Ayah 4:58فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب سے تورات و انجیل میں نبی ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ جس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا امانت داری کا تقاضا تھا لیکن انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اس امانت میں خیانت کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہر شعبہ میں پرلے درجہ کے خائن ثابت ہوئے۔ امت کو مالی ‘ اخلاقی، سیاسی اور عدالتی خیانت سے بچانے کے لیے ہر قسم کی ذمہ داری اس کے اہل لوگوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ آیت فتح مکہ کے موقعہ پر نازل ہوئی۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ رسول معظم ﷺ نے ہجرت سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے کے لیے عثمان بن طلحہ سے چابی طلب فرمائی لیکن اس نے چابی دینے سے انکار کردیا۔ اس موقعہ پر آپ نے فرمایا عثمان وہ وقت ذہن میں لاؤ۔ جب یہ چابی میرے پاس ہوگی اور جس کو چاہوں گا عطا کروں گا۔ عثمان نے غصہ میں آکر کہا کہ کیا ہم اس وقت مرچکے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا نہیں تم زندہ ہو گے لیکن اس کے باوجود چابی میرے پاس ہوگی۔ چناچہ جب آپ نے مکہ فتح کیا تو بیت اللہ میں داخل ہونے کے لیے عثمان بن طلحہ سے چابی طلب فرمائی جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ عثمان نے بڑی بےچارگی کے عالم میں آپ کو چابی پیش کرتے ہوئے عرض کی اللہ کے رسول ! اسے امانت سمجھیے۔ آپ نے بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال ؓ بھی تھے۔ جب نیچے تشریف لائے تو حضرت علی ؓ نے درخواست کی کہ یہ چابی ہمیں ملنی چاہیے کیونکہ حجاج کو زم زم پلانے کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ایفائے عہد کا دن ہے لہٰذا چابی عثمان بن طلحہ کو دی جائے گی۔ پھر عثمان بن طلحہ کو بلاکر یہ فرماتے ہوئے چابی عطا کی کہ یہ چابی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی۔ جس شخص نے تم سے چابی چھیننے کی کوشش کی وہ ظالم ہوگا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ اس وقت اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے۔ “ [ تفسیر ابن کثیر : النساء 58]
بے شک یہ آیت مبارکہ خاص موقعہ پر نازل ہوئی لیکن اس میں ہر قسم کی امانتوں کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اے مسلمانو ! قیادت و امامت اہل کتاب سے چھین کر تمہارے سپرد کی جارہی ہے انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا لیکن تم اس کا حق ادا کرنا۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی ؓ لکھتے ہیں :
اس امانت کا انہوں نے حق ادا نہیں کیا جس منصب شہادت پر ان کو مامور کیا گیا اس کو انہوں نے چھپایا، جو کتاب ان کی تحویل میں دی گئی اس میں انہوں نے تحریف کی، جس شریعت کا ان کو حامل بنایا گیا اس میں انہوں نے اختلاف پیدا کیا، جن حقوق کے وہ امین بنائے گئے ان میں انہوں نے خیانت کی، جو فرائض ان کے سپرد ہوئے ان میں وہ چور ثابت ہوئے، جو عہد انہوں نے باندھے وہ سب توڑ ڈالے۔ اے امت محمدیہ کے لوگو ! اب تمہاری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ تم اس عظیم امانت کو ٹھیک ٹھیک ادا کرو یہاں لفظ امانت کے بجائے اما نات استعمال ہوا ہے جس میں اخلاقی، سیاسی امانتیں لوٹانے کے ساتھ رقم کی امانت بھی شامل ہے۔[ تدبر قرآن ]
اس لیے مفسرین نے سیاسی ‘ مالی ‘ اخلاقی اور اسلامی امانتوں کے ساتھ حقوق اللہ کو شامل کیا ہے۔ امانت میں سب سے بڑی امانت جس سے دنیا کا نظام بگڑتا اور سنورتا ہے وہ اختیارات کا استعمال ہے۔ اختیارات تبھی صحیح استعمال ہوسکتے ہیں جب یہ اہل اور صحیح لوگوں کو دیے جائیں۔ اگر نااہل، بددیانت اور اوباش لوگوں کو اختیارات سونپ دیے جائیں تو بہتر سے بہترین قانون اور منصب بھی نہ صرف اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے بلکہ یہ دنیا کی نظروں میں حقیر اور بےمقصد ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تمہارے حکمران نااہل ‘ حق سننے اور کہنے میں گونگے ‘ بہرے ہوں گے تو پھر تمہیں قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس عادل اور ذمہ دار حکمرانوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب چمکتے ہوئے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ ]
نااہل آدمی کو ذمہ داری دینے والا ملعون ہوتا ہے :
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری دی جائے اور وہ صرف تعلق اور قرابت کی بنیاد پر کسی نااہل آدمی کو منصب سونپ دے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی نفلی اور فرضی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اسے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ [ جمع الفوائد بحوالہ معارف القرآن ]
صحیح مشورہ دینا امانت ہے :
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ ایک طرح سے امین ہوتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی سمجھ اور معلومات کے مطابق بلا رعایت صحیح مشورہ دے۔ اگر اس نے جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا آپ نے اس کو جامع الفاظ میں یوں بیان فرمایا :
(اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب الأدب، باب إن المستشار مؤتمن ]
” جس سے مشورہ لیا جائے وہ صاحب امانت ہوتا ہے۔ “
مجالس بھی امانت ہوتی ہیں :
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہی شخص امانت دار ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ یا کوئی سامان رکھا جائے حالانکہ قرآن و سنت میں دیانت وامانت کا وسیع تصور پایا جاتا ہے۔ جس کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ باضابطہ مجالس بھی امانت ہوتی ہیں کیونکہ بسا اوقات مال و اسباب کا نقصان آدمی برداشت کرلیتا ہے یا اس کی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر کسی اجلاس اور مجالس کا راز افشا کردیا جائے تو فرد اور خاندان ہی نہیں قوموں اور ملکوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
( اَلْمَجَالِسُ بالْأَمَانَۃِ ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الأدب، باب فی نقل الحدیث ]
” مجالس امانت ہوا کرتی ہیں۔ “
مسائل
1۔ مسلمان اہل لوگوں کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنائیں۔
2۔ ذمہ دار لوگوں کا فرض ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کریں۔
3۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بہت ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
عدل و انصاف کا حکم :
1۔ عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف : 29)
2۔ فیصلہ کرتے وقت عدل و انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔ (صٓ: 26)
3۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ : 48)
