Ayah 4:92فہم القرآن
ربط کلام : کافروں اور منافقوں کو قتل کرنے کا حکم ہے لیکن مومن کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اگر جنگ یا کسی ہنگامی کیفیت میں مومن ‘ مومن کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو اس کی سزا کا ذکر۔ یہاں منافق اور مومن کی شخصیت کا بھی موازنہ کیا گیا ہے۔
اسلام میں انسانی شرف اور اس کی جان کی حرمت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ اس کی تفصیل ” المائدہ آیت 32“ میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں پہلی آیات میں منافقوں اور کفار کو حالت جنگ میں قتل کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر غلط فہمی کی بنیاد پر مومن کو قتل کردیا جائے جسے قتل خطا کہا گیا ہے جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں ٹریفک حادثات، باہمی لڑائی جھگڑا جس میں دونوں طرف سے ارادۂ قتل شامل نہ ہو۔ جنگ کے دوران مسلمان کا اپنوں کے ہاتھوں قتل ہونا شامل ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو واقعات پیش آئے۔
ان میں سے ایک واقعہ حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں قبیلہ جہینہ کی سرکوبی کے لیے بھیجا ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور وہ شکست سے دوچار ہوئے میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر ایک شخص پر قابو پایا تو اس نے ” لَآ اِلٰہَ الاَاللّٰہ ‘ پڑھا۔ میرے ساتھی نے اسے چھوڑ دیا لیکن میں نے آگے بڑھ کر اسے نیزہ مارا جس سے وہ مرگیا۔ جب ہم رسول محترم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ کو اس واقعہ کی اطلاع پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ آپ نے مجھے فرمایا :
(أَقَالَ لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّمَا قَالَھَا خَوْفًا مِّنَ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ أَقَالَھَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا عَلَيَّحَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنِّيْ أَسْلَمْتُ یَوْمَءِذٍ )[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحریم قتل الکافر بعد أن قال لاإلہ إلا اللّٰہ ]
” کیا تو نے اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود اسے قتل کردیا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس نے اسلحہ سے ڈر کر کلمہ پڑھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا ہے یا اسلحہ کے خوف سے۔ آپ نے یہ سوال کئی مرتبہ دہرایا یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش میں آج اسلام قبول کرتا۔ “
ایسا ہی واقعہ حضرت خالد بن ولید ؓ کے ہاتھوں رونما ہوا۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیْدِ إِلٰی بَنِيْ خَزِیْمَۃَ فَدَعَاھُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَلَمْ یُحْسِنُوْآ أَنْ یَّقُوْلُوْآ أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوْا یَقُوْلُوْنَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ خَالِدٌ یَقْتُلُ مِنْھُمْ وَیَأْسِرُ وَدَفَعَ إِلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِّنَّا أَسِیْرَہٗ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ یَّقْتُلَ کُلُّ رَجُلٍ مِّنَّا أَسِیْرَہٗ فَقُلْتُ وَاللّٰہِ لَآ أَقْتُلُ أَسِیْرِيْ وَلَایَقْتُلُ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِيْ أَسِیْرَہُ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ فَذَکَرْنَاہُ فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ یَدَہٗ فَقَال اللّٰھُمَّ إِنِِّيْ أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَّرَّتَیْنِ )
[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب بعث النبی ﷺ خالد بن ولید إلی بنی خزیمۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بنی جزیمہ کی طرف خالد بن ولید ؓ کو بھیجا۔ انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہیں ( أَسْلَمْنَا) ” ہم مسلمان ہوئے “ کہنا نہ آیا وہ (صَبَأْنَا صَبَأْنَا) ” ہم بےدین ہوگئے، ہم بےدین ہوگئے “ کہنا شروع کردیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے کچھ کو قتل کردیا اور کچھ کو قیدی بنالیا اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا قیدی دیا۔ ایک دن آیا کہ حضرت خالد ؓ نے یہ حکم جاری کیا کہ ہر کوئی اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا اللہ کی قسم ! نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی دوسرا کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ ہم نے نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر معاملہ ذکر کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا اے اللہ ! میں خالد بن ولید کے کیے پر تیری بارگاہ میں برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ “
جس پر یہ حکم نازل ہوا کہ اگر کسی مومن کو غیر ارادی طور پر قتل کردیا جائے تو اس کی سزا ایک غلام آزاد کرنا اور اس کی دیّت اس کے وارثوں کو دینا ہے الاّ یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اگر مقتول مومن دشمن قوم کا ہو تو پھر صرف ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ اگر مقتول مومن ایسی قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہو جس کے ساتھ مسلمانوں کا بقائے باہمی کا معاہدہ ہے تو اس کے وارثوں کو دیت دینے کے ساتھ ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ غلام نہ ملنے یا اس کے آزاد کرنے کی طاقت نہ ہونے کی صورت میں قاتل کو متواتر دومہینے روزے رکھنا ہوں گے۔ توبہ کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کی حکمت جاننے والا ہے۔ یاد رہے روزے رکھنے کے دوران شرعی عذر کے بغیر ناغہ کرنے والے کو ازسر نو روزوں کی گنتی کا آغاز کرنا اور ان کی تعداد پوری کرنا ہوگی۔ گویا کہ روزے متواتر رکھنے کا حکم ہے۔
مسائل
1۔ مومن کا مومن کو قتل کرنا جائز نہیں۔
2۔ مومن کو غلطی سے قتل کرنے کی سزا مقتول کے ورثاء کو دیّت دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔
3۔ مقتول مومن کافر قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہو تو صرف ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا۔
4۔ معاہد قوم کا مسلمان قتل کرنے کی صورت میں اس کی دیّت دینے کے ساتھ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے۔
ٍٍ 5۔ مومن غلام آزاد کرنے کی استعداد نہ ہو تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
قتل کی سزا :
1۔ انسان کا احترام و مقام۔ (المائدۃ : 32)
2۔ دنیا میں پہلا قتل۔ (المائدۃ : 27، 31)
3۔ قتل کی سزا قصاص۔ (البقرۃ : 178)
4۔ قصاص میں زندگی۔ (البقرۃ : 179)
5۔ مومن کے قاتل کی سزا۔ (النساء : 93)
6۔ قتل کی اقسام و بدلہ۔ (النساء : 92)
Ayah 4:93فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے گھر ! تیرا احترام و اکرام اور جلالت و منزلت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔
[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ ]
ایک مرتبہ آپ ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ فرمایا۔ کچھ صحابہ کرام ” وَنْ “ کے درختوں پر چڑھ کر پیلو توڑ رہے تھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ کے ساتھ کھڑا ایک صحابی عبداللہ بن مسعود ؓ کی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے مومن کی شان کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ پنڈلیاں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب مسند علی ؓ ]
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک ایمان اور کلمے کی اتنی قدر ہے کہ آپ سے حضرت مقداد بن اسود نے استفسار کیا اگر میری کسی کافر کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے۔ جب میں اس پر وار کروں تو وہ درخت کی اوٹ میں جان بچانے کے لیے کلمۂ شہادت پکاراُٹھے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ آپ نے فرمایا تجھے اپنا ہاتھ روکنا ہوگا۔ بیشک اس نے تجھے زخمی کیا ہے اگر تو نے اس پر حملہ کیا۔ تو تو اس کے مقام پر کھڑا ہوگا یعنی وہ مظلوم اور تو ظالم ہوگا۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا ]
قرآن مجید کے اس فرمان میں مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی پانچ سزاؤں کا بیان ہوا ہے : (1) جہنم میں داخلہ (2) اس میں ہمیشگی (3) اللہ کا غضب (4) اللہ کی لعنت (5) عذاب عظیم۔
اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ) مومن کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان ‘ باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ ]
مسائل
1۔ بلاوجہ مومن کو قتل کرنے والے پر اللہ کا غضب، اس کی لعنت اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
Ayah 4:94فہم القرآن
ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ میں احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ کسی پر ظلم یا غلطی سے مسلمان نشانہ نہ بن جائیں۔
اسلام میں جہاد و قتال کا یہ معنٰی نہیں کہ کفار کی دشمنی میں مجاہد اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اس کی تلوار کے سامنے جو آئے اسے تہ تیغ کرتا چلا جائے۔ اسلامی جہاد اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس علاقہ پر حملہ کرنا مقصود ہو۔ وہاں کے بارے میں پہلے اچھی طرح معلومات حاصل کی جائیں۔ اگر وہاں مسلمان موجود ہوں تو اندھا دھند حملہ کرنے کے بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے مسلمان محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا نقصان ملت کا نقصان اور مجاہدین کے لیے بدنامی کا باعث ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ پر حملہ کیا تو ایسی منصوبہ بندی فرمائی کہ جس سے مکہ کی حرمت قائم رہے اور مسلمانوں کا نقصان بھی نہ ہونے پائے۔ اعلان فرمایا کہ جو شخص بھی بیت اللہ میں داخل ہوجائے یا اپنے گھر کے کواڑ بند کرلے یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے۔ اسے حفظ وامان دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ” سورة الفتح آیت 25“ میں اس حکمت عملی کو اپنا انعام قرار دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ہمیشہ یہ معمول تھا کہ جس علاقے کے متعلق آپ کے پاس معلومات نہ ہوتیں وہاں حملہ آور ہونے کے بجائے رات بھر انتظار فرماتے اگر صبح کی اذان سنائی نہ دیتی تو آپ حملہ کرنے کا حکم دیتے جیسا کہ حدیث میں حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں :
(عَنِّ النَّبِيّ ﷺ کَانَ إِذَا غَزَابِنَا قَوْمًا لَمْ یَکُنْ یُغِیْرُ بِنَا حَتّٰی یُصْبِحَ وَیَنْظُرَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا کَفَّ عَنْھُمْ وَإِنْ لَمْ یَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَیْھِمْ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب مایحقن بالأذان من الدماء ]
” نبی کریم ﷺ کسی قوم پر صبح ہونے سے پہلے حملہ نہ کرتے، صبح کے وقت آپ دیکھتے اگر اذان سنتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے۔۔ “
اس کا مقصد یہ تھا کہ کہیں مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچ پائے۔ اس آیت میں اسی احتیاط کا حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو اور کوئی تمہارے سامنے اپناا سلام پیش کرے تو غنائم کے لالچ میں اسے ٹھکرا نے کی بجائے اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ پھر تنبیہ فرمائی کہ آخر تم بھی تو ان حالات سے گزرے ہو کہ جب تم میں کئی لوگ دشمنوں کے خوف کی وجہ سے اپنا ایمان چھپاتے تھے اور تم بھی پہلے کافر تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم فرمایا کہ تمہیں آزاد مملکت نصیب فرمائی اور دشمن پر غلبہ عطا کیا اور مسلمان ہونے کی توفیق دی۔
یہاں اس سانحہ کی طرف اشارہ ہے جو خالد بن ولید ؓ کے ہاتھوں رونما ہوا کہ جب ایک چھوٹی سی جھڑپ کے دوران کچھ لوگوں نے ان کے سامنے اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا تو خالد بن ولید ؓ نے ان پر یقین کرنے کی بجائے انہیں شہید کرڈالا۔ جس پر رسول کریم ﷺ نے براءت کا اظہار کیا۔[ رواہ البخاری : کتاب المغازی ]
