Ayah 4:1فہم القرآن
ربط سورة : سورة آل عمران کے اختتام میں ” اِتَّقُوْا اللّٰہَ “ فرما کر تقو ٰی کو مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت قرار دیا ہے۔ اِتَّقُوْااللّٰہَ میں جلالت اور تمکنت پائی جاتی ہے۔
سورۃ النساء کا آغاز ” اِتَّقُوْا رَبَّکُمْ “ سے ہوتا ہے۔ اسمِ رب میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہوتا ہے جس میں شفقت ‘ الفت اور قربت کا تصور پایا جاتا ہے۔
اس سورة میں انسانی معاشرے کے ابتدائی یونٹ کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے بنیادی حقوق و فرائض کا بیان ہوا ہے۔ سورة النساء کے ابتدائی الفاظ اور کلمات میں توحید اور وحدت انسانی کا سبق دیا گیا ہے کہ جس طرح تم سب ایک ہی خالق کی مخلوق اور اسی کی ربوبیت کے مرہون منت ہو۔ اسی طرح تم ایک ہی خاندان کے افراد اور ارکان ہو جس کی ابتدا دو کی بجائے ایک سے ہوئی۔ پھر اس ایک سے دوسرے کو یعنی آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی حواکو پیدا کیا گیا پھر بیشمار مرد اور عورتیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری فرمایا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ اس رب سے ڈرو جو تمہارا اللہ ہے جس کی عظمت و تقدیس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال اور ہمدردی کے طلبگار ہوتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے ساتھ رشتے داریوں کو توڑنے سے بھی ڈرو اور اجتناب کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر نگران کی حیثیت سے قائم دائم ہے۔
لفظ ارحام کا واحد رحم ہے۔ رسول کریم ﷺ نے رحم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔
(إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَۃٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَقَال اللّٰہُ مَنْ وَصَلَکَ وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَکَ قَطَعْتُہٗ )
[ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب من وصل وصلہ اللّٰہ ]
” رحم رحمٰن سے نکلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رحم سے فرمایا جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا۔ جس نے تجھے کاٹ دیا میں اسے کاٹ دوں گا۔ “
رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے :
(لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب إثم القاطع ]
” رشتے داریوں کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “
صلہ رحمی کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرمایا کرتے تھے۔
(لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَا فِیئ وَلٰکِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِيْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب لیس الواصل بالمکافي ]
” ادلے کا بدلہ صلہ رحمی نہیں بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ دوسرا آدمی صلہ رحمی نہ بھی کرے تجھے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ “
مسائل
1۔ لوگوں کو اپنے رب سے ڈر کر رشتے داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی نگرانی فرما رہا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نسل انسانی کی افزائش کے مراحل :
1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (آل عمران : 59)
2۔ حضرت حوا [ نے آدم (علیہ السلام) سے تخلیق پائی۔ (الروم : 21)
3۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور حوا [ سے بیشمار مردوزن پید افرمائے۔ (النساء : 1)
4۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قبائل میں تقسیم فرمایا۔ (الحجرات : 13)
تخلیق انسان کے مختلف مراحل پارہ 14: رکوع :8 اور پارہ 18 رکوع 1 کی تفسیر میں دیکھیں۔
Ayah 4:2فہم القرآن
ربط کلام : سورت کی پہلی آیت میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دے کر ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا اب معاشرے کے پسماندہ لوگوں کے حقوق کا چھ آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پسماندہ لوگوں میں سرفہرست یتیم ہیں جو بلوغت سے پہلے باپ کے سہارے سے محروم ہوچکے ہوں۔
یتیم کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اپنے مال کے ساتھ ملانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ ایسا کرنے والا حرام کو حلال کے ساتھ ملاتا ہے جس سے نفرت دلانے کے لیے خبیث کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ خبیث ناپاک اور گندی چیز کو کہتے ہیں۔ لفظ خبیث استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ پاک ذہن اور با ضمیر شخص یتیم کا مال کھانے کا تصور بھی نہ کرسکے۔ اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ جب یہ حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام ؓ نے اس پر اتنی سختی اور جلدی کے ساتھ عمل کیا کہ آپ کی محفل سے اٹھے اور گھر جانے کے بعد جن کے ہاں یتیم پرورش پا رہے تھے۔ ان کا کھانا پینا اور برتن الگ کردیے۔ جسے یتیموں نے شدّت کے ساتھ محسوس کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ماجرا عرض کیا۔ تب قرآن مجید میں اس کی وضاحت نازل ہوئی :
(وَیَسْءَلُوْنَََکَ عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْشَآء اللّٰہُ لَأَعْنَتَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) [ البقرۃ : 220]
” اور وہ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیں کہ ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ مصلح اور مفسد کو جانتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَاأَبَاذَرٍّ إِنِّيْ أَرَاکَ ضَعِیْفًا وَإِنِّيْ أُحِبُّ لَکَ مَاأُحِبُّ لِنَفْسِيْ لَاتَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَاتَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب کراھۃ الإمارۃ بغیر ضرورۃ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! میں تجھے کمزور پاتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تم دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کا والی بننا۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ خَیْرُ بَیْتٍ فِي الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُحْسَنُ إِلَیْہِ وَشَرُّ بَیْتٍ فِي الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُسَاءُ إِلَیْہِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الأدب، باب حق الیتیم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا مسلمانوں میں بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتاہو۔ مسلمانوں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہو۔ “
