Ayahs 4:154–155فہم القرآن
ربط کلام : یہودی نبی ﷺ کی نبوت پر ہی اعتراض اور سوال نہیں کرتے بلکہ انھوں نے ہر نبی کی ذات پر الزامات لگائے اور اس کی نبوت پر اعتراض کیے۔ ایسا کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔
اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی چند دنوں کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنانا اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر کوہ طور منڈلاکر اس بات کا عہد لیا کہ آئندہ تورات کے احکامات پر سختی کیساتھ عمل کرتے رہوگے۔
یہاں اہل کتاب سے مراد صرف یہودی ہیں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اپنے عہد سے منحرف ہوگئے فتح ایلیاء یعنی بیت المقدس کی کامیابی کے وقت انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ تم اللہ کے حضور سجدہ کرتے اور معافی مانگتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہونا۔ لیکن انھوں نے نہ صرف استکبار اور جور و استبداد کا مظاہرہ کیا بلکہ سرے سے ہی فرمان الٰہی حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ میں تبدیل کردیا، جب انہیں ہفتہ کے دن میں عبادت کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے مچھلیاں پکڑنے کے لیے حیلہ بازی سے کام لیا۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی آیات کا مسلسل انکار کرنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنے کے سنگین جرم میں ملوث ہوئے، جب انہیں ان جرائم سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی تو دنیاوی مفادات کے حصول اور طبعی رعونت کی بنا پر انبیاء اور صالحین کو جواب دیتے کہ ہمیں تمہاری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں جسکا دوسرا معنی یہ تھا کہ تم جس قدر چاہو ہمیں سمجھاؤ۔ ہم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اس طرح حق کے مقابلہ میں تعصب کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ جس تعصب اور رعونت پر وہ فخر کرتے تھے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ تھا۔ جس وجہ سے ان کے دلوں پر کفر کی مہریں ثبت کردی گئیں ا سی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے حضرت مریم [ جیسی پاکدامنہ خاتون پر بد کاری کا سنگین الزام عائد کیا اور اب تک یہودی ایسی یاوا گوئی کرتے ہیں۔ اسی لیے یہودیوں میں بہت کم لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ 2۔ بنی اسرائیل عہد شکن قوم ہے۔
3۔ یہودی انبیاء کے قاتل ہیں۔
4۔ آدمی کی بار بار سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی رفعت عطا کرنے والا ہے :
1۔ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا۔ (الرعد : 2)
2۔ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی۔ (الانعام : 166)
3۔ ہم نے حضرت ادریس کو اعلیٰ مقام پر اٹھایا۔ (مریم : 57)
4۔ اللہ ہی درجات بلند کرنے والا ہے۔ (الانعام : 83)
5۔ اللہ نے اہل علم کے درجات کو بلند فرمایا ہے۔ (المجادلۃ : 11)
6۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ (النساء : 158)
7۔ نیک عمل اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ (الفاطر : 10)
Ayah 4:156فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔
یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اس قدر تعصب کا شکار ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی بلکہ انکی عابدہ اور عفیفہ ماں حضرت مریم [ پر بد کاری کا الزام عائد کیا حالانکہ حضرت مریم [ کی حیات طیبہ اور ان کے خاندان کا تقدس ضرب المثل اور شہرہ آفاق تھا۔ اس کیساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ ماجدہ کی برأت کی شہادت اور اپنی نبوت کی اس وقت گواہی دی جب آپ چند دنوں کے نومولود تھے۔ اس معجزانہ اور معصومانہ گواہی کے چرچے سارے عالم میں اس طرح مشہور اور گہرے اثرات کے حامل ہوئے جس سے لوگ حضرت مریم [ کی تقدیس و تکریم کے اس قدر معترف ہوئے کہ کوئی بدکار سے بدکار شخص بھی حضرت مریم کے بارے میں برے خیالات کا اظہار تو درکنار منفی سوچ کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن جونہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تیس سال کے بعد توحید خالص کا پرچار اور پیغمبرانہ دعوت کا آغاز کرتے ہوئے یہود کے سیاسی رہنماؤں اور مذہبی پیشواؤں کو ان کی کوتاہیوں پر ٹوکا تو یہ لوگ نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف ہوئے بلکہ کمینگی میں اتنا آگے بڑھے کہ حضرت مریم [ پر بدکاری اور بےحیائی کا الزام لگایا تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الزنا ثابت کرکے لوگوں کو ان سے متنفر کیا جائے۔ یہود کی بد زبانی اور الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے قرآن مجید نے نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ معظمہ کی برات کا اظہار فرمایا بلکہ ان کے خاندانی پس منظر 249 عظیم تقدس اور ان کے نانا حضرت عمران کی کرامات اور ان کی نانی محترمہ کی عظیم قربانی جو انہوں نے حضرت مریم کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کرنے کی صورت میں دی اس کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے یہ عیسائیوں پر قرآن مجید کا اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا وہ قیامت تک بدلہ نہیں چکا سکتے۔
مسائل
1۔ یہودیوں کے کفر اور حضرت مریم [ پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی۔
2۔ حضرت مریم [ پاکباز اور پاکدامن خاتون تھیں۔