آیت کے آخر میں تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ جو کچھ اور جس نیت سے تم کوئی عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی اچھی طرح خبر رکھنے والا ہے۔
مسائل
1۔ جہاد کے دوران کافر اور مسلمان کی تمیز اور تحقیق کرنا مجاہد پر لازم ہے۔
2۔ دنیا کے مال کی خاطر کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنا جائز نہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
دوران جہاد تحقیق کرنا :
1۔ فاسق کی خبر کی تحقیق کرنا چاہیے۔ (الحجرات : 6)
2۔ کسی کے دعوی اسلام کی تحقیق کرنا لازم ہے۔ (النساء : 94)
3۔ مشرک اور کافر کے اسلام لانے کی تحقیق کی اجازت۔ (الممتحنۃ : 10)
Ayahs 4:95–96فہم القرآن
ربط کلام : خطاب جہاد میں پہلے مسلمانوں کو حالات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی طور پر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا اس کے بعد جہاد کے احکامات اور اس کے متعلق ضمنی ہدایات دیتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی عظمت اور برکت بیان فرمائی پھر قتال میں ہونے والی کوتاہیوں اور غفلتوں کے بارے میں احتیاط کا حکم دیا۔ اب مجاہدین کا مرتبہ و مقام بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر مومن کی بڑی قدرو منزلت ہے۔ لیکن ایسے مومن جو بغیر کسی مجبوری اور شرعی عذر کے قتال فی سبیل اللہ میں براہ راست حصہ لینے کی بجائے دنیاوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال نچھاور اور جانیں نثار کرتے ہیں ان کا مرتبہ و مقام دوسرے مومنوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ گو اللہ تعالیٰ نے ہر ایمان دار کے ساتھ اس کے اعمال اور اخلاص کے مطابق درجات کی بلندی اور جنت کے وعدے کیے ہیں جو ہر صورت پورے ہو کر رہیں گے۔ لیکن اس کے باوجود مومن مجاہدین کا مرتبہ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ عام مومنوں کی رو حیں عالم برزخ میں مقام علّیّین میں ہوتی ہیں جبکہ مجاہدین کی ارواح اللہ تعالیٰ کے عرش تلے جلوہ افروز اور براہ راست جنت کے نظارے کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخشتے ہوئے انہیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ و رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی پیدائش کے علاقہ میں بیٹھا رہا۔ صحابہ نے کہا اللہ کے رسول ! تو کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ جگہ ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “
(عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکَرِبَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِلشَّھِیْدِ عِنْدَ اللّٰہِ سِتُّ خِصَالٍ یُغْفَرُ لَہٗ فِیْ أَوَّلِ دَفْعَۃٍ وَیَرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَیَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ وَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ تَاجُ الْوَقَارِ الْیَاقُوْتَۃُ مِنْھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَیُزَوَّجُ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ زَوْجَۃً مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ وَیُشَفَّعُ فِیْ سَبْعِیْنَ مِنْ أَقَارِبِہٖ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل الجھاد، باب فی ثواب الشھید ]
” حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ہاں شہید کے چھ انعامات ہیں (1) اس کے سب گناہ معاف کرکے اسے جنت میں اس کا مقام دکھلایا جاتا ہے۔ (2) قبر کے عذاب سے محفوظ ہوگا۔ (3) روز قیامت گھبراہٹ سے مامون ہوگا۔ (4) قیامت کے دن اس کے سر پر عزت ووقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک موتی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ (5) اس کی بہتر حوروں سے شادی کی جائے گی۔ (6) اور اس کے ستر قریبی رشتہ داروں کے بارے میں سفارش قبول کی جائے گی۔ “
(عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ رِبَاطُ یَوْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَاعَلَیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللّٰہ ]
” حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں ایک دن کا پہرہ دینا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ گھروں میں بیٹھنے والے مومنوں سے مجاہدین بہتر ہیں۔ 2۔ مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے بلندمرتبہ و مقام عطا فرمایا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق جزا کا وعدہ فرمایا ہے۔
4۔ مجاہدین اور دوسروں کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رحمت ہوگی۔
Ayahs 4:97–99فہم القرآن
ربط کلام : دارالکفر میں رہنے کی بجائے صاحب ہمت لوگوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہیے
یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس آویزش میں ہمیں بیشمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام ‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین کی طرف اور اس کے بعد ہزاروں ساتھیوں سمیت فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔
شرعی اصطلاح میں دین کی خاطر وطن چھوڑنے والے کو مہاجر اور اس عمل کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نظریۂ اسلام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا دوسرا نام ہے اس کی خاطر ہر چیز قربان کرنا لازم ہے۔ جو شخص ایمان کے لیے قربانی نہیں دیتا اور اس پر دوسری باتوں کو مقدم جانتا ہے۔ ایسا شخص ایماندار ہونے کا حق دار نہیں۔ ہجرت میں بھی یہی فلسفہ ہے کہ ناگزیر حالات میں ہمیشہ دب کر اور کمزور رہنے کے بجائے مسلمانوں کو ایسے علاقے سے ہجرت کر کے اپنی افرادی قوت کو مجتمع کر کے کفار کے مقابلے میں کھڑا ہونے کے اقدامات کرنے چاہییں۔
ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے :
اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی پورا نہیں اتر سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسباب اور طاقت رکھنے کے باوجود ہجرت نہ کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایمان کی نعمت ‘ مسلمانوں کی اجتماعیت ‘ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر اپنے کاروبار ‘ مکانات اور دنیاوی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ البتہ وہ لوگ جو ہجرت کے لیے کوئی سبیل اور وسیلہ نہیں پاتے انہیں معاف کردینے کی امید دلائی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ درگزر کرنے اور معاف فرمانے والا ہے۔
