Ayah 5:31فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے قتل اور فوت ہونے والا شخص ہابیل تھا اس لیے قابیل کو معلوم نہ تھا کہ میت کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کے ساتھ اس کا دوسرا مفہوم بھی ذہن میں رکھنا چاہیے جو واقعہ کے ساتھ گہری نسبت رکھتا ہے جب قاتل کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اپنا جرم چھپانے کے لیے لاش کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے قابیل اسی کشمکش میں مبتلا ہو گھبراہٹ اور بےقراری کے عالم میں اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہو۔ کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کہاں ٹھکانے لگائے جس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعے یہ کام کروایا۔ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کو مار کر اس کی لاش زمین میں دفن کی جب قابیل نے یہ نقشہ دیکھا تو سخت پریشانی کے عالم میں پکار اٹھا ہائے افسوس میں تو کوّے سے بھی کم تر ثابت ہوا۔ بعد ازاں اس نے اپنے بھائی کو زمین میں دفن کیا اسی وقت سے لے کر فطری اور شرعی طریقہ یہی ہے۔ جلانے کی بجائے میّت کو عزت و احترام کے ساتھ دفنانا چاہیے۔ اسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نہ صرف میت کو دفنانے کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ اچھی طرح غسل دینے کے بعد صاف اور اجلا سفید رنگ کا کفن پہنا کر خوشبو لگائی جائے اور نہایت اخلاص کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر، دفنانے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر دعا کی جائے اور میّت کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ )
[ رواہ مسلم : کتاب الوصیہ، بَاب مَا یَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنْ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں مگر صرف تین ذرائع سے اسے اجر ملتا رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔ “
(عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ؓ أَنَّہُ قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ فَحَفَرَ بِءْرًا وَقَالَ ہَذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ )[ رواہ ابوداؤد : کتاب الزکاہ، بَاب فِی فَضْلِ سَقْیِ الْمَاءِ ]
” حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے رسول معظم ﷺ سے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! ام سعد وفات پا گئی ہیں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے آپ نے فرمایا پانی پلانا۔ حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا یہ ام سعد کے لیے ہے۔ “
(عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ ؓ قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی ہَلَکَ فیہِ الْحَدُوا لِی لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُول اللّٰہِ ﷺ
[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت ]
” عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نے اپنے مرض الموت کے وقت حکم دیا کہ میرے لیے لحد بنانا اور لحد کے اوپر کچی اینٹیں رکھنا جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا گیا تھا۔ “
مسائل
1۔ میت کو دفنانا چاہیے۔ 2۔ قاتل کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے اور ندامت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
نادم ہونے والے لوگ :
1۔ آدم کا بیٹا کہنے لگا کاش میں اس کوے کی طرح ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا تو وہ نادم ہونے والوں میں سے
ہوگیا۔ (المائدۃ : 31)
2۔ قریب ہے اللہ فتح عطا کر دے یا اپنی طرف سے کوئی حکم نازل فرما دے پس یہ اپنے آپ پر نادم ہوں۔ (المائدۃ : 52)
3۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (المومنون : 40)
4۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157)
5۔ اے ایمان والو ! فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات : 6)
Ayah 5:32فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عربی گرائمر میں ” مَنْ “ کا لفظ سبب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے دو مفہوم ہیں یہ قانون روز آفرنیش سے ہی لاگو کیا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی وجہ سے یعنی قتل و غارت کو روکنے کے لیے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ قانون نافذ کیا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ناحق قتل کیا تو قاتل کو اس کے بدلے میں قتل کردیا جائے۔ اور یہی سزا قتل و غارت کرنے والوں کی ہوگی۔ کیونکہ جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ جس نے کسی ایک کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب اور قانون انسان کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پے درپے انبیاء مبعوث فرمائے۔ تاکہ لوگوں کی اخلاقی تربیت فرمائیں کہ لوگ قتل و غارت اور دنگا فساد کرنے سے اجتناب کریں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت آپس میں زیادتی کرنے والی ہے۔
(عن عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ َ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ)[ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب خوف المومن من ان یحبط عملہ وہو لا یشعر ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَزَوَال الدُّنْیَا أَہْوَنُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ )
[ رواہ النسائی : باب تَعْظِیم الدَّمِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر و ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے ہاں ایک مسلمان کے قتل سے کم تر ہے۔ “
مسائل
1۔ ایک انسان کا قاتل ساری انسانیت کا قاتل ہے۔
2۔ ایک انسان کی زندگی بچانے والا ساری انسانیت کی زندگی بچانے والا ہوتا ہے۔
3۔ دلائل وبراہین کے آجانے کے بعد ظلم و زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اسراف کرنے والے لوگ :
1۔ جو اسراف کرے اور اللہ کی آیات پر ایمان نہ لائے اسے سزا دی جائے گی۔ (طہ : 127)
