4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفہم القرآن

Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

” اے لوگو ! بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ اور ہم نے تمہاری طرف ایک واضح روشنی نازل کی ہے۔ “ (174) ”

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء بھی ” یَاَ ایُّھَا النَّاسُ “ کے الفاظ سے ہوئی تھی۔ اور اختتام بھی انھی الفاظ اور مسائل سے کیا جارہا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہود و نصاریٰ اور مومنوں کے ساتھ تیسری مرتبہ تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی ہے کہ اے لوگو ! ادھر ادھر کے اعمال اور عقائد کی اتباع چھوڑ کر صرف اس برہان کی پیروی اور واضح روشنی کے پیچھے چلو جو تمہارے لیے دو جہاں کے راستوں کو منور کر دے گی۔ برہان سے مراد مفسرین نے رسول مکرم ﷺ کی ذات اور نور سے مراد قرآن مجید کی تعلیمات لی ہیں۔ رسول کی آمد کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں حجت ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ کا رسول آچکا اور اس نے زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن مجید پر عمل کرکے دکھلا دیا۔ لہٰذا لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں یعنی اس کی توحید کو سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کریں اور قرآن و سنت کے ساتھ اعتصام کرتے ہوئے اپنی زندگی سنواریں۔ جس کے بدلے اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق دے گا۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ اللہ پر ایمان لے آئے اور اسے مضبوطی سے تھام لیا عنقریب اللہ انہیں اپنی خاص رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا۔ “ (175)

(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ ؓ خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَطًّا بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ مُسْتَقِیْمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذِہِ السُّبُلُ وَلَیْسَ مِنْھَا سَبِیْلٌ إِلَّا عَلَیْہِ شَیْطَانٌ یَدْعُوْ إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ (وَاََنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں ان سب میں سے ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی (بےشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔ ) “ (الانعام : 153) مسائل 1۔ قرآن مجید ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ 2۔ قرآن کو مضبوطی سے تھامنے والے اللہ کے فضل و کرم سے ہمکنار ہوں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ 4۔ قرآن مجید چمکتا ہوا نور ہے۔ تفسیر بالقرآن نور کیا ہے ؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : 35) 2۔ قرآن نور ہے۔ (النساء : 174) 3۔ توحید نور ہے۔ (البقرۃ : 257) 4۔ حضرت محمد ﷺ نور کی طرف بلاتے تھے۔ ( الطلاق : 11، ابراہیم : 1) 5۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب مبین کی صورت میں نور آگیا۔ ( المائدۃ : 15) 6۔ توراۃ و انجیل نور ہیں۔ (المائدۃ : 44۔ 46) 7۔ وہ ذات جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا۔ ( یونس : 5)
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

” آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں، فرمادیں اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کوئی آدمی مرجائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کا نصف ہے جو اس نے چھوڑا اور وہ خود اس (بہن) کا وارث ہوگا اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ اگر وہ دو بہنیں ہوں تو ان کے لیے اس میں سے دو تہائی ہوگا۔ جو اس نے چھوڑا اور اگر وہ کئی بھائی، بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا اللہ تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم بھٹک نہ جاؤ اور اللہ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ “ (176)

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی ابتدا معاشرہ کے پسماندہ طبقہ یعنی یتیموں کے مالی حقوق سے ہوئی تھی اور اس کا اختتام بھی معاشرتی اعتبار سے کمزور افراد کے مالی تحفظ سے کیا گیا ہے۔ سورۃ النساء کی ابتدا میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دیتے ہوئے یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب اس سورة کا اختتام خاندانی لحاظ سے کمزور ترین انسان کے متعلقہ مسائل سے کیا جا رہا ہے۔ جسے قرآن نے کلالہ کے نام سے متعارف کروایا ہے۔ کلالہ کی تعریف : کلالہ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا، دادی اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ بیشک اس کے بہن بھائی ہوں کلالہ ہی تصور ہوگا۔ اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ 1/3 ہے۔ اور اگر ایک بہن اور ایک بھائی ہو تو ہر ایک کا 1/6 ہے۔ اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو بھی انھیں 1/3 سے زیادہ نہیں ملے گا اور یہ 1/3 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ مرد کو عورت سے دو گنا نہیں ملے گا۔ اور اگر صرف ایک ہی بھائی یا صرف ایک ہی بہن ہو تو اسے 1/6 ملے گا۔ باقی پہلی صورت میں 2/3 اور دوسری صورت میں 5/6 بچ جائے گا۔ کلالہ باقی حصہ کے متعلق وصیت کرسکتا ہے یا پھر یہ حصہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوگا بشرطیکہ کوئی عصبہ نہ مل رہا ہو۔ اولاد کی تین قسمیں ہیں : 1۔ عینی : وہ بہن بھائی جو سگے ہوں۔ 2۔ علاتی : جن کا باپ ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں۔ 3۔ اخیافی : جن کی ماں ایک اور باپ الگ الگ ہو۔ اخیافی بہن بھائیوں کے متعلق احکامات اسی سورت کی آیت نمبر 12 میں بیان ہوچکے ہیں۔ جو اس آیت 176 میں بیان ہو رہے ہیں یہ حقیقی یا سوتیلے بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلالہ کی میراث کی تقسیم میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اگر کلالہ کے حقیقی اور سوتیلے دونوں قسم کے بہن بھائی موجود ہوں تو سوتیلے کو محروم رکھا جائے گا۔ اور اگر حقیقی نہ ہوں تو پھر سوتیلے بہن بھائیوں میں جائیداد تقسیم ہوگی۔ دوسرا یہ کہ کلالہ کے بہن بھائیوں میں تقسیم میراث کی بالکل وہی صورت ہوگی جو اولاد کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی اگر صرف ایک بہن ہو تو اس کو آدھا حصہ ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا۔ اگر صرف بھائی ہی ہو تو تمام تر کہ کا واحد وارث ہوگا۔ اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ان میں سے ہر مرد کو دو حصے اور ہر عورت کو ایک حصہ ملے گا۔ یہاں یعنی آیت 176 میں بہن سے مراد سگی اور باپ کی طرف سے جو بہن ہو اس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ایسی بہن کو نصف ترکہ ملے گا اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہو یعنی چچا، چچا زاد بھائی تو ان کو یہ نصف ملے گا ورنہ یہ نصف بھی بہن کی طرف لوٹ آئے گا۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا اور بقیہ ثلث عصبہ کو ملے گا اور اگر عصبہ کوئی نہ ہو تو یہ بھی ثلث ان کو ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ بہنوں کا یہی حکم ہے۔ اگر کلالہ کے وارثوں میں بھائی اور بہن دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ مسائل 1۔ کلالہ کی صرف بہن ہو تو وہ نصف ترکہ کی مالک ہوگی۔ 2۔ اگر کلالہ کی دو بہنیں ہیں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ 3۔ اگر کلالہ کے بہن بھائی ہوں تو ” للذکر مثل حظ الانثیین “ کے تحت وراثت تقسیم ہوگی۔