Ayahs 5:78–80فہم القرآن
ربط کلام : دین میں غلو کرنے، خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بننے کی وجہ سے اہل کتاب لعنت کے سزاوار ٹھہرے۔
امام رازی (رح) نے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اہل کتاب پر موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء ( علیہ السلام) نے لعنت کی یہاں تک کہ قرآن مجید نے بھی انہیں مغضوب، گمراہ اور لعنت کا مستحق قرار دیا ہے اس مقام پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر کرنے کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو سب سے محبوب سمجھتے ہیں یہاں دونوں فریقوں کی نام نہاد محبت و عقیدت کا پردہ چاک کرنے کے لیے خصوصی طور پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے اہل کتاب پر پھٹکار کا ذکر کیا گیا ہے۔ لعنت کا معنی ہے نیکی کرنے کی توفیق سے محروم ہونا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سزاوار ٹھہرنا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اہل کتاب خود بھی بد عمل تھے اور ہیں۔ لوگوں کے لیے برائی کا سبب بنے اور یہ اسی روش پر آج تک قائم ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت مسلمانوں سے محبت کرنے کی بجائے کفار کے ساتھ محبت کرتی ہے حالانکہ عیسائی اور یہودی اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کے دعوے دار اور انبیاء کے قائل ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے دعویٰ میں سچے ہوتے تو اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ کفار کی بجائے مسلمانوں سے محبت کرتے لیکن انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں پر کفار کو ترجیح دی ہے۔ جس کا واضح ثبوت امریکہ اور یورپ کا عربوں کی بجائے اسرائیل کے ساتھ اور پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان کو ترجیح دینا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں دھکیلے جائیں گے۔
بنی اسرائیل کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات :
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اپنے سے دونا جہنم کا فرزندبنا دیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو، تم پر افسوس ! جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو، کون سابڑا ہے، سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن جو نذر اس پر چڑھی ہو اگر اس کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے اندھو، کون سی بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو جو اوپر سے تو خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بےدینی سے بھرے ہو۔ ارے ریا کار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راست بازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانے میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔ اس طرح تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔ غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو ۔ ارے سانپوں کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچو گے ؟ اس لیے دیکھو میں نبیوں اور داناؤں اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں، ان میں سے تم بعض کو قتل کرو گے اور صلیب پر چڑھاؤ گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور شہر بہ شہر ستاتے پھرو گے تاکہ سب راست بازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے۔ راست باز ہابیل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آئے گا۔ “ [ متّٰی : 23: 14۔ 39] (بحوالہ : تدبر قرآن )
مسائل
1۔ برائی سے منع نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
2۔ برائی سے منع نہ کرنا بڑا گناہ ہے۔
3۔ بنی اسرائیل نے ایک دوسرے کو برائی سے منع کرنا چھوڑ دیا تھا۔
4۔ بنی اسرائیل کی اکثریت کفار سے دوستی کرتی ہے۔
5۔ برے اعمال کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
لعنت زدہ لوگ :
1۔ شیطان لعنتی ہے۔ (النساء : 118)
2۔ کافر لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 64)
3۔ اصحاب السبت لعنتی ہیں۔ (النساء : 47)
4۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : 64)
5۔ جھوٹے لعنتی ہیں۔ (آل عمران : 61)
6۔ ظالم پر لعنت برستی ہے، (ھود : 18)
7۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ : 159)
8۔ اللہ اور رسول کو تکلیف دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 57)
Ayah 5:81فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ان کو ایک موقع اور دیا گیا ہے کہ اگر ایمان لائیں تو آخرت کے عذاب اور دنیا کی ذلت سے بچ سکتے ہیں۔
اہل کتاب پھٹکار کے مستحق قرار دیے گئے ہیں تو یہ ان کے عقیدہ اور کردار کا نتیجہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر خالص ایمان لائیں۔ قرآن کی اتباع کریں، خدا کے باغیوں اور منکروں سے محبت کرنے کی بجائے مسلمانوں سے محبت واخوت کا رشتہ جوڑیں تو لعنت کی بجائے اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان کے ساتھ تیسری شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی ہمدردیاں، رشتہ داریاں کفار کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ہونی چاہئیں یہی ان کی عزت رفتہ کا زینہ ہے یہاں یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کردی ہے کہ اہل کتاب دنیا اور آخرت کی ذلت مول لے لیں گے لیکن اللہ، اس کے رسول پر مخلصانہ ایمان لانے اور مسلمانوں سے رشتۂ اخلاص قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی غالب اکثریت فاسق افراد پر مشتمل ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی اور کتاب اللہ پر ایمان لانے والے کفار سے دوستی نہیں کرتے۔
2۔ بنی اسرائیل کی اکثریت نافرمان ہے۔
Ayah 5:82فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب میں اچھے لوگوں کا کردار۔
