4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفہم القرآن

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ ہی کے لیے عدل و انصاف پر مضبوطی کے ساتھ گواہی دینے والے ہوجاؤ۔ چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ داروں، عزیزوں کے وہ امیر ہو یا غریب اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ تم خواہش کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑو اور اگر تم نے غلط بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ فرمان سے اس کا تعلق معنوی ہے کہ گھر سے لے کر عدالت تک انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ بنیادی طور پر امت مسلمہ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے منتخب کی گئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے قول اور فعل کے ساتھ حق کے ترجمان اور توحید کی گواہی دیتے رہیں۔ آخرت میں پہلی امتوں کے بارے میں انبیاء کی تائید اور ان کی نبوت کی شہادت دیں گے۔ جسے قرآن مجید اور رسول محترم ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے : (لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) [ البقرۃ : 143] ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔ “ (أَنْتُمْ شُھَدَآءُ لِلّٰہِ فِی الْأَرْضِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت ] ” مسلمانو ! تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔ “ لیکن اس آیت میں لفظ ” قسط “ استعمال فرماکر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے رسولوں کو واضح دلائل اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں اور لوہا نازل کیا جس میں بڑی قوت اور لوگوں کے لیے بڑے فوائد ہیں۔[ الحدید : 25] یہاں شہادت سے مراد وہ گواہی ہے جو کسی واقعہ یا مقدمہ کے ثبوت کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ اس پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس پر پوری قوت اور صلاحیت کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل اور احترام کا جذبہ کار فرما ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں حق و انصاف کا بول بالا اور عدالتوں میں عدل کا ترازو قائم رہے۔ اس کے لیے گواہی کا عدل و انصاف کے اصول پر پورا اترنا اور قائم ہونا بےحد ضروری ہے۔ مقدمے کا ریکارڈ بھی تحریری شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جج اس کا پابند ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح گواہی کی چھان بین کرے کیونکہ گواہی کا مقدمے میں بنیادی کردار ہوتا ہے۔ کتنے مقدمات کے فیصلے اس بات پر شاہد ہیں کہ جھوٹی شہادتوں کی وجہ سے بےگناہ شخص پھانسی کے پھندے پر لٹک گیا اور اصل مجرم نہ صرف دندناتے پھرتے ہیں بلکہ مزید جرائم کا ارتکاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا گواہی اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر بلا رعایت اور لحاظ واقعات کے مطابق دینی چاہیے۔ بیشک یہ گواہی انسان کے اپنے نفس، والدین، اعزہ و اقرباء، مالدار یا کنگال کے خلاف ہو خواہ تمہیں ان کا مفاد اور جان کتنی ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ والدین کا رشتہ مقدس اور قابل صد احترام، اعزہ و اقرباء تمہیں بڑے پیارے، دولت مند مؤثر اور غریب قابل رحم اور خیر خواہی کے لائق ہے لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کا تم سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔ تم کسی کو نہ نفع دے سکتے ہو اور نہ نقصان سے بچا سکتے ہو لہٰذا تم اچھے برے جذبات کے پیچھے لگنے کے بجائے شہادت عدل پر قائم ہوجاؤ۔ اس میں بےانصافی، لچک اور کسی قسم کا اغراض نہیں ہونا چاہیے۔ یقین جانو اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنِ الْکَبَآءِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دیناکبیرہ گناہ ہیں۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کو صرف اللہ کے لیے عدل و انصاف پر قائم ہونا چاہیے۔ 2۔ عدل و انصاف کے راستے میں کسی رشتہ دار اور خواہش کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن عدل و قسط کی اہمیت : 1۔ نبی ﷺ کو عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف : 29) 2۔ انصاف کی بات کہنے کا حکم۔ (الانعام : 152) 3۔ صلح بھی عدل و انصاف سے کروانا چاہیے۔ (الحجرات : 9) 4۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد انصاف قائم کرنا تھا۔ (الحدید : 25) 5۔ کسی کی دشمنی عدل و انصاف میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ (المائدۃ : 8) 6۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ (المائدۃ : 42)
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا

فہم القرآن ربط کلام : شہادتِ حق و عدل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ ایمان کے سوا گمراہی کا راستہ ہے۔ قرآن مجید میں یہی آیت مبارکہ ہے جس میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دوبارہ ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے تین آراء قائم کی ہیں۔ ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہاں ایمان داروں سے مراد صرف دعو ٰی ایمان رکھنے والے منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ امام رازی (رح) اور ان کے ہمنوا اہل علم کا خیال ہے ” اٰمِنُوْا “ سے مراد یہودی ہیں کیونکہ یہودی علماء کا ایک وفد رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان رکھتے ہوئے آپ اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء اور آسمانی کتابوں کو نہیں مانتے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ اے لوگو ! جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور محمد کریم ﷺ پر ایمان لانے کا اظہار کرتے ہو تمہیں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید کے ساتھ تمام انبیاء پر ایمان لانا چاہیے۔ تیسرے طبقہ کا خیال ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے جس کا معنی ہے اے ایمان کے دعویدار لوگو ! اسلام کو مکمل طور پر اپناتے ہوئے اس پر پوری استقامت کے ساتھ کاربند ہوجاؤ۔ یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان لانے کے ساتھ پہلے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ پھر ایمان کے پانچ اجزاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جو ان کا انکار کرتا ہے وہ صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ دور کی گمراہی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا تقاضا ہے کہ اسے اس کی ذات اور صفات کے لحاظ سے تنہا اور یکتا تسلیم کرتے ہوئے اس کے احکام کی پورے اخلاص کے ساتھ اطاعت کرو۔ ملائکہ کو اس کی بیٹیاں یا خدائی اختیارات میں شریک سمجھنے کے بجائے اس کی مخلوق تصور کیا جائے۔ پہلی کتابوں اور انبیاء پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے داعی اور اس کے فرستادہ تھے۔ آخرت پر ایمان کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا قائم ہونا یقینی ہے اور ہر کسی نے دو بارہ زندہ ہو کر اپنے اچھے اور برے اعمال کا اچھا یا برا صلہ پانا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس سے آدمی کے نظریات اور کردار میں سنوار اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔ آدمی اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے حوالہ سے ذمہ دار سمجھتا ہے۔ (عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَاد الشَّعَرِ لاَ یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الإِیمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللَّہِ وَمَلاَءِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ )[ رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی سفید کپڑوں میں ملبوس سیاہ بالوں والا جس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا وہ آکر نبی ﷺ کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے عرض کی مجھے ایمان کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کو اللہ، اس کے رسول، قرآن مجید اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا چاہیے۔ 2۔ کامل ایمان ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، کتب آسمانی، رسولوں اور قیامت کا انکار کرنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ایمان کے بنیادی ارکان : 1۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 1) 2۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4) 3۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 136) 4۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : 4) 5۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : 84) 6۔ رسولوں اور مومنوں کے ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ : 285) 7۔ فرشتوں اور رسولوں سے دشمنی اللہ سے دشمنی کرنا ہے۔ (البقرۃ : 98) 8۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے درمیان فرق نہ کرنا۔ (النساء : 151)
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان لا کر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے اللہ تعالیٰ انہیں نہ معاف کرے گا اور نہ انہیں ہدایت کی توفیق دے گا

فہم القرآن ربط کلام : ایمان کے بعد کفر اور پھر کفر پر ڈٹ جانے والا ہدایت اور بخشش کا مستحق نہیں رہتا۔ اس آیت کا مفہوم مفسرین نے دو طرح اخذ کیا ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب یہود ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے اعتکاف کے بعد طور پہاڑ سے نیچے اترے تو ان کے سمجھانے پر یہودی دوبارہ ایمان لائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور پھر کفر میں یہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ نبی آخرالزمان ﷺ کے بھی منکر ہوئے۔ دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا پھر ایمان لانا اور اس کے بعد ایسا کفر اختیار کرنا کہ اس میں سخت سے سخت ہوتے گئے۔ ان سے مراد منافق ہیں جو ہمیشہ کفرو نفاق کی کشمکش میں رہتے ہیں۔ اس آیت کا یہی مفہوم لینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہاں مسلسل آٹھ آیات میں منافقوں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کے مفاد کی خاطر کبھی اسلام کی طرف آتے ہیں اور کبھی کفر میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے کیونکہ ہدایت کے لیے اخلاص اور استقامت نہایت ضروری ہے۔ مگر منافقین دنیا کے مفاد کی خاطر دونوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مرتد کو دنیا میں ہی قتل کردینے کا حکم ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لایعذب بعذاب اللّٰہ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنا دین تبدیل کرلیا اسے قتل کردو۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَانْطَلَقَ ھَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَھْلِ الْکِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوْہُ قَالُوْا ھٰذَا قَدْ کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوْا بِہٖ فَمَالَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہٗ فِیْھِمْ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا فَتَرَکُوْہُ مَنْبُوْذًا) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، باب ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے بنی نجار قبیلے کا ایک آدمی تھا جو سورة البقرۃ اور سورة آل عمران پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس کتابت کیا کرتا تھا۔ بھاگ کر اہل کتاب کے ساتھ جاملا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ کہتے ہوئے اسے مقام دیا کہ یہ محمد ﷺ کا کاتب تھا تو وہ اس وجہ سے متعجب ہوئے کچھ ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں ہی اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے گڑھا کھود کر اسے دفن کیا صبح زمین نے اسے باہر پھینکا ہوا تھا۔ انہوں نے پھر گڑھا کھود کر اسے دفن کیا زمین نے اسے پھر باہر پھینک دیا پھر انہوں نے گڑھا کھود کر دفنایا زمین نے پھر اسے باہر پھینک دیا پھر انہوں نے اسے باہر ہی رہنے دیا۔ “ مسائل 1۔ بار بار کفر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہدایت اور بخشش سے محروم لوگ : 1۔ ظالموں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (البقرۃ : 258) 2۔ مرتدین ہدایت و بخشش سے محروم ہوں گے۔ (النساء : 137) 3۔ کافروں کو معافی اور ہدایت نہیں دی جاتی۔ (النساء : 168) 4۔ فاسقوں کو ہدایت سے نہیں نوازا جاتا۔ (المائدۃ : 108) 5۔ جھوٹوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (الزمر : 3) 6۔ مشرک اللہ کی ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔ (النساء : 48)
Ayah 4:138

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقوں کو خوشخبری دیجئے کہ بلا شبہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے

فہم القرآن ربط کلام : منافق کفر اور ایمان کے درمیان رہتا ہے لیکن آخر میں اس کا انجام کفر پر ہوتا ہے۔ پہلے پارے کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں واضح کیا جاچکا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آسکتا۔ یہی حالت منافق کی ہوتی ہے اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو اسلام اسلام کرتا ہے اگر کفار کی طرف سے فائدہ پہنچنے کی امید ہو تو ان کا طرف دار ہوجاتا ہے۔ گویا کہ منافق عقیدے کے اعتبار سے کذّاب، کردار کے لحاظ سے دغا باز اور اخلاق کے حوالے سے مکّار اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اگلی آٹھ آیات میں منافق کی آٹھ بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس بنا پر اسے خوفناک عذاب کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ (1) بار بار کفر اختیار کرنا۔ (2) مسلمانوں کی کامیابی کا مخالف ہونا اور کفار سے دلی ہمدردی رکھنا۔ (3) ایمان میں ہمیشہ متذبذب رہنا۔ (4) اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرنا اور ان کا مذاق اڑانا۔ (5) اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنا۔ (6) جان بوجھ کر نماز میں غفلت اور سستی اختیار کرنا۔ (7) اللہ تعالیٰ کے بجائے کفار سے عزت طلب کرنا۔ (8) نماز اور نیکی کے کام نمائش کے لیے کرنا۔ مسائل 1۔ منافقوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن عذاب کی خوشخبری کے مستحق : 1۔ منافقین۔ (النساء : 138) 2۔ کفار۔ (التوبہ : 3) 3۔ گانے بجانے والا اور متکبر۔ (لقمان : 7) 4۔ متکبر گنہگارو بہتان باز۔ (الجاثیۃ : 8) 5۔ انبیاء اور منصف لوگوں کے قاتل۔ (آل عمران : 21) 6۔ زکوٰۃ نہ دینے والے۔ (التوبہ : 34)
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

یہ لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دوست بناتے ہیں کیا ان کفار کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں۔ عزت تو ہر قسم کی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے

فہم القرآن ربط کلام : ان آیات میں منافقین کے کردار اور ان کے انجام کے متعلق بیان ہو رہا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ومالک ہے اسی طرح وہ عزت و ذلّت کا بھی مالک ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس کے حسن کردار کی وجہ سے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس کے گناہوں کی وجہ سے ذلت سے دوچار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر نہ کوئی عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی آدمی کو کوئی ذلیل و خوار کرسکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس عقیدہ کی ترجمانی اور عزت کی طلب، ذلت سے محفوظ رہنے کے لیے آل عمران آیت 26 میں دعا سکھلائی گئی ہے۔ دعا کیجیے کہ اے کائنات کے مالک تو جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے اور جسے تو چاہے عزتوں سے سرفراز فرماتا اور جس کو چاہے ذلیل و خوار کردیتا ہے۔ ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ بلاشک تو ہر چیز پر قدرت و سطوت رکھنے والا ہے۔ لیکن منافق کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کی عزت کی خاطر کافر اور بےایمان شخص سے بھی عزت کا طالب ہوتا ہے۔ اس کی کاسہ لیسی اور چاپلوسی کرتا ہے چاہے اسے اپنی غیرت اور ایمان کا سودا کرنا پڑے حالانکہ ہر قسم کی عزت و رفعت اللہ ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے۔ مسائل 1۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ کفار کو دوست نہیں بنانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن عزت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : 1۔ عزت اللہ کے پاس ہے۔ (فاطر : 10) 2۔ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔ (المنافقون : 8) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : 26)
Ayah 4:140

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تمہاری طرف یہ حکم اتار چکا ہے جب تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ جب تک وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں ورنہ تم بھی ان جیسے ہوگے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق اور برے لوگوں کی مجالس کے بارے میں اسی سورت کی آیت 114 میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ان کی اکثر مجلسیں خیر اور نیکی کے کام سے خالی ہوتی ہیں۔ وہاں ایسی مجالس سے اجتناب کا اشارہ دیا گیا تھا اور یہاں واضح حکم دیا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور مذاق ہوتا ہوا سنو۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے وہاں سے اٹھ جاؤ۔ (الانعام : 68) سوائے اس کے کہ تمہارے سمجھانے یا تمہاری حاضری کا احساس کرکے وہ لوگ اس قسم کی گفتگو ترک کردیں جس کا مطلب ہے کہ سماجی، معاشرتی ضرورت کے تحت ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنا گناہ نہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا دیکھو اور بیٹھے رہو۔ تو تم بھی ان جیسے شمار ہوگے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے منافقین اور کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن جہنم میں ان سب کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ کیونکہ دنیا میں کافر اور منافق حقیقتًا ایک جیسا کردار اور عقیدہ رکھتے تھے لہٰذا قیامت میں ان کا انجام اور مقام جہنم ہوگا۔ دوسرے مقام پر فرمایا کہ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء : 145) مسائل 1۔ جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور مذاق کیا جارہا ہو اس میں بیٹھنا کفر و استہزاء کا ساتھ دینا ہے۔ تفسیر بالقرآن بری مجالس کا بائیکاٹ کرو : 1۔ جہاں اللہ کی آیات سے مذاق ہو وہاں نہ جاؤ۔ (الانعام : 68) 2۔ دین کو کھیل تماشا بنانے والوں کو چھوڑ دو ۔ (الانعام : 70) 3۔ سازشیوں کی مجلسیں اچھی نہیں ہوتیں۔ (النساء : 114)
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

یہ (منافق) لوگ تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کافروں کو کامیابی ملے تو کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب آنے ہی لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہ تھا۔ پس قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راہ نہ دے گا