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِِّ ﷺ فَقَالَ لَاأَجِدُ شَیْءًا وَلَیْسَ لِيْ مَالٌ وَلِيَ یَتِیْمٌ لَہٗ مَالٌ قَالَ کُلْ مِنْ مَالِ یَتِیْمِکَ غَیْرَ مُسْرِفٍ وَلَامُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ وَأَحْسِبُہٗ قَالَ وَلَا تَقِيَ مَالَکَ بِمَالِہٖ ) [ ابن ماجۃ : کتاب الوصایا، باب قولہ ومن کان فقیرًا فلیأکل بالمعروف ]
” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا میرے پاس کوئی مال نہیں البتہ میرے پاس ایک یتیم ہے جس کا مال بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے یتیم کے مال سے فضول خرچی اور اپنے مال کے ساتھ نہ ملاتے ہوئے اس کے مال میں سے کھالیاکر۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا اپنا مال اس کے مال کے ذریعے نہ بچانا۔ “
مسائل
1۔ یتیموں کا مال واپس کرنا چاہیے۔
2۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
یتیموں کے حقوق :
1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : 220)
2۔ یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (البقرۃ : 83)
3۔ یتیموں کا مال واپس کیا جائے۔ (النساء : 2)
4۔ یتیموں کا مال بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر واپس کرو۔ (النساء : 6)
5۔ یتیموں کو مال دو تو اس پر گواہ کرلو۔ (النساء : 6)
6۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت۔ (الضحیٰ : 9)
7۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔ (النساء : 2)
Ayah 4:3فہم القرآن
ربط کلام : یتامیٰ میں بھی یتیم بچیوں کا خیال رکھنے کا حکم ہے کیونکہ یتیم لڑکا تو کسی نہ کسی طریقے سے گزارہ کرلیتا ہے لیکن یتیم بچی جائے تو کدھر جائے۔ اگر بالغ ہوجائے تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس سے مشروط نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے یتیموں کے بعض سر پرست محض اس کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے یتیم لڑکی کے بالغ ہونے پر اس کا نکاح اپنے یا اپنے بیٹے کے ساتھ کردیتے۔ ایسا ہی واقعہ آپ کی بعثت کے بعد پیش آیا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ لَہٗ یَتِیْمَۃٌ فَنَکَحَھَا وَکَانَ لَھَا عَذْقٌ وَکَانَ یُمْسِکُھَا عَلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ لَّھَا مِنْ نَّفْسِہٖ شَیْءٌ فَنَزَلَتْ (وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتَامٰی۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب وإن خفتم ألا تقسطوا ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی جس کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا اسی باغ کی وجہ سے وہ اس کی پرورش کرتا رہا۔ حالانکہ اس کو اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ “
یعنی اگر تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکتے تو پھر دوسری عورتوں کے ساتھ اپنی پسند کے مطابق دو دو، تین تین ‘ چار چار نکاح کرسکتے ہو۔ اس میں بھی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان کے درمیان عدل نہیں کر پاؤ گے تو پھر ایک سے ہی نکاح کرو۔ البتہ تم لونڈیاں رکھ سکتے ہو۔ عدل و انصاف کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ کہیں تم ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَانَِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقْسِمُ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ اللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِيْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِيْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی القسم بین النساء ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باری تقسیم کرنے میں عدل کرتے اور یہ فرماتے تھے اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس کا مجھے اختیار ہے اور مجھے ملامت نہ کر اس میں جس کا تو مالک ہے اور کیونکہ اس پر مجھے اختیار نہیں (یعنی دل) ۔ “
چار بیویوں کا مسئلہ
غیر مسلموں نے قرآن مجید کے اس فرمان پر بڑے اعتراضات اور سوالات اٹھائے ہیں وہ اس آیت کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے کہتے اور لکھتے ہیں کہ قرآن نے مسلمانوں کو چار بیویاں کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ قرآن مجید نے چار بیویاں کرنے کا حکم نہیں دیا۔ چار بیویاں کرنے کی صرف رخصت عنایت فرمائی ہے۔ اس میں بھی ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنا ضروری ہے ورنہ اسلامی حکومت ایسے شخص کا نوٹس لے سکتی ہے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِذَا کَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ یَعْدِلْ بَیْنَھُمَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہٗ سَاقِطٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جس آدمی کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے۔ وہ قیامت کے دن فالج زدہ جسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ “
قرآن مجید نے جن وجوہات کی بنیاد پر تعدّدِ ازواج کی اجازت دی ہے۔ یہ وجوہات اور ضرورت ہر دور میں رہی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی۔ مردوں کو یہ اجازت عورتوں کی کفالت اور تحفظ کے لیے دی گئی ہے کیونکہ اس کے بغیر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ جن قوموں نے صرف ایک بیوی رکھنے کا قانون بنا کر داشتائیں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں بےحیائی، معصوم بچوں کا قتل، اسقاط حمل، جسمانی اور روحانی بیماریوں کی بہتات کی وجہ سے ان کا معاشرہ پرلے درجے کی آوارگی کا شکار ہوچکا ہے۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق اگر بیویوں کے درمیان ہر قسم کا عدل و انصاف کیا جائے تو عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا حل بڑی عمدگی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اس کے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ہوسکتا۔