2۔ فصل کاٹتے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ (الانعام : 142)
3۔ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ اسراف کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔ (الاعراف : 31)
4۔ رحمن کے بندے خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے۔ (الفرقان : 67)
5۔ اسراف نہ کرو اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ (الانعام : 141)
6۔ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ ( بنی اسرائیل : 27)
Ayah 5:33فہم القرآن
ربط کلام : ظلم و استبداد کو روکنے کے لیے ابتدا ہی سے فوج داری ضابطے نازل فرمائے گئے تاکہ ظالم دنیا ہی میں سزا پائیں اور آئندہ ایسے مظالم سے باز آجائیں۔
اسلام نے قتل انسان کو بڑا سنگین جرم قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود لوگ انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسے درندوں کے لیے اسلام سخت ترین سزا تجویز کرتا ہے تاکہ امن وامان قائم اور چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ اگر کسی ملک میں شاہراہیں غیر محفوظ اور لوگوں کی آمد و رفت پر خطربنا دی جائے تو اسلام ایسی صورت حال کو لمحہ بھر کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے اسلام سخت ترین کارروائی کا حکم دیتا ہے۔ اور اس صورت حال کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے مترادف تصوّر کرتا ہے ان خطرناک اور پیشہ ور ظالموں کے قلع قمع کے لیے حکم صادر فرمایا کہ ایسے لوگوں کو چار سزاؤں میں سے حسب جرم کوئی ایک سزا سرعام دینا چاہیے۔ تاکہ یہ لوگ دنیا میں عبرت کا نشان ثابت ہوں۔ اور آخرت میں انھیں عذاب عظیم سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (1) قتل کردیا جائے۔ (2) تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے۔ (3) مخالف سمت میں ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ (4) ملک بدر کردیا جائے۔
مفسرین نے ان سزاؤں کی تنفیذ کا ذکر کرتے ہوئے تشریح کی کہ یہ اسلامی عدالت کے اختیار میں ہوگا کہ وہ موقعۂ واردات اور جرم کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی ایک سزا تجویز کرے۔ جہاں تک ملک بدر کردینے کی سزا کا تعلق ہے حضرت عمر ؓ ایسے مجرموں کو جیل میں بند کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس طرح ان لوگوں سے عوام الناس مامون ہوجاتے تھے۔
” حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نے انہیں بتایا کہ ” عکل اور عرینہ (قبیلوں) کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ میں آئے اور کلمہ پڑھنے لگے۔ انھوں نے کہا۔ یا رسول اللہ ! ہم بھیڑ بکریاں چرانے والے لوگ ہیں کسان نہیں۔ انھیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ آپ ﷺ نے چند اونٹ اور ایک چرواہا ان کے ساتھ کیا اور کہا کہ تم لوگ (جنگل میں) چلے جاؤ۔ ان اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پیتے رہو۔ وہ حرہ کے پاس اقامت پذیر ہوئے اور اس علاج سے وہ خوب موٹے تازے ہوگئے۔ پھر ان کی نیت میں فتور آگیا اور اسلام سے مرتد ہوگئے۔ آپ ﷺ کے چرواہے (یسار) کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر اسے کئی طرح کی تکلیفیں پہنچا کر مار ڈالا اور اونٹ بھگا کر چلتے بنے۔ آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے انھیں گرفتار کرنے کے لیے آدمی روانہ کیے۔ جب وہ گرفتار ہو کر آئے تو آپ ﷺ کے حکم سے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور حرہ کے ایک کونے میں پھینک دیے گئے۔ وہ اسی حال میں مرگئے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب قصۃ عکل وعرینہ ]
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑائی کرنے اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کو قتل کردینا چاہیے۔
2۔ تخریب کار کو سولی پر لٹکا دینا چاہیے۔ 3۔ ڈاکو کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے چاہییں۔
4۔ تخریب کار کو ملک بدر کردینا چاہیے۔
5۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ لڑائی کرنے والے دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
فساد کرنے والوں کی سزا :
1۔ زمین میں فساد نہیں کرنا چاہیے۔ (الاعراف : 56)
2۔ اللہ فساد کرنے والوں کے کام کو نہیں سنوارتا۔ (یونس : 81)
3۔ فساد کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (القصص : 77)
4۔ خشکی و تری میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد پھیلتا ہے۔ (الروم : 41)
5۔ فساد کرنے والوں کا انجام۔ (النمل : 14) 6۔ زمین میں فساد کی غرض سے نہ چلو۔ (البقرۃ : 60)
7۔ اللہ فساد کرنے والوں کو جانتا ہے۔ (آل عمران : 63)
8۔ فساد کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الرعد : 25)
Ayah 5:34فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اسلامی سزاؤں کا فلسفہ یہ ہے کہ جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ مگر صرف سزا کا نفاذ ہی اصلاح کا ذریعہ نہیں ہوا کرتا اگر مجرموں کو سزا پر سزا دی جاتی رہے تو بسا اوقات وہ قومی مجرم اور پیشہ ور لٹیرے ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے دوسرے جرائم کی طرح سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے لیے بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ لیکن اس کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ وہ انتظامیہ کی پکڑ میں آنے اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے پہلے تائب ہوجائیں۔ اس میں بھی کچھ صورتوں کو ناقابل معافی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسے شخص نے کوئی قتل کیا ہے تو اسے قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ اس نے کسی کا مال لوٹا ہو تو اس سے واپس لے کر اس کے مالک کو دلوانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ یہ طریقۂ کار فوج داری اور دیوانی مقدمات میں ہوگا۔ اخلاقی مقدمات مثلاً زنا کاری کے مقدمہ میں نہ بدلہ ہے اور نہ ہی شہادتیں قائم ہونے کے بعد عدالت معافی دے سکتی ہے۔ توبہ کا دروازہ کھولتے ہوئے اعلان فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ آئندہ کے لیے سچے دل سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔ اگر یہ لوگ اسلامی سزا کے بعد یا عدالت میں پہنچنے سے پہلے اخلاص کے ساتھ توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے گا۔
(عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنْ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہُ )
[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ ]
” حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ ؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو “
(عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ باللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِیء النَّہَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہُ بالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِیء اللَّیْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا )[ رواہ مسلم : کتاب التوبہ،
باب قبول التوبۃ من الذنوب ]
” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کو اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ دن بھر کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو دست شفقت بڑھاتا ہے تاکہ رات بھر کا گنہگار توبہ کرلے، سورج کے مغرب سے نکلنے یعنی قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب ذِکْرِ التَّوْبَۃِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ بندے کی توبہ کو قبول فرماتا ہے جب تک اس کا سانس حلق میں نہیں اٹک جاتا۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ کُلُّ بَنِی آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب ذِکْرِ التَّوْبَۃِ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو خطا کرنے کے بعد توبہ کرنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ گرفتاری سے پہلے توبہ کرنے والوں کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں پر رحم کرتا ہے :
1۔ اللہ کی مہربانی کے بغیر گناہ سے بچنا مشکل ہے۔ (یوسف : 53)
2۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک اللہ معاف اور رحم کرتا ہے۔ (التوبۃ : 99)
3۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : 27)
4۔ اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (المائدۃ : 74)
5۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (الفرقان : 70)
6۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
Ayah 5:35فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی طرح خدا کی نافرمانی اور اس سے دور ہونے کی بجائے اس کی قربت تلاش کرو۔ زمین میں دنگا فساد کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی قوت و طاقت استعمال کرو اس طرح تم کامیاب ہو گے۔
وسیلہ کی حقیقت :
اردو میں وسیلہ کا معنی ہے ذریعہ اور واسطہ جس سے بیشمار مسلمانوں کو قرآن کے لفظ وسیلہ کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جبکہ قرآن مجید میں اس کا معنی اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنا ہے۔ ادھر ادھر کے واسطوں کے ذریعے نہیں بلکہ تقوٰی اور نیکی کے کاموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ حدیث میں وسیلہ کا معنی مقام علیا ہے جس پر فائز ہو کر نبی کریم ﷺ قیامت کے دن رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہو کر امت کی سفارش کریں گے اس کا تذکرہ اذان کے بعد کی دعا میں موجود ہے۔ آپ نے اسی مقام کے لیے دعا کرنے کی تلقین کی ہے۔
یہ دنیا عالم اسباب ہے اس کا پورا نظام اسباب اور وسائل پر چل رہا ہے جب تک وسائل کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا اس وقت تک دنیا کے معاملات صحیح سمت پر چلنے تو درکنار زندگی کا باقی رہنا ناممکن ہے۔ ایک شخص کتنا ہی متوکل علی اللہ کیوں نہ ہوا گر پیاس کے وقت پانی نہیں پیتا اور بھوک کے وقت کھانا نہیں کھاتا تو موت کا لقمہ بن جائے گا۔ بیمار کے لیے پرہیز اور دوائی لازم ہے۔ بغیر اسباب کے کسی چیز کو باقی رکھنا یہ صرف خالق کائنات کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
لہٰذا شریعت نے کمزور کے ساتھ تعاون اور بےسہارا کو سہارا دینا اور بےوسیلہ کا وسیلہ بننے کا حکم دیا ہے۔ اس وسیلہ اور اسباب کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اختیارات کے بارے میں دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی وسیلہ اور واسطہ کی ضرورت نہیں وہ مسبب الاسباب اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب اور دلوں کی دھڑکنوں کو جاننے والا ہے۔
توہین آمیز اور مضحکہ خیزمثال :
لیکن آج کا خطیب وسیلے کے جواز کے لیے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ پھر ایک دوسرے کی مدد کرنا ٗگاڑی استعمال کرنا اور عینک لگانا بھی شرک ہے۔ وہ جانتے ہوئے اس بات کو فراموش کردیتا ہے کہ دنیا کے معاملات میں اسباب اختیار کرنے کا شریعت میں حکم ہے۔
واعظ کا یہ بھی فرمان ہے کہ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اور افسر کو ملنے کے لیے کسی سفارش کا ہونا ضروری ہے۔ ذرا سوچئے چھت تو جامد اور ساکت ہے وہ اوپر سے نیچے نہیں آسکتی اور نہ ہی آدمی چھلانگ لگا کر چھت پر چڑھ سکتا ہے اس لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی افسر تو انسان ہے جب تک اسے معاملہ بتلایا نہ جائے۔ وہ نہیں جان سکتا یہاں تک کہ اس کے لیے سفارش ڈھونڈنے کا تعلق ہے وہ بھی ایک طرح کی کمزوری ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک ہے۔ اس کی قدرت وسطوت تو ہر جگہ موجود ہے وہ دلوں کی دھڑکنوں کو جانتا ہے یہاں تو وسیلے و سفارش اور سیڑھی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔
لہٰذا آدمی کو کسی اعتبار سے بھی اس ذات کبریا کو اپنے آپ پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو چھت اور انسان کے ساتھ مشابہ قرار دینا ناقابل معافی گناہ ہی نہیں بلکہ ذات کبریا کی شان میں پرلے درجے کی گستاخی ہے۔
