5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفہم القرآن

Ayahs 5:99–100

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

” رسول کے ذمے پہنچا دینا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ (99)

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

بتلا دیں کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں، خواہ ناپاک کی کثرت آپ کو تعجب میں ڈالے، پس اے عقل والو ! اللہ سے ڈر و تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ “ (100)

فہم القرآن ربط کلام : رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق و باطل اور اچھے، برے سے آگاہ کرے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ برائی کے رواج اور اسکی کثرت سے مرعوب ہونے کے بجائے رسول کی اطاعت کریں اسی میں کامیابی ہے۔ اس جاری خطاب کی آیت نمبر 92 میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہمارے رسول کا منصب لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے جبراً منوانا نہیں۔ یہاں پھر فرمایا ہے کہ رسول کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کا کام لوگوں کے پیچھے پیچھے رہنا اور ان کی خلوتوں کی نگرانی کرنا نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جو کچھ تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو وہ تمہارے ایک ایک لمحہ اور کام کو جانتا ہے۔ رسول کا کام فقط یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے برے بھلے اور نیک و بد کی تمیز واضح کر دے، بیشک برائی کتنی غالب اور لوگوں کی نظر میں کتنی بھلی معلوم ہوتی ہو۔ رسول کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ لوگوں کو خوف خدا سے آگاہ کرے تاکہ صاحب دانش اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی دانائی کی علامت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ جہاں تک خبیث اور طیب یعنی اچھے اور برے اور نیک اور بد کا تعلق ہے یہ فرق ہر چیز اور کام میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز مفید بھی ہوتی ہے اور اس میں نقصان اور ضرر بھی موجود ہوتا ہے۔ انسانوں میں بھی نیک و بد پائے جاتے ہیں اس طرح کچھ کام دنیا اور آخرت کے لحاظ سے مفیدہوتے ہیں جبکہ کئی کام آدمی کے لیے دنیا میں نقصان اور آخرت میں خسارے کا باعث ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی کام دنیا کے لحاظ سے بظاہر فائدہ مند ہو لیکن آخرت کے اعتبار سے دائمی نقصان کا باعث ہو حقیقی عقل اور خدا خوفی کا تقاضا ہے کہ آدمی وہی کام کرے جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کے لحاظ سے اس کے لیے بہتر ہو۔ لہٰذا ہر انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا اور معاف کردینے والا، نہایت مہربان ہے۔ اسی کو کائنات کے عظیم دانشور نبی محترم ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے : (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ ] ” حضرت ابو یعلی شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگایا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و پوشیدہ چیزوں کا علم رکھنے والا ہے۔ 2۔ اللہ کے فرمانبردار اور نافرمان کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ 3۔ برائی کا چلن خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ گناہ ہی رہتا ہے۔ 4۔ تقویٰ اختیار کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن فلاح پانے والے حضرات : 1۔ نمازوں میں خشوع کرنے والے مومن فلاح پا گئے۔ (المومنون : 1 تا 11) 2۔ جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا وہ فلاح پا گیا۔ (الاعلیٰ : 14) 3۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (البقرہ : 189) 4۔ اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 35) 5۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الاعراف : 69) 6۔ اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الجمعۃ : 10) 7۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (لقمان : 5، البقرۃ : 5) 8۔ جو نفس کی بخیلی سے بچ گیا وہ فلاح پا گیا۔ (التغابن : 16۔ الحشر : 9)
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کروگے جب قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے درگزر فرمایا اور اللہ خوب بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔ (101)

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگ سوال کرچکے ہیں، پھر وہ ان سے منکر ہوگئے۔ “ (102)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جب رسول ﷺ اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھاتے ہوئے اچھائی اور برائی میں فرق واضح کر رہے ہیں تو تمہیں بےوجہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب کے منا فی ہونے کے ساتھ تمہارے لیے مشکل کا با عث ہوگا۔ نزول قرآن کے وقت سوال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ جب رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نا زل کردہ وحی من وعن لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جس میں حلال و حرام، خبیث اور طیّب، جائز اور ناجائز کے درمیان پوری طرح فرق کیا جارہا ہے تو پھر خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنا جائز نہیں۔ اس میں ایک طرف گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب میں کوئی مسئلہ بیان کروں تو اسے سنو اور اس پر حتی المقدور عمل کرو۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کوئی بات کرتے ہوئے بھولتا نہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ خَطَبَنَا وَقَالَ مَرَّۃً خَطَبَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْفَرَضَ عَلَیْکُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ یَا رَسُول اللّٰہِ فَسَکَتَ حَتّٰی قَالَہَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلٰی أَنْبِیَاءِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوہُ )[ رواہ احمد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسول معظم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو تم حج کرو۔ ایک شخص نے کہا اے رسول مکرم ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ اس شخص نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا۔ رسول محترم ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر حج واجب ہوجا تا اگرچہ تم میں سے اس کی کوئی طا قت نہ رکھتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا جن معاملات کے متعلق میں نے تم کو چھوڑ دیا ہے تم بھی اس کے بارے میں مجھے چھوڑ دو بلاشبہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء کے بارے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کو پورا کرو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس کو چھوڑ دو ۔ “ بے مقصد سوال کرنے والا مجرم ہے : (عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ؓ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِینَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْءٍ لَمْ یُحَرَّمْ ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ )[ رواہ البخا ری : باب مَا یُکْرَہُ مِنْ کَثْرَۃِ السُّؤَالِ وَتَکَلُّفِ مَا لاَ یَعْنِیہِ ] ” سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کو لوگوں پر حرام قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام قرار دے دیا گیا۔ “ مسائل 1۔ خواہ مخواہ مسئلہ سے مسئلہ نہیں نکالنا چاہیے۔ 2۔ بےمقصد سوال نہیں کرنے چاہییں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت بردبار ہے۔ 4۔ جن لوگوں نے بےمقصد سوال کرنے کا وطیرہ اختیار کیا وہ پریشان ہوئے۔ 5۔ بےمقصد سوالات اٹھانے والوں کی اکثریت گمراہ ہوجاتی ہے۔
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سائبہ اور نہ وصیلہ اور حام اور لیکن وہ لوگ جو کافر ہیں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔ “ (103)

