Ayah 4:113فہم القرآن
ربط کلام : خطاب جاری ہے۔
پہلے بیان ہونے والے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! اگر اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان میں سے ایک گروہ نے تمہیں عدل و انصاف کے راستے سے ہٹا دینے کا پکا منصوبہ بنا لیا تھا۔ اگر آپ ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ صادر فرما دیتے تو اس سے آپ کی سیرت پر حرف گیری ہوتی اور عدل و انصاف کا ترازو جھک جاتا۔ تاہم آپ کی ذات اقدس کا حقیقتاً نقصان نہ ہوتا کیونکہ آپ نے ظاہری شواہد کے مطابق فیصلہ کرنا تھا۔
معلوم ہوا کہ اگر جج سے غلط معلومات اور جھوٹی شہادتوں کے ذریعے ناحق فیصلہ کروالیا جائے تو وہ عنداللہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ آدمی کو شعوری اور لاشعوری طور پر ہونے والے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ لیکن سچ کو جھوٹ بنانے اور دوسروں پر الزام لگانے والے مجرم دنیا اور آخرت میں ضرور نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بروقت اس واقعہ کی حقیقت بتائی اور کتاب و حکمت عطا فرما کر وہ کچھ سکھلا دیا جو آپ اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ کسی شخص کو اللہ کی طرف سے کسی غلطی پر بروقت رہنمائی ہونا اس کا بڑا ہی فضل ہوا کرتا ہے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہوا کہ دنیا اور آخرت میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہوگا ” مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ “ کے الفاظ سے ان لوگوں کے باطل عقیدہ کی نفی ہوتی ہے جو آپ کی ذات کے بارے میں یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ آپ جو ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ جانتے تھے جیسا کہ ایک مکتبہ فکر کے ترجمان نے ابن جریر کے ضعیف قول سے اپنے عقیدے کو تقویت دینے کی ناکام کوشش کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ماکان اور ماھُوْکَاءِنْ کا علم عطا فرمایا گیا تھا پھر انہوں نے مسلم شریف کی حدیث سے غلط مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب کچھ جانتے تھے حالانکہ خود ہی لکھتے ہیں :
” قرآن مجید نے کئی موقعوں پر آپ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کی نفی کی ہے یہاں تک آپ کے بارے میں سورة الشورٰی میں فرمایا کہ اسی طرح ہم نے بذریعہ وحی بھیجا آپ کی طرف ایک جانفزا کلام اپنے حکم سے نہ آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔ لیکن ہم نے بنا دیا اس کتاب کو (سراپا) نور ہم ہدایت دیتے ہیں اس کے ذریعہ جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں سے۔ اور بلاشبہ آپ رہنمائی فرماتے ہیں صراط مستقیم کی طرف۔ “
(قُلْ لَّآ أَمْلِکُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَّا ضَرًّا إِلَّا مَاشَآء اللّٰہُ ط وَلَوْ کُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ ج وَمَامَسَّنِيَ السُّوْٓءُ ج إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) [ الأعراف : 188]
” آپ کہہ دیجیے کہ ” مجھے خود اپنے نفع یا نقصان کا اختیار نہیں مگر اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ایک ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں، ان کے لیے جو ایمان لے آئیں۔ “
(وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُھَا إِلَّاھُوَط وَیَعْلَمُ مَافِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ إِلَّا یَعْلَمُھَا وَلَاحَبَّۃٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْأَرْضِ وَلَارَطْبٍ وَّلَایَابِسٍ إِلَّا فِيْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ ) [ الانعام : 59]
” اور غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحرو بر میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے اور کوئی پتہ تک نہیں گرتا جسے وہ نہ جانتا ہو نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو اور تر اور خشک جو کچھ بھی ہو سب کتاب مبین میں موجود ہے۔ “
مسائل
1۔ دوسرے کو گمراہ کرنے والا خود گمراہ اور نقصان میں رہتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتاب و حکمت عطا فرمائی اور وہ کچھ سکھلایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
نبی محترم ﷺ کے خلاف سازشیں :
1۔ نبی ﷺ کو قتل اور ملک بدر کرنے کی سازش۔ (الانفال : 30)
2۔ نبی ﷺ کو اللہ کی ہدایت سے پھیر دینے کی سازش۔ (البقرۃ : 109)
3۔ منافقین کی سازش مسجد ضرار۔ (التوبہ : 107) (مزید دیکھیے البقرہ 105)
Ayah 4:114فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے کردار کے مختلف پہلوبیان کرنے کے ساتھ ان کی مجالس میں ہونی والی سازشوں کو طشت ازبام کیا ہے۔
برے لوگوں کی مجالس بھی اکثر طور پر بری ہی ہوا کرتی ہیں۔ خاص کر ان کی خفیہ مجالس کبھی شر سے خالی نہیں ہوا کرتیں۔ ایسے لوگ برائی، بےحیائی، چوری چکاری، سازش اور شرارت کے لیے ہی سوچ و بچار کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے لوگوں کی مجلس کو لوہار کی بھٹی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
(عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّآ أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًاطَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّآ أَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًاخَبِیْثَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ]
” حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی میں پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا تم اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے اور بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تو اس سے بری بو محسوس کرے گا۔ “
قرآن مجید نے ایسی مجالس کو خیر سے خالی قرار دیا ہے۔ سوائے اس کے جن میں صدقہ و خیرات، اچھے کام اور لوگوں کی فلاح اور اصلاح کے بارے میں کوئی پروگرام ترتیب دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں اس آیت میں باہم مل بیٹھنے اور مجالس کی غرض وغایت کا اشارہ دیا ہے کہ برے لوگوں کو مل کر سازش اور شرارت کے منصوبے بنانے کے بجائے نیکی اور خیر کے پروگرام ترتیب دینے چاہییں یہ پروگرام محض نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی مطلوب ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقعہ پر چوراہوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا تو صحابہ ؓ نے سماجی اور معاشرتی مجبوریوں کا ذکر کیا آپ نے ہدایت فرمائی کہ اگر تمہارے لیے چوراہوں میں بیٹھنا ناگزیر ہو تو تمہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بالطُّرُقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَالَنَا بُدٌّ مِنْ مَّجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِیْھَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَآ أَبَیْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ قَالُوْا وَمَا حَقُّہٗ ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذٰی وَرَدُّّ السَّلَامِ وَ الْأَمْرُ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ )
[ رواہ مسلم : کتاب السلام، باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا رستوں اور چوراہوں میں بیٹھنے سے بچا کرو۔ صحابہ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! بیٹھنا ہماری مجبوری ہے ہم وہاں تبادلہ خیال کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر تمہارا بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کیا کرو۔ صحابہ نے اس کا حق پوچھا تو آپ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔ “
مسائل
1۔ بےدین لوگوں کی اکثر مجالس خیر سے خالی ہوتی ہیں۔
2۔ مجالس میں لوگوں کی فلاح و بہبود اور اچھے کاموں کی مشاورت ہونی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کام کرنے والا بڑا اجر پائے گا۔
تفسیر بالقرآن
یہود و نصارٰی اور کفار کی مجالس :
1۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے دوغلی پالیسی اختیار کرنا۔ (البقرۃ : 14)
2۔ نئے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے سازشیں کرنا۔ (آل عمران : 73)
3۔ مسلمانوں کو ارتداد کی طرف لانے کے لیے کوششیں اور منصوبے بنانا۔ (البقرۃ : 217)
4۔ زمین میں فساد کرنے کی کوشش کرنا۔ (البقرۃ : 205)
5۔ یہود و نصارٰی کی سرگرمیاں۔ (المجادلۃ : 8)
Ayah 4:115فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو لوگوں کے لیے رہنما اور مقتدا بنا کر بھیجا ہے۔ رسول محترم ﷺ کی پیروی اور اتباع کو اپنی اتباع قرار دیا، اپنی محبت اور بخشش کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ اس لیے جلوت اور خلوت میں رسول کی اتباع ہر مسلمان پر فرض ہے۔
جو شخص یا جماعت رسول کی ہدایت اور سنت سامنے ہونے کے باوجود رسول معظم ﷺ کی پیروی سے انحراف اور صحابہ کرام کے طریقہ کو چھوڑتے ہیں وہ لوگ جدھر چاہیں اور جس طرح چاہیں منہ اٹھا کر چل نکلیں وہ جہنم میں ہی گرنے والے ہیں جو بدترین جائے قرار ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کے ساتھ صحابہ کی اتباع کا بھی حکم دیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے رسالت مآب ﷺ سے براہ راست رہنمائی اور فیض حاصل کیا۔ البقرۃ آیت 13 اور آیت 137 میں ان کے ایمان کو ہمیشہ کے لیے مثال اور نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (فَإِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ آمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا) [ البقرۃ : 137] ” اگر وہ تمہارے یعنی صحابہ جیسا ایمان لے آئیں تو یقیناً وہ ہدایت سے سر فراز ہوجائیں گے “
اس لیے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کام پر صحابۂ کرام ؓ کا اجماع ہو۔ وہ امت کے لیے دلیل اور واجب اتباع ہوگا۔ بعض لوگ حدیث رسول ﷺ اور اجماع صحابہ ؓ کو چھوڑ کر کسی ایک صحابی کے انفرادی عمل کو اپنے لیے قابل حجت سمجھتے ہیں۔ جو سراسر قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک کسی صحابی کے انفرادی عمل کا تعلق ہے اگر وہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے تو اس کی تاویل کرنا ہوگی کہ اس صحابی کو رسول معظم ﷺ کا فرمان نہیں پہنچا، یا اسے سمجھنے میں سہو ہوئی ہے۔ جس کی مثال حضرت ابوذر غفاری ؓ کا تین دن سے زیادہ کسی چیز کو گھر میں رکھنا خلاف شرع سمجھنا ہے۔ بعض لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک آدھ انفرادی عمل کو اپنے لیے حجت قرار دیتے ہوئے تائید کے طور پر حدیث رسول پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
(أصحابی کالنجومِ ، فبأیِّہِم اقتدیتم اہتدیتم)[ جامع الاصول من احادیث الرسول ]
” میرے صحابہ ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں جس نے کسی صحابی کی پیروی کی وہ ہدایت پا جائے گا “
حالانکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔
(عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَیَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ )[ رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ].