فہم القرآن ربط کلام : منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کافر اور مسلمان کا ساتھ دینے میں مخلص نہیں ہوتا۔ اپنے مفاد کا غلام ہونے کی وجہ سے وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جدھر سے اسے فائدہ پہنچے وہ اس فریق کے ساتھ اپنی رفاقت اور ہمدردی کا اظہار کردے۔ رسول محترم ﷺ کے زمانہ کے منافقوں کی یہی حالت تھی۔ غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں سے الگ ہو کر کفار کی تقویّت کا باعث بنے اور فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی قوت دیکھ کر ان سے وفا کا دم بھرتے رہے۔ جب بھی صحابہ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکر م سے کامیابی حاصل ہوتی تو وہ اپنی نمازوں اور ظاہری مسلمانی کا واسطہ دے کر یقین دہانی کرواتے کہ ہم ذاتی مجبوریوں اور جماعتی مصلحت کی خاطر کفار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ جبکہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا تمہارے ساتھ ہے لیکن جوں ہی کفار کا پلڑا بھاری دیکھتے ہیں تو انہیں اعتماد دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ حقیقت میں ہم ہی نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو انتباہ کررہا ہے کہ دنیا میں تمہیں مہلت دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے تم مسلمانوں اور کافروں کے ساتھ خلط ملط ہوئے رہتے ہو۔ قیامت کے دن کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر کے ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کو مومنوں پر ہرگز فوقیت نہیں دے گا۔ آیت کے آخر میں منافق کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے کافر کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ یہ لوگ حقیقتاً کافر ہیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اے مومنو ! پورے اخلاص اور استقامت کے ساتھ ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ایسے حالات پیدا کرے گا کہ منافق مسلمانوں کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے۔ چناچہ غزوۂ تبوک کے موقعہ پر منافقوں کو آپ سے سر عام معافی مانگنا پڑی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : (یَعْتَذِرُوْنَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْھِمْط قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ أَخْبَارِکُمْط وَ سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہ ‘ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَن ھُمْط فَأَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ط إِنَّھُمْ رِجْسٌز وَّ مَاْوٰ ھُمْ جَھَنَّمُج جَزَآءً م بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْن۔ یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ج فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ) [ التوبۃ : 94 تا 96] ” جب تم ان کے پاس آؤ گے وہ تمہارے سامنے معذرت کریں گے۔ ان سے کہہ دیجیے بہانے نہ بناؤ ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کریں گے کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتلا دیے ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لیں گے پھر تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب حالات جانتا ہے وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔ “ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ میں عبداللہ بن ابی کو قتل کروں لیکن آپ نے مجھے یہ فرما کر منع کیا کہ اس طرح لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قتل کروانا شروع کردیا ہے۔ چناچہ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ آپ کی حکمت عملی کا یہ نتیجہ نکلا کہ منافقین ہمارے سامنے بےبس ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا وعدہ دنیا میں ہی پورا ہوا۔ [ البدایۃ والنہایۃ ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو مومنوں پر ہرگز فوقیت نہیں دے گا۔ 2۔ مسلمان فتح حاصل کریں تو منافق ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ 3۔ کفار فاتح بنیں تو منافق ان کے ساتھ ہمدری کا اظہار کرتے ہیں۔ 4۔ قیامت کو اللہ تعالیٰ سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن مسلمانوں کی کفار پر بالا دستی : 1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18 ) 2۔ مومن اور کافر برابر نہیں ہیں۔ (الانعام : 122) 3۔ مومن کافروں سے سربلند ہیں۔ (آل عمران : 55) 4۔ متقین قیامت کو سربلند ہوں گے۔ (البقرۃ : 212)
Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافق اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ انہیں فریب میں مبتلا کرتا ہے اور جب نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی غفلت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھلانے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کو بہت کم یاد کرتے ہیں

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

وہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان لٹکے ہوتے ہیں نہ پورے ان کی طرف اور نہ صحیح طور پر ان کی طرف۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو تم اس کے لیے کوئی راہ نہیں پاسکتے

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا کردار اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں۔ آدمی جب مسلسل دھوکہ اور فراڈ کرنے کا روّیہ اختیار کرلے اور اس پر اس کی گرفت نہ ہو تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال اور دلیری پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اس قدر ناپسند ہوتی تو مجھے ایسا کرنے کی اجازت اور طاقت نہ دیتا۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی مہلت دینے کے اصول کو بھول جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھناؤنے کردار میں آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اس کے لیے خود فریبی اور دھوکے کا باعث بنتی ہے اس مہلت کو وہ شخص اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف سمجھتا ہے حالانکہ مکڑی کے جالے کی طرح خود ہی اس میں پھنسا رہتا ہے۔ نماز میں سستی اور غفلت جسمانی کمزوری اور ذہنی پریشانی کی وجہ سے ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں جمائیاں لینے کو شیطانی عمل قرار دے کر اسے روکنے کا حکم دیا ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَال التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاۃِ مِنَ الشَّیْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَ بَ أَحَدُکُمْ فَلْیَکْظِمْ مَااسْتَطَاعَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی کراھیۃ التثاؤب في الصلاۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے آتی ہے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ پوری کوشش سے اسے روکے۔ “ نبی محترم ﷺ کا سستی سے پناہ مانگنا : (عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماجاء فی جامع الدعوات ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخیلی، مسیح الدجال کے فتنے اور عذاب قبر سے پناہ چاہتا ہوں۔ “ فطری سستی اور غفلت منافقت کے زمرہ میں نہیں آتی۔ منافق تو جان بوجھ کر نماز میں لاپرواہی اور غفلت اختیار کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں اخلاص کے بجائے کھوٹ ہوتا ہے۔ اسی سبب وہ اپنے اعتقاد اور عمل کے حوالہ سے اسلام کے بارے میں متذبذب رہتا ہے۔ نہ مسلمانوں سے مخلص ہوتا ہے اور نہ پوری طرح کفار کے ساتھ ہوتا ہے۔ کافر اور گنہگار کے لیے توبہ کی چار شرطیں ہیں (1) آئندہ گناہ کرنے سے رکنے کا عہد (2) سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا (3) گناہ پر شرمندگی اور ندامت (4) اگر کسی کا حق ضبط کیا ہو تو ادا کرے۔ جبکہ منافق کی توبہ کے لیے مزید دو شرائط رکھی گئی ہیں کہ توبہ اور اصلاح کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایمان باللہ پر اخلاص کے ساتھ استقامت اور اپنے دین میں مخلص ہوجائے۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ؓ أَنَّہٗ قَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی فِي الصَّلٰوۃِ عَنْ ثَلَاثٍ نَقْرِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاش السَّبُعِ وَأَنْ یُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ الْوَاحِدَ کَإِیْطَانِ الْبَعِیْرِ ) [ مسند احمد : کتاب مسند المکیین، باب زیادۃ فی حدیث عبدالرحمن بن شبل ] ” حضرت عبدالرحمن بن شبل انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں تین کاموں سے منع کیا۔ (1) کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا (2) درندے کی طرح بازو بچھانا۔ (3) اور اونٹ کی طرح ایک جگہ کو پکڑے رکھنا۔ “ مسائل 1۔ منافق دھوکہ باز اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر سے جی کترانے والا ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ 3۔ منافق نماز میں جان بوجھ کر سستی کرتا ہے۔ 4۔ منافق دکھلاوے کے لیے نیک عمل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافقین کی نماز : 1۔ نماز میں سستی۔ (الماعون : 5) 2۔ نماز میں ریا کاری۔ (الماعون : 6)
Ayahs 4:144–145