قرآن مجید کا کمال یہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب کی غالب اکثریت کی برائی اور کمزوری کا ذکر کرتا ہے تو ان میں سے اچھے لوگوں کی تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے اسی اصول کے پیش نظر یہودیوں اور مشرکوں کے بارے میں وضاحت کردی گئی کہ یہ عیسائیوں کی نسبت مسلمانوں کے بارے میں زیادہ متشدد ہیں ان کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے بارے میں نرم واقع ہوئے ہیں مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں عیسائیوں سے مراد سب عیسائی نہیں بلکہ عیسائیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کے نام سے منسوب کرتا ہے یہ مدینہ اور خیبر کے درمیان میں آباد تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے دوسرے عیسائیوں سے بہتر اور مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ آج بھی عیسائیوں میں اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو یہودیوں کی نسبت مسلمانوں کے قریب سمجھتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ لوگ تعداد اور اثر و رسوخ کے لحاظ سے ہمیشہ تھوڑے رہے ہیں۔ یہ تخصیص اس لیے حق پر مبنی معلوم ہوتی ہے کہ ابتدا سے لے کر آج تک مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ ہی معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے یہودی پیچھے رہ کر عیسائیوں اور دوسری اقوام کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں عیسائیوں میں جن لوگوں کو مسلمانوں کا ہمدرد قرار دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس فرقہ میں ایسے علماء اور درویش موجود ہیں جو تکبر و غرور سے اجتناب کرنے والے ہیں اس آیت کی تشریح میں کچھ اہل علم کا خیال ہے ان عیسائیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حلقۂ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔
مسائل
1۔ یہودی اور مشرک مومنوں کے سخت ترین دشمن ہیں۔
2۔ نصاریٰ مومنین کے ساتھ محبت کرنے میں قریب تر ہیں۔
3۔ نصاریٰ میں عبادت گزار، عالم وزاہد اور تکبر سے اجتناب کرنے والے لوگ ہیں۔
تفسیر بالقرآن
یہود اور مشرکین مسلمانوں کے بڑے دشمن ہیں :
1۔ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنۃ : 1)
2۔ مومنوں کو کفار کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے، (ال عمران : 28)
3۔ اے ایمان والو کفار کو دوست نہ بناؤ (النساء : 144)
4۔ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ (المائد ۃ : 51)
5۔ اے ایمان والو ان کو اپنا دوست مت بناؤ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ (الممتحنۃ : 13)
6۔ اے ایمان والو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل بنا لیا ہے۔ (المائدۃ : 57 تا 58)
7۔ اگر وہ اللہ اور اس کے نبی پر اور اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے والے ہوتے تو کفار کو دوست نہ بناتے۔ (المائدۃ : 81)
8۔ اے ایمان والو اگر تمہارے اٰباؤاجداد کفر کو پسند کریں تو انہیں اپنا دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ : 23)
9۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ : 19)
10۔ ایمان والے شیاطین کے دوست نہیں ہوا کرتے۔ (الاعراف : 27)
Ayahs 5:83–85فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں یہودیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کی نرمی کی بات کی گئی تھی۔ اب اس کا عملی ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سمجھا دیا کہ تکبر سے اجتناب اور اللہ کے خوف کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کی تلاوت سنے تو حق کو پہچانتے ہوئے اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کرے کہ اسے اس کا رب توحید اور حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمائے۔
مکہ معظمہ میں جوں جوں اسلام کی ترویج ہو رہی تھی۔ اسی رفتار سے اہل مکہ کے جو رواستبداد میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا ان کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں کے 83 آدمی اور 18 عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے امید ظاہر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں وہاں امن و سکون سے نوازے گا۔ کیونکہ حبشہ کا حکمران منصف مزاج انسان ہے۔ چناچہ ستم رسیدہ لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے لیکن اہل مکہ نے اس اقدام کو گوارا نہ کیا۔ انھوں نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جو انتہائی دانشور اور سفارتی معاملات کی اونچ نیچ کو سمجھنے والے تھے گراں قدر تحائف دے کر حبشہ کے حکمران نجاشی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حبشہ پہنچ کر سب سے پہلے نجاشی کے وزیروں اور مذہبی رہنماؤں سے رابطہ کیا جو اس کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے تھے۔ مکی وفد کی گفتگو اور تحائف سے متاثر ہو کر ان لوگوں نے وعدہ کیا کہ جب تم نجاشی سے اپنی آمد کا مقصد بیان کر چکو تو ہم تمہاری بھرپور تائید کریں گے۔ اگلے دن مکی وفد نجاشی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اس کے حضور شاہی آداب کی بجا آوری اور اپنے علاقے کے نادر تحائف پیش کرنے کے بعد اپنا مقصد اس طرح بیان کیا۔
” اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے۔ لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے بلکہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔ ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین، چچاؤں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ واپس بھیج دیں کیونکہ وہ لوگ ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور ناراضگی کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ “ جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کرچکے تو اس کے مصاحبین نے کہا :” بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ ان جوانوں کو ان کے حوالے کردیں ہم انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچا دیں گے۔ “ لیکن حکمران نے یکطرفہ کارروائی کرنے کے بجائے مسلمانوں کو اپنی خدمت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ نجاشی مسلمانوں سے سوال کرتا ہے یہ کون سا دین ہے جس بنا پر تم نے اپنے اعزاء و اقارب، کا روبار اور گھر بار چھوڑدیا ہے ؟ وفد کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے مفصل جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم غریبوں، مسافروں اور پڑوسیوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ ہمارے رسول نے ہمیں اس سے منع کرتے ہوئے سمجھایا کہ لوگوں پر ظلم کرنے کے بجائے ان کے معاون اور مددگار بن جاؤ۔ حضرت جعفر ؓ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہم پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے تھے ہمارے نبی ﷺ نے اسے ناجائز قرار دیتے ہوئے حکم دیا تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کیا کرو۔
