4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفہم القرآن

Ayahs 4:37–38

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو لوگ بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے کے لیے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں عطا فرمایا ہے اسے چھپالیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے والدین، عزیز و اقارب، یتامی، مساکین، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ مالی تعاون کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے مال و اسباب کو اپنا فضل قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے سرفراز فرمائے ان کا فرض ہے کہ وہ بخل کرنے کی بجائے سخاوت کا مظاہرہ کریں۔ بخل کا ماحول پیدا کرنے یا مستحق حضرات پر خرچ نہ کرنے کا حکم دینے اور مال کو چھپا کر رکھنے کی بجائے لوگوں کو صدقہ و خیرات کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ مال چھپا چھپا کر رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرنا چاہیے۔ جو لوگ بخل کرنے کے ساتھ دوسروں کو بخل کے لیے کہتے ہیں ایسے ناشکروں اور نافرمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔ یہاں صرف خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ نمود ونمائش اور دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں درحقیقت وہ لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ کیونکہ انکا اللہ اور آخرت پر یقین ہوتا تو یہ بطور احسان، نمود و نمائش اور لوگوں سے خوشامد کی صورت میں اپنے صدقہ کا معاوضہ نہ لیتے۔ اگر ان کا آخرت پر یقین ہوتا تو یہ دنیا میں عارضی شہرت کی خاطر آخرت کا دائمی اجر ضائع نہ کرتے۔ اس ہلکے پن اور جلد بازی کا حقیقی سبب شیطان کا پھسلانا اور اکسانا ہے۔ شیطان تو آدمی کا بدترین ساتھی ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلَ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَیْدِیْھِمَا إِلٰی ثَدِیِّھِمَا وَتَرَاقِیْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ حَتّٰی تَغْشٰی أَنَامِلَہٗ وََتَعْفُوَ أَثَرَہٗ وَجَعَلَ الْبَخِِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ؓ فَأَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ بِإِصْبَعِہٖ ھٰکَذَا فِيْ جَیْبِہٖ فَلَوْ رَأَیْتَہٗ یُوَسِّعُھَا وَلَا تَتَوَسَّعُ ) [ رواہ البخاری : کتاب اللباس، باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دی کہ اس کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جو ہاتھ، سینے اور حلق تک فولادی قمیض پہنے ہوئے ہوں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کا جبہ کشادہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدموں کو ڈھانک لیتا ہے اور بخیل جب صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس سے چمٹ جاتا ہے یہاں تک ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ اپنی انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کرکے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس کو کھولنا چاہے گا لیکن وہ نہیں کھلے گا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَامِنْ یَوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَیَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنیٰ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک یہ آواز لگاتا ہے اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما۔ دوسرا یہ آواز لگاتا ہے اے اللہ ! نہ خرچ کرنے والے کا مال ختم کردے۔ “ مسائل 1۔ بخل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلت آمیز عذاب دیں گے۔ 2۔ نمود و نمائش کے لیے خرچ کرنے والے شیطان کے ساتھی ہیں۔ تفسیر بالقرآن شیطان بد ترین ساتھی ہے : 1۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ (البقرۃ : 168) 2۔ شیطان کی رفاقت کا بدترین انجام۔ (الفرقان : 27، 29) 3۔ شیطان بےوفائی سکھلاتا ہے۔ (الحشر : 16) 4۔ شیطان بدترین ساتھی ہے۔ (النساء : 38) 5۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی۔ (الاعراف : 20 تا 22)
Ayahs 4:39–40

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

بھلا انہیں کیا ہوتا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اللہ ان کو جاننے والا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے بڑھا دیتا ہے اور مزید اپنی طرف سے اجر عطا فرماتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : ریا کاری اور بخل سے اجتناب اور انفاق فی سبیل اللہ تبھی قبول ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین کامل ہو کہ جو کچھ صدقہ وہ کرے یا کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرتاقیامت کو اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ لوگوں کو اخلاص کے ساتھ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ (آل عمران : 182) 2۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔ (النساء : 40) 3۔ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (آل عمران : 117)
Ayahs 4:41–42