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سول محترم ﷺ نے فرمایا میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے ‘ جن کی گواہی کی قسم سے ‘ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ “
جہاں تک کسی دور کے علماء کے اجماع کا تعلق ہے وہ قرآن و سنت کے تابع ہو تو قابل حجت ہوگا۔ بصورت دیگر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ شریعت میں دلیل معیار ہے اقلیت اور اکثریت معیار نہیں ہے۔ لہٰذا صحابہ کا اجتماعی طرز فکر اور عمل امت کے لیے حجت ہے۔ سورة فاتحہ کے آخری کلمات اسی راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جو اس راستے سے جتنا ہٹے گا اتنا ہی گمراہی کی طرف جائے گا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ) [ الصف : 5]
” جب وہ سیدھی راہ سے ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں میں کجی پید اکردی۔ “
(وَنَذَرُھُمْ فِيْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) [ الانعام : 110]
” انہیں ان کی سرکشی میں رہنے دیتے ہیں اور وہ حیران پھرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ رسول اللہ ﷺ کے راستے کو چھوڑنا جہنم کا راستہ اپنانے کے مترادف ہے۔ 2۔ جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
اتباع صحابہ ؓ :
1۔ انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا۔ (الفاتحہ : 6) 2۔ صحابہ کا ایمان ہدایت کی کسوٹی۔ (البقرۃ : 137)
2۔ مومن کو مومنوں کا دوست ہونا چاہیے۔ (التوبۃ : 71) 3۔ الٰہی ہمیں شاہدین کے ساتھ لکھنا۔ (آل عمران : 53)
5۔ موت کے بعد نیک لوگوں کی رفاقت۔ (آل عمران : 193) 6۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا۔ (یوسف : 101)
Ayah 4:116فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کی ذات وصفات اور عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے جو سب سے بڑا گناہ، ظلم عظیم اور پرلے درجے کی گمراہی ہے۔
کفر و شرک کے سوا اللہ تعالیٰ جسے چاہے اور جو چاہے معاف فرما دے گا اس میں حقوق العباد بھی شامل ہیں۔ خاص کر ایسا شخص جو دوسروں کے حق کی ادائیگی اور اپنی زیادتی کی تلافی کرنا چاہتا تھا لیکن غفلت یا عدم وسائل کی وجہ سے تلافی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما کر حق دار کی داد رسی فرما دے گا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کئی مقامات میں رسول معظم ﷺ کا فرمان درج ہے جس میں آپ نے توحید کی برکات کا یوں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں اعلان فرمائیں گے جو دنیا میں کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پاس چلا جائے۔ مشرک اپنے اپنے پیروں اور معبودوں کے پاس چلے جائیں گے لیکن کچھ لوگ کھڑے رہیں گے۔ جن میں فاجر لوگ بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائیں گے کہ تم کیوں نہیں جاتے ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم دنیا میں تیرے ساتھ کسی کو مشکل کشا، حاجت روا، دستگیر اور آپ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے اب بھی تیری ذات کبریا کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ چناچہ شرک سے اجتناب کرنے اور توحید کے صلہ میں انہیں معاف کردیا جائے گا۔[ رواہ البخاری تفسیر سورة النساء۔ مسلم : کتاب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا انتہا درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کے نقصانات :
1۔ شرک بدترین گناہ ہے۔ (النساء : 48) 2۔ شرک ظلم عظیم ہے۔ (لقمان : 13)
3۔ شرک سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65) 4۔ شرک کے بارے میں انبیاء کو انتباہ۔ (الانعام : 88)
5۔ شرک کرنے سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : 31) 6۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
Ayah 4:117فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یہاں شرک کی ایک اور قسم بیان کی گئی ہے۔
یہاں شرک کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ دیویوں کی عبادت کرتے ہیں جو حقیقتاً شیطان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے شرک نوح (علیہ السلام) کی قوم میں پیدا ہوا۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے بزرگوں کے مجسمے تراشے ان میں سب سے بڑے بت کا نام سواع تھا سواع عورت کی شکل پر بنایا گیا اس کا معنی ہے ” انتظام و انصرام کرنے والی دیوی “۔ مشرکین مکہ لات، منات اور عزیٰ کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ بناتے تھے۔ یہ سب کے سب عورتوں کے نام ہیں۔ ہندؤوں اور بدھ مت کے مندروں میں جاکر ملاحظہ فرمائیں جن مورتیوں کو وہ اللہ کا اوتار سمجھتے ہیں ان کی شکلیں نہایت ہی پرکشش، جاذب نظر عورتوں کے مشابہ بنائی گئی ہیں۔ یونان میں بھی دیویوں کی پوجا ہوتی تھی اور بعض قومیں فرشتوں کی اس لیے عبادت کرتی ہیں کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی پاک اور خوبصورت بیٹیاں گردانتے ہیں۔ گویا کہ دنیا میں ہر دور کے مشرکوں کی اکثریت عورتوں کی پرستار رہی ہے۔ یہاں تک کہ عیسائی بھی حضرت مریم [ کو اللہ تعالیٰ کی بیوی یا ذات کبریا کا حصہ سمجھ کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے یوں تردید فرمائی : اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو کسی نمونے اور اسباب کے بغیر پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اس کی اولاد اور بیوی کس طرح ہوسکتی ہے ؟ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ [ الانعام : 102] سورة اخلاص میں بڑے سادہ اور مختصر الفاظ میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی گئی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے عورتوں اور شیطان کو پکارتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
مشرک شیطان کی عبادت کرتا ہے :
1۔ اے بنی آدم ! شیطان کی عبادت نہ کرو۔ (یٰس : 60) 2۔ آزر کو شیطان کی عبادت نہ کرنے کی تلقین۔ (مریم : 44)
بتوں کے نام عورتوں کے نام پر :
1۔ مشرک ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (النجم : 28)
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بتوں کے نام۔ (نوح : 23) 3۔ مشرکین مکہ کے بتوں کے نام۔ (النجم : 19، 20)
Ayahs 4:118–119فہم القرآن
ربط کلام : شرک دراصل شیطان کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ شیطان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے لہٰذا مشرک پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔
شیطان نے صرف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ جرم پر جرم کرتا چلا گیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر معذرت کرنے کی بجائے اپنے جرم کے دلائل دیتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ میں ہر حال میں بنی نوع انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کثیر تعداد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ میں انہیں پر کشش اور دلفریب امیدیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان چیرنے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کا حکم دوں گا۔ چناچہ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک مشرک یہی کچھ کرتے آئے ہیں کہ جن جانوروں کو غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے ہیں ان کے کان چیر کر مخصوص نشان لگاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے شیطان کو اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا خیر خواہ اور دوست بنایا وہ بھاری اور صریح نقصان میں پڑگیا۔
(قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ م بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآءِلِھِمْ ط وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) [ الأعراف : 17]
” شیطان نے کہا تو نے مجھے اس کی وجہ گمراہی میں مبتلا کیا ہے لہٰذا اب میں بھی تیرے صراط مستقیم پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا۔ پھر انسانوں کو آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیر لوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ “
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَأَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِیْنَ ) [ الأعراف : 18]
” کہ جس نے لوگوں میں سے تیری پیروی کی میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھروں گا۔ “
لعنت کا معنٰی : اللہ کا کسی کو خیر سے دور اور محروم کرنا۔ لعنت کرنا
مسائل
1۔ شیطان لعنتی ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔
2۔ شیطان نے انسان کو ہر طرح سے گمراہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔
3۔ شیطان کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہمیشہ نقصان پائے گا۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کے ہتھکنڈے :
1۔ شیطان آدمی کو ہر طرف سے گمراہ کرتا ہے۔ (الاعراف : 17)
2۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلایا۔ (البقرۃ : 36)
3۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الأعراف : 21)
4۔ شیطان جھوٹی قسموں سے ورغلاتا ہے۔ (الاعراف : 21)
5۔ شیطان اپنی فریب کاری سے پھسلاتا ہے۔ (الاعراف : 22)
6۔ شیطان بےحیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : 169)
7۔ شیطان برے اعمال کو فیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (النمل : 24)
8۔ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف : 2)
9۔ شیطان کی پیروی کرنے سے بچنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : 208)
10۔ شیطان کی پیروی اس کی عبادت کرنا ہے۔ (یٰس : 6)
11۔ قیامت کے دن شیطان جہنمیوں سے برأت کا اعلان کرے گا۔ (ابراہیم : 22)
Ayahs 4:120–121فہم القرآن
ربط کلام : شیطان گمراہی پر آدمی کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عمر بھر اس کے پھندے میں پھنسا رہے اور گناہوں میں آگے ہی بڑھتاچلا جائے۔ اسی وجہ سے شیطان انسان کو ہر قسم کی امیدیں دلاتا ہے۔
علامہ عبدالرحمن ابن جوزی (رح) نے شیطان کے پھندوں اور دلفریب وعدوں پر ” تلبیس ابلیس “ کے نام پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے سینکڑوں ایسے واقعات درج کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان آدمی کی طبیعت اور اس کا رجحان دیکھ کر اسے گمراہ کرتا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی سخی انسان کو کنجوسی کی طرف رغبت دے بلکہ وہ سخی کو فضول خرچی و اسراف پر آمادہ کرتا ہے۔ بخیل کو فقر کا خوف دلا کر مزید کنجوس بناتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسا آدمی اپنے آپ پر خرچ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ اسی طرح شیطان توحید کے نام پر یہ کہہ کر گناہوں پر دلیری دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سب کچھ معاف کر دے گا۔ وہ محبت کے نام پر بےحیائی کا سبق دیتا اور بزرگوں کی عقیدت کے ذریعے شرک کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ سراسر دین کے نام پر جھوٹی امیدیں دلانا اور دھوکہ دینا ہے۔ دین کے نام پر دھوکے کو قرآن مجید نے سورة آل عمران میں یوں بیان فرمایا ہے۔
(وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّآ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ۔۔ ) [ النساء : 41]
” اور انہوں نے کہا ہمیں چند گنتی کے دنوں کے علاوہ ہرگز آگ نہ چھوئے گی۔ “
یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم صرف چند دنوں کے لیے جہنم میں جائیں گے۔ اس کے بعد ہمارے لیے دائمی عیش و عشرت ہوگی۔ اسی فریب کے ذریعے عیسائیوں کو شیطان نے عقیدہ سمجھایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر تمہارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ شیطان کی پیروی اور یہود و نصاریٰ کی دیکھا دیکھی مسلمانوں کی غالب اکثریت ابلیس کی فریب کاریوں میں آکر یہ کہتے سنائی دیتی ہے کہ جنت میں جانے کے لیے بزرگوں کی عقیدت اور کسی پیر کا مرید ہونا کافی ہے۔ ایسے لوگ شیطان کی پیروی میں اس عقیدے پر بڑاناز اور فخر کرتے ہیں ‘ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جس طرح زندگی بھر شیطان کے فریب میں مبتلا رہے اور جھوٹی امیدوں میں گھرے رہے اسی طرح جہنم میں ہمیشہ کے لیے گھرے رہیں گے اور ان کے لیے اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
شیطان کا دھوکہ اور فریب :
(کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ إِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنْکَ إِنِّیْ أَخَاف اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ أَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا وَذٰلِکَ جَزٰؤٓا الظّٰلِمِیْنَ )
[ الحشر : 16، 17]
” شیطان کی طرح جب اس نے انسان کو کہا کہ کفر کر پھر اس نے کفر کرلیا تو کہنے لگا میں تجھ سے بری ہوں یقیناً میں تو رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ “
مسائل
1۔ شیطان کے وعدے مکرو فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔
2۔ شیطان اور اس کے ساتھیوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اس سے کبھی نجات نہیں پائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم سے چھٹکارا ممکن نہیں :