Ayah 4:157فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح نبی آخر الزماں ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ میرے رسول بےدھڑک اپنا کام کرتے جائیے ہم آپ کو لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیرے دشمن جتنی چاہیں سازشیں اور شرارتیں کرلیں وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں تجھے تیرے دشمنوں سے بچاؤں گا چناچہ یہودیوں نے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کی تو جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) محصور کیے گئے تھے انہیں لینے کے لیے یہودا نامی شخص اندر گیا جس کے بارے میں قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ یہ غدّارجب باہر آیا تو اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شکل کردیا گیا۔ قرآن مجید کی اس وضاحت کے باوجود بائبل میں لکھا ہے کہ سولی کے وقت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرہ پر تھوکا گیا اور انہیں کانٹوں کا ہار پہنا کر بڑی ذلت کے ساتھ تختۂ دار پر لٹکایا گیا اگر ان روایات کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو آخری وقت تک واویلا کرتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں یہودا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود اسے سولی پر لٹکادیا گیا جہاں تک عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اقدس کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس قدر جمال اور جلال بخشا تھا کہ کوئی شخص انکے سامنے ایسی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا اور ہر آڑے و قت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبریل امین (علیہ السلام) انکی مدد کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اہل کتاب کے شرک اور بغاوت کے خلاف شہادت دیں گے۔
Ayahs 4:158–160لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کا راز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچو سے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زمین پر آمد اور انکی وفات کے وقت موجود ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کچھ اقوال کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ” قَبْلَ مَوْتِہِ “ سے مرادہر مرنے والا عیسائی اور یہودی ہے۔ جب یہودی اور عیسائی کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے ایسے قرائن لائے جاتے ہیں جس سے اسے یقین آجاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں لیکن اس بات کو کسی ٹھوس دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قَبْلَ مَوْتِہٖ الفاظ کا حقیقی معنی احادیث کی روشنی میں متعین ہوچکا ہے۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی تائید میں عیسائیوں کی اکثریت نے اپنے مفاد کی خاطریہ عقیدہ گھڑ لیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) واقعی ہی فوت ہوچکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ یہودیوں کے دلائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں کہ واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ہوچکے ہیں جس عیسیٰ مسیح کے دوبارہ آنے کا حدیث میں ذکر ملتا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں بلکہ مرزا ہے جو مسیح بن کر آچکا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ نہیں آئیں گے۔
( ِعنَ أَبَی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ أَحَدٌ)[ رواہ البخاری : کتاب ا لمظالمِ ، بَاب کَسْرِ الصَّلِیبِ وَقَتْلِ الْخِنْزِیر ]
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی معظم ﷺ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) عادل حکمران کی حیثیت سے نہیں آئیں گے وہ صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے۔ مال و دولت کی اس قدربہتات ہوگی کہ صدقہ و خیرات لینے والا نہیں ہوگا۔ “
(عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ؓ عَنْ أَبِیہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَصِفَۃُ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ [ یُدْفَنُ مَعَہُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، بَاب فِی فَضْلِ النَّبِیِّ ﷺ ]
” حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کی صفات لکھی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت محمد ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ )
[ رواہ البخاری : باب واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔ “
مسائل
1۔ یہودیوں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ ہی انہیں سولی پر لٹکایا۔
2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے اٹکل پچو لگاتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔
Ayah 4:161فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔
یہودیوں کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر زیادتیوں اور پے درپے حیلہ سازیوں، گستاخیوں اور تہمتوں کی وجہ سے جن میں انبیاء کو قتل کرنا، شرک کا ارتکاب کرنا، سود کو جائز قرار دینا حالانکہ ان پر حرام کیا گیا تھا، دوسروں کا ناجائز طریقے سے مال کھانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور تمرد میں کمی لانے اور انکی ہوس زر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چند حلال چیزوں کو ان پر حرام قراردے دیا۔ جس طرح مریض کو بیماری سے بچانے کے لیے حکیم حاذق اس پر کچھ پابندیاں اور احتیاطیں لازم قراردیتا ہے اگر مریض صحت یاب ہوجائے تو پابندیاں اٹھالی جاتی ہیں ورنہ انہی پابندیوں کے ساتھ مریض موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے یا مراعات یافتہ آدمی کو اس کی غلطی پر سرزنش کرنے کے لیے اس سے کچھ مراعات اور اختیارات واپس لے لیے جاتے ہیں۔ یہودیوں کیساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تاکہ وہ اپنی سرکشی و بغاوت سے باز آجائیں لیکن انہوں نے اپنی روایتی بغاوت کو برقرار رکھا اور پابندیوں اٹھائے ہوئے انکی نسلیں ختم ہوگئیں جنہیں قیامت کے دن ہولناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تقریباً پانچ سو سال کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) نے آکر کچھ پابندیاں ختم فرمائیں جن کا تذکرہ قرآن مجید کی آیت میں کیا گیا ہے۔ یہودیوں پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں سورة الانعام 146 میں بیان ہوئی ہیں۔
(وَعَلَی الَّذِینَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ )
[ الأنعام : 146]
” اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کیا تھا نیز ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کی الّا یہ کہ وہ پشتوں، آنتوں سے لگی ہو یا ہڈیوں سے چمٹی ہوئی ہو۔ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ایسا کیا اور ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔ “
مسائل
1۔ آدمی کی ناشکری کی وجہ سے اللہ کی نعمتیں چھن جاتی ہیں۔
2۔ یہودیوں کی سرکشی کم کرنے کے لیے چند حلال چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔
3۔ اللہ کے راستے سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے۔
4۔ سود اور ناجائز مال کھانے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
یہودونصاریٰ کے ظلم :
1۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی دینے کی کوشش کی۔ (النساء : 157)
2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں تحریف کرنا۔ (النساء : 46)
3۔ زبان مروڑ کر کلام اللہ کا مفہوم بدلنا۔ (آل عمران : 78)
4۔ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دینا، اللہ کے راستہ سے روکنا، سود کھانا اور لوگوں کا مال غلط طریقہ سے کھانا۔ (النساء : 160، 161)
5۔ بار بار وعدہ کی خلاف ورزی کرنا، اللہ کی آیات کا انکار اور انبیاء کو قتل کرنا، حضرت مریم [ پر الزام لگانا۔ (النساء : 155)
Ayah 4:162فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں سے اچھے لوگوں کا استثنیٰ اور ان کی خوبیوں کا ذکر۔
قران مجید کے اسلوب بیان اور انصاف پسندی پر قربان جائیں جو نہی یہود و نصاریٰ کے جرائم کی فہرست اور انکے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے گھناؤنے کردار کا ذکر کرتا ہے۔ معاً ان کے نیک علماء اور زعما کے اچھے کردار کی تحسین کرتا ہے کہ بیشک انکی اکثریت برے لوگوں پر مشتمل ہے لیکن یہ تمام کے تمام ایسے نہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہیں اور ہوں گے کہ جب بھی ان کے سامنے حقائق منکشف ہوتے ہیں تو وہ مذہبی تعصب اور گروہ بندی کی دیواریں توڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمام اعمال بجا لاتے ہیں جن کا اسلام انہیں کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے دامن عمل میں ہر خیر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے انکا رب راضی ہوتا ہے۔ ایسے خوش نصیب اور عظیم لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ عنقریب ان کو دنیا میں عزت و رفعت ملے گی اور آخرت میں ا جر عظیم سے نوازا جائے گا۔ راسخ العلم کی سورة آل عمران آیت 7 میں تعریف کی گئی ہے کہ وہ متشابہات کے پیچھے لگنے کی بجائے مرکزی اور بنیادی احکام کو سامنے رکھتے ہوئے متشابہ آیات کا مفہوم متعین کرتے ہیں اور ان کے اوصاف یہ ہیں کہ یہ لوگ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس سے استقامت اور رحمت کے طلبگار رہتے ہیں یہاں دین کے چار بنیادی عناصر کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتب آسمانی اور قرآن مجید پر مکمل ایمان لانا نماز کو اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرنا، زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانا شامل ہے ایسے لوگوں کے اجر عظیم کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا ہے :
(عن أَبی بُرْدَۃَ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ أَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الْأَمَۃُ فَیُعَلِّمُہَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیمَہَا وَیُؤَدِّبُہَا فَیُحْسِنُ أَدَبَہَا ثُمَّ یُعْتِقُہَا فَیَتَزَوَّجُہَا فَلَہُ أَجْرَانِ وَمُؤْمِنُ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِی کَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ اٰمَنَ بالنَّبِیِّ ﷺ فَلَہُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ الَّذِی یُؤَدِّی حَقَّ اللّٰہِ وَیَنْصَحُ لِسَیِّدِہِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ]
” حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد گرامی کو نبی مکرم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہوئے سنا سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عنایت فرمایا جائے گا ان میں سے ایک وہ ہوگا جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی طرح تعلیم دی اور اس کو ادب سکھایا اچھے انداز سے اس کی تربیت کی پھر وہ اس کو آزاد کرتے ہوئے اس سے نکاح کرلے۔ دوسرا یہود و نصاریٰ کا وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے تیسرا وہ شخص جو غلام ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ ارکان اسلام پر عمل کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔
2۔ آخرت پر یقین ایمان کا حصہ ہے۔
3۔ قرآن مجید کے ساتھ پہلی کتب سماوی پر بھی ایمان لانا فرض ہے۔
تفسیر بالقرآن
ایمان کی مبادیات اور راسخ العلم کی صفت :
1۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ : 3)
2۔ پہلی کتابوں پر مجموعی طور پر اور قرآن مجید پر کلی طور پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4)
3۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 285)
4۔ راسخ العلم کی صفت۔ (النساء : 162)
5۔ صحابہ کرام جیسا ایمان لانا فرض ہے۔ ( البقرۃ : 137)
Ayahs 4:163–164فہم القرآن
ربط کلام : دین کے جن بنیادی ارکان کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ اسی کی تبلیغ یہ عظیم المرتبت شخصیات کرتی رہی ہیں۔
یہودیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتلایا گیا ہے کہ دین کے بنیادی احکامات ہمیشہ سے ایک تھے اور ہیں۔ وہ لوگوں پر براہ راست نازل ہونے کی بجائے وحی کے ذریعے انبیاء ( علیہ السلام) پر نازل ہوتے رہے۔ جو مختلف انداز اور الفاظ میں اتارے گئے۔ قرآن مجید تحریری مسودہ کے بجائے لوگوں کی سہولت اور اصلاح احوال کی خاطر خطاب در خطاب کی صورت میں نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر خطاب میں نصیحت کے جامع پہلو کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظریہودیوں کے اس مطالبہ پر کہ ان پر براہ راست کتاب کیوں نہیں نازل کی جاتی اس کے جواب میں نصیحت کے کئی پہلو اختیار کیے گئے ہیں۔