وسیلہ کی گنجائش ہی نہیں :
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ )[ ق : 16]
” اور بلاشبہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے اور ہم اس سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ “
(اِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) [ الملک : 13]” بیشک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔ “
ذات کبریا کا احترام کرو :
(فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ )[ النحل : 74]” اللہ کے لیے ایسی مثالیں بیان نہ کیا کرو۔ “
(وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ )[ الزمر : 67]
” اور نہ قدر پہچانی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جس طرح قدر پہچاننے کا حق تھا۔ “
اس عقیدہ کے اخلاقی اور دینی نقصانات :
انسان خود نیکی کرنے کی بجائے دوسرے کی نیکی پر بھروسہ کرتا ہے۔
انسان توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے بجائے پہلے کی طرح دور رہتا ہے۔
وسیلہ کی آڑ میں جعلی پیر لوگوں کی عزت اور مال لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں وسیلہ اور واسطے کو پسند نہیں کرتا۔
وسیلہ کے عقیدہ سے اللہ تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ یہ طریقہ ہندوؤں اور غیر مسلموں کے مشابہ ہے۔
اخلاص اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کیجیے :
1۔ فوت ہونے والے بزرگ بیمار ہوئے، ہزار دعاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکے۔
2۔ فوت ہوئے تو گھر میں میت ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں، تڑپتی ہوئی والدہ، بلکتی ہوئی بیوی، سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ و بکا کرنے والے مریدوں کو تسلی نہ دے سکے۔
3۔ شرم و حیا کے پیکر ہونے کے باوجود اپنے آپ استنجا کرسکے نہ غسل۔
4۔ زندگی میں خود اپنی قبر بنوانے والے بھی اپنے پاؤں پر چل کر قبر تک نہ پہنچ سکے۔
5۔ جو زندگی میں صرف پنجابی یا کوئی ایک زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد قبر پر آنے والوں اور دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبان سے کس طرح واقف ہوگئے ؟
( 6۔ جو خوداولاد سے محروم تھے دوسرے کو کس طرح اولاد عطا کرسکتے ہیں ؟
7۔ جو خراٹے لینے والی نیند یا کسی وجہ سے بےہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے اب موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوئے ؟
8۔ جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے اب قبر کی منوں مٹی اور مضبوط پتھروں کے درمیان کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟
9۔ جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے۔ دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں ؟
10۔ جو زندگی میں بیک وقت ایک یا دو ‘ تین آدمیوں سے زیادہ کی بات سن اور سمجھ نہیں سکتے تھے اب بیک وقت سینکڑوں، ہزاروں آدمیوں کی فریاد کس طرح سن سکتے ہیں ؟
وسیلے تو خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
(یَٓایُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَإِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ) [ الحج : 73]
” اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے پس غور سے سنو اسے ! بیشک جن معبودوں کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں اس (معمولی سے) کام کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھڑا سکتے اسے اس مکھی سے (آہ ! ) کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب۔ “ (تفسیر ضیاء القرآن)
اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کو وسیلہ بنائیں :
سمع اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ بندۂ مسلم اللہ تعالیٰ کے حضور وہی واسطہ اور وسیلہ پیش کرے جس کی ذات کبریا نے اجازت دے رکھی ہے۔ ایک احمق ترین شخص بھی جان بوجھ کر یہ حرکت نہیں کرسکتا کہ جس سے وہ کچھ مانگنا چاہتا ہے وہ اپنے محسن کے سامنے ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جس سے وہ عطا کرنا تو درکنار الٹا ناراض ہوجائے۔ لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس کے اسمائے مبارکہ اور صفات مقدسہ کو وسیلہ بنایا جائے۔ سرور دو عالم ﷺ کسی شخصیت کے واسطے ‘ حرمت ‘ صدقے اور طفیل کی بجائے اللہ کی صفات کے واسطے سے دعا کیا کرتے تھے۔
(وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا) [ الأعراف : 18]
” اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی خوبصورت نام ہیں انہی ناموں سے دعا کیا کرو۔ “
(اَللّٰہُمَ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ذُوْالْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِی لاَ تَرَامُ أَسْأَلُکَ یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ بِجَلاَلِکَ وَنُوْرِ وَجْہِکَ ) [ رواہ الترمذی : باب فی دعاء الحفظ ]
” اے زمین و آسمان کو ابتداء سے پیدا کرنے والے ‘ اے ذوالجلال والاکرام تیری عزت کو پانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اے اللہ ‘ اے رحمٰن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے جمال کے واسطے سے ہم تجھ سے مانگتے ہیں۔ “
(یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ )
[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الاداب، باب فضل الحامدین ]
” اے اللہ ! تیرے لیے تمام تعریفات ہیں جس طرح تیرے چہرے کی جلالت اور عظیم با دشاہی کے لائق ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا یَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَیَّ فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِی الْوَسِیلَۃَ فَإِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِی إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ وَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَنَا ہُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِی الْوَسِیلَۃَ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلوۃ، باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جب تم مؤذن کی اذان سنوتو اس کے ساتھ وہی کلمات دہراتے چلے جاؤ پھر مجھ پر درود پڑھو۔ اذان کے بعد جس نے مجھ پر درود پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اس کے بعد میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو بلاشبہ وہ جنت کا بلند ترین مقام ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو نصیب ہوگا مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہی وہ عطا کرے گا۔ جس مسلمان نے میرے لیے اس مقام کی دعا کی میری سفارش اس پر واجب ہوگی۔ “
