Ayah 5:45فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، یہاں تورات میں جو حدود و قصاص کے احکامات کی تفصیل بیان فرمائی ہے انجیل کا اس لیے ذکر نہیں کہ انجیل تورات ہی کا تتمّہ ہے۔
پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جن احکامات کا تورات میں ذکر ہے اگر وہ قرآن مجید میں من و عن یا ان کا جو حصہ قرآن مجید میں بطور نفاذ ذکر کیا گیا ہو تو اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ یہاں تو رات اور قرآن مجید کی متفق علیہ حدود کا ذکر کرنے سے پہلے نصیحت کی گئی کہ لوگوں سے ڈرنے کی بجائے صرف اللہ سے ڈرا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو دنیاوی مفادات کے لالچ میں آکر ہرگز نہ چھوڑو کیونکہ ان کا نفاذ اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض قرار دیا ہے۔
” ھم “ کی ضمیر بظاہر تو یہود و نصاریٰ کی طرف ہے لیکن نبی ﷺ نے ان پر عمل پیرا ہونا امت کے لیے لازم قرار دیا ہے آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں ان حدود کو عملاً نافذ فرمایا کیونکہ جو حاکم جان بوجھ کر ان پر عمل نہیں کرتا۔ وہ کافر، ظالم اور فاسق یعنی کسی ایک زمرے میں ضرور شامل ہوگا۔ البتہ اس بات کی پوری گنجائش رکھی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات عدالت میں آنے سے پہلے مجروح یا مقتول کے وارث معاف کردیں تو یہ معافی ظالم کے لیے اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔ اگر معافی کی صورت نہ نکلے تو حاکم کا فرض ہے کہ قصاص دلوائے اگر ایسا نہ کیا جائے تو حاکم ظالموں میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ ان کی وجہ سے مظلوم اپنے حق سے محروم ہوا اور معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوگا۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَسَرَتْ الرُّبَیِّعُ وَہْیَ عَمَّۃُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ثَنِیَّۃَ جَارِیَۃٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ فَأَتَوْا النَّبِیَّ ﷺ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ لَا وَاللّٰہِ لَاتُکْسَرُ سِنُّہَا یَا رَسُول اللّٰہِ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَا أَنَسُ کِتَاب اللّٰہِ الْقِصَاصُ فَرَضِیَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ ﷺ إِنَّ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ )[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ والجروح قصاص ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک کی چچی نے انصار کی ایک بچی کا دانت توڑ دیا تو انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے نبی ﷺ نے قصاص کا حکم دیا۔ انس بن نضر ؓ جو کہ انس بن مالک کے چچا ہیں۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا اے انس قصاص اللہ کا حکم ہے اچانک قوم دیت لینے پر راضی ہوگئی تو رسول معظم ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں اگر قسم اٹھالیں تو اللہ اس کو بری کردیتے ہیں۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ حَدٌّ یُعْمَلُ فِی الأَرْضِ خَیْرٌ لأَہْلِ الأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا ثلاَثِینَ صَبَاحًا )[ رواہ النسائی : باب التَّرْغِیبِ فِی إِقَامَۃِ الْحَدِّ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین میں اللہ کی ایک حد پر عمل کرنا زمین والوں کے لیے تیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ تورات کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ 2۔ تورات میں ہدایت اور روشنی ہے۔
3۔ انبیاء (علیہ السلام) کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ 4۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔
5۔ کتاب اللہ کا حکم نہ ماننے والے کافر، ظالم، فاسق ہیں۔ 6۔ یہودیوں پر بھی قصاص فرض تھا۔
تفسیر بالقرآن
نفاذ دین کی فرضیت :
1۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے۔ (المائدۃ : 44)
2۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47)
Ayahs 5:46–47فہم القرآن
ربط کلام : تورات کے بعد انجیل کی ہدایات اور اس کے احکامات کی اہمیت کا بیان۔
اس سے متصل پہلی آیات میں تورات کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات کے نفاذ کا ذکر ہوا تھا اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور انجیل کا تورات کی تائید کرنا ثابت کیا گیا ہے۔ اس لیے انجیل کی ہدایات اور احکامات کو انہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جن الفاظ میں تورات کی اہمیت اور ہدایات کا تعارف کروا یا گیا ہے۔ یہ کتب اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے لیے روشنی کا مینار اور ہدایت کا سرچشمہ تھیں یاد رہے جو الفاظ تورات اور انجیل کے بارے میں آئے ہیں ایسے ہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ارشاد ہوئے ہیں۔
یہ قرآن مجید کی حقانیت اور اس کی کشادہ ظرفی کا منہ بولتا ثبوت ہونے کے ساتھ اس بات کا اعلان ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل اپنے اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور روشنی کا مینار تھیں اسی طرح ہی آج قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشن قندیل ہے اور اس کے احکامات رہتی دنیا تک قابل عمل اور نافذ العمل رہیں گے۔ تورات و انجیل اپنے دور کے لیے لوگوں کے نصیحت و موعظت کا مرقع تھیں اور اب قرآن ان کے بنیادی احکامات اور ہدایات کا ترجمان اور لوگوں کے لیے راہ عمل ہے جس طرح تورات و انجیل کے احکامات نافذ نہ کرنے والے درجہ بدرجہ کافر، ظالم اور فاسق تھے اگر آج مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی نظام میں قرآن نافذ نہیں کرتے تو وہ بھی اسی زمرے میں سمجھے جائیں گے جس طرح تورات و انجیل پر عمل نہ کرنے والے کافر، ظالم اور فاسق ٹھہرے تھے۔
مسائل
1۔ ہر نبی پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا تھا۔