1۔ پہلے سرزنش کی گئی کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بڑھ کر سوالات کرچکے ہو جن میں تمہارے اکثر سوال پورے ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تم بڑے بڑے جرائم میں ملوث رہے اور اب بھی ان گناہوں کا اعتراف کرتے ہو۔ ان سے تائب ہونے کی بجائے ان پر فخر کرتے اور ان کا ارتکاب کیے جا رہے ہو۔
2۔ کسی امت پر بھی براہ راست کتاب نازل نہیں کی گئی اللہ تعالیٰ کے احکام وحی کے ذریعے ہی انبیاء پر نازل ہوتے رہے ہیں جن اولو العزم شخصیات پر وحی نازل ہوئی ان میں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے جو شان و مرتبہ اور جدوجہد کے اعتبار سے سب سے نمایاں تھے جن کی اکثریت کا تعلق تمہارے آباؤ اجداد سے ہے۔
3۔ ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے جس کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ توحیدخالص پر ایمان لانا، تمام آسمانی کتب کو تسلیم کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور آخرت پر کامل یقین رکھنا ہے۔
4۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کا مقصد لوگوں کے اچھے اعمال کے بدلے دنیا اور آخرت کی کامیابی کی خوشخبری دینا اور برے اعمال کے برے انجام سے لوگوں کو ڈرانا تھا۔
5۔ انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو سینہ زوری سے منوانا نہیں ان کا کام بتلانا اور سمجھانا تھا تاکہ محشر میں لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
6۔ بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکرے کا مقصد نبی محترم ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ اس لیے آدم (علیہ السلام) سے انبیاء کا ذکر کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع کیا ہے کیونکہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ توحید اور فطرت سلیم پر قائم رہے بعد ازاں لوگ شرک میں مبتلا اور دین سے منحرف ہوگئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال بڑی جانفشانی سے جدوجہد فرمائی لیکن چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب گمراہی پر قائم رہے جنھیں طوفان نے آلیا اور وہ نیست و نابود کردیے گئے۔ ان کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں نسل در نسل انبیاء ( علیہ السلام) کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ جن میں ایسے انبیاء بھی تھے جو نبوت کے منصب کے ساتھ حکمران بھی تھے ان میں موسیٰ (علیہ السلام) ایسے پیغمبر ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف پایا۔ ان کی شخصیت، جدوجہد اور حالات و واقعات کو نبی آخر الزماں ﷺ کے ساتھ مماثل قرار دیا گیا ہے (المزمل : 15) ان انبیاء کے آخر اور نبی محترم ﷺ سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) عظیم الشان معجزات کے ساتھ تشریف لائے۔ یہ تمام کے تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری دینے والے اور اس کی نافرمانیوں سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چیدہ چیدہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے باقی کا ذکر نہیں کیا۔ جن کے ذکر نہ کرنے کی وہی حکمت جانتا ہے اللہ تعالیٰ ہر بات اور ہر کام پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ )
[ رواہ البخاری : باب واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔ “
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ پر پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کی طرح وحی نازل ہوئی۔
2۔ قرآن کی طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) پر بھی کتابیں نازل کی گئیں۔
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے از خود کلام فرمایا۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو کچھ انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات بیان فرمائے اور کچھ کا ذکر نہیں فرمایا۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) کا اجتماعی ذکر :
1۔ اٹھارہ انبیاء کرام کا ذکر۔ (الانعام : 83 تا 90)
2۔ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد موسیٰ ، عیسیٰ اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام) ۔ (البقرۃ : 136)
3۔ نبی محترم ﷺ کا ذکر گرامی ( آل عمران : اور احزاب : 144، محمد : 2، الفتح : 29۔ )
موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ و مقام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام کیا۔ (النساء : 164)
2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزے عطا فرمائے۔ (طٰہٰ : 17 تا 22)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برتری عطا فرمائی۔ (الاعراف : 144)
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کے الزام سے پاک کیا۔ (الاحزاب : 69)
5۔ موسیٰ اور نبی کریم ﷺ کے درمیان مماثلت قرار دی گئی۔ (المزمل : 15)
6۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا فرمائیں۔ (بنی اسرائیل : 101)
Ayahs 4:165–166فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کسی انوکھی نبوت کے ساتھ نہیں آئے ان سے پہلے بیشمار انبیاء آئے لہٰذا بڑے بڑے انبیاء کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد ان کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں اپنا خلیفہ نامزد فرمایا اور اسے عقل و فکر کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کم ازکم اتنی عقل و فکر ضرور عطا فرمائی ہے کہ وہ اچھے و برے اور نفع و نقصان میں تمیز کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی پہچان کے لیے دنیا میں بیشمار شواہد و قرائن پیدا فرمائے پھر جزوی تشریحات کو چھوڑ کر دین کے بنیادی ارکان کو ہمیشہ سے ایک رکھا۔ تاکہ جس دین کے بغیر گزارہ نہیں اسے سمجھنا اور اپنا ناانسان کے لیے آسان رہے۔ اس فطری، ماحولیاتی، اور آفاقی رہنمائی کے باوجود انسان پر یہ کرم کیا کہ پے درپے انبیاء کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ایسی بےمثال شخصیات تھیں جو پیدائشی طور پر گفتار کے سچے، کردار کے پکے اور اس قدر خیر خواہ اور مخلص ہوا کرتے تھے کہ جن کو دیکھ کر پتھر بھی پکار اٹھے کہ یہ واقعی اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ پھر ہر نبی کو اس کے حالات کے مطابق ایسے ایسے معجزات عطا کے گئے کہ ان کے جانی دشمن بھی تنہائی میں ان کے سچے ہونے کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ انبیاء اس قدر مخلصانہ اور بےپناہ جدوجہد کرتے اور اس کے بدلے ایک پائی بھی وصول کرنے کے روا دار نہیں ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے مشن کے لیے جان کی بازی لگا دی اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کو مسترد کردیا۔ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر تھے یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو لوگوں کے لیے اختیاری رکھا ہے اور انبیاء (علیہ السلام) کو صرف بتلانے اور سمجھانے والا بنا کر بھیجا تھا۔ جن کی تبلیغ وتعلیم کا مقصد لوگوں کو اچھے برے اعمال اور ان کے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔ تاکہ محشر کے دن خدا کے حضور مجرم پیش ہوں تو ان کے پاس یہ حجت نہ ہو کہ ہمیں یاد دلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ اس لیے فرمایا ہے کہ اے رسول ! یہود و نصاریٰ کی سازشوں اور لوگوں کے انکار سے دلبرداشتہ اور ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں اگر یہ لوگ ہٹ دھرمی اور دنیا پرستی کی وجہ سے آپ کی رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے احکامات سے انحراف کرتے ہیں تو اس سے خدا کی خدائی اور آپ کی پیغمبرانہ شان اور کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ دنیا کا منصب اور عہدہ نہیں کہ جس کو لوگ مسترد کردیں گے تو اسے نامزد کرنے والا بالآخر واپس بلانے پر مجبور یا صاحب منصب خود بھاگ جائے گا۔ یہ تو نبوت کا مقام عالی ہے کہ ساری مخلوق بھی ٹھکرا دے تو نبی کی نبوت اور اس کے اجر وثواب میں رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں آتی۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچاتے جائیں اسے معلوم ہے کہ کون اس کے پیغام کا حق ادا کرتا ہے اور کس کس نے اس کا انکار کرنا ہے زمین و آسمان کا مالک گواہی دیتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اور اسی نے اپنے علم کے مطابق آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے لہٰذا اپنا کام جانفشانی اور پورے اخلاص کے ساتھ جاری رکھیں لوگ تائید نہیں کرتے تو نہ کریں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آپ کی نبوت، اخلاص اور کار نبوت کی ادائیگی پر گواہ ہیں یاد رکھیں کہ اللہ کی گواہی سے بڑھ کر کسی کی گواہی معتبر نہیں ہوسکتی ہے۔
مسائل
1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں تک اللہ کے پیغامات پہنچانا ہے۔
2۔ رسول لوگوں کو جنت کی خوش خبری اور عذاب سے ڈرانے والے تھے۔
3۔ رسول اتمام حجت کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے۔
4۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ جو کچھ نبی ﷺ پر نازل ہوا وہ حق ہے۔
Ayahs 4:167–168فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے مشن کی مخالفت کرنے والوں کی سزا۔
کفر کا معنٰی ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا، شرعی اصطلاح میں اللہ اور اس کے رسول اور قیامت کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ سے مراد صراط مستقیم اور دین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی درج ذیل صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔
1۔ خود کفر اختیار کرنا، اپنے کردار اور طریقۂ کار سے لوگوں کو دین سے روکنا۔
2۔ اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود جان بوجھ کر کفار جیسا عقیدہ اور کردار رکھنا جس سے لوگوں کی نظروں میں اسلام اور مسلمانوں کا وقار ختم ہوجائے ایسے لوگ بیک وقت کفر اور ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ انھیں معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی توفیق دیتا ہے۔ ان کے پسندیدہ راستے پر چلنے کے لیے انھیں کھلا چھوڑ دیتا ہے جو راستہ جہنم کا راستہ ہے۔ اس جہنم میں انھیں ابدالاباد تک رہنا نافرمان بڑا ہو یا چھوٹا اسے جہنم میں پھینکنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرّہ برابر مشکل نہیں۔ یہاں ان کی نہ فریاد سنی جائے گی اور نہ کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔
Ayah 4:169کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے :
(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ )[ البقرۃ : 39]
” وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ “
(اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰاہ النَّارُوَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ )
[ المائدۃ : 72]
” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس کے لیے جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے اور لوگوں کو حق سے روکنے والے گمراہ ہیں۔
2۔ ظلم اور کفر کرنے والوں کو اللہ معاف نہیں فرمائے گا۔
3۔ کافروں کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کفار کو عذاب دینا مشکل نہیں۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے لیے معافی نہیں :
1۔ موت کی تمنا پوری نہ ہوگی۔ (البقرۃ : 94)
2۔ عذر قبول نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 123)
3۔ سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ : 123)
4۔ جہنم میں رخصت نہ ہوگی۔ (طہ : 74)
5۔ جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ (البقرۃ : 167)
6۔ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : 91)
7۔ دنیا میں واپس نہیں آسکیں گے۔ (السجدۃ : 12)
Ayah 4:170فہم القرآن
ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک مرتبہ پھر نبی آخر الزماں ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے انکار کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ تمہارے کفر سے خدا کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