حضرت جعفر ؓ نے اپنا نظریہ اور مؤقف اتنا دلگداز طریقے سے پیش کیا کہ نجاشی نے ان کا خطاب سنتے ہی حکم صادر فرمایا کہ میں مظلوموں کو اپنے ملک میں پناہ دیتا ہوں۔ اس ناکامی پر مکی وفد نے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے اگلے دن نجاشی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ کہہ کر توہین کرتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ، رسول اور فقط ابن مریم ہے۔ قریب تھا عمرو بن عاص کا یہ حربہ کارگر ثابت ہوتا لیکن حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم کی آیات ایسے رقت آمیز لہجے میں تلاوت کیں کہ جس سے شاہی دربار میں ایک سماں پیدا ہوا۔ شاہ حبشہ نے کہا کہ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے یہی حق ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس میں کوئی توہین نہیں پائی جاتی۔ اس طرح مسلمانوں کو سکون ملا اور مکہ کا وفد ناکام لوٹا۔ اس واقعہ کے کئی سال بعد حبشہ سے ستر زعماء پر مشتمل رسول محترم ﷺ کی خدمت میں عیسائیوں کا وفد آیا جب یہ لوگ اسلام کے بارے میں نبی معظم ﷺ سے گفتگو کر رہے تھے تو آپ نے ان کے سامنے سورة یٰس کی تلاوت فرمائی سنتے ہی وفد کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو بہنے لگے وہ جوں جوں قرآن مجید کی تلاوت سن رہے تھے زارو و قطار رونے کے ساتھ اس بات کا اقرار کر رہے تھے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو حق سمجھ کر پہچان لیا ہے۔ ہماری اس کے حضور عاجزانہ التجا ہے کہ وہ ہمیں حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمالے۔ حق پہچان لینے کے بعد ہمارے پاس اب کوئی حُجّت نہیں کہ ہم حق کا انکار کریں لہٰذا ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں میں شمار فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ایمان قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی جنت کا وعدہ فرمایا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں محسنین کے لیے ایسا ہی بدلہ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کریں گے انھیں دہکتی ہوئی جہنم میں جھونکا جائے گا۔
مسائل
1۔ حق جان لینے کے بعد اسے مان لینا چاہیے۔ 2۔ حق کی گواہی دینا باعث نجات ہے۔ 3۔ نیک لوگوں کی صحبت کی دعا کرنی چاہیے
4۔ شریعت الٰہی پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا۔ 5۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔
6۔ اللہ کے بندے قرآن مجید سن کر رو پڑتے ہیں۔ 7۔ نیکوں کو ان کی نیکی اور بروں کو ان کی برائی کی پوری پوری جزاء و سزا ملے گی۔
تفسیر بالقرآن
ایمان قبول کرنے والوں کی دعائیں :
1۔ فرعون کی مومنہ بیوی کی ظلم سے نجات کی دعا۔ (التحریم : 11) 2۔ جادوگروں کی ایمان کے بعد صبر اور ثابت قدمی کی دعا۔ (الاعراف : 120 تا 126)
3۔ ایمان لانے کے بعد طرح طرح کے ادعیہ ماثورہ کا ذکر۔ (البقرۃ : 285 تا 286)
4۔ ہمارے رب ہم نے ایمان کی دعوت قبول کی تو ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔ (آل عمران : 193 تا 194)
5۔ اے رب ہمارے ! ہمیں اور ہمارے مومن بھائیوں کو معاف فرما۔ (الحشر : 10)
6۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر بالمقابل ہوئے تو انھوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر نازل فرما اور ہمیں ثابت قدم فرما اور کافروں کی قوم پر ہماری مدد فرما۔ (البقرۃ : 250)
7۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب بیشک ہم ایمان لائے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ (آل عمران : 16)
Ayahs 5:86–88فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اے صاحب ایمان لوگو ! تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنی مرضی سے حرام کرکے زیادتی کے مرتکب نہ ہوجانا، زیادتی کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے لوگ عملاً کفر و تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔
اس آیت میں بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ مومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور طیّب چیزوں کو من مرضی سے حرام قرار دیں۔ حرام و حلال کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ لوگوں نے لذت نفس کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تقویٰ اور نیکی کے حصول کے لیے حلال کو حرام ٹھہرایا۔ جس طرح کہ بعض صوفیائے کرام، ہندو پنڈت، جوگی، بدھ مت کے پیروکار اور عیسائیوں میں بعض پادریوں نے من ساختہ نیکی کے حصول کے لیے لذّات سے اجتناب اور تارک الدّنیا ہونے کا عقیدہ اختیار کیا۔ دین اسلام نے اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دی کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیں اور حدود اللہ سے تجاوز کر جائیں۔ یاد رہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک موقع پر یوں فرمایا ہے کہ ہر حکومت کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اگر کوئی شخص اپنے مویشی سرکاری چراگاہ کی حدود کے قریب لے جائے گا تو خطرہ ہے کہ کسی وقت بھی اس کے جانور چراگاہ میں داخل ہوجائیں۔ احتیاط اور تقویٰ کی بات یہ ہے کہ کسی گلہ بان کو اپنا ریوڑسرکاری چراگاہ کے قریب نہیں لے جانا چاہیے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے حرام و حلال کے ضابطوں کے اندر رہ کر زندگی بسر کرنا ہی تقویٰ ہے۔ اس سے صوفیائے کرام کے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے جنھوں نے خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس کی نعمتوں کو ترک کرتے ہوئے نفس کشی کا رویہ اختیار کیا حالانکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ صحت مند مومن کمزور مومن سے بہتر ہے۔ البتہ طبعی کراہت یا پرہیز کی خاطر کسی چیز کو ترک کرنا حرام کے زمرے میں نہیں آتا ہے بشرطیکہ آدمی خدا کی حلال کردہ چیزکو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھتا ہو۔ اگر کسی کو حقیقی ایمان نصیب ہو تو یہ بات سمجھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ اسی میں تقویٰ اور تزکیہ نفس ہے۔