4۔ انصاف کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ : 42)
Ayah 4:59فہم القرآن
ربط کلام : اپنے میں سے کسی کو حاکم بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ حکمران حاکم مطلق بن جائے بلکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں۔
امانتوں کی ادائیگی اور اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کا حکم دینے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا اس لیے فوری ذکر کیا ہے تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کوئی اپنے اختیارات میں آزاد ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کی خاطر ” اُولِی الْاَمْرِ “ کے لیے لفظِ ” اطاعت “ استعمال کرنے کے بجائے فقط واؤ کے عطف سے اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ راعی اور رعیت، امیر اور مامور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنے آپ کو صرف اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان سمجھیں۔ اسی سورة کی آیت 64 اور 80 میں واضح کیا کہ رسول کی اطاعت فی ذاتہٖ نہیں بلکہ در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا حقیقی منشاء سمجھنا اور اس کے مطابق سو فیصد عمل کرکے دکھلانا رسول کا کام ہوتا ہے۔ اگر رسول سے بتقاضائے بشریت کوئی چوک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی درستگی فرما دیتا ہے۔ اس لیے رسول امت کے ہر شخص کے لیے اسوۂ حسنہ اور واجب الاتباع ہوتا ہے۔ رسول کے علاوہ کوئی شخص غیر مشروط اطاعت کے لائق نہیں۔ اگر امیرالمومنین یا بڑے سے بڑا عالم اور امام غلطی کرے یا اس کے ساتھ کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں وہ معاملہ قرآن و سنت کے سامنے رکھا جائے۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے ہر کسی کو سر تسلیم خم کرنا لازم ہے۔ یہی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا ہے۔ اس طرز عمل میں دنیا کی بہتری اور آخرت کی خیرمضمر ہے اور اسی طریقے سے امت متحد رہ سکتی ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں دلائل برابر ہوں تو اہل علم کی اکثریت کی پیروی کرنا ہوگی۔
امیر کا انتخاب اور اس کی اطاعت
اس فرمان میں امیر کے لیے ” مِنْکُمْ “ آیا ہے اور ” کُمْ “ ضمیر استعمال کی ہے کہ وہ تم میں سے ہو۔ جس سے دوٹوک انداز میں واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا امیر مسلمان اور انہی کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ امارت اور خلافت کی بنیاداُوپر سے نہیں نیچے سے قائم کی گئی ہے۔ تاکہ فکری اور عملی طور پر اس کی جڑیں گھر اور عوام میں ہوں اور ہر فرد اس ذمہ داری میں اپنے آپ کو برابر کا شریک سمجھے۔ جہاں تک امت میں سیاسی، گروہی اور مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے۔ اس کا شریعت میں صرف جواز کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا ان جماعتوں کے امراء اور سربراہوں کی حیثیت سفری امیر سے زیادہ نہیں۔ جس طرح اس کے وقتی اور محدود اختیارات ہوتے ہیں اسی طرح جماعتوں کے امراء کو اپنے حقوق و فرائض کا تعین کرنا چاہیے۔
مسائل
1۔ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور نیک حکمرانوں کی اطاعت کرنی چاہیے۔
2۔ تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
3۔ قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنا اور کروانا ایمان داروں کے لیے فرض ہے اسی میں دنیا اور آخرت کی بہتری ہے۔
تفسیر بالقرآن
اختلافات کا حل :
1۔ معاملہ اللہ کی طرف لوٹایا جائے۔ (الشوریٰ : 10)
2۔ کتاب اللہ میں مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔ (المائدۃ : 47)
3۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو فیصل تسلیم کیا جائے۔ (النساء : 59)
4۔ جو اللہ کے رسول کو فیصل تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں۔ (النساء : 65)
5۔ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد مومن کو کوئی اختیار نہیں باقی رہتا۔ (الاحزاب : 36)
6۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم، کافر اور فاسق ہے۔ (المائدہ : 44، 45، 47)
نوٹ : مزید تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” اتحاد امت اور نظم جماعت “
Ayahs 4:60–61فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دے کر من گھڑت ایمان ‘ نمائشی اطاعت کی تردید اور شیطان کی اتباع سے منع کیا گیا ہے۔ اہل کتاب کے بعد خطاب کا رخ منافقین کی طرف کردیا گیا۔
منافقین کا دعویٰ اور خیال تھا کہ وہ قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ منع کرنے کے باوجود چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلے طاغوت کے ذریعے ہوں۔ یہ اس لیے کہ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں دھکیل دے تاکہ یہ ہدایت کی طرف نہ پلٹ سکیں۔
حافظ ابن حجر ؓ نے اس آیت کے تحت ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے منافقوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک منافق اور یہودی کے درمیان کسی معاملہ میں جھگڑا ہوا۔ یہودی نے مسلمان سے کہا کہ اس کا فیصلہ آپ کے نبی سے کروانا چاہیے لیکن منافق نے کہا کہ نبی کی بجائے یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ لینا زیادہ بہتر ہے۔ منافق یہودی کے اصرار پر آپ ﷺ کے سامنے جانے کے لیے اس لیے مجبور ہوا کہ کہیں میری منافقت کا پتہ نہ چل جائے۔ جب ان دونوں نے رسول محترم ﷺ کے پاس مقدمہ پیش کیا تو آپ نے یہودی کا موقف صحیح سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ صادر فرمادیا۔ لیکن منافق نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہودی کو کہا کہ چلوعمر سے فیصلہ لیتے ہیں۔ کیونکہ منافق سمجھتا تھا کہ حضرت عمر ؓ یہودیوں کے سخت خلاف ہیں۔ اس لیے وہ تعصب کی بنیاد پر یہودی کے خلاف فیصلہ کریں گے۔ معاملہ جب حضرت عمر ؓ کے سامنے پیش ہوا تو یہودی نے کہا کہ اس پر آپ کے نبی پہلے فیصلہ دے چکے ہیں۔ تب حضرت عمر ؓ نے تلوار لا کر منافق کا سر قلم کرتے ہوئے فرمایا :
(ھٰذَا قَضَآءِیْ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَآءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ) [ فتح الباری : کتاب المساقاۃ ]
” جو رسول معظم ﷺ کے فیصلہ کو نہیں مانتا اس کے بارے میں میرا یہی فیصلہ ہے۔ “
وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَلَا مُوْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَمْراً اَنْ یَکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُمِنْ اَمْرِ ہِمْ وَمَنْ یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْ لَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَا لاً بَعِیْداً ۔ [ الاحزاب : 36]
” کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردے تو پھر اسے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔ “
مسائل
1۔ قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ کرنا اور کروانا شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے۔
2۔ شیطان آدمی کو دور کی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔
3۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات سے انحراف کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
شیطانی ہتھکنڈے :
1۔ انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کی اللہ تعالیٰ کے سامنے قسمیں۔ (صٓ: 82)
2۔ شیطان کی خفیہ چالیں۔ (الاعراف : 27)
3۔ شیطان گناہوں کو مزین و خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ (الانعام : 43)
4۔ شیطان خیالات کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔ (النّاس : 5)
5۔ شیطان انسان سے کفر کروا کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (الحشر : 16)
6۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو نور ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
7۔ کفار کے دوست طاغوت ہوتے ہیں جو انہیں ظلمات کی طرف لے جاتے ہیں۔ (البقرۃ : 25)
Ayahs 4:62–63فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ہونے کے ساتھ منافقین کی دوغلی پالیسی سے نبی ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو وعظ و نصیحت جاری رکھیں۔
اس فرمان میں آپ کو خبر دی جارہی ہے کہ آج تو منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر اتراتے اور دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن عنقریب وقت آنے والا ہے کہ جب ان کے کرتوت سامنے آئیں گے تو یہ اپنے کیے پر پچھتاتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلف اٹھاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اس کام میں ہماری یہ مصلحت تھی اور یہ کام ہم نے فلاں وجہ سے کیا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف باہمی یگانگت اور موافقت پیدا کرکے اچھا ماحول پیدا کرنا تھا چناچہ اس پیش گوئی اور خوشخبری کا ایک ایک حرف غزوۂ تبوک کے موقعہ پر پورا ہوا۔ جب آپ اس غزوہ سے واپس لوٹے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین نے آپ کی خدمت میں آ آکر معذرتیں پیش کیں۔ لیکن آپ ان کے جواب میں خاموشی اور درگزر سے کام لیتے رہے۔ مزید گیا رھویں پارے کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
منافقین کی غلط بیانی اور ملمع سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جو کچھ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ زبان سے اس کے خلاف دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اپنی باتیں دنیا والوں سے تو چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے وہ تو ان کے دلوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ لہٰذا میرے محبوب ! ان سے الجھنے کے بجائے اعراض فرمائیں، مسلسل نصیحت کرتے رہیں اور ان کو سمجھانے کے لیے اچھا انداز اور مؤثر الفاظ استعمال فرمائیں۔ اس میں آپ کی ذات گرامی کے حوالے سے ہر مبلغ کے لیے اصول ہے کہ وہ مخالفوں اور منافقوں کے ساتھ الجھنے کے بجائے بہتر رویہ اختیار کرے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں یقیناً بہتر ہوگا۔
حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کی کہ آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ بن ابی منافق کا سر قلم کر دوں لیکن آپ نے منع فرمایا اور کہا لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کراتا ہے۔
[ رواہ البخاری : تفسیر القرآن، قولہ یقولون لئن رجعنا إلی المدینۃ ]
تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ابن ابی اپنے اصل کردار کی وجہ سے اس قدر لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوا کہ کوئی اس کے پروپیگنڈہ کی طرف توجہ نہیں کرتا تھا۔ اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔
مسائل
1۔ مصیبت کے وقت منافق قسم اٹھا کر مسلمانوں کی رفاقت کا دعو ٰی کرتا ہے۔
2۔ منافقوں سے چشم پوشی کر کے انہیں اچھی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
منافقین کی چالیں :
1۔ دوغلی زبان اور دوغلا کردار۔ (البقرۃ : 13، 14)
2۔ اسلام کا دعویٰ مگر طاغوت کے فیصلہ پر خوش ہونا۔ (النساء : 60)
3۔ مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر صفائی کی قسمیں اٹھانا۔ (النساء : 62)
4۔ بغیر تحقیق کے افواہیں اڑانا۔ (النساء : 82)
5۔ صرف دنیا کی کامیابی کی چاہت رکھنا۔ (النساء : 141)
6۔ زبان اور دل میں تضاد ہونا۔ (آل عمران : 167)
وعظ و نصیحت کا انداز کیا ہونا چاہیے ؟
1۔ نرم انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ : 44)
2۔ وعظ میں مؤثر انداز اختیار کرنے کا حکم (النساء : 63)
3۔ جھگڑے کی بجائے احسن انداز اختیار کرنا۔ (النحل : 125)
4۔ حکمت کے ساتھ موثر دعوت دینا چاہیے۔ (النحل : 125)
5۔ بصیرت کے ساتھ دعوت دینا چاہیے۔ (یوسف : 108)
Ayah 4:64فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔ اس میں منافقوں کو توبہ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے رسول کا مرتبہ اور مقام بیان کرنے کے ساتھ اپنی شفقت و مہربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ رسول معظم ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی شان اور مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملمع سازی یا محض دعو وں کی بنیاد پر رسول کی ذات کو خوش کرلیا جائے تو اس سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ جب تک حقیقتاً قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق آپ کی اطاعت نہ کی جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی لاتعداد رحمتوں کا تعلق ہے وہ اس قدر بےکنار ہیں کہ جب بھی کوئی شخص خواہ اس کا ماضی کتنا ہی گھناؤنا اور منافقانہ کیوں نہ ہو۔ اخلاص نیت کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کے رسول کے تابع کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ اپنے رب کو شفیق و مہربان پائے گا۔ یہی بات منافقوں کو کہی گئی کہ کتنا ہی بہتر ہوتا کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اپنی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی درخواست کرتے۔ بلا شبہ اللہ کو اپنے بارے میں معاف کرنے والا اور انتہائی مہربان پاتے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مفسر نے اپنے عقائد کی حمایت میں قرطبی کے حوالے سے ایک واقعہ ذکر کیا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے نقطۂ نظر کے خلاف ہے بلکہ تاریخی حقائق بھی اس کی تائید نہیں کرتے وہ لکھتے ہیں :
