Ayahs 4:20–21فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے حقوق و فرائض کا تذکرہ جاری ہے۔
بیوی کی کوئی بات ناگوار ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ گزارا کرنا چاہیے ‘ بصورت دیگر طلاق دیتے ہوئے اس سے حق مہر واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلے حکم تھا اگر بیوی کی کوئی عادت ناگوار ہو تب بھی اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا چاہیے اور جبرًا کسی عورت کو نکاح میں لینا یا بیوی کی کسی چیز پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔ اب اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر بیوی کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور خاوند نے بیوی بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو دیا ہوا حق مہر یا کوئی تحفہ بیشک وہ کتنا ہی گرانقدر اور قیمتی کیوں نہ ہو اس میں کچھ بھی واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلی آیت میں اس بات کی اجازت تھی کہ اگر عورت بدکاری کا ارتکاب کرے یا حد سے زیادہ گستاخی کرے تو اس کا حق مہر ضبط کیا جاسکتا ہے۔ اب اس اجازت کو غلط استعمال کرنے سے منع کرنے کے لیے حکم دیا ہے کہ بلاوجہ عورت پر الزام لگا کر اسے دی ہوئی چیز واپس لینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تہمت لگانے کے مترادف اور بہت بڑا گناہ ہے۔ بیوی کو ہبہ کی ہوئی چیز اس لیے واپس نہیں لی جاسکتی جب کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ خلوت اور پختہ عہد کرچکے ہوں۔
” اَفْضٰی “ کا معنی ہے ” بلا تکلّف ایک دوسرے کے قریب ہونا “ جس سے مراد میاں بیوی کی قربت ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر میاں بیوی نے مجامعت نہ بھی کی ہو تو پھر بھی بیوی سے حق مہر لینا جائز نہیں۔ پختہ عہد کا مفہوم نکاح ہے کیونکہ عورت نکاح کے وقت اپنے آپ کو برضاء ورغبت خاوند کے حوالے کرتی ہے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یہ ارشاد فرمایا کہ : (وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ )[ البقرۃ : 237] ” باہمی محبت کو فراموش نہ کرو۔ “ جس کا مقصد یہ ہے کہ طلاق ہونے کے باوجود میاں بیوی میں دشمنی کا رویّہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔
مسائل
1۔ بیوی کو چھوڑتے وقت اس کو ددیئے ہوئے تحائف واپس لینا بڑا گناہ ہے۔
Ayahs 4:22–23فہم القرآن
ربط کلام : عورت کی عفت و تکریم کے تحفظ ‘ گھر کے ماحول میں آزادی کی نعمت اور باہمی شرم و حیا اور حد درجہ احترام کے لیے کچھ رشتے مستقل طور پر اور چند رشتوں کو حسد وبغض سے بچانے اور تقدس کے تحفظ کی خاطر مخصوص مدّت کے لیے حرام قرار دیا۔ مستقل طور پر حرام کردہ رشتے درج ذیل ہیں :
1۔ ماں ‘ دادی ‘ نانی ‘ اوپر تک۔
2۔ بیٹیاں ‘ پوتیاں نیچے تک اور نواسیاں۔
3۔ سگی بہنیں۔
4۔ باپ یا ماں کی طرف سے یعنی سوتیلی بہنیں جنہیں علاتی اور اخیافی بہنیں کہا جاتا ہے۔
5۔ پھوپھیاں۔
6۔ خالائیں ‘ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی۔
7۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔
8۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔
9۔ رضاعی مائیں۔
10۔ رضاعی بہنیں اور رضاعت کی بنیاد پر وہ سب رشتے حرام ہیں جو رشتۂ نسب کی بنیاد پر حرام ہیں۔
11۔ ساس اور سالیاں جب تک ان کی بہن نکاح میں ہو۔
12۔ سوتیلی بیٹیاں ‘ جن کی ماں کے ساتھ خلوت ہوچکی ہو۔ اگر اس کے ساتھ جماع نہ کیا ہو تو پھر اس کی پہلی بیٹیوں کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔
13۔ حقیقی بیٹے کی بیوہ یعنی بہو سے نکاح حرام ہے۔
14۔ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
15۔ تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّھَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ عَمَّھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یُسَمّٰی أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَیْھَا فَحَجَبَتْہُ فَأَخْبَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَھَا لَاتَحْتَجِبِيْ مِنْہُ فَإِنَّہٗ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ )
[ رواہ مسلم : کتاب الرضاع، باب تحریم الرضاعۃ من ماء الفحل ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کا رضاعی چچا جس کا نام افلح تھا اس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اس سے پردہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ کو یہ واقعہ بتلایا آپ نے فرمایا اس سے پردہ نہ کر کیونکہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں رضاعت کے سبب بھی حرام ہیں۔ “
Ayah 4:24فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جن عورتوں کے خاوند موجود ہوں وہ بھی حرام ہیں۔ البتہ جو عورتیں جنگی قیدی یعنی لونڈیاں بن کر تمہاری ملک (capture) میں آجائیں اور ان کے خاوند دار الحرب میں رہ جائیں تو وہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔ کیونکہ قیدی ہونے کی وجہ سے ان کا سابقہ نکاح ختم تصور ہوگا۔
مذکورہ عورتوں کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہاں نکاح کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ کام عیاشی کے لیے نہیں بلکہ بدکاری سے بچنے کے لیے ہونا چاہیے بشرطیکہ آزاد عورتوں کے حق مہر ادا کیے جائیں۔ حق مہر کی ادائیگی کے معاملہ میں باہمی رضامندی سے کچھ طے کرلیا جائے تو اس میں گناہ کی بات نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ یاد رکھو ! اللہ خوب جانتا ہے کہ تم کس حد تک اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ہو۔
قیدیوں کے بارے میں حالات کے مطابق چار صورتوں میں سے کوئی صورت اسلامی حکومت اختیار کرسکتی ہے :
بلامعاوضہ آزاد کردیا جائے۔
فدیہ لے کر چھوڑا جائے۔
قیدیوں کا باہمی تبادلہ کرلیاجائے۔
قومی مصلحت کے تحت ان کے شرعی واخلاقی حقوق ادا کرتے ہوئے غلام بنا کر رکھاجائے۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ‘ رازق اور مالک ہے اس کا حق اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کی غلامی میں زندگی گزارے۔ جو شخص یا قوم اللہ کی غلامی سے انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتی ہے۔ وہ دنیا میں دنگا و فساد کا موجب بنتی ہے۔ اسے اخلاقی حدود میں رکھنے اور امن قائم کرنے کے لیے پہلے تبلیغ اور آخر میں قتال فی سبیل اللہ فرض قرار دیا گیا ہے۔