” حضرت عبداللہ بن دینار ؓ بیان کرتے ہیں انھوں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو فرماتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ سے سانڈھے (گوہ) کے متعلق پوچھا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس کو کھاتا ہوں نہ اس کو حرام کرتا ہوں۔ “
( عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَہُمَا مُشَبَّہَاتٌ لَا یَعْلَمُہَا کَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہٖ وَعِرْضِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب فضل من استبر ألدینہ ]
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے دونوں کے درمیان متشابہ چیزیں ہیں ان کو لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی ہے جو کوئی متشابہ چیزوں سے بچے گا اس نے اپنا دین اور عزت محفوظ کرلی۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ۔۔ قَالَ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیل السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَا رَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ )[ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا ]
” حضرت ا بو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ایمان والو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ بالوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اے میرے رب ! اے میرے رب ! کہتا ہے اس کا کھانا پینا حرام، اس کا لباس بھی حرام اور اس کا سامان بھی حرام مال کا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں گرداننا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزیں ہی کھانی چاہییں۔ 4۔ تقویٰ ہی مومنین کو اعتدال و فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا :
1۔ زیادتی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (البقرۃ : 190)
2۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : 57)
3۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : 64) 4۔ اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : 141)
5۔ خیانت کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (انفال : 58) 6۔ تکبر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23)
Ayah 5:89فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ناجائز ہے اس طرح اللہ کے عظیم نام کو غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا انسان پر یہ بھی کرم ہے کہ وہ اپنے نام کو بےوجہ استعمال کرنے کے باوجود اس پر گرفت نہیں کرتا۔ لغو کا معنی بےہودہ، بےوجہ اور بلا ارادہ ہے۔ البتہ لغو کام اور بات سے منع کیا گیا ہے۔ عزم اور شعوری طور پر اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس نام کی لاج رکھنا مسلمان پر فرض ہے۔ انسان کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ جب اپنی بات کو مؤثر اور مضبوط کرنا چاہتا ہے تو شواہد اور دلائل کے ساتھ کسی عزیر یا محترم چیز کی قسم اٹھایا کرتا ہے تاکہ سننے والا اس کی بات پر اعتماد اور یقین کرلے۔ اس لیے ہر دور کے مشرک اپنے باطل خداؤں کی قسمیں اٹھایا کرتے ہیں۔ نبی محترم ﷺ نے اس طریقۂ گفتگو کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ بلاوجہ قسمیں اٹھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور اگر قسم اٹھانا ناگزیر ہو تو غیر اللہ کی قسم اٹھانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانا چاہیے۔ دوسری طرف آپ ﷺ نے اس بات کو بہت ہی برا جانا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کو دنیاوی فائدے اور محض ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔ قسم اٹھانا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانے کے مترادف ہے اس لیے آدمی کو حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ منہ سے نکلی ہوئی قسم اور بات کی پاسداری کرے قسم کے لیے یمین کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی دایاں ہاتھ ہے۔ پہلے وقتوں میں لوگ حلف اٹھاتے وقت ایک دوسرے کا دایاں ہاتھ پکڑ لیا کرتے تھے جس سے قسم اٹھانے والا اپنی بات کو قوی اور مؤکد کیا کرتا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تاکید کلام کے طور پر کہتا ہے جیسے لاو اللہ۔ وغیرہ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر)
کفّارہ کا لفظ کفر سے مشتق ہے کفر کا ایک معنی ستر ڈھانپنا ہے۔ قسم توڑنے کی وجہ سے جس گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے کفارہ اس گناہ کو ڈھانپ دیتا ہے۔ قسم کا کفارہ درج ذیل میں سے کوئی ایک ہے۔
1۔ دس غریب لوگوں کو کھانا کھلانا۔ 2۔ دس آدمیوں کو لباس پہنانا۔ 3۔ غلام آزاد کرانا۔ 4۔ تین روزے رکھنا۔