فہم القرآن ربط کلام : سلسلۂ کلام کے درمیان ادب سکھلانے کے بعد اب پھر مزید حرام چیزوں کی نشا ندہی کی جارہی ہے۔ اس سے پہلی آیات میں کثرت سوال سے منع فرمایا تھا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرکوں نے از خود بعض جانوروں کو حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں کیا بلکہ وہ بدستور حلال ہیں۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کیا ہو اس کو حرام قرار دے کر شریعت سازی نہ کرو۔ بحیرہ : وہ جانور ہوتا تھا جس کا دودھ بتوں کی نذر کردیا جاتا تھا کوئی شخص اس کو دوہ نہیں سکتا تھا۔ اس کے کان چیر کر اس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ اس پر سواری کی جاتی نہ اس پر سامان لادا جاتا اور نہ ہی اس کا دودھ دوہا جاتا یہ جس چراگاہ سے مرضی چرے اور پانی پیے۔ سائبہ : وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام منسوب کیا جاتا اور اس پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا تھا تو اس اونٹنی کو آزاد کرکے بتوں کے نام کردیتے تھا ایسی اونٹنی کو سائبہ کا نام دیا جاتا۔ وصیلہ : اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پہلی بار اور دوسری بار مادہ بچہ جنم دے ان دو بچوں کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو تو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ حام : اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جو ایک خاص تعداد کے مطابق جفتی کرچکا ہو اور اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جائے۔ سعید بن مسیب ؓ بیان کرتے ہیں بحیرہ وہ اونٹنی سمجھی جاتی جس کا دودھ دوہنا بتوں کی وجہ سے منع کردیا جاتا تھا اور کوئی شخص اس کا دودھ نہیں دوہتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی ہے جس کو وہ اپنے بتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور اس پر کسی چیز کو لادا نہیں جاتا تھا۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی آنتوں کو گھسیٹ رہا تھا کیونکہ یہی وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے سائبہ اونٹنیوں کو چھوڑا تھا۔ “ [ رواہ البخاری : باب قصۃ خزاعۃ ] مسائل 1۔ من گھڑت رسوم و رواج کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ کافر لوگ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ 3۔ مشرکین حق کو پہچاننے کے لیے عقل سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس بات کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پانے والے ہوں۔ “ (104)