” سیدنا حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے تین روز بعد ایک اعرابی ہمارے پاس آیا اور فرط رنج و غم سے مزار پرانوار پر گرپڑا اور خاک پاک کو اپنے سر پر ڈالا اور عرض کرنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ! جو آپ نے فرمایا ہم نے سنا جو آپ نے اپنے رب سے سیکھا وہ ہم نے آپ سے سیکھا۔ اسی میں یہ آیت بھی ہے ” وَلَوْأَنَّھُمْ إِذْظَّلَمُوْا “ الخ میں نے اپنی جان پر بڑے بڑے ستم کیے ہیں اب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ اے سراپائے شفقت و رحمت ! میری مغفرت کے لیے دعا فرمایئے۔ فَنُوْدِیَ مِنَ الْقَبْرِ أَنَّہٗ قَدْ غُفِرَلَکَ ۔
” تو مرقد منور سے آواز آئی تجھے بخش دیا گیا۔ “
قرآن مجیدنے دو ٹوک انداز میں فرمایا ہے
وَمَا یَسْتَوِی الْأَحْیَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّہَ یُسْمِعُ مَنْ یَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِی الْقُبُور[ فاطر :22]
کہ رسول اللہ ﷺ بھی قبر والوں کو سنا نہیں سکتے چہ جائیکہ ایک اعرابی آپ کو آکر کوئی فریاد سنائے اور آپ جواب دیں۔ اگر یہ عقیدہ کسی لحاظ سے بھی ثابت ہوتا یا اس کی ذرّہ برابر گنجائش ہوتی تو آپ کی وفات کے وقت جب آپ کا جسدِ مُبارک موجود تھا تو صحابہ میں تین بڑے اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ؟ خلافت کے لیے کون سی شخصیت زیادہ موزوں ہے ؟ یہاں تک کہ آپ کے فوت ہونے پر بھی دو نقطۂ نظر تھے۔ حضرت عمر ؓ کی رائے تھی کہ ابھی مدینہ میں منافق موجود ہیں اور اسلام کا غلبہ بھی پوری طرح نہیں ہوا لہٰذا آپ کو موت نہیں آئی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ کے موقف کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول محترم ﷺ فوت ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے خطبہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے : (مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُاللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لَایَمُوْتُ ) ” تم میں سے جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا یقینًا محمد ﷺ وفات پاگئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو یقینًا اللہ تعالیٰ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ “ پھر اس آیت کی تلاوت کی : (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّرَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُالخ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الدخول علی میت الخ ] ” محمد ﷺ تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر گئے۔ “
یاد رہے کسی صحابی نے یہ بات نہیں فرمائی کہ بھائیو کیوں جھگڑتے ہو چلو آپ کے جسد اطہر سے عرض کرتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت آپ ﷺ کا جسد اطہر ابھی قبر سے باہرجلوہ نما تھا۔
مسائل
1۔ رسول کی بعثت کا مقصد اس کی اطاعت کرنا ہے۔ 2۔ لوگوں کو ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے رہنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کی دعوت :
1۔ منافق اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے سے انحراف کرتے ہیں۔ (المنافقون : 5)
2۔ گناہ اللہ ہی بخشتا ہے۔ (آل عمران : 135) 3۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53)
4۔ انبیاء کی دعوت اللہ سے بخشش مانگنا ہے۔ (نوح : 10) 5۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ میں بخشنے والا ہوں۔ (الحجر : 49)
Ayah 4:65فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں منافقین کو رسول کو مطاع تسلیم کرنے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اب قطعی انداز میں رسول معظم ﷺ کو فیصل ماننے کا حکم دیا ہے۔
لہٰذا فیصلہ کُن انداز میں منافقوں، کافروں اور سب لوگوں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے کہ کسی کا ایمان اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک حضرت محمد ﷺ کو زندگی کے تمام معاملات میں حکم تسلیم نہ کرلیا جائے۔ جونہی آپ کا فیصلہ سامنے آئے تو اسے دل کی رغبت اور طبیعت کی چاہت کے ساتھ من وعن تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے تسلیم کرنے میں کسی قسم کا تردد اور تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں قرآن مجید نے ” شجر “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ ایسا درخت جس کی شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ پھنسی اور الجھی ہوئی ہوں۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ تمہارے معاملات خواہ کتنے ہی الجھے اور بگڑے ہوئے کیوں نہ ہوں تمہیں ہر حال میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا پڑے گا۔ معاملات سیاسی ہوں یا معاشی، اخلاقی ہوں یا معاشرتی، انفرادی ہوں یا اجتماعی غرض کہ زندگی کا کوئی معاملہ اور شعبہ ہو۔ اس میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا لازم ہے۔ اس آیت کا شان نزول حضرت زبیر ؓ اس طرح بیان کرتے ہیں :
(أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْ یَسْقُوْنَ بِھَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ سَرِّحِ الْمَآءَ یَمُرُّ فَأَبٰی عَلَیْہِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِلزُّبَیْرِ أَسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أرْسِلِ الْمَآءَ إِلٰی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِیُّ فَقَالَ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسْ الْمَآءَ حتّٰی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَال الزُّبَیْرُ وَاللّٰہِ إِنِّیْ لَأَحْسِبُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ (فلَاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب المساقاۃ، باب سکر الأنھار ]
” انصار کے ایک آدمی کا حضرت زبیر ؓ سے پانی کے نالے کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس سے وہ کھجوروں کو پانی دیتے تھے۔ انصاری نے کہا پانی چھوڑو اسے آگے آنے دو ۔ حضرت زبیر ؓ نے انکار کیا دونوں اپنا جھگڑا رسول گرامی ﷺ کی خدمت میں لائے تو آپ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا زبیر ! پانی لگا کر ہمسائے کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری نے غضبناک ہو کر کہا وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہوا۔ آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زبیر ! پانی لگا جب تک وہ منڈیروں تک نہ پہنچ جائے پانی کو روکے رکھنا۔ حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت ” فَلاَ وَرَبِّکَ “ اس موقعہ پر نازل ہوئی ہے۔ “
