10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفہم القرآن

Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

” انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سرزمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کسی صورت ماننے والے نہیں ہیں۔ “ (78)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان گفتگو جاری ہے۔ فرعون کے حواری اس کی تائید کرتے ہوئے بات میں اضافہ کرتے ہیں کہ اے موسیٰ اور ہارون کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے پھیر دو اور ملک میں تم بڑے لیڈر بن جاؤ ؟ یاد رکھو ہم ہرگز تمہیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حواریوں کی اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے کہا کہ ان دونوں جادوگروں کا مقصد یہ ہے کہ جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارا مثالی تہذیب و تمدن ختم کردیں لہٰذا اپنی منصوبہ بندی کرو تاکہ ہم کامیاب رہیں۔ ( طہٰ : 63۔ 64) قرآن مجید اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ابتدا ہی سے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو یہ الزام دیا جاتا رہا ہے کہ یہ جادوگر ہیں۔ (الذاریات : 72) قرآن مجید یہ بھی بتلاتا ہے کہ انبیاء کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں میں ایک رکاوٹ آباء کی تقلید ہوا کرتی تھی۔ یہی بات فرعون کے حواریوں نے کہی۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرعون نے کہا تھا کہ اگر تمہارا عقیدہ اور دعوت صحیح ہے تو پھر ہمارے پہلے لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ اس کا مقصد لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا تھا۔ کیونکہ انسان خود کتنا برا کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد اور بزرگوں کے نظریات کے حوالے سے کوئی تنقید سننا گوارا نہیں کرتا۔ خواہ کہنے والا اعلیٰ اخلاق، نہایت اخلاص اور خیر خواہی کے جذبے سے ہی کیوں نہ سمجھا رہا ہو۔ تقلیدایسی نازک رگ ہے جو معمولی ارتعاش کو بھی گوارا نہیں کرتی۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جواب دیا جو آپکی فہم و فراست کا بےمثال نمونہ ہے : (قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتَابٍ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسٰی)[ طٰہٰ : 52] ” ان کا معاملہ میرے رب کو معلوم ہے جو نہ بھولتا ہے اور نہ اس کی نگاہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی ہے۔ “ آباء کی اندھی تقلید کا انجام : (وَقَالُوا رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآءََ نَا فَأَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاً ۔ رَبَّنَا اٰتِہِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا )[ الاحزاب : 67۔ 68] ” اور کہیں گے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا حکم مانا انہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بہکا دیا اے رب ان پر دوگنا عذاب کر اور ان پر سخت لعنت فرما۔ “ بڑے لوگوں کا کردار : (وَکَذٰلِکَ مَآ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِی قَرْیَۃٍ مِنْ نَذِیرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوہَا إِنَّا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا عَلٰی أُمَّۃٍ وَّإِنَّا عَلٰی اٰثَارِہِمْ مُقْتَدُوْنَ ۔ قَالَ أَوَلَوْ جِءْتُکُمْ بِأَہْدٰی مِمَّا وَجَدْتُمْ عَلَیْہِ اٰبَاءَ کُمْ قَالُوْا إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُمْ بِہِ کَافِرُوْنَ فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) [ الزخرف : 23 تا 25] ” اسی طرح ہم نے کسی بستی میں جب بھی کوئی ڈرانے والابھیجا تو اس بستی کے لوگوں نے یہی کہا ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان کے نقش قدم کی اقتداء کر رہے ہیں۔ کہا خواہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ صحیح طریقہ لاؤں جس پر تم نے اپنے آباء کو پایا تھا کہنے لگے جو پیغام دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ چناچہ ہم نے ان سے بدلہ لے لیا دیکھ لو جھوٹوں کا انجام کیسا ہوا۔ “ مسائل 1۔ حق کے مقابلہ میں لوگ آباء کی تقلید چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ 2۔ کفار انبیاء کو جادوگر کہا کرتے تھے۔ 3۔ دنیا دار اپنی جاگیر اور چودھراہٹ کی خاطر ایمان نہیں لاتے۔ تفسیر بالقرآن حق کے مقابلہ میں آباء کی تقلید : 1۔ کفار نے کہا ہم تو اپنے آباؤ اجداد کی پیروی کریں گے۔ (البقرۃ : 170) 2۔ کفار نے کہا ہمارے لیے اپنے آباؤ اجداد کا طریقہ ہی کافی ہے۔ (المائدۃ : 104) 3۔ کفار نے کہا ہم تو اسی کی تابعداری کریں گے جس پر اپنے آباء کو پایا ہے۔ (لقمان : 21) 4۔ کفار نے کہا ہم نے اپنے آباء کو ایک طریقہ پر پایا ہے ہم انہی کی اقتداء کرتے ہیں۔ (الزخرف : 23) 5۔ کہیں گے ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا حکم مانا انہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے گمراہ کردیا۔ (الاحزاب : 67)
Ayahs 10:79–82

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

” اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہر جادوگر لے کر آؤ۔ “ (79) ”

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔ “ (80) ”

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انھوں نے ڈالا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقیناً اللہ اسے جلدی جھوٹا ثابت کردے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا۔ “ (81) ”