1۔ افغانستان پر دس سال تک روس کا جنگ مسلط کرنا بعد ازاں افغانستان اور عراق پر امریکی حملہ جس میں دونوں مسلمان ملکوں کے کم از کم پندرہ سے بیس لاکھ مرد شہید ہوئے جس کی وجہ سے ان ملکوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں چار گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔ جنگی اور ہنگامی حالات کی بناء پر مرد کو چار بیویاں رکھنے کی رخصت دی گئی۔
2۔ شرح پیدائش کے اعتبار سے عورتوں کی کثرت خاص کر قرب قیامت عورتوں کا زیادہ ہونا ہے۔
3۔ ٹریفک حادثات میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کا زیادہ ہلاک ہونا کیونکہ عورتوں کی نسبت مرد زیادہ سفر کرتے ہیں۔
4۔ جنسی طاقت کی بنیاد پر مرد کو اجازت دینا تاکہ بےشرمی رواج پانے کی بجائے شرم و حیا کا تحفظ ہو سکے۔
5۔ پہلی بیوی کے بانجھ ہونے کی صورت میں یا نرینہ اولاد کی خواہش میں دوسری شادی کی ضرورت ہونا۔
6۔ یاد رکھیے نکاح کا مقصد شہوت زنی نہیں تفصیل کے لیے النساء آیت 94 کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
رسول محترم ﷺ اور اُمّہات المؤمنین
رسول معظم ﷺ کی ذات اطہر پر وہی شخص اعتراض کرنے کی جسارت کرسکتا ہے جو منکر نبوت اور جاہل ہو کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اللہ کا حکم آنے سے پہلے جہاں کہیں آپ نے کسی مسئلہ میں استدلال فرمایا اگر وہ شریعت کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً اس کی تردید یا تصحیح کردی گئی۔
ایک منصف مزاج شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ مذکورہ بالا اصول پر غور کرے اور آپ کی حیات مبارکہ کا وہ دور دیکھے۔ جب آپ پچیس سال کے جوان رعنا تھے ‘ صحت اور حسن و جمال کے حوالے سے پوری دنیا میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آپ کو روکنے اور سمجھانے والے والدین بھی سر پر موجود نہیں تھے۔ آپ کی شرم و حیا، دیانت و امانت عرب میں ضرب المثل تھی۔ شادی کا وقت آیا تو آپ نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک ایسی عورت کے ساتھ نکاح کیا جس کے دو خاوند پہلے فوت ہوچکے تھے۔ پھر اسی ایک کے ساتھ پچیس سال کا عرصہ گزارا تاآنکہ حضرت خدیجہ ؓ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے بعد حضرت سودہ ؓ سے نکاح کیا جو معمّر عورت تھی۔ جب وہ آپ کے گھر آئیں تو اس وقت آپ کی عمر مبارک 54 سال ہوچکی تھی۔ حضرت سودہ ؓ کے بعد حضرت عائشہ سے 2 ھجری میں نکاح کیا۔ آپ نے پچپن سال میں حضرت حفصہ ؓ کے ساتھ اور اسی سال کے آخر میں حضرت زینب ؓ کے ساتھ، 4 ہجری میں حضرت اُمّ سلمہ ؓ آپ کے نکاح میں آئیں، 5 ہجری حضرت زینب بنت جحش ؓ کے ساتھ 6 ہجری میں، حضرت جویریہ ؓ 7 ہجری میں، حضرت ام حبیبہ ؓ اور 7 ھجری کے آخر میں حضرت صفیہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ مزید وضاحت کے لیے سیرت رحمۃ اللعالمین کا مطالعہ فرمائیں۔
مسائل
1۔ بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔
2۔ انصاف نہ کرسکے تو صرف ایک بیوی رکھنی چاہیے۔
Ayah 4:4فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے اخلاقی ‘ ازدواجی حقوق بیان کرنے کے بعد ان کا حق مہر اور مالی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے معاشی تحفظ کے ساتھ شخصی وقار میں اضافہ ہوجائے۔
اسلام سے پہلے عورتوں پر یہ ظلم بھی ہوتا تھا کہ انہیں حق مہر سے محروم کردیا جاتا اس ظلم کی چار شکلیں تھیں۔
1۔ یتیم اور کمزور گھرانوں کی بچیوں کا سرے سے حق مہر مقرر ہی نہیں کیا جاتا تھا۔
2۔ بعض دفعہ عورت کا ولی حق مہر خود ہی کھا جاتا تھا۔
3۔ حق مہر مقرر کرنے کے باوجود عورت کو حق مہرنہ دیا جاتا یا ادا کرنے میں کئی کئی سال اجتناب کیا جاتا۔ تاآنکہ عورت کے مطالبہ پر میاں بیوی کے درمیان تلخیاں پیدا ہوجاتیں۔
4۔ خاوند ایسا رویّہ اختیار کرتا جس سے مجبور ہو کر عورت اپنا حق مہر چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی تھی۔
قرآن مجید نے ” نِحْلَۃً “ کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا ہے کہ حق مہر دل کی خوشی اور رغبت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ حق مہر خاوند کی طرف سے بیوی کے لیے شب زفاف کا تحفہ اور محبت کا اظہار ہے۔ اس سے آدمی کو پہلے دن ہی ازدواجی زندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی خوشی سے حق مہر خاوند کو معاف کر دے تو خاوند کو چاہیے کہ وہ اس انداز سے اسے استعمال کرے۔ جس سے اس کی استغناء ظاہر ہوتی ہو۔ ایسا کرنے سے آدمی ہلکے پن اور لالچی ہونے کے الزام سے بچ جائے گا۔ بصورت دیگر عورت کی نظر میں خاوند کا ہلکا پن اور اس کے لالچی ہونے کا شبہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ اسے کھاؤ مگر خوشگوار طریقے کے ساتھ۔
حق مہر کا تعیّن
لڑکے اور لڑکی کے نکاح کی صورت اس وقت ہی پیش آتی ہے جب دونوں خاندانوں کے درمیان قربت اور مودّت پیدا ہوجائے۔ اس قربت اور مودّت کو آگے بڑھانے اور دونوں خاندانوں اور افراد کو مالی بوجھ سے بچانے کے لیے شریعت نے اپنی طرف سے حق مہر کا تعین کرنے کی بجائے لڑکے، لڑکی اور اس کے ولی پر معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مالی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے خوشگوار ماحول اور باہمی رضا مندی سے حق مہر کا تعین کریں۔ اس لیے حدیث کے مقدس ریکارڈ میں بیوی کو چند آیات حفظ کروانے سے لے کر حق مہر میں بھاری رقم دینے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن مجید نے حق مہر کے لیے ” قِنْطَاراً “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ خزانہ ہے۔ اس سے مراد کثیر رقم ہے۔ لہٰذا جو علماء شرعی حق مہر 32 روپے یا اپنی طرف سے کسی قسم کی رقم کا تعین کرتے ہیں۔ دین میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ عورت پر زیادتی کرنے کے مترادف ہے۔
رسول اللہ ﷺ چند صحابہ ؓ میں تشریف فرما تھے ایک عورت نے اپنے حالات سے مجبور ہو کر اپنے آپ کو نکاح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص عرض کرنے لگا اگر آپ آمادہ نہیں تو میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تیرے پاس حق مہر کے لیے کچھ ہے ؟ اس نے عرض کیا یہ چادر جو میں نے لپیٹ رکھی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ فرمایا کہ چادر اپنے پاس رکھو اور حق مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ۔ کوشش کے باوجود اسے انگوٹھی بھی میسر نہ ہوسکی۔ وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ آپ پوچھتے ہیں کہ تجھے قرآن مجید یاد ہے ؟ تو اس نے عرض کی کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سورتیں حق مہر کے طور پر اپنی بیوی کو یاد کروا دینا۔ [ بخاری : کتاب النکاح، باب تزویج المعسر ]
ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا :
( أَلَا لَاتُغَالُوْا صَدْقَۃَ النِّسَاءِ فَإِنَّھَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِي الدُّنْیَاأَوْ تَقْوٰی عِنْدَ اللّٰہِ لَکَانَ أَوْلَاکُمْ بِھَا نَبِيُّ اللّٰہِ ﷺ مَاعَلِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَکَحَ شَیْءًا مِّنْ نِّسَاءِہٖ وَلَاأَنْکَحَ شَیْءًا مِنْ بَنَاتِہٖ عَلٰی أَکْثَرَ مِّنْ ثِنْتَيْ عَشْرَۃَ أُوْقِیَّۃً ) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب منہ ]
” خبردار ! عورتوں کے حق مہر بڑھا چڑھا کر مقرر نہ کیا کرو۔ اگر یہ بات عظمت اور تقو ٰی کا باعث ہوتی تو رسول کریم ﷺ اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی کسی بیوی یا بیٹی کا حق مہر بارہ تولے چاندی سے زیادہ نہیں تھا۔ “
حضرت عمر ؓ کے فرمان کا مقصد حق مہر میں اعتدال قائم رکھنے کی طرف توجہ دلانا تھا۔ اس کے باوجود کسی شخص کو عورتوں کے حق مہر کی رقم متعین کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اسی لیے حضرت عمر کے خطبہ کے دوران ایک عورت نے کہا تھا کہ امیر المومنین آپ حق مہر کی رقم مقرر نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قنطار کا لفظ استعمال فرما کر حق مہر کے مسئلہ کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اگر کوئی آدمی حق مہر میں خزانہ بھی دینا چاہے تو کوئی حرج نہیں امیر المومنین نے اس عورت کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ عورت کو مسئلہ یادرہا اور مجھ سے خطا ہوئی۔[ عون المعبود ]
مسائل
1۔ عورتوں کے حق مہر ادا کرنے چاہییں عورت خود معاف کر دے تو اسے اچھے طریقے سے کھانا چاہیے تھا۔
2۔ حق مہر مقرر کرتے وقت اعتدال قائم رکھنا چاہیے۔
Ayahs 4:5–6فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ فرامین میں یتامیٰ اور عورتوں کے مالی حقوق کی ادائیگی کا حکم تھا۔ اب فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال واپس لوٹاتے ہوئے اچھی طرح اندازہ کرلو کہ کہیں وہ ناتجربہ کاری یا صغر سنی کی وجہ سے اپنا مال ضائع نہ کربیٹھیں۔
قرآن مجید نے دوسری آزمائشوں کے ساتھ مال کو بھی آدمی کے لیے ایک بڑی آزمائش اور فتنہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رزق حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل ‘ نعمت ‘ زندگی کا لازمہ اور اسے تقویت کا باعث ٹھہرایا ہے۔
یتیموں کے لیے بالخصوص مال سہارا اور تقویت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ ان کی جائیداد کا بھی کوئی دوسرا نگران ہوتا ہے۔
یہاں یتیموں کے سر پرست کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ان کے مال کو اپنا تصور کرتے ہوئے اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور جب تک یتیم میں فہم و شعور اور مال سنبھالنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو۔ اس وقت تک ان کا سرپرست ان کے مال سے ان کے کھانے پینے اور پہننے کا انتظام کرتا رہے۔ ان کی طرف سے اگر کوئی مطالبہ یا غلط فہمی پیدا ہو تو نہایت محبت اور پیار کے ساتھ ان کو بہلاتا اور سمجھاتا رہے۔ یہاں تک کہ یتیم اپنا مال سنبھالنے کے قابل ہوجائے۔ یتیموں کے لیے ناسمجھ کا لفظ دو وجہ سے استعمال ہوا ہے۔ ایک تو یہ مال کی حفاظت اور اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نو عمر اور یتیم ہونے کی وجہ سے یہ لوگوں کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر اپنے سر پرست اور خیر خواہ سے اکثر بدظن ہو کر مال واپس لے کر اسے ضائع کر بیٹھتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
(أَلَا مَنْ وَلِيَ یَتِیْمًا لَہٗ مَالٌ فَلْیَتَّجِرْ فِیْہِ وَلَا یَتْرُکْہٗ حَتّٰی تَأْکُلَہٗ الصَّدَقَۃُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی الزکاۃ من مال الیتیم ]
” خبردار ! جو کسی یتیم کا سرپرست بنے اور یتیم کے پاس مال ہو تو وہ اس کے مال کو کاروبار میں لگائے۔ کہیں آہستہ آہستہ زکوٰۃ سے اس کا مال ختم نہ ہوجائے۔ “
یتیموں کے مال کی حفاظت کے پیش نظر یہ اصول بھی قائم فرمایا کہ جب تک وہ بالغ نہ ہوجائیں اور ان میں مالی معاملات سمجھنے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت پیدا نہ ہوجائے۔ ان کا مال اس وقت تک نہیں لوٹانا چاہیے جب وہ شعور کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کا مال لوٹاتے ہوئے اس پر گواہ بنالینے چاہییں تاکہ جس آدمی نے سر پرستی کی صورت میں ان کی خدمت کی ہے وہ ہر قسم کے الزامات سے محفوظ رہ سکے۔
سر پرست کو یہ حکم بھی دیا کہ اگر وہ امیر ہے تو یتیموں کے مال کی نگرانی اور سرپرستی کے عوض ان کے مال سے کچھ نہ لے اور اگر اس کی اپنی گزران تنگ ہے تو مناسب طریقے سے اس میں سے کھا سکتا ہے۔ یتیم اور ان کے سرپرست کو ہر دم خیال رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حساب و کتاب کو خوب جانتا ہے اور اس کے ہاں تمام معاملات لکھے اور پیش کیے جاتے ہیں اور قیامت کے دن پائی پائی کا حساب لے گا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مال کو لوگوں کے لیے استحکام کا ذریعہ بنایا ہے۔
2۔ یتیموں سے نرم لہجے میں پیش آنا چاہیے۔
3۔ یتیموں کا مال کھانا منع ہے۔
4۔ یتیموں کو آزمانے اور ان میں سمجھداری دیکھنے کے بعد ان کا مال ان کے سپرد کرنا چاہیے۔
5۔ یتیموں کا کفیل مالدار ہو تو اسے ان کے مال سے کچھ نہیں لینا چاہیے۔
6۔ یتیموں کا کفیل تنگ دست ہو تو معروف طریقے سے ان کے مال میں سے کھا سکتا ہے۔
7۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا حساب لینے کے لیے کافی ہے۔
Ayahs 4:7–10فہم القرآن
ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔
قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔
1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔
2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔
3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔
4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔
اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت ‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اوراقرباء چھوڑ جائیں اس میں شریعت کے مقرر کردہ قریبی رشتہ داروں کا حصہ ہے۔ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حصہ ہر کسی کو ملنا چاہیے۔ اخلاقی قدروں کا خیال رکھتے ہوئے یہ بھی حکم دیا کہ تقسیم کے وقت غریب رشتہ دار ‘ یتیم اور مسکین اگر موجود ہوں وہ جائیداد میں حصہ دار تو نہیں لیکن انہیں کھانے پینے کے لیے کچھ ضرور دینا چاہیے۔
ان کی حاضری کو گراں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ منفی رویہ اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مروّت اور اچھے انداز میں گفتگو کی جائے۔ اس کے بعد فوت ہونے والوں کو تلقین فرمائی کہ وہ مرنے کے قریب اس طرح شاہ خرچ نہ بنیں جس سے ان کے چھوٹے چھوٹے بچے مالی طور پر کنگال ہوجانے کی وجہ سے دوسروں کے دست نگر ہوجائیں۔
کچھ مفسّرین نے یہ حکم میّت کے لواحقین پر لاگو کیا ہے کہ انہیں یتیموں کے ساتھ تلخ رویّہ اور ان کے مال میں زیادتی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو اس حالت میں چھوڑ جائیں تو ان کے کیا احساسات ہوں گے ؟ لہٰذا یتیموں کے ساتھ گفتگو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجہ میں کرنا چاہیے۔ وراثت کا مسئلہ شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر یتیموں کے بارے میں حکم دیا ہے کہ ان کا مال ظلم کے ساتھ نہ کھاؤ۔ یہ کھلم کھلا پیٹ میں آگ کے انگارے ڈالنے کے مترادف ہے۔ یتیم کا مال کھانے والے عنقریب جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔ وہاں ان کے آگے پیچھے اور اوپر نیچے آگ ہی آگ ہوگی۔
حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ فتح مکہ کے موقع پر سخت بیمار ہوئے۔ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کی کہ میرے پاس بہت سا مال ہے ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں اجازت عنایت نہ فرمائی۔ پھر انہوں نے نصف کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی تو آپ نے یہ فرماکر اجازت دی کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑناان کو محتاج چھوڑنے سے کہیں بہتر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض، میراث البنات ]
مسائل
1۔ مردوں کے لیے ان کے والدین اوراقرباء کے ترکہ میں حصہ ہے۔
2۔ عورتیں بھی اپنے والدین اوراقرباء کی وراثت میں حصے دار ہیں۔
3۔ وراثت تقسیم کرتے وقت یتیموں اور مسکینوں کو کچھ نہ کچھ کھلانا پلانا چاہیے۔
4۔ وراثت کے بارے میں واضح ہدایت دینا چاہیے۔
5۔ یتیموں کا مال زیادتی کے ساتھ کھانے والے آگ کے انگارے نگلتے ہیں۔
6۔ یتیموں کا مال کھانے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔
Ayahs 4:11–12فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔
اس آیت کا شان نزول حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی محترم ﷺ کے ساتھ ہمارا گزر ایک بازار میں ہوا۔ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ثابت بن قیس ؓ کی بچیاں ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا چچا ان کی میراث پر قبضہ کرچکا ہے اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس معاملہ میں آپ کیا حکم صادر فرماتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اگر وراثت واپس نہ ہوئی تو ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی شخص نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نازل فرمائیں گے۔ اس کے بعد یہ فرمانِ الٰہی نازل ہوا۔[ رواہ ابوداؤد کتاب الفرائض ] اس میں نہایت مختصر مگر کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ مرنے والے کے بعد اس کی جائیداد کا وارث کون کون اور کس حساب سے ہوگا ؟ اس میں بیک وقت موروثی معاملات کو نمٹانے کے ساتھ محروم طبقات کا تحفظ، جاگیر داری نظام کا خاتمہ اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے کی بجائے اس کی اس طرح تقسیم کردی گئی ہے کہ ” حقدار راحق رسید “ کا قانون منہ بولتا دکھائی دیتا ہے۔ جائیداد کی تقسیم کا فارمولہ مرد کے بجائے عورت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ حکم ہے ” لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ “ جس میں عورت کے مالی حقوق کو فوقیت دی گئی ہے۔ یہی حکمت اس سورة مبارکہ کے نام ” النساء “ سے معلوم ہوتی ہے تاکہ عورتوں کے اخلاقی ‘ معاشی اور معاشرتی حقوق نمایاں کیے جائیں۔ وراثت کی تقسیم سے قبل تین بنیادی باتوں کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے ان سے پہلے وراثت تقسیم کرنا جائز نہیں۔ فوت ہونے والے کے کفن دفن کا انتظام کرنا، اس کے ذمہ قرض ہو تو وراثت سے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا۔ مرنے والے نے اگر شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے مال کے بارے میں صدقہ کرنے کی وصیت کی ہو تو اس پر عمل درآمدکرانا ورثاء پر ضروری ہے کیونکہ اس فرمان سے پہلے عورتوں کے حقوق اور ان کے بارے میں عدل و انصاف کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سے ان لوگوں کا پروپیگنڈہ بےوجہ ثابت ہوتا ہے جس میں یہ تأثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حاکم بدہن اسلام نے عورت کے مالی حقوق کا چنداں خیال نہیں کیا۔ حالانکہ تعمق نگاہی سے دیکھا جائے تو اسلام ہی فقط ایک دین ہے جس میں عورتوں کو اخلاقی، سماجی اور خاندانی اعتبار سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے مالی حقوق کا پورا اور مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ اسلام کے قانون وراثت کے تحت بسا اوقات ایک عورت مختلف انداز میں تین رشتوں سے اپنا حصہ وصول کرتی ہے اس کے باوجود عورتوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جہیز کے بہانے اس کو اصل وراثت سے محروم کرنا بالخصوص یتیم بچیوں کو اپنی سرپرستی میں اس لیے لینا کہ شادی کے بعد ان کی جائیداد پر قبضہ کرنا آسان ہو۔ بعض لوگ ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ جس سے وراثت میں حصہ دار بہنیں باہمی تلخی کے خوف اور بھائیوں سے تعلقات استوار رکھنے کی خواہش میں اپنا حصہ معاف کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ایسی معافی سے قانون کے نفاذ سے تو بچا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخروئی حاصل کرنا مشکل ہوگی۔
قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعدورثاء میں تقسیم
(1) اولاد (2) والدین (3) خاوند (4) زوجہ (5) بہن بھائی۔
اولاد :