” حضرت معقل بن یسار ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں مسلمانوں کے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ اب پھر دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے پھر اس آدمی نے منگنی کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار ؓ نے کہا : کمینے ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اس کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی۔ اللہ کی قسم اب کبھی یہ تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کے جذبات کو قبول کیا تو یہ آیت نازل فرمائی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ ) جب معقل بن یسار ؓ نے یہ آیت سنی تو کہا کہ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیری شادی بھی کرتا ہوں اور عزت بھی۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ ]
مسائل
1۔ رسول اللہ ﷺ کو فیصل تسلیم کیے بغیر لوگ ہرگز ایمان دار نہیں ہوسکتے۔
2۔ رسول محترم ﷺ کا فیصلہ دل و جان سے ماننا ایمان ہے۔
تفسیر بالقرآن
مقام نبوت :
1۔ رسول محترم بہترین اسوہ ہیں۔ (الاحزاب : 21)
2۔ ہر معاملہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا چاہیے۔ (النساء : 59)
3۔ اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو۔ (الحجرات : 1)
4۔ رسول جو تمہیں دے اسے پکڑلو۔ (الحشر : 7)
5۔ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ (النساء : 80)
6۔ اللہ کی محبت رسول کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : 31)
7۔ رسول کی مخالفت سے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (محمد : 33)
Ayahs 4:66–68فہم القرآن
ربط کلام : منافقین مشکل حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لوگوں پر ایسے احکام نازل کیے جو نرمی اور آسانی پر مبنی ہیں۔ اگر یہ احکام سخت اور مشکل ہوتے تو لوگوں کو ان پر عمل کرنا دشوار اور ناممکن ہوتا۔ اس صورت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے جگر گوشوں کو گھروں سے نکال دینے کا حکم دیتے یعنی جو نافرمان اور سرکش ہیں انہیں قتل کرنے یا گھروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیتے تو چند لوگوں کے سوا کوئی بھی ان پر عمل نہ کرسکتا۔ یا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر شرک کی یہ سزا تجویز کی گئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں تو انہیں قتل کرنا پڑا تھا۔ یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنے معاملات میں فیصل تسلیم کرو۔ اس میں تمہارے لیے نرمی بھی ہے اور بھلائی بھی۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلّآ أَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا)
[ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی ﷺ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے جو کام گناہ کا نہ ہوتا۔ اگر وہ کام گناہ کا ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہتے اور آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “
اگر منافق اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تو ان کے لیے یہ بہتر اور ایمان کی پختگی کا باعث ہوتا۔ اس کے بدلے انہیں عظیم اجر اور مزید صراط مستقیم کی رہنمائی سے بھی نوازا جاتا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بظاہر عمل کرنے میں مشکل کیوں نہ ہوں پھر بھی ان پر عمل کرنا آدمی کے لیے بہتر ہوا کرتا ہے۔
ابن جریر طبری بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر ہمیں ایسا کرنے کا حکم ہوتا تو ہم ضرور کر گزرتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے درگزر فرمائی ہے یہ بات آپ ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن میں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ایمان ہے۔
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے (وَلَوْ أَنَّا کَتَبْنَا) تلاوت فرمائی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ( لَوْ أَنَّ اللّٰہَ کَتَبَ ذٰلِکَ لَکَانَ ھٰذَا مِنْ أُولٰءِکَ الْقَلِیْلِ ) ” اگر اللہ تعالیٰ یہ کام لازم کردیتے تو عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی انہی تھوڑے لوگوں میں سے ہوتے جو اللہ کا حکم مان کر اپنے آپ کو قتل کرتے۔ “ ( ابن کثیر)
حضرت عمر ؓ نے اظہار تشکر کے طور پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بےپناہ فضل و کرم ہوا ہے کہ اس نے ہمیں اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر یہ حکم نازل ہوجاتا تو ہم اس پر عمل کرنے سے ہرگز گریز نہ کرتے۔ اس بات کا عملی ثبوت انہوں نے غزوۂ بدر کے موقعہ پر دیا تھا کہ جب قیدیوں کے بارے میں مشاورت ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ تو دو تجاویز سامنے آئیں جن میں حضرت صدیق اکبر ؓ کی رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑدینا چاہیے۔ اس میں مسلمانوں کی مالی امداد کے ساتھ کفار کے لیے ہدایت کا آخری موقعہ فراہم کرنا تھا۔ حضرت عمر ؓ کی تجویز یہ تھی کہ یہ لوگ ناقابل معافی اور ناقابل اصلاح ہیں۔ ان کو قتل کرنے سے ہمیشہ کے لیے کفر کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ ان کی تجویز تھی کہ ہر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کو قتل کرے سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار قیدیوں کو قتل کروں گا۔
[ الرحیق المختوم ‘ غزوۂ بدر کے قیدیوں کا قضیہ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا ہر حال میں انسان کے لیے بہتر ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عظیم اجر اور مزید ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں۔
3۔ صراط مستقیم کی ہدایت اطاعت رسول میں پنہاں ہے۔
Ayahs 4:69–70فہم القرآن
ربط کلام : اطاعت رسول کے دنیا میں فوائد اور قیامت کے دن اس کے ثمرات۔
رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ اور فرمان کو زندگی کے ہر شعبہ میں قطعی طور پر لائقِ اتباع اور باعث نجات سمجھنے والے کو دنیا اور آخرت کے آٹھ انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔
دنیا میں ہر اعتبار سے بھلائی کا حصول۔ ایمان پر ثابت قدمی کی توفیق۔ عظیم اجر۔ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ اور قیامت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت انبیاء، صدیق، شہداء اور صالح لوگوں کی رفاقت اور معیّت نصیب ہوگی۔ یہاں چار شخصیات کے حوالے سے درحقیقت چار قسم کے مراتب اور مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں لوگوں کی انہی چار مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے۔ آدمی کوشش کرے تو تین مراتب کو کسی نہ کسی حد تک حاصل کرسکتا ہے۔ جن میں صدیق بننا، شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونا اور صالح کردار کا حامل بننا ہے۔ جہاں تک نبوت کا مرتبہ اور مقام ہے وہ تو اعمال کے ذریعے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہے۔ جس کو چاہے اپنے پیغام کے لیے منتخب فرما لے اور یہ سلسلہ بھی محمد کریم ﷺ کی ذات پر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اب کوئی شخص یا گروہ یہ دعو ٰی کرے کہ حسن اعمال کی بنیاد پر آدمی منصب نبوت پر فائز یا نبوت میں حصہ دار ہوسکتا ہے یہ سراسر گمراہی ہے۔ اس لیے یہاں رفاقت کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی اسے نبی کی رفاقت نصیب ہوگی جس سے واضح طور پر اس باطل عقیدہ کی نفی ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت تک ظلّی یا بروزی نبی نہیں بن سکتا یہ بحث سورة الاحزاب آیت : 40 میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ہوگی۔