1۔ جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (البقرۃ : 167)
2۔ جہنم سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ (الزخرف : 77)
3۔ جہنم میں موت وحیات نہیں ہوگی۔ (طٰہٰ : 74)
4۔ دنیا میں لوٹ آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ (الانعام : 27)
5۔ جہنم کی سزا میں وقفہ نہیں ہوگا۔ (فاطر : 36)
6۔ جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ (الفرقان : 65)
7۔ جہنم بدترین ٹھکانا ہے۔ (آل عمران : 197)
8۔ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔ (الفرقان : 65)
9۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (الہمزہ : 90)
Ayah 4:122فہم القرآن
ربط کلام : مشرک جہنم میں جائیں گے شرک سے پاک ایمان اور نیک عمل کے حاملین جنت میں داخل ہوں گے۔
جو لوگ ایمان لائے اور شریعت کے مطابق نیک عمل کرتے رہے ان کے بارے میں رب کریم فرماتے ہیں کہ ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری وساری ہوں گی۔ اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور سچا ہے کہ مشرک جہنم میں اور مومن جنت میں جائیں گے۔ مومنوں کو انتہا درجے کی تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے بڑھ کر کسی اور کا وعدہ اور فرمان سچا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا صاحب ایمان لوگوں کو جنت کے حصول کے لیے پوری کوشش کرنی اور اس کے حصول کے لیے دن رات ایک کردینا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا میرے بندوں نے جنت دیکھی ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ جنت دیکھ لیں ؟ تو فرشتے جواباً کہتے ہیں پھر تو وہ مزید اس کی جستجو کریں گے۔ [ روہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکراللّٰہ عزوجل ]
مسائل
1۔ ایمان دار ‘ صاحب کردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل فرمائے گا۔
2۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ اس کے وعدے اور بات سے سچی بات کسی کی نہیں ہوسکتی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سچا اور اس کا وعدہ پکا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کی بات سے کسی کی بات سچی نہیں۔ (النساء : 87) 2۔ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (آل عمران : 9)
Ayah 4:123فہم القرآن
ربط کلام : جنت محض دعو وں ‘ نعروں اور کسی فرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جو برائی اور شرک سے بچے گا وہی جنت کا مستحق ہوگا۔ بصورت دیگر برا شخص جنت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے گا۔
قرآن مجید ایک بار پھر اپنے اسلوب بیان کا اعادہ فرماتے ہوئے دو قسم کے اعمال اور ان کے انجام کا بیک مقام موازنہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا قاری تجزیہ کرے کہ اسے کس کردار کا انتخاب اور آخرت کی کونسی منزل کے لیے کوشش کرنی چاہیے ؟ یہ حقیقت بار بار واضح کی گئی ہے کہ کسی شخص کی نجات نعروں اور دعو وں کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ نجات سچے ایمان اور صالح عمل پر ہوگی۔ یہاں ایک مرتبہ پھر اہل کتاب کے دعوے کی تردید کی جارہی ہے کہ نجات کا دارومدار کسی خاندانی نسبت یا محض دعوئ محبت پر نہیں بلکہ اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور شرک سے بچنا لازم ہے۔ جس شخص نے شرک کا ارتکاب کیا اور برے اعمال میں مبتلا رہا وہ قیامت کے دن اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں پائے گا۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہونے کے باوجود اپنے باپ کو جہنم سے نہیں بچا سکیں گے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآ أَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) روز قیامت اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اسے کہیں گے میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو تو وہ جواباً کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو ہے۔ جسے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ان کو توحید کی دعوت سے روکا کرتے تھے لیکن آپ ﷺ کے چچا ابو طالب آپ کے بہت زیادہ حمایتی اور ہمدرد تھے ان کی ہمدردی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قریش وفد لے کر ان کی خدمت میں پہنچے کہ اپنے بھتیجے کو روک لو ورنہ کوئی فتنہ کھڑا ہوگا۔ جناب ابوطالب نے نبی اکرم ﷺ کو کہا کچھ نرمی اختیار کیجئے آپ نے جواب دیا چچا سورج میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیا جائے میں تب بھی دعوت توحید سے باز نہیں آؤں گا تب ابوطالب نے کہا بیٹا جاؤ جو جی چاہے کرو۔ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا لیکن انہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔
(عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ ؓ أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَذُکِرَ عِنْدَہٗ عَمُّہٗ أَبُوْطَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّہٗ تَنْفَعُہٗ شَفَاعَتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُجْعَلُ فِيْ ضَحْضَاحٍ مِّنَ النَّارِ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِيْ مِنْہُ أُمُّ دِمَاغِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ]
” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا آپ نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش اسے فائدہ دے اور اسے جہنم کی اوپر والی سطح میں رکھاجائے جو اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو اس سے اس کا دماغ کھول اٹھے گا۔ “
(ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا امْرَاَۃَ نُوحٍ وَّامْرَاَۃَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَّقِیْلَ ادْخُلا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ ) [ التحریم : 10]
” اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال بیان کرتا ہے وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان دونوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ “
مسائل
1۔ جنت صرف دعو وں اور آرزؤوں سے نہیں مل سکتی۔
تفسیر بالقرآن
آرزؤوں اور تمناؤں کی حیثیت :
1۔ بلندوبانگ دعوے کام نہ آئیں گے۔ (البقرۃ : 62)
2۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور جھوٹوں کو پرکھتے ہیں۔ (العنکبوت : 3)
3۔ یہود و نصاری کے جنتی ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ (البقرۃ : 111)
Ayah 4:124فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو دوبارہ تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا ایماندار خواہ مرد ہو یا عورت اسے بہترین جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذات پات اور مذکر و مؤنث کا کوئی امتیاز نہیں۔