(عن ابن عمر ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ ےَنْھٰکُمْ اَنْ تَحْلِفُوْا بِاٰ بَآءِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْےَحْلِفْ باللّٰہِ اَوْلِےَصْمُتْ )[ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب کیف یستحلف ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی بیان کرتے ہیں : رسول معظم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسمیں کھاؤ۔ جسے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ عَنِِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِیْ حَلْفِہٖ بِِاللَّاتِِ وَالْعُزّٰی فَلْےَقُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِِہٖ تَعَالَ اُقَامِرْکَ فَلْےَتَصَدَّقْ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب افرایتم اللات والعزی ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی رحمت ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جس نے لات وعزٰی کی قسم کھائی وہ دوبارہ لا الہٰ الا اللہ پڑھے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں ‘ وہ صدقہ کرے۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے بہترین اسلام کی نشانی یہ ہے کہ وہ فضول یعنی لا حاصل باتوں کو چھوڑ دے۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد،]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری وہی قسم قابل اعتماد ہوگی جس کی تصدیق قسم لینے والا کرے گا اور عمرو ؓ نے کہا کہ تمہاری تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا۔ “ [ رواہ مسلم : باب یمین الحالف علیٰ نیۃ المستحلف ]
مسائل
1۔ لغو قسموں سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ قسم پوری ذمہ داری کے ساتھ اٹھانی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قسم کے مسائل :
1۔ قسموں کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (النحل : 91 تا 94) 2۔ صدقہ نہ کرنے پر قسم کھانا منع ہے۔ (النور : 22 تا 24)
3۔ بلا اراداہ ٹھائی جانے والی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 225)
4۔ ڈھال کے طور پر اللہ کی قسم نہیں کھانا چاہیے۔ (البقرۃ : 224)
5۔ اللہ کے عہد اور قسموں کے ذریعے مال کمانے والوں کو عذاب الیم ہے۔ (آل عمران : 77)
Ayahs 5:90–91فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کا تقدس ہے کہ اسے ناجائز استعمال نہیں کرنا اسی طرح اس کے حکم کا تقاضا ہے کہ شراب اور شیطانی کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔
سورۃ البقرۃ کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ عربی میں ہر اس چیز کو خمر کہتے ہیں جو دوسرے پر پردہ ڈال دے۔ اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے (سورۃ النور : 31) کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل و فکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجاً ہوئی ہے۔ شراب کی جسمانی اور اخلاقی قباحتوں کی وجہ سے اسے مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ شراب کا عادی شخص اپنی عمر سے کہیں پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے آدمی شراب پی کر ایسی حرکات کرتا اور خرافات بکتا ہے کہ جس کا صحیح حالت میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے شراب کسی بھی مذہب میں جائز قرار نہیں دی گئی۔
شراب کے بارے میں دور حاضر کے ڈاکٹر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے فائدے نہایت عارضی اور معمولی ہیں لیکن روحانی، جسمانی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی نقصان لامحدود اور ناقابل تلافی ہیں۔
رسول معظم ﷺ نے شراب کو علاج کے طور پر استعمال کرنے سے منع ہی نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے بیماری قرار دیتے ہوئے ابتدا میں اس کے لیے استعمال ہونے والے برتنوں سے بھی منع فرما دیا۔
(أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَیْدٍ الْجُعْفِیَّ ؓ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْخَمْرِ فَنَہَاہُ أَوْ کَرِہَ أَنْ یَصْنَعَہَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُہَا للدَّوَاءِ فَقَالَ إِنَّہُ لَیْسَ بِدَوَاءٍ وَلَکِنَّہُ دَاءٌ )[ رواہ مسلم : کتاب الاشربہ، باب تحریم التداوی بالخمر ]
” طارق بن سوید جعفی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے شراب کے متعلق سوال کیا تو آپ نے اسے پینے سے منع کیا یا ناپسند کیا تو اس نے کہا کیا میں اسے بطور دوا استعمال کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ “
( ٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْخَمْرَ وَالْمَیْسِرَ وَالْکُوبَۃَ وَقَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)[ رواہ احمد ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور شترنج کو حرام کردیا ہے مزید فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَا أَسْکَرَ کَثِیرُہُ فَقَلِیلُہُ حَرَامٌ) [ رواہ الترمذی : باب الاشربہ ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ لَعَنَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی الْخَمْرِ عَشْرَۃً عَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَشَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃُ إِلَیْہِ وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَآکِلَ ثَمَنِہَا وَالْمُشْتَرِی لَہَا وَالْمُشْتَرَاۃُ لَہُ )[ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلا ]
” حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے شراب کے متعلق دس آدمیوں پر لعنت کی ہے۔
1۔ شراب نچوڑنے والا۔ 2۔ نچڑوانے والا۔ 3۔ لینے والا۔ 4۔ اٹھانے والا۔ 5۔ جس کے لیے لے جائی جائے۔
6۔ پلانے والا 7۔ بیچنے والا۔ 8۔ اس کی قیمت کھانے والا۔ 9۔ خریدنے والا۔ 10۔ جس کے لیے خریدی جائے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیدَتَیْنِ نَحْوَ أَرْبَعِینَ قَالَ وَفَعَلَہُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَار النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِینَ فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ ؓ
[ رواہ مسلم : کتاب الحدود، باب حد الخمر ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔ اور حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے دور خلافت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عمر ؓ کا دور خلافت آیا تو انھوں نے اس بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا کہ سب حدوں میں سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہیں۔ (یعنی حد قذف جو قرآن میں مذکور ہے) حضرت عمر ؓ نے شرابی کے لیے اسّی کوڑوں کی حد کا حکم دیا۔ “