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے صاحب ایمان لوگو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی صاف حجت قائم کرلو ؟

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے کفر اور منافقین کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے قرآن مجید مسلمانوں کو بار بار حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ قلبی دوستی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ غیرت ایمانی اور ملّی مفاد کے خلاف ہے۔ کفار اور منافقین کے ساتھ معاشرتی، سیاسی اور کاروباری تعلقات رکھے جاسکتے ہیں لیکن انہیں اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھنا مسلمانوں کا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا کیونکہ یہ ملت اسلامیہ کے نقصان کے خواہاں، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں جس کا مشاہدہ میدان احد سے لے کر ہر دور میں کیا گیا ہے۔ 2003 ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کا فیصلہ کیا تو ابتداء میں روس سمیت کئی ملکوں نے مخالفت کی لیکن جونہی امریکہ نے انہیں مفادات کا لالچ دیا تو روس عراق کا پرانا حلیف ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اس طرح پوری دنیا کا کفر مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگیا۔ جب مسلمان کسی نکتہ پر اکٹھا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کفار مسلمانوں کو تنگ نظری کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم 1939 میں برطانیہ نے اپنے کئی شہریوں کو اس لیے حراست میں رکھا تھا کہ ان کے تعلقات جرمن قوم کے ساتھ پائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ متحدہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کا والد جو برطانوی بحری فوج کا اعلیٰ افسر تھا اسے بھی زیر حراست رکھا گیا کیونکہ وہ جاپان نژ اد تھا۔ حتی کہ جرمنوں کے ساتھ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے ملک میں بعض لوگوں کے ساتھ بھی یہی رویّہ اختیار کیا جب کہ اسلام کفار کے ساتھ دلی دوستی اور کفار کو مسلمانوں سے مقدم سمجھنے کے سوا ان کے ساتھ سیاسی معاشرتی اور کاروباری تعلقات رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ مسائل 1۔ کفار کو دوست بناکر ایمانداروں کو اپنے خلاف حجّت قائم نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور کوئی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 4:146–147

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑیں اور خالص اللہ ہی کے لیے دین اختیار کریں تو یہ مومنوں کے ساتھی ہیں اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت اجر عطا فرمائے گا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ اگر تم شکر گزار ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔ اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفر اور منافقت سے سچی توبہ اور اپنے کیے کی اصلاح کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ اور اس بات کی وضاحت کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے کفر پر نہیں شکر پر راضی ہوتا ہے کیونکہ وہ مومنوں اور شکر گزاروں کا قدر دان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ منافقوں کا کردار اور ان کا انجام ذکر کرنے کے باوجود ان کے لیے نہ صرف توبہ اور بخشش کا دروازہ کھلا رکھا بلکہ انہیں توبہ کرنے کی صورت میں انعام و اکرام اور مومنوں کی رفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مومنوں کے ساتھ اجر عظیم سے سرفراز کرے گا اور تمہارے اعمال و خدمات کی قدر افزائی کی جائے گی بشرطیکہ گناہوں پر اصرار کرنے کے بجائے توبہ کرو، فساد اور بگاڑ کی جگہ اپنی اصلاح کرتے ہوئے مومنوں کا ساتھ دو ، متذبذب رہنے اور ابن الوقت بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان کا مضبوط رشتہ قائم کرکے اس کی رضا کے لیے اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ۔ تمہارے عمل اور اخلاص کو نہایت ہی نظر استحسان سے دیکھا اور تمہیں بےپناہ اجر دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سزا دینے کی بجائے جزا دینا زیادہ پسند کرتا ہے بشرطیکہ وہ تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کریں۔ بندے کا شکریہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نعمتوں پر دل سے مطمئن ہو، زبان سے شکرو اعتراف کرے اور اپنے عمل سے محسن حقیقی کا اطاعت گزار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ کے شاکر ہونے سے مراد بندے کی حقیر اور ناچیز اطاعت کی قدر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرکے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہے۔ “ مسائل 1۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط رکھنے والے مومن کو اجر عظیم دیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو عذاب دے کر خوش نہیں ہوتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور شرک سے بچنے والے کی قدر افزائی کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اخلاص فی الدّین : 1۔ پہلے لوگوں کو اخلاص کا حکم۔ (البینۃ : 5) 2۔ نبی ﷺ کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (الزمر : 11) 3۔ سب کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (المومن : 65) 4۔ نبی کریم ﷺ کو مخلص لوگوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت۔ (الکہف : 28)
Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