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ حق کو اپنے فرمان کے ساتھ حق ثابت کردیتا ہے، خواہ مجرم ناپسند کریں۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فقط اتنی تھی کہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانے کی بجائے انہیں آزاد کر دو اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرنے کی بجائے اس پر سچا ایمان لاکر اس کی غلامی اختیار کرو۔ مگر فرعون نے طاقت کے بل بوتے اور پروپیگنڈہ کے زور پر بات کا رخ موڑ دیا اور اپنے وزیروں اور مشیروں کو حکم صادر کیا۔ کہ پورے ملک سے ماہر جادوگروں کو میرے پاس حاضر کیا جائے۔ جس کی تفصیل سورة طٰہ میں یوں ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہم بھی تیرے جادو جیسے جادوکا مظاہرہ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ نہ ہم اس کی مخالفت کریں گے اور نہ تجھے اس کی خلاف ورزی کرنی چاہیے اب لوگوں کے عظیم اجتماع میں صبح کے وقت عید کے دن معرکہ ہوگا (طٰہ : 58۔ 60) یہ معاہدہ ہوجانے کے بعد فرعون نے پورے ملک سے اپنے اہلکاروں کے ذریعے جادوگروں کو اکٹھا کیا۔ جب جادوگر میدان میں اترے تو انہوں نے فرعون سے مطالبہ کر ڈالا اگر ہم موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر غالب آگئے تو ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا تم میرے مقربین میں ہو گے گویا کہ انہیں وزیر اور مشیر بنانے کا وعدہ کیا پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ اپنا عصا پھینکتے ہیں یا جو کچھ ہم لائے ہیں وہ میدان میں پھینکیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تمہیں پہلے موقع دیتا ہوں ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ نہایت ہی افسوس ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے اور مجھے عطا کیے گئے معجزات کو جادو قراردیتے ہو۔ یاد رکھو اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں عنقریب اللہ کا عذاب آلے گا۔ جھوٹا آدمی بالآخر ناکام اور نامراد ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ مفسدین کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات اتنے مؤثر اور بارعب انداز میں فرمائی کہ جادوگر سوچنے پر مجبور ہوگئے۔ قریب تھا کہ ان میں موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کرنے پر اختلاف ہوجاتا۔ مگر انہوں نے اس پر کنٹرول کرلیا بالآخر اس بات پر اتفاق ہوا کہ یہ دونوں بھائی جادو کے ذریعے ہمارے دین کو بدلنا اور ہم کو ملک سے نکالنا چاہتے ہیں۔ پھر انہوں نے صف بندی کرتے ہوئے۔ (طہٰ : 58۔ 64) بڑے بڑے رسے اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں اور زبردست جادومنتر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلک شگاف نعرے لگائے کہ فرعون زندہ باد یقیناً ہم غالب آچکے ہیں۔ ( الشعراء : 83۔ 44) انہوں نے صف بندی کرتے ہوئے بھرپور طور پر جادو کا مظاہرہ کیا۔ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں بڑے بڑے اژدہا بن کر میدان میں بل کھانے لگیں۔ یہ ایسا خوفناک منظر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دل میں ڈرگئے۔ جس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ سے فرمایا ہرگز نہ ڈریں آپ ہی سر بلند اور کامیاب ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے عصا پھینکا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ نگل لیا جو کچھ جادو گروں نے کیا تھا اس کا صفایا کردیا۔ جادوگر کہیں بھی کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی دیکھتے ہوئے جادوگر سجدہ ریز ہو کر پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون نے اس پر دھمکی دیتے ہوئے کہا دراصل یہ تمہارا استاد جادوگر ہے۔ میری اجازت کے بغیر تم نے اس پر ایمان لانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رکھو میں تمہارے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹ کر تمہیں کھجور کے درختوں پر لٹکاؤں گا۔ تاکہ تمہیں اور دیکھنے والوں کو معلوم ہو کہ ہم کیسی عبرت ناک اور دائمی سزا دیتے ہیں۔ جو جادو گر ایمان لائے انہوں نے کہا ہم کیوں نہ ایمان لاتے جبکہ ہمارے پاس ٹھوس دلائل اور واضح معجزات آچکے ہیں اب تم جو چاہو کرلو ہم ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ ہاں یاد رکھنا تمہاری سزائیں اور اذیتیں صرف دنیا کی زندگانی تک ہیں۔ ایمانداروں کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ تمہاری سزائیں صرف ہمارے آخری سانس تک ہیں مرنے کے بعد ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ کیونکہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں وہی ہماری خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے۔ (طٰہٰ : 64۔ 73) جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلہ سے پہلے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمان کو سچ کر دکھایا۔ جادوگروں کا جادو جھوٹ اور فریب ثابت ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کامیاب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو غالب کرتا ہے۔ خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو، کفار تو حق کے غلبہ کو ہمیشہ سے ناگوار ہی سمجھتے ہیں۔ مسائل 1۔ دنیا دار مادی وسائل کی بنیاد پر حق والوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ 2۔ حق والے کسی کے وسائل سے مرعوب نہیں ہوتے۔ 3۔ حق والے ہمیشہ اللہ پر نظر رکھتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بالآخر باطل کو ملیا میٹ کردیتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ فسادیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ حق کو غلبہ عطا فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن فساد کرنے والے لوگ حقیقی کامیابی نہیں پاتے : 1۔ بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو کامیابی نہیں دیتا۔ (یونس : 81) 2۔ فساد کرنے والے خسارہ اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 27) 3۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : 64) 4۔ اللہ فساد کرنے والوں کے عمل کو درست نہیں کرتا۔ (یونس : 81) 5۔ دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الاعراف : 86) 6۔ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت اور برا گھر ہے۔ (الرعد : 25) 7۔ زمین میں فساد نہ کرو اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (القصص : 77) 8۔ وہ زمین میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں، کھیتی اور جانوروں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں، اللہ فسا دکرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرۃ : 205) 9۔ زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ (البقرۃ : 60) 10۔ دیکھیں فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النمل : 14)
Ayahs 10:83–86

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

” تو موسیٰ پر اس کی قوم کے کچھ نو جوانوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کوئی ایمان نہ لایا اور بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ہے۔ “ (83) ”

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم فرمانبردار ہو۔ “ (84) ’

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

’ تو انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا، اے ہمارے رب ہمیں ظالم لوگوں کے سے بچا۔ “ (85) ”

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمیں کافر لوگوں سے نجات عطا فرما۔ “ (86) “