صدیق :
صدیق سے مراد ایسا شخص جو ہر حال میں سچ بولنے والا ‘ سچ پر قائم رہنے والا اور سچ کے لیے ہر چیز قربان کردینے والا ہو، امت میں اس مقام پر سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ فائز ہوئے۔ جن کے بارے میں رسول محترم ﷺ نے اپنی زبان اطہر سے ان کے اعزاز کا اعلان فرمایا۔ باقی لوگ درجہ بدرجہ اس مقام کے حامل ہوسکتے ہیں۔
شہید :
ایسی شخصیت کو کہتے ہیں جو دل کی سچائی کے ساتھ اسلام میں داخل ہو اور دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ اور تیار رہے اور میدان کارزار میں کٹ مرنے والے کو شہید کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے خون جگر سے حق کی گواہی دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے شہادت کے کئی مراتب ذکر فرماتے ہوئے مختلف قسم کے لوگوں کو شہداء میں شامل فرمایا ہے۔ امام رازی نے سورة آل عمران آیت 18 سے استدلال کیا ہے کہ عدل و انصاف کی گواہی دینے والے بھی شہداء میں شمار ہوں گے۔
صالحین :
صالح سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم اور خلوص نیت کے ساتھ نبی آخر الزماں ﷺ کی اتباع کرنے والا ہو۔ اس طرح امت کے تمام موحّد اور نیک لوگ درجہ بدرجہ صالحیت کے مقام پر فائز اور اپنے عمل کے لحاظ سے جنت میں مقام پائیں گے۔
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول محترم ﷺ مسجد سے باہر نکل رہے تھے دروازے پر آپ کو ایک آدمی ملا اور عرض کرنے لگا اللہ کے نبی ! قیامت کب برپا ہوگی ؟ آپ نے اس سے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے ؟ عرض کرتا ہے کہ میں نے نفلی کام تو زیادہ نہیں کیے تاہم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : (فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب المرء مع من أحب ] ” تو اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ تو محبت کرتا ہے۔ “
یہ مقام اور مراتب محض اعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا صلہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے افکار اور اعمال کو جانتا ہے۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ایک شخص نے عرض کیا آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوگا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! ہاں میں بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔[ رواہ البخاری : کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت ]
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ساتھ ہوگا۔
2۔ جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہونا اللہ کا بڑا فضل ہوگا۔
Ayahs 4:71–73فہم القرآن
ربط کلام : اطاعت رسول کا حکم اور اس کے ثمرات بیان کرنے کے بعد جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ اطاعت رسول کرنے والے جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔
اسلام اور کفر کی پندرہ سالہ کشمکش اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ معرکۂ بدر میں مسلمانوں کو بےمثال کا میابی حاصل ہوئی اور احد میں کفار کا پلڑا بھاری رہا۔ جس سے کفار اور یہود و نصارٰی کے حوصلے اس قدر بلند ہوئے کہ وہ سوچنے لگے کہ مسلمانوں کو ختم کرنا ناممکن کام نہیں لہٰذا اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے کہ ایک فریق ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوجائے۔ اس بنا پر اہل مکہ اور یہود نے مدینہ کی چاروں جانب سازشوں کے جال بننا شروع کردیئے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کو گشت کے لیے بھیجا کرتے تھے تاکہ کفار کی نقل و حرکت کا بروقت علم ہو سکے۔ انہی حالات میں یہ حکم نازل ہوا کہ مسلمانو ! ہر وقت چاک و چوبند رہو اور اپنا اسلحہ پکڑے رکھو۔ مراد یہ ہے کہ اسلحہ اس قدر قریب اور تیار ہونا چاہیے کہ ہنگامی حالت میں وقت ضائع کیے بغیر دشمن کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پھر جنگ کے بارے ہدایات دیں کہ حالات کے مطابق تم گوریلا جنگ کرویا منظم طریقہ کے ساتھ جماعت کی صورت میں حملہ آور ہو تمہیں ہر طرح میدان کار زار میں اترنے کے لیے آمادہ و تیار رہنا چاہیے۔ اسی سے جنگ کے متعلق قوموں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مضبوط دفاع ہی قوموں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لہٰذا دشمن کی جارحیت سے بچنے کے لیے ہر وقت چوکس رہنا چاہیے۔ اس کے بعد منافقوں کے عزائم سے آگاہ کیا گیا کہ یہ تمہاری آستینوں کے سانپ اور گھر کے بھیدی ہیں ان کی سازشوں سے آگاہ رہنا نہایت ضروری ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تمہیں کوئی مشکل اور افتاد آپڑتی ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر انعام کیا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھے۔ اگر تمہیں کامیابی نصیب ہو تو حسرت و افسوس سے کہتے ہیں کہ کاش ! ہم بھی اس عظیم کامیابی میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتے۔
(عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَۃَ بْنَ الأَکْوَعِ قَالَ مَرَّ النَّبِیّ ﷺ عَلَی نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ یَنْتَضِلُونَ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ ارْمُوا بَنِی إِسْمَاعِیلَ ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلاَنٍ قَالَ فَأَمْسَکَ أَحَدُ الْفَرِیقَیْنِ بِأَیْدِیہِمْ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا لَکُمْ لاَ تَرْمُونَ قَالُوا کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَہُمْ قَال النَّبِیُّ ﷺ ارْمُوا فَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ ) [ رواہ البخاری : باب التَّحْرِیضِ عَلَی الرَّمْیِ ]
” حضرت یزید بن ابی عبید کہتے ہیں میں نے سلمہ بن اکوع ؓ سے سنا کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ کا اسلم قبیلہ کے چند لوگوں پر گذر ہوا جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے اسماعیل کی اولاد تیر اندازی کرو یقیناً تمہارے آباء بھی تیر انداز تھے تیر اندازی کرو میں فلاں قبیلہ کے ساتھ ہوں تو دوسرے فریق نے مقابلہ کرنا چھوڑدیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم تیر اندازی کیوں نہیں کرتے انہوں نے عرض کی کہ ہم تیر اندازی کیونکر کریں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم تیر اندازی کرو میں سبھی کے ساتھ ہوں “