1۔ لڑکیاں لڑکے ملے جلے ہوں تو لڑکے کو لڑکی کے حصے سے دوگنا ملے گا (لِلذَّکَرِ مِثْلُ ۔۔ )
2۔ صرف لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو ان کو کل مال کا دو تہائی ملے گا۔ (فَإِنْ کُنَّ نِسَاءً فَوْقَ ۔۔ )
3۔ اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہی ہو تو کل مال کا نصف اسے ملے گا۔ (وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً ۔۔ )
والدین :
1۔ میت کے والدین بھی ہوں اور اولاد بھی تو ماں باپ دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا۔ (وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ ۔۔ )
2۔ میت کے والدین ہوں اور اولاد نہ ہو تو ماں کو کل مال کا تیسرا حصے ملے گا۔ (فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗ )
3۔ وارثوں میں میت کے والدین کے ساتھ اولاد تو نہ ہو لیکن دو سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی باپ کو) ۔ (فَإِنْ کَانَ لَہٗ إِخْوَۃٌ۔۔ ) (یا اس کو درج ذیل طریقہ کے مطابق سمجھیں )
صرف ماں کے حصے :
1۔ میت کی اولاد ہو (صرف مذکر کی شرط ہے) تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔ (وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ ۔۔ )
2۔ میت کی اولاد نہ ہو تو ماں کو تیسراحصہ ملے گا۔ (فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ۔۔ )
صرف باپ کے حصے :
1۔ میت کی اولاد ہو تو باپ کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔ (وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ ۔۔ )
2۔ میت کی اولاد نہ ہو تو باپ عصبہ کی صورت میں باقی ماندہ مال لے گا۔ (فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ۔۔ )
3۔ جب میت کی بیٹی، پوتی وغیرہ نیچے تک کوئی موجود ہو تو باپ صاحب فرض اور عصبہ ہونے کے لحاظ سے وارث بنے گاْ ۔
خاوند :
1۔ بیوی کی اگر کوئی اولاد اس خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے نہ ہو تو خاوند کو کل ترکے کا نصف ملے گا۔ (وَلَکُمْ
نِصْفُ مَاتَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ ۔۔ )
2۔ اگر بیوی کی اس سے یا پہلے خاوند سے کوئی اولاد ہو تو خاوند کو اس کے کل ترکے سے چوتھا حصہ ملے گا۔ (فَإِنْ
کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ ۔۔ )
بیوی :
1۔ خاوند کی اگر کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کو کل مال کا چوتھا حصے ملے گا۔ (وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا۔۔ )
2۔ خاوند کی اگر کوئی اولاد ہو تو بیوی کو کل مال کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ (فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ ۔۔ )
بہن، بھائی :
1۔ میت کی اولاد در اولاد اور باپ دادا وغیرہ نہ ہوں اور ماں کی طرف سے ایک بہن یا ایک بھائی وارث بن رہا ہو تو اسے کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا مذکر و مونث کی تمیز نہ ہوگی۔ (وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلَالَۃً ۔۔ )
2۔ میت کی اولاد در اولاد اور باپ دادا وغیرہ نہ ہوں اور ماں کی طرف سے بہن بھائی یا ایک سے زیادہ ہوں تو ان تمام کو کل مال کا تیسرا حصہ دیا جائے گا، مذکر و مونث اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ (فَإِنْ کَانُوْا أَکْثَرَ مِنْ ۔۔ )
نوٹ :
1۔ اولاد ہونے کی صورت میں پوتے پوتی کو کچھ نہ ملے گا۔
2۔ باپ کی موجودگی میں دادا کو کچھ نہ ملے گا اگر باپ نہیں تو دادا باپ والا حصہ لے گا۔
3۔ صرف اولاد یا صرف باپ یا اولاد اور باپ کی موجودگی میں میت کے بہن بھائی کو کچھ نہیں ملے گا۔
4۔ صرف باپ یا ماں باپ کی طرف سے بہن بھائیوں کی وراثت کا بیان سورة کی آخری آیت میں آئے گا۔
مسائل
1۔ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔
2۔ صرف لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں دو تہائی دیا جائے گا۔
3۔ صرف ایک لڑکی وارث ہونے کی صورت میں اسے آدھا مال ملے گا۔
4۔ میت کے متروکہ مال میں ماں باپ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہوگا۔
5۔ میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کی ماں تیسرے حصے کی وارث ہوگی۔
6۔ مرنے والے کے بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہوگا۔
7۔ فوت ہونے والی بیوی کی اولاد نہ ہو تو خاوند کو نصف حصہ ملے گا۔
8۔ مرنے والی کی اولاد ہو تو خاوند کا چوتھا حصہ ہوگا۔
9۔ آدمی کی اولاد نہ ہو تو اس کی بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا۔
10۔ فوت ہونے والے کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کا آٹھواں حصہ ہوگا۔
11۔ فوت ہونے والے مرد یا عورت کی اولاد، ماں باپ اور دادی دادا نہ ہوں تو بھائی اور بہن (ماں جائے) ہونے کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔
12۔ کلالہ کے بہن بھائی (ماں جائے) زیادہ ہوں تو وہ تیسرے حصے کے حق دار ہوں گے۔
13۔ یہ تقسیم کفن دفن اور قرض کی ادائیگی اور میت وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی۔
Ayahs 4:13–15فہم القرآن
ربط کلام : ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے احکام کو اپنی حدود قرار دینے کے بعداسکے ماننے والوں کو جزا اور نہ ماننے والوں کو سزا سنائی ہے۔
ان آیات میں ماں باپ، اولاد اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے درمیان میّت کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیداد کی وراثت کے بارے میں اصول متعین کر کے انہیں میت کا وارث بنایا گیا۔ لیکن حدیث میں کچھ جرائم کے مرتکب افراد کو بعض حالتوں میں وراثت سے محروم کردیا گیا ہے۔ جن میں سر فہرست مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا یعنی ایک آدمی پہلے کافر تھا اب مسلمان ہوا لہٰذانئے دین میں شامل ہونے کی وجہ سے دوسرے دین کے حامل کا وارث نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص پہلے مسلمان تھا بد قسمتی سے عیسائی ‘ یہودی یا کسی اور مذہب میں داخل ہوگیا تو وہ بھی وراثت کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض ]
2۔ باپ کا قاتل بیٹا ہو یا بیٹی وہ وراثت سے محروم ہوجائیں گے۔
3۔ قاتل اگر مقتول کی وراثت میں حصہ دار ہے تو قتل عمد کی صورت میں وہ بھی اپنے حصہ سے محروم ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
(إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ کَالرَّاعِيْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ )
[ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحَلال وترک الشبھات ]
” یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی ان کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں واقع ہوا وہ حرام میں داخل ہوگیا۔ یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو چراگاہ کے قریب جانور چراتا ہے ہوسکتا ہے وہ جانور چراگاہ میں چرنا شروع ہوجائیں۔ خبردار ! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو ! یقیناً جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ فاسد ہو تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے یاد رکھنا ! وہ دل ہے۔ “
اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رکھنے والے کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ در حقیقت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ دنیا میں اس نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی لذّت اور مفاد کو چھوڑا۔ آخرت میں اس کا بدلہ جنت ہے جس میں نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی جس نے حدود اللہ کا لحاظ اور احترام نہ رکھا وہ حقیقت میں باغی انسان ہے جس کو جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونکا جائے گا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اس کو اذیتّ ناک اور ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔
تاہم رسول اللہ ﷺ نے حدود اللہ اور کبیرہ گناہ کے بارے میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ موحّد ہونے کی صورت میں تزکیہ یعنی سزا بھگتنے کے بعد اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا :
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَدْخُلُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَأَھْلُ النَّار النَّارَ ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِیْمَانٍ فَیُخْرِجُوْنَ مِنْھَا قَدِ اسْوَدُّوْا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ جَانِبِ السَّیْلِ أَلَمْ تَرَ أَنَّھَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِیَۃً )
[ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب تفاضل أھل الإیمان فی الأعمال ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جنت والے جنت اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آگ سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے۔ فرشتے آگ سے لوگوں کو نکالیں گے جو جل کر سیاہ ہوچکے ہوں گے انہیں نہر حیات میں غسل دیا جائے گا وہ ایسے نمو پائیں گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ بہترین حالت میں اگتا ہے۔ “
مسائل
1۔ وراثت کے مسائل اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے کو جنت نصیب ہوگی۔
3۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرنے والے کو ذلیل ترین عذاب ہوگا۔
Ayah 4:16فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی اور معاشی استحاصل ختم کرنے کے احکامات کے بعد اخلاقی بےراہ روی کے خاتمہ کا حکم۔
نزول اسلام سے پہلے روم ‘ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ عرب معاشرہ میں ایک طبقہ پرلے درجے کی بےحیائی ‘ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا تھا۔ بعض شہروں میں جن میں مدینہ بھی شامل تھا باقاعدہ فحاشی کے اڈے قائم ہوچکے تھے۔ بےحیائی کا ارتکاب کرنے والی عورتیں اپنے گھروں پر جھنڈا نما کپڑا لٹکا یا کرتی تھیں تاکہ بےحیالوگ آسانی کے ساتھ راغب ہو سکیں۔ یہ دھندہ کنواری عورتیں ہی نہیں بلکہ شادی شدہ عورتیں بھی کیا کرتی تھیں۔ اسلام نے اس بےحیائی کو روکنے اور ایسے مقدّمات کی تحقیق کے لیے ایک نظام اور طریق کار وضع فرمایا کہ جرم ثابت ہونے پر پہلے نسبتاً ہلکی سزا تجویز کی گئی کہ اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت بد کاری کا ارتکاب کرے تو اس پر چار عادل گواہ پیش کیے جائیں جو صرف عادل مردوں سے ہونے چاہییں اگر وہ اسلامی تقاضوں کے مطابق ٹھیک ٹھیک گواہی دیتے ہیں تو پھر ایسی عورتوں کو ان کے گھروں میں اس وقت تک محصور رکھا جائے جب تک اللہ تعالیٰ کوئی اور حکم نازل نہیں فرماتے یا پھر انہیں اس حالت میں موت آجائے۔
اس سے اگلی آیت میں ہم جنسی کرنے والے دو مردوں کی سزا بیان کی ہے کہ انہیں اس جرم کے بدلے اذیّت دی جائے۔ اگر وہ تائب ہوجائیں اور اپنی اصلاح کا وعدہ کریں تو پھر انہیں چھوڑ دیا جائے یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ بعد میں اس سزا میں اضافہ کیا گیا کہ شادی شدہ زانی مرد ہو یا عورت اسے سنگسار کیا جائے اور غیر شادی شدہ مرد ہو یا عورت اسے سو کوڑے مارے جائیں۔
اس کی تفسیر سورة نور میں آئے گی۔ ان شاء اللہ۔
قرآن مجید نے یہاں ” وَالَّذَانِ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے اہل علم نے دو معانی کیے ہیں۔
1 وَالَّذَان اسم موصول مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے مؤنث کا مذکر کے تابع ہونے کی وجہ سے یہاں مذکر اشارۃً لایا گیا ہے اس لیے بعض اہل علم نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” وَالَّذَانِ “ کا معنیٰ ہے مرد اور عورت یعنی غیر شادی شدہ۔
2” دو مردوں کا آپس میں ہم جنسی کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ قوم لوط کا فعل ہے جن کو اس جرم کی پاداش میں زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر الٹا پھینکا گیا پھر ان لوگوں پر آسمان سے سنگ باری کی گئی۔ “ قرآن میں ان کے جرم اور اس کی سزا الاعراف آیت 80 تا 84 کی تلاوت کریں۔
مسائل
1۔ بدکاری کے ثبوت کے لیے چار گواہ ہونے چاہئیں۔
2۔ ہم جنسی جرم ہے۔
3۔ اللہ توبہ قبول فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہم جنسی کرنے والوں کی سزا :
1۔ ہم جنسی کی ابتدا قوم لوط نے کی۔ (الاعراف : 80)
2۔ ہم جنسی کی سزا۔ (الاعراف : 84)
بدکاری کی سزا :
1۔ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا حکم۔ (مسلم : کتاب الحدود)
2۔ کنوارے زانی مرد وزن کو سو کوڑے مارنے کا حکم۔ (النور : 2)
3۔ تہمت لگانے والے کی سزا۔ (النور : 4)
Ayahs 4:17–18فہم القرآن