2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے انجیل عطا کی تھی۔
3۔ انجیل میں ہدایت اور روشنی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی نازل شدہ کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے :
1۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں۔ (النساء : 105)
2۔ ہم نے انبیاء پر کتابیں نازل کیں تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں۔ (البقرۃ : 213)
3۔ اور انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 47)
4۔ آپ ان کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 48)
5۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام آپ پر اتارے ہیں ان کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ (المائدۃ : 49)
Ayahs 5:48–49فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اس آیت مبارکہ میں پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے لفظ ” الکتاب “ سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو پہلی کتب آسمانی کی تائید اور تصدیق کرتا ہے اور جو کچھ ان کتابوں میں احکام بیان کیے گئے۔ وہ قرآن مجید میں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔
” مھیمن “ کا معنیٰ ہے کسی چیز کو ڈھانپ لینا یا اس کی حفاظت اور نگرانی کرنا کیونکہ دین کے مرکزی اور بنیادی اصول شروع سے ایک ہی رہے ہیں اس لیے وہ تمام احکام اور اصول جو پہلی کتابوں میں نازل کیے گئے اور جن کے نفاذ کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا۔ قرآن مجید ان کا امین اور ترجمان ہے۔
پہلی آیات میں تورات اور انجیل کے نفاذ کا حکم ان کے حاملین کو دیا گیا تھا۔ اب قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد وہ کتابیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ البتہ ان کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرنی چاہیے۔ تورات اور انجیل کے بنیادی احکام جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ نبی ﷺ کو براہ راست ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ان کا نفاذ کریں تاکہ اس شبہ کا ازالہ ہو سکے کہ ان احکام کا نفاذ پہلی امتوں کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ یہ امت ان کے نفاذ میں اتنی ہی پابند ہے جتنا پہلی امتوں کو پابند کیا گیا تھا۔ لہٰذا قرآن مجید کے نفاذ میں کسی کے منفی خیالات اور رجحانات کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ حق پہنچ چکا اور نفاذ دین کے بغیر مسلمانوں کا اجتماعی نظام مستحکم نہیں ہوسکتا اور ان کی ترقی نہیں ہوسکتی۔ جس کی اہمیت کے پیش نظر براہ راست نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان کا من و عن نفاذ کریں اور کسی کی خواہش اور مخالفت کو خاطر میں نہ لائیں۔ فرمان کے آخر میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ ہر امت کے لیے اس کی الگ، الگ شریعت اور علیحدہ طریقہ تھا۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ لوگوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل تھا بلکہ مصلحت اور حکمت یہ تھی کہ لوگوں کو اس بات میں آزمایا جائے کہ وہ نئے نبی اور اس کی شریعت پر ایمان لاتے ہیں یا اپنے اپنے مذہب اور ملتوں کے ساتھ منسلک رہتے ہیں۔ اس میں یہ حکمت بھی پنہاں تھی کہ پہلی امتوں کے مزاج اور ان کے حالات کے مطابق انھیں شریعت اور اس پر عملدر آمد کا طریقہ وہی دیا جائے جس کو اپنانا ان کے لیے آسان تھا۔ جس کی اہل علم نے یہ توجیہ فرمائی ہے کہ دین ایک ہونے کے باوجود شریعتوں کا مختلف ہونا انسانی ذہن کی ارتقاء کی بنا پر کیا گیا ہے۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان اختلافات میں الجھنے اور اپنی صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ کار خیر میں مسابقت ہی زندہ اور بیدار قوموں کا شعار ہوا کرتا ہے۔ قرآن مجید مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کا فرمان ہے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ کیونکہ جس شعبہ میں مسابقت ختم ہوجائے وہ شعبہ زندگی کی روح کھو بیٹھتا ہے اس لیے سورة التکاثر میں ان لوگوں کو سخت انتباہ کیا ہے جو دنیا کے لیے اس قدر ہلکان کا شکار ہوگئے کہ قبر کی دیواروں تک دنیا ہی کے پیچھے بھاگتے رہے اور اپنی آخرت کو تباہ کر بیٹھے۔ اس لیے حکم فرمایا کہ مسلمانو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ نیکی میں سبقت کرنے والے ہی اللہ کے مقرب ہوں گے۔ حقیقت آشکارا ہونے کے باوجود خواہ مخواہ اختلافات میں الجھنے والوں کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائیں گے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید منزل من اللہ ہے۔
2۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔
3۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کا نگران ہے۔
4۔ قرآن مجید کے احکامات کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔
5۔ حق آجانے کے بعد کسی اور کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔
6۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کے ذریعے لوگوں کو آزماتا ہے۔
7۔ نیکی کے کاموں میں سبقت اختیار کرنی چاہیے۔
8۔ سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ یوم قیامت لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قانون الٰہی کے بغیر فیصلے کرنے والے مجرم ہیں :
1۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 48)
2۔ جو کتاب اللہ کے بغیر اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا اللہ کے راستے سے بھٹک جائے گا۔ (ص : 26)
3۔ قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ دینے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47)
4۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ کافر ہے۔ (المائدۃ : 44)
5۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرے وہ ظالم ہے۔ (المائدۃ : 45)