مسائل
1۔ امت کو انفرادی اور اجتماعی طور پر جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
2۔ مسلمانوں کو ہر وقت اپنا دفاع مضبوط رکھنا چاہیے۔
3۔ حالات کے مطابق جہاد انفرادی اور اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔
4۔ منافق مسلمانوں کی آزمائش میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
5۔ منافق کو دنیا اور آخرت میں پچھتاوا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
ہر حال میں مضبوط دفاع :
1۔ تھوڑے ہو یا زیادہ دفاع مضبوط رکھو۔ (النساء : 71) 2۔ کفار کے مقابلے میں ہر دم تیار رہو۔ (الانفال : 60)
3۔ دفاعی قوت کے ذریعے اسلام دشمنوں کو مرعوب رکھو۔ (الانفال : 60) 4۔ اسلحہ سے غافل نہ رہو۔ (النساء : 102)
5۔ نماز میں اسلحہ اپنے پاس رکھو۔ (النساء : 102)
منافق کی حسرتیں :
1۔ جنگ میں نہ جاتے تو زندہ رہتے۔ (آل عمران : 156) 2۔ با اختیار ہوتے تو قتل نہ ہوتے۔ (آل عمران : 154)
3۔ ہماری بات مان لیتے تو نہ مرتے۔ (آل عمران : 168)
4۔ کاش ہم فتح کے وقت مسلمانوں کے ساتھ ہوتے۔ (النساء : 73)
Ayah 4:74فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اب پھر مسلمانوں کو جہاد پر یہ کہہ کر تیار کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کو جنہوں نے دنیا پر آخرت کو مقدم سمجھ رکھا ہے اللہ کے راستے میں ضرور لڑنا چاہیے۔ انہیں کسی نقصان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں لہٰذا یہ اللہ کی راہ میں کٹ مریں یا غالب آئیں انہیں ہر دو صورتوں میں اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّہُ لِمَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِہِ ، لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِہِ ، وَتَصْدِیقُ کَلِمَاتِہِ ، بِأَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، أَوْ یَرْجِعَہُ إِلَی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ ، مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قولہ تعالیٰ ولقد سبقت کلمتنا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا ذمہ لے لیا جسے اس کے راستے میں صرف جہاد اور اس کے کلمے کی تصدیق نے نکالا ہو کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے اس گھر میں اجر یا مال غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔ “
مسائل
1۔ منافق کامیابی کے وقت اپنی عدم حاضری پر پچھتاتا ہے۔
2۔ کفار کے خلاف جہاد کرنے میں کامیابی یا شہادت دونوں ہی اجر عظیم کا باعث ہیں۔
تفسیر بالقرآن
مجاہد کا اجر وثواب :
1۔ مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں (النساء : 95) 2۔ مجاہدین عذاب الیم سے نجات پائیں گے۔ (الصف : 10، 11)
3۔ مجاہد کے لیے جنت۔ (محمد : 6) 4۔ شہید کے لیے مغفرت۔ (آل عمران : 157)
5۔ مجاہدین سے اللہ تعالیٰ کی محبت۔ (الصف : 4)
6۔ شہید زندہ ہیں وہ اللہ کے ہاں رزق پاتے اور بےخوف و غم ہوتے ہیں۔ (آل عمران : 170، 171)
Ayah 4:75فہم القرآن
ربط کلام : جہاد کے متعلق خطاب جاری ہے اور اس میں مظلوم کی مدد کرنا لازم قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے وطن اور گھر کی محبت انسان ہی نہیں درندوں اور پرندوں کے دل میں بھی پیدا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درندے اپنی غار کی اور پرندے اپنے گھونسلے کے ایک ایک تنکے کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر جاندار شام کو اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتا ہے۔ کوئی جاندار اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب کسی کو اس قدر ستایا جائے کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑجائیں تو وہ ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت انسان کی ہے جب مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم توڑے گئے کہ ظالم اور سفاک لوگوں نے مسلمان خواتین اور معصوم بچوں کو بھی معاف نہ کیا۔ جس کی وجہ سے مرد، عورتیں اور بچے بلبلا اٹھے کہ بار الٰہی ! ظالموں کی بستی سے نکلنے کے لیے اپنی طرف سے ہمارا سر پرست اور مددگار پیدا فرما۔ تاکہ ہم اپنے ایمان اور جان و مال کو بچا سکیں۔ اس دعا میں کمزور مسلمانوں کی مظلومیت کا نقشہ پیش کرنے کے ساتھ ان کی ہمدردی اور مدد کے لیے مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت واضح کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جہاد کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔ 1۔ دفاعی۔ 2۔ مظلوم مسلمان اور انسانیت کی مدد کرنا۔ 3۔ اللہ کے باغیوں کو سرنگوں کرکے پرچم اسلام کو سر بلند رکھنا۔ کیونکہ زمین ومافیہا اللہ کی ملکیت ہے۔ لہٰذا باغی انسانوں کو سرنگوں کرنا اور رکھنا اللہ والوں کی ذمہ داری ہے۔
جہاں تک مظلوم انسانیت کی مدد کرنے کا معاملہ ہے دنیا میں دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمان لازوال تاریخ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی اغراض کے بجائے محض اللہ کی رضا اور انسانیت کی حمایت کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ ہسپانیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب عیسائی حکمران راڈرک نے اپنے ہی گورنر کی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تو گورنر نے مجبور ہو کر اپنے ہم منصب مسلمان ملک کے سرحدی گورنر موسیٰ بن نصیر کو خط لکھا۔ جس کے جواب میں طارق بن زیاد نے اسپین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 8 سو سال تک اسپین امن وامان کا گہوارہ بنا۔ ہسپانوی مورخ اسے ہسپانیہ کی تاریخ کا سنہری دور تصور کرتے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال سندھ میں پیدا ہوئی کہ جب مسلمان مسافروں پر راجہ داہر کے غنڈوں نے حملہ کیا تو ایک مسلمان بیٹی نے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کو دہائی دی۔ حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو مظلوموں کی مدد کے لیے بھیجا۔ جس سے تقریباً ایک ہزار سال تک ہندو ستان میں اسلام کا پھریرا بلند رہا اور اس ملک میں وحدت پیدا ہوئی۔ لوگوں کو سیاسی ‘ علمی شعور ملنے کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ اسی جہاد کی ترجمانی قادسیہ میں جو اس وقت ایرانی حکومت کا دارالحکومت تھا حضرت ربیع (رح) نے رستم کے سامنے ان الفاظ میں کی تھی :
(إِنَّا قَدْ أُرْسِلْنَا لِنُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ ظُلُمَاتِ الْجَھَالَۃِ إِلٰی نُوْرِ الْإِیْمَانِ وَمِنْ جَوْرِ الْمُلُوْکِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ )
[ البدایہ والنہایہ ]
” (ہم خود نہیں آئے) ہمیں بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر نور ایمان میں لا کھڑا کریں۔ عوام الناس کو بڑے لوگوں کے جورو ستم سے نکال کر اسلام کے عادلانہ نظام میں زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم کریں۔ “