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پس کیا حال ہوگا جس وقت ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تمہیں ان لوگوں پر گواہ بنائیں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش انہیں زمین کے ساتھ ہموار کردیا جاتا اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے دن ظالم اپنا انجام دیکھ کر اپنے اعمال کا انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہیں گے کہ دنیا میں ہمیں کسی نبی اور مبلغ نے کچھ سمجھایا ہی نہیں تھا۔ اے رب ! ورنہ ہم تیری نافرمانی نہ کرتے۔ اس دن خدا کے باغی یہ آرزو کریں گے کاش ! ہم زمین میں دھنس جائیں اور ہم پر زمین برابر کردی جائے۔ خواہش کے باوجود نہ چھپ سکیں گے اور نہ ہی وہ کوئی بات چھپا سکیں گے۔ محشر کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس میں کئی مراحل ہوں گے ہر مرحلہ دنیا کے سینکڑوں سالوں کے برابر ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ جب مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر اس بات کا انکار کریں گے کہ الٰہی ہم نے تیری ذات کا نہ انکار کیا اور نہ ہی کسی کو تیرا شریک ٹھہرایا۔ ہمارے ذمہ جو اعمال لگائے گئے ہیں ہم نے یہ ہرگز نہیں کیے۔ انبیاء کے بارے میں کہیں گے کہ انہوں نے ہمیں ایک بار بھی نہ سمجھایا۔ اس دروغ گوئی کی وجہ سے ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔ اب ان کے اعضاء گواہی دیں گے۔ اس کے بعد اور شہادتیں پیش کی جائیں گی جن میں سب سے بڑی اور معتبر شہادت انبیاء کی ہوگی۔ وہ عرض کریں گے اے رب ذوالجلال ! ہم نے تیرا پیغام مِن و عَن پہنچا دیا تھا لیکن مجرم پھر بھی نہیں مانیں گے۔ اس پر سرور دو عالم ﷺ گواہی دیں گے کہ اے رب کریم ! انبیاء کرام نے تیرا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقے سے پہنچایا تھا۔ ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے لیے فرمایا میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے سورة النساء کی تلاوت شروع کی جب اس آیت کریمہ پر پہنچا (پس کیا حالت ہوگی جب ہر امت سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر تمہیں گواہ بنا کر لائیں گے۔ ) آپ نے فرمایا رک جائیے ! میں نے دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القرآن ] اس شہادت کے بارے میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے لوگوں سے پوچھا :” أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ “ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ تو لوگوں نے کہا کیوں نہیں آپ ﷺ نے ہمیں اللہ کے احکام پہنچا دئیے۔ اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا : ” أَللّٰھُمَّ اشْھَدْ أَللّٰھُمَّ اشْھَدْ “ اے اللہ ! گواہ رہنا ‘ اے اللہ ! گواہ رہنا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی ] اُمت محمدیہ کی گواہی : (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَآأَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روز قیامت نوح (علیہ السلام) کو پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا یا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا انہوں نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ اور اس کی امّت۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن ہر امت کا رسول اس پر گواہ ہوگا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ امت محمدیہ اور پہلے انبیاء کے بارے میں گواہی دیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن کافر اور رسول کا نافرمان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی آرزو کرے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن ظالم کی آرزوئیں : 1۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی خواہش۔ (النساء : 42، النباء : 40) 2۔ دنیا میں واپس آنے کی آرزو۔ (البقرۃ : 167) 3۔ دنیا میں لوٹ کر نیک عمل کرنے کی تمنا۔ (السجدۃ : 12) 5۔ ظالم اپنے ہاتھ کاٹتے ہوئے کہے گا ‘ کاش میں رسول کی اتباع کرتا۔ (الفرقان : 27) 6۔ کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ (الفرقان : 28) 7۔ جہنم کے داروغہ سے درخواست کرنا۔ (الزخرف : 77) 8۔ اپنے مرشدوں اور لیڈروں کو دوگنی سزا دینے کا مطالبہ کرنا۔ (الاحزاب : 68) 9۔ اللہ تعالیٰ سے مریدوں کا مرشدوں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا تقاضا کرنا۔ (السجدۃ : 29)
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نشے میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ جب تک تمہیں معلوم نہ ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کرلو اگر راستہ سے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھوں پر مل لو۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ‘ بخشنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کی تیاری کے لیے سچا ایمان اور پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنا فرض ہے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید محض قانون کی کتاب نہیں۔ بلکہ قرآن مجید قانون اور ضابطے بیان کرنے کے بعد نصیحت کرتا ہے تاکہ ان پر عمل کرنا آسان ہو۔ سورة البقرۃ آیت 219 میں فقط اتنا احساس دلایا تھا کہ شراب میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اب حکم ہوتا ہے کہ شراب پی کر نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم کیا کہہ اور مانگ رہے ہو۔ ساتھ ہی طہارت اور وضو کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ سکارٰی کا لفظ استعمال فرماکر بتلایا گیا ہے کہ بےہوشی نشہ کی ہو یا نیند کی ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ جس کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی : (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَھُوَ یُصَلِّيْ فَلْیَرْقُدْ حَتّٰی یَذْھَبَ عَنْہُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلّٰی وَھُوَ نَاعِسٌ لَایَدْ رِيْ لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الوضوء، باب الوضوء من النوم ومن لم یرمن النعسۃ والنعستین أو الخفقۃ وُضواءً ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران اونگھ آئے تو وہ نیند دور ہونے تک آرام کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی نیند کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ خیر مانگنے کی بجائے اپنے لیے برائی مانگ رہا ہو۔ “ سکارٰی سے مراد ہر قسم کا نشہ ہے چاہے شراب سے ہو یا کسی اور چیز سے۔ دوسرے حکم میں جنبی اور محتلم کو جب تک غسل نہیں کرلیتا۔ اسے نماز کے قریب جانے سے منع کیا ہے۔ نماز ہی نہیں بلکہ مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہاں ” عَابِرِیْ سَبِیْل “ کا اشارہ دے کر کوئی اور راستہ نہ ہونے کی صورت میں مسجد سے گزرنے کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ مریض، مسافر اور قضائے حاجت سے فارغ ہونے والا وضو کے لیے پانی نہ پائے تو اس کے لیے پاک مٹی سے تیمم کرنا ہی کافی ہوگا۔ ہاں جنبی یا محتلم غسل کے لیے پانی نہ پائے یا اس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو تو اسے تیمم کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حالتوں میں یہ رعایت عطا فرمائی ہے کیونکہ وہ درگزر اور معاف کرنے والا ہے۔ اس آیت میں عورتوں کو چھونے کے بعد غسل یا تیمم کرنے کا حکم دیا ہے چھونے سے مراد تمام مفسرین نے جماع لیا ہے۔ بعض اہل علم بیوی کو چھونے پر وضو ٹوٹ جانے کے قائل ہیں حالانکہ رسول محترم ﷺ نے اپنے عمل سے اس طرح تشریح فرمائی تاکہ امت کو کسی قسم کا وسوسہ باقی نہ رہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ ) [ رواہ النسائی : کتاب الطھارۃ، باب ترک الوضوء من القبلۃ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی کا بوسہ لیتے پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کرتے۔ “ (بشرطیکہ آدمی کی کیفیت نارمل رہے) غسل کا طریقہ رسول معظم ﷺ جنبی ہونے کی حالت میں پہلے جسم کا مخصوص حصہ یعنی شرمگاہ دھوتے اور اس کے بعد نماز جیسا وضو کرتے اور بعدازاں اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے اس کے بعد جسم کے دائیں حصہ سے غسل کا آغاز کرتے اور اس کی تکمیل کرتے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الغسل ] حضرت اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں غسل واجب کرتے ہوئے اپنے سر کے بال کھول دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ [ رواہ مسلم : کتاب الحیض ] (بالوں کا خلال ہی کافی ہے) تیمم کا طریقہ حضرت سعید بن عبدالرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے مسئلہ پوچھا کہ اگر میں جنبی ہوجاؤں اور مجھے پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ آپ یاد فرمائیں جب ہم دونوں ایک سفر میں اس حالت سے دوچار ہوئے تو آپ نے اس حالت میں نماز ادانہ کی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے کے بعد نماز ادا کرلی۔ بعد ازاں میں نے رسول کریم ﷺ سے یہ واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا تجھے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر اور ان میں پھونک مارتے ہوئے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرلیتا۔ [ رواہ البخاری : کتاب التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما ] بعض لوگ تیمم کے لیے دو مرتبہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور کہنیوں تک مسح کرنے کے قائل ہیں لیکن مستند روایت میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ تکلیف کی حالت میں غسل کی بجائے تیمم کافی ہے (عَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ خَرَجْنَا فِيْ سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِّنَّاحَجَرٌ فَشَجَّہٗ فِيْ رَأْسِہٖ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہٗ فَقَالَ ھَلْ تَجِدُوْنَ لِيْ رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ فَقَالُوْا مَانَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ أُخْبِرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمُ اللّٰہُ أَلَا سَأَلُوْا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوْا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعَيِّ السُّوَالُ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِرَ أَوْ یَعْصِبَ عَلٰی جُرْحِہٖ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْھَا وَیَغْسِلَ سَاءِرَ جَسَدِہٖ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطہارۃ، باب فی المجروح یتیمم ] ” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں ہم ایک سفر میں تھے ہمارے ایک ساتھی کو سر پر پتھر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا رات کو اسے احتلام ہوا صبح اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کیا میں تکلیف کی وجہ سے تیمم کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں کیونکہ تو پانی استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا جس سے اس کی تکلیف بڑھ گئی بالآخر وہ اسی وجہ سے فوت ہوگیا۔ جب ہم رسول محترم ﷺ کے پاس آئے۔ آپ کے سامنے یہ واقعہ عرض کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا مسئلہ بتانے والوں نے اس بیچارے کو مار ڈالا۔ اللہ ان کو مار ڈالے جب انہیں مسئلہ کا علم نہیں تھا تو وہ کسی سے پوچھ لیتے۔ کیونکہ بےعلمی کا حل کسی سے پوچھ لینا ہے۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کرتا اور باقی جسم کا غسل کرلیتا۔ “ مسائل 1۔ نشہ اور پلیدی کی حالت میں نماز کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ 2۔ پانی نہ ملنے یا تکلیف کے باعث پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ 3۔ چہرے اور ہاتھوں کا تیمم ایک ہی مرتبہ مٹی لے کر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن وضو اور تیمم کے مسائل اور طریقہ : 1۔ وضو۔ (المائدۃ : 6) 2۔ تیمم۔ (النساء : 43)
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بھٹک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ حمایتی ہونے اور اللہ تعالیٰ مددگار ہونے کے اعتبار سے کافی ہے

