4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفہم القرآن

Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں پالے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ انہیں فرما دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہوگیا کہ کوئی بات سمجھنے کے قریب نہیں آتے

فہم القرآن ربط کلام : جہاد وہی کرسکتا ہے جو موت سے ڈرنے والا نہ ہو۔ موت کا تعلق قتال کے ساتھ نہیں۔ موت کا وقت ‘ مقام اور سبب مقرر ہے۔ موت اپنے وقت اور مقام پر آئے گی چاہے کوئی قلعہ بند ہوجائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو زندگی عزیز، اولاد محبوب اور مال و جان پیارے ہوتے ہیں۔ لیکن مومن اور دوسروں کا فرق یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے حکم کو دنیا جہاں کی ہر چیز سے عزیز تر سمجھ کر بےخوف و خطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ گھر ہو یا باہر، امن ہو یا جنگ میرے لیے موت کا وقت اور جگہ مقرر ہے۔ پھر منافقوں کی طرح چھپنا اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹنے کا کیا مقصد ؟ یہ جذبہ اس کے دل سے موت کا خوف نکال دیتا ہے تبھی تو وہ چمکتی ہوئی تلواروں اور برستے ہوئے گولوں میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ موت اپنی مقررہ جگہ اور وقت کے بغیر ہرگز نہیں آسکتی۔ دنیا میں کتنے ہی سپہ سالار اور حکمران گزرے ہیں جن کی حفاظت کے لیے ہزاروں کمانڈوز حصار بنائے رکھتے تھے۔ لیکن جب موت کا وقت آیا تو کوئی بھی ان کی حفاظت نہ کرسکا۔ ماضی قریب میں امریکہ کا صدر کینیڈی گولی لگنے سے اس وقت ہلاک ہوا جب پولیس کے ہزاروں جوان، درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیاں اور انتہائی چاک و چوبند مسلح گارڈز اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ اس کے مقابلہ میں فلسطین کے صدر یاسر عرفات پر اسرائیل نے بارہا دفعہ سینکڑوں گولے برسائے یہاں تک کہ اس کے صدر مقام رملہ کا اسرائیل نے کئی مہینے محاصرہ کیے رکھا، مسلسل بمباری کی، اس کا دفتر اور رہائش کا بیشترحصہ تباہ ہوگیا لیکن موت یاسرعرفات کے قریب نہ پہنچ سکی، جب وقت آیا تو فرانس کے ایک ہسپتال سے اس کا جسد خاکی اٹھا۔ امریکہ جسے اپنے سیٹلائٹ سسٹم پر بڑا ناز ہے۔ اس کی انٹیلی جنس سے مرعوب ہو کر جنگی جغاوری بھی کہتے ہیں کہ امریکہ سے زمین پر گری ہوئی سوئی بھی نہیں چھپ سکتی۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ 2002 ء سے لے کر 2005 ء ختم ہوچکا ہے۔ افغانستان کا چپہ چپہ چھان مارنے ‘ بستیوں کی بستیاں تباہ کرنے کے باوجود امریکہ اسامہ بن لادن تلاش کرسکا اور نہ کروڑوں ڈالر کی پیش کش کے باوجود کوئی اسامہ کو قتل کرسکا۔ یہاں منافقوں کی ایک اور عادت بد کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان کو کوئی فائدہ اور اچھائی پہنچے تو کہتے ہیں یہ ہماری حسن تدبیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے۔ جب کوئی نقصان پہنچتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کو اذیت اور صدمہ پہنچانے کے لیے ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ یہ تمہاری بےتدبیری کا نتیجہ ہے۔ اے نبی ! انہیں فرمائیں کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا کرتا ہے۔ کوئی کسی کو نقصان پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ہمیں جد وجہد کرنے کی کیا مصیبت پڑی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے لیے لکھ چھوڑا ہے وہ ہو کر رہے گا دراصل یہ شیطان کا حربہ ہے جس کو استعمال کرکے یہ لوگ نیکی کے کاموں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ دنیا کے معاملات کے بارے میں بھی یہ عقیدہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں ؟ جہاں تک رسول گرامی ﷺ کا تعلق ہے آپ دنیا کے لیے رحمت اور محسن اعظم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ تو کسی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے بلکہ آپ تو انسانیت کی خاطر بڑی بڑی تکالیف اور نقصانات اٹھاتے رہے ہیں۔ منافق کیسے بد فطرت اور غیر دانشمند لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ مسائل 1۔ انسان قلعہ بندہو یا جہاں بھی چھپ جائے موت اسے دبوچ لے گی۔ 2۔ منافقوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ دوسروں کے ذمہ لگاتے ہیں۔ 3۔ ہر تکلیف بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ 4۔ منافق اور کافر حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تفسیر بالقرآن موت کا ایک دن مقرر ہے : 1۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : 145) 2۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : 154) 3۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : 168) 4۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء : 78) 5۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : 35) 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے۔ (الرحمن : 26، القصص : 88)
Ayahs 4:79–80

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی بدولت ہے۔ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو اس رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

فہم القرآن ربط کلام : نقصان پہنچنے پر منافق رسول کریم ﷺ کی ذات کو ذمہ دار ٹھہراتے اس ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی سبب اس کے ذاتی کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی مختار کل اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اس آیت میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ انسان کو پہنچنے والی اچھائی اور فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ جہاں تک برائی اور نقصان کا معاملہ ہے یہ انسان کی اپنی کوتاہی اور بےتدبیری کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو دنیا میں کسی کی غلطی سے درگزر فرمائے نہ چاہے تو کوتاہی کے بدلے سرزنش یا سزا کے طور پر آدمی کی گرفت فرمائے۔ یہی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید سمجھاتے ہوئے بیان فرمائی تھی کہ شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بیماری اپنی طرف سے ہوتی ہے۔ [ الشعراء : 80] یہاں یہ اصول سمجھانے کے بعد فرمایا اے رسول مکرم ! آپ کو دل چھوٹا کرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ خود لوگوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوئے یہ تو ہم نے آپ کو پوری انسانیت کی طرف اپنا پیغام دینے والا بنا کر بھیجا اور کھڑا کیا ہے۔ لوگ تمہاری رسالت کی گواہی دیں تو یہ ان کی خوش نصیبی ہے اگر یہ انکار کردیں تو تمہیں بھیجنے والا اللہ شہادت دیتا ہے کہ آپ اس کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت تمام شہادتوں سے بڑھ کر ہے کوئی گواہی اس کی گواہی سے بہتر اور معتبر نہیں ہوسکتی۔ اس کی گواہی کے بعد کسی گواہی کی ضرورت نہیں رہتی۔ در اصل لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس نے آپ کی اطاعت کی حقیقتاً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اے نبی ﷺ ! تمہیں ہم نے ان پر نگہبان اور دربان بنا کر نہیں بھیجا اور نہ ہی آپ سے سوال ہوگا کہ آپ کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کافر و مشرک کیوں رہے ؟ آپ کا کام تو بات سمجھانا اور پہنچانا ہے یہ فرض آپ کما حقہٗ پورا کر رہے ہیں۔ نفع و نقصان کے بارے میں نبی ﷺ کا عقیدہ اور فرمان : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلآی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں تو اللہ کے احکامات کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرنا اور یقین رکھ کہ اگر تمام لوگ تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائیں۔ وہ اتنا ہی نفع دے سکتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان دینے پہ تل جائیں۔ تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اچھائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نقصان انسان کی کوتاہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نفع و نقصان کا مالک نہیں بنایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر گواہ ہے۔ 4۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت حقیقت میں اللہ کی اطاعت ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تفسیر بالقرآن عالمگیر نبوت : 1۔ رسول اللہ ﷺ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : 158) 2۔ رسول اللہ ﷺ سب کے رسول ہیں۔ (سباء : 28) 3۔ رسول اللہ ﷺ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45) 4۔ رسول اللہ ﷺ رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107) 5۔ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

(منہ پر) یہ کہتے تو ہیں کہ اطاعت اختیار کرلی۔ جب تمہارے پاس سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت، تمہاری کہی ہوئی بات کے خلاف رات کے وقت جمع ہو کر مشورے کرتی ہے۔ ان کی راتوں کی سرگوشیاں اللہ لکھ رہا ہے۔ آپ ان سے اعراض فرمائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کافی ہے کارساز

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کے کردار کا تذکرہ جاری ہے۔ منافق کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ دوغلی بات کرتا ہے۔ منافق کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سامنے جی حضوری اور بعد میں اس کے الٹ بات کرتا ہے۔ یہی عادت آپ کے دور کے منافقوں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے رعب اور مسلمانوں کے ماحول سے مرعوب ہو کر اور ظاہری رکھ رکھاؤ کے لیے آپ ﷺ کے سامنے آتے تو ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتے کہ جن سے آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ واقعتا مخلص لوگ ہیں۔ لیکن جونہی آپ کی محفل سے باہرجاتے بالخصوص رات کے وقت خفیہ میٹنگوں میں مشورے کرتے کہ اسلام سے کس طرح چھٹکارا پائیں اور آپ کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے ؟ ان کی خفیہ مجالس کو طشت ازبام کرکے بتلایا جارہا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے اور کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے لکھ رہا ہے اور کراماً کاتبین ان کا ایک ایک لفظ اور تمام حرکات کو ضبط تحریر میں لا رہے ہیں۔ قیامت کے روز مکمل ریکارڈ ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ یہاں نہایت بلیغ انداز میں منافقوں کو ایسی حرکات سے بازرہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ایسی باتوں کے پیچھے پڑنے کے بجائے درگزر فرمایا کریں۔ کیونکہ صاحب عزیمت لوگ سفلہ مزاج لوگوں کی عادات سے صرف نظر ہی کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اپنا کام کرتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی پوری طرح حفاظت کرنے والا، کار ساز اور ان کی سازشیں ناکام کرنے والا ہے۔ مسائل 1۔ منافق لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں اطاعت کا اعلان کرتے جبکہ بعد میں انکار کرتے تھے۔ 2۔ لوگوں کے اعراض اور بےہودہ اعتراضات پر افسردہ ہونے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت سے اختلاف پاتے

فہم القرآن ربط کلام : اگر آدمی قرآن مجید کے نصائح اور فرمودات پر غور کرے تو اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ قرآن تضادات کے بجائے سیدھی اور صاف بات کہتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید پر آدمی مخلصانہ طریقہ پر غور اور عمل کرے تو وہ منافقت اور قول و فعل کے تضاد سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ کسی حقیقت کو منوانے کے لیے تحکم کی بجائے سوچ و بچار اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ توحید کی دعوت دی تو زمین و آسمان کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، سمندر کی لہروں اور تہوں گویا کہ بحروبر کی تمام نشانیوں کو پیش فرمایا یہاں تک کہ انسان کو اپنے آپ پر غور کرنے کا حکم دیا اور یہی دعوت قرآن مجید کے بارے میں دی ہے۔ یہاں منافقوں اور قرآن کے منکروں کے اس الزام اور شبہ کی تردید کے لیے خود قرآن ہی کو ان کے سامنے پیش فرمایا کہ آؤ قرآن کا ایک ایک لفظ پرکھو اور اس پر غور کرو۔ اگر تمہارے زعم کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی بجائے کسی اور کا کلام ہوسکتا ہے تو اس میں کسی قسم کے اختلاف، انحطاط اور تضاد کا ثبوت پیش کرو۔ لیکن تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے۔ ہاں یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں ضرور سینکڑوں اختلافات اور تضادات ہوتے۔ کیونکہ دنیا میں کوئی تحریک اور شخصیت ایسی نہیں جس کے مختلف ادوار اور خطابات و بیانات کو سامنے رکھا جائے تو وہ اونچ نیچ اور تضاد فکری سے خالی ہو۔ کسی لائق سے لائق انسان کی پوری زندگی کا کلام اخلاقی قدروں، علمی بنیادوں اور فکری ارتقاء کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوا کرتا۔ جبکہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ انگوٹھی کے نگینے کی طرح موزونیت لیے ہوئے ہے اس میں شہد جیسی مٹھاس، گلاب کے پھول سے بڑھ کر دلربائی ‘ چنبیلی کی خوشبو سے زیادہ کشش، دریا کے طوفان سے زیادہ جوش و خروش اور بجلی کے کڑکے سے زیادہ رعب پایا جاتا ہے۔ قرآن کے بیان کردہ واقعات تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو اس کا ہر لفظ صداقت کا آئینہ دار اور حق کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کی پیشگوئیوں کا ایک ایک حرف ٹھیک ثابت ہوا اور ہوتا رہے گا۔ اس کے بتلائے ہوئے معاشی، سیاسی اور سائنسی اصول و حقائق اپنی جگہ پر ہر دور میں مسلمہ رہے ہیں اور رہیں گے۔ ” یہ کتاب تیئس سال کے عرصۂ دراز میں وقفہ وقفہ سے نازل ہوئی۔ اس میں تضاد و اختلاف کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ وہ ہنگامہ خیز اور پُر آشوب عرصہ ہے جس میں داعی اسلام، اس کے ماننے والوں اور خود اس دعوت کو شدید قسم کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ظلم و ستم کے پہاڑ بھی توڑے گئے اور عقیدت و محبت کے پھول بھی برسائے گے۔ ایسے حالات بھی رونما ہوئے کہ ظاہر بیں نگاہوں کو یقین ہونے لگا کہ چراغ حق ابھی بجھا چاہتا ہے۔ ایسا دور بھی آیا کہ اس چراغ کو پھونکیں مار مار کر بجھانے والے وحشیوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑے۔ صلح بھی اور جنگ بھی، فتح بھی اور پسپائی بھی، خوف بھی اور امن بھی ہر قسم کے حالات روپذیر ہوئے۔ گوناگوں اور بو قلموں ادوار میں یہ کتاب نازل ہوتی رہی اور اس میں ایک بھی ایسی آیت کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی جس سے اسلام کے اصولوں میں تضاد کا شائبہ تک ہو۔ علامہ بیضاوی (رح) نے ایک جملہ میں سب کچھ بیان کر کے رکھ دیا۔ (من تناقض المعنی و تفاوت النظم) یعنی اس کی کوئی آیت نہ معنوی لحاظ سے دوسری آیت کے خلاف ہے نہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کوئی حصہ دوسرے حصہ سے فروتر ہے۔ یہ معانی و حقائق کا سمندر ہے جس کی لہروں میں آویزش نہیں اور جس کی ہر موج اور ہر قطرہ گل کا رنگ و بُولیے ہوئے ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کے کلام الہٰی ہونے کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ [ ضیاء القرآن ] تد بّرِ قرآن کی اہمیت قرآن مجید کی تلاوت کے جو آداب اور تقاضے مقرر کیے گئے ہیں ان میں ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ تلاوت کے دوران قرآن مجید کے الفاظ، انداز اور اس کے فرمان پر غور و خوض کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ تہجد میں تلاوت کے دوران قرآن مجید کے احکامات پر غور کرتے اور عذاب کی آیات پر اللہ تعالیٰ سے پناہ اور معافی طلب کرتے اور زاروقطار روتے۔ جب بشارت کی آیات پڑھتے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے حصول کے طلب گار ہوتے۔ قرآن مجید میں تدبّرو تفکّر کرنا حسب لیاقت ہر آدمی پر فرض ہے۔ تدبّرکے اصول قرآن مجید کے تدبر کے بارے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کا معنی اور مفہوم وہی متعین کرنا چاہیے جو قرآن مجید کے الفاظ کے سیاق وسباق اور دعوت قرآن کے مطابق ہو۔ جہاں مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آئے تو حدیث رسول کے ذریعے اس کا مفہوم متعین کرنا چاہیے۔ اگر قرآن و حدیث کے حوالے سے بھی بات سمجھنے میں دقّت محسوس ہو۔ جس کی گنجائش بہت کم ہے تو صحابہ کرام ؓ کے اقوال کے مطابق قرآن کا مفہوم لینا ہوگا۔ کیونکہ صحابہ ؓ براہ راست قرآن کے مخاطب تھے اور انہوں نے بلاو اسطہ رسول اللہ ﷺ سے قرآن پڑھا، سنا اور سمجھا تھا۔ محض عربی لغت اور ادبی محاورات کی بنیاد پر قرآن مجید کا معنی و مفہوم متعین کرنا قطعاً جائز نہیں۔ اس لیے علماء نے قرآن مجید سے مسائل اخذ کرنے اور اس کی تفسیر کے لیے کچھ اصول مقرر کیے ہیں۔ جب تک ان اصولوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ آدمی نہ صرف خود بھٹک سکتا ہے بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب ثابت ہوگا۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ دین اور قرآن پر علماء کی اجارہ داری چہ معنیٰ دارد ؟ ہر کسی کو قرآن و سنت سے مسائل کے استنباط کا حق ہونا چاہیے۔ اس مغالطہ کی عام طور پر دو وجوہات ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ اپنی سادگی اور اخلاص کی بنیاد پر جبکہ دوسرے اس زعم میں مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم علماء سے زیادہ سمجھدار اور پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا غور سے سوچاجائے تو دونوں قسم کے حضرات کا مطالبہ اور موقف دنیا کے مسلَّمہ اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ دنیا میں کونسا ایسا فن ہے جسے مستقل اختیار کرنے کے لیے استاد اور تجربہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا حکمت اور ڈاکٹری نہ جاننے والا مریض کا باقاعدہ علاج کرسکتا ہے ؟ اسے مریض کی جان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے ؟ کوئی معمولی عقل والا جان بوجھ کر اناڑی ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے کے لیے آمادہ ہوگا ؟ دور نہ جائیں ایک اَن پڑھ اور دیہاتی نے اپنا مکان بنانا ہو تو وہ کسی ناتجربہ کار کاریگر سے کچا مکان بنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ آپ دنیا میں کوئی ایسا تعلیمی ادارہ دکھا سکیں گے جس میں ریاضی کے ٹیچر کو اردو پڑھانے کے لیے اور انگلش جاننے والے کو عربی کا سبجیکٹ دیا جاتا ہو ؟ کیا ایسی اجازت دینے والے ادارہ کا سربراہ دانشور تسلیم کیا جائے گا ؟ نہیں ! تو پھر دین کا معاملہ اتنا عارضی اور ہلکا ہے کہ اس کی باقاعدہ تبلیغ و تدریس اور مسائل کے استدلال کے لیے ہر کسی کو اجازت دے دی جائے۔ اس کا یہ معنیٰ ہرگز نہیں کہ غیر عالم قرآن سمجھنے یا کسی کو مسئلہ بتلانے کی کوشش نہ کرے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی باقاعدہ تدریس و تبلیغ اور قرآن و سنت سے مسائل مستنبط کرنا چاہتا ہے تو اسے باضابطہ طور پر عربی جاننا اور قرآن و حدیث کا علم سیکھنا چاہیے ورنہ وہ گمراہی کا سبب بنے گا جس سے رسول اللہ ﷺ نے دوٹوک الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم ] دیہاتی کی غلط فہمی اور مفکر اسلام حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا جواب بسا اوقات اپنی کم فہمی اور علمی کم مائیگی کی بنیاد پر آدمی قرآن مجید میں تضادات محسوس کرتا ہے۔ ایسا ہی تأثر اس اعرابی کا تھا جس نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے سامنے یہ اعتراضات کئے کہ دیکھئے اس مقام پر قرآن مجید میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ اسے کیا خبر تھی کہ میں جس شخصیت کے سامنے یہ اعتراضات رکھ رہا ہوں اسے تو سرور دو عالم ﷺ نے فہم دین کی دعا دی تھی جس کی برکت سے وہ مفکر اسلام ہوئے۔ چناچہ جب حضرت ابن عباس ؓ نے ایک ایک کر کے تسلی بخش جواب دیے تو اعرابی پکار اٹھا کہ واقعی قرآن مجید میں کسی قسم کے تضاد اور اختلاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کے انشراح صدر اور دلچسپی کے لیے من و عن اس مکالمے کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک آدمی نے کہا کہ قرآن میں کئی آیات ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ پھر اس نے قرآنی آیات کا اختلاف پیش کیا کہ ایک آیت میں ہے کہ قیامت کے دن لوگ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے دوسری آیت میں ہے کہ وہ آمنے سامنے آکر ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ ایسے ہی ایک آیت میں ہے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا نہیں سکے گا۔ دوسرے مقام میں ہے کہ مشرک کہیں گے کہ ہمارے رب ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر ایک آیت میں آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ذکر کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری آیت میں زمین کی پیدائش کا آسمان سے پہلے ذکر ہوا ہے۔ ایک اور مقام میں ہے اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والا غالب، حکمت والا، سننے والا اور جاننے والا تھا گویا کہ اب نہیں۔ ان اعتراضات کا جواب عبداللہ بن عباس ؓ نے اس طرح دیا کہ جس آیت میں ہے کہ لوگ آپس میں سوال نہیں کریں گے۔ وہ پہلے نفخہ کا ذکر ہے اور جس آیت میں ایک دوسرے سے سوال کرنے کا تذکرہ ہے وہ دوسرے نفخہ کے بعد ہوگا۔ وہ جو کہیں گے کہ ہمارے مالک ہم مشرک نہیں تھے۔ تو یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو بخش دیں گے تو مشرک آپس میں کہیں گے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کو کہتے ہیں کہ ہم نے شرک نہیں کیا تھا۔ اس وقت ان کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں بولیں گے۔ جب مجرم جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کو چھپایا نہیں جاسکتا تب کافر کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے ! ! ! زمین و آسمان کی پیدائش میں اختلاف کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے زمین کو دو دنوں میں پیدا فرما کر پھر آسمان کو پیدا کیا آسمان کو دو دنوں میں برابر کر کے زمین کو پھیلایا اس میں سے پانی ‘ پہاڑ ‘ ٹیلے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے دو دنوں میں بنایا لہٰذا زمین اور اس کی تمام اشیاء چار دن اور آسمان دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ آخری اعتراض تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ماضی میں تھیں اب نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ازل سے ہی یہ اللہ کی صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ یہ سارا قرآن اللہ کی طرف سے ہے تجھے اس میں اختلاف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ ونفخ فی الصور .....] مسائل 1۔ قرآن مجید میں تدبر و تفکّر کرنا چاہیے۔ 2۔ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اس میں تعارض نہیں پایا جاتا۔ 3۔ قرآن مجید اگر اللہ تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں بیشمار اختلافات پائے جاتے۔ تفسیر بالقرآن قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے : 1۔ قرآن کے بارے میں کفار کا الزام۔ (الفرقان : 4) 2۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء : 192) 3۔ قرآن کسی کاہن و شاعر کا کلام نہیں۔ (الحاقہ : 41، 42) 4۔ یہ شیطان کی شیطنت سے پاک ہے۔ (التکویر : 25)
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

جب انہیں کوئی امن یا خوف کی خبر ملتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ اس کی اصلیت معلوم کرلیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو چند ایک کے علاوہ تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے

فہم القرآن ربط کلام : منافق اپنی دوغلی پالیسی اور فکر کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی دوغلے پن سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کے ذریعے مسلمانوں میں دھڑے بندی کردی جائے۔ مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے اور مسلمانوں کے اعصاب توڑنے کے لیے افواہ سازی اور جھوٹی خبروں کا ایک سلسلہ قائم کر رکھا تھا۔ یہ لوگ اہل مکہ کی معمولی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ کبھی کفار کی طاقت کا معمولی تأثر دیتے کہ مسلمان جوابی کاروائی کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کریں۔ بسا اوقات معمولی معاشرتی واقعہ کو ایسے رنگ میں پیش کرتے کہ مسلمانوں کے اخلاقی نظام کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں۔ انہی افواہوں کا شاخسانہ تھا کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایک سفر کے دوران رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے اپنے خیمے سے نکل کر باہر تشریف لے گئیں وہاں ان کا ہار گم ہوگیا۔ اس کی تلاش میں واپس لوٹنے میں تاخیر ہوئی جب اپنی جائے قیام پر واپس تشریف لائیں تو قافلہ کوچ کرچکا تھا۔ آپ دوسرے صحابی کی سواری پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ شامل ہوئیں۔ اس دوران وہ صحابی اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلتا رہا اور آپ دوپہر کے وقت قافلے سے آملیں۔[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، لولا إذسمعتموہ ظن المومنون والمومنات بأنفسھم خیرا ] اتنے سے واقعہ کو منافقین نے ایسا رنگ دیا کہ جس نے کچھ دنوں کے بعد ایک تہمت اور مہم کی شکل اختیار کرلی جس کی تفصیل اور برأت سورة نور میں بیان ہوئی ہے۔ اس قسم کے واقعات کی تحقیق اور افواہوں کے منفی اثرات ختم کرنے اور ان کی روک تھام کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصول اور طریقۂ کار عطا فرمایا ہے کہ افواہ اچھی ہو یا خوفزدہ کرنے والی بالخصوص جنگ کے دوران اس کی چھان بین اور تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ ملک وملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی خبروں کو رسول معظم ﷺ اور ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کرنا لازم ہے تاکہ وہ اس کی تحقیق اور اس کے نفع و نقصان اور حسن و قبح پر غور کرسکیں۔ لہٰذا عوام الناس کا فرض ہے کہ ایسی باتوں کو آگے پھیلانے کے بجائے متعلقہ اور ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ جس معاشرے اور قوم میں اس قسم کا نظام قائم نہ ہو اسے کسی وقت بھی معاشرتی، سیاسی اور حربی نقصان ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نقصان سے بچانے کے لیے سورة نور میں مسلمانوں کو تین مرتبہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو دنیا و آخرت میں تم عذاب عظیم میں مبتلا کیے جاتے اور چند لوگوں کے سوا باقی شیطان کے پیچھے چل پڑتے ‘ دوسرے لفظوں میں افواہ سازی اور اس پر یقین کرنا شیطانی کام ہے۔ آج یہ شیطانی دھندہ سائنسی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کروڑوں ڈالر ایجنسیوں، اداروں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لگائے جارہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں متزلزل اور ان کے اخلاق کو بگاڑا جاسکے۔ افسوس ! کہ مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں جو ایسے اداروں کا مؤثر جواب دے سکے۔ جب کہ قرآن مطالبہ کر رہا ہے کہ اس قسم کی خبروں، افواہوں اور پروپیگنڈہ کے توڑ کے لیے افراد ہونے چاہییں جو منفی اثرات سے مسلمانوں کو بچاسکیں۔ یہاں اسلامی صحافت کے لیے بھی رہنمائی ملتی ہے کہ وہ ہر خبر کی بلا تحقیق اشاعت کرنے سے پرہیز کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ) [ رواہ مسلم : کتاب المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث ....] ” آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔ “ مسائل 1۔ منافق اور غیر ذمہ دار لوگ مسلمانوں میں افواہیں پھیلاتے ہیں۔ 2۔ افواہیں پھیلانے کے بجائے معاملہ کتاب و سنت اور صاحب علم لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر آدمی ہر وقت گمراہ ہوسکتا ہے۔ 4۔ شیطان آدمی کو ہر وقت گمراہ کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن افواہیں اڑاناجرم ہے : 1۔ بلا تحقیق بات کرنا ندامت کا باعث بنتا ہے۔ (الحجرات : 6) 2۔ منافق افواہیں پھیلاتے ہیں۔ (النساء : 83) 3۔ بےبنیاد افواہوں اور جھوٹے الزمات لگانے کی سزا۔ (النور : 4)