مسائل
1۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا چاہیے۔
4۔ کافر زمین و آسمان کے خزانے خرچ کرکے بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے
5۔ کفار کے لیے المناک عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
وسیلہ کی حیثیت :
1۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ (المائدۃ : 35)
2۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔ (الاسراء : 57)
3۔ وسیلہ کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے۔ (البقرۃ : 186)
4۔ وسیلہ کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16)
Ayahs 5:36–37فہم القرآن
ربط کلام : اے لوگو ! فساد فی الارض میں صلاحیتیں ضائع کرنے اور اللہ سے دوری اختیار کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی قوتیں صرف کرو تاکہ تمہیں اللہ کا قرب اور کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے منکر نہ صرف اس کے قرب سے محروم ہوں گے بلکہ انھیں جہنم میں پھینکا جائے گا جس سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
جو لوگ نیک اعمال کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنے اور پانے کی بجائے یہود و نصاریٰ کا رویہ اختیار کرتے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں فلاح اور کامیابی کے راستے پر چلنے کی بجائے بغاوت اور سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں انھیں قیامت کے دن جہنم میں جھونکا جائے گا۔ جس سے نکلنے کے لیے آہ و زاریاں کریں گے لیکن ان کی فریاد اور کوئی وسیلہ کام نہیں آئے گا۔ جو دنیا میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کی و جہ سے دنیا کی عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی بزرگ اور بڑے ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے وہ اپنی نجات کے لیے سب کچھ پیش کرنے کی درخواست کریں گے باوجود اس کے کہ ان کے پاس نیکی اور برائی کے سوا کوئی چیز نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ایسی پیشکشیں کریں گے۔ ان سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنم کی آگ سے نکلنے کی کوشش کریں گے لیکن نکل نہیں پائیں گے۔ انھیں ہمیشہ وہاں رہنا ہوگا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ضِرْسُ الْکَافِرِ أَوْ نَابُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِہٖ مَسِیرَۃُ ثَلَاثٍ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ ونعیمھا، باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَاءُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں کافر کا دانت احد پہاڑ جتنا ہوگا اور اس کی جلد کی موٹائی تین دن کی مسافت جتنی ہوگی۔ “
(وَہُمْ یَصْطَرِخُونَ فِیْہَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَ کُمُ النَّذِیرُ فَذُوقُوْا فَمَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ )[ فاطر : 37]
” اور وہ چیخ چیخ کر کہیں گے : ہمارے رب ! ہمیں (اس سے) نکال کہ ہم نیک عمل کریں ویسے نہیں جیسے پہلے کیا کرتے تھے (اللہ فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں کوئی نصیحت حا صل کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا ؟ تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا اب عذاب کو چکھو یہاں ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “
مسائل
1۔ مجرموں سے زمین اور اس کے برابر فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
2۔ مجرم جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔
3۔ مجرموں کے لیے ہمیشہ قائم رہنے والا اور ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کوئی معاوضہ نہیں قبول ہوگا :
1۔ قیامت کے دن سے ڈر جاؤ جس دن کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 48)
2۔ قیامت کو مجرم زمین بھر سونا کر دے تب بھی قبول نہیں ہوگا۔ (آل عمران : 91)
3۔ مجرم خواہش کرے گا کہ میں جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ معاوضہ دے کر بچ جاؤں۔ (المعارج : 11 تا 14)
4۔ کوئی معاوضہ اس دن قبول نہیں کیا جائے گا۔ (المائدۃ : 36)
Ayah 5:38فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ آیات میں ڈاکہ اور رہزنی کی سزا بیان کی گئی تھی درمیان میں حسب دستور نصیحت اور تنبیہ کی گئی۔ اب چور کی سزا بیان ہوتی ہے۔
ہر قوم اور معاشرے میں طاقت اور قوت کے زور پر مال لوٹنے والے کو ڈاکو اور چھپ کر کوئی چیز اٹھانے والے کو چور کہا جاتا ہے۔ اس لیے اہل لغت اور شارحین نے چوری کی یہ تعریف کی ہے ” ایسا مال جس کو حفاظت میں رکھا گیا ہو اسے ہتھیانے والے کو چور کہیں گے ایسے شخص پر چوری کی سزا نافذ کی جائے گی “ پہلی دفعہ چوری کرنے والے سے مال وصول کرتے ہوئے اس کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر دوسری دفعہ چوری کرتا ہے۔ تو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے گا۔ بعض لوگ غیر مسلموں کے پروپیگنڈہ میں آکر اسلام کی مقرر کردہ سزاؤں کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو مہذب سمجھنے کے باوجود مظلوم کی خیر خواہی کرنے کی بجائے ڈاکو، چور اور بدکار لوگوں کی حمایت کرتے ہیں۔ جو اخلاق، دین اور معاشرتی آداب کے کسی اصول کے مطابق نہیں ہے۔ قرآن مجید جرائم کی بیخ کنی کے لیے سنگین جرائم کی نہ صرف سخت ترین سزا تجویز کرتا ہے۔ بلکہ اس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سر عام سزا دی جائے گی۔ اس آیت میں لفظ ” نکالاً “ کا یہی مفہوم ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَعْنَ اللّٰہُ السَّارِقْ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہٗ وَیَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ یَدُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب لعن السارق اذا لم یسم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ چور پر لعنت کرے ایک انڈے کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ایک رسی کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹے جائیں۔ 2۔ عبرت کے لیے یہ ان کی دنیا میں سزا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سزا کی حکمتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 5:39فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے لیے توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھ کر انہیں توبہ اور اصلاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
دنیا کے دسا تیر اور قوانین میں اس بات کا اہتمام نہیں کیا جاتا کہ ایک مجرم کو سزا دینے کے بعد اس کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے۔ یہ اعزاز بھی صرف دین اسلام کو حاصل ہے کہ وہ مجرم کو سزا دینے کے بعد نہ صرف اسے اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے بلکہ وہ اسے اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ جو شخص بھی سچے دل اور اصلاح کے ارادے کے ساتھ توبہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو رحیم وکریم پائے گا۔ اللہ کے نبی ﷺ مجرم کو توبہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍنِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ کَانَ فِی بَنِی إِسْرَاءِیلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ یَسْأَلُ فَأَتٰی رَاہِبًا فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ ہَلْ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ لَا فَقَتَلَہُ فَجَعَلَ یَسْأَلُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ اءْتِ قَرْیَۃَ کَذَا وَکَذَا فَأَدْرَکَہُ الْمَوْتُ فَنَاءَ بِصَدْرِہٖ نَحْوَہَا فَاخْتَصَمَتْ فیہِ مَلَاءِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلَاءِکَۃُ الْعَذَابِ فَأَوْحَی اللّٰہُ إِلٰی ہَذِہٖ أَنْ تَقَرَّبِی وَأَوْحَی اللّٰہُ إِلٰی ہَذِہٖ أَنْ تَبَاعَدِی وَقَال قیسُوا مَا بَیْنَہُمَا فَوُجِدَ إِلٰی ہٰذِہٖ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ توبہ کے لیے استغفار کر رہا تھا وہ ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ راہب نے جواب دیا نہیں۔ اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے گیا، اسے اس شخص نے ایک بستی کی طرف رہنمائی کی۔ راستے میں اس کو موت نے آلیا تو وہ اپنے سینے کے بل اس بستی کی طرف گرا۔ اس شخص کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ مرنے والے کے قریب ہوجائے اور چھوڑی ہوئی بستی کو اس سے دوری کا حکم دیا۔ پھر دونوں کے درمیان فاصلہ ناپنے کا حکم دیا۔ چناچہ وہ منزل مقصود کے بالشت بھر قریب پا یا گیا اس لیے اس کو معاف کردیا گیا۔ “
(عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ باللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِیء النَّہَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہُ بالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِیء اللَّیْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا )
[ رواہ مسلم : کتاب التوبہ، باب قبول التوبۃ من الذنوب ]
” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کو اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ دن بھر کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو دست شفقت بڑھاتا ہے تاکہ رات بھر کا گنہگار توبہ کرلے، سورج کے مغرب سے نکلنے یعنی قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ “
(کُلُّ بَنِيْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّآءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ]
” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔ “
(مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ )[ احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی ﷺ ]
” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ “
( اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد ]
” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
توبہ کی شرائط :
1۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور صاف پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 222)
2۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنے والے کی اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (البقرۃ : 159 تا 160)
3۔ جو گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ (المائدۃ : 39)
4۔ برائی کرنے کے بعد توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ (الاعراف : 153)
5۔ ایمان والو سچے دل سے توبہ کرلو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ (التحریم : 8)
6۔ سچی اور صحیح توبہ اس کی ہے جو توبہ کے بعد نیک اعمال کرتا رہے اور گناہ سے بچے۔ (الفرقان : 71)
7۔ توبہ کے بعد گناہوں سے باز آنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے جو اپنی موت تک گناہوں سے باز نہ آئے اور توبہ بھی کرتا
رہے اس کی توبہ قبول نہیں۔ (النساء : 17۔ 18)
8۔ اگر کبیرہ گناہوں سے بچا جائے تو پھر چھوٹے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (النساء : 31)
Ayah 5:40فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ، سزاء وجزا کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