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کسی دلیل کی بنیاد پر اپنے آپ پر حرام نہیں کی تھیں بلکہ اس کا سبب آباؤ اجداد کی تقلید تھا جس وجہ سے یہاں تقلید کا رد بھی کردیا ہے۔ ساتھ مسلمانوں کو اطمینان دلایا ہے کہ تم ہدایت پر پکے رہوگے تو دوسروں کی گمراہی کا تم پر چنداں اثر نہیں پڑے گا۔ اور نہ تم ان کے مسؤل بنائے گئے ہو۔ بس تم اپنی فکر کرو۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پیش آنے والی پانچ رکاوٹیں : 1۔ لوگوں کا پرانے نظریات پر جمے رہنا۔ 2۔ ادیان باطلہ کے تعصبات و تحفظات 3۔ انبیاء کرام کی ذات سے حسد و بغض۔ 4۔ حبّ جاہ اور دنیا پرستی 5۔ بزرگوں اور آباؤ اجداد کی تقلید یہ تقلید کا ہی نتیجہ تھا کہ مذکورہ جانور کسی آسمانی شریعت میں حرام نہیں کیے گئے تھے۔ لیکن اہل مکہ نے اپنے سے پہلے لوگوں کی دیکھا دیکھی انھیں نہ صرف اپنے آپ پر حرام قرار دیا بلکہ دعویٰ کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بزرگوں پر حرام قرار دیے تھے۔ جس بنا پر سے ہم بھی ان سے استفادہ کرنا اپنے آپ پر جائز نہیں سمجھتے۔ تقلید آباء کا عقیدہ ان کے ذہن میں اس قدر پختہ ہوچکا تھا کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ بلا جھجھک کہتے ہمیں وہی کچھ کافی ہے جو ہمارے بزرگ کرتے رہے ہیں۔ اس پر گرفت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کیا ان کے آباؤ اجداد ہدایت نہ پانے اور شریعت کا علم نہ رکھنے کے باوجود ان کے رہنما ٹھہرے ہیں ؟ مقلدین کی گمراہی کا اندازہ لگائیں کہ وہ جانتے بوجھتے ایسی باتوں کو شریعت سمجھ کر اپناتے ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقابلے میں ان لوگوں کو رہنما سمجھتے ہیں جن کی گمراہی اور بےعلمی کی قرآن گواہی دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب ہو تو کس طرح ؟ جہاں تک ائمہ کرام اور بزرگان دین کی تقلید کا تعلق ہے اس کی بھی دین میں کوئی گنجائش نہیں جس کے دو بنیادی اسباب ہیں۔ (1) امت مسلمہ کو بزرگان دین کی اتباع کی بجائے صرف اور صرف نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی اتباع کا پابند کیا گیا ہے کیونکہ انسان اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے جس میں دین کے بارے میں کسی دوسرے کی اتباع کی گنجائش نہیں ہے۔ (2) ائمہ کرام اور بزرگان دین کی تقلید سے امت اس لیے بھی آزاد ہے کہ ہر امام نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حدیث مصطفیٰ ﷺ کے مقابلے میں میری بات اور فتویٰ کو فی الفور مسترد کردیا جائے کیونکہ وہی سچے ایمان کی نشانی ہے۔ تقلید کے بارے میں ائمہ کے اقوال : امام ابوحنیفہ ؓ کا قول : (اِذَا صَحَّ الْحَدِیْثُ فَھُوَ مَذْھَبِیْ ) [ تفسیر مظہری ] ” جب صحیح حدیث موجود ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔ “ امام مالک (رح) کا قول : امام مالک نے روضۃ النبی ﷺ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” ہر شخص کی بات تسلیم کی جاسکتی ہے اگر درست ہو۔ اور اسے ٹھکرایا جاسکتا ہے جب درست نہ ہو۔ مگر اس روضے والے کی بات کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ “ [ حیات امام مالک۔ از امام زہری ] امام شافعی (رح) کا قول : (اَجْمَعَ ا لْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی اَنَّ مَنِ اسْتَبَانَ لَہٗ سُنَّۃٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَایَحِلُّ لَہٗ اَنْ یَّدَعَھَا لِقَوْلِ اَحَدٍ ) [ اعلام المعوقین ] ” اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کی سنت سامنے آجائے، پھر اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ اسے کسی کے قول کی بنا پر ترک کردیا جائے۔ “ امام احمدبن حنبل (رح) کا قول : (مَنْ رَدَّ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَھُوَ عَلٰی شَفَا ھَلَکَتِہِ )[ ابن جوزی ] ” جس نے رسول کریم ﷺ کی حدیث کو رد کیا وہ تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا۔ “ مسائل 1۔ آباء و اجداد کی تقلید کے بجائے قرآن و سنت کی پیروی کرنا چاہیے۔ 2۔ آخرت کو مقدم رکھنا چاہیے۔ 3۔ اللہ کے سامنے حاضری کی فکر کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن تقلید آباء کا نتیجہ اور بہانہ : 1۔ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تو کہتے ہیں جو ہمارے آباء و اجداد کرتے تھے ہمیں وہی کافی ہے۔ (المائدۃ : 104) 2۔ جب قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی اتباع کریں گے۔ (لقمان : 21)
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! تم پر اپنے آپ کو بچانا لازم ہے تمہیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے جب تم ہدایت پاچکے ہو۔ تم سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ “ (105)

فہم القرآن ربط کلام : ایک مخلص داعی دلائل کے ساتھ جب کسی شخص کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے۔ اور سامع اس کے مقابلے میں بوسیدہ نظریات پیش کرتے ہوئے اپنی جہالت پر اصرار کرے۔ تو داعی کا اس پر دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے اسی کیفیت سے صحابہ کرام ؓ دو چار ہوا کرتے تھے جس پر انھیں تسلی دی گئی ہے۔ صحابہ کرام ؓ اپنے اخلاص اور جدوجہد کے مقابلے میں کفار اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی دیکھتے تو انھیں اس بات پر سخت رنج پہنچتا۔ دل گرفتگی کے عالم میں بار بار سوچتے کہ یہ لوگ کس قدر نا عاقبت اندیش ہیں کہ ہم ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی بات کرتے ہیں اور یہ اسے قبول کرنے کے بجائے ہماری جان کے درپے ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال پر مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمہیں دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا کام حق بات پہنچانا ہے ہدایت دینا نہیں۔ اگر تم ہدایت پر قائم ہو تو گمراہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بالآخر تم سب نے اپنے اللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے وہ ہر کسی کو اس کے اچھے برے عمل اور اس کے انجام سے آگاہ فرمادے گا۔ ہدایت ایسا گراں قدر سرمایہ ہے جو چاہت اور محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب سب کے سب بےچون و چراں رب کبریا کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے۔ وہ انھیں ایک ایک پل کی خبر اور ہر برے عمل کی سزا دے گا۔ وہاں انھیں نہ بزرگ بچا سکیں گے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد چھڑا سکیں گے۔ بعض لوگ اس آیت سے غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آدمی کو کسی دوسرے کی فکر کرنے کے بجائے اپنا خیال اور اپنے کام کی طرف دھیان رکھنا چاہیے۔ اس کی بلا سے کوئی جو چاہے کرتا رہے۔ ایسے نام نہاد دانشور تمام احکامات کو جان بوجھ کر فراموش کردیتے ہیں جن میں ہر شخص کو اپنے متعلقین کا مسؤل بنایا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اس امت کے وجود کی ہی نفی کردیتے ہیں حالانکہ اس امت کا مقصد اپنی اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے۔ (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَوْٓ اٰمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ )[ آل عمران : 110] ”(اے مسلمانو ! ) تم بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح وہدایت) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگ مومن ہیں مگر ان کی اکثریت فاسق ہے۔ “ (عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَاب ؓ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ رَأٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان۔۔ الخ ] ” حضرت طارق بن شھاب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جو کوئی تم میں سے برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ساتھ روکے اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ دل سے برا جانے۔ یہ ضعیف ایمان کی نشانی ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب جمعۃ فی القری والمدن ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔ “ مسائل 1۔ دوسروں کے بجائے اپنی فکر مقدم ہونی چاہیے۔ 2۔ حقیقی ہدایت یافتہ لوگوں کو کوئی بھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ 3۔ تمام لوگوں کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اچھے برے اعمال کی جزا اور سزادے گا۔
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچے تو وصیت کے وقت تمہارے درمیان شہادت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی دو عدل والے ہوں یا تمہارے غیر میں سے کوئی اور دو ہوں، اگر تم سفر کر رہے ہو اور تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے دونوں کو نماز کے بعد روک لو اگر شک کرو، پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس کے بدلے کوئی قیمت نہیں لیں گے اگرچہ وہ قرابت والا ہو اور نہ اللہ کی شہادت چھپائیں گے بیشک اگر ایسا کریں ہم تو اس وقت گنہگاروں سے ہوں گے۔ “ (106)