فہم القرآن ربط کلام : سورت کی ابتدا میں تمام انسانوں کو اس کے بعد مسلمانوں کو اور اب اہل کتاب کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اس سورة کا آغاز ” اَیُّھَا النَّاسُ “ کہہ کر کیا اور باور کروایا کہ تم ایک ہی ماں، باپ کی اولاد اور ایک ہی اللہ کی مخلوق ہو لہٰذا تمہیں اپنے خالق سے ڈرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو میاں بیوی کے حوالے سے اور پھر ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کے احکام جاری فرمائے۔ اب اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کی نشاندھی کرنے کے بعد نہایت ہی خیر خواہی کے انداز میں سمجھانے کے ساتھ مسلمانوں کو ان کے کردار پر کڑی نظر رکھنے اور اپنے آپ کو گمراہی سے بچانے کی تلقین کی گئی ہے اور تسلی دی ہے کہ ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کے لیے کافی ہے۔ خصوصی توجہ کے لیے فرمایا کہ کیا تم نے ان لوگوں کے کردار پر غور نہیں کیا ؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔ قرآن مجید نے اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ کئی مرتبہ استعمال فرمائے ہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔ ان الفاظ کے اہل علم نے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ کچھ حصہ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے تورات اور انجیل کے کافی حصہ کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر ضائع کردیا تھا۔ جو ان کے ہاں کتابی شکل میں تورات اور انجیل پائی جاتی ہے اس میں بھی بیشمار ترامیم و اضافے کیے۔ اس لحاظ سے تورات اور انجیل کے حقیقی اجزاء تھوڑے ہی باقی تھے۔ یہ کہ تمہیں تورات اور انجیل کی شکل میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ اپنے وقت کے مطابق کافی تھے لیکن ان سے دین مکمل نہیں ہوجاتا کہ تم انہیں پر جم کر بیٹھے رہو۔ وہ نامکمل دین تھا لہٰذا اب جامع دین نازل ہو رہا ہے جو عنقریب مکمل ہوجائے گا۔ اس لیے تمہیں جامع اور اکمل دین کی پیروی کرنی چاہیے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اپنے مفاد اور عناد کی خاطر نہ صرف اس دین سے انحراف کر رہے ہو بلکہ گمراہی کے خریدار بن کر مسلمانوں کی گمراہی کے درپے ہوچکے ہو۔ اس صورت حال سے آگاہ کرکے مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں اور ان کے عزائم کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر ثابت قدم رہو۔ اللہ تمہارا سرپرست خیر خواہ اور مددگار ہے۔ گمراہی کے خریدار : دنیا میں گمراہی خریدنے کی کئی شکلیں ہیں : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مقدم اور بہتر سمجھنے کی بجائے دنیا کے مفاد کو مقدم اور اپنے لیے بہتر تصور کرنا۔ بے حیائی اور برائی کے کاموں کو فروغ دے کر شہرت اور دولت حاصل کرنا۔ دین کو سیاسی اور معاشی مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ شریعت کے حرام کردہ کاروبار کو اختیار کرنا۔ مسائل 1۔ اہل کتاب گمراہی کے خریدار ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ 2۔ اللہ ہی مسلمانوں کا حمایتی اور مدد گا رہے۔ تفسیر بالقرآن اہل کتاب کی بدترین تجارت : 1۔ رشوت لینے والے۔ (البقرۃ : 85، 86) 2۔ کفر کا سودا کرنے والے۔ (البقرۃ : 89، 90) 3۔ دین کے بدلے مال بٹورنے والے۔ (البقرۃ : 174) 4۔ گمراہی کے خریدار۔ (البقرۃ : 175) 5۔ ایمان کے بدلے کفر کو پسند کرنے والے۔ (آل عمران : 177) 6۔ دنیا کے بدلے بد عہدی کا ارتکاب کرنے والے۔ (النحل : 95) 7۔ اللہ کی آیات کو فروخت کرنے والے۔ (التوبۃ : 9)
Ayahs 4:46–47