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہو۔ آپ صرف اپنی جان کے مکلف ہو۔ ہاں ایمان والوں کو بھی تیار کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کافروں کی جنگ کو روک دے گا۔ اللہ تعالیٰ سخت قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : بیٹھ رہنے والوں سے مجاہد افضل ہے۔ لہٰذا افضل کام کو اپنانے اور جہاد کو مضبوط رکھنے کے لیے رسول معظم ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو چوکس و مستعد رکھ کر مسلمانوں کو ہر دم قتال کے لیے آمادہ و تیار رکھیں۔ مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے جہادی خطاب کا آغاز یوں کیا تھا کہ اپنے بچاؤ کے لیے ہر وقت اسلحہ پکڑے رکھو اور جنگی حالات کے مطابق گوریلا جنگ کرو یا پورے کے پورے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ پھر منافقوں کی عادات کا ذکر کیا کہ وہ ابن الوقت اور اپنے مفاد کے بندے اور تمہارے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا اللہ کی راہ میں تمہیں لڑنا چاہیے۔ چاہے کمزور ہو یا طاقت ور اور جو بھی رسول معظم ﷺ کی اطاعت کرے گا حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کا تابع فرماں اور مطیع ہوگا۔ اب رسول محترم ﷺ کو براہ راست اللہ کے راستے میں لڑنے کا یہ کہہ کر حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ مومنوں کو قتال کے لیے ترغیب دیں اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر تنہا نکلنا پڑے تو نکلیں۔ گویا کہ پہلے مجاہدین کو خطاب تھا اور اب ان کے کمانڈر کو حکم دیا ہے پھر تسلی اور خوشخبری دی ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کفار کو بےبس کر دے گا۔ وقت آنے والا ہے کہ جب منافقوں کی سازشیں اور کفار کی شرارتیں دم توڑ جائیں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی طاقت والا اور لڑنے میں جری نہیں ہوسکتا۔ دشمن کی جارحیت سے بچنے کے لیے یہ بنیادی اصول ہے کہ قوم کو ہر دم چوکس، مستعد اور چاک و چوبند رکھنے کے لیے قوم کے ذمہ دار اور فوج کے عہدہ دار نمونے کے طور پر اپنے آپ کو مرنے مارنے کے لیے تیار رکھیں۔ تب جا کر فوج اور قوم کے ایک ایک فرد میں دشمن کے خلاف صف آراء ہونے کا جذبہ اور ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ولولہ انگیز جذبات کا یوں اظہار فرمایا : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْلَآ أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَاتَطِیْبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنِّيْ وَلَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْفِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُّ أَنِّیْ أُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد، باب تمنی الشھادۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ایمانداروں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہیں اور میرے پاس اتنی سواریاں نہیں کہ میں ان کو سوار کروں تو میں کسی غزوہ سے بھی پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کردیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کردیا جاؤں پھر زندہ کردیا جاؤں پھر شہید ہوجاؤں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا ےُکْلَمُ أَحَدٌ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُّکْلَمُ فِیْ سَبِےْلِہٖٓ إِلَّا جَآءَ ےَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہٗ ےَثْعَبُ الَلَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّےْحُ رِےْحُ مِسْکٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل الجھادو الخروج فی سبیل اللّٰہِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوجاتا ہے اور یہ اللہ جانتا ہے کہ حقیقتاً کون اس کے راستے میں زخمی ہوا تو وہ زخمی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا ‘ اس کا رنگ خون جیسا ہوگا مگر اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ وَلَمْ ےَغْزُ وَلَمْ ےُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِّنْ نِّفَاقٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃِ ، باب ذم من مات ولم یغزولم یحدث نفسہ بالغزو ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس نے نہ تو جہاد کیا اور نہ ہی دل میں جہاد کا خیال لایا تو وہ منافقت کی ایک قسم پر فوت ہوا۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کے سربراہ کو لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرنا چاہیے۔ 2۔ مسلمان مر مٹنے کے لیے تیار ہوجائیں تو اللہ کافروں کا زور توڑ ڈالے گا۔ تفسیر بالقرآن جہاد کی ترغیب : 1۔ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دلائیے۔ (الانفال : 65) 2۔ مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد کیجیے۔ (النساء : 75) 3۔ کفارکو ایسی مار مارو کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں۔ (الانفال : 57)
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے اسے بھی اس سے حصہ ملے گا۔ اور جو برائی کی سفارش کرے اس پر اس کا بوجھ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کے لیے مسلمانوں کو ابھارنا اور دین کی نشرو اشاعت کی تبلیغ کرنا بھی جہاد ہے۔ جہاد کے دوران پیدا ہونے والے ضمنی مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے جہاد کی ترغیب اور دین کی تبلیغ کو اچھی سفارش اور اس کوشش کو جہاد کا حصہ شمار کیا ہے۔ کیونکہ ترغیب دلائے بغیر کوئی آدمی لڑنے مرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ترغیب اور تبلیغ کو قرآن مجید نے سورة الفرقان آیت 52 میں جہاد کبیر قرار دیا ہے۔ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] اسے یہاں سفارش کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اس میں رسول اللہ ﷺ اور نیکی کی سفارش کرنے والے ہر شخص کو تسلی اور مسلسل ملنے والی جزائے خیر کی خوش خبری دی گئی ہے بشرطیکہ وہ خود بھی حتی المقدور اس پر عمل کرنے والا ہو۔ سفارش کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں۔ نیکی اور خیر کے کام کے لیے کسی کو آمادہ اور تیار کرنا ‘ اس کے مقابلے میں برائی کی سفارش اور اس کی ترغیب دینا۔ نیکی کی سفارش اور تبلیغ پر مسلسل اور برابر ثواب ملتا رہتا ہے جبکہ برائی پر آمادہ کرنا یا اس کی سفارش اور ترغیب دینے والا اس کے گناہ میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اور تنبیہ کے طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران ہے۔ سفارش کے مطابق ہر شخص جزاء و سزا پائے گا لہٰذا سفارش سمجھ سوچ کر کرنی چاہیے۔ غلط سفارش مجرم کی رہائی کے لیے ہو یا کسی نااہل کو منصب دلانے کی خاطر ہو جائز نہیں کیونکہ مجرم کی سفارش کرنے سے جرائم کی حوصلہ افزائی اور مظلوم پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ جس قوم میں یہ سلسلہ عام ہوجائے اس کا تباہی کے گھاٹ اترنا یقینی ہوجاتا ہے۔ جہاں تک کسی نااہل آدمی کو نوکری اور منصب دلانے کا معاملہ ہے اس سے حقدار کا حق تلف ہونے کے ساتھ آہستہ آہستہ پورا نظام ہی بگاڑ اور کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے۔ نااہل اور کرپٹ شخص جتنے بڑے منصب پر ہوگا اتنا ہی ملک و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کی سفارش قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ایسی سفارش کرنے سے منع کیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ! أَلَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلیٰ مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا أَبَا ذَرٍّ ! إِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَإِنَّھَآ أَمَانَۃٌ وَإِنَّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَّنَدَامَۃٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَھَا بِحَقِّھَا وَأَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب کراھۃ الإمارۃ بغیر ضرورۃ ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے عامل یا عہدیدار نہیں بنائیں گے ؟ آپ نے میرے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا ابو ذر ! آپ کمزور ہیں اور یہ عہدہ امانت ہے جو روز قیامت باعث ذلّت اور ندامت ہوگا۔ بچے گا وہی جس نے اس کا حق ادا کیا اور اس کو فرض سمجھا۔ “ عَنْ أَبِیْ مُوْسیٰ ؓ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ عَمِیْقٍ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَیْنِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَمِّرْنَا عَلٰی بَعْضِ مَاوَلَّاک اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ إِنَّا لَا نُوَلِّیْ عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَہٗ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب النھی عن طلب الإمارۃ والحرص علیھا ] ” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور بنو عمیق کے دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے کہا اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے جو علاقے آپ کے سپرد کیے ہیں ان پر ہمیں بھی والی بنائیں دوسرے نے بھی عہدے کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہم یہ عہدے کسی مطالبہ کرنے اور اس کا لالچ رکھنے والے کو نہیں سونپتے۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی ....] ” جس نے کسی نیکی کے کام کی رہنمائی کی اس کو نیکی کرنے والے کے برابر اجر وثواب ملے گا۔ “ مسائل 1۔ نیکی کی سفارش اور تبلیغ کرنے والے کو مسلسل اور برابر حصہ ملتا رہتا ہے۔ 2۔ برائی کی سفارش اور اشاعت کرنے والا برائی میں برابر کا ذمہ دار ہوگا۔ تفسیر بالقرآن نیکی اور برائی کی سفارش کا صلہ : 1۔ نیکی کی سفارش پر اجر۔ (النساء : 85) 2۔ برائی کی سفارش پر سزا۔ (النساء : 85)
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یقیناً تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوسکتا ہے ؟

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کا معنٰی ہر وقت اور ہر کسی سے لڑنا نہیں بلکہ جو بھی اسلام اور مسلمانوں کی طرف مائل ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ہے۔ فرمایا جو تمہیں ہدیہ دے تو تم بھی اسے اس سے بہتر یا اس جیسا تحفہ دو ۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر محاسب و نگہبان اور وہی معبود برحق ہے۔ جو تمہیں دنیا میں پیار، محبت اور توحید کی بنیاد پر اکٹھا رہنے کا حکم دیتا ہے۔ وہی قیامت کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا۔ لوگوں کو جمع کرنے اور قیامت کے آنے میں ذرہ برابر شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا اور اس سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا سچ سنو، اسے قبول کرو اور اس پر قائم ہوجاؤ۔ یہاں تحفہ سے مراد مفسرین نے دو قسم کے تحائف لیے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عام تحائف کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانو ! ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو کیونکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ [ مؤطا امام مالک : کتاب الجامع، باب ماجاء فی المھاجرۃ ] لیکن تحائف کے تبادلہ میں ایک بات نہایت ضروری ہے کہ اس میں تکلف نہیں ہونا چاہیے۔ تکلف ایک دوسرے کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ دیرپا نہیں چلتا۔ ایسے تحائف میں نمائش کا عنصر غالب اور بسا اوقات فخر و غرور پیدا ہوتا ہے۔ جس سے محبت کی بجائے نفرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مسلمان کو اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم اور تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں مفسرین نے تحفہ سے مراد ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنا بھی لیا ہے۔ ایک دوسرے کو سلام کہنے کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جونہی آدم (علیہ السلام) نے آنکھیں کھولیں اور اپنے وجود میں جنبش محسوس کی تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے آدم وہ ملائکہ کا ایک گروہ بیٹھا ہوا ہے ‘ تم جاؤ اور انہیں سلام کرو۔ جواب میں ملائکہ جو الفاظ استعمال کریں گے وہی تیری اولاد کے لیے ملاقات کا طریقہ اور اسلوب مقرر کیا جائے گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جواب میں فرشتوں نے ” وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ “ کے الفاظ کہے “ [ رواہ البخاری : أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم وذریتہ ] اس گھڑی سے لے کر ملاقات کا یہی طریقہ پسند کیا گیا۔ اس لیے ہمیں ادھر ادھر کے الفاظ کہنے کے بجائے فطری اور طبعی طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس میں اس قدر جامعیت ہے کہ ایک دوسرے کے لیے ہر لحاظ سے خیر سگالی کے جذبات، خیالات اور دعائیہ کلمات کا اظہار ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب اور سوسائٹی میں ملاقات کے وقت اس قدر سلامتی کے جامع الفاظ اور جذبات نہیں ہوتے۔ دنیا میں ہر قوم کے ایک دوسرے سے ملنے کے کچھ آداب ہیں۔ جن سے باہم خیر سگالی اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب کے مقابلے میں ہر قوم کے آداب میں وقتی اور جزوی جذبات کا اظہار ہے۔ ہندو ملنے کے وقت پر نام یعنی ہاتھ جوڑ تے ہیں، انگریز گڈ مارننگ اور گڈنائٹ کے الفاظ کہتے ہیں، مجوسی صرف جھکتے ہیں، یہودی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہیں، عیسائی منہ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ نبوت سے پہلے عرب صباح الخیر وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ جب کہ اسلام کی تہذیب یہ ہے کہ ملاقات کے وقت ” السلام علیکم و رحمۃ اللہ “ کہا جائے۔ یہ کلمات پورے دین کے ترجمان اور ہر لمحہ سلامتی کی دعا ہے اور جنتی جنت میں ایک دوسرے سے انہی کلمات کے ساتھ ملاقات کریں گے اور جنت میں ہر جانب سے سلامتی کی صدائیں بلند ہوں گی۔ [ یونس : 10] اس حقیقت کی ترجمانی نبی اکرم ﷺ کے الفاظ سے اور زیادہ نمایاں ہوتی ہے کہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ملاقات کرے تو اس کے چہرے پر تبسم اور مسکراہٹ ہونی چاہیے اور اس کو انسانی جسم کی سخاوت قرار دیا : (أَنْ تَلْقَ أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلہ، باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء ] ” کسی کو خوش روئی سے ملنا بھی نیکی ہے۔ “ مسلمانوں میں باہمی الفت و عقیدت، احترام و اکرام کو فروغ دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ ملانے یعنی مصافحہ کرنے کی فضیلت کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا : (إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَلَھُمَا) [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الأدب ] ” جب دو مسلمانوں کی باہم ملاقات ہو اور وہ مصافحہ کریں اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنے لیے مغفرت طلب کریں تو ان دونوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ “ کچھ مدّت کے بعد ملنے پر بغل گیر ہونا اسلامی معاشرت کا حصہ قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے ہاں آنے کا پیغام بھیجا میں گھر میں موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا (وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ فَالْتَزَمَنِیْ فَکَانَتْ تِلْکَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ ) آپ ﷺ اپنی چار پائی پر بیٹھے میرے ساتھ بغلگیر ہوئے۔ آپ کا ملنا بہت ہی اچھا تھا۔ [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الأدب، باب فی المعانقۃ ] پھر ملاقات کے آداب میں مسلم معاشرے کو رعونت و غرور اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ اصول لاگو فرمایا کہ سوار پیدل کو اور چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے۔ اگر یہی اصول ٹھہرایا جاتا کہ ہر حال میں چھوٹا بڑے کو ‘ کمزور طاقتور کو اور محکوم حاکم کو سلام کرے تو مسلم سوسائٹی واضح طور پر طبقاتی کشمکش کا شکار ہوجاتی۔ آپ کا ارشاد ہے۔ (یُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ عَلَی الْقَاعِدِ وَالْقَلِیْلُُ عَلَی الْکَثِیْرِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الإستئذان، باب ماجاء فی تسلیم الراکب علی الماشی ] ” سوار پیدل کو اور چلنے والا بیٹھنے والے کو، تھوڑے زیادہ کو دوسری حدیث میں ہے کہ چھوٹا بڑے کو اسی طرح آنے والا پہلے سے موجود کو السلام علیکم کہے۔ “ ہاں اگر ملنے والے ایک جیسی حالت میں ہوں تو احترام کی طبعی اور بین الاقوامی قدروں کا بھی خیال رکھا گیا کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے تاکہ مسلم معاشرہ ادب و احترام کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکے۔ اونچ نیچ کے مرض کے تدارک کے لیے یہ اصول بھی وضع فرمایا کہ کوئی سر جھکا کر نہ ملے اس سے بندگی کا انداز ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد عالی ہے : (لَوْکُنْتُ اٰمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ ) [ رواہ ابو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ] ” اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے سر جھکائے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کے سامنے سجدہ کیا کریں۔ “ مسائل 1۔ تحفہ کے بدلے میں بہتر تحفہ دینا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ قیامت کے دن سب کو اکٹھاکرے گا۔ 3۔ قیامت برپا ہو کر رہے گی۔ 4۔ اللہ کے فرمان سے کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی۔ تفسیر بالقرآن تحائف کا تبادلہ کرتے رہیں : 1۔ احسان کا بدلہ احسان۔ (الرحمان : 60) 2۔ احسان کا بہتر بدلہ دینا چاہیے۔ (النساء : 86)
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے الٹا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے گمراہ کردہ لوگوں کو راہ راست پر لاکھڑا کرو ؟ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تم اس کے لیے کوئی راہ ہرگز نہیں پاسکتے

فہم القرآن ربط کلام : منافق مسلمانوں میں بزدلی اور انتشار پیدا کرتے ہیں ‘ جس سے مسلمانوں کو چوکنا اور بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ مکہ معظمہ اور اس کے گردونواح میں ایسے لوگ اور قبائل موجود تھے جو دنیاوی اغراض اور تعلق داری کی بنا پر کفار کے ساتھ مسلمانوں سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ جب ہجرت کا فیصلہ کن حکم آیا کہ دارالکفر کو چھوڑ کر سب مسلمان دارالاسلام مدینہ میں جمع ہوجائیں تاکہ طاقت مجتمع، مرکز مضبوط، اور دین پر عمل کرنے کیلئے بہتر ماحول پاسکیں تو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بجائے کفار کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ مدینہ میں رہنے والے منافقین کی حالت بھی یہی تھی کہ جب کبھی فیصلہ کا وقت آتا تو ان کی ہمدردیاں کفار اور یہود و نصاری کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ جس کا مظاہرہ وہ غزوۂ احد کے وقت کرچکے تھے۔ جو نہی مسلمانوں سے مشکل وقت گزر جاتا تو یہ لوگ قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کرتے جس سے کئی سادہ لوح مسلمان متاثر ہو کر ان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق میں اپنے ساتھیوں سے بحث کرتے تھے۔ اس صورت حال سے مسلمانوں کے درمیان فکری انتشار ہی نہیں بلکہ دو جماعتیں بننے کا خطرہ پیدا ہوگیا جس پر یہ کہہ کر توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم منافقین کے بارے میں آپس میں ایک رہنے کے بجائے دو ہوتے جارہے ہو۔ کیا منافقین کی خاطر باہمی محبت کمزور اور اتحاد کو پارہ پارہ کرلو گے ؟ حالانکہ انہوں نے تمہارے مقابلے میں کفار کو ترجیح دی ہے۔ تم انہیں مخلص سمجھتے ہو جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اندرون خانہ تمہیں گمراہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ کیا تم ایسے لوگوں کو ہدایت دینا چاہتے ہو جو ہدایت حاصل کرنے کے بجائے تمہیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ؟ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہی میں زیادہ کردیا اور انہیں اسی طرف پھیر دیا ہے جدھر وہ رہنا اور جانا پسند کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی بھی ہدایت پر نہیں لاسکتا۔ مسائل 1۔ مسلمانوں کو منافقوں کی حمایت کرنا جائز نہیں۔ 2۔ منافق کو اس کے کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ الٹا کردیتا ہے۔ 3۔ جسے اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں تم بھی ان کی طرح ہوجاؤ۔ تاکہ سب برابر ہوجائیں پس جب تک یہ اللہ کے راستہ میں ہجرت نہ کریں ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ۔ پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ سمجھو