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر اطلاع پائی جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو دو اور ان کی جگہ کھڑے ہوں ان میں سے جن کے خلاف گناہ کا ارتکاب ہوا ہے جو زیادہ قریب ہوں تو دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ یقیناً ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی اگر زیادتی کریں بیشک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے۔ “ (107)

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو اس طریقے پر دیں یا اس سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد قسمیں رد کردی جائیں گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (108)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔ آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت عیسائی تھے۔ حضرت بدیل راستے میں بیمار ہوئے اور فوت ہوگئے۔ انھوں نے فوت ہونے سے پہلے اپنے سامان کی ایک فہرست تیار کرکے چپکے سے اپنے سامان میں رکھ دی۔ اس سامان میں ایک قیمتی پیالہ تھا جسے سونے کی تار سے جوڑا گیا تھا۔ فوت ہونے والے نے وصیت کی کہ یہ سامان میرے ورثاء تک پہنچا دیا جائے۔ واپسی پر عدی اور تمیم داری نے یہ سامان مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا۔ سامان کھولنے پر جب فہرست ملیتو اس میں سے پیالہ غائب تھا جسے عدی اور تمیم داری نے مدینے کے ایک سنار کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا مرحوم کے ورثاء نے ان دونوں سے پوچھا کہ فوت ہونے والے نے سامان سے اپنے علاج کے لیے کوئی چیز فروخت تو نہیں کی تھی ؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا تب مرنے والے کے ورثاء نے سامان کی فہرست پیش کرتے ہوئے ان سے اس قیمتی پیالے کا مطالبہ کیا لیکن دونوں نے اس کا انکار کیا۔ بالآخر مقدمہ نبی معظم ﷺ کے ہاں پیش ہوا گواہی نہ ہونے کی وجہ سے عدی اور اس کا ساتھی بری قرار پائے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پیالہ سنار کے ہاں پایا گیا تب بدیل کے ورثاء نے دوبارہ اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے یہ بات رکھی آپ نے عدی اور تمیم کو بلایا اور ورثا نے آپ کی موجودگی میں ان دونوں کے سامنے قسم اٹھائی کہ ہم بالکل سچی قسم اٹھا رہے ہیں اور ان کی قسمیں جھوٹی ہیں۔ یہ حلف نماز عصر کے بعد دیا گیا تھا اور آپ کو یقین ہوگیا کہ بدیل کے ورثاء کی قسم سچی ہے جس بناء پر دونوں عیسائیوں سے پیالے کی قیمت ایک ہزار درہم وصول کرکے ورثاء کو دی گئی بعد ازاں عدی اور تمیم مسلمان ہوئے تو انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا واقعی ہم نے پیالہ چوری کیا تھا۔ اس وقت سے یہ قانون جاری ہوا کہ سفر کی حالت میں ایسا واقعہ پیش آجائے اور بیمار کو اپنی موت کا یقین ہونے لگے تو وہ اپنا سامان دوسرے کے حوالے کرتے ہوئے دو مسلمان گواہ بنائے۔ اگر مسلمان نہ ہوں تو غیر مسلموں میں بھی دو عادل گواہ مقرر کیے جاسکتے ہیں قسم اٹھانے والے نماز عصر کے بعد کھڑے ہو کر ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہم ذاتی مفاد اور کسی عزیز کی طرفداری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے اور کوئی چیز چھپائے بغیر حلف دیتے ہیں کہ اگر جھوٹی قسم اٹھائیں گے تو ہم مجرم ہوں گے۔ اس موقع پر قرآن مجید کا یہ ارشاد سامنے رکھتے ہوئے نبی ﷺ حلف دینے والے کو اس کے حلف سے پہلے اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا کرتے تھے۔ لہٰذا حلف لینے والے کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ قسم لینے سے پہلے اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرے۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہِلَالَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ فَجَاءَ فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَقُولُ إِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَاکَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَاءِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ )[ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب یبدء الرجل بالتلاعن ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو وہ آئے اور گواہی دی تو نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جو تو بہ کرے ؟ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَبَاءِرُ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان والنذور، باب یمین الغموس ] ” عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھو ٹی قسم اٹھا نا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ امْرِءٍ ، ہُوَ عَلَیْہَا فَاجِرٌ، لَقِیَ اللَّہَ وَہْوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی (إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً ) الآیَۃَ )[ رواہ البخاری : باب الخصومۃ ] ” حضرت عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو آدمی کسی کا مال بٹورنے کے لیے قسم اٹھاتا ہے اور وہ اس میں جھوٹا ہے۔ وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (بےشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں ) “ مسائل 1۔ گناہ میں ملوث لوگوں کے بجائے دوسرے لوگ گواہی دیں۔ 2۔ گواہی دینے والوں کو کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ اگر مسلمان عادل گواہ نہ ملیں تو غیر مسلم کو بھی گواہ بنایا جاسکتا ہے۔ 4۔ ذاتی مفاد اور رشتہ داری سے بالا تر ہو کر گواہی دینا چاہیے۔ 5۔ گواہ پر شک ہو تو قسم بھی لی جاسکتی ہے اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ 6۔ جھوٹی گواہی دینا ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 258) 2۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 264) 3۔ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : 108) 4۔ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : 107) 5۔ گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : 37) 6۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا۔ (الزمر : 3)
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

” جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (109)

فہم القرآن ربط کلام : حق کی شہادت دینا مسلمان کا فریضہ ہے جو انبیاء کا مشن ہے۔ جب انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان کے مشن کے بارے میں سوال ہوگا تو انکے متبعین کس طرح مسؤ لیت سے بچ سکتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں تین باتیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو یکتا جانتے ہوئے اس پر کامل ایمان رکھنا، حضرت محمد ﷺ کو خاتم المرسلین مانتے ہوئے ان کی رسالت پہ ایمان لانا، تیسرا بنیادی عقیدہ یہ ہے آدمی کا قیامت پر ایمان ہو کہ وہ قائم ہوگی اور ہم سب نے رب کبریا کی عدالت میں اپنی ہر بات اور عمل کا جواب دینا ہے۔ قیام قیامت کے بارے میں قرآن مجید میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ دلائل دیے گئے ہیں یہ ایسا دن ہے کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ ( علیہ السلام) قطار اندر قطار رب کبریا کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ یہ پچاس ہزار سال کا دن ہوگا۔ اس میں ہر نبی وقت مقررہ پر اپنی امت کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا۔ یہاں ہر فرد کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں سوال ہوگا۔ قرآن مجید کی تلاوت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب انبیاء (علیہ السلام) اپنی امتوں کے ساتھ پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ پہلے اس امت کے نبی سے سوال کرے گا کہ آپ نے میرا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقے سے پہنچایا یا نہیں ؟ اس کے جواب میں تمہاری امت نے کیا وطیرہ اختیار کیا ؟ انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہوں گے کہ الٰہی ہم تو نہیں جانتے آپ ہی غیب کو جاننے والے ہیں۔ انبیاء کا لا علمی کا اظہار کرنے کے بارے میں مفسرین نے تین قسم کی تفسیر کی ہے : 1۔ لاَ عِلْمَ لَنَا کہ ہمیں علم نہیں سے مراد علم کا مل ہے۔ کیونکہ علاَّمُ الغیوب کے لفظ ظاہر کر رہے ہیں کہ انبیاء صرف انھی حالات سے واقف تھے اور ہوتے ہیں جو ان کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ لوگوں کی خلوت کی زندگی کو انبیاء (علیہ السلام) نہیں جانتے۔ 2۔ لاَ عِلْمَ لَنَا کا یہ معنی ہے کہ جب تک ہم ان میں موجود رہے اس وقت تک تو ہمیں کچھ نہ کچھ ان کے حالات کا علم ہے لیکن ان کے بارے میں کامل اور اکمل علم تیرے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (فَکَیْفَ إِذَا جِءْنَا مِن کُلِّ أمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِءْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاء شَہِیدًا)[ النساء : 41) ” بھلا اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے، پھر ان پر (اے نبی ﷺ آپ کو گواہ بنا دیں گے۔ “ 3۔ انبیاء اپنی امتوں کے بارے میں شہادت دیں گے لہٰذا اس آیت کا یہ مفہوم لینے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور دبدبہ کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہ السلام) پہلے لا علم لنا کا اظہار کریں گے۔ بہر حال قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات مسلمہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) وہی کچھ جانتے تھے جس کا علم اللہ تعالیٰ انھیں عطا کیا تھا یا جو کام ان کی موجودگی میں ہوا کرتے تھے۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا۔ 2۔ انبیاء و رسل ( علیہ السلام) سے ان کی رسالت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ 3۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی غیب جانتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کے بارے میں جانتا ہے۔ (البقرۃ : 33) 2۔ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی چیزوں کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ (البقرۃ : 33) 3۔ اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ (فاطر : 38) 4۔ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو خوب جانتا ہے۔ (الحجرات : 18) 5۔ اللہ کے پاس ہی غیب کی چابیاں ہیں۔ (الانعام : 59) 6۔ نبی اکرم ﷺ غیب نہیں جانتے۔ (الانعام : 50) 7۔ کہہ دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : 20) 8۔ آسمان و زمین کا غیب اللہ جانتا ہے۔ (النحل : 77)
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

” جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم ! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میری نعمت یاد کر جب میں نے روح پاک سے تیری مدد کی، تو گود میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تو میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی صورت بناتا تھا۔ پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے ایک اڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا اور تو مادر زاد اندھے اور برص والے کو میرے حکم سے تندرست کرتا تھا اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے دور رکھا اور جب تو ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو ان میں سے جنہوں نے کفر کیا کہنے لگے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ بھی نہیں۔ “ (110)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عیسائیوں کے باطل عقیدہ اور برے اعمال کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس انداز سے سوال فرمائے گا کہ جس کا ایک ایک لفظ جلالت و تمکنت سے لبریز ہوگا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور بےچارگی کا مجسمہ بنے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو انعامات یاد کرائیں گے کہ میں نے تیری والدہ کو خصوصی کفالت و تربیت سے نوازتے ہوئے زمانے کی عورتوں میں معزز اور محترم ٹھہرایا۔ ان کے لیے بےموسم پھولوں کا انتظام کیا جب ان کی پاک دامنی پر حرف آیا تو تجھ جیسے نو مولود سے ان کی برأت کا اس طرح اظہار کروایا کہ پھر ان کی زندگی میں کوئی شخص ان پر الزام لگانے کی جرأت نہ کرسکا۔ اور تجھے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے معاونت بخشی اور تو نے مہد میں نہ صرف اپنی والدہ کی پاک دامنی کی گواہی دی بلکہ اپنی نبوت کا بھی اعلان کیا۔ تجھے یہ بھی شرف بخشا کہ تو ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا رہا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تقریباً 35 سال کی عمر میں آسمانوں پر اٹھالیے گئے نامعلوم لاکھوں کروڑوں سالوں کے بعد جب وہ قرب قیامت تشریف لائیں گے تو وہ بوڑھے ہونے کے بجائے پورے حسن و جمال کے ساتھ جوان ہوں گے یہ بھی ان پر اللہ کا منفرد احسان ہوگا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ظاہری اور جوہری صلاحیتوں سے ہر طرح ہم کنار ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) کو لکھنا، پڑھنا، حکمت و دانش اور نہ صرف انجیل یاد کروائی بلکہ تورات بھی انھیں پوری طرح ازبرتھی۔ حکمت میں انھیں اس قدر ید طولیٰ عطا کیا گیا کہ بڑے بڑے اطباء اور حکماء ان کے سامنے طفل مکتب کی مانند پیش ہوتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے مادر زاد اندھے کو بینائی دی اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو وہ صحت یاب ہوگیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے مردہ کو زندہ کیا یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا جہاں تک پرندہ بنانے اور اسے اڑانے کا تعلق ہے تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ لوگوں نے ان سے چمگادڑ بنانے اور اس میں روح ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اسے چمگادڑ کی شکل دی اس میں پھونک ماری تو چمگادڑ اڑنے لگا۔ چمگادڑ کا مجسمہ بنانا عیسیٰ (علیہ السلام) کا کام تھا لیکن اس میں روح ڈالنا اور اڑنے کی طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کمال تھا۔ صاحب بیضاوی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے چمگادڑ بنانے کا اس لیے مطالبہ کیا تھا کہ یہ جانور دوسرے جانوروں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کے جسم میں ہڈی نہیں ہوتی یہ صرف گوشت اور خون کا بنا ہوتا ہے۔ یہ پرندوں کی طرح اڑتا ہے اور حیوانوں کی طرح بچے دیتا ہے۔ پرندے انڈے دیتے ہیں یہ دودھ دیتا ہے۔ اسے عورت کی طرح حیض آتا ہے، اور انسان کی طرح ہنستا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسری نعمتوں کی یاد دہانی کے ساتھ یہ بھی یاد کروایا جائے گا کہ اے عیسیٰ میں نے تجھے یہودیوں کی دستبرد سے بچایا اور تیرے بارے میں تیرے شاگردوں کے دل میں خصوصی محبت اور ایمان کا جذبہ بخشا۔ سورة آل عمران آیت 49 میں ہر معجزے کے بعد باذ ن اللہ کے الفاظ بھی آئے ہیں جہاں نعمتوں کی یاد دہانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ” بِاِذْنِیْ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ سب کچھ میری عطا اور میرے حکم سے ہوا تھا۔ تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا کمال تھا۔ لیکن افسوس بار بار کی صراحت کے بعد عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کا جز ٹھہراتے ہوئے کفر کرتے ہیں۔ جس کا قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) صاف صاف انکار کریں گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خاص شرف بخشا تھا۔ 2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جبرائیل امین کی تائید حاصل تھی۔ 3۔ تمام کاموں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات : 1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو باذن اللہ اچھا کرنا۔ ( آل عمران : 49) 2۔ آسمان سے دستر خوان کا اترنا۔ (المائدۃ : 112 تا 115) 3۔ روح القدس کی تائید پانا۔ (البقرۃ : 253) 4۔ آپ کلمۃ اللہ ہیں۔ دنیا و آخرت میں عزت پانے والے ہیں۔ (آل عمران : 45) 5۔ بن باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : 47) 6۔ زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (النساء : 158) 7۔ ابتدائی دنوں میں اپنی نبوت کا اعلان کرنا۔ (مریم : 30) 8۔ اپنی والدہ کی براءت کا اعلان کرنا۔ (آل عمران : 47) 9۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لوگوں کو انکی کھانے پینے اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کے بارے مطلع کرنا۔ (آل عمران : 49)
Ayahs 5:111–113