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

بعض یہود کلمات کو ان کی جگہ سے پھیر کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور سن اس کے بغیر کہ تو سنا جائے اور راعِنَاکہتے ہوئے اپنی زبان کو مروڑتے ہیں اور دین میں طعنہ زنی کرتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور آپ سنیے اور ہماری طرف دیکھئے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے پس بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ایمان لاؤ اس پر جو کچھ ہم نے نازل فرمایا یہ اس کی بھی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ اس پر ایمان لے آؤ اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں الٹ کر پیٹھ کی طرف کردیں یا ان پر لعنت بھیجیں۔ جیسے ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی۔ اور ہے اللہ تعالیٰ کا کام کیا گیا

فہم القرآن ربط کلام : اس آیت میں یہودیوں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ان کی بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص یا گروہ میں یہ عادتیں پائی جائیں وہ معاشرے کے لیے ناسور، مذہب کا بدترین دشمن اور لوگوں کی ہدایت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بجائے اس کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ان سے چھٹکارا پائے بغیر معاشرہ جرائم سے پاک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اپنی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں ان پر لعنت اور پھٹکار کی۔ جن عادتوں کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی وہ یہ ہیں : 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس کے سیاق وسباق سے ہٹ کر بیان کرنا۔ 2 ۔ سچ سننے اور سمجھنے کے باوجود اس کا انکار کرنا۔ 3 ۔ خدا کے رسول کو بہرہ ہونے کی بد دعا دینا اور آپ کو چرواہا کہہ کر گستاخی کا ارتکاب کرنا۔ 4 ۔ دین اسلام میں عیب نکالنا۔ ان بھاری جرائم کے باوجود انہیں نہایت ہی دلرباانداز میں سمجھایا گیا ہے کہ کاش یہ لوگ سننے کے بعد سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرتے اور رسول کریم ﷺ کے مزید ارشادات سننے کے لیے ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے نہایت ادب کے ساتھ عرض کرتے کہ اے رسول محترم ! ہماری طرف توجہ فرمائیں۔ اس لفظ کی تشریح پہلے صفحہ 174 میں گزر چکی ہے۔ ایسا کرنا اور کہنا ان کے لیے نہایت ہی بہتر اور درست ثابت ہوتا لیکن ان کی بری نیت اور بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر پھٹکار کی۔ اب ان میں نہایت ہی تھوڑے ہوں گے جو ہدایت پائیں گے۔ اس کے باوجود ایک دفعہ پھر قرآن مجید نے یہ بات کہہ کر انہیں ایمان لانے کی دعوت دی ہے کہ یہ کتاب تمہارے انبیاء کی تصدیق اور تورات و انجیل کی تائید کرتی ہے لہٰذا تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔ اس برے وقت سے پہلے جب تمہارے چہروں کو مسخ کر کے گدیوں کے بل الٹا کردیا جائے یا تم پر ہفتہ والوں کی طرح لعنت کی جائے۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ” اَصْحَاب السَّبْتِ “ سے مراد یہودیوں کے وہ آباء و اجداد ہیں جنہیں ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے بجائے حیلہ سازی سے کام لیتے ہوئے دریا کے کنارے تالاب تیار کیے اس میں مچھلیاں خود بخود آجاتیں۔ ہفتہ کی بجائے انہیں اتوار کے روز پکڑ لیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار ہوئی اور ان کو ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ جس کی تفصیل پہلے اور چھٹے پارے میں دیکھنی چاہیے۔ مسائل 1۔ یہودی اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ 2۔ یہودی نبی کریم ﷺ کا نام بگاڑکر لیتے ہیں۔ 3۔ یہودی دین اسلام میں عیب جوئی کرتے ہیں۔ 4۔ یہودیوں پر ان کے کفر اور کلام اللہ میں تحریف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پھٹکار برستی ہے۔ 5۔ اہل کتاب کو عذاب الٰہی سے پہلے قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے۔ 6۔ ہفتہ کے دن زیادتی کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بر سی ہے۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کرنے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہتان باندھا اور بہت بڑا گناہ کیا