مسائل
1۔ شرعی عذر کے بغیر اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کرنے والے ظالم ہیں۔
2۔ جان بوجھ کر ہجرت نہ کرنے والے کو موت کے وقت فرشتے ہجرت نہ کرنے کا طعنہ دیں گے۔
3۔ ظالموں کے لیے جہنم بدترین ٹھکانا ہے۔
4۔ مجبور اور معذور لوگ ہجرت سے مستثنیٰ ہیں۔
5۔ معذور اور مجبور لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔
6۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے اور بخش دینے والا ہے۔
Ayah 4:100فہم القرآن
ربط کلام : مہاجر کو تسلی دی گئی ہے کہ گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کو ایک جگہ مقید نہیں رکھا ہوارزق تو انسان کے ساتھ ‘ ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے راستے میں بےدھڑک نکلو اللہ تمہارا رزق کشادہ کردے گا۔
ہجرت کا حکم دینے اور معذور لوگوں کو معاف کرنے کے اعلان کے بعد مہاجرین کو تسلی دی جارہی ہے۔ میرے نام اور کام پر بےخانماں ہونے اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے والو ! دل چھوٹا کرنا نہ حوصلہ ہارنا۔ تم ایسے خالق ومالک کے حکم سے وطن چھوڑ رہے ہو جو پتھر کے کیڑے کو چٹان میں ‘ گوشت خور درندوں کو جنگل میں ‘ پانی کے جانوروں کو سمندر کی لہروں اور تہوں میں ‘ پرندوں کو صحراؤں میں رزق پہنچاتا ہے۔ تم تو اشرف المخلوقات اور اس کے راستے کے راہی ہو۔ وہ تمہیں کس طرح کسمپرسی کی حالت میں رہنے دے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ‘ اپنے رب پر اعتماد کرو۔
ذرا یقین کی آنکھ سے تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق چھوڑا تو ملک شام اور سرزمین مقدس کے مالک بنے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کا خاندان اپنے وطن سے نکلا تو سینکڑوں سال مصر کا فرما نروا ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلے تو ان کے پیرو کار بیت المقدس کے حکمران ہوئے۔ غرض یہ کہ ہر دور میں اور ہر قافلۂ مہاجرین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ انہیں دنیا میں بےپناہ وسعت اور لامحدود فضل سے نوازا۔ صحابہ کرام ؓ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ جب مہاجرین مکہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بےخانماں اور کنگال تھے لیکن ہجرت کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اپنی روئیداد بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اب یہ حال ہے کہ مٹی اٹھاتا ہوں تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ لاکھوں روپے صدقہ کیے۔ اس کے باوجود وفات کے وقت اڑھائی کروڑ کے مالک تھے۔ حضرت زبیر ؓ بےحساب صدقہ کرنے کے بعد بھی پانچ کروڑ کی جائیداد چھوڑ کر دنیا سے گئے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ پر ایک وقت وہ تھا جب مہمان کا کھانا کم ہونے کی وجہ سے بیوی کو حکم دیتے ہیں کہ جب ہم کھانا شروع کریں تو دیا بجھا دینا۔ میں یوں ہی منہ سے آواز نکالتا رہوں گا تاکہ مہمان سیر ہو کر کھالے۔ پھر ایسا دور آیا کہ لاکھوں درہم کا باغ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے ہیں۔ غرضیکہ جن صحابہ نے کاروبار کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بےحساب نعمتوں سے نوازا۔ [ التجارات فی الاسلام ] دنیا کی نعمتوں اور وسعتوں کے ساتھ ان لوگوں کو آخرت کے اجر کی گارنٹی بھی دی گئی ہے۔ جو اپنے گھروں سے نکلے لیکن دارالہجرت نہ پہنچ پائے راستے ہی میں موت نے آلیا۔ ان میں حضرت خالد بن حزام ؓ بھی ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی دوران سفر سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے دنیا سے کوچ کر گئے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال خَرَجَ ضَمْرَۃُ بن جُنْدُبٍ ؓ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا فَقَالَ لأَہْلِہِ احْمِلُونی فَأَخْرِجُونی مِنْ أَرْضِ الْمُشْرِکِینَ إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ فَمَاتَ فِی الطَّرِیقِ قَبْلَ أَنْ یَصِلْ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَنَزَلَ الْوَحْیُ وَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ (النساء آیۃ 100) حَتَّی بَلَغَ وَکَان اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا [ مسند ابی یعلیٰ الموصلی : بابوَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا ]
حضرت سمرہ بن جندب ؓ مدینہ کی طرف نکلے تو راستے میں وفات پا گئے جناب ابو حمزہ بن العیض زرقی نابینا تھے معذور ہونے کے باوجود مدینہ طیبہ کی طرف رواں دواں ہوئے۔ ابھی مکہ سے کچھ دور تنعیم کے مقام پر پہنچے تھے تو موت نے آلیا۔ [ ابن کثیر، ابن ابی حاتم ]
کفار اور منافقین نے پروپیگنڈہ کیا کہ یہ لوگ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ اس پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور خوشخبری سنائی کہ ہجرت کے لیے اپنے گھروں سے نکلنے والے خوش نصیبوں کے اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیے ہیں جو ہرگز ضائع نہیں ہوں گے۔
مسائل
1۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا وسعت اور کشادگی پائے گا۔
2۔ ہجرت کے دوران فوت ہونے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔
تفسیر بالقرآن
ہجرت کی اہمیت :
1۔ ہجرت کا اجر وثواب اور فضیلت۔ (آل عمران : 195)
2۔ ہجرت کے دوران مرنے والے کو پورا ثواب ملے گا۔ (النساء : 100)
3۔ ہجرت کا دنیا میں اجر۔ (النحل : 41، 42) 4۔ ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا۔ (النساء : 97، 99)
Ayahs 4:101–102فہم القرآن
ربط کلام : دین اپنے ماننے والوں کو بےجا تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا۔ حالت جنگ میں اور سفر کے دوران آدمی تکلیف میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاد ‘ اور سفر کی حالت میں نماز جیسی عظیم عبادت میں تخفیف فرما دی گئی ہے۔