چوری کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے کی پوری قوت اور اختیار رکھتا ہے۔ اور اس کے ہر قانون اور فیصلے میں بڑی حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ باور کروا یا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون پر معترض، توبہ اور اپنی اصلاح سے اعراض کرنے والے کو یہ جاننا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کوئی انسان اللہ کی بادشاہی سے نہ باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ اس نے انسان کو ایک مدت کے لیے اختیار اور مہلت دے رکھی ہے۔ اس کا اختیار ہے وہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک و مختار ہے۔ 2۔ عذاب دینا اور معاف کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
تفسیر بالقراٰن
اللہ ہر چیز پر قادر ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20)
2۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29)
3۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
4۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284)
Ayah 5:41فہم القرآن
ربط کلام : نیاخطاب شروع ہوتا ہے۔
رسول کریم ﷺ کی شب و روز کی پر خلوص محنت کے باوجود منافق آپ کو تکلیف دینے، مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ یہودیوں کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے جھوٹ سننے اور اسے آگے پھیلانے کا مستقل مشغلہ اختیار کر رکھا تھا۔
1۔ یہودی اپنے علماء سے جھوٹے مسائل سنتے اور ان کو آگے پھیلاتے تھے۔
2۔ یہودی جھوٹ سننا پسند کرتے اور جھوٹی باتیں لوگوں تک پہنچاتے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم ﷺ اور اسلام سے دور رہیں۔
یہودیوں کی دوسری بدترین عادت یہ تھی اور ہے کہ یہ نبی ﷺ کے ارشادات کو توڑ مروڑ کر اور قرآن کو اس کے سیاق وسباق سے ہٹ کر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اسلام کے بارے میں تشکیک کا شکار رہیں۔ اور لوگوں کو یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ ہمارے عقائد کے مطابق مسائل بیان کریں تو انھیں قبول کرلو اگر ایسا نہ کریں تو ہرگز قبول نہ کرو۔ اس کا صاف مطلب تھا اور ہے کہ دین ان کی مرضی کے مطابق نازل ہونا چاہیے اس صورت حال پر نبی محترم ﷺ بتقا ضائے بشریت رنجیدہ خاطر ہوتے جس پر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیارے رسول آپ کو لوگوں کی ہرزہ سرائی اور بد اعمالیوں پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں جسے اللہ اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا کر دے اسے آپ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے دلوں کو نفاق اور گندگی سے کبھی پاک نہیں کرے گا، ان کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بڑا عذاب ہوگا۔
جن لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں زمینی کشمکش میں مبتلا کردیا ہے۔ اے رسول ! ایسے لوگوں کی آپ رہنمائی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے قلوب و اذہان کو اس گندگی سے پاک نہیں کرنا چاہتے۔ جس وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی انھیں طہارت قلبی کی توفیق نہیں دیتا۔ ایسے لوگوں کے لیے بالآخر دنیا میں ذلت و رسوائی ہے۔ اور آخرت میں انھیں عذاب الیم میں مبتلا کیا جائے گا۔
” حضرت حفص بن عاصم ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرے۔ “ [ رواہ مسلم : فی المقدمۃ ]
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِی إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَصْدُقُ حَتَّی یَکُونَ صِدِّیقًا، وَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ ، حَتَّی یُکْتَبَ عِنْدَ اللَّہِ کَذَّابًا )
[ رواہ مسلم : باب قُبْحِ الْکَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِہِ ]
” حضرت عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بیشک سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور بیشک جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے اور بیشک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ کفر کی طرف راغب ہونے والے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔
2۔ یہو دی جھوٹ گھڑتے اور بولتے ہیں۔
3۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ جس کو آزمائش میں مبتلا کرے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔
5۔ جھوٹ گھڑنے والے اور کلام اللہ میں تحریف کرنے والوں کے دل پاک نہیں ہوتے۔
6۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلّت اور آخرت میں عظیم عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں ذلیل لوگ :
1۔ دنیا وآخرت میں ذلیل ہونے والے مجرم۔ (المائدۃ : 41)
2۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ ( البقرۃ : 85)
3۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں برا عذاب ہے۔ (البقرۃ : 114)
4۔ کافروں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ : 41)
5۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اللہ قیامت کو سخت عذاب چکھائے گا۔ (الحج : 9)
6۔ اللہ کفار کو دنیا میں ذلت و رسوائی چکھائے گا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ (الزمر : 26)
7۔ جو مسلمان ظاہرہ اور باطنی گناہ کرنا ترک نہ کرے اسے آخرت میں سزا ملے گی۔ (التحریم : 8۔ الانعام : 120)
Ayahs 5:42–43فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب جھوٹ سننا اور حرام کھاناکسی فرد یا قوم کی عادت ہوجائے تو پھر اس کی اصلاح کے تمام راستے مسددد ہوجایا کرتے ہیں کیونکہ صالح کردار کے لیے اکل حلال اور صدق مقال شرط ہے۔ جھوٹ بولنے اور حرام کھانے میں کوئی قوم یہودیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی بعض مفسرین نے ” سُحْتَ “ کا معنٰی رشوت خوری بھی کیا ہے۔