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

” اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہیں کہ بیشک ہم فرماں بردار ہیں۔ (111)

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا آپ کا رب کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتارے ؟ اس نے کہا اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ (112)

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہم جان لیں کہ واقعی تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہی دینے والوں سے ہوجائیں۔ “ (113)

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی یاد کرایا جائے گا۔ اس فرمان کا پس منظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کی بنا پر کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر خاص کرم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے دل ہدایت کے لیے کھول دیے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ” اَوْحَیْتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے کہ اے عیسیٰ ! اللہ ہی نے تمہارے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ آگے بڑھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ اور اس کے دست وبازو بن جاؤ۔
Ayahs 5:114–115

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

” عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ، ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق دینے والا ہے۔ (114)

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : بیشک میں اسے تم پر اتارنے والا ہوں، پھر جو اس کے بعد تم میں سے ناشکری کرے گا تو میں اسے عذاب دوں گا ایسا عذاب جو دنیا میں کسی کو نہ دوں گا۔ “ (115)

قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس کی یوں وضاحت ہے۔ (یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا أَنْصَار اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْٓ إِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَار اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاءِفَۃٌ مِّنمْ بَنِی إِسْرَاءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّآءِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ )[ الصف : 14] ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا کون مددگار ہے ؟ تو حوا ریوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور دوسرے گروہ نے انکار کردیا ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی لہٰذا وہی غالب رہے۔ “ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان تو کردیا لیکن ساتھ ہی نہا یت ادب کے ساتھ ملتمس ہوئے کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کیا یہ ممکن ہے آپ کا رب آسمان سے ہمارے لیے کھانوں سے بھر پور دستر خوان نازل کرے ؟” ہَلْ یَسْتَطِیْعُ “ کے معنی یہ نہیں کہ انہیں شک تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے دستر خوان نازل نہیں کرسکتا۔ یقیناً وہ جانتے تھے کہ جو رب من وسلوی اور بارش نازل کرسکتا ہے وہ پکا پکایا کھانا بھی نازل کرسکتا ہے۔ کیا آپ کا رب طاقت رکھتا ہے ؟ کا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور اس کی حکمت کے منافی نہ ہو تو وہ ہم پر دسترخوان نازل فرمائے تاکہ ہم یہ فوائد حاصل کرسکیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پکوان کو خوب مزے لے لے کر سیر ہو کر کھائیں۔ 2۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے پرندوں کا معجزہ ظاہر ہوا اور وہ اطمینان قلب کی دولت سے مالا مال ہوئے ہم بھی دستر خوان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ قلبی اطمینان چاہتے ہیں۔ 3۔ اس اطمینان قلب اور انشراح صدر کے بعد ہم لوگوں کے سامنے شدّو مدّاور بھرپور طریقہ کے ساتھ آپ کی نبوت کا پر چار کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم پر اپنی نعمتوں سے بھر پور دستر خوان نازل کروں گا لیکن یاد رکھنا اس کے بعد جس کسی نے انکار کیا تو اسے ایسے عذاب سے دوچار کیا جائے گا کہ جس کی مثال دنیا میں پہلے نہ ہوگی۔ دستر خوان کے نزول کے بارے میں مفسرین کی دو آرا پائی جاتی ہیں ایک طبقہ کا خیال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا جب کہ دوسرے فریق کا خیال ہے کہ عذاب کی وارننگ سن کر حواریوں نے اس مطالبہ سے توبہ کرلی تھی۔ (واللہ اعلم) مسائل 1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے خصوصی کھانے کی دعا کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے پر اتمام حجت ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن 1۔ اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ہے : 2۔ اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما تو ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ ( المائدہ : 114)
Ayahs 5:116–118

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

” اور جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنالو ؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے جائز نہیں کہ وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوتا تو یقیناً تو اسے جانتا ہوتا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے یقیناً تو ہی چھپی باتوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ “ (116)

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

” میں نے انہیں اس کے سواکچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ (117)

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انہیں عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی سب پر غالب، حکمت والا ہے۔ “ (118)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے بڑے جلال کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے عیسائیوں کو یہ تبلیغ کی تھی کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھرکانپتے ہوئے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے اپنے رب کے حضور التجا کریں گے کہ اے رب ذوالجلال والاکرام میں وہ بات کہنے کی کس طرح جرأت کرسکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے اختیار نہ تھا۔ الٰہی اگر میں نے یہ بات ان لوگوں کو کہی ہوتی میرے الفاظ اور میرے دل کی حالت کو آپ جانتے ہیں جس کا دوسرا مفہوم ہے کہ میں ایسی بات کہنا تو درکنار سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ میرے دل کی سچائی اور عاجزی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ البتہ میں نہیں جانتا آپ میرے بارے میں کیا فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی فریاد کو جاری رکھتے ہوئے عرض کریں گے۔ کہ میں نے تو انہیں پوری زندگی یہی بات باربار کہی اور سمجھائی کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ میں ان کے بارے میں اتنی ہی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان میں موجود رہا جب تو نے مجھے فوت کرلیا۔ تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ان کے عقیدے اور عمل کو جاننے والا ہے۔ امام ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ فریاد کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) اس قدر عاجزی و انکساری کا اظہار کریں گے کہ انکے جسم کے ایک ایک رونگٹے سے پسینا بہنا شروع ہوجائے گا۔ بالآخر سراپا التجا بن کر عرض گزار ہوں گے کہ تو انہیں عذاب کرے تیرے ہی بندے ہیں اگر معاف فرما دے تو تجھے روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ تو اپنے فیصلے صادر کرنے پر غالب اور نہایت حکمت والا ہے۔ اس عاجزی اور بار بار فریاد کرنے کے باوجود رب ذوالجلال فرمائے گا کہ آج سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا ہی فائدہ پہنچے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کریں گے۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مافوق الفطرت انسان ہی ہیں۔ 3۔ مرنے کے بعد انبیاء کو بھی دنیا کے حالات کا علم نہیں ہوتا۔ 4۔ اللہ جسے چاہے معاف کرے اور جیسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

” اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اللہ ان سے ہمیشہ راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ (119)

فہم القرآن ربط کلام : عیسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت اور فریاد کے باوجود اللہ تعالیٰ مشرکوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فریاد قبول نہ کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج کے دن سچے شخص کو اس کی سچائی کا فائدہ پہنچے گا۔ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی ہے اے عیسیٰ جو کچھ تم نے کہا سچ کہا کہ واقعی تو اور تیری والدہ نے لوگوں کو شرک کی دعوت نہیں دی تھی لہٰذا تجھے مطمئن رہنا چاہیے آج ہر شخص کو فائدہ پہنچے گا جو سچ پر قائم رہا اور سچ کی دعوت دیتا رہا۔ ان آیات کے سیاق وسباق سے یہ حقیقت بالکل واضح اور نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں صدق سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کیونکہ توحید کے بغیر دنیا کی کوئی سچائی قیامت کے دن انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ توحید کے مقابلہ میں شرک ہے اور شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا سورة النساء، آیت : 116 میں فیصلہ ہے کہ اس نے شرک کو ہرگز معاف نہیں کرنا جبکہ دوسرے جس کو چاہے گا اس کے دوسرے گناہ معاف کر دے گا۔ جہاں تک توحید کے علاوہ دوسرے اعمال کا تعلق ہے نیکی کرنے والے کو اسکی نیکی کا دنیا میں فائدہ پہنچے گا لیکن شرک کی وجہ سے قیامت کے دن اس کے سب اعمال غارت ہوجائیں گے۔ اس کے مقابلے میں عقیدۂ توحید پر قائم رہنے اور اس کے مطابق نیک اعمال کرنے والوں کے لیے ایسی جنت ہے جس کے نیچے نہریں اور چشمے جاری ہوں گے۔ اس میں صادقین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخلہ نصیب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوگا اور یہ اپنے رب پر خوش و خرم ہوں گے ان کے لیے عظیم کامیابی ہے۔ (عَنْ عمرو بن العاص ؓ قال أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ ابُسُطْ یَمِینَکَ فَلْأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِینَہُ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُّغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذا الھجرۃ والحج ] ” حضرت عمر و بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی اے اللہ کے رسول اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ جب آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ تب آپ ﷺ نے پوچھا اے عمرو ! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ وہ کون سی شرط ہے ؟ میں نے عرض کی کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تجھے معلوم نہیں اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ عقیدۂ توحید اور صالح اعمال والے ہی سچے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رضا بہت بڑی نعمت ہے۔ 3۔ جنت کا حصول بہت بڑی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب سے بڑی نعمت ہے : 1۔ اللہ نے مومن مرد اور عورتوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اللہ کی رضامندی بڑی بات ہے۔ (التوبۃ : 72) 2۔ آج کے دن سچائی فائدہ دے گی۔ ان کے لیے جنت ہے۔ اللہ ان سے راضی ہوا۔ وہ اللہ پر راضی ہوگئے یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدۃ : 119) 3۔ صحابہ کرام ؓ اللہ پر راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوگیا۔ (المجادلۃ : 22) 4۔ اللہ کی رضا بہت بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 100) 5۔ ایمان دار، اعمال صالح کرنے والوں سے اللہ راضی ہوگا اور وہ اللہ پر راضیہوں گے۔ (البینۃ : 7 تا 8)
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

” اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ (120)

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی ابتدا میں عہد کی پاسداری کا حکم دیا تھا عہد میں سب سے بڑا عہد بندے کا اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا ہے اب سورة کا اختتام شرک کی نفی اور توحید کے اثبات اور اقرار پر ہو رہا ہے۔ سورۃ کے اختتام میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے ذرّے ذرّے اور چپے چپے پر قادر ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اے لوگو اگر تم اللہ کی توحید سے منحرف ہو کر اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد توڑ دو اس کی نافرمانی اور شرک جیسے عظیم گناہ میں ملوث ہوجاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت، اس کے اقتدار اور اختیار میں ذرّہ برابر کمی واقع نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کے نافرمان اور باغیوں کو ایک چیلنج ہے جس کی رسول محترم ﷺ نے تفصیل یوں بیان فرمائی ہے : مسائل 1۔ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ 2۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے : 1۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189) 2۔ بیشک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ : 116) 3۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 107)