میسر : ہر وہ عقد جس کی رو سے ہارنے والا جیتنے والے کو ایک معین اور پہلے سے طے شدہ رقم ادا کرے اس کو میسر کہتے ہیں، یہ ” یسر “ سے ہے جس کا معنی آسانی ہے۔ اسے عرف میں جوا کہتے ہیں جوئے کے ذریعے جیتنے والے فریق کو ہارنے والے فریق کی رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں۔
ازلام : تیروں کی شکل میں پتلی پتلی لکڑیاں، ان سے زمانۂ جاہلیت میں قسمت کا حال اور شگون لیا کرتے اور فال نکالتے تھے۔ جس کے ہر دور میں کئی طریقے اختیار کیے جاتے رہے ہیں جیسا کہ آج کے زمانے میں طوطے کو سکھلا کر اس سے کاغذ کی پرچیاں اٹھوائی جاتی ہیں۔
(عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَمَّا قَدِمَ أَبَی أَنْ یَدْخُلَ الْبَیْتَ وَفِیہِ الْآلِہَۃُ فَأَمَرَ بِہَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجُوا صورَۃَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ فِی أَیْدِیہِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَاتَلَہُمْ اللّٰہُ أَمَا وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّہُمَا لَمْ یَسْتَقْسِمَا بِہَا قَطُّ فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَکَبَّرَ فِی نَوَاحِیہٖ وَلَمْ یُصَلِّ فیہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من کبر فی نواحی الکعبۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں بلاشبہ جب رسول معظم ﷺ حرم میں آئے تو کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہاں بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں نکالنے کا حکم دیا۔ ان کو نکال دیا گیا۔ لوگوں نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) کے مجسمیجن کے ہاتھوں میں تیر تھے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے اللہ کی قسم ! یہ جانتے تھے کہ یہ ان کی قسمت کا حال کبھی نہیں بتاسکتے۔ تب نبی اکرم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ نے اس کے کونوں میں تکبیر کہی اور وہاں نماز نہ ادا کی۔ “
انصاب : بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر جن کی عبادت کی جاتی تھی اور بتوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان پر جانور ذبح کیے جاتے تھے۔ (المفردات ج 2 ص : 638)
رجس : جو چیز حسًا یا معنًا گندی اور ناپاک ہو، انسان کی طبیعت اس سے گھن کھائے یا عقل اس کو برا جانے یا شریعت نے اس کو ناپاک قرار دیا ہو وہ رجس اور حرام ہے۔
مسائل
1۔ شراب، جوا، وغیرہ شیطانی کام ہیں۔ 2۔ شیطانی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
3۔ دنیا و آخرت کی کامیابی برے کاموں سے بچنے میں ہے۔ 4۔ شیطان اپنے افعال سے مسلمانوں کو باہم لڑاتا ہے۔
5۔ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکتے ہیں
تفسیر بالقرآن
شراب کے مسائل :
1۔ شراب کا نقصان فائدہ سے زیادہ ہے۔ (البقرۃ : 219) 2۔ شراب پینا شیطانی عمل ہے۔ (المائدۃ : 90)
3۔ شراب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکتی ہے۔ (المائدۃ : 91) 4۔ شراب حرام ہے اس کے پینے سے بچنا چاہیے۔ (المائدۃ : 90)
Ayahs 5:92–93فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول نے خمر، جوئے اور دیگر محرمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر عمل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچو۔
قرآن مجید نے بار ہا اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ رسول کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پیغام من و عن لوگوں تک پہنچائے اور اس پر خود عمل کرکے اپنے آپ کو نمونہ کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ یہاں یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچنا اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔
اس بات کو اس طرح بھی بیان فرمایا جو کچھ تمہیں رسول دیتا ہے اسے قبول کرو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ کیونکہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ یہاں ماضی کے حوالے سے ایک استفسار کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ جب شراب حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے تھے اور اسی دور میں فوت ہوگئے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسند احمد)
اس فرمان میں تقویٰ ، ایمان اور عمل صالح کو لازم ملزوم قرار دیا کیونکہ تقویٰ کے بغیر ایمان قابل قبول نہیں اور ایمان صالح اعمال کے بغیر آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں دیتا۔ پہلی مرتبہ تقویٰ اور ایمان کے بعد صالح اعمال کا ذکر کیا ہے اور دوسری مرتبہ ایمان کو تقویٰ سے مقدّم رکھتے ہوئے صالح اعمال کی جگہ ” اَحْسِنُوْا “ کا لفظ استعمال فرما کر محسنین کو اپنی محبت کا یقین دلایا ہے۔ احسان کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ حقیقتاً عمل صالح ہوتا وہی ہے جس میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ اور اسے اس جذبہ کے ساتھ بجا لایا جائے گویا کہ انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی منشا کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ جب کسی کام کی ادائیگی میں یہ جذبہ اور تخیل پیدا ہوجائے تو نہ صرف نیکی کرنے میں ذوق شوق پیدا ہوتا ہے بلکہ اس انداز سے نیکی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کی لذّت محسوس کرتا ہے۔ اس طرح اسے دنیا میں ہی رب کریم کی محبت کا کیف محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ نیکی کی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
کچھ مفسرین نے تقویٰ اور ایمان کے تکرار کے بارے میں لکھا ہے کہ اس تکرار سے مراد تقویٰ اور ایمان میں مبالغہ مقصود ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اس کے مختلف درجات مراد ہیں۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادٰی جِبْرِیلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّہُ فَیُحِبُّہُ جِبْرِیلُ فَیُنَادِی جِبْرِیلُ فِی أَہْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوہُ فَیُحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی أَہْلِ الْأَرْضِ )[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل (علیہ السلام) اس سے محبت کرتے ہوئے آسمان والوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس بندے کے لیے زمین میں شرف قبولیت بخش دیا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ رسول مکرم ﷺ کے حکم سے اعراض نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ کسی بھی چیز کا حکم سامنے آجانے پر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
