کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ متقین کے اعمال قبول کرتا ہے۔
3۔ آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی مسترد کردی گئی۔
4۔ نیکی قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں قربانی کا بیان :
1۔ آدم کے دو بیٹوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی۔ (المائدۃ : 27)
2۔ ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ (الحج : 34) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی۔ (الصافات : 102 )
4۔ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ (الکوثر : 2)
5۔ قربانی کے اونٹوں کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے شعائر بنایا ہے۔ (الحج : 36)
Ayahs 5:28–29فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
قابیل کے چھوٹے بھائی ہابیل نے جب یقین کرلیا کہ قابیل مجھے قتل کرنے کا مصمّم ارادہ کرچکا ہے تو اس نے بڑے ادب سے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے تو میں آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھاؤں گا۔ جس میں یہ احساس دلانا مقصود تھا کہ میں تجھ سے لڑنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا تجھے بھی مجھ پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ پھر بھی تمہیں اس بات کا احساس نہیں تو یاد رکھنا تیرے گناہ کے ساتھ میرا گناہ بھی تیرے ذمہ ہوگا اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ انھوں نے اپنا دفاع نہیں کیا ہوگا بلکہ اپنی جان بچانا، عزت و مال کی حفاظت کرنا، ہر کسی کا فطری حق اور شرعی طور پر ایسا کرنا لازم ہے، ہابیل نے قابیل کو ظلم سے روکنے کے لیے پانچ باتیں کہی تھیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ متقین کی قربانی قبول کرتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ تجھے مفاد کے بجائے اخلاص کے ساتھ قربانی پیش کرنا چاہیے تھی۔
2۔ تیرے ہاتھ بڑھانے کے باوجود میں تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
3۔ میں ظالم بننے کی بجائے مظلوم بننا پسند کروں گا۔
4۔ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ جس کا معنیٰ یہ ہے کہ تجھے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
5۔ اگر تو ظلم سے باز نہ آئے گا تو تیرا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
( عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُون دینِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَہْلِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌُ )
[ رواہ الترمذی : کتاب الدیات، بَاب مَا جَاء فیمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ]
” حضرت سعید بن زید ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو کوئی اپنے دین کی حفا ظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو کوئی اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو کوئی اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَال النَّبِیُّ ﷺ أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاس بالدِّمَاء)
[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، بَاب الْقِصَاصِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا “
مسائل
1۔ کسی پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔
2۔ ہر وقت اللہ رب العالمین سے ڈرنا چاہیے۔ 3۔ ظالم کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
4۔ کسی پر زیادتی کرنے کی وجہ سے اس کے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
تفسیر بالقرآن
گناہوں کا انجام :
1۔ قیامت کے دن برے کاموں کی سزا ملے گی۔ (النجم : 31 )
2۔ جو گناہوں میں گھرارہا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (البقرۃ : 81)
3۔ جہنمی اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ (الملک : 11)
Ayah 5:30فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔
1۔ نفس مطمئنہّ ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27)
2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس (القیامۃ : 2)
3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس (یوسف : 53)
یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفس امارہ اور نفس لوامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ جب نفس امارہ غالب آجائے تو آدمی برائی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ” فطوعت لہ نفسہ “ سے یہی کشمکش مراد ہے۔ چناچہ قابیل نے وہی کیا جس کا وہ اعلان کرچکا تھا۔ قتل کرنے کے بعد اس کے دل کا سکون جاتا رہا۔ رہتی دنیا تک بدنامی اس کے مقدر میں آئی، ظلم و زیادتی کی بری روایت قائم کی۔ آخرت میں جہنم کا ایندھن اور ظالموں کا ساتھی بنا۔ اس سے زیادہ اور نقصان کیا ہوسکتا ہے اور جب بھی کوئی شخص ظلم کرتا ہے اسے ایسی ہی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ نیکی میں اطمینان اور برائی میں پریشانی و پشیمانی ہوا کرتی ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لَیْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْہَا وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ مِنْ دَمِہَا لِأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا)[ رواہ البخاری : کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ، بَاب إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَۃٍ أَوْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّءَۃً ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے پر ہر ظلم کے ساتھ قتل کیے جانے والے کے گناہ کا حصہ ہے اور شاید سفیان نے خون کا لفظ بولا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کرنے کی بنیاد رکھی۔ “