فہم القرآن ربط کلام : یہودی اخلاقی جرائم کے ساتھ شرک جیسے بدترین گناہ میں ملوث تھے اور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور اس نے ہمارے تمام گناہ معاف کردیے ہیں۔ اخلاقی جرائم کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد شرک کے بارے میں واضح کیا ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں فوت ہوگا اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ تمام انبیاء کرام کے کلمے کے پہلے جز میں شرک کی نفی اور دوسرے جز میں توحید کا اثبات ہے۔ اس لیے ان کی دعوت کا آغاز یہاں سے ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور عبادات میں کسی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔ شرک نام ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو ملانا یا اس کی صفات و عبادات میں دوسرے کو برابر یا حصہ دار تصور کرنا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اس لیے اللہ کا بیٹا قرار دیا کہ وہ سو سال فوت ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کیے گئے، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی ولادت، بےمثال معجزات اور ان کی والدہ کی کرامات دیکھ کر انہیں اللہ کا جزء قرار دیا۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے محبت و عقیدت میں مبالغہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاس ؓ سَمِعَ عُمَرَ ؓ یَقُوْلُ عَلَی الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ لَاتُطْرُوْنِيْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ واذکر فی الکتاب مریم ] ” عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ سے سنا کہ وہ منبر پر فرما رہے تھے میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی شان میں غلو کیا تم میری شان میں اس طرح غلو نہ کرنا۔ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ “ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا کہ مجھے حضرت یونس ( علیہ السلام) سے نہ بڑھایا جائے۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ وھل اتاک حدیث موسٰی ] شرک تمام گناہوں اور جرائم کا منبع ہے جس وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آپ کی ذات اطہر تک تمام انبیاء اور صلحاء نے اس کی مذمت کی ہے خاص کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ ادا کروائے گئے۔ (إِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ ) [ المائدۃ : 72] ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے یقینًا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ “ ” رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ محشر میں میری سفارش مشرک کے سوا ہر کلمہ پڑھنے والے کو فائدہ دے گی۔ شرک کرنے والا نہ صرف اپنے خالق ومالک کے ساتھ غدّاری کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ وہ اپنے عقیدے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتا ہے۔ وہ شرک کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں سے خوش ہو کر انہیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یا اللہ تعالیٰ ان پر اتنا مہربان ہے کہ وہ انہیں کسی صورت ناراض نہیں کرسکتا۔ اس عقیدے کی وجہ سے مشرک کو کذاب کہا گیا ہے۔ “ [ الزمر : 3] (عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أُعْطِیتُ خَمْساً بُعِثْتُ إِلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُوراً وَمَسْجِداً وَأُحِلَّتْ لِیَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ کَانَ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ شَہْراً وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ وَلَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَۃً وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ شَفَاعَتِی ثُمَّ جَعَلْتُہَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِی لَمْ یُشْرِکْ باللَّہِ شَیْئاً )[ مسند احمد ] ” حضرت ابی موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں مجھے ساری دنیا کے لیے نبی بنایا گیا ہے اور ساری زمین میرے لیے پاک ہے اور مسجد بنا دی گئی ہے اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں اور میری مدد کی گئی ہے ایک مہینے کی مسافت سے اور مجھے شفاعت کا حق دار قرار دیا گیا ہے اور کوئی بھی نبی ایسا نہیں مگر اس نے سفارش کا سوال کیا اور بیشک مجھے شفاعت کے لیے چن لیا گیا اور میں اپنی امت میں سے ہر اس شخص کی سفارش کروں گا جس نے شرک نہیں کیا ہوگا۔ “ مسائل 1۔ شرک کے علاوہ اللہ تعالیٰ جو اور جس کے چاہے گناہ معاف کردے گا۔ 2۔ شرک بہت بڑا گناہ اور بہتان ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک بدترین گناہ ہے : 1۔ شرک کی ممانعت۔ (البقرۃ : 22) 2۔ شرک بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13) 3۔ مشرک ناپاک ہے۔ (التوبۃ : 28) 4۔ مشرکوں کے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (الانعام : 88) 5۔ مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الفتح : 6) 6۔ مشرکوں پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72) 7۔ شرک معاف نہیں ہوگا۔ (النساء : 48) 8۔ اٹھارہ جلیل القدر انبیاء ( علیہ السلام) کا تذکرہ کر کے فرمایا اگر یہ شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہوجاتے۔ (الانعام : 83 تا 86) 9۔ نبی آخری الزماں ﷺ کو خطاب کہ شرک سے آپ کے اعمال بھی برباد ہوجائیں گے۔ (الزمر : 65)
Ayahs 4:49–50

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا اظہار کرتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہے کہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور کسی پر دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو تو سہی یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ کھلا ہوا گناہ کافی ہے