یہود کے بعد دعوت عام دی جا رہی ہے کہ اے لوگو ! یہودیوں کی طرح بہانہ تراشی اور حیلہ سازی کرنے کی بجائے سرور دو عالم ﷺ پر ایمان لاؤ۔ جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں۔ یہی تمہارے لیے بہتر راستہ ہے اگر تم ایمان لانے اور حق کا ساتھ دینے سے گریزاں ہو تو یاد رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اور چپہ چپہ اس کے تابع فرمان ہے۔ صرف باغی انسان ہی پوری کائنات کے طرزعمل کے خلاف طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ ڈھیل انسان کو اس لیے نہیں دی گئی کہ انسان کے اعمال و خیالات اللہ کے علم سے باہر ہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود اپنی حکمت و مشیّت کے تحت انسان کو ایک وقت مقرر تک چھوڑے ہوئے ہے جب اس کی گرفت اور عتاب کا وقت آئے گا تو باغی اور ظالم کو چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
حق (اَلْحَقُّ ) اللہ کے 99 صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (مشکوٰۃ : باب اسماء اللہ ) ” حق “ سے مراد قرآن اور اللہ کا پیغام ہے آپ کی نبوت کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہصرف دعا کی بلکہ مکہ شہر کی نشاندہی بھی فرمائی کہ اس شہر اور اس قوم میں آخری نبی ہونا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے آگے بڑھ کر آپ کا اسم گرامی لے کر بنی اسرائیل کو آپ کی نبوت کی بشارت سے نوازا۔
(عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبِّءُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذَلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسَی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ) [ رواہ احمد ]
” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں انھوں نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔ “
(یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا)[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ ]
” اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے، پچھلے جن و انس سارے کے سارے فاجر انسان کی طرح ہوجائیں میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ “
مسائل
1۔ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔
2۔ کفر و شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
3۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
رسول محترم ﷺ کا مرتبہ و مقام :
1۔ آپ ﷺ کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : 158)
2۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : 107)
3۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
4۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : 45۔ 46)
5۔ نبی کریم ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ : 128)
6۔ آپ ﷺ کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
Ayah 4:171فہم القرآن
ربط کلام : اگر اہل کتاب اپنے دین میں غلو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتے تو یقیناً نبی اکرم ﷺ کی نبوت کو مانتے ہوئے ہدایت کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ مذہبی عصبیت اور دین میں غلو کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔
خطاب کا آغاز یہود سے ہوا تھا جس میں انھیں مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا۔ ان کے بعد تمام لوگوں کو دعوت حق قبول کرنے کی تلقین کی گئی۔ اب عیسائیوں کی دین کے بارے میں بنیادی خرابی یعنی ” غلو “ کرنے سے روکا جا رہا ہے جو ان کی گمراہی کا اصل سبب ہے غلو کا معنی ہے محبت یا تعصب میں آکر افراط وتفریط کرنا۔ یہودیوں نے تعصب کی بنا پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو کیا اور وہ اس میں اتنا آگے نکل گئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی پاکباز والدہ پر الزامات لگائے جناب عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کا انکار کیا حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بار ہا دفعہ فرمایا تھا کہ میں کوئی الگ شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ تورات کی تعلیمات کی تکمیل کے لیے آیا ہوں لیکن ستیاناس ہو اس غلو کا جس کے نتیجہ میں یہودیوں نے ہر سچائی کو ٹھکرا دیا۔ ان کے برعکس عیسائیوں نے دوسری انتہا کو اختیار کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مریم [ کو خدا کی بیوی قرار دیا یہودی عداوت کی بنیاد پر گمراہ ہوئے اور عیسائی محبت میں غلو کرنے کی وجہ سے گمراہ ٹھہرے۔ عیسائیوں کو اس لیے روکا اور ٹوکا جا رہا ہے کہ تمہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو نہیں کرنا چاہیے ان کی حیثیت تو یہ تھی کہ وہ مریم کے بیٹے اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں خدا کی خدائی میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں اور یہودیوں کے عقیدہ کے حوالے سے ہر شخص کے باطل نظریہ کی نفی فرمائی ہے کہ کوئی ذات ادنیٰ ہو یا اعلیٰ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصہ اور اس کی صفات کی حامل نہیں ہوسکتی اس عقیدہ کو سورة اخلاص میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔
1۔ رسول کا مقام :
دنیا میں انسان تو کروڑوں اور اربوں گزرے ہیں اور ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغام کے لیے ایسے انسانوں کو منتخب فرماتا ہے جو ظاہری و باطنی کمال، کردار کی پاکیزگی اور قلبی طہارت کے لحاظ سے اپنے دور کے سب سے بلند اور ممتاز انسان ہوا کرتے تھے۔ انسان اور ضرورتوں کے ناتے سے وہ لوگوں کے ہم شکل اور ہم مثل ہوتے تھے لیکن خوبیوں اور صلاحیتوں کے لحاظ سے انسانوں کے ساتھ ان کی کوئی نسبت نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس لیے آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا ” اَیُّکُمْ مِثْلِیْ “ تم میں سے کون میری مثل ہے ؟ گویا کہ رسول شرف انسانیت کی انتہا اور خدا کی مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع ہوتا ہے۔ لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) رسول اللہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اعزاز سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہوسکتا۔
2۔ ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ :
عیسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ رسول کا معنی ہے پیغام پہنچانے والا، ظاہر ہے کہ جس کی طرف سے کوئی پیغام دینے والا ہو اس کا بھیجنے والا اس سے اعلیٰ اور بہتر ہوا کرتا ہے۔ بھیجنے والاجب چاہے اپنے رسول کو واپس بلا سکتا ہے اس لیے ہر پیغمبر اپنی زندگی گزار کر موت کی آغوش میں چلا گیا اور یہی بات رسول کریم ﷺ کے بارے میں ارشاد ہوئی ہے۔ ” ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی۔ اگر آپ فوت ہوجائیں تو کیا وہ ہمیشہ رہیں گے ؟ “ [ الانبیاء : 34]
3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں :
قرآن مجید میں کلمہ کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوا ہے :
1۔ کلمہ کا معنی ہے خوشخبری اور بشارت سورة آل عمران کی آیت 45 میں اس طرح استعمال ہوا ہے۔
” اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا : بلاشبہ اے مریم ! اللہ تجھے اپنے کلمہ کی بشارت دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ “ [ آل عمران : 45]
2۔ کلمہ کا معنی آیت اور نشانی ہے۔
” اور مریم بنت عمران جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار تھی۔ “ [ التحریم : 12]
3۔ کلمہ کا معنی کلام۔
” امید ہے اب میں نیک عمل کروں گا جسے میں چھوڑ آیا ہوں ہرگز نہیں۔ یہ بس ایک بات ہوگی جسے اس نے کہہ دیا اور ان کے درمیان دوبارہ اٹھنے تک کے دن تک ایک آڑ ہوگی۔ “ [ المومنون : 100]
عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور کلمۃ اللہ ہونے کے ساتھ ان کا تیسرا اعزاز یہ ہے کہ وہ اللہ کی روح ہیں یہی وہ لفظ ہے جس سے عیسائی مغالطہ کا شکار ہوئے یا وہ جان بوجھ کر مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی روح قرار دے کر مریم میں اس کا القاء فرمایا لہٰذا مریم اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر ایک مثلّث بنتی ہے جسے وہ عرف عام میں تثلیث قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ان کی من ساختہ اختراع ہے کیونکہ قرآن مجید میں لفظ روح کا استعمال مختلف انداز میں ہوا ہے۔
’ تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ “ [ الحجر : 29]
اگر عیسائیوں کی باطل دلیل کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہر فرد اور ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی روح کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ جس سے حلول جیسے بدترین شرک کا تصور سامنے آتا ہے جس کی تائید معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی نہیں کرسکتا اس بنیاد پر اہل کتاب کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھایا گیا ہے کہ بس اللہ اور اس کے رسولوں پر اسی طرح ایمان لاؤ جس طرح تمہیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور تثلیث کے باطل عقیدہ کو یک لخت چھوڑ دو ۔ اسے چھوڑ دینے میں ہی تمہاری بہتری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے یکتا اور تنہا ہے اس کی ذات اور صفات میں اس کا کوئی ہمسر اور شریک نہیں ہے۔ اس کی ذات ان سہاروں اور رشتوں سے ممتاز اور پاک ہے۔ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہو اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں ہے اولاد تو انسان کی ضرورت اور کمزوری ہے۔
1۔ اولاد کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس کا سلسلہ نسب جاری رہے تاکہ اس کا نام اور کام باقی رہے۔
2۔ اولاد نہ ہو تو انسان اپنے آپ میں تنہائی اور اداسی محسوس کرتا ہے۔ 3۔ اولاد آدمی کا سہارا اور اس کی ضروریات میں معاون ہوتی ہے۔ 4۔ ماں، باپ اولاد کے ساتھ محبت کرنے میں طبعاً مجبور ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہے اور نہ ہی تنہائی محسوس کرتا ہے نہ اس کو خدمت اور سہارے اور معاون کی ضرورت ہے۔ وہ تو محبت عطا کرنے والا اور کائنات کی ہر چیز کو سہارا دینے والا ہے وہ ان کمزوریوں سے یکسر بےنیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کا چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ اس کی غلامی اور فرما نبرداری میں لگا ہوا ہے۔ اس کا تعلق مخلوق کے ساتھ باپ اور بیٹے یا کسی کا حصہ ہونے کی بنا پر نہیں اس کا تعلق مخلوق کے ساتھ خالق اور مالک اور مملوک کا ہے جسے دنیا کے کسی رشتے کے ساتھ نسبت نہیں دی جاسکتی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ أُرَاہُ یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی )
[ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں اور وہ میری تکذیب کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد پکڑی ہے اور مجھے جھٹلانا اس کا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ نہیں لوٹایا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا۔ “
مسائل
1۔ دین کے معاملہ میں افراط وتفریط سے بچنا چاہیے۔ 2۔ اللہ کی نسبت سے صرف حق بات ہی کہنی چاہیے۔
4۔ الٰہ صرف ایک ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے پاک ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت عیسیٰٰ (علیہ السلام) کی حیثیت اور حضرت مریم [ کا مقام :
1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور صاحب کتاب نبی تھے۔ (مریم : 30)
2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ مدد کی گئی۔ (البقرۃ : 253)
4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کھانا کھاتے تھے۔ (المائدۃ : 75)
5۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے بنی اسرائیل کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (المائدۃ : 72)
6۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔ (آل عمران : 45)
7۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے معجزات عطا فرمائے۔ ( آل عمران : 46 تا 49)
8۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں عزت والے ہیں۔ (آل عمران : 45)
9۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی کفالت کی گئی۔ (آل عمران : 44)
Ayahs 4:172–173فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کا مرتبہ دیا حالانکہ وہ اللہ کے بندے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ یعنی اس کا غلام اور فرمانبردار ہونے سے قطعاً کوئی انکار نہ تھا جو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہونے سے انکار کرے گا اس کی سزادرد ناک عذاب ہے۔