” اللہ تعالیٰ بری بات کے اظہار کو پسند نہیں کرتا مگر جو مظلوم ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (148)

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یا برائی سے درگزر کرو تو یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (149)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں منافقوں کی دین اور مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نماز میں جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد تائب ہونے والوں کو قدر افزائی کا مژدہ سنایا۔ ہرزہ سرائی سے باز نہ آنے والوں کی ایذا رسانی کے مقابلے میں مومنوں کو ایک حدتک ان کے خلاف لب کشائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بد اخلاقی کے مقابلے میں بھی بدخلقی کو پسند نہیں کرتا لیکن انسان کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوا ہے اس لیے دشمن کی ایذا رسائی کے مقابلہ میں مظلوم اور دکھیارے مسلمانوں کو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو آشکار اکر سکیں تاکہ مظلوم کے ردّ عمل اور معاشرے کے اخلاقی دباؤ کی وجہ سے ظالم اپنے آپ میں شرمندگی محسوس کرتے ہوئے ظلم سے باز آجائے۔ دکھی انسان کو اس لیے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ غم میں اس کا دم گھٹنے نہ پائے اور اظہار غم سے اس کا دکھ ہلکا اور جذبات ٹھنڈے ہوجائیں۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور ان کے شاگرد رشید حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس فرمان میں مظلوم کو ظالم کے خلاف بد دعا کرنے کا مکمل حق دیا گیا ہے اور یہ بھی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بپتادوسروں کو سنائے اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکے۔ البتہ احتجاج کرتے ہوئے کسی مظلوم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اخلاقی حدوں سے تجاوز کرتے ہوئے ظلم کی حدود میں داخل ہوجائے کیونکہ قرآن کا طے شدہ اصول ہے۔ تاہم مظلوم کو بد زبانی کے مقابلہ میں لب کشائی کا حق دینے کے باوجود بردباری اور حوصلہ مندی کا سبق دیا ہے کہ تم اعلانیہ معاف کرو یا دل ہی دل میں اس تکلیف کی ٹیس کو برداشت کرو۔ اگر یہ نہیں ہو سکتا تو درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اس سے برائی بڑھنے کی بجائے دب جائے گی اور یہ اس لیے بھی بہتر ہے کہ جو لوگ منافقوں اور ان کی سازشوں کو نہیں جانتے وہ یہ پروپیگنڈہ بھی نہ کرسکیں گے کہ مسلمان آپس میں دست و گریبان ہیں جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور وقار کو دھچکا لگنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک موقعہ پر حضرت عمر ؓ نے عبداللہ بن ابی کی شرارتوں اور سازشوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے رسول کریم ﷺ سے اجازت طلب کی تھی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ بن ابی کا سر قلم کردوں لیکن آپ ﷺ نے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ لوگ کہیں گے (اِنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، بَاب نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا ...]” کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔ “ معافی اور درگزر کا سبق دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی چار صفات کا ذکر فرمایا ہے کہ تمہارا رب سب کچھ سننے اور جاننے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنے والا ہے۔ اس لیے اللہ والوں کی یہ شان ہونی چاہیے کہ وہ ظلم کا بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنے کی عادت اپنائیں۔ سننے اور جاننے کی صفت بیان فرما کر ظالم اور مظلوم کو آگاہ کیا ہے کہ ظالم کا ظلم اور مظلوم کی مظلومیت اللہ سے پوشیدہ نہیں اس میں ظالم کو انتباہ اور مظلوم کو ایک گنا تسلی دی گئی ہے۔ (قِیْلَ نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِیْ أَبِیْ بَکَرٍ ؓ ، فَإِنَّ رَجُلاً شَتَمَہٗ فَسَکَتَ مِرَاراً ، ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ فَقَام النَّبِیُّ ﷺ ، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ شَتَمَنِیْ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَیْہِ قُمْتَ ، قَالَ إِنَّ مَلِکًا کَانَ یُجِیْبُ عَنْکَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَیْہِ ذَہَبَ ذٰلِکَ الْمَلَکُ وَجَاء الشَّیْطَانْ ، فَلَّمْ أَجْلِسُ عِنْدَ مُجِیْءِ الشَّیْطَانِ ) (تفسیر الرازی) ” ایک موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ایک شخص بد زبانی کر رہا تھا تنگ آکر جناب ابوبکر صدیق ؓ نے اس جیسی زبان استعمال کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم صبر اور درگزر کر رہے تھے تو تمہاری طرف سے ایک فرشتہ جواب دے رہا تھا جب تم نے اس کا جواب دیاتو اس کی جگہ اب شیطان آگیا ہے۔ “ (رازی) آپ ﷺ کا فرمان ہے : (لَیْسَ الشَّدِید بالصُّرَعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الْغَضَبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب الحذر ] ” قوی اور طاقت ور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بری بات کو پسند نہیں کرتا۔ 2۔ مظلوم کی زبان سے نکلی ہوئی بری بات پر کوئی مؤ ا خذہ نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کس بات کو پسند نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ بےحیائی کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 22) 2۔ اللہ تعالیٰ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36) 3۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 107) 4۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : 64) 5۔ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : 142) 6۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 7۔ اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ القصص : 76) 8۔ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الروم : 45) 9۔ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الشوریٰ : 40)
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

” بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اسکے درمیان کوئی راستہ اختیار کریں۔ (150)