اعمال کا انجام ذکر کرنے کے بعد حسب معمول صالح کر دار لوگوں کا صلہ بیان کرتے ہوئے مرد و زن کو تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ اس نے نیک عمل حالت ایمان میں کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے گا اور اس کو جنت میں ضرور داخل فرمائے گا اور ان کے اجر وثواب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اسی بات کو تفصیل کیساتھ یوں بیان فرمایا ہے۔
” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ “ [ الاحزاب : 35]
مسائل
1۔ نیک عمل کرنے والا صاحب ایمان مرد ہو یا عورت جنت میں داخل ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
نیکی میں ہرگز کمی نہ ہوگی :
1۔ کسی کا عمل ضائع نہ کیا جائے گا۔ (آل عمران : 195) 2۔ اجر میں مرد و زن برابر ہیں۔ (الاحزاب : 35)
3۔ ذرہ برابر نیکی اور بدی کا بدلہ ملے گا۔ (الزلزال : 7، 8) 4۔ ہر عمل آدمی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (الکہف : 49)
5۔ کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 71)
Ayahs 4:125–126فہم القرآن
ربط کلام : اچھی تمناؤں کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں جن کی بنیاد ملّتِ ابراہیم ہے۔
اس سے پہلے اہل کتاب کی بےبنیاد تمناؤں کی نفی کرکے وضاحت فرمائی کہ جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ محض نیک تمناؤں، خوش کن جذبات اور بلند بانگ دعو وں کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ کا میابی کا انحصار ایمان اور نیک اعمال پر ہے جس کی دین اسلام رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنے کا۔ جس سے مراد کلی طور پر اپنے جذبات اور اعمال کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرنا ہے۔ ایسا شخص ہی محسن یعنی نیکو کار کہلانے کا حقدار ہے۔ اس کے لیے یہودیت، عیسائیت اور دائیں بائیں کے راستے نہیں بلکہ ایک اور صرف ایک ہی راستہ ہے جسے ملت ابراہیم کے نام سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ہر تعلق سے لاتعلق ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان کردیا تھا۔ جس کا یہ صلہ عطا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت میں صرف ایک ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہر امت کو اور خاص کر آخری رسول ﷺ کے پیروکاروں کو حکم ہوا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کے خواہاں اور دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہو تو پھر تمہیں ملت ابراہیم پر چلنا ہوگا۔ یہاں یہ بھی وضاحت فرمائی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا تھا۔ یہ عمل اور نظریہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اور زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور مملوک کا فرض ہے کہ وہ اپنے مالک کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اس کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں رہے۔ جس طرح زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی ڈیوٹی نبھا رہی ہے۔ ایسے ہی انسان کو بھی اپنے خالق ومالک کا تابع فرمان ہونا چاہیے اور یاد رکھو ! کوئی اللہ کا دوست ہو یا دشمن وہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار سے باہر نہیں اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا پڑھا کرتے تھے :
(إِنِّيْ وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) [ الانعام : 79]
” بلاشبہ میں نے تو یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین سے نہیں ہوں۔ “
رسول اللہ ﷺ بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے ابتداء نماز میں یہ دعا پڑھتے :
(إِنِّيْ وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا۔۔ ) [ الانعام : 79]
” میں نے تو اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ “
[ رواہ ابوداؤد : کتاب الصلاۃ، باب مایستفتح بہ الصلاۃ من الدعاء ]
خلیل کا معنٰی :
خلیل کا لفظ خلت سے ہے جس کا معنی ہے ایسا دوست کہ جس سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ ہودلی دوست۔ خیر خواہ۔ کمزور بدن والا۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَلاَ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خِلٍّ مِنْ خِلِّہِ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلاً إِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیل اللَّہِ )[ رواہ مسلم : باب مِنْ فَضَاءِلِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیق ِ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ہر ایک کی دوستی سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اگر میں کسی کو اپنا جگری دوست بنا تا تو وہ ابوبکر ؓ ہوتا تمہارا ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ یعنی اللہ کی دوستی سب سے مقدم ہے۔ “
مسائل
1۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والابہترین مسلمان ہے۔ 2۔ ہر حال میں ملت ابراہیم کی پیروی کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا ہے۔ 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تابع ہے۔
تفسیر بالقرآن
کس کا دین بہتر ؟
1۔ اللہ کے سامنے مطیع ہونے والے کا دین سب سے بہتر ہے۔ (النساء : 125)
2۔ اللہ کے سامنے جھک جانے والامحسن ہے۔ (لقمان : 22)
3۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے مطیع و تابع فرمان تھے۔ (البقرۃ : 131، الانعام : 79)
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے۔ (البقرۃ : 68)
5۔ نبی محترم ﷺ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کا حکم۔ (النحل : 123)
6۔ امت محمدیہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم۔ (آل عمران : 95)
7۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔ (الانعام : 14)
9۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اسوۂ حسنہ قرار پائی۔ (الممتحنۃ : 4)
Ayah 4:127فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا۔