ربط کلام : اخلاقی بےراہروی کی سزا اور اس کی توبہ اور اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی توبہ قبول ہوگی اور جن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بیشمار لطافتیں اور حکمتیں ہیں ان میں یہ بھی حکمت ہے کہ یہ محض قانون اور ضابطوں کی کتاب نہیں کہ جس میں پھیکا پن، جرم کی تفصیل اور صرف سزاؤں کا تذکرہ ہو قرآن مجید کی لطافت و بلاغت یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور سزا کو محض ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ اسے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر بیان اور نافذ کرتا ہے۔ بدکار لوگوں کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد توبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ جہالت سے سرزد ہونے والے گناہ کے فوراً بعد توبہ کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ البتہ ان لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی جو پے در پے گناہ کرتے رہے یہاں تک کہ موت نے انہیں آلیا یا وہ کفر کی حالت میں مرے ان کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کیا گیا ہے۔
جہالت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد حضرت عکرمہ ؓ فرمایا کرتے تھے جو کام بھی اللہ تعالیٰ کی تابعداری سے خارج ہو وہ جہالت تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا جس شخص سے گناہ سرزد ہو اسے فوراً توبہ کرنی چاہیے۔
توبہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات
1۔ توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور ہر شخص کی توبہ نزع کے وقت سے پہلے قبول ہوسکتی ہے۔ نزع سے مراد موت کی وہ گھڑی ہے جب مرنے والے کو دنیا کی بجائے آخرت نظر آنے لگتی ہے۔
2۔ (کُلُّ بَنِيْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّآءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ]
” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔ “
3۔ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ ) [ احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی ﷺ ]
” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ “
4۔ ( اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد ]
” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔ “
توبہ کی شرائط :
توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر نادم، آئندہ رک جانے کا عہد اور گناہ کے اثرات کو مٹانے کی کوشش کرے۔
مسائل
1۔ جہالت کی وجہ سے گناہ کرنے والا توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔
3۔ موت کے وقت توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
4۔ کفار کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر بالقرآن
کس کی توبہ قبول نہیں ہوتی :
1۔ موت کے وقت توبہ قبول نہیں۔ (النساء : 18)
2۔ فرعون کی غرق ہونے کے وقت توبہ قبول نہیں ہوئی۔ (یونس : 91، 90)
3۔ عذاب کے وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ (المومن : 85)
4۔ مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ (البقرۃ : 217)
Ayah 4:19فہم القرآن
ربط کلام : بدکاری کی سزا اور اس کی توبہ کے بیان سے پہلے عورتوں کے حقوق کا ذکر ہو رہا تھا اب اس کا تسلسل بحال ہوتا ہے۔
عورتوں کے بارے میں عربوں کی جہالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ وہ عورت کو منڈی کا مال سمجھتے تھے۔ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو نہ صرف وہ اپنی وراثت سے محروم ہوتی بلکہ مرنے والے کے وارث اس عورت کو اپنی ملک سمجھتے ہوئے اس سے من مرضی کا سلوک کرتے جس کی چار صورتیں تھیں۔
1۔ بیوہ کو جبراً نکاح میں لینا یہاں تک کہ بعض قبائل میں لوگ اپنی سوتیلی والدہ کو بیوی بنا لیا کرتے تھے۔
2۔ عورت کو طلاق دینے کے باوجود آگے نکاح کرنے سے روکنا۔
3۔ عورت کی جائیداد اور حق مہر پر قبضہ کرنا۔
4۔ ذاتی اور قومی عصبیت کی بنیاد پر بیوہ یا مطلقہ کو نکاح سے روکنا۔
یہاں صرف ایک صورت میں عورت کا حق مہر لینے کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی انتہاء درجے کی گستاخ ہو یا اس نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہو تو ایسی صورت میں خاوند کو حق ہے کہ وہ سزا کے طور پر اس کا حق مہر ضبط کرلے۔ اس آیت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ان میں اگر کوئی عادت تمہیں پسند نہیں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیوی کی وجہ سے تمہیں خیر کثیر عطا فرمائے۔ خیر کثیر سے مراد نیک اولاد، بیوی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رزق میں برکت اور عزت میں اضافہ فرمادے اور بیوی خاوند کی خیرخواہ ہو اور اپنی اولاد کی تربیت کا خصوصی خیال رکھنے والی ہو۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَیْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاہُ فَإِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَإِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ )
[ رواہ البخاری : کتاب أَحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم وذریتہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ یہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر والی ہوتی ہے اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے تو اسے توڑ دے گا اور اگر تو اسے چھوڑ دے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ “
(عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَھَا وَصَامَتْ شَھْرَھَا وَحَفِظَتْ فَرْجَھَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَھَا قِیْلَ لَھَاادْخُلِي الْجَنَّۃَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِءْتِ )
[ مسند احمد : کتاب منسد العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب حدیث عبدالرحمن بن عوف ]
” حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عفت کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا کہ تو جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجا۔ “
مسائل
1۔ عورتوں کی وراثت پر قبضہ کرنا حرام ہے۔
2۔ عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا :
1۔ بیویوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (النساء : 19)
2۔ بیویوں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (الطلاق : 6)
3۔ حق زوجیت ادا کیا جائے۔ (النساء : 3)
4۔ حق مہر خوشی سے ادا کرنا چاہیے۔ (النساء : 4)
5۔ حق مہر واپس نہیں لینا چاہیے۔ (النساء : 20)
6۔ بچے کی وجہ سے ماں ‘ باپ کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ : 233)