6۔ امت کو قرآن کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے قرآن وسنت کو چھوڑ کر دوسرے کی اتباع نہیں کرنی چاہیے (الاعراف : 3)
Ayah 5:50فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
یہود و نصاریٰ نبی اکرم ﷺ کو پریشان اور پھسلانے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی شرارت اور سازش کیا کرتے تھے ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ اللہ کے پیغمبر سے کوئی ایسا کام کروائیں جس سے اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں اور آپ کے دامن پاک پر کوئی ایسا دھبہ لگ جائے کہ لوگ آپ سے بد ظن ہوجائیں۔ اسی کے پیش نظر یہودیوں کے مذہبی رہنما آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر آپ اس کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق کردیں تو نہ صرف ہم مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں بلکہ ہمارے ہزاروں متبعین مشرف بہ اسلام ہوجائیں گے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے نبی ! آپ ان کی خواہشات کا خیال رکھنے اور ان کی سازشوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ آپ صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کو نافذ فرمائیں اگر یہ لوگ اللہ کے حکم سے انحراف کریں گے تو یہ انحراف ان کے گناہوں کا سبب اور سزا ہوگی۔ جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق سمجھنی چاہیے۔
یقین جانیں کہ لوگوں کی اکثریت نافر مانوں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ نبی اور اس کے سچے متبعین کو ایسی اکثریت کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے کیا جو لوگ جاہلیت کا قانون پسند کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور قانون دنیا اور آخرت کے نتائج کے اعتبار سے ہر قانون سے بہتر ہے لیکن اسے وہی لوگ تسلیم کرتے ہیں جنھیں یقین و ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے جہالت سے مراد ہر وہ کام اور مسئلہ ہوتا ہے جو وحی الٰہی کے خلاف ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پائی جائے۔
مسائل
1۔ ہر فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
2۔ بعض لوگ کتاب اللہ سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3۔ لوگوں کی اکثریت نافرمان ہوتی ہے۔
4۔ گمراہ لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے قانون سے بہتر کوئی قانون نہیں ہے۔
تفسیر بالقرآن
اکثریت کا حال :
1۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (البقرۃ : 243)
2۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔ (الاعراف : 187)
3۔ قرآن آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (ھود : 17)
4۔ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نافذ کرنے پر قادر ہے لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (یوسف : 21)
5۔ لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (یوسف : 38)
6۔ لوگوں کی اکثریت بےعقل ہوتی ہے۔ (المائدۃ : 103)
7۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ (الرعد : 1)
Ayah 5:51فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کا کردار بتلانے کے بعد ان سے حقیقی اور قلبی تعلقات رکھنے سے منع کیا ہے۔
اسلام اور کفر کی کشمکش روز افزوں تھی جس کی بنا پر نو وارد مسلمان بالخصوص منافقین اس کوشش میں تھے کہ ہمارے تعلقات یہود و نصاریٰ کے ساتھ پہلے کی طرح استوار رہیں تاکہ یہود و نصاریٰ کی کامیابی کی صورت میں ہم نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی بنا پر مسلمانوں کے راز یہود و نصاریٰ تک پہنچاتے تاکہ ان کی دلی ہمدردیاں حاصل کرسکیں۔ حق و باطل کے اس معرکہ میں اسلام یہ بات کس طرح گوارا کرسکتا تھا کہ ان لوگوں کو آستینوں کا سانپ سمجھنے کے باوجود اس حالت میں رہنے دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ اسلام تو دور بینی کا دین ہے۔ ایسی صورت حال تو کوئی باطل نظریہ کی حامل اور کمزور جماعت بھی گوارا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا سازشوں کا قلع قمع اور مذموم سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ غیر مسلم بالخصوص یہود و نصاریٰ کے ساتھ رازد ارانہ تعلقات سے کامل اجتناب کریں۔ جو اس حکم کے باوجود غیر مسلموں کے ساتھ دوستی سے باز نہیں آتا وہ انھی میں شمار ہوگا اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے سرفراز نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ اسلام سماجی تعلقات اور کاروباری معاملات میں اپنوں کو ترجیح دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن غیر مسلموں سے سماجی تعلقات اور کاروبار کرنے سے منع نہیں کرتا۔ البتہ ان سے قلبی تعلق اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(عَنْ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ )
[ رواہ ابوداؤد : کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ بیان فرماتے ہیں جو کوئی کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا۔ “