تقویٰ اور اس کے فائدے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
2۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : 49) 3۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45)
4۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
Ayahs 5:94–95فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : تقویٰ اور ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے سے اجتناب کرو۔
امام ابن ابی حاتم ؓ نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیات صلح حدیبیہ کے سال نازل ہوئیں۔ جب مسلمان عمرہ کرنے کی غرض سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو چند لوگوں کے سوا سب نے میقات پر پہنچ کر احرام باندھا اس حالت میں مسلمانوں کو شکار کرنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ شکار مسلمانوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانوروں کی گردنیں دبوچ سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا انھوں نے شکار پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کی۔ اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ محرم شخص غیر محرم کو شکار کرنے کا اشارہ بھی نہیں کرے۔ کیونکہ اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ کون تم میں غیب کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ “ غیب سے مراد یہ نہیں کہ انسان کسی لمحہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ اور اس کی قدرت سے باہر ہوتا ہے۔ غائب سے مراد انسان کی ایسی خلوت ہے جب اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔ احرام کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا حکم سمجھ کر شکار کرنے سے بچنا اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رکنا ہی حقیقی ایمان اور تقویٰ ہے۔ یہاں یہ بھی انتباہ کیا کہ جو شخص خلوت میں اللہ تعالیٰ سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانی کرتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسے اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو میرے سوا تمام صحابہ ؓ نے احرام باندھا ہوا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنا جوتا سینے میں مشغول تھا لیکن انھوں نے مجھے نہیں بتلایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظراٹھائی تو گدھا دیکھا۔ گدھا سے مراد نیل گائے ہے۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوا اور جلدی میں کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا میں نے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر پکڑا دو ۔ انھوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم اس کام میں تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ مجھے غصہ آیا۔ لیکن میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور سوار ہوگیا۔ پھر میں نیل گائے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ مار مار کر اسے روک لیا میں نے اس دوران ان سے مدد طلب کی انھوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ اس کے بعد میں رسول اکرم ﷺ سے جا ملا۔ میں نے آپ سے عرض کی کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ نے صحابہ ؓ سے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی ؟ صحابہ نے عرض کی نہیں پھر آپ نے محرم صحابہ سے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔ پوچھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے ؟ میں نے نیل گائے کی دستی پیش کی جسے آپ نے کاٹ کر کھایا۔ (رواہ مسلم : کتاب الحج، بخاری : ابواب العمرۃ) مطلب یہ ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے میں کسی قسم کی مدد نہ کی ہو تو محرم اس شکار میں سے کھا سکتا ہے۔ البتہ جو شخص احرام کی حالت میں ارادۃً شکار کرے اس کا جرمانہ شکار کے برابر حلال جانور بیت اللہ کے قریب قربان کرنا ہوگا جس کا فیصلہ دو منصف مزاج مسلمان کریں گے۔ اگر اس نے نیل گائے شکار کیا ہو تو وہ اس کے برابر گائے یا بکرا قربان کرے گا۔ اگر اس سے چھوٹا جانور شکار کیا ہو تو اس کے برابر کوئی جانور ذبح کرنے کا منصف فیصلہ دیں گے اگر کوئی شخص ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ دو مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دوروزے رکھنا ہوں گے یہ جرمانہ اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی غلطی کی سزا پائے، ہاں جو یہ حکم آنے سے پہلے ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والا ہے جو جان بوجھ کر احرام کی حالت میں شکار کرنے کی غلطی کا اعادہ کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا اور وہ بدلہ لینے کی ہر اعتبار سے قوت رکھتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے ایمان کو پرکھتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہے۔
4۔ احرام کی حالت میں شکاری کی مدد بھی نہیں کرنا چاہیے۔
5۔ جو مسئلہ جاننے کے باوجود احرام میں شکار کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔
6۔ اللہ تعالیٰ زبردست انتقام لینے پر قادر ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سے اس وقت بھی ڈرنا چاہیے جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو :
1۔ جو اللہ سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ (الملک : 12)
2۔ جو رحمٰن سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش کی خوشخبری ہے۔ (یٰس ٓ: 11)
3۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو ڈرانے والے ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (الفاطر : 18)
Ayah 5:96فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