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کا زعم ہے کہ ہم انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی بنا پر پوری دنیا سے ممتاز اور پاک لوگ ہیں اور عیسائی سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ یہاں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے ہر آدمی کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگوں سے نسبت کی بنیاد یا کسی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ ہر آدمی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے یا کسی کے ساتھ عقیدت و محبت کی بنیاد پر آدمی پاک دامن نہیں ہوجاتا۔ جب تک وہ عقیدے کے اعتبار سے موحّد اور عمل کے لحاظ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی پیروی کرنے والا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہونا چاہیے کہ صرف ظاہری نیکی کی بنیاد پر انسان کا دل پاک نہیں ہوسکتا جب تک وہ نیکی کی روح کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جس کا نام اخلاص اور تقو ٰی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی عنایت اور توفیق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک کرکے جہنم سے محفوظ فرمادیاہو۔ اس کے باوجود لوگ یہ ذہن رکھتے ہیں کہ ہم بزرگوں سے نسبت اور ان کے طفیل جہنم سے بچ جائیں گے۔ یہودی تورات سے، عیسائی انجیل سے، بد عقیدہ مسلمان قرآن وسنت سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ گویا کہ یہ بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے ہیں۔ یہ گناہ انہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ رسول محترم ﷺ نے مصنوعی تقویٰ اور ایسے نام رکھنے سے منع فرمایا ہے جس سے خواہ مخواہ پاکدامنی کا اظہار ہوتا ہو۔ (عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمَّیْتُ ابْنَتِيْ بَرَّۃَ فَقَالَتْ لِيْ زَیْنَبُ بِنْتُ أَبِيْ سَلَمَۃَ ؓ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ ھٰذَا الْإِسْمِ وَسُمِّیْتُ بَرَّۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَاتُزَکُّوْا أَنْفُسَکُمْ اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِأَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ فَقَالُوْا بِمَ نُسَمِّیْھَا قَالَ سَمُّوْھَا زَیْنَبَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الآداب ] ” محمد بن عمرو بن عطاء (رح) کہتے ہیں میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا۔ مجھے زینب بنت ابوسلمہ ؓ نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ نام رکھنے سے منع کیا ہے۔ میرا نام بھی برہ رکھا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے آپ کو پاک نہ گردانو۔ اللہ جانتا ہے تم میں سے کون پاک ہے۔ انہوں نے پوچھاہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ “ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ ؓ قَالَ أَثْنَی رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِی ﷺ فَقَالَ وَیْلَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ ، قَطَعْتَ عُنَقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَادِحًا أَخَاہُ لا مَحَالَۃَ فَلْیَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّہُ حَسِیبُہُ ، وَلاَ أُزَکِّی عَلَی اللَّہِ أَحَدًا، أَحْسِبُہُ کَذَا وَکَذَا إِنْ کَانَ یَعْلَمُ ذَلِکَ مِنْہُ [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب إذازکی رجل کفاہ ] حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرۃ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر کسی کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ کر رکھ دی۔ آپ نے یہ کلمات تین دفعہ دہرا کر فرمایا اگر کوئی ضرور کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے تو یہ کہے کہ فلاں آدمی کے بارے میں میرا یہ خیال ہے اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے اور وہ یہ الفاظ تبھی کہہ سکتا ہے جب حقیقتاً اس شخص کو ایسا پائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تم کسی کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ مسائل 1۔ آدمی کو اپنی پاکدامنی کا دعو ٰی نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر آدمی پاک اور نیک نہیں ہوسکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے کو بس یہی گناہ کافی ہے۔ تفسیر بالقرآن اہل کتاب کی کذب بیانی : 1۔ آگ میں تھوڑی دیر رہنے کا دعو ٰی۔ (البقرۃ : 80) 2۔ جنت کے ٹھیکیدار بننا۔ (البقرۃ : 111) 3۔ ” اللہ کے محبوب “ ہونے کا دعو ٰی۔ (المائدۃ : 18) 4۔ من گھڑت باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا۔ (آل عمران : 78) 5۔ اپنے لیے جنت مخصوص سمجھنا۔ (البقرۃ : 111) 6۔ ہدایت کو اپنے تک محدود کرنا۔ (البقرۃ : 135) 7۔ نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے قربانی کی شرط لگانا۔ (آل عمران : 184) 8۔ اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرنا۔ (المائدۃ : 64) 9۔ بشر کی نبوت کا انکار کرنا۔ (الانعام : 91)
Ayahs 4:51–52