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

یہی لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ (151)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کے بعد کفار کی ایک اور قسم اور ان کے کفر کا بیان۔ یہاں کفار کے ایسے کفر کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے کچھ لوگ مخلص مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نبی آخر الزمان ﷺ یا کسی ایک نبی کا انکار کرتا ہے تو اسے اسلام سے خارج نہیں سمجھنا چاہیے ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایمان کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا حکم تسلیم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ایمان کا انسان سے مطالبہ کیا ہے اس کے کئی اجزاء ہیں جسے شرعی اصطلاح میں ایمان مفصّل کہا جاتا ہے جب تک ایمان کے تمام اجزاء کو تسلیم نہیں کیا جاتا کسی آدمی کو ایمان دار کہلوانے کا حق نہیں پہنچتا۔ ایمان کے تین بنیادی اجزاء ہیں ایمان باللہ، ایمان بالرسالت اور ایمان با لآخرت۔ یہ مجمل ایمان ہے باقی اجزاء اس کی تفصیل ہیں یہاں ایمان کے دوسرے بنیادی جزء یعنی ایمان بالرسالت کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ جو شخص کچھ انبیاء کو مانتا ہے اور کچھ یا کسی ایک کا انکار کرتا ہے اس کا ایمان نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ وہ حقیقت میں پکا کافر ہے۔ اس لیے کہ تمام کے تمام انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرنے والے تھے کسی ایک نبی کے منکر کو اس لیے بھی ایماندار تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ ہر نبی اور اس کی تعلیمات رسالت مآب ﷺ کی تصدیق کرتی ہیں لیکن انکار کرنے والا محض ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنیاد پر نبی آخر الزماں ﷺ یا کسی نبی کا انکار کرتا ہے یہ احمقانہ بات ہے اور اسلام ایسی حماقت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اسی بنیاد پر یہودی اور عیسائی کافر قرار پاتے ہیں کیونکہ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو نبی نہیں مانتے اور عیسائی رسالت مآب ﷺ کے منکر ہیں۔ کفر کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص قرآن کو مانتا ہے لیکن مستند حدیث کو یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ بس ہمیں قرآن ہی کافی ہے۔ ایسا شخص اللہ اور اسکے رسول کے فرامین کے درمیان تفریق پیدا کرتا ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسول کے درمیان تفریق ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے و الا شخص بھی دائرہ اسلام سے خارج تصور ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان پر کما حقہ عمل کرنے کے لیے نبی آخرالزمان ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے جس کی عملی تفسیر نمونہ حدیث ہے۔ جو رسول ﷺ کی تفسیر اور آپ کی سنت نہیں مانتا اسے کیونکر مسلمان تسلیم کیا جائے ؟ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان میں تفریق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی رَافِعٍ ؓ وَغَیْرِہٖ رَفَعَہُ قَالَ لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِءًا عَلَی أَرِیکَتِہٖ یَأْتِیہٖ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِہِ أَوْ نَہَیْتُ عَنْہُ فَیَقُولُ لاَ أَدْرِی مَا وَجَدْنَا فِی کِتَاب اللَّہِ اتَّبَعْنَاہُ ) [ روا ھ الترمذی : کتاب العلم ] ” حضرت ابورافع ؓ ان کے علاوہ اور صحابہ کرام ؓ بھی اس حدیث کو نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم سے کسی کو اس طرح نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرا کوئی فرمان آئے جس میں کسی چیز کا حکم یا کسی کام سے منع کیا گیا ہو تو وہ کہے میں اسے نہیں جانتا ہم تو فقط اس کی پیروی کریں گے جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ “ مسائل 1۔ کسی ایک نبی کا انکار کرنا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات میں تفریق کرنا کفر ہے۔ 3۔ کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن تفریق سے بچنا چاہیے : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے درمیان تفریق جائز نہیں۔ (النساء : 80۔ 150) 2۔ مومن انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ (البقرۃ : 285) 3۔ دین کو قائم کرو اور تفریق میں نہ پڑو۔ (الشوریٰ : 13) 4۔ مومن پہلی کتب آسمانی پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرۃ : 4) 5۔ بہت سے راستوں کی اتباع نہ کرو ورنہ تفریق میں پڑجاؤ گے۔ (الانعام : 154) 6۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑ لو اور تفریق سے بچو۔ ( آل عمران : 103) 7۔ تفریق اور اختلاف کرنے والوں کی طرح نہ ہوجاؤ۔ (آل عمران : 105) 8۔ مومن سب انبیاء پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرۃ : 285)
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

” اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہ کی یہی وہ لوگ ہیں کہ عنقریب اللہ انہیں ان کے اجردے گا اور اللہ بہت ہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (152)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین اور کفار کا ذکر کرنے کے بعد سچے اور پکے مسلمان کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ ایمان کامل کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ اپنے اپنے زمانے میں اللہ کے برگزیدہ رسول تھے اور انہوں نے ٹھیک ٹھیک طریقہ سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچایا۔ جس بنا پر مقام رسالت کے حوالے سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے انبیاء پر صحیح ایمان لانے کا تقاضا تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ جب جناب رسالت مآب محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم کیا جائے کیونکہ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کی نبوت کا اقرار کرچکے ہیں۔ (آل عمران : 81) انہوں نے اپنی اپنی امت کو یہی پیغام دیا تھا بالخصوص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کے لیے دعا کی اور آپ کی جائے نبوت کی نشان دہی فرمائی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو کہ آپ سے پہلے نبی ہیں انہوں نے بنی اسرائیل کو آپ کی تشریف آوری کی خوشخبری دی اور آپ کے اسم گرامی سے آگاہ فرمایا۔ لہٰذا جو لوگ اس طرح ایمان لائیں گے وہ اللہ کے ہاں بےحد و حساب اجر پائیں گے۔ بتقاضائے بشریت سرزد ہونے والی ان کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ ( رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمِ )[ البقرہ : 129] ” اے ہمارے رب ان میں ایک رسول بھیج جو انہی میں سے ہو وہ ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے بلاشبہ تو غالب اور حکمت والا ہے “ (وَإِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیٓ إِسْرَآءِیلَ إِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنْ م بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ )[ الصّف : 6] ” اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں یقیناً تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور پہلے سے نازل شدہ تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔ “ (وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَا قَ النَّبِیّٖنَ لِمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُ ٗ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَامَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ ) [ آل عمران : 81] ” اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا کہ اگر میں تمہیں کتاب و حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے تمہیں لازماً ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا تم اقرار کرتے ہو اور میرے اس عہد کی ذمہ داری قبول کرتے ہو ؟ انبیاء نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں “ ( عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبِّءُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذٰلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسیٰ (علیہ السلام) قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ )[ رواہ احمد ] ” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے اس وقت سے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں میری والدہ نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔ “ مسائل 1۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ بلا تفریق تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ 2۔ کامل ایمان والوں کے لیے بےحدو حساب اجر ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