فہم القرآن ربط کلام : حق ثابت ہونے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غالب آنے کے باوجود چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ملک کے نامی گرامی صاحب علم لاکھوں کے مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت ایمان لے آئے، یاد رہے اس وقت مصر میں جادو ہی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا تھا۔ حق ثابت ہونے اور جادوگروں کے ایمان لانے کے باوجود فرعون کے جورو استبداد اور دبدبہ کی وجہ سے چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ فرعون بہت ظلم کرنے والا تھا۔ فرعون نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک دفعہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا قتل عام شروع کیا۔ جس میں مردوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ سورة المومن میں بیان ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس حق پہنچ چکا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کہ ایمانداروں کو قتل کیا جائے اور ان کی عورتوں کو باقی رکھا جائے اور فرعون نے اپنی قوم کو یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل بھی کرنا چاہتا ہوں وہ میرے مقابلے میں اپنے رب کو بلا لے اگر میں نے اسے قتل نہ کیا تو وہ تمہارا دین بدل دے گا اور ملک میں فساد برپا ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فقط اتنا فرمایا کہ میں ہر متکبر اور قیامت کے منکر سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ( المومن : 25۔ 27) نازک اور پریشان کن حالات میں قوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگی اے موسیٰ آپ کی پیدائش کے وقت اور آپ کی نبوت کے بعد بھی ہمیں ان تکلیفوں کا سامنا ہے۔ حضرت موسیٰ نے انہیں سمجھایا کہ صبرو کرو۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، بالآخر زمین کے وارث نیک لوگ ہی ہوں گے عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو نیست و نابود کرکے تمہیں وارثبنائے گا پھر تمہیں دیکھے گا کہ تم کیا کردار ادا کرتے ہو۔ ( الاعراف : 128۔ 129) دین میں نوجوانوں کا کردار : اس میں شک نہیں کہ عمر اور تجربے کے اعتبار سے آدمی جوانی کی نسبت ادھیڑ عمر میں زیادہ پختہ فکر ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوچنے سمجھنے اور کسی موقف کو اختیار کرنے میں انسان بھرپور جوانی کے دور میں ہی صحیح فیصلہ کرسکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی راہنمائی کا صحیح بندوبست ہو۔ یہ اصول اور سوچ ہمیں انبیائے کرام کی سیرت اور ان کے ابتدائی ساتھیوں سے ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن مجید میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ جب وہ بھرپورجوان ہوئے تو ہم نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ (یوسف : 22) یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب انہوں نے عراق کے سب سے بڑے بت خانے کو توڑا تھا تو اس وقت وہ بھرپور جوانی کے عالم میں تھے۔ اس لیے مشرکین نے اپنے معبودوں کو اس حال میں دیکھ کر کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اس جوان نے کیا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ (الانبیاء : 60) قرآن مجید نے اصحاب کہف کے واقعہ میں (9) نوجوانوں کے کردار اور ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے رسول ! ہم آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک انداز میں ان نوجوانوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ہدایت میں مزید آگے بڑھایا اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ چناچہ جب انہوں نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جو زمین و آسمان کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی کو الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں اگر ہم دوسروں کو رب تسلیم کریں اور پکاریں تو یہ بڑی بےعقلی کی بات ہوگی۔ (الکہف : 13۔ 14) یہی کردار موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے نوجوانوں کا تھا۔ نبی آخر الزمان ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں نے بھی اسی کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ چناچہ سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخصیت کو بزرگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والا شمار کیا جاتا وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں حالانکہ وہ بھرپور جوانی میں تھے جب وہ ایمان لے آئے تو ان کی عمر تقریباً پونے اڑتیس سال کی تھی۔ مسائل 1۔ لوگ مشکلات سے ڈرتے ہوئے ایمان نہیں لاتے۔ 2۔ فرعون زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔ 3۔ ایمان والوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ کے فرمانبردار بندے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ 5۔ ظالموں کے ظلم سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مسلمانوں کو کافروں کے ظلم سے بچاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومن کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 1۔ حضرت موسیٰ کا ایمانداروں کو ارشاد کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو۔ (یونس : 84) 2۔ مومنوں کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 122) 3۔ مومن اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (الانفال : 2) 4۔ جب کسی کام کا ارادہ کر لوتو اللہ پر توکل کرو اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (آل عمران : 159) 5۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نیک لوگ اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67) 6۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ (التغابن : 13) 7۔ جو اللہ کے ہاں ہے وہ مومنوں کے لیے بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (الشورٰی : 36)
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

” اور ہم نے موسیٰ اور اسکے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو منتخب کرلو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنا لو نماز قائم کرو اور ایمان والوں کو خوشخبری دو ۔ “ (87)