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ اَلْمُغَےِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ فَجَاءَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ اِنَّہٗ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ لَعَنْتَ کَےْتَ وَکَےْتَ فَقَالَ مَالِیْ لَا اَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَمَنْ ہُوَ فِیْ کِتَاب اللّٰہِ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَےْنَ اللَّوْحَےْنِ فَمَا وَجَدْتُّ فِےْہِ مَا تَقُوْلُ قَالَ لَءِنْ کُنْتِ قَرَأْتِےْہِ لَقَدْ وَجَدْتِّےْہِ اَمَا قَرَأْتِ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فُخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا قَالَتْ بَلٰی قَالَ فَاِنَّہٗ قَدْ نَھٰی عَنْہُ ۔ )[ متفق علیہ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں بھنووں ( اور رخسار کے بال) اکھیڑنے والیوں اور خوب صورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ ایک عورت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئی اور کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ؓ نے فلاں فلاں عورت کو ملعون قرار دیا ہے ؟ عبداللہ بن مسعود ؓ نے جواب دیا کہ میں کیوں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اکرم ﷺ نے لعنت کی ہے۔ اور جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا ‘ میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (یعنی پورے) قرآن مجید کی تلاوت کی ہے ‘ مجھے اس میں وہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔ ابن مسعود ؓ نے وضاحت فرمائی کہ اگر تو نے قرآن مجید کی تلاوت کی ہوتی تو اس میں اس حکم کو پالیتی کیا تو نے قرآن مجید میں نہیں پڑھا ” تمہیں جو چیز رسول دیں اس پر عمل کرو اور جس بات سے منع کریں اس سے رک جاؤ “ (الحشر) اس عورت نے جواب دیا کہ بالکل عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا ‘ تو نبی کریم ﷺ نے ان باتوں سے منع فرمایا ہے۔ “
مسائل
1۔ مومن یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائیں۔
2۔ یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
3۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے والا انہی میں سمجھاجائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر بالقرآن
یہود و نصاریٰ کو دوست نہیں بنانا چاہیے :
1۔ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنۃ : 1 تا 2)
2۔ اے ایمان والو ! جن پر اللہ کا غضب ہوا انھیں اپنا دوست مت بناؤ۔ (الممتحنۃ : 13)
3۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل بنا لیا ہے۔ (المائدۃ : 56 تا 57)
4۔ اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 51)
5۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (النساء : 144)
Ayah 5:52فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : منافقین کی دلی کیفیت اور ان کے قلبی خوف کو طشت ازبام کیا گیا ہے۔
منافقانہ عقیدہ اور کردار کو قرآن مجید ایک مرض قرار دیتا ہے جس میں آدمی کفر و اسلام کے درمیان تذبذب کا شکار رہتے ہوئے ہمیشہ دنیاوی مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ یہی حالت رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی تھی۔ جب انھیں اس روش سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی تو وہ اپنے جذبات کو ان الفاظ میں بیان کرتے کہ ہم فریقین کے ساتھ اس لیے تعلقات رکھے ہوئے ہیں کہ کسی ایک فریق کو شکست ہونے کی صورت میں ہمیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دینے کے ساتھ منافقین کو انتباہ کر رہا ہے کہ جس بات سے تم ڈرتے ہو۔ وہ عنقریب ہو کر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح سے نوازے گا یا اپنی طرف سے کامیابی کا دوسرا راستہ کھول دے گا۔ جس میں منافقین کے لیے ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چناچہ غزوۂ بدر سے لے کر غزوۂ تبوک تک منافقوں کو معمولی فائدہ پہنچنے کے سوا ہر قدم پر ندامت اور خفت اٹھانا پڑی آخرت میں ان کے لیے ذلت اور نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
سورۃ البقر ۃ کے دوسرے رکوع میں منافقین کی عادات کا ذکر ہوا۔ جس میں ہم نے لکھا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کہ چوہے کی ایسی بل جسکے دو منہ ہوں، اگر ایک منہ بند کیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے جب تک دونوں بل کے منہ بند نہ کیے جائیں چوہا قابو میں نہیں آسکتا۔ منافق کی یہی حالت ہوتی ہے۔ کہ جب تک بیک وقت کفار اور مسلمانوں کی طرف سے دھتکارا نہ جائے اسے نقصان نہیں ہوتا۔ منافق اس نقصان سے بچنے کے لیے ددنوں فریقوں سے رابطہ رکھتا ہے۔ اس آیت میں ان کی اسی کمزوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن دنیا کا یہ مفاد منافقین کو آخرت کے نقصان سے نہیں بچا سکتا اگر مسلمان منافقین کو سمجھ جائیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جس کے کرنے کا حکم قرآن دیتا ہے تو منافق دنیا میں بھی ذلیل ہوجائیں گے جس طرح نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے منافق بالآخر رسوا ہوئے تھے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمَنَّ خَانَ ) (رواہ مسلم : باب خصائل المنافق)
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ 1 جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 2 جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے 3 جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (متفق علیہ) مسلم شریف میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ “
مسائل
1۔ منافق یہود و نصاریٰ سے دوستی کرتے ہیں۔
2۔ مومنوں کی کامیابی کو منافق برامحسوس کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
نادم ہونے والے لوگ :
1۔ آدم کا بیٹا کہنے لگا کاش میں اس کوے کی طرح ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا تو وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو
گیا۔ (المائدۃ : 31)
2۔ قریب ہے اللہ فتح عطا کر دے یا اپنی طرف سے کوئی حکم نازل فرما دے پس یہ اپنے آپ پر نادم ہوں۔
(المائدۃ : 52 )
3۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (المومنون : 40)
4۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157)
5۔ اے ایمان والو ! فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات : 6)
Ayah 5:53فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کا منافقین پر تعجب کا اظہار اور منافقین کے اعمال کا غارت ہونا۔
اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کو کامیاب ہونے کی خوشخبری سنانے کے ساتھ اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آئے گا کہ مسلمان کامیاب اور منافق اپنی سازشوں اور شرارتوں پر نادم ہوں گے اور اس وقت مسلمان انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے کیا یہی وہ لوگ تھے جو قسمیں اٹھا اٹھا کر ہمیں یقین دہانی کرایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی منافقوں کو شرمندہ کیا اور آخرت میں جب منافق جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو مومن ان سے یہ پوچھیں گے کیا تم وہی لوگ ہو جو دنیا میں حلف اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم بھی ایماندار اور تمہارے ساتھی ہیں۔ دنیا میں منافقوں کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی اور آخرت میں ذلت سے دو چار ہوں گے۔ ان کے تمام اعمال بےفائدہ اور غارت ہوجائیں گے اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ منافق اخلاص سے تہی دامن ہوتا ہے جس وجہ سے نہ صرف آخرت میں یہ لوگ نقصان اٹھائیں گے بلکہ دنیا میں بھی ان کی منافقت کا پردہ چاک ہوجائے گا۔ ان کی حالت اس جانور کی ہوگی جس کے بارے میں محاورہ زبان زد عام ہے کہ نہ گھر کا اور نہ گھاٹ کا، منافق ایسی صورت حال سے دو چار ہوا کرتا ہے۔
(عَنْ ابْنِ عُمَر َ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیرُ إِلٰی ہٰذِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی ہٰذِہِ مَرَّۃٌ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین واحکامھم ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان بکرے کی تلاش میں پھرنے والی بکری کی طرح ہے۔ ایک مرتبہ اس جانب جاتی اور دوسری مرتبہ دوسری جانب جاتی ہے۔ “
Ayah 5:54فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کی خصلتوں کے مقابلے میں مومنوں کی خوبیوں کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو ایک طرح کا چیلنج دیتا ہے کہ اگر تم اپنے دین سے مرتد ہوجاؤ تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو دین کے میدان میں لاکھڑا کرے گا۔ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرئے گا اور وہ لوگ اللہ سے محبت کریں گے وہ دین اور اللہ کی محبت میں اس قدر فنا ہوں گے کہ اپنوں کے ساتھ نرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ یہی جذبہ انھیں جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کرے گا اور انھیں جہاد کرتے ہوئے ملامت کرنے والوں کی ملامت اور کسی کے پراپیگنڈہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
اس آیت مبارکہ میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ کفار کا مسلمانوں کے خلاف یہ بھی ایک حربہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لیے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ مسلمان وحشی اور جنگجو لوگ ہیں۔ اسلام دنیا کے امن کو تباہ کردینے والا مذہب ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ قرآن نے صدیوں پہلے کفار کی جس ملامت کی طرف اشارہ کردیا تھا وہ کس طرح حرف بحرف پوری ہورہی ہے۔ آج پوری دنیا کے کافر جب خودعراق، افغانستان، بوسنیا اور کشمیر پر بم باری کرتے ہیں تو انھیں کوئی شرم نہیں آتی جب مجاہدین دفاع کرتے ہیں تو انھیں تخریب کار اور کیا کیا لقب دیتے ہیں کاش مسلمان سربراہ قرآن کی آواز سنیں اور دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادانہ کریں۔
اکثر محدثین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو آئندہ ہونے والے کچھ لوگوں کے ارتداد کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے جو ارتداد کے دور میں دین پر پکے اور مرتدین کے خلاف جہاد کریں گے۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کی وفات کے فوراً بعد صحابہ کرام ؓ کو مرتدین کا سامنا کرنا پڑا۔ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جس کی سرکوبی کے لیے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خالد بن ولید ؓ کی کمان میں فوج روانہ کی اس جنگ میں کئی صحابہ ؓ شہید ہوئے۔ ان میں بہت سے حفاظ صحابہ ؓ بھی شامل تھے۔ اس کے بعد کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے جہاد کا اعلان کیا۔ بڑے بڑے صحابہ ؓ نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ ان کے خلاف جہاد کیونکر ہوسکتا ہے ؟ جبکہ یہ لوگ دین کے باقی ارکان پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن صدیق اکبر ؓ نے فرمایا جو زکوٰۃ اور نماز میں فرق کرے گا میں اس کے خلاف جہاد ضرور کروں گا۔ بالآخر حضرت عمر ؓ اور ان کے ہم نوا صحابہ کرام ؓ کو اس مسئلہ میں انشراح صدرہوا اور انھوں نے خلیفۃ المسلمین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں مانعین زکوٰۃ نے زکوٰۃ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ ان بحرانوں کے ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لشکر اسامہ کو روانہ کیا جائے یا کہ بحرانی کیفیت کی بنا پر کچھ عرصہ کے لیے روک لیا جائے۔ اس پر خلیفہ اول نے بڑا مضبوط موقف اختیار فرمایا۔ جس سے امت اعتقادی، مالی، اور سیاسی بحران سے بچ گئی۔
ان حالات میں بہت سے لوگوں نے حضرت ابو بکرصدیق ؓ کو مشورہ دیا کہ وہ وقت کی نزاکت کے پیش نظر جیش اسامہ کو نہ بھیجیں، کیونکہ اسے امن و سلامتی کی حالت میں تیار کیا گیا تھا۔ مشورہ دینے والوں میں حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی شامل تھے، مگر حضرت ابوبکر ؓ نے اس بات کو قبول نہ کیا اور جیش اسامہ کو روکنے سے سختی سے انکار کیا اور فرمایا خدا کی قسم ! میں اس جھنڈے کو نہیں کھولوں گا جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے باندھا ہے۔ خواہ پرندے اور درندے ہمیں مدینے کے ارد گرد سے اچک لیں۔ اگر امہات المومنین کے پاؤں کو کتے گھسیٹ لیں تو بھی میں ضرور جیش اسامہ کو بھیجوں گا۔ اور مدینہ کے ارد گرد کے محافظوں کو حکم دوں گا کہ وہ اس کی حفاظت کریں اور جیش اسامہ کا اس حالت میں جانابڑے مفاد میں رہا اور وہ عرب کے جس قبیلے کے پاس سے بھی گزرے وہ ان سے خوف زدہ ہوجاتا اور وہ لوگ کہتے کہ یہ لوگ اس لیے نکلے ہیں کہ ان کو بڑی قوت حاصل ہے۔ (البدایہ والنہایہ)