ایمان لانے کے بعد مسلمانوں پر سب سے زیادہ زور نماز کی ادائیگی اور اس کے قیام پر دیا گیا ہے۔ قیام صلوٰۃ سے مراد اس کے ارکان کی سنت کے مطابق ادائیگی اور اس کے روحانی اور معاشرتی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر قسم کی رعایت بخشی گئی۔ حالت مجبوری میں نماز کے لیے تیمم ہی کافی سمجھا گیا۔ کسی وجہ سے قبلہ کی طرف منہ کرنا مشکل ہو تو یہ شرط بھی ختم کردی گئی۔ نماز میں قیام اور رکوع و سجود کرنے فرض ہیں۔ لیکن کوئی شخص کھڑا نہیں ہوسکتا تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے ‘ بیٹھ کر نماز ادا نہیں ہوتی تو لیٹ کر ادا کرے۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو اشارے کے ساتھ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن نماز چھوڑنا کفر کے مترادف قرار پایا۔ لہٰذا نماز بقائمی ہوش و حواس ہر حال میں فرض ہے اور اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
حالت جنگ میں خوف، اضطراب اور عجلت ہوتی ہے۔ اور حالت سفر میں بھی آدمی کو منزل مقصود تک پہنچنے کی جلدی اور گھر سے دور ہونے کی وجہ سے اضطراب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نہایت مہربانی فرماتے ہوئے سفر میں قصر کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ حالت جنگ میں ناصرف نماز فرض ہے بلکہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہوا ہے چاہے اسلحہ اٹھا کر ہی پڑھنی پڑے۔ تاہم اس کی رکعات میں تخفیف کردی گئی کہ حالت جنگ میں سنن اور نوافل کی ادائیگی معاف کرنے کے ساتھ فرض کی چار رکعات کو دو میں تبدیل کردیا گیا یہاں تک کہ شدید ہنگامی حالات میں ایک رکعت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ حالت جنگ میں نماز باجماعت کی ادائیگی کی کئی صورتیں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں جن میں چند ایک صورتیں درج ذیل ہیں :
1۔ کچھ مجاہد امام کے ساتھ نماز ادا کریں اور باقی پہرہ دیں اور امام دو رکعت پڑھ کر بیٹھا رہے اس کے ساتھ پڑھنے والے مجاہد دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ پھر دوسرے لوگ آکر امام کی تیسری اور چوتھی رکعت کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کریں۔ اس طرح امام کی چار اور مجاہدین کی دو دورکعت نماز ہوگی۔
2۔ امام دو رکعت نماز پڑھائے گا ایک جماعت اس کے ساتھ ایک رکعت مکمل کرنے کے بعد پیچھے ہٹ کر دوسری رکعت از خود پڑھے گی۔ اب باقی لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کرنے کے بعد دوسری رکعت خودمکمل کریں گے۔ اور امام دو رکعت کے بعد سلام پھیرے گا۔
3۔ تیسری صورت میں سب لوگ امام کے ساتھ نماز کے لیے کھڑے ہوں گے۔ پہلی صفوں کے لوگ امام کے ساتھ سجدہ کریں گے جبکہ پچھلے لوگ اسی طرح کھڑے رہیں گے۔ اب یہ لوگ آگے بڑھ کر سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے اور پہلے لوگ پچھلی صفوں میں کھڑے ہو کر قیام اور رکوع کرنے کے بعد کھڑے رہیں گے۔ اب یہ لوگ سجدے کرتے ہوئے تشہد بیٹھنے کے بعد امام کے ساتھ اکٹھے سلام پھیریں گے۔ (مشکوٰۃ باب نماز خوف)
4۔ شدید خوف، گھمسان کا رن یا موجودہ طرز جنگ کے مطابق فوجی اپنے اپنے مورچوں میں جس حالت میں مناسب سمجھیں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ بیشک تیمم کے ساتھ جوتوں سمیت پڑھنی پڑھے۔ مجبوری کی حالت میں قبلہ کی پابندی بھی اٹھا دی گئی۔ فرمان عالی ہے : (اَےْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ) [ البقرۃ : 115] ” تم جس طرف بھی اپنے چہرے کرو گے اسی طرف ہی اللہ تعالیٰ کی توجہ کار فرما ہوگی۔ “
یہ رعایتیں اس لیے عنایت فرمائیں کہ کفار کی یہ خواہش ہے کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی غافل پا کر یکبارگی حملہ کرکے ختم کردیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بقا اور ہر لحاظ سے ترقی اور ان کا تحفظ چاہتا ہے۔ جس کی وجہ سے عبادت کے دوران بھی دفاع سے غفلت کی اجازت نہیں دی گئی۔ کاش مسلمان اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے دفاعی اور حربی طاقت کو بڑھاتے اور آج غیروں کے سامنے سرنگوں اور ذلیل نہ ہوتے۔ یہاں ایک اور بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ! آپ ان میں موجود ہوں تو بنفس نفیس امامت کروائیں کیونکہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی کا مقام نہیں کہ وہ امامت و قیادت کرے۔ اسی سے استدلال کرتے ہوئے صحابہ ؓ نے آپ کے جسد اطہر کے ہوتے ہوئے صرف درود پڑھا تھا۔ نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ یہاں یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ سرکاری افسران اور قوم کے رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ میں اتنی صلاحیت پیدا کریں کہ وہ امامت کروائیں۔ جب سے دینی اور دنیوی قیادت الگ الگ ہوئی۔ اسی وقت سے مذہب اور سیاست میں تفریق پیدا ہوئی۔ سیاست بےدین لوگوں کی وجہ سے کرپشن اور فساد کا منبع بنی اور امامت غریب لوگوں کی بنا پر غیر اہم ہوگئی۔
نبی اکرم ﷺ کے اسفار کو سامنے رکھتے ہوئے مسافت کے تعین میں علماء کرام کی مختلف آراء ہیں امام بخاری ؓ ‘ امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) 48 میل جبکہ دوسرے علماء شہر کی حدود سے باہر عرب کے 9 میل، ہمارے پرانے ساڑھے تیرہ میل اور موجودہ پیمائش کے مطابق (تقریباً 22 کلو میٹر) کے قائل ہیں۔ بعض علماء علمی موشگافیوں میں پڑ کر یہ کہتے ہیں کہ اس وقت سفر کی سہولتوں کا فقدان تھا۔ آج سڑکیں ہموار اور سواریاں تیز رفتار ہیں اس وجہ سے 9 میل کی مسافت پر قصر نہیں کرنا چاہیے بعض علماء تو اس طرح نماز پڑھنے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت کے پیش نظر کوئی مخصوص علاقہ یا زمانہ نہیں ہوتا۔ آج بھی پہاڑی علاقوں میں پگڈنڈیوں کے ذریعے 9 میل بالخصوص میدانی علاقے کے رہنے والوں کے لیے دل ہلا دینے والا سفر ہے۔ شریعت کا مطمع نظر لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ لہٰذا شریعت کے مقصد کو فوت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ کیونکہ خالق کائنات کو معلوم تھا اور ہے کہ دنیا میں کون کون سی ایجادات ہوں گی۔ اس لیے شریعت کو مکمل سمجھنا چاہیے اور اپنی طرف سے قیل و قال کر کے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہییں۔