فہم القرآن ربط کلام : جورو استبداد کے دور میں موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو خصوصی ہدایات۔ قرآن مجید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں پر ہونے والے جو رو استبدد کا اس طرح منظر پیش کرتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مواحد ساتھیوں پر وہ وقت بھی آیا جب ان کے لیے عبادت گاہوں کے دروازے بند کردیئے گئے۔ یہاں تک کہ ان کے لیے نماز پڑھنا بھی مشکل ہوگیا۔ اس کر بناک صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنا کر نماز قائم رکھیں۔ دونوں بھائیوں کو یہ بھی ارشاد ہوا کہ ایمانداروں کو یہ خوشخبری سنائیں کہ عنقریب ان کی مشکلات کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ یہاں بیوت کا لفظ دو دفعہ استعمال ہوا ہے جو بیت کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے گھر مفسرین نے یہ الفاظ دو دفعہ آنے کی وجہ سے دو مفہوم اخذ فرمائے ہیں۔ پہلی مرتبہ بیوت سے مراد ہے کہ کچھ گھر خفیہ طور پر منتخب کرلیے جائیں تاکہ وہاں حتی الامکان اجتماعی طور پر نماز ادا کی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنے اپنے گھروں میں قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کی جائے اس فرمان سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ مسلمانوں کو مشکل ترین حالات میں بھی نماز باجماعت ادا کرنا چاہیے اگر نماز اور جماعت کے تقاضے سمجھ کر پورے کیے جائیں تو اس سے بہتر انفرادی اور اجتماعی تربیت اور باہم مربوط اور منظم ہونے کا کوئی اور جامع موثر ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس سے پہلے مومنوں نے اللہ تعالیٰ سے استدعا کی تھی کہ اے ہمارے رب ہمیں کفار کے مظالم سے نجات عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ اپنے ساتھیوں کو مستقبل قریب میں فرعون سے نجات پانے کی خوشخبری سنائیے۔ جہاں تک نماز باجماعت کا تعلق ہے۔ ہماری شریعت میں اس کا اس قدر اہتمام اور التزام کیا گیا ہے کہ حالت جنگ میں بھی نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نماز باجماعت کی اہمیت : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِےَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ بِحَطَبٍ لَےُحْطَبَ ثُمَّ اٰمُرَبِالصَّلٰوۃِ فَےُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ اٰمُرَ رَجُلًا فَےَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ لَّا ےَشْھَدُوْنَ الصَّلٰوۃَ فَاُحَرِّقَ عَلَےْھِمْ بُےُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِےَدِہٖ لَوْ ےَعْلَمُ اَحَدُھُمْ اَنَّہُ ےَجِدُ عَرْقًا سَمِےْنًا اَوْ مِرْمَاتَےْنِ حَسَنَتَےْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ )[ رواہ البخاری : کتاب الاذان ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں حکم دوں کہ لکڑیاں جمع کی جائیں پھر اذان کا حکم دوں کسی اور کو لوگوں کی جماعت کروانے کی ذمہ داری سونپوں پھر میں لوگوں کا محاسبہ کروں۔ دوسرے مقام پر آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو لوگ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے میں ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادوں۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں عشاء کی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے پر موٹی ہڈی یا دو پائے مل جائیں گے تو وہ عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں۔ “ حضرت عبداللہ بن مسعودنے فرمایا لوگ اس وقت ملت ابراہیم پر رہیں گے جب تک نماز باجماعت ادا کریں گے۔ (ابو داؤد : کتاب الصلوۃ) مسائل 1۔ دشمن کے خوف سے گھر میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ 2۔ نماز ہر حالت میں جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔ 3۔ مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن نماز کے فوائد : 1۔ وہ لوگ جو کتاب اللہ پر کار بند رہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ان کے اجرکو ضائع نہیں کریں گے۔ (الاعراف : 170) 2۔ اگر لوگ توبہ کریں اور نماز قائم کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ (التوبہ : 5) 3۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت : 45) 4۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی ان پر کسی قسم کا خوف نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 277) 5۔ اے ایمان والو ! نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 6۔ نمازوں کی حفاظت کرنے والے جنت کے وارث ہیں۔ (المومنون : 9۔ 10)
Ayahs 10:88–89

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

” اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! تو نے فرعون اور اسکے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں۔ اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو ختم کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔ “ (88)

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

” فرمایا بلا شبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی ہے، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا جو نہیں جانتے۔ “ (89)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر فرعون کے مظالم کی انتہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ظالموں کے لیے بددعا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) طویل عرصہ تک فرعون اور آل فرعون کو سمجھاتے رہے۔ اس دوران یکے بعد دیگرے آل فرعون پر طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور ہر چیز خون آلودہ ہوجانے کے عذاب آئے مگر یہ اس قدر بد ترین اور ظالم لوگ تھے۔ کہ بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد توڑتے اور ہر بار ظلم کے نئے سے نئے انداز اختیار کرلیتے۔ اس طرح ظلم کا دور جب طویل سے طویل تر ہوا۔ صاحب ایمان لوگوں کی ہمتیں جواب دینے لگیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور انتہائی بےبسی کے عالم میں نہایت عاجزانہ انداز میں التجا کی کہ اے رب ذوالجلال ! ظالموں نے تیری توحید کے ماننے والوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے اگر اب ظالموں کی گرفت نہ ہوئی۔ الٰہی تیرے مظلوم بندے اور بندیاں ڈگمگاجائیں گے اس لیے میری فریاد کو قبول فرما۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے بڑے لوگوں کو دنیا کا مال اور جاہ و جلال اس لیے دیا ہے۔ کہ یہ تیری اطاعت گزاری کریں۔ مگر انہوں نے ان چیزوں کو تیری راہ کی طرف آنے والوں کے لیے رکاوٹ بنا دیا ہے۔ اے ہمارے رب ان کے جاہ و جلال اور مال اسباب کو تہس نہس کردے اور ان کے دل اتنے سخت ہوجائیں کہ تیرا عذاب دیکھنے کے باوجود انہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی آہ وزاری کو قبول فرمایا اور حکم دیا اے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) اب اس بات پر پکے رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہمارا عذاب آئے تو ان کے لیے نجات کی دعا کرنے لگو۔ اس کا دوسرا معنی ہے کہ آپ کی بددعا قبول ہوئی لیکن عذاب آنے تک تم اپنی ڈیوٹی ادا کرتے جاؤ۔ یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بدعا ذاتی انتقام کے لیے نہیں بلکہ بدعا اس لیے کی تھی کہ فرعون اور اس کے ساتھی لوگوں کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بن چکے تھے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے معلوم ہورہا ہے کہ دعا تو حضرت موسیٰ نے کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تم دونوں کی دعا قبول کرلی ہے جس کا مفسرین نے یہ مفہوم متعین کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے تھے اور جناب ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے۔ مسائل 1۔ مال اور دنیا کی زیب و زیبائش دین سے دوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ 2۔ ظالموں کے لیے بددعا کی جاسکتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ 4۔ مشکلات کے باوجود آدمی کو دین پر قائم رہنا چاہیے۔ 5۔ بےعلم لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ظالموں کو انبیاء ( علیہ السلام) کی بددعائیں : 1۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت فرما۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : 88) 2۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیے۔ (نوح : 26) 3۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (العنکبوت : 30) 4۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بد دعا) ۔ (الاعراف : 89)
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اسکے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً سچ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں۔ “ (90)