پہلے زمانے میں بحری سفر بڑا طویل اور مشکل ہوا کرتا تھا جیسا کہ کچھ ملکوں کے لیے آج بھی یہ سفر بڑا طویل اور دشوارہوتا ہے ان ملکوں کے لوگ کئی کئی ہفتے بحری سفر کرنے میں مجبور ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زائر اپنے ساتھ ایک حد تک ہی زاد راہ لے سکتا ہے۔ کبھی کبھار بحری سفر کے دوران جہاز کا اپنے راستہ سے بھٹکنے یا کسی بھنور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سفر کے ایام غیر معینہ مدت تک بڑھ جاتے ہیں اور پہلے زمانے میں یہ اکثر ہوا کرتا تھا کہ باد مخالف کی وجہ سے بحری جہاز کئی کئی دن تک ٹھہرے رہتے تھے اور بسا اوقات جہاز اپنے راستے سے کئی میل دور ہٹ جایا کرتا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر زادراہ کا ختم ہوجانا بحری سفر کا حصہ شمار کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص کرم فرماتے ہوئے بحری سفر میں زائرین کعبہ کے لیے یہ رعایت بخشی کہ اگر وہ عمرہ یا حج کے لیے بحری سفر اختیار کریں تو حالت احرام میں بحری شکار کرنے، اس کے کھانے اور ذخیرہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس سفر کو عبادت سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس اجازت کا ہرگز معنی نہیں کہ احرام کی حالت میں آدمی عبادت کا ماحول اپنانے کے بجائے شکار کی پکڑ دھکڑ میں مصروف رہے اس لیے اجازت دینے کے ساتھ ہی حکم فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے یہ سفر کرو کیونکہ بالآخر تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو۔
مسائل
1۔ احرام کی حالت میں سمندری شکار حلال ہے
2۔ خشکی کا شکار کرنا احرام کی حالت میں قطعاً جائز نہیں۔
3۔ تمام لوگوں کو اللہ کے حضور اکٹھا ہونا ہے۔
Ayahs 5:97–98فہم القرآن
ربط کلام : احرام کی حالت میں تمہیں شکار سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اللہ کے گھر کا مقام اور احترام کا یہی تقاضا ہے جس کا تمہیں خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے اسے امن و سکون کا گہوارا بنایا ہے۔
لفظ کعبہ کا معنی بیان کرتے ہوئے معارف القرآن کے مؤلف مفتی شفیع مرحوم لکھتے ہیں کہ عربی میں کعبہ ایسی عمارت کو کہتے ہیں جو چوکور ہو یعنی جو چار کونوں پر استوار اور اونچی جگہ پر ہو پھر ان کا بیان ہے کہ عرب میں کعبہ کے نام پر خشعم قبیلہ کی ایک عمارت تھی جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے اس مغالطے سے بچانے کے لیے کعبہ کے ساتھ بیت الحرام کی تخصیص فرمائی ہے جو لوگوں کے لیے باعث قیام ٹھہرایا گیا ہے۔ بیت اللہ لوگوں کے لیے باعث قیام اس لیے ہے کہ جب تک لوگ اس کا احترام اور اس جانب منہ کرکے نماز پڑھتے رہیں گے اسی وقت تک ہی یہ دنیا قائم رہے گی۔ جب لوگ کعبہ کی طرف منہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ دیں گے تو دنیا کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔
” اَلنَّاسْ “ کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں :
1۔ مکہ معظمہ اور اس کے آس پاس میں رہنے والے لوگ۔ 2۔ حج اور عمرہ کے لیے بیت اللہ تک پہنچنے والے زائرین۔ 3۔ پوری دنیا کے لوگ۔
اس آیت میں بیت اللہ کے ساتھ چار حرمت والے مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب اور حج وعمرہ کے موقع پر کی جانے والی قربانیاں اور اس کے علاوہ وہ جانور بھی محترم قرار دیے گئے ہیں جنھیں عرب بیت اللہ کے لیے وقف کرتے ہوئے ان کے گلے میں کسی قسم کا ہار ڈال دیا کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کچھ لوگ بیت اللہ کی زیارت کا سفر باندھتے تو اپنے گلے میں کوئی ہار ڈال لیا کرتے تھے تاکہ ہر قسم کی زیادتی سے مامون ہوجائیں۔ بیت اللہ کی حرمت و برکت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ محرمات اس لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے تمہیں کس قدر عزت و تکریم اور اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضروریات کا خیال رکھا ہے۔ اس کا تمہیں احساس ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے کیونکہ وہ زمین و آسمان کے چپے چپے اور ذرّے ذرّے سے واقف ہے اور تمہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو شدید ترین عذاب دینے والا اور تابع فرمان لوگوں کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔
” حضرت انس ؓ فرماتے ہیں بیشک رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والے لوگ ہیں۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
قرآن مجید نے سورة آل عمران آیت 96 میں بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے جو گھر معرض وجود میں آیا وہ بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے مبارک اور ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے۔ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے قریب حبشہ کا ایک آدمی جس کی پنڈلیاں عام لوگوں سے لمبی ہوں گی بیت اللہ کو شہید کرے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک بیت اللہ ہے اس وقت دنیا قائم رہے گی۔
بیت اللہ کا لوگوں کے لیے باعث قیام ہونے کا یہ مفہوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی برکت کی وجہ سے اس کی زیارت کرنے والوں کو حفظ وامان سے نوازا ہے اور بےآب وگیاہ سر زمین میں اللہ تعالیٰ اس کے زائرین اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو انواع و اقسام کے کھانوں، پھلوں اور نعمتوں سے نوازرہا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ تمام لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
3۔ اللہ نافرمانوں کو سخت سزا دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فرمانبرداروں پر بہت رحمت کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : 16)
2۔ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے۔ (الحدید : 4)
3۔ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (المجادلۃ : 7)
4۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (التغابن : 4)
5۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ بحر و برّ کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : 59)