معرکۂ حق و باطل میں ضروری نہیں ہر بار مسلمان ہی غالب آئیں۔ بسا اوقات مسلمان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہزیمت کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں جانی ‘ مالی نقصان کے ساتھ ایک دوسرے کے مردو زن قیدی بنا لئے جاتے ہیں۔ اس صورت میں کوئی چارہ کار نہ تھا کہ بامر مجبوری غلامی کی کوئی ایک صورت ایک حد تک باقی رکھی جائے۔
چنانچہ گھمبیر حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قیدیوں کے متعلق تین باتوں میں سے کوئی ایک اختیار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
فدیہ لے کر چھوڑنا۔ قیدیوں کا باہمی تبادلہ۔ شخصی غلامی یا ملک کے جیل خانہ میں رکھنا۔
(1) اگر فدیہ لے کر چھوڑنا قومی اور دینی مصلحت کے خلاف ہو جیسا کہ بدر کے قیدیوں کو چھوڑنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سرزنش ہوئی تھی تو عادی اور بھاری مجرموں کو قتل کردیا جائے گا۔
[ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب الإمدادبا لملائکۃ في غزوۃ بدر ]
(2) باہمی تبادلہ کی صورت نہ بن پڑے تو پھر مسئلہ کا حل غلامی کے بغیر نہیں رہتا۔ اس صورت میں بھی قومی مصلحت کے تحت فیصلہ ہوگا کہ عام جیل خانہ میں رکھنا چاہیے یا قومی بوجھ سے بچنے اور قیدیوں کی دینی ‘ اخلاقی تربیت کے لیے شخصی غلامی میں دینا چاہیے۔ شخصی غلامی کی صورت میں درج ذیل پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
کیا کوئی غیور مسلمان یہ گوارا کرسکتا ہے کہ ہمارے قیدی تو دشمن کے قبضہ میں رہیں اور دشمن کے قیدی چھوڑ دیے جائیں۔ مسلمان تو درکنار کوئی قوم بھی اس طرح کرنے کا تصور نہیں کرسکتی۔ اس ناگزیر صورت حال میں اسلام نے قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھنے کے احکامات جاری فرمائے اور جن پر ہر دور کے مسلمانوں نے عمل کیا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ غلامی کے بارے میں جو غلط فہمی پیدا کی ہے وہ یہ ہے کہ جو قیدی جس کے ہاتھ میں آئے وہ اس کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے حالانکہ اس پکڑ دھکڑ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ رسول کریم ﷺ کا خادم آپ کی سواری کا پلان سیدھا کر رہا تھا کہ دشمن کا تیر لگنے سے موقعہ پر فوت ہوگیا۔ صحابہ ؓ نے تبصرہ کیا کہ کتنا خوش قسمت ہے کہ ابھی چند دن ہوئے مسلمان ہوا اور شہادت کا رتبہ پالیا۔ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں میں اسے آگ میں لپٹا ہوا دیکھ رہا ہوں۔
Ayah 4:25فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کے اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ مسلمان رشتۂ اسلام کے اعتبار سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہ لوگوں کے اپنے پیدا کردہ حالات کا نتیجہ ہے کہ ان میں سے کچھ غلام بنا لیے گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب کو آزاد پیدا فرمایا ہے۔ لونڈی سے نکاح کے لیے اس کے مالک سے اجازت لینے کے ساتھ اس کو حق مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس لونڈی کا بھی فرض ہے کہ وہ محض شہوت رانی کے بجائے مستقل نکاح کی نیت رکھتے ہوئے پاک دامنی کے ارادے سے ازدواجی بندھن میں آئے اور کسی سے پوشیدہ دوستی رکھنے سے بھی مکمل اجتناب کرے۔ اگر منکوحہ لونڈی بدکاری کا ارتکاب کربیٹھے تو آزاد عورت کے مقابلے میں اسے آدھی سزا ہوگی۔ تخفیف سزا کی بنیادی وجوہات یہ ہیں :
1۔ آزاد عورت کو اپنے خاوند، خاندان اور والدین کی حفاظت و نگرانی حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ لونڈی پر اتنی نگرانی نہیں ہوتی۔
2۔ لونڈی کسی کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سے مجبور ہوتی ہے کہ مالک اسے جہاں اور جن لوگوں کے پاس چاہے کام کے لیے بھیج سکتا ہے جب کہ آزاد عورت اس طرح مجبور نہیں ہوتی۔
3۔ کسی کی لونڈی ہونے کی وجہ سے نفسیاتی طور پر خاوند کا رعب اور وقار اتنا نہیں سمجھتی جتنا آزاد عورت سمجھتی ہے کیونکہ یہ لونڈی اپنے مالک کے ماتحت ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے لونڈی سے بدکاری ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس وجہ سے سزا میں بھی تخفیف کردی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کو چھوڑ کر لونڈیوں سے شادی کرنے کی دو وجوہ بیان کی ہیں انہیں ذہن نشین رکھنا چاہیے۔
1۔ آزاد عورت سے شادی کے اخراجات برداشت نہ کرسکتا ہو۔
2۔ آدمی اپنے آپ میں کسی گناہ میں ملوث ہونے کا خوف محسوس کرتاہو۔
ان دو وجوہات کے علاوہ اسے لونڈی سے شادی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
لونڈی سے نکاح کرنے کی قباحتیں :
1۔ غیور آدمی کو یہ بات مسلسل کھٹکتی رہے گی کہ میری بیوی دوسرے کی لونڈی ہے۔
2۔ لونڈی کی اولاد اس کے خاوند کی بجائے شرعی طور پر آقا کی ملکیت ہوتی ہے۔
3۔ لونڈی اپنے خاوند کے حق زوجیت ادا کرنے کے علاوہ باقی معاملات میں اپنے آقا کی پابند ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استعداد نہ ہو تو مومنہ لونڈی رکھنا جائز ہے۔
2۔ بدکار لونڈی کی سزا نصف ہے۔
Ayahs 4:26–28فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عورتوں کے حقوق اور دیگر مسائل کے بارے میں دنیا کے دو بڑے مذاہب یہود و نصاریٰ نے بہت سے حقائق چھپا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو کھول کھول کر بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں پہلے انبیاء اور صلحاء کا راستہ دکھلایا جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں کی زندگی کا کیا اسلوب ہوا کرتا ہے تاکہ تم صالح زندگی اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حقدار بن جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے کرم و فضل کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری، خواہشات کے بندے اور رسومات کے غلام بن چکے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم صراط مستقیم اور اللہ کے کرم سے محروم ہوجاؤ۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دین میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی جو تمہاری قوت عمل سے باہر ہو۔ دینی احکام کو اس لیے آسان رکھا گیا کیونکہ انسان نہایت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌوَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بالْغُدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَيْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب الدین یسر ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا دین آسان ہے کوئی شخص اسلام پر غالب نہیں آسکتا بلکہ دین ہی غالب ہوگا۔ اجروثواب کا راستہ اور میانہ روی اختیار کرو، لوگوں کو خوشخبریاں دو ، صبح و شام اور رات کے کچھ حصے میں اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتے رہو۔ “
رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بعد کچھ نام نہاد علماء اور جاہل صوفیوں نے مصنوعی تقویٰ ، گروہی تعصبات اور دنیوی مفادات کی خاطر دین اسلام میں بےپناہ اضافے کیے۔ مذہبی پیشواؤں کی مجرمانہ حرکت، لوگوں کی بےعلمی اور دین سے عدم دلچسپی کی وجہ سے آسان ترین دین آج لوگوں کو مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دین نہایت ہی آسان اور فطرت انسانی کے مطابق بنایا ہے۔ عادی مجرموں، پیشہ ور ظالموں اور اس پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے والوں کے سوا سب کے لیے دین آسان ہے۔ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے گا اسے نہ صرف دین آسان دکھائی دے گا بلکہ اس کی دنیا و آخرت کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ بشرطیکہ اجتماعی ضابطوں پر اجتماعی طور پر اور انفرادی قوانین پر انفرادی سطح پر عمل پیرا ہوا جائے۔
اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتے :
یقینا اسلام فطرت کے موافق اور آسان بنایا گیا ہے۔ انسانی طبائع کیونکہ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ دنیاوی ترغیبات، معاشرتی اور کاروباری مشکلات انسان پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں جن کی وجہ سے آدمی سستی، کم ہمتی اور بےتوجہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے سستی سے بچنے کی دعا مانگنی چاہیے۔ گرامی قدر رسول ﷺ بڑے اہتمام کے ساتھ اللہ کے حضور یہ دعائیں کیا کرتے تھے :
(اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
(اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ]
” اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی اور بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ہدایت دینا اور ان کی توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔
2۔ بدکار لوگ نیک لوگوں کو بےحیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
3۔ انسان کی کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں آسانی پیدا فرمائی ہے۔
تفسیر بالقرآن
دین تو آسان ہے :
1۔ بیماری یا سفر میں روزہ چھوڑ کر بعد میں گنتی پوری کرنا چاہیے۔ (البقرہ : 184)
2۔ حالت سفر میں نماز قصر کی اجازت ہے۔ (النساء : 101) 3۔ غسل یا وضو کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کا حکم۔ (المائدۃ : 6)
(تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” دین تو آسان ہے)
Ayahs 4:29–30فہم القرآن
ربط کلام : حرمت رشتہ اور حرمت اموال کا باہم معنوی تعلق ہے کیونکہ دونوں کا خیال نہ رکھنے سے رنجشیں پیدا ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حرمت پامال ہوتی ہے۔
سورت کی ابتدا میں اب تک خاندان، یتامیٰ اور لونڈیوں کے معاشرتی و مالی حقوق کا ذکر اور ان کے ساتھ مقدس رشتوں کی حرمت و تکریم کا بیان ہوا ہے۔ اب مالی حقوق کو قدرے وسعت کے ساتھ یوں بیان فرمایا کہ تم اپنے ہی مال آپس میں باطل طریقے کے ساتھ نہ کھا یا کرو۔ البتہ باہمی رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے لین دین کے ذریعے مال لینا اور کھانا جائز ہے۔ جس طرح تم اپنے مال ناجائز طریقے سے نہیں کھاسکتے اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قتل بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی مہربانی کا یہ تقاضا ہے کہ تم بھی مالی، اخلاقی اور جسمانی ظلم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کا سلوک کرو۔ جذبۂ اخوت کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے مال جیسے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے ایسی ضمیریں استعمال فرمائی ہیں۔ جن سے باہمی قربت و شفقت کا احساس بیدار ہو سکے۔ جو شخص اس حکم اور نصیحت کے باوجود کسی پر مالی اور جانی ظلم کرے گا دنیا میں شاید وہ اس کی سزا سے بچ جائے لیکن آخرت کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے ظالموں کو سزا دینا ذرّہ برابر بھی مشکل نہیں۔ دنیا تو نہایت مختصر اور جلد ہی ختم ہوجانے والی ہے اور اس کے بعد اسے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونک دیا جائے گا۔ وہاں نہ ان جرائم کی معافی ہوگی اور نہ ہی سزا کے بغیر تلافی ہو سکے گی۔ آپ نے دھوکا دہی، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی و بیشی، حرام چیزوں کی خریدو فروخت اور رشوت سے منع فرمایا۔ اب ہم احادیث کے حوالہ جات سے قدرے تفصیل کے ساتھ جائز اور ناجائز طریقوں کا ذکر کریں گے۔ قتل کے بارے میں سورة المائدۃ میں تفصیل بیان ہوگی۔
سود اور اس کی تمام قسمیں حرام ہیں
سورۃ البقرۃ کی آیت 275 میں سود کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے اس کی تفصیل مذکورہ آیت کے ضمن میں دیکھیں اور ہر وہ کاروبار ناجائز ہوگا جس میں سود یا اس کی کوئی شکل پائی جاتی ہو۔
1۔ حضرت ابو امامہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا حق کھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم لازم اور جنت حرام کردیتے ہیں۔ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا اگرچہ یہ حق تلفی تھوڑی ہو ؟ فرمایا اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب وعید من اقتطع الخ ]
2۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے ہم کلام نہیں ہوگا اور نہ ہی انہیں نظر کرم سے دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! وہ کون ہیں ؟ ایسے لوگ تو نامراد اور خسارے میں پڑگئے۔ آپ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
ماپ تول میں کمی کرنا
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اس جرم کی وجہ سے دنیا سے نیست و نابود کردی گئی۔ [ الأعراف : 85]
رسول اللہ ﷺ نے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کو فرمایا یقیناً تم دو ایسے کاموں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو۔ جن میں کوتاہی کی وجہ سے پہلی قومیں تباہ ہوگئیں۔ [ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان ]
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بازار تشریف لے گئے ایک تولنے والے کو دیکھا کہ وہ کوئی جنس تول رہا ہے۔ اسے فرمایا تو لیے مگر جھکتا ہوا۔[ رواہ النسائی : کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن ]
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی تجارت حرام قرار دی ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والأصنام ]
حضرت ابو مسعود انصاری ؓ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب ثمن الکلب ]
تجارت میں دھوکا دینا حرام ہے
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے کوئی عیب دار چیز عیب بتلائے بغیر فروخت کی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں مبتلا رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات ]
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے سودا کرنے والے جب تک آپس میں جدا نہ ہوں انہیں سودا منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔ اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کی تجارت میں برکت ہوگی اگر اس کا عیب چھپایا اور جھوٹ بولا تو سودے سے برکت اٹھالی جائے گی۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب إذا بین البیعان ......]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک دن منڈی تشریف لے گئے اور ایک غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو انگلیوں پر نمی محسوس فرمائی۔ غلہ کے مالک سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی کہ اللہ کے رسول رات بارش ہوئی تو میں نے گیلا اناج نیچے کردیا آپ نے فرمایا تجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جس نے دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں ہے۔
[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، بابقول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا ]
کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا غلط ہے
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجبور آدمی کی تجارت سے فائدہ اٹھانے، دھوکے کی تجارت اور پھلوں کے پکنے سے پہلے سودا کرنے سے منع فرمایا۔ [ رواہ ابوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی بیع المضطر ]
ابوحرہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار کسی پر ظلم نہ کرو۔ کسی کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہوتا ہے۔ [ مسندأحمد : کتاب : اول مسند البصریین، باب حدیث عم ابی حرہ ]
چوری کا مال خریدنا
آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس شخص نے اپنا مال کسی کے پاس پایا وہ اس سے واپس لینے کا زیادہ حقدار ہے جس نے مسروقہ مال خریدا ہے وہ اس کے چور کو تلاش کرے۔ [ رواہ النسائی : کتاب البیوع، باب الرجل یبیع السلعۃ فیستحقھا مستحق ]
مسائل
1۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے کا مال کھانا اور قتل و غارت کرنا حرام ہے۔
2۔ ظالم اور زیادتی کرنے والا جہنم میں داخل ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
مال کمانے کے باطل طریقے :
1۔ سود لینا۔ (البقرۃ : 275) 2۔ رشوت لینا۔ (البقرۃ : 85)
4۔ کم تولنا۔ (المطففین : 1) 6۔ لوٹ مار کرنا۔ (المائدۃ : 33)
5۔ غلط مقدمات کے ذریعے مال حاصل کرنا۔ (البقرۃ : 188)
Ayah 4:31فہم القرآن
ربط کلام : رشتوں کی حرمت کو پامال کرنا اور حرام کھانا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ جو کبیرہ گناہوں سے بچے گا اس کے لیے چھوٹے گناہوں سے بچاؤ آسان ہوجاتا ہے۔ اگر چھوٹے گناہ بتقاضائے بشریت سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً معاف فرما دیں گے۔
رب کریم نے اس فرمان میں مومنوں کو ایک تسلی اور اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم بڑے اور سنگین نوعیت کے گناہوں سے اجتناب کرو تو تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ ہم اپنے کرم سے از خود ہی معاف فرما دیں گے۔ اس فرمان کی تفسیر رسول معظم ﷺ نے یوں فرمائی مسلمان جب وضو کرتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب کلی کرتا ہے تو زبان کے، منہ دھوتا ہے تو آنکھوں، کان اور چہرے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ جب نماز ادا کرتا ہے تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک اور صاف ہوجاتا ہے جس طرح موسم خزاں میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ فِيْ زَمَنِ الشِّتَآءِ وَالْوَرَقُ یَتَھَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَھَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَاأَبَاذَرٍّ ! قُلْتُ لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ فَتَھَافَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہٗ کَمَا یَتَھَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ ) [ مسند احمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث أبی ذر ؓ ]
” حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ سردیوں کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے گر رہے تھے آپ نے درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑا جس سے ٹہنی کے پتے زمین پر گرپڑے پھر فرمایا ابوذر ! میں نے عرض کی کہ حاضر ہوں ! اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا مسلمان آدمی جب اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی گرجاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔ “
اس طرح بعض اذکار کے فوائد بیان فرمائے کہ ان سے گناہ معاف اور پڑھنے والے کے مرتبے بلند ہوتے ہیں۔ البتہ کبیرہ گناہ سچی توبہ اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے ہی معاف ہوتے ہیں۔ آپ نے امت کو ایسے گناہوں سے بچنے کے لیے کبیرہ گناہوں کی ایک فہرست پیش کی ہے۔ ان گناہوں کے ساتھ علماء نے قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے ہر اس گناہ کو کبیرہ گناہ قراردیا ہے۔ جنہیں کرنے والا اللہ تعالیٰ سے بےخوف ہو کر اور تکبر سے کرتا ہے بظاہر وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ کچھ علماء نے ان گناہوں کو بھی کبیرہ گناہ شمار کیا ہے جن کے کرنے پر لعنت کی گئی ہے۔ تاہم یہاں ان گناہوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن کا نام لے کر رسول اللہ ﷺ نے انہیں کبیرہ گناہ قرار دیا ہے
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَبَآءِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر ]
” حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ “ پھر فرمایا کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ؟ وہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب رمي المحصنات ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا سات تباہ کردینے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! وہ کون کون سے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے (1) ساتھ شرک کرنا، (2) جادو کرنا، (3) ناحق کسی کو قتل کرنا، (4) سود کھانا، (5) یتیم کا مال کھانا، (6) میدان جنگ سے پیٹھ موڑ کر بھاگنا اور (7) پاکدامن غافل مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔ “
مسائل
1۔ اگر لوگ بڑے گناہوں سے بچ جائیں تو اللہ تعالیٰ چھوٹے گناہوں کو معاف فرما کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں مذکور کبیرہ گناہ :
1۔ شرک۔ (النساء : 48) 2۔ والدین کی نافرمانی۔ (بنی اسرائیل : 23)
3۔ زنا۔ (الفرقان : 68، 69) 4۔ قتل ناحق (النساء : 93)
5۔ دختر کشی کرنا۔ (التکویر : 8، 9) 6۔ سود کھانا۔ (البقرۃ : 275)
7۔ یتیموں کا مال کھانا۔ (النساء : 10)
Ayah 4:32فہم القران
ربط کلام : جس طرح بڑے گناہ آدمی کو ہلاک کردیتے ہیں اسی طرح حسد بھی آدمی کے اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار اور دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے لوگوں کے درمیان تفاوت اور اونچ نیچ رکھی ہے تاکہ انسان ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرکے باہمی تعاون اور احترام کریں۔ جس کو نعمت میسر آئی ہے وہ شکر ادا کرے اور جسے محروم رکھا گیا ہے وہ صبر کرے۔ چھوٹے بڑے کا فرق عام انسانوں کے علاوہ بسا اوقات ایک باپ کی اولاد میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک خوبصورت دوسرا عام صورت ہے ‘ ایک تنو مند اور طویل قدوقامت لیے ہوئے، جبکہ دوسرا پست قد اور ناتواں جسم کا مالک ہے ‘ ایک معمولی محنت کے بعد دولت میں کھیل رہا ہے دوسرا سخت مشقت اٹھانے کے باوجود غربت کے تھپیڑے کھا رہا ہے ‘ ایک دانا دوسرا نادان ہے۔ اس فطری تفاوت کے بارے میں حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ جلنے اور حسد کرنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سمجھ کر قبول کرو۔ یاد رکھو کہ تمہارے رب کے نزدیک طاقت ور اور کمزور، گورے اور کالے، غریب اور امیر، شاہ اور گدا، عربی اور عجمی میں کوئی فرق نہیں۔ اس کی بارگاہ میں چہرے نہیں دل دیکھے جاتے ہیں۔ نعرے نہیں آدمی کا کردار دیکھا جاتا ہے۔ اسی کو رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یوں بیان فرمایا :
(یَآ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلآی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی ﷺ ]
” اے لوگو ! خبردار یقینًا تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے خبردار ! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر سوائے تقویٰ کے کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ “
رسول اللہ ﷺ نے غریبوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا :
(یَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِیْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ أَغْنِیَاءِھِمْ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَّھُوَ خَمْسُ ماءَۃِ عَامٍ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء أن فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل أغنیاءھم ]
” غریب مسلمان امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ “
لہٰذا قدرت کے فرق کو مٹانے یا حسد کے ساتھ آگے بڑھنے میں اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرو۔ بلکہ اپنے آپ کو سنوارنے اور آخرت بنانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طلب گار اور اس کا قرب تلاش کرنے والے ہوجاؤ۔ اس کے خزانے لامحدود، اس کی رحمت بےکراں اور اس کا فضل بےحد و حساب ہے۔ وہاں مرد وزن میں فرق کیے بغیر ہر کسی کے اعمال اور اس کی نیت و کردار کے مطابق اجر دیا جائے گا۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ وَلَاتَحَسَّسُوْا وَلَاتَجَسَّسُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَکُوْنُوْا عِبَاد اللّٰہِ إِخْوَانًا) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ بدگمانیوں سے بچو کیونکہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو اور نہ ہی آپس میں بغض رکھو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کے حصّے مقرر فرما دیے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
فضل کا معنٰی و مفہوم :
1۔ فضل سے مراد مال۔ (البقرۃ : 198)
2۔ فضل سے مراد احسان کرنا۔ (البقرۃ : 64)
3۔ فضل سے مراد فضیلت۔ (النساء : 70)
4۔ فضل سے مراد مال غنیمت۔ (النساء : 73)
Ayah 4:33فہم القرآن
ربط کلام : مردوں اور عورتوں کے معاشرتی اور اخلاقی حقوق بیان کرنے کے بعد مالیاتی حقوق کا تحفظ فرمایا گیا ہے۔