عبد کا معنی ہے۔۔ انسان اور غلام (المنجد) قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ اور انداز میں واضح کیا ہے کہ جتنے پیغمبر دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سارے کے سارے عبد اور بشر تھے خاص طور پر جن انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ان کی سوانح حیات کو قرآن مجید نے اتنا واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ جس سے ان کے عبد ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ باقی نہیں رہتا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں جب یہ نظریہ گھڑا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی زندگی کا اہم ترین واقعہ یوں بیان کیا کہ اس شخص کی مثال سامنے رکھیے کہ جو ایک بستی کے قریب سے گزرا اور اس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک فوت کیے رکھا پھر اسے اٹھا کر پوچھا کہ اے میرے پیغمبر تم کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو ؟ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو یہ خبر نہ تھی کہ وہ کتنی مدت تک مردہ پڑے رہے ہیں۔ چناچہ انھوں نے جواب دیا کہ بارالہا ! میں ایک دن یا اس کا کچھ وقت یہاں ٹھہرا ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں تم سو سال تک مردہ پڑے رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کو دیکھو کہ وہ جوں کا توں ترو تازہ ہے اور اس میں کوئی سڑا ندھ پیدا نہیں ہوئی۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھو کہ ہم تجھے کس طرح لوگوں کے لیے دلیل بناتے ہیں اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھیے پھر ان کے سامنے گدھے کی ہڈیاں جڑیں اور اس کے اوپر گوشت چڑھا اس پر کھال اور بال اگے جب یہ سب کچھ واضح اور ثابت ہوا تو حضرت عزیر (علیہ السلام) پکار اٹھے کہ میں جان چکا ہوں کہ اللہ ذرے ذرے پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ (البقرہ : 259) معجزات کی بنا پر ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں نے من گھڑت عقیدہ قائم کیا کہ وہ تین میں سے ایک ہیں یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے قرآن مجید میں آل عمران کے نام سے ایک مفصل سورت نازل کی گئی جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر، ان کی نانی محترمہ کا اللہ تعالیٰ کے حضور نذر ماننا، بیٹے کی بجائے حضرت مریم کا پیدا ہونا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا مریم کی کفالت کرنا، مریم کی والدہ کا مریم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کرنا۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر کیساتھ ان کی سوانح حیات کو پوری طرح کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح یحییٰ (علیہ السلام) کا خدا کا بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے ان ہی کی زبان سے وضاحت کروائی گئی کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوں۔ (مریم : 30)
اسی بنیاد پر یہاں وضاحت کی گئی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے یہاں یہ بات بھی واضح ہوجانی چاہیے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی امت میں بھی باطل عقائد کے لوگ ہوں گے جس کی بنا پر حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بھی متعدد آیات میں روز روشن کی طرح یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ آپ اللہ کے رسول اس کے بندے اور بشر ہیں اس عقیدہ کا یہاں تک التزام کردیا گیا کہ آدمی اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ کلمۂ شہادت میں نبی ﷺ کی عبدیت کا اقرار نہیں کرلیتا اور اس کی پنجگانہ نماز مکمل نہیں ہوسکتی جب تک تشہد میں آپ کی عبدیت کی شہادت نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت انسانیت کا شرف ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) شرف انسانیت کی شان اور ترجمان ہوا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو عبد اور بشر ہونے میں ذرہ برابر بھی تأمل نہیں تھا۔ اس ضمن میں سند کی طرف توجہ کیے بغیر ہم تفسیر ضیاء القرآن سے ایک حوالہ نقل کرتے ہیں۔
” حضور رحمۃ للعالمین ﷺ معراج کی رات مقام قرب کی انتہا تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا ” بما اشرفک یامحمد “۔ اے سراپا ستائش و خوبی ! میں آج تجھے کس اعزاز سے مشرف کروں تو حضور ﷺ نے عرض کی ” بنسبتی الیک بالعبودیۃ “ ” مجھے اپنا بندہ ہونے کا شرف عطا فرما “ شاید یہی حکمت ہے کہ جس سورة میں معراج کا ذکر ہے وہاں حضور کے متعلق عبدہ کا لفظ مذکو رہے۔ “ اسی لیے اس فرمان کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس حیثیت پر ایمان لائیں گے اور صالح کر دار اپنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ دینے کے ساتھ اپنی طرف سے مزید اجر سے نوازیں گے۔ اور جنھوں نے عقیدہ توحید اور اللہ کی الوہیت سے انکار کیا۔ ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ کوئی ان کی خیر خواہی اور مدد نہیں کرسکے گا۔
مسائل
1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے اور بندہ ہونا اپنے لیے عار نہیں سمجھتے تھے۔
2۔ اللہ کی بندگی کو عار نہیں سمجھنا چاہیے۔ 3۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی کو عار نہیں سمجھتے۔
4۔ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھے گا اسے اذیت ناک سزا دی جائے گی۔
5۔ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ و مقام اور ان کا اقرار کہ میں اللہ کا بندہ ہوں :
1۔ حضرت عیسیٰ کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے۔ (آل عمران : 59)
2۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ (النساء : 158)
3۔ عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے۔ (آل عمران : 59)
4۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : 29، 30)
5۔ عیسیٰ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے تھے (آل عمران : 49)
6۔ عیسیٰ مٹی سے اڑنے والا پرندہ بناتے تھے۔ (آل عمران : 49)
7۔ عیسیٰ لوگوں کے اندوختے کی خبر دیتے تھے۔ (آل عمران : 49)
8۔ حضرت عیسیٰ کی حضرت جبریل امین خصوصی معاونت فرماتے تھے۔ (البقرۃ : 253)