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

” کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ “ (91) ”

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عبرت بنے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں اور یقیناً بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔ “ (92)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا کا نتیجہ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور ان کی قوم کی آہ و زاریوں کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ فرعون اور اس کے لشکروں کو ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہیں واضح طور پر دلائل دے رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دہمکی دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بچانے کی ضمانت دی ہے اگر تم میری بات نہیں مانتے تو میرا راستہ چھوڑ دو ایک مدت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ ہاں یہ بات یاد رکھنا کہ فرعون اور اس کا لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ سمندر کے پانی کو کھڑا چھوڑ کر پار ہوجانا کیونکہ ہم انہیں غرق کردیں گے۔ (الدخان : 17۔ 24) چناچہ اس طرح فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا گیا۔ جب فرعون ڈبکیاں لینے لگا تو اس نے موت وحیات کی کشمکش کے دوران دہائی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتے ہوئے مسلمان ہوتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں یہاں تک کہ اس نے اس کا بھی اقرار کیا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن اس کے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ کیا اب ایمان لاتا ہے ؟ اس سے پہلے تو بار بار انکار کرچکا اور انتہا درجے کا فسادی تھا۔ بس آج تیرے وجود کو لوگوں کی عبرت کے لیے باقی رکھا جائے گا تاکہ آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ بیشک لوگوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب فرعون نے آخری وقت کلمہ پڑھ لیا تھا تو اس کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوئی ؟ یہ سوال کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فرعون کی توبہ تین و جہ سے قبول نہیں کی گی۔ 1۔ سورة الاعراف کی آیت : 133۔ 135 میں گزر چکا ہے کہ یکے بعددیگرے کئی عذابوں میں مبتلا ہونے اور بار بار عہد کرنے کے باوجود یہ لوگ عہد شکنی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا حال معلوم تھا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اب بھی عہد شکنی کریں گے اس لیے ان کی توبہ قبول نہ کی گئی۔ 2۔ طویل مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار مہلت دینے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لائے جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے ایمان نہ لانے کی بددعا کی تھی گویا کہ اس بدعا کی وجہ سے اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ انسان کی توبہ نزع کے عالم سے پہلے قبول ہوتی ہے جب موت کی واردات کا آغاز ہوتا ہے تو آدمی کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اس بنا پر بھی فرعون کی توبہ مسترد کردی گئی۔ جہاں تک اس کی لاش محفوظ رکھنے کی حکمت ہے وہ قرآن مجید نے خود ہی بیان کردی ہے تاکہ اس کی لاش کو دیکھنے والے عبرت حاصل کریں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کو خوف کے مارے یہ یقین نہیں ہورہا تھا ان کے خوف کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پانی کی لہروں کو حکم دیا کہ اس کی لاش کو پانی سے باہر اونچی جگہ پھینک دے جسے دیکھ کر بنی اسرائیل کو یقین ہوا کہ ان کا دشمن مرچکا ہے فرعون کی لاش کے بارے میں (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ ) کہ آج ہم تیرے وجود کو باقی رکھیں گے کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا کہ یہ قیامت تک محفوظ رہے گی جبکہ دوسرے اہل علم کا خیال ہے کہ یہ صرف اسی زمانے کے لوگوں کے لیے اعلان تھا۔ واللہ اعلم۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات باب قبول توبۃ العبد مالم یغرغر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سانس کے اٹکنے سے پہلے پہلے قبول کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ ظلم کرنے والے تباہ ہوجاتے ہیں۔ 2۔ نزع کے وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے باغیوں کو نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ 4۔ اکثر لوگ اللہ کی نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام : 1۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : 92) 2۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64) 3۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : 55) 4۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103) 5۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66) 6۔ قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : 98) 7۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : 40)
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

” اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکا نہ دیا، باعزت ٹھکا نہ، اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بلاشبہ تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ “ (93)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے مرتبہ و مقام کا بیان۔ فرعون اور اس کے لشکر و سپاہ کو غرقاب کرنے کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے انہیں مقام صدق اور حلال و طیب رزق کی فراوانی سے ہم کنار کیا۔ لفظ صدق یہاں بڑے وسیع تر معانی میں استعمال ہوا ہے۔ صدق سے مراد وہ مرتبہ اور مقام ہے جو آل فرعون کی بربادی کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوا۔ دنیا میں بنی اسرائیل کی سچائی اور ان کی بزرگی کی دھوم مچ گئی۔ اقتدار کے اعتبار سے انہیں شام، مصر فلسطین اور اس پورے علاقے پر حکمرانی کا موقع ملا جس پر آل فرعون کا پھر یرا بلند ہوا کرتا تھا۔ کھانے پینے کے حوالے سے انہیں ہر پاک اور طیب نعمت سے نوازا گیا۔ انہی کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کو تورات، حکومت، نبوت، رزق طیب اور اس زمانے کی پوری دنیا پر فضیلت عطا کی گئی۔ (الجاثیہ : 16) چاہیے تو یہ تھا کہ یہ قوم اللہ تعالیٰ کی شکر گزار اور اس کے دین پر ثابت قدم رہتی لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد انہوں نے پے درپے انبیاء (علیہ السلام) کی گستاخیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ بنی اسرائیل کی ناشکری اور متلون مزاجی کا حال یہ تھا کہ جونہی فرعون غرق ہوا اور یہ دریا عبور کرکے آگے چلے تو انہوں نے راستہ میں ایسے لوگ دیکھے کہ جو بتوں کے سامنے سجدہ کرتے اور اعتکاف کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ناشکری قوم سب کچھ بھول کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے لیے بھی اس قسم کے الٰہ بنادیں جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا کہ تم تو جاہل قوم ہو۔ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر تمہیں ان کی عبادت کی اجازت دوں حالانکہ اس نے پوری دنیا میں تمہارے وقار کو بلند کیا ہے۔ (الاعراف 138۔ 140) (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِنْہُ مُرِیْبٍ )[ ھود : 110] ” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں اختلاف کیا گیا اگر آپ کے رب کا حکم پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ “ اختلاف فی نفسہ بری بات ہے لیکن قرآن و سنت کا علم آجانے کے بعد مذہبی تعصب، ذاتی مفاد اور اپنی انا کی خاطر حقائق ٹھکرائے رکھنا، پرلے درجے کی گمراہی ہے ایسے لوگ بہت کم ہدایت پایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے روز ان کا فیصلہ کرے گا۔ یہاں اختلاف سے پہلی مراد گمراہی اور العلم سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ وَسَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ ےَقْرَأُخِلَافَھَا فَجِءْتُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ فَاَخْبَرْتُہُ فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ الْکَرَاھِےَۃَ فَقَالَ کِلَاکُمَامُحْسِنٌ فَلَا تَخْتَلِفُوْا فَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ اخْتَلَفُوْا فَہَلَکُوْا)[ رواہ البخاری : کتاب الخصومات، باب مایذکر فی الاشخاص والخصومۃ بین المسلم والیھود ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے ایک آدمی کو تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ جبکہ میں نے نبی مکرم ﷺ کو اس کی تلاوت کے برعکس تلاوت کرتے سنا تھا۔ میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ سے پوری بات عرض کی تو میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات دیکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں کی تلاوت درست ہے۔ اس طرح اختلافات نہ کیا کرو۔ تم سے پہلے لوگ اس اختلاف کی وجہ سے برباد ہوئے تھے۔ “ (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ؓ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَاَ عَلَےْکَ الْقُرْاٰنَ قَالَ اٰللّٰہُ سَمَّانِیْ لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَدْ ذُکِرْتُ عِنْدَرَبِّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ نَعَمْ فَذَرَفَتْ عَےْنَاہُ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَےْکَ لَمْ ےَکُنِ الَّذِےْنَ کَفَرُوْا قَالَ وَسَمَّانِیْ قَالَ نَعَمْ فَبَکٰی)[ رواہ البخا ری : باب مناقب ابی بن کعب ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں قرآن مجید کی تلاوت تجھ سے سنوں ابی ؓ نے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کو میرا نام لے کر فرمایا ہے ؟ آپ ﷺ نے ہاں میں جواب دیا۔ حضرت ابی ؓ نے پھر حیران ہو کر پوچھا کیا رب العالمین کے ہاں میرا ذکر ہوا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بالکل ذکر ہوا ہے۔ اس خوشی سے حضرت ابی ؓ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ” لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ کی تلاوت تجھ سے سنو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تیرا نام لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابی بن کعب ؓ خوشی سے روپڑے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اعلیٰ مقام عنایت فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبرداروں کو بہترین ٹھکانہ عطا فرماتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پاک رزق عطا فرماتا ہے۔ 4۔ کچھ لوگ حقیقت جاننے کے باوجود حقائق کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اختلاف کرنے والوں میں فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات : 1۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور انہیں عمدہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔ (یونس : 93) 2۔ اے بنی اسرائیل میرے انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے۔ (البقرۃ : 40) 3۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر انعام کیں اور میں نے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت دی۔ (البقرۃ : 47) 4۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ (البقرۃ : 50) 5۔ اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : 160) 6۔ ہم نے بنی اسرائیل کوا ذیت ناک عذاب سے نجات دی۔ (الدخان : 30) 7۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو نبوت، کتاب، حکومت، رزق اور دنیا بھر میں عزت دی۔ (الجاثیہ : 16) 8۔ تمام کھانے بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے مگر جو انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیے۔ (آل عمران : 93) 9۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے کامل بھلائیاں دیں۔ (الاعراف : 137) 10۔ ہم نے بنی اسرئیل پر بادلوں کا سایہ کیا اور ان کے لیے آسمان سے من وسلویٰ نازل کیا۔ (البقرۃ : 57)
Ayahs 10:94–97

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

” پھر اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں، بلاشبہ آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے حق آیا ہے۔ سو آپ شک کرنے والوں سے نہ ہوں۔ “ (94) ”

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ کبھی ان لوگوں سے ہونا جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ورنہ آپ نقصان پانے والوں سے ہوجائیں گے۔ “ (95) ”

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

یقیناً جن پر آپ کے رب کی بات ثابت ہوچکی، کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ (96) ”

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

یہاں تک ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔ “ (97)