اس آیت میں مومنین کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔
1۔ مومن اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔
2۔ مومن آپس میں نرم خو اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔
3۔ کفار کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے کی بجائے ان کے کفر سے شدید نفرت کرتے ہیں
4۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشش پیہم میں مصروف رہتے ہیں۔
5۔ دین کی محبت اور جہاد کے راستے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔
جہاں تک کفار کے ساتھ سخت گیر ہونے کا تعلق ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان سماجی اور معاشرتی لحاظ سے بداخلاق ہوتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے دین پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہو اور جہاد کے وقت کسی رشتہ اور مروّت کی پروا کیے بغیر کفار کے خلاف ڈٹ جائے۔ اس راستے میں بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ جب غزوۂ بدر کے بعد ان کا بیٹا عبدالرحمن مسلمان ہوا تو اس نے بدر کا معرکہ بیان کرتے ہوئے اپنے والد ابوبکر ؓ سے کہا جنگ کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا تھا جب آپ میرے نشانے پر تھے، لیکن میں نے اس لیے آپ پر وار نہ کیا کہ آپ میرے والد گرامی ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ اگر تم میرے نشانے میں ہوتے تو میں تم پر وار کرنے سے ہرگز نہ چوکتا۔ (البدایہ والنہایہ)
اللہ تعالیٰ سے اس کی اور نیک لوگوں کی محبت مانگنی چاہیے :
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُول اللَّہِ ﷺ ۔۔ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلَی حُبِّکَ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ، باب ومن سورة ص ]
” حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس آنے سے رک گئے۔۔ اے اللہ میں تم سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی محبت جو تم سے محبت رکھتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تمہاری محبت کے قریب کر دے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو پسند فرماتا ہے جو آپس میں نرم اور کافروں پر سخت ہوں۔
3۔ مومن اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں۔ 4۔ مومن کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔
5۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔
Ayahs 5:55–56فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی باہمی محبت کے ذریعے تسلی دی جارہی ہے۔
خطاب کے آغاز اور رکوع کی ابتدا میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں یہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ محبت کرتے ہیں کیونکہ تم اللہ ہی کے لیے دین کے دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہو۔ تم اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کی حالت میں جھکنے والے اور اس کی رضا کی خاطر زکوٰۃ کی شکل میں غرباء سے تعاون کرنے والے رکوع کرتے ہوئے عاجزی اختیار کرنے والے ہو۔ گویا کہ جب تک مسلمانوں میں یہ اوصاف ہوں گے کہ وہ اللہ کے حضور نماز کی صورت میں جھکنے والے، زکوٰۃ کی شکل میں کمزور ساتھیوں سے تعاون کرنے والے، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے۔ تو انہیں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے یہ اللہ کی فوج ہیں اور اللہ کی فوج ہی دنیا میں غالب رہے گی۔ چناچہ دنیا نے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا جب تک مسلمانوں میں یہ اوصاف رہے مسلمان سربلند رہے۔ یہاں رکوع سے مراد اکثر مفسرین نے عاجزی اور انکساری لی ہے تاہم یہ سورة البقرۃ میں ذکر ہوچکا ہے کہ نماز کے ساتھ رکوع کا خصوصی ذکر اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہودیوں نے رکوع فرض ہونے کے باوجود اپنی نماز سے خارج کردیا ہے یہاں کفار اور منافقوں کو متنبہ کرنے کے ساتھ مومنوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی اس لیے بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کامیابی تمہارا مقدر ہے۔
(الاسلام یعلوولا یعلیٰ ) [ ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268]
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
(کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی إِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ) [ المجادلۃ : 21]
” اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّہِ ، وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ )
[ رواہ البخاری : باب (فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیلَہُمْ )]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے ساتھ لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے جب انھوں نے یہ کام کرلیا تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کرلیا مگر اسلام کے حقوق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ “
مسائل
1۔ مومن اللہ اور اس کے رسول کے دوست ہوتے ہیں۔
2۔ مومن نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے اور اللہ کے سامنے رکوع کرتے ہیں۔
3۔ اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرنے والے غالب رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کن کا دوست ہے :
1۔ اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ (البقرۃ : 257) 2۔ اللہ مومنین کا دوست ہے۔ (آل عمران : 68)
3۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ : 19) 4۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (المائدۃ : 55)
5۔ مشرک اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلانے والوں کا کوئی دوست نہیں۔ (العنکبوت : 23)
6۔ مسلمانوں کے لیے جنت اور اللہ تعالیٰ کی دوستی ہوگی۔ (الانعام : 126)