قرآن مجید میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ترغیب و فضیلت کے بارے میں تیئس مقامات پر ذکر ہوا ہے۔ جن میں یتیم بچیوں کے متعلق اس سورت کی آیت 4 میں حکم دیا تھا کہ یتیم بچیاں نکاح کے قابل ہوجائیں تو ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کا حق مہر خوشی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ لوگ پھر آپ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں انہیں فرمائیں فتویٰ تو اللہ تعالیٰ پہلے ہی دے چکے ہیں لہٰذا اس پر عمل کرو۔ جن کے دلوں میں چور ہے وہ چاہتے ہیں کہ یتیموں کے حقوق سے جان چھوٹ جائے حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ یتیم بچیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان کے مال اور نام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن حقوق دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اور حکم وہی ہے جو یتیموں کے متعلق پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ لہٰذا یتیموں کے بارے میں انصاف کرنے پر قائم ہوجاؤ اور اچھی طرح جان لو جو بھی نیکی کرو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ رسول گرامی ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا :
(کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد ‘ باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم ]
” اپنے یا عزیز رشتہ دارکسی یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔ “
Ayah 4:128فہم القرآن
ربط کلام : تسلسل جاری ہے یتامیٰ اور عورتوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے بار بار مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حق مہر خندہ پیشانی اور دل کی رغبت کے ساتھ دیا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے حق مہر معاف کریں تو بھی اس انداز سے کھاؤ اور استعمال کرو کہ انہیں تمہارے بارے میں ہلکے پن اور حریص ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔ یہاں عورتوں کو تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسے خاوند کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو حریص اور لالچی ہے یا کسی وجہ سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اسے حق مہر معاف کردیا جائے ‘ بصورت دیگر خاوند کی طرف سے اعراض اور اختلاف کا خطرہ ہے تو تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کے اختلاف اور اعراض سے بچنے کے لیے اپنے حقوق سے دست بردار ہونے کے بارے میں غور کرے۔ ایسا کرنے کا اسے اختیار ہے اس پر اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گھر اجاڑنے سے بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق میں نرمی اختیار کرلے۔ اس سے عورت کا بھرم قائم رہنے کے ساتھ گھریلو ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خوش حال اور تمہارے گھروں کو آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں دونوں کو ہر حال میں صلح کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے گو انسان حریص واقع ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرکے اختلافات سے بچنا چاہیے۔ اگر عورت بوڑھی ہوچکی ہو یا خاوند کو اس کی کوئی عادت پسند نہیں تو بھی نباہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ اچھی طرح خبر گیر ہے کہ کون تم میں صلح جو، ایثار پسند اور گھر آباد رکھنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا۔
مسائل
1۔ میاں بیوی کے درمیان صلح جوئی اور اصلاح کا ماحول ہونا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے والے کو جانتا ہے۔
Ayah 4:129فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت کی تیسری آیت میں عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ بیک وقت چار تک عورتیں نکاح میں رکھنے کی اجازت دی تھی۔ اب ایک سوال کے جواب میں اس کے متعلقات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ پہلے حکم میں عدل کا مفہوم مالی اور اخلاقی معاملات کے ساتھ ہے۔ اب اخلاقی معاملے میں حکم ہے۔
جہاں تک قلبی میلان کا تعلق ہے اس میں تم بیویوں کے درمیان مساوات اور انصاف کرنا چاہو بھی تو پوری طرح انصاف نہیں کرسکتے کیونکہ دل کے رجحانات اور جذبات پر قابو پانا انسان کے بس کا روگ نہیں۔ اگر کسی بیوی کا حسن و جمال اور اس کے اخلاق کی وجہ سے تمہارا دل اس کی طرف زیادہ مائل ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ لیکن کوشش کرو کہ تم ایک ہی کے ہو کر نہ رہ جاؤ۔ بلکہ ظاہری محبت میں سب کی دلجوئی کرنی چاہیے تاکہ ایک بیچاری تمہارا منہ تکتے ہوئے معلق ہو کر نہ رہ جائے۔ لہٰذا جذبات محبت پر کنٹرول کرتے ہوئے بےانصافی سے بچو۔ اگر تم منصفانہ برتاؤ اور سب کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری کمزوریوں کو معاف کرنے والا مہربان ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعا ہے :
(اَللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَاتَمْلِکُ وَلَآ أَمْلِکُ ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب النکاح ]
” اے اللہ ! میرا عدل اور مساوات اسی حد تک ہے جو میرے اختیار میں ہے جو تیرے اختیار میں ہے وہ میرے اختیار میں نہیں اس پر مجھے ملامت نہ کیجئے گا۔ “
( مَنْ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَی إِحْدَاہُمَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہُ مَاءِلٌ )
[ رواہ ابوداود : باب القسمۃ بین النساء ]
بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے والا روز قیامت فالج زدہ انسان کی طرح اٹھایا جائے گا۔
مسائل
1۔ بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا فرض ہے۔
2۔ اپنی اصلاح کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو گے تو اللہ کو بخشنے والا پاؤ گے۔
Ayah 4:130فہم القرآن
ربط کلام : اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے تو جدائی کی صورت میں دونوں کو تسلی دی گئی ہے۔
گھر کی چار دیواری اور میاں بیوی کے تعلقات معاشرے کی اکائی اور بنیادی یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ یونٹ جس قدر خوشحال اور اس کا ماحول جتنا خوشگوار ہوگا۔ اتنا ہی معاشرہ مضبوط اور اچھے خطوط پر استوار ہوگا۔ اس یونٹ کو توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے قرآن مجید نے متعدد ہدایات جاری فرمائی ہیں۔ لیکن بسا اوقات معاملات اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مرد کو طلاق دینے اور عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا ہے۔ یہ انقطاع طلاق کی صورت میں ہو یا خلع کی شکل میں بہتر سے بہتر صورت میں وقوع پذیر ہونا چاہیے۔ یہاں تک فرمایا کہ میاں بیوی کو آپس میں علیحدگی اختیار کرتے وقت سابقہ تعلقات اور محبت کو نہیں بھولنا چاہیے۔[ البقرۃ : 237] علیحدگی کی صورت میں فریقین کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ اگر تم نے آپس میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے تو گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے اپنے مقام پر اپنی رحمت سے نوازے گا اور ایک دوسرے سے بےنیاز کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ وسعت و کشادگی کا مالک ہے۔ اگر اس نے تمہیں ناگزیر حالت میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی اجازت عنایت فرمائی ہے تو اس کی حکمت یہ ہے کہ مزید لڑائی جھگڑے سے بچاؤ معاشرے میں تمہاری عزت، خاندان میں بھرم اور اولاد کے مستقبل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں ثابت بن قیس ؓ کے اخلاق اور دین پر کوئی عیب نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرے گی ؟ اس نے کہا ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس کو فرمایا باغ کو قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو ۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ ]