” اہل کتاب آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کتاب اتارلائیں۔ یقینایہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں اللہ کو بالکل سامنے دکھلاؤ تو ان کے ظلم کی وجہ سے انہیں بجلی نے پکڑ لیا، پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا، حالانکہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں تو ہم نے ان سے درگزر کیا اور ہم نے موسیٰ کو واضح غلبہ عطا فرمایا۔ “ (153)

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب موقعہ بموقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم ﷺ کی نبوت پر اعتراض اٹھاتے رہتے تھے اسی سبب سے وہ آپ کی نبوت کا انکار اور انبیاء کے درمیان تفریق کرتے تھے جس کا سورة الانعام، آیت : 124 میں یہ جواب دیا گیا۔ کسی کو نبوت عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا کرتا ہے جس کے بارے وہی جانتا ہے کہ کون سے کندھے بار نبوت اٹھا سکتے ہیں اور کس کا سینہ انوار نبوت کو سما سکتا ہے اور کون سی زبان اس کا حق ادا کرسکتی ہے اہل کتاب کے اعتراض کا مقصد یہ تھا کہ نبوت ہماری بجائے اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کو نہیں ملنی چاہیے تھی اب اہل کتاب اس بات کو دوسرے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اے محمد کتاب تجھ پر نازل ہوئی ہے اور ہم پر نہیں اتری۔ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم پر کتاب نازل کی جائے اور اس میں ہمیں براہ راست ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ یہاں اس بیہودہ سوال کا جواب فقط اتنا ہی دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس سے بڑھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لایعنی سوال کرچکے ہیں۔ جب کوہ طور سے موسیٰ (علیہ السلام) لکھی ہوئی کتاب ان کے پاس لائے تو یہ کہنے لگے کہ ہم اس کتاب کی تصدیق تب ہی کرسکتے ہیں کہ جب ہم براہ راست اللہ تعالیٰ کو خود دیکھ لیں ہمیں یقین ہو کہ واقعی ہی اللہ تعالیٰ کوہ طور پر آکر آپ سے ہم کلامی کرتا ہے تب ان کے گستاخانہ مطالبے کی پاداش میں کڑک نے انہیں آلیا اور وہ اس وقت مرگئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے صلہ میں انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ (الاعراف : 155) اس جواب کے ساتھ ان کے جرائم پر مشتمل درج ذیل فرد جرم عائدکر دی گئی جس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ایسی باتیں کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کو بےمقصد سوال کرنے سے احتراز کرنے کی نصیحت کی گئی ہے اور یہود کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ تمہاری بھلائی اسی میں ہے ورنہ تمہارے آباؤ اجداد کی طرح تمہیں بھی نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ہاں تم وہی لوگ ہو جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے بڑے معجزات دکھائے جن میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کا چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنا، لاٹھی کا اژدہا بن کر جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل جانا، ملک کے جادو گر جو مصر کے چنے ہوئے دانشور تھے ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا، بنی اسرائیل یعنی تمہارا بحفاظت دریا عبور کرنا، فرعون اور اس کے لشکروں کا غرقآب ہونا۔ ان عظیم معجزات کے باوجود جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے تو تمہارا بچھڑے کو مشکل کشا اور معبود بنا ناان بڑے جرائم کے باوجود ہمارا تم کو معاف کردینا۔ یہودیوں کی گستاخیاں اور بےہودہ اعتراض : 1۔ سرور دوعالم ﷺ پر اعتماد اور یقین کرنے کے بجائے اپنے آپ پر کتاب نازل کیے جانے کا مطالبہ کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ 3۔ بچھڑے کو معبود بنانا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے پختہ عہد کو توڑنا۔ 5۔ سجدہ کرنے کی بجائے کلام اللہ کو بدلنا اور تمرد اختیار کرنا۔ 6۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنا۔ 8۔ انبیاء (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنا۔ 9۔ تعصب اور حسد کی وجہ سے اپنے دلوں کو ملفوف قرار دینا۔ 10۔ حضرت مریم [ پر بدکاری کا الزام لگانا۔ 11۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا دعوی کرنا۔ مسائل 1۔ بےمقصد سوال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل عطا فرمائے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو بار بار معاف کیا۔ تفسیر بالقرآن یہودیوں کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبات : 1۔ ہم اللہ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ (البقرۃ : 55) 2۔ ہم ایک کھانے پر اکتفا نہیں کرسکتے۔ (البقرۃ : 61) 3۔ گائے کے بارے میں بار بار سوال کرنا۔ (البقرۃ : 68) 4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے لیے پانی طلب کرنا۔ (البقرۃ : 60) 5۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقتول کے بارے میں سوال کرنا۔ (البقرۃ : 72) 6۔ قوم کا مختلف عذابوں سے نجات کے لیے درخواست کرنا۔ (الاعراف : 134)