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تم نے انہیں دیکھا ؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا ہے جو بتوں اور طاغوت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ لعنت کردے آپ اس کا کوئی مددگار نہیں پائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب کے کردار کی مزید تفصیل اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی عبادت اور اطاعت کی جائے وہ طاغوت کی عبادت اور اطاعت ہوگی۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کو وقتی طور پر ہزیمت اٹھانی پڑی لیکن اس کے باوجود یہودی سمجھتے تھے کہ مسلمان دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے مدینے کا ایک وفد کعب بن اشرف کی سر کردگی میں مکہ معظمہ پہنچا تاکہ کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جاسکے۔ لیکن ابو سفیان اور اہل مکہ یہودیوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ جب تک تم ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اکٹھے رہنے کا یقین نہیں دلاتے ہم آپ پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ یہودی مشرک ہونے کے باوجود بتوں کی پوجا سے نفرت کرتے تھے بالخصوص کعب بن اشرف بتوں کو سجدہ کرنے کا سخت مخالف تھا لیکن اہل مکہ کو اعتماد دلانے کے لیے اس نے بتوں کے سامنے سجدہ کیا۔ اس موقعہ پر ابو سفیان نے کعب سے پوچھا کہ ہم تو اتنا علم نہیں رکھتے آپ بتائیں کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ؟ کعب بن اشرف اور اس کے وفد نے کہا کہ تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم نے ان لوگوں کے کردار پر غور نہیں کیا جو اہل کتاب ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود بتوں اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ حسد و بغض میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ تم مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ باطل عقائد رکھنے والوں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ جس کی مثال آج بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب ہونے کے باوجود باطل مذاہب کے اس قدر دشمن نہیں ہیں جس طرح مسلمانوں کے دشمن ہیں یہی حالت مسلمانوں کے اندر باطل عقائد رکھنے والوں کی ہے۔ وہ اہل توحید اور سنت پر عمل کرنے والوں کی زیادہ مخالفت کرتے ہیں۔ طاغوت کی پوجا کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کی ہے۔ مشرک اور کافر جس طرح چاہیں آپس میں گٹھ جوڑ کرلیں اللہ تعالیٰ کے بغیر ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہی کچھ ہوا کہ ٹھیک دو سال کے بعد غزوۂ خندق سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرۂ عرب سے نکال دیا۔ (1) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاث ماءَۃٍ وَّسِتُّوْنَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعَنُھَا بِعُوْدٍ فِيْ یَدِہٖ وَجَعَلَ یَقُوْلُ (جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ) الآیۃ) [ رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب ھل تکسر الدنان التی فیھا الخمر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبے کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے آپ انہیں اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے گراتے اور کہتے : (حق آچکا اور باطل بھاگ گیا) ۔ “ (2) (عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؓ أَلاَّ أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز ] ” ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں مجھے علی بن ابی طالب ؓ نے کہا کیا میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا کہ ہر تصویرکو مٹادے اور جو اونچی قبر دیکھے اسے برابر کردے۔ “ مسائل 1۔ اہل کتاب بتوں اور شیاطین پر ایمان رکھتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ 3۔ اہل کتاب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور لعنتی اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پاسکتا۔ تفسیر بالقرآن طاغوت : 1۔ طاغوت کے انکار کا حکم۔ (النساء : 60) 2۔ کفار طاغوت کے ساتھ ہیں۔ (البقرۃ : 257) 3۔ کفار طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ (النساء : 76) 4۔ اہل کتاب میں سے بھی طاغوت کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ : 60) 5۔ طاغوت کا انکار کرنے والا مضبوط کڑے کو تھامتا ہے۔ (البقرۃ : 256) 6۔ طاغوت کی عبادت سے بچنے والے کے لیے خوشخبری ہے۔ (الزمر : 17)
Ayahs 4:53–55

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہو تو پھر یہ کسی کو ایک کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیں گے

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب حکمت اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کوئی تو اس کتاب پر ایمان لایا اور کوئی اس سے رہا اور جہنم کا جلانا کافی ہے