مسائل
1۔ ناگزیر صورت حال میں میاں ‘ بیوی رشتہ توڑ سکتے ہیں۔
2۔ میاں بیوی کے درمیان تفریق ہونے کی صورت میں ہر کسی کا اللہ کفیل ہے۔
Ayahs 4:131–132فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیت میں دونوں کو تسلی دی تھی۔ یہاں فرمایا کہ میاں بیوی اور زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ وہ سب کا رازق اور وارث ہے۔ البتہ اس کا تمہیں اور سب لوگوں کو یہی حکم تھا اور ہے کہ ظلم و زیادتی اور اللہ کی نافرمانی سے بچ کر رہنا۔
یہاں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گھر آباد نہیں رہا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا مالک ہے وہ تمہارے لیے کسی اور گھر کا انتظام کر دے گا۔ یہی ہدایات ان لوگوں کو دی گئیں جنہیں تم سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور آسمانی کتابیں دی گئیں تھیں۔ تمہیں بھی یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اگر تم کفر، نافرمانی اور آپس میں ظلم و زیادتی کا رویہ اختیار کرو گے تو اللہ کی بادشاہی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔ آسمانوں کا چپہ چپہ اور زمین کا ذرہ ذرہ اسی کے زیر اقتدار ہے اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے کیونکہ کسی گھر کا اجڑنا اور خاندان کا بکھرنا معمولی بات نہیں لہٰذا بار بار اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہی اور اختیارات کا ذکر فرما کر دونوں کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے باز رہنے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی تلقین فرما رہا ہے تاکہ میاں بیوی اپنے معاملات درست رکھنے کی کوشش کریں۔
(عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ ؓ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ہُ فَقَالَ أَوْصِنِيْ فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مِنْ قَبْلِکَ أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَإِنَّہٗ رَأْسُ کُلِّ شَيْءٍ ۔۔ )
[ مسند احمد : کتاب باقي مسند المکثرین، باب مسند أبی سعید الخدری ]
” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا مجھے نصیحت کیجئے انہوں نے کہا تو نے مجھ سے اس چیز کا سوال کیا ہے جس کے متعلق میں نے تجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا۔ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ تقویٰ ہر خیر کا سرچشمہ ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سُءِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ أَکْثَرِ مَایُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ قَالَ تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في حسن الخلق ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کثرت کے ساتھ لوگوں کو جنت میں داخل کرنے والے عمل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مسلمانوں کو تقوٰی کی وصیّت فرمائی ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک اور ہر چیز کا کار ساز ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن کے چندوصایا کا ذکر :
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کو وصیّت۔ (الشوری : 13)
2۔ شرک نہ کرنے اور والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیّت۔ (الانعام : 151)
3۔ یتیموں کے مال اور ماپ تول پورا کرنے کی وصیّت۔ (الانعام : 152)
4۔ صراط مستقیم پر چلنے کی وصیّت۔ (الانعام : 153)
5۔ والدین سے احسان کرنے کی وصیّت۔ (العنکبوت : 8، لقمان : 14، الاحقاف : 15)
6۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیّت۔ (النساء : 131)
7۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلوٰۃ و زکوٰۃ کی وصیّت۔ (مریم : 13)
8۔ وراثت کی تقسیم کے بارے میں وصیّت۔ (النساء : 11)
9۔ وارثوں کو تکلیف نہ دینے کی وصیّت۔ (النساء : 12)
10۔ جانوروں کی حلّت و حرمت کے بارے میں وصیّت۔ (الانعام : 144)
Ayahs 4:133–134فہم القرآن
ربط کلام : اگر تم اللہ کی بغاوت اور نافرمانی کرو گے تو یاد رکھو تم اس کی قدرت سے باہر نہیں ہو وہ جب چاہے گا تمہاری صف لپیٹ کر کسی اور قوم کو زمین کا وارث بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا قطعاً دُشوار نہیں ہے وہ کلی طور پر ایسا کرنے پر قادر ہے۔
دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر معاشرے کے کمزور طبقہ کو غالب کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش اس بات پر زندہ ثبوت ہے۔ یہودی اپنی حد سے باہر ہوئے تو ان پر عیسائیوں کو مسلط فرمایا۔ عیسائی حدود پھلانگنے لگے تو کسی دوسری قوم کو غلبہ عطا ہوا۔ مسلمانوں کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک گروہ کو دوسرے پر کس طرح مسلط فرمایا۔ مکہ مکرمہ مرکز ہونے کے باوجود مدینہ والوں کے زیر نگین ہوا۔ حجاز پر شامیوں نے حکومت کی۔ امویوں کو اقتدار سے ہٹایا تو پانچ سو سال تک عباسیوں کا پھریرا بلند ہوا۔ پھر عباسیوں پر ترکوں کا غلبہ ہوا۔ علیٰ ھذا ا لقیاس ہر دور اور قوم پر اللہ تعالیٰ کا فرمان غالب رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر اور فیصلہ صادر کرنے والا ہے۔ لہٰذا جو دنیا کے صلہ کے لیے کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی کوشش اور اپنی حکمت ومشیّت کے مطابق اسے دنیا نصیب فرمائے گا۔ جو دنیا کے ساتھ آخرت کا خواہاں ہوگا اللہ اسے بھی اس کی کوشش اور اپنی حکمت اور تقسیم کے مطابق ٰ اجر عطا فرمائے گا۔ یہاں دنیا کے طالب کو دنیا کے اجر کا اشارہ فرما کر آخرت کے ثواب کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ صرف دنیا کے لیے نہیں بلکہ دنیا و آخرت کے صلہ وثواب کے لیے کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو موجودہ انسانوں کو ختم کر کے دوسروں کو لاسکتا ہے۔
2۔ دنیا اور آخرت میں اجر سے نوازنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