فہم القرآن ربط کلام : منافق حقیقتاً کافر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو اسے اس طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اس سے قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ منافقوں کو ہرگز دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی رضا کے لیے ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں حالت جنگ میں جہاں پاؤ ‘ پکڑو اور قتل کر دو ۔ ایسے لوگوں کو اپنا دوست اور مددگار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ہجرت کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : (وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب المسلم من سلم المسلمون ] ” مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ “ کن حالات میں ہجرت کا حکم ہے ؟ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا کہ مقصد حیات (ایمان) کے لیے ہر چیز قربان کردینا ہی کامل ایمان کی نشانی ہے۔ ایسے ہی جذبات کا مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ (یٰعِبَادِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ أَرْضِيْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّايَ فَاعْبُدُوْنِ ) [ العنکبوت : 56] ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ! میری زمین بہت وسیع ہے بس تم میری بندگی کئے جاؤ۔ “ اس آیت مبارکہ میں و اضح اشا رہ موجود ہے اگر مکہ میں اللہ کی بند گی کرنا مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ۔ ملک خدا تنگ نیست۔ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے جہاں بھی تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکتے ہو و ہاں چلے جاؤ۔ (عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّۃِِ وَإِنَّمَا لِإِمْرِیءٍ مَانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ إِلٰی مَاھَاجَرَ إِلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب النیۃ في الأیمان ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے۔ آدمی جس چیز کی نیت کرے گا وہ اس کے مطابق اجر پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی بس اس کی ہجرت تو واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے لیکن جس نے دنیا کی خاطر ہجرت کی کہ اس کو دنیا مل جائے یا کسی عورت کے لیے ہجرت کی تاکہ اس سے نکاح کرے اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔ “ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ (مزید دلائل دیکھنا چاہیں تو میری کتاب سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مطالعہ فرمائیں) مسائل 1۔ کفار کو کبھی اپنا خیر خواہ اور دوست نہیں سمجھنا چاہیے۔ 2۔ منافق اور کافر حالت جنگ میں جہاں کہیں ملیں انھیں قتل کردینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ : 1۔ منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 57) 2۔ منافق و کفار آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (المائدۃ : 51) 3۔ مومن کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ (آل عمران : 28) 4۔ محض دنیا کی عزت کی خاطر کفار سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ (النساء : 139)
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

سوائے ان کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہوں جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے یا جو تمہارے پاس آئیں کہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے اور اپنی قوم سے جنگ کرنے سے بھی دل میں تنگی سمجھتے ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے یقیناً جنگ کرتے۔ پس یہ لوگ اگر تم سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور تم سے لڑائی نہ کریں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان پر لڑائی کی کوئی سبیل نہیں رکھی

فہم القرآن ربط کلام : ایسے منافقوں اور کافروں سے لڑنا اور انہیں قتل کرنا ضروری ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہوں۔ یہاں ان کفار اور منافقوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا بقائے باہمی کا معاہدہ ہو یا وہ اسلام اور مسلمانوں کے راستے میں حائل نہ ہوں۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ اسلام جنگ جو مذہب نہیں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ وہ ایسے لوگوں سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا جو صلح جو ہوں اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ یہاں اس بات کا اعادہ فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے لڑنے کی تمہیں اجازت نہیں جو تمہاری حلیف قوم کے ساتھی ہیں یا وہ تمہارے ساتھ مل کر لڑنا یا تمہارے مخالفوں کے ساتھ مل کر تم سے لڑنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تمہیں ہرگز نہیں لڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ لڑنے سے گریز کریں اور تم سے صلح کرنا چاہتے ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے لڑنے کا تمہارے لیے کوئی جواز نہیں بنایا۔ مسائل 1۔ عہد و پیمان والے کفار کے ساتھ لڑنا جائز نہیں۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم لوگوں کو پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تم سے صلح پر آمادہ نہ ہوں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے قتل پر ہم نے تمہیں واضح دلیل عنایت فرمائی ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پہلے امن پسند کفار سے لڑنے کی ممانعت فرمائی تھی اب شر پسندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ تم ایسے منافق اور دغا باز لوگ ضرور پاؤ گے جو تم سے اور تمہارے دشمنوں سے امن میں رہنے کے نام نہاد دعوے دار ہیں۔ لیکن جونہی کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تمہاری طرف صلح کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور تم سے جنگ کرنے سے اجتناب نہ کریں تو انہیں جنگ کے دوران جہاں پکڑو مارو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت اور غداری کی وجہ سے تمہارے لیے ان کو قتل کرنے کی واضح حجت بنا دی ہے۔ مسائل 1۔ عہد شکنی کرنے والے کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ 2۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ تفسیر بالقرآن جہاد کی حدود : 1۔ کفار مسلمانوں کو اذیت دیں تو انکے خلاف جہاد کرو۔ (النساء : 75) 2۔ خوف دور کرنے کے لیے جہاد کرنا چاہیے۔ (النساء : 84) 3۔ عہد شکن اور دغا باز لوگوں سے لڑنے کی اجازت ہے۔ (الانفال : 56، 57) 4۔ حرمت کے مہینوں میں صرف بدلے کے لیے لڑناجائز ہے۔ (البقرۃ : 217) 5۔ خیانت کا اندیشہ ہو تو انہیں آگاہ کر کے عہد توڑ دو ۔ (الانفال : 58) 6۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ (النساء : 91) 7۔ اللہ اور رسول کے منکرین اور حرام کو حلال کرنے والوں سے جہاد کرو۔ (التوبۃ : 29)