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے مصائب کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔ اے رسول ﷺ ! جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں۔ جن کو آپ سے پہلے کتاب عنایت کی گئی ہے یقین فرمائیں کہ آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ کو شک کرنے والوں کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ ضرور نقصان پائیں گے۔ یقیناً آپ کے رب کا فرمان سچ ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ان آیات میں رسول کریم ﷺ کی ذات کو مخاطب فرمانے کے کئی مقاصد ہیں۔ 1۔ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ جب اہم اور مشکل ترین مسئلہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے تو رسول کریم ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ تاکہ قرآن پڑھنے والا چونک اٹھے کہ جب اس مسئلہ میں نبی اکرم ﷺ کی ذات بھی مستثنیٰ نہیں تو میری کیا حیثیت ہے۔ 2۔ خطاب رسول معظم ﷺ سے ہے مگر مقصود آپ کی امت ہے۔ بات کی اہمیت اور اس میں زور پیدا کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ آپ کو اس سچائی میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ 3۔ بات کی اہمیت کے پیش نظر اس میں مزید زور پیدا کرنے کے لیے بھی مخاطب کو کہا جاتا ہے کہ تمہیں اس سچائی میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ 4۔ حالات کے دباؤ اور پریشر ہونے کے ناطے سے نبی اکرم ﷺ کے دل میں کسی خیال کا آجانا یہ ایمان اور نبوت کے منصب کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دل کے خیالات پر موخذاہ نہیں کرتا۔ 5۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ فرمایا جانا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلانے والوں کے ساتھ نہیں دینا چاہیے یہ ارشاد بھی پہلے فرمان کے تابع اور خاص کر امت کے لیے ہے کیونکہ دنیا میں کتنے ہی سچائی کا دم بھرنے والے ہیں۔ جو حق جاننے کے باوجود حق والوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ مصلحت اور مفاد کی خاطر جھوٹے لوگوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حقیقی ایمان لانے کی توقع رکھناعبث ہوتا ہے۔ اگر ان کے سامنے حقائق کھول کھول کر رکھ دیئے جائیں تب بھی مصلحت اور مفاد کی خاطر سچائی قبول کرنے اور اس کی حمایت کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ انہیں اللہ کا عذاب آلے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ قُلُوْبَ بَنِیْ اٰدَمَ کُلَّھَا بَےْنَ اِصْبَعَےْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَّاحِدٍ یُّصَرِّفُہُ کَےْفَ ےَشَآءُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ )[ رواہ مسلم : باب تصریف اللہ القلوب ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا تمام انسانوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جیسے وہ چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ پھر رسول اکرم ﷺ نے دعا کی ” اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی فرماں برداری پر پھیرے رکھنا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَقُول اللَّہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دینِکَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللَّہِ تَخَافُ عَلَیْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ بِمَا جِءْتَ بِہِ فَقَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ یُقَلِّبُہَا )[ رواہ ابن ماجہ، باب دعا رسول اللہ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر دعا کرتے تھے اے اللہ ! میرے دل کو دین پر ثابت قدم فرما ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں حالانکہ ہم آپ پر ایمان لائے اور جو آپ لائے اس کی تصدیق کی آپ نے فرمایا یقیناً دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں وہ جیسے چاہتا اسے پھیرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے نازل کردہ قرآن میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے خسارہ پائیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ایمان نہیں لائیں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں شک نہیں کرنا چاہیے : 1۔ آپ کے پاس حق آگیا ہے سو آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (یونس : 94) 2۔ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق آچکا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (آل عمران : 60) 3۔ اہل کتاب جانتے ہیں بیشک قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : 111) 4۔ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (البقرۃ : 147) 5۔ پس آپ شک میں مبتلا نہ ہوں یقیناً حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ (ھود : 17) 6۔ یقیناً حق آپ کے رب کی طرف سے ہے آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (آل عمران : 60)
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

” پھر کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو تو اس کے ایمان لانے نے اسے نفع دیاہو، یونس کی قوم کے سوا جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن کے منکرو ! اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے جس طرح قوم یونس (علیہ السلام) نے مہلت سے فائدہ اٹھا کر سچی توبہ کی اور اپنے سروں پر منڈلاتے ہوئے عذاب سے بچ گئے تھے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) عراق کی سرزمین نینوا کے علاقہ میں 800 قبل مسیح مبعوث کیے گئے۔ اس زمانے میں نینوا دنیا کے ترقی یافتہ بڑے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ قرآن مجید نے اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد بتلائی ہے۔ ( الصافات : 147) شہر اور علاقے کے لوگ اشوری قوم سے تعلق رکھتے تھے جو بت پرستی میں مبتلا تھی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) انہیں ایک مدت تک وعظ و نصیحت کرتے رہے مگر قوم نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو مشرک اقوام کا وطیرہ رہا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے انہیں بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ لیکن وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے بگاڑ میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ جس پر یونس (علیہ السلام) نے انہیں آخری بار انتباہ کیا کہ اگر تم اسی راستے پر چلتے رہے تو فلاں دن تمہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب دبوچ لے گا۔ قوم نے آخری وارننگ کو بھی استہزا کا نشانہ بنایا۔ جس پر حضرت یونس (علیہ السلام) دلبرداشتہ اور خفا ہو کر ہجرت کے لیے نکل کھڑے ہوئے حالانکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کرنے کا حکم نہیں پہنچا تھا۔ کیونکہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کرسکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر ان کی گرفت فرمائی جس کے بارے میں فرمایا۔ جب وہ غصہ کے عالم میں شہر چھوڑ کر چلا گیا اسے خیال تھا (یعنی اسے خیال نہ آیا) کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ (الابنیاء : 87) قوم یونس پر نظر کرم : حضرت یونس (علیہ السلام) کے شہر چھوڑنے کے بعد ان کی پیشگوئی کے مطابق قوم پر عذاب منڈلانے لگا۔ جس پر قوم کو احساس ہوا کہ حضرت یونس کا فرمان سچ تھا۔ اللہ کا پیغمبر ہماری گستاخیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے ناراض ہو کر چلا گیا ہے۔ ظاہر ہے انہوں نے حضرت کو تلاش کیا ہوگا لیکن حضرت زمین کی بجائے مچھلی کے پیٹ میں جاچکے تھے۔ قوم نے دن کے وقت دن کے وقت کالے بادل، کڑکتی ہوئی بجلیاں اور خوفناک گھٹا ٹوپ اندھیرا دیکھا تو یقین ہوگیا کہ یہ بارش برسانے والے بادل نہیں۔ یہ تو حضرت یونس (علیہ السلام) کی بددعا کا نتیجہ اور ہمیں ہلاک کردینے والا بادل ہے۔ اس خوفناک صورت حال کو دیکھ کر انہوں نے عورتوں، بچوں اور مردوں کو کھلے میدان میں الگ الگ کرکے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگو۔ تمام کے تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پوری درماندگی اور عاجزی کے ساتھ زاروقطار روتے ہوئے معافی طلب کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا عذاب ٹل جائے مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کے سوا۔ جس کے دو سبب معلوم ہوتے ہیں : 1۔ عذاب کا قطعی وقت آنے سے پہلے کوئی فرد یا قوم سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھیجے ہوئے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔ 2۔ قوم یونس پر ابھی تک حجت تمام نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ کہ جب تک کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری طرح حجت قائم نہ ہو۔ اس وقت تک انہیں تہس نہس نہیں کیا جاتا لہٰذا قوم یونس کو نہ صرف معاف کردیا۔ بلکہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دے کر اسی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا گیا۔ سو وہ لوگ ایمان لائے جس وجہ سے انہیں زندگی میں مزید فائدہ اٹھانے کا موقعہ دیا گیا۔ (الصٰفٰت : 147۔ 148) اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کے ذلت ناک عذاب سے بچا لیا اور مزید مہلت عطا فرمائی۔ عذاب نازل ہونے کے بعد ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا : (فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ إِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہِ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکَافِرُوْنَ )[ المومن : 85] ” پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انہیں فائدہ دیتا، جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔ “ توبہ و استغفار کے ثمرات : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ کُلِّ ضیقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ) [ رواہ ابوداؤد : باب الاستغفار ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے استغفار کو لازم پکڑ ا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات عطا فرما دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے حضور سچی توبہ کرنے سے آیا ہوا عذاب ٹل جاتا ہے۔ 2۔ ایمان والے اللہ کی عطا کردہ مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن توبہ استغفار کے فوائد : 1۔ حضرت یونس کی قوم کے سوا کسی قوم کو عذاب کے وقت ایمان لانے کا فائدہ نہ ہوا۔ (یونس : 98) 2۔ اللہ سے بخشش طلب کیجیے یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : 106) 3۔ اگر تم استغفار کرو تو اللہ تمہیں اس کا بہتر صلہ دے گا۔ (ہود : 3) 4۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : 52) 5۔ اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو میرا رب رحم کرنے اور شفقت فرمانے والا ہے۔ (ہود : 90) 6۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12) 7۔ اللہ سے استغفار کرو یقیناً وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : 20) 8۔ جب تک لوگ اللہ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔ (الانفال : 33) 9۔ اپنے رب کی تعریف و تسبیح بیان کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ (النصر : 3)
Ayahs 10:99–100