رشوت کا لین دین ہو یا حرام خوری کا معاملہ یہودی اس سلسلہ میں ہمیشہ سرفہرست دکھائی دیں گے۔ یہاں مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے خیبر میں ہونے والی بدکاری کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جو خیبر کے کھاتے پیتے گھرانے کے ایک مرد اور عورت سے سرزدہوئی یہودیوں کے ہاں زنا کی سزا وہی تھی جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی بدنامی سے بچنے اور تورات کی حد سے اجتناب اختیار کرنے کے لیے یہ مقدمہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے یہودیوں سے سوال کیا کہ تورات میں اس کی کیا سزا بیان ہوئی ہے ؟ انھوں نے کہا ہمارے ہاں ایسے مجرم کی سزا یہ ہے کہ اس کا منہ کالا کرکے الٹے منہ گدھے پر بٹھایا جائے آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں تورات میں بھی اس جرم کی وہی سزا ہے۔ جو قرآن مجید میں ہے اس وضاحت کے باوجود یہودیوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تب آپ نے یہودیوں کے ایک جید عالم کو بلا کر اسے فرمایا کہ تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی یہ سنتے ہی یہودی عالم نے اقرار کیا کہ واقعی اس معاملہ میں تورات اور قرآن میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ تب عورت اور مرد کو سنگسار کردیا گیا۔
اس فرمان میں آپ کو یہ اختیار دیا گیا ہے اگر یہودی آپ کے پاس کوئی مقدمہ پیش کریں تو آپ کو حق حاصل ہے کہ اس کی سماعت سے انکار کریں یا فیصلہ صادر فرمائیں۔ انکار کی صورت میں یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے البتہ فیصلہ کرنے کی صورت میں آپ تعصب اور جانب داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عدل و قسط کے ساتھ فیصلہ کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اہل علم نے یہاں اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ مسلمانوں کا عہد ہو تو اس صورت میں قاضی کو مقدمہ سننے یا انکار کرنے کا مکمل اختیار ہے اگر مقدمہ پیش کرنے والے اسلامی مملکت کی رعایا ہوں تو پھر عائلی قوانین کے علاوہ دیگر مقدمات کو سننا اور اس کا فیصلہ دینا اسلامی عدالت کا فرض ہے۔ یاد رکھیے کہ یہودی کس طرح آپ کو فیصل تسلیم کریں گے کیونکہ جو حکم آپ نے دینا ہے وہ تو تورات میں بھی موجود ہے۔ جس سے یہ انحراف کرتے ہیں۔
یہ خلوص نیت کے ساتھ آپ کے پاس نہیں آتے۔ اگر کسی سماجی مجبوری کی وجہ سے آپ کے پاس آبھی جائیں تو وہ آپ کے فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ یہ کسی آسمانی کتاب کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مسائل
1۔ یہودی جھوٹ پسند کرنے والے اور سود خور ہیں۔
2۔ فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔
3۔ نبی اکرم ﷺ کو یہودیوں کا فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
5۔ یہودی نبی اکرم ﷺ کو فیصل نہیں مانتے۔
Ayah 5:44فہم القرآن
ربط کلام : تورات کی تعلیمات کی مزید وضاحت۔ قانون کی بالادستی اور حدود اللہ کا نفاذ۔
حدود الٰہی کو دل و جان سے تسلیم کرنا مجرمانہ ذہنیت کے لیے ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب کسی معاشرے میں جرم سرزد ہوتا ہے تو وہ سخت نفرت کا اظہار اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جونہی کچھ عرصہ گزر جائے تو اکثریت کی ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ نہ صرف ختم ہوجاتی ہیں بلکہ مجرم کو سزا دینے کے وقت ان کو مجرم پر ترس آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے سورة نور آیت 2 میں حکم دیا کہ جب مجرموں کو سزا دی جائے تو مومنوں کو اس پر ترس نہیں آنا چاہیے۔ حدود کے نفاذ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تورات کی روشن تعلیمات کا ذکر کرنے سے پہلے ” اناانزلنا “ کے الفاظ لائے گئے ہیں کہ اس کے نفاذ اور تعلیم میں ذرّہ برابر شک اور رعایت کی گنجائش نہیں کیونکہ تورات اور اس میں نازل ہونے والے احکامات اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمائے ہیں۔ جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے اتنے واضح اور روشن ہیں کہ ان میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں پایا جاتا۔ انھی ہدایات پر انبیاء ( علیہ السلام) بنی اسرائیل اور ان کے صالح کردار حکمران عمل پیرا تھے اور آج بھی منصفانہ مزاج رکھنے والے لوگ تورات کی سچی تعلیمات اور اس میں درج شدہ حدود کی شہادت دیتے ہیں۔ جب یہ ہدایت روشن اور فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ تو پھر اس پر عمل کرنے میں لوگوں سے ڈرنے کی بجائے، صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے اور دنیا کے فائدے کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر مقدم جانتے ہوئے ان کا نفاذ نہیں کرتے وہ لوگ کافر ہیں۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ قُرَیْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالَ وَمَنْ یُکَلِّمُ فیہَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوا وَمَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَتَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُود اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فیہِمْ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فیہِمْ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا)[ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب حَدِیثُ الْغَارِ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزومیہ کی عورت جس نے چوری کی تھی اس کی وجہ سے خفت محسوس کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول کے ہاں کون سفارش کرے گا ؟ تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے پیارے صحابی اسامہ بن زید ؓ کو اس کی ہمت و الا پایا۔ اسامہ بن زید ؓ نے اس عورت کی سفارش کی تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کے مقرر کردہ حد کے متعلق سفارش کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ یہ بھی تھی جب ان میں معزز قبیلے کا فرد چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی کمزور کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو اس پر قانون کا نفاذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ “
مسائل
1۔ یہودی تورات نہیں مانتے۔
2۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے کافر ہیں۔
3۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہوسکتا۔