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابھی تو یہودیوں کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار نہیں۔ اگر ان کے پاس اقتدار اور اختیار ہو تو یہ کسی کو دمڑی بھی نہ دیں اور نہ ہی کسی کو دم مارنے دیں۔ اہل کتاب رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے یتیم کو نبوت کا تاج اور قوموں کی قیادت کیوں عطا فرمائی ہے جو روز بروز عملاً غلبہ پارہی ہے۔ یہ جس قدر چاہیں حسد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو عزت و عظمت، امامت و قیادت اور دین کو غلبہ دے گا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو امامت و حکومت اور نبوت عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے اور وطن سے نکالنے والے بالآخر ناکام ہوئے تھے اسی طرح انجام کے لحاظ سے یہ بھی ناکام ہوں گے۔ چناچہ رسول معظم ﷺ نے یہ بات لوگوں کو اس وقت بتلائی جب خندق کھودنے کے دوران کچھ صحابہ کو ایسی چٹان سے واسطہ پڑا جس کو توڑنا ان کے لیے مشکل ہوا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں اس پریشانی کا اظہار کیا۔ آپ نے وہاں پہنچ کر اتنے زور سے کدال ماری کہ پہلی اور دوسری ضرب پر پتھر سے چنگاریاں نکلیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ خوش ہوجاؤ ! اللہ تعالیٰ نے قیصرو کسریٰ کے خزانوں کی چابیاں مجھے عطا فرمادیں ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب اول مسند الکوفیین، باب حدیث البراء بن عازب ] رہی بات ان لوگوں کی جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی آل میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے حسد و بغض اور باہمی مخالفت کی بنیاد پر اپنے باپ دادا کے دین سے انحراف کیا تھا۔ یہ لوگ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے ساتھ نسبت کا دعویٰ رکھنے کے باوجود آپ کی ذات اور دعوت سے انکاری ہیں۔ ایسے بغیض اور حاسدوں کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ :إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَفَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الأدب، باب فی الحسد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو کھاجاتی ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَاابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ھَلْ مَرَّبِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَاوَاللّٰہِ یَارَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِي الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَا وَاللّٰہِ یَارَبِّ مَا مَرَّ بِيْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب صبغ أنعم أھل الدنیا فی النار وصبغ أشدھم بؤسا فی الجنۃ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا روز قیامت دنیا میں سب سے زیادہ ناز و نعمت میں پلنے والے جہنمی کو لا کر آگ میں غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ؟ کیا کبھی تجھے کوئی نعمت میسر ہوئی ؟ تو وہ کہے گا نہیں اللہ کی قسم ! میرے رب میں نے کوئی نعمت نہیں دیکھی۔ پھر ایک جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا اسے جنت میں داخل کر کے پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف اور سختی دیکھی تو وہ جواباً کہے گا نہیں اللہ کی قسم ! مجھے کبھی کوئی تکلیف اور مصیبت نہیں آئی۔ “ مسائل 1۔ آدمی کو حسد سے بچنا چاہیے۔ 2۔ یہودی بدترین قسم کے بخیل ہوتے ہیں۔ 3۔ یہودی دوسروں پر حسد کرتے ہیں۔ 4۔ اہل کتاب لوگوں کو ہدایت سے روکتے ہیں۔ 5۔ لوگوں کو ہدایت سے روکنے والے جہنم میں جائیں گے۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے۔ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب ‘ حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب بالخصوص یہودی حسد کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے ہیں لہٰذاحاسدوں اور منکروں کا انجام بیان ہوتا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا یہ مستقل اسلوب ہے کہ برے لوگوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اور جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کی عطاؤں کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے انجام کا موقع پر ہی فیصلہ کرسکے۔ چناچہ جو لوگ کفر کی حالت میں کوچ کریں گے وہ مرنے کے بعد جہنم کے گھاٹ اتریں گے۔ جہاں ان کو آگ میں جلایا جاتا رہے گا۔ جب ان کی چمڑیاں جل جائیں گی تو سزا کے لیے ان کے جسموں کو باربار تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ وہ جہنم سے بھاگ سکیں گے اور نہ ہی جل کر راکھ ہوں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ضِرْسُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلْظُ جِلْدِہٖ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ، باب النار یدخلھا الجبارون والجنۃ یدخلھا الضعفاء ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر اور اس کی جلد تین دن کی مسافت کے مساوی موٹی ہوگی۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَابَیْنَ مَنْکِبَی الْکَافِرِمَسِیْرَۃَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا کافر کے دونوں کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز ترین گھوڑے کے تین دن دوڑنے کے برابر ہوگا۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً مِنْ نَارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّ سِتِّیْنَ جُزْءً کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) [ متفق علیہ : وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِیِّ ] وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِمٍ نَارُکُمُ الَّتِیْ یُوْقِدُ ابْنُ اٰدَمَ وَفِیْھَاعَلَیْھَا وَکُلُّھَا بَدَلَ عَلَیْھِنَّ وَکُلُّھُنَّ ۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری آگ، دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ! جلانے کو تو دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ (بخاری و مسلم) یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے ‘ کہ تمہاری آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے۔ نیز اس میں عَلَیْھِنَّ وَکُلُّھِنَّ کی بجائے عَلَیْہَا وَ کُلُّھَا کے الفاظ ہیں۔ “ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ أَھْوَنَ أَھْلِ النَّارِ عَذَابًامَّنْ لَّہٗ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہٗ کَمَایَغْلِی الْمِرْجَلُ مَایَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّمِنْہُ عَذَابًا وَّإِنَّہٗ لَأَھْوَنُھُمْ عَذَابًا) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا ] ” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔ یقیناً دوزخیوں میں سب سے معمولی عذاب پانے والے کے پاؤں میں آگ کے جوتے اور تسمے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی دوسرے شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا ‘ حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والوں کو جہنم میں جلایا جائے گا۔ 2۔ ان کی کھالوں کو بار بار بدلا جائے گا تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ تفسیر بالقرآن عذاب کی مختلف شکلیں : 1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بار گلنا۔ (النساء : 56) 2۔ دوزخیوں کی کھال کا بار بار بدلنا۔ (الحج : 20) 3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانا۔ (الغاشیہ : 6) 4۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا پانا۔ (الحج : 21، 22) 5۔ کھانا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل : 13) 6۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جانا۔ (الانعام : 70) 7۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النبا : 25) 8۔ آگ کا لباس پہنایا جانا۔ (الحج : 19)
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیے وہاں پاک صاف بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے

فہم القرآن ربط کلام : کفر اور حسد کرنے والوں کے مقابلہ میں صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کا صلہ اور انجام۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح کردار کے حامل ہوئے جو نہی وہ دنیا کے امتحانات سے نکل کر عالم عقبیٰ میں پہنچیں گے ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن میں نہریں اور آبشاریں چلتی ہوں گی۔ صاحب ایمان اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں نہایت پاک و صاف، وفادار اور جانثار بیویاں ہوں گی۔ انہیں سر سبز و شاداب اور لہلہاتے ہوئے باغوں کے گھنے سایوں میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں خیال پیدا ہوا چاہو تو اللہ کا فرمان پڑھ لو ” کوئی بھی نہیں جانتا کہ جنتیوں کے لیے کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِيْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ....] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی ختم نہ ہوگا اگر چاہو تو اللہ کا فرمان (وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍ ) پڑھو۔ “ (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَلَوْ أَنَّّ امْرَاأۃً مِّنْ نِّسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَاءَ تْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَیْنَھُمَارِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأْسِھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ‘ باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی ان کی طرف جھانک لے ‘ تو مشرق ومغرب اور جو ان کے درمیان ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے تب بھی اس کو عبور نہ کرسکے گا۔ اگر تم چاہو تو اللہ کا یہ فرمان پڑھ لو ” لمبے لمبے سائے “ اور یقیناً جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کی کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ صاحب ایمان و کردار جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ 2۔ جنتیوں کے لیے پاک بیویاں اور گھنے سائے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن ازواج جنت کا حسن و جمال : 1۔ پاک بیویاں۔ (البقرۃ : 25) 2۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں۔ (الصافات : 48، 49) 3۔ جنتیوں کی ہم عمر۔ (ص ٓ: 52) 4۔ یاقوت و مونگے کی طرح خوبصورت۔ (الرحمن : 58) 5۔ چھپائے ہوئے موتی۔ (الواقعہ : 23) 6۔ کنواری اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 36، 37)