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

” اور اگر آپ کا رب چاہتا جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے یہاں تک کہ وہ ایمان والے ہوجائیں۔ “ (99) ”

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ایمان لانا مگر اللہ کی اجازت سے اور وہ پلیدی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔ “ (100)

فہم القرآن ربط کلام : کیونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم عذاب دیکھ کر سچا ایمان لائی اور توبہ کی اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ وضاحت کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ جبراً کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا۔ جس طرح کہ پہلی آیات کی تفسیر میں عرض کیا گیا ہے۔ کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب بھیجنے کے باوجود اس لیے انہیں معاف کردیا گیا کہ ابھی پوری طرح ان پر اتمام حجت نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اللہ کے حضور عجزو عاجزی کی ایک نئی مثال قائم کی تھی جس بنا پر ان پر آیا ہوا عذاب ٹال دیا گیا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو یہ خیال آسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر دور کے مجرموں کو راہ راست پر لانے کے لیے تھوڑا سا جبر اختیار فرما لے تو لوگ ہدایت پر آسکتے ہیں۔ اس خیال کی نفی کی خاطریہاں یہ اصول بیان کردیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ نہیں کہ لوگوں کو جبر کے ذریعے اپنی ذات منوائے اور دین پر گامزن کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ انداز اختیار فرمائے تو زمین پر بسنے والے ہر دور کے انسان ایمان قبول کرلیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی صلاحیت سے سرفراز کیا ہے۔ جسے بروئے کار لانا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر لوگ عقل وخرد رکھتے ہوئے بھی نفع اور نقصان، برائی اور اچھائی، نیکی اور بدی میں فرق نہیں کرتے تو اس کا انجام انہیں بھگتنا پڑے گا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان کی توفیق اسے ضرور مل جاتی ہے جو خلوص نیت کے ساتھ ایمان کی جستجو کرتا ہے۔ جو کسی قسم کا تعصب اور دنیوی مفاد پیش نظر رکھے گا اس پر عقیدے کی گندگی اور بدعملی کی نحوست مسلط کردی جاتی ہے۔ اس فرمان میں یہی اصول سمجھانے کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اذن کا نتیجہ ہوتی ہے اور برائی بھی اسی کی جانب سے ہوتی ہے۔ جس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی ہدایت کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے جو برائی کا طلبگار ہوتا ہے اس کے لیے برائی کا راستہ کھول دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے یوں بھی بیان کرتے ہیں : (إِنَّا ہَدَیْنَاہ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوْرًا )[ الدھر : 3] ” ہم نے انسان کو راستے کی راہنمائی کی۔ چاہے تو وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرے۔ چاہیے تو گمراہی کا راستہ اختیار کرلے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جبر کرتے تو سارے لوگ ایمان لے آتے۔ 2۔ آدمی ہدایت کے راستے کو چھوڑ دے تو اس پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے۔ (یونس : 99) 2۔ کیا آپ لوگوں پر ایمان کے معاملہ میں جبر کرسکتے ہیں ؟ (یونس : 99) 3۔ دین میں جبر نہیں ہے۔ (البقرۃ : 256) 4۔ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت دی انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت کو پسند کیا