قصر کتنے دن ؟
جس طرح مسافت کی تعیین میں علماء کے مختلف خیالات ہیں اسی طرح قصر کے ایام کے بارے میں اختلافات ہیں کیونکہ بعض وجوہات کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے قصر کے ایام میں کمی بیشی ثابت ہے جو لوگ تین سے زیادہ دن قصر کرنے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی تائید میں انہی روایات کا حوالہ دیتے ہیں جو علماء تین دن کے قائل ہیں وہ ان روایات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تردد کی کیفیت میں تھے جیسا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر پندرہ سے انیس دن قصر کرنے کی روایات ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ انتظامی امور نمٹانے کی وجہ سے آپ ﷺ تردد میں تھے کہ آج رخصت ہوتے ہیں یاکل۔ ایسی صورت میں پندرہ یوم کجا کئی مہینے بھی قصر کی جاسکتی ہے لہٰذا تین دن کے قائل علماء کے دلائل یہ ہیں کہ آپ نے مہمان نوازی تین دن قرار دی ہے۔[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ] اس کے بعد مہمان کے ساتھ مقیم جیسا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حج کے موقع پر آپ ﷺ کا ارشاد تھا کہ مکہ سے باہر رہنے والے لوگ تین دن سے زیادہ مکہ میں قیام نہ کریں۔[ رواہ النسائی : کتاب تقصیر الصلاۃ فی السفر ] کیونکہ صحابہ مکہ سے ہجرت کرچکے تھے اس لیے تین دن سے زیادہ ٹھہرنا مقیم ہونے کے مترادف ہوگا۔
سفر میں نفلی نماز :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ یَقُوْلُ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَ لَایَزِیْدُ فِي السَّفَرِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذٰلِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب من لم یتطوع في السفر دبرا لصلاۃ وقبلھا ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ ، ابو بکر، عمر عثمان ؓ کے ساتھ رہا ہوں وہ سفر میں صرف دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ “
دو نمازوں کو اکٹھا کرنا :
(عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنٍ ؓ أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَّسِیْرَ یَوْمَہٗ جَمَعَ بَیْنَ الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّسِیْرَ لَیْلَہٗ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ) [ مؤطا امام مالک : کتاب النداء للصلاۃِ ]
” حضرت علی بن حسین ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب دن کے وقت سفر کا ارادہ کرتے تو ظہر اور عصر کی نماز کو جمع فرماتے اور جب رات کو سفر کرنا چاہتے تو مغرب اور عشاء کی نماز کو اکٹھا کرتے تھے۔ “
مسائل
1۔ سفر کے دوران نماز قصر کرنے کی اجازت ہے۔
2۔ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔
3۔ کافر مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں۔
4۔ جنگ کے دوران حالت نماز میں اسلحہ پہنے رکھنے کی اجازت ہے۔
5۔ مسلمانوں کو سستی اور غفلت کی بنا اپنے آپ پر کفار کو حملہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
6۔ بارش اور جسمانی تکلیف کی وجہ سے حالت نماز میں اسلحہ رکھ دینا جائز ہے۔
7۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو امامت کے فرائض خود سر انجام دینے چاہییں۔
8۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:103فہم القرآن
ربط کلام : حالت جنگ اور سفر میں نماز مختصر پڑھنے کی اجازت تھی اب مقیم کو بروقت اور پوری نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ نماز کے بعد اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔
ذکر ایسی عبادت ہے کہ جسے کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ نماز بذات خود بہت بڑا ذکر ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کثرت کے ساتھ یاد الٰہی میں مصروف رہنے کا حکم فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔[ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب ھل یتتبع المؤذن فاہ ھھناوھھنا ] یہاں تک کہ رات جاگتے تو کروٹ بدلتے ہوئے بھی کوئی نہ کوئی تسبیح پڑھتے۔ اس لیے مومنوں کو حکم ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہر حال یعنی چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنے بستروں اور کروٹوں پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تم دشمن کے مقابلہ میں کامیاب، دین و دنیا کے معاملات میں سرخرو اور اپنے خالق کی دستگیری کا شرف پاؤ گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی روشنی میں نماز کے اوقات مقرر فرمائے ہیں اور ہر نماز کے ابتدائی اور آخری وقت کی وضاحت فرمائی۔ لہٰذا نماز ہمیشہ اول وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ گرمی میں نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرنے کے یہ معنٰی نہیں کہ اصل وقت سے تجاوز کردیا جائے۔ جو لوگ ظہر کا وقت دو مثل قرار دیتے ہیں۔ وہ فقہ کے علاوہ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں پیش کرسکتے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کیا ہے۔
2۔ نماز کی ادائیگی کے بعد چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور لیٹنے کی حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات مقرر کیے ہیں جن کا خیال رکھنا فرض ہے۔
Ayah 4:104فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ جہاد کے مضمون سے پیوستہ۔