Ayahs 5:57–58فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ اور کفار سے قلبی تعلقات نہ رکھنے کے مزید تین اسباب :
یہود و نصاریٰ اہل کتاب اور اہل مکہ کعبہ کے متولی اور ملت ابراہیم کے دعوے دار ہونے کے باوجود اسلام جیسے سچے دین، نماز جیسی افضل ترین عبادت اور اس کی پکار یعنی اذان کو کھیل تماشا اور استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ (الانفال : 35) میں ذکر ہوا ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے تو انھوں نے اونٹ کی بھاری بھرکم گندگی سے بھری ہوئی اوجڑی آپ کے کمر مبارک پر رکھ دی تھی۔ ان کی یہ باقیات سیئات فتح مکہ کے موقعہ پر بھی موجود تھیں۔ جب آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو کعبہ میں اذان کہنے کا حکم دیا تو مکہ کے گلی کوچوں میں ابو محذورہ اور ان کے شریر ساتھی جو کہ اس وقت نو عمر تھے۔ حضرت بلال ؓ کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اذان کی نقل اتاری تو آپ نے کریمانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابو محذورہ کو بلایا اور سمجھایا۔ آپ کے مشفقانہ رویہ سے متاثر ہو کر ابو محذورہ نے کلمہ پڑھ لیا۔ تو آپ نے اسے بیت اللہ یعنی مسجد حرام کا مؤذن مقرر فرمایا۔
” حضرت عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے وہ یتیم تھے اور انھوں نے ابو محذورہ کے گھر پرورش پائی ابو محذورہ نے ان کو شام کی طرف بھیجا وہ کہتے ہیں میں نے ابومحذورہ سے کہا میں ملک شام کی طرف جا رہا ہوں اور مجھے خیال ہے کہ وہ لوگ مجھ سے آپ کی آذان کے متعلق پو چھیں گے تو میری رہنمائی کریں۔ ابو محذورہ نے کہا میں چند لوگوں کے ساتھ حنین کی طرف جا رہا تھا جبکہ رسول معظم ﷺ حنین سے واپس پلٹ رہے تھے میری کسی راستے میں ان سے ملاقات ہوئی رسول ﷺ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو اس وقت ہم ان سے کچھ دور تھے ہم نے اذان کی نقل اتارتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔ رسول اکرم ﷺ نے آواز سنی تو ہمیں بلایا ہم آپ کے سامنے حاضر ہوئے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا میں نے تم میں سے کس کی اس قدر بلند آواز سنی ہے میرے ساتھیوں نے سچ بولتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا نبی اکر م نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے وہیں روکے رکھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کھڑے ہو کر اذان کہیے۔ رسول اکر م ﷺ نے مجھے اذان سکھائی فرمایا کہیے اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ پھر فرمایا اپنی آواز کو لمبا کرتے ہوئے دوبارہ کہو أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ پھر آپ نے میرے لیے دعا کی جب میں نے اذان ختم کی تو آپ ﷺ نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے مکہ میں اذان کہنے کی اجازت فرمائیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا میں تجھے اس پر مامور کرتا ہوں۔ میں عتاب بن اسید جو کہ مکہ میں رسول اکرم ﷺ کے مقرر کردہ عامل تھے ان کے پاس گیا، پھر میں نے ان کے پاس مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطا بق اذان کہتا۔ “ [ رواہ النسائی : کتاب الاذان، باب کیف الاذان ]
مسائل
1۔ ایمان والے دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں سے دوستی نہیں کرتے۔ 2۔ ایمان والے صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ 3۔ کافر لوگ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ 4۔ کفار حقیقتاً بےعقل ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
بے عقل لوگ کون ہیں :
1۔ جنہوں نے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا وہ عقل والے نہیں۔ (المائدۃ : 58) 2۔ اگر ہم سنتے اور عقل کرتے تو اہل جہنم سے نہ ہوتے۔ (الملک : 10)
3۔ آپ ان کو اکٹھا گمان کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل جدا، جدا ہیں یہ قوم بےعقل ہے۔ (الحشر : 14)
4۔ وہ لوگ جو آپ کو حجرات کے پیچھے سے بلاتے ہیں وہ بےعقل ہیں۔ (الحجرات : 4)
5۔ آپ فرما دیں سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اکثر لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (العنکبوت : 63)
6۔ ہم نے جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (الانبیاء : 10)
7۔ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (القصص : 60)
Ayah 5:59فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کا گھناؤنا کردار ذکر کرنے کے بعد ان کو مزید احساس دلانے کے لیے براہ راست سوال۔
اہل کتاب سے سوال کرنے کے دو مقصد ہیں کہ انہیں اس بات کا احساس دلایاجائے کہ اسلام کو مذاق سمجھنے اور نماز اور اذان کو استہزاء کا نشانہ بنانے کا تمہارے پاس کیا جواز ہے ؟ کیا اس پر تمہارے ضمیر تمہیں کوئی ملامت نہیں کرتے ؟ ہاں یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہمیں عطا کیا گیا ہے اور جو ہم سے پہلے نازل کیا گیا ہم اس کو بھی مانتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم دوسروں سے دو قدم آگے بڑھ کر قرآن مجید پر ایمان لاتے کیونکہ قرآن مجیدتمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور ہم تورات اور انجیل کو ان کے دور کی منزل من اللہ کتابیں سمجھتے ہیں۔ دنیا میں وہ شخص کتنا عاقبت نااندیش ہے جس کے نظریہ کی تائید کی جائے وہ اس پر خوش ہونے کی بجائے الٹا اپنے مؤید کی مخالفت پر کمربستہ ہوجائے اہل کتاب تمہارا یہی حال ہے دراصل تمہاری مخالفت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تمہاری اکثریت نافرمان لوگوں پر مشتمل ہے۔ اللہ کے نافرمان اس حد تک حقیقی شعور سے تہی دامن ہوتے ہیں کہ وہ نیکی کی بجائے فسق وفجور کے مددگار بن جاتے ہیں جن کی یہ حالت ہو وہ اللہ کی رحمت کی بجائے اس کے غضب کے سزا وارہونے کی وجہ سے انسانیت کے شرف سے محروم ہو کر بدترین مخلوق قرار پائے۔
مسائل