مسائل
1۔ کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو چھڑانا چاہیے۔
2۔ مظلوم کو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی مدد نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
مظلوم کی مدد کرنا چاہیے :
1۔ مظلوم مسلمانوں کو جہاد کرنے کی اجازت ہے۔ (الحج : 39)
2۔ مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد کرنا لازم ہے۔ (النساء : 75)
Ayah 4:76فہم القرآن
ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ اور لڑائی کا فرق بیان کیا گیا ہے۔
یہاں دو جماعتوں اور لشکروں کی محاذ آرائی اور باہمی جنگ و جدل کی وجوہات ‘ محرکات اور ان کے مشن کا فرق نمایاں کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے جنگ و جدل کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کفار طاغوت کے مشن کی بالا دستی کے لیے برسر پیکار ہوتے ہیں۔ تیسرے پارے میں وضاحت گزر چکی ہے کہ طاغوت سے مراد ہر وہ قوت جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہو یہ حکمرانوں یا سیاستدانوں کی شکل میں ہوں یا عام انسانوں کے روپ میں ‘ کفار ہوں یا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے منافق گویا اللہ اور اس کے رسول کے مخالف کہ جس شکل و صورت میں ہوں۔ وہ طاغوت کے ساتھی تصور ہوں گے۔ پہلی آیت میں مظلوموں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ کفار کی اصل طاقت کا پول کھول دیا جائے تاکہ مجاہد کسی کمزوری اور گھبراہٹ کے بغیرآگے بڑھیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ کفار کا کروفر محض دکھاوا ہے اندر سے یہ کمزور اور کھوکھلے ہیں۔ پھر اس کی کمزوری کی وجہ بیان فرمائی کہ اپنے خالق کے باغی اور سچا مشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں جرأت اور ان کے قدموں میں استقامت پیدا نہیں ہوتی۔ مسلمان ایمان کی دولت اور اپنے وسائل کے مطابق مکمل تیاری ‘ باہمی اتحاد ‘ اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے سینہ سپر ہوں تو دنیا کی کوئی قوت مسلمانوں کو سرنگوں نہیں کرسکتی کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
مجاہدو ! تم ہی غالب آؤ گے بشرطیکہ ایمان کامل کے اسلحہ سے لیس ہوجاؤ۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی ایمان ‘ اتحاد اور جہاد کے جذبہ سے سرشار ہو کر میدان کارزار میں اترے فتح و کامرانی نے ان کے قدم چومے اور اللہ کی مدد کالی گھٹا اور موسلا دھار بارش کی طرح مسلمانوں پر سایہ فگن رہی۔ کفار اور اشرار بالآخر ہر میدان میں منہ کی کھا کر واپس ہوئے۔ کیونکہ قوت و جبروت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مکرو فریب اور ضعف و کمزوری شیطان کے حصہ میں آئی ہے۔
مسائل
1۔ ایمان دار اللہ کے لیے لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے لیے برسر پیکار ہیں۔
2۔ شیطان کے ساتھی اور ان کے حربے نہایت کمزور ہوا کرتے ہیں۔
Ayah 4:77فہم القرآن
ربط کلام : کمزور مسلمانوں کو جنگ میں پہل کرنے کی بجائے اپنے آپ کو منظم اور اخلاق و ایمان کے لحاظ سے مضبوط کرنا چاہیے۔
مفسرین نے اس آیت کی متضاد مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ آیت مظلوم مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے مظالم سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مطالبہ کیا کہ ہمیں لڑنے کی اجازت عنایت فرمائی جائے۔
امام نسائی (رح) نے کتاب الجہاد میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کے رسول ! ہم مشرک ہونے کے باوجود معزز اور باوقار لوگ تھے اب ایمان لانے کے بعد ہم ذلیل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں لڑنے کی اجازت دیں۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ابھی تک اللہ تعالیٰ نے مجھے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہمیں قتال کا حکم ہوا لیکن بعض لوگوں نے لڑنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ‘ جس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ جبکہ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بجائے منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جہاد کا حکم آنے سے پہلے وہ ڈینگیں مارتے تھے کہ ہمیں مشرکوں کے مقابلے میں کٹ مرنا چاہیے۔ جس سے ان کا مطلب مصنوعی اخلاص کا اظہار تھا۔ یا پھر منافق چاہتے تھے کہ مسلمان طاقتور اور منظم ہونے سے پہلے کفار کے ساتھ ٹکرا جائیں تاکہ مسلمانوں کی طاقت ابتداء ہی میں پاش پاش ہوجائے۔ لہٰذا مسلمانوں کو سمجھایا اور روکا جارہا ہے کہ ابھی میدان جہاد میں اترنے کا وقت نہیں آیا۔ کیونکہ تم تعداد میں تھوڑے اور تربیت کے لحاظ سے ناپختہ اور غیر منظم ہو۔ اس لیے پہلے زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت میں مالی قربانی کا جذبہ پیدا کرو۔ اخلاقی، روحانی اور تنظیمی تربیت کے لیے نماز پڑھتے رہو۔ جب تم ایک امام کی اتباع میں قیام اور رکوع و سجود کرو گے تو تمہیں ہر حال میں نظم و ضبط قائم رکھنے کا سلیقہ آئے گا۔ جہاد میں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور نظم بھی ضروری ہوتا ہے جو زکوٰۃ اور نماز کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن جب جہاد فرض ہوا تو وہ اس طرح ڈر رہے تھے جیسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف زدہ ہو کر کہتے تھے کہ ہمارے رب نے ہم پر قتال کیوں فرض کیا ہے ؟ کاش کہ ہمیں مزید مہلت دی جاتی۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا کہ اے رسول ! انہیں سمجھاؤ تم تھوڑی سی مہلت مانگتے ہو یہ دنیا تو بذات خود قلیل اور اس میں رہنے کی مدّت انتہائی تھوڑی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آخرت کی نعمتیں بیش بہا، دائمی اور اخروی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ وہاں کسی پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے کے برابر بھی زیادتی نہ ہوگی۔ بلکہ ہر کسی کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ کھجور کی گٹھلی کے درمیان لکیر میں جو دھاگہ نما پردہ ہوتا ہے۔ اسے عربی میں ” فتیل “ کہا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
(لَاتَمَنَّوْا لِقَآءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لاتمنوا لقاء العدو ]
” دشمن سے ملنے کی آرزونہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو، جب تمہارا ٹکراؤ دشمن سے ہوجائے تو پھر حوصلہ رکھو۔ “
مسائل
1۔ جنگ کی خواہش کرنے کے بجائے نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے اپنا کردار مضبوط بنانا چاہیے۔
2۔ جہاد فرض ہوجائے تو ڈرنے کے بجائے ڈٹ جانا چاہیے۔
3۔ بنی اسرائیل پہلے جہاد کا مطالبہ کرتے اور پھر اس سے راہ فرار اختیار کیا کرتے تھے۔
4۔ دنیا کا مال و متاع آخرت کے مقابلے میں نہایت ہی تھوڑا ہے۔
5۔ صاحب تقویٰ لوگوں کے لیے آخرت بہتر ہے۔