جہاد کے مسائل اور احکامات کا اس موقعہ پر اختتام کرنے سے پہلے حسب معمول تربیت اور نصیحت کے پہلو کو نمایاں فرمایا۔ کیونکہ سفر میں نماز پڑھنا خاص کر اوّل وقت پر ادا کرنا عام حالات کی نسبت مشکل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا نماز کی ادائیگی اور اس کے اوقات کی پابندی کا ذکر فرمانے کے بعد جہادی خطاب کے آخر میں مجاہدین کو تسلی اور امید دلائی گئی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہیں جہاد کے راستے میں مشکلات پہنچیں۔ تم زخمی ہوئے ہو تو وہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن یاد رکھو تمہارے دشمن اس سے دگنی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اگر بدر و احد کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ تم سے زیادہ قتل اور زخمی ہوئے ہیں۔ اگر وہ تمہارا تعاقب کرنے میں سست اور بزدل نہیں ہوئے تو تمہیں بھی سستی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا وعدہ کیا ہے لہٰذا جس رحمت کی تم امید رکھتے ہو وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو مجاہد کو کثرت و قلت اور بےسرو سامانی کی پرواہ کیے بغیر کفار کے مقابلہ میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اسی کی بدولت مسلمان کفار پر غالب آتے رہے ہیں۔ جس کی تاریخ میں سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔ آج بھی مسلمان اسی جذبہ کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قالَ قَالَ رَجُلٌ للنَّبِيِّ ﷺ یَوْمَ أُحُدٍ أَرَأَیْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّۃِ فَأَلقٰی تَمَرَاتٍ فِيْ یَدِہٖ ثُمَّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے غزوۂ احد کے دن نبی کریم ﷺ سے پوچھا اگر میں شہید ہوجاؤں تو میں کہاں ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا : جنت میں۔ اس کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے وہ پھینک دیں پھر لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ “
مسائل
1۔ زخمی ہونے کے باوجود مجاہدین کو حالت جنگ میں ہمّت نہیں ہارنا چاہیے۔
2۔ مجاہد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہے جبکہ کافر کو کوئی امید نہیں ہوتی۔
Ayahs 4:105–106فہم القرآن
ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان فیصل ہو۔ اسی لیے تو رات و انجیل نازل کی گئی تھیں۔ جس معاشرے میں قرآن مجید کا حکم جاری نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو ظالم، فاسق اور کافر قرار دیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل سورة المائدہ آیت 45 تا 50 میں بیان ہوئی ہے۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِيْ بِلَاد اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو کسی ملک میں نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ “
یہاں ایک پیش آمدہ واقعہ اور مقدمہ کے سلسلہ میں آپ کو ہدایات دی گئی ہیں۔ جو عدل و انصاف کے اصولوں کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جج کا غیر جانب دارہونا، کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنا، وکیل ہو یا رشتہ دار اس کا مجرم کی حمایت سے اجتناب کرنا ‘ اس کے بعد شہادتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ چار بنیادی تقاضے ہیں جن کے بغیر کسی معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا۔
جج کو اپنی معلومات کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا چاہیے اگر وہ بےعلمی میں غلط معلومات کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا سارا گناہ غلط معلومات دینے والوں کو ہوگا۔ جانتے بوجھتے غلط فیصلہ کی بنیاد پر لیا ہوا مال حلال نہیں آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ آپ ﷺ فیصلہ کرنے سے پہلے بعض اوقات یہ بات بیان بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے :
(عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ وَأَقْضِيَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْءًا فَلَایَأْخُذْ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحیل، باب إذا غضب جاریۃ فزعم أنھا ماتت ]
” حضرت ام سلمہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میرے پاس اپنے فیصلے لے کر آتے ہو میں ایک بشر ہوں ہوسکتا ہے کہ تم میں کوئی دوسرے سے دلائل پیش کرنے میں زیادہ مہارت رکھتاہو۔ میں تو اسی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو بات سنتا ہوں میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں۔ تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔
2۔ کسی شخص کو مجرم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔
3۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی رحیم اور بخشنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیام عدل :
1۔ فیصلہ انصاف سے کرنا چاہیے۔ (النساء : 58)
2۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ : 49)
3۔ اللہ کا حکم نافذ نہ کرنے والے کافر ہیں۔ (المائدۃ : 44)
4۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم ہوتا ہے۔ (المائدۃ : 45)
5۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47)
Ayahs 4:107–108فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہونے والے مقدمہ کی روئیداد اس طرح ہے کہ انصار قبیلہ کے بنی ظفر خاندان میں سے ایک شخص نے انصاری کے گھر سے آٹے کی بوری اور ایک زرہ چوری کرلی۔ جب اس کا کھوج شروع ہوا تو اس نے اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے چوری کا سامان ایک یہودی کے گھر میں امانت رکھ دیا۔ اہل محلہ نے سامان یہودی کے گھر پاکر اسے چور ٹھہرایا لیکن یہودی نے انصاری کا نام لیا۔ جس پر انصاری کے رشتے داروں نے مل بیٹھ کر مشورہ کیا کہ رسول معظم ﷺ کے سامنے یہودی کو چور ثابت کیا جائے۔ جب مقدمہ آپ کی خدمت میں پیش ہوا تو انہوں نے یہودی کو چور ثابت کردیا۔ قریب تھا کہ آپ یہودی پر حد جاری کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نبی ! یہ آپ کی شان نہیں کہ آپ خائن اور بددیانت لوگوں کی حمایت کریں۔ اب تک جو کچھ ہوا اس پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے آئندہ آپ کی طرف سے خائن لوگوں کی حمایت نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خائن اور مجرموں کو پسند نہیں کرتا۔ ایسے لوگ دوسروں سے تو اپنے گناہ اور جرائم چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں چھپا سکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور علم وخبر کے لحاظ سے ہر وقت لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں تک یہ لوگ رات کے وقت ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہوتی ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات اور عمل کا احاطہ کیے ہوتا ہے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَامَ فِیْنَا النَّبِيُّ ﷺ فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ أَمْرَہٗ قَالَ لَاأُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُغَاءٌ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِيْ فَأَقُوْلُ لَاأَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ وَعَلٰی رَقَبَتِہٖ بَعِیْرٌ لَہٗ رُغَاءٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِيْ فَأَقُوْلُ لَاأَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب الغلو وقول اللّٰہ تعالیٰ ومن یغلل یأت بما غل ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے خیانت اور ایسے معاملہ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے فرمایا میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری ممیارہی ہو اور کسی کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو وہ مجھ سے کہے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تجھے پہنچا دیا اور کسی کی گردن پر اونٹ آواز نکال رہا ہو وہ کہے اللہ کے رسول میری مدد کیجئے۔ تو میں کہوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تجھے آگاہ کردیا تھا۔ “
مسائل
1۔ خائن لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
2۔ آدمی لوگوں سے چھپ سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپ سکتا ہے اور نہ کچھ چھپاسکتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کی بنا پر ہر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے :
1۔ انسان جہاں کہیں بھی ہو اس کی ہر حرکت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہے۔ (الحدید : 4۔ التوبہ : 40)
2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16، الواقعہ : 85)
3۔ انسان جدھر بھی رخ کرے اللہ تعالیٰ کی توجہ اس کی طرف ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 115)
4۔ آدمی جہاں کہیں ہو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (الحدید : 4)
5۔ آدمی تین ہوں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے پانچ ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوں یا کم وہ ہر وقت آدمی کے پاس ہوتا ہے۔ (المجادلۃ : 7)
خائن کا انجام :
1۔ خائن قیامت کے دن اپنی خیانت کے ساتھ پیش ہوگا۔ (آل عمران : 161)
2۔ خائن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (الانفال : 58)
Ayahs 4:109–112فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جن لوگوں نے عزیز داری کی بنیاد پر چور کی حمایت اور تعصب کی بنا پر یہودی پر الزام لگایا تھا۔ اب انہیں مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو طرف داری اور تعصب کی بنیاد پر اس دنیا میں مجرم کے حق میں جھگڑتے ہو۔ بتاؤ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے سامنے مجرموں کی طرف سے کون جھگڑا اور ان کی وکالت کرسکے گا ؟
اس فرمان کا صاف مطلب ہے کہ کسی شخص کو مجرم کی پاسداری اور اس کے جرم کی وکالت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فرمان ہر وکیل کے لیے تازیانۂ عبرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد چار مرتبہ لفظ ” مَنْ “ استعمال کیا کہ دنیا میں کوئی بھی جان بوجھ کر گناہ کرے یا بھول کر خطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور بڑی شفقت فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد پھر فرمایا کہ جو بھی گناہ کرے گا اس کا بوجھ دنیا اور آخرت میں اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم فلاں کے واسطے اور وسیلے سے نجات حاصل کرلیں گے اور بزرگوں کے طفیل ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ قرآن مجید مختلف پیرائے میں یہ بات سمجھاتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا لہٰذا پیر ہو یا مرید ‘ نبی ہو یا امتی ہر کسی کو اپنے اپنے اعمال کی جزا یا سزا پانا ہوگی۔ ہر شخص کو خوب جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نیت و عمل کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور جس شخص نے کوئی غلطی یا گناہ کیا اور پھر اس کا الزام ایسے آدمی پر لگایا جو اس سے بری الذمہ ہے۔ ایسے شخص نے بیک وقت تہمت لگانے اور گناہ میں ملوث ہونے کا ارتکاب کیا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کھلا گناہ ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت (اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ ) ” اپنی جانیں خرید لو یعنی نیک کاموں کے بدلے بچا لو “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ خرید لو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچا نہیں سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ پہنچا نہیں سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ کفایت نہیں کرسکوں گا، اور اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ کفایت نہیں کرسکوں گا، اور اے فاطمہ (محمد ﷺ کی بیٹی) ! مجھ سے میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب ]
مسائل
1۔ قیامت کے دن کوئی کسی کی غلط حمایت نہیں کرسکے گا۔
2۔ گناہ سر زدہو نے کے بعد انسان کو فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر کسی کو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔
4۔ توبہ نہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کو اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔
6۔ اپنے گناہ کو دوسرے کے ذمہ لگانے والا بہتان اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
گناہوں کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا :
1۔ کوئی نفس کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164)
2۔ ہر ایک اپنے معاملے کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ : 141)
3۔ عزیز و اقارب اور ہر کوئی ایک دوسرے سے بھاگ جائے گا۔ (عبس : 34، 36)
4۔ روز محشر دوست کام نہ آئیں گے۔ (البقرہ : 254)