1۔ اہل کتاب مسلمانوں سے دین اسلام کی وجہ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
2۔ اہل کتاب میں سے اکثر نافرمان ہیں۔
Ayah 5:60فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی دنیا میں سزا اور آخرت میں بدترین انجام۔
اہل کتاب کی اکثریت ماضی کے جرائم اور اپنے آباؤاجداد کے کردار سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان کے گھناؤنے کردار پر فخر کرتی ہے۔ جس وجہ سے قرآن مجید ہر دور کے اہل کتاب کو انہی میں شمار کرتا ہے چناچہ رسول محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ کیا تمہیں ان لوگوں کے انجام سے آگاہ نہ کیا جائے جو اپنے کردار کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس حد تک بدترین ٹھہرے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور پھٹکار ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں بندر، خنزیر اور شیطان کے بندے بنادیا گیا۔ یہ لوگ دنیا میں صراط مستقیم سے بھٹک چکے اور آخرت میں ان کا بدترین اور عبرت ناک انجام ہوگا۔ امام رازی (رح) نے مختلف ذرائع سے لکھا ہے کہ یہودیوں میں ہفتہ کے روز زیادتی کرنے والوں کو ذلیل بندر بنادیا گیا اور عیسائیوں میں جن لوگوں نے آسمانی دسترخوان کا مطالبہ کیا پھر نافرمانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ انہیں خنزیر بنادیا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ امت محمدیہ کے لوگ خنزیر اور بندر تو نہیں بنائے جائیں گے لیکن ان کا ذہن بندروں کی طرح شریر اور ان کا کردار خنزیروں کی طرح بےحمیت ہوجائے گا۔ یہ بات سورة البقرہ آیت نمبر 65، 66 میں بیان ہوچکی ہے کہ جس قوم کی اللہ تعالیٰ شکلیں مسخ کرتا ہے وہ تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہا کرتے۔ اس لیے جن لوگوں نے بندر اور خنزیر کی نسل کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کی ہے ان کا نقطۂ نگاہ کسی اعتبار سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔
مسائل
1۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکارپڑتی ہے۔
2۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بندر اور بعض کو خنزیر بنادیا۔
3۔ طاغوت کی عبادت کرنے والے سب سے بدتر اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے راستے سے گمراہ لوگ :
1۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ : 108)
2۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 116)
3۔ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء : 136)
4۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والاگمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب : 36)
5۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرعد : 33)
6۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ : 26)
7۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ : 12)
8۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : 1)
9۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ : 77)
10۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ (ابراہیم : 30)
Ayahs 5:61–62فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اپنی طبیعتوں کی مکاری کی وجہ سے اہل کتاب گناہ، ظلم اور حرام خوری میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مغضوب لوگوں کی شکلیں تبدیل نہ بھی ہوں تو بھی برے اعمال کی وجہ سے شیطان کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کفر اور ایمان کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے ان کی اکثریت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ، زیادتی اور اکل حرام میں بڑے مستعد اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کا کردار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ جس کے متعلق انہیں انتباہ کیا گیا ہے ہوسکتا ہے تمہارا برا کردار مومنوں کی نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ لیکن یاد رکھنا تمہاری کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اللہ تمہارے جھوٹے دعوے کو خوب جانتا ہے۔ جس کا تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے اظہار کرتے ہو۔ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم ایمان کا اظہار کر رہے ہوتے ہو تو اس وقت بھی تم کفر کی حالت میں ہوتے ہو۔ جب نبی ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر جاتے ہو تب بھی تم کفر ہی میں مبتلا ہوتے ہو۔ امام رازی ؓ نے ” اثم “ سے مراد عام گناہ لیا ہے اور ” عدوان “ کا معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ ایسا گناہ جس کے اثرات لوگوں پر مرتب ہوتے ہوں اور اس میں زیادتی کا عنصر بھی پایاجائے۔” سحت “ کا معنی رشوت اور حرام خوری کیا گیا ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ )[ رواہ الترمزی : کتاب الاحکام عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الراشی والمرتشی ]
” حضرت عبداللہ بن عمر وبیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ “
مسائل
1۔ محض زبانی دعویٰ کرنے سے کوئی شخص مومن نہیں بنتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے۔
3۔ اہل کتاب کی اکثریت گناہ اور زیادتی کے کاموں اور حرام خوری میں تیز ہے۔
4۔ گناہ و زیادتی اور حرام خوری برے عمل ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے :
1۔ اللہ ہی غیب کا جاننے والا ہے۔ (الجن : 26)
2۔ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے۔ (التوبۃ : 78)
3۔ غیب کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
4۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ نبی اکرم ﷺ کا اعلان۔ (الاعراف : 188)
5۔ یہ غیب کی باتیں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ (ھود : 49)
6۔ نبی اکرم ﷺ غیب نہیں جانتے۔ (ھود : 31)
7۔ آپ ﷺ فرما دیں کہ ہر قسم کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (یونس : 20)