اوپر کی آیت میں مرد اور عورت کی کمائی کو الگ الگ تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں عربوں کے اس رواج کی اصلاح کی گئی ہے جس میں مرنے والا اپنے حقیقی وارثوں کو محروم کرکے کسی دوست یا رشتہ دار کے نام اپنی جائیداد وقف کردیتا تھا۔ فرمایا کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کا حصّہ اور اس کے وارثوں کا تعیّن کردیا گیا ہے۔ اب ان کے حصہ میں کمی وبیشی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ سوائے اس کے جو اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے تم نے کسی کے ساتھ عہد کیا ہو۔ اسے عہد کے مطابق اتنا حصہ دے سکتے ہو۔ لیکن اس کے بعد ایسا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے انصار اپنے مہاجر بھائیوں کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا کرتے تھے۔ اسحکم کے نازل ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فتح مکہ کے موقع پر سخت بیمار ہوئے۔ انہوں نے رسول محترم ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس بہت سا مال ہے ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں اجازت عنایت نہیں فرمائی۔ پھر انہوں نے نصف کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی تو آپ نے یہ فرما کر اجازت دی کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑناان کو محتاج چھوڑنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض، باب میراث البنات ]
مسائل
1۔ وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق ہونی چاہیے۔
نوٹ : وراثت کا بیان سورة النساء 11: کے تحت دیکھئے۔
Ayahs 4:34–35فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی ‘ مالی حقوق اپنی جگہ مسلّم لیکن خاندانی یونٹ کو متوازن اور مستحکم رکھنے کے لیے مرد کو گھر کا ناظم مقرر کیا گیا ہے اگر میاں بیوی کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اس کا طریقہ کار بھی طے کردیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے گھر یلو زندگی کو ایک یونٹ قرار دے کر مرد کو اس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے ” قَوَّامَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے ہر قسم کی نگرانی اور انتظام کرنے والا۔ گھر کا منتظم اس لیے مقرر کیا تاکہ گھر کا نظام مضبوط اور صحت مند خطوط پر چلتا رہے۔ مرد کو منتظم بنانے کی دو وجوہات بیان فرمائیں تاکہ عورت کے ذہن میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ پہلی یہ کہ مرد ذہنی اور جسمانی لحاظ سے عورت کے مقابلے میں مضبوط اور برتر پیدا کیا گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد پر بیوی بچوں کی حفاظت اور ان کے اخراجات کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ تاکہ عورت باہر کی الجھنوں سے بچ کر سکون کے ساتھ خاوند کی خدمت ‘ بچوں کی تربیت اور صنف نازک ہونے کی وجہ سے آرام کی زندگی گزار سکے۔ اگر غور سے سوچا جائے تو عورت کی گھریلو مصروفیات اس قدرزیادہ ہیں کہ وہ باہر کے کاموں کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتی۔ چہ جائیکہ اس پر ملازمت یا کاروبار کی دوہری ذمہ داری ڈال دی جائے۔ معاشرہ اس بات کا گواہ ہے کہ جو عورتیں کسی مجبوری یا محض گھریلو بجٹ میں اضافہ کرنے کے لیے ملازمت کرتی ہیں۔ انہیں گھر اور بچوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی ملازمہ رکھنا پڑتی ہے۔ بصورت دیگر ان کے گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ ان کے پاس کھانا پکانے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔ ایسے جوڑے اپنی ڈیوٹی سے گھر آتے وقت کھانا بھی ہوٹل سے لاتے ہیں۔ ان مسائل کی بنا پر عورت کو گھر کی ملکہ اور خاوند کو مشکل معاملات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ جب سے مسلمان خواتین نے بلا مجبوری مرد کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا شروع کیا ہے اس وقت سے عورت میں خود سری اور نخوت پیدا ہونے کے ساتھ مسلمان معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار، گھروں کا سکون برباد اور اولاد ماں باپ کی نافرمان ہوچکی ہے۔ کتنا ہی بہتر ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے تو اولاد کی نافرمانیوں ‘ گھروں کی بربادی اور معاشرتی بےحیائی سے محفوظ رہتے۔
نیک بیوی کے کردار میں دو خوبیاں نمایاں ہونی چاہییں۔ خاوند کی مطیع اور اس کی عزت و ناموس، مال اور اولاد کی حفاظت کرنے والی ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے گھر کی نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر عورت مرد کے مقابلے میں آئے اور اس کی بغاوت کرے تو اسے بہتر الفاظ اور اچھے انداز میں نصیحت کرنی چاہیے۔ ٹکراؤ کی صورت میں گھریلو زندگی بےچینی اور عدم توازن کا شکار ہوگی بلکہ اولاد پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص کر بیٹیوں کے مستقبل پر اس کے نہایت ہی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نفع و نقصان سمجھانے کے باوجود بیوی اگر اپنی روش ترک کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو خاوند کو اس کے ساتھ اپنی قربت ختم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جس کے لیے قرآن مجید نے بستر الگ کردینے کا حکم دیا ہے جو حیا دار اور خاندانی عورت کے لیے بہت بڑی سزا ہے۔ عورت میں اگر معمولی عقل اور حیا ہوگی تو وہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوگی کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے بیگانگی اور ایک دوسرے سے بیزاری اچھی نہیں۔ بصورت مجبوری تیسرا اور آخری اقدام یہ ہے اسے ہلکی پھلکی جسمانی سزا دی جائے تاکہ اس کی آنکھیں کھل جائیں کہ اب گھر کی ملکہ کے بجائے میں لونڈی کے مقام پر آکھڑی ہوں اور میرا گھر عقوبت خانہ اور اس کا ماحول میرے لیے اچھوت بن چکا ہے۔ کوئی عورت اگر اس قدر جاہل اور ہٹ دھرم ہو کہ وہ سدھرنے کا نام نہ لے تو پھر دونوں خاندانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قریبی رشتہ داروں سے دو آدمی ثالث مقرر کریں۔ ثالثوں کا دونوں طرف سے رشتہ دار ہونا اس لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف کھل کر بات چیت اور معاملات سلجھا سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ میاں بیوی اور خاندان کی عزت بھی سلامت رہ سکے گی۔ بالفاظ دیگر گھر کا معاملہ گھر ہی میں نمٹ جائے گا۔ اگر ثالث اور میاں بیوی اخلاص کے ساتھ معاملہ سدھارنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں ہمت اور توفیق نصیب فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان میں کون زیادہ قصور وار اور کون اخلاص کے ساتھ صلح کی کوشش کررہا ہے ؟
(عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَاحَقُّ زَوْجَۃِ أَحَدِنَا عَلَیْہِ قَالَ أَنْ تُطْعِمَھَاإِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوَھَا إِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَھْجُرْ إِلَّا فِی الْبَیْتِ )
[ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ]
” حضرت حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! ہم پر ہماری بیویوں کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تو کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے جب تو کپڑے پہنے اسے بھی پہنائے منہ پر نہ مارے ‘ نہ گالی دے اور اسے نہ چھوڑ مگر گھر میں۔ “
عورت کی سربراہی
بعض نام نہاد دانشور غیر مسلموں سے متاثر ہو کرنا صرف اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہیے بلکہ وہ مغربی جمہوریت کی پیروی میں عورت کو ملک کا سربراہ بنانے میں حرج نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے ” سورة النمل “ سے ملکہ سبا کی حکومت کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایسے دانشور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مملکت سبا کی ملکہ بلقیس اس وقت تک ہی اپنے ملک کی حکمران رہی تھی جب تک وہ کافرہ تھی۔ جو نہی وہ اپنے وقت کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر ایمان لائی تو اس نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کردیا۔ اس کے بعد اس کی حکمرانی کا تاریخ میں ثبوت نہیں ملتا۔ کچھ لوگ جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بھی انصاف کے ترازو پر پوری نہیں اترتی۔ کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے زندگی بھر کبھی مسلمانوں کی خلیفہ بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ وہ تو شدید ہنگامی حالات میں مسلمانوں کے درمیان صلح کی غرض سے نکلی تھیں۔ لیکن حالات کی پیچیدگی میں پھنس کر رہ گئیں۔ اس لیے وہ زندگی بھر اپنے اس اقدام پر پریشان اور پشیمان رہیں۔ جب بھی قرآن مجید کی اس آیت (وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ) [ الاحزاب : 33] کی تلاوت کرتیں تو زارو قطار رویا کرتی تھیں۔ [ طبقات ابن سعد ]
عورت کی حکمرانی اور اسلام :
ہم یہاں مولانا سید جلال الدین انصر کی کتاب ” عورت اسلامی معاشرے میں “ سے کچھ اقتباس درج کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں :
” قدیم تاریخ کے متعلق کسی قدر مفصل اور مستند معلومات ہمیں یونانیوں اور رومیوں کے عہد سے ملتی ہیں۔ انہوں نے تہذیب و تمدن اور علوم وفنون میں اس قدر ترقی کی کہ اس کی بنیاد پر بہت سی تہذیبیں اور بہت سے علوم وجو میں آئے لیکن بایں ہمہ ترقی، ان کے ہاں عورت کا مقام بہت ہی پست تھا۔ وہ اس کو انسانیت پر بار سمجھتے تھے اس کا مقصد ان کے نزدیک سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ خادمہ کی طرح گھر والوں کی خدمت کرتی رہے۔
اہل یونان اپنی معقولیت پسندی کے باوجود عورت کے بارے میں ایسے ایسے تصورات رکھتے تھے جن کو سن کر ہنسی آتی ہے لیکن ان سے اس بات کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان کی نگاہ میں عورت کی کیا قدر و قیمت تھی اور وہ اپنے درمیان اسے کیا حیثیت دیتے تھے۔ ان کا قول تھا آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا مداوا محال ہے۔ پنڈور انامی ایک عورت کی بابت ان کا عام اعتقاد تھا کہ وہی تمام دنیاوی آفات و مصائب کی جڑ ہے۔ ایک یونانی ادیب کہتا ہے : دو مواقع پر عورت مرد کے لیے باعث مسرت ہوتی ہے ایک تو شادی کے دن دوسرا اس کے انتقال کے دن۔ “
لیکی نے اپنی کتاب ” تاریخ اخلاق یورپ “ میں لکھا ہے :
” بہ حیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی کا مرتبہ نہایت پست تھا اس کی زندگی مدۃ العمر غلامی میں بسر ہوتی تھی لڑکپن میں اپنے والدین کی، جوانی میں اپنے شوہر کی، بیوگی میں اپنے فرزندوں کی وراثت میں اس کے مقابلہ میں اس کے مرد اعزہ کا حق ہمیشہ رائج سمجھا جاتا تھا۔ طلاق کا حق اسے قانوناً ضرور حاصل تھا تاہم عملًا وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتی تھی۔ کیونکہ عدالت میں اس کا اظہار یونانی ناموس وحیا کے منافی تھا۔۔ افلاطون نے بلاشبہ مرد اور عورت کی مساوات کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ تعلیم محض زبانی تھی۔ عملی زندگی اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔ ازدواج کا مقصد خالص سیاسی رکھا گیا۔ یعنی یہ کہ اس سے طاقتور اولاد پیدا ہوجوحفاظت ملک کے کام آئے۔ “ (عورت اسلامی معاشرہ میں صفحہ :19، 20، 21)
یہ تو تھا یونانی تہذیب میں عورت کا مقام و مرتبہ جس کی معقولیت پسندی کا تاریخ کے اوراق میں آج بھی شہرہ ہے۔ اب ذرا مذکورہ مصنف لیکی ہی کی زبان سے رومی تہذیب میں عورت کے احوال کا تذکرہ کیا سماعت فرمالیں وہ لکھتا ہے :
” عورت کا مرتبہ رومی قانون نے عرصہ دراز تک نہایت پست رکھا، افسر خاندان جو باپ ہوتا تھا یا شوہر، اسے اپنے بیوی بچوں پر پورا اختیار حاصل تھا۔ وہ عورت کو جب چاہے گھر سے نکال سکتا تھا۔ جہیز یا دلہن کے والد کو نذرانہ دینے کی رسم کچھ بھی نہ تھی اور باپ کو اس قدر اختیار حاصل تھا کہ جہاں چاہے اپنی لڑکی کو بیاہ دے بلکہ بعض دفعہ تو وہ کی کرائی شادی کو توڑ دیتا تھا۔ زمانہ مابعد یعنی دور تاریخی میں یہ حق باپ کی طرف سے شوہر کی طرف منتقل ہوگیا اور اب اس کے اختیارات یہاں تک وسیع ہوگئے ہیں کہ وہ چاہے تو بیوی کو قتل کرسکتا تھا۔ 20 5 ء تک طلاق کا کسی نے نام نہ سنا تھا۔ “
غلاموں کی طرح عورت کا مقصد بھی خدمت اور چاکری سمجھا جاتا تھا۔ مرد اسی غرض سے شادی کرتا تھا کہ وہ بیوی سے فائدہ اٹھاسکے گا۔ وہ کسی عہدے کی اہل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ حتی کہ کسی معاملہ میں اس کی گواہی تک کا اعتبار نہیں تھا۔ البتہ اس کی طبعی کمزوریوں کی بناء پر اس کو بعض سہولتیں دی گئی تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ بعد کے ادوار میں رومیوں نے اس کو حقوق بھی دیے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کو مرد کے مساوی درجہ کبھی نہیں دیا۔ “ (عورت اسلامی معاشرہ میں صفحہ نمبر :21، 22)
[ بحوالہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، عورت کی سماجی ومعاشرتی حالت ][ ماخوذ از ” عورت کی حکمرانی اور اسلام “ مصنف فخرا لدین صدیقی ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر برتری عنایت فرمائی ہے۔
2۔ مرد اپنی کمائی سے عورتوں کی کفالت کرتے ہیں۔
3۔ عورتوں کو خاوندوں کی تابعداری اور اپنی عزت و عفت کی حفاظت کرنا چاہیے۔
4۔ نافرمان بیویوں کو نصیحت کرنا۔
5۔ دوسرا قدم خواب گاہوں میں ان سے علیحدگی اختیار کرنا۔
6۔ تیسرا قدم ہلکی پھلکی سزا دینا ہے۔
7۔ اطاعت شعار بیوی پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔
8۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات پہلی تینوں صورتوں سے حل نہ ہوں تو دونوں کی طرف سے رشتہ دار ثالثان مقرر کرنے چاہییں۔
تفسیر بالقرآن
نیک عورتوں کے اوصاف :
1۔ پاک دامن، حیا دار اور با پردہ۔ (المائدۃ : 5، القصص : 25)
2۔ مطیع ‘ توبہ کرنے والی ‘ عبادت گزار اور روزے دار۔ (التحریم : 5)
3۔ صدقہ کرنے والی ‘ صابرہ ‘ ڈرنے والی ‘ سچی ‘ پاکدامنہ ‘ اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی۔ (الاحزاب : 35)
Ayah 4:36فہم القرآن
ربط کلام : میاں بیوی کے حقوق کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت بلا شرکت غیرے کرنے کا حکم نیز والدین ‘ قریبی رشتہ داروں اور مستحق لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین۔ گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بیک مقام تذکرہ کیا گیا ہے۔
انسان اس وقت تک کسی کے حقوق اخلاص کے ساتھ پوری طرح ادا نہیں کرسکتا جب تک صحیح معنوں میں اپنے آپ کو بلا شرکت غیرے اللہ تعالیٰ کی غلامی اور تابعداری میں نہ لے آئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کبھی احکامات جاری کرنے کے بعد اور کبھی ان کی ابتدا میں اپنی توحید اور تقویٰ یاد دلاتے ہیں تاکہ انسان اپنے آپ کو اس کے حضور مکمل طور پر سر نگوں کر دے۔
ذات کبریا کے بعد والدین ہی انسان کے سب سے زیادہ ہمدرد، محسن، مربیّ اور قریب ہوتے ہیں۔ انسان ماں کی آغوش میں باپ کی کمائی سے نشوونما پاتا ہے۔ اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے بعد آدمی کی اطاعت کے سب سے زیادہ حقدار اس کے والدین ہیں۔ والدین ‘ یتامیٰ اور مساکین کے تفصیلی مسائل و فضائل کے لیے [ سورة البقرۃ آیت 83] کی تفسیر ملاحظہ کیجیے۔ ان کے بعد معاشرے میں ہمسایہ اور بےسہارا ہونے والے طبقات یعنی، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور غلاموں کا ذکر ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جبریل امین (علیہ السلام) اس قدر ہمسایوں کے بارے میں مجھے تلقین کرتے رہے کہ میں نے سمجھا شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک بنا دیں گے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب الوصیۃ بالجارو الإحسان إلیہ ]
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں پہلے کس کو تحفہ بھیجوں ؟ آپ نے فرمایا جس کا دروازہ تیرے زیادہ قریب ہے۔[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب حق الجوار فی قرب الأبواب ]
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر تین مرتبہ قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کون مومن نہیں ؟ فرمایا جس کی تکلیف سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔
[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إثم من لایأمن جارہ بوائقہ ]
مسافر کے حقوق
رسول معظم ﷺ کے زمانے میں بالخصوص عرب میں شہر اور بستیاں ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہوا کرتی تھیں اور آج کی طرح ہوٹلوں کا انتظام نہیں تھا۔ مسافر لوگ اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سفر کرتے اور اپنا زاد راہ ساتھ رکھا کرتے تھے۔ بسا اوقات راستہ بھول جانے یا مسافت کا اندازہ کرنے میں غلطی ہوجانے کی وجہ سے زاد راہ ختم ہوجاتا۔ بعض اوقات پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوتا تھا۔ ایسے سفر کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہے :
(عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ؓ أَنَّہُ قَالَ قُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلاَ یَقْرُونَنَا فَمَا تَرَی، فَقَالَ لَنَا رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَکُمْ بِمَا یَنْبَغِی للضَّیْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِی یَنْبَغِی لَہُم) ْ [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إکرام الضیف وخدمتہ إیاہ بنفسہ ]
” حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ہمیں کسی مہم پر روانہ کرتے ہیں اگر ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزریں یا اتریں جو ہماری مہمان نوازی کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اس صورت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اگر لوگ تمہارا خیال رکھیں تو اچھی بات ہے بصورت دیگر تمہیں ان سے اپنی مہمانی کا حق وصول کرنا چاہیے۔ “
مراد یہ ہے کہ بھوکا مرنے کے بجائے ان سے کھانا پینا مانگا جاسکتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے عبادت کرنا، والدین اور دیگر رشتہ دار، تعلق داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا لازم ہے۔
2۔ اللہ متکبر کو پسند نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
حقوق اللہ اور حقوق العباد :
1۔ ایک اللہ کی ہی عبادت کی جائے۔ ( البقرۃ : 21) 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ( لقمان : 13)
3۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ ( الاحقاف : 15) 4۔ ہمسایوں کا خیال رکھا جائے۔ (النساء : 36)
5۔ یتامیٰ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ ( البقرۃ : 83) 6۔ اقرباء کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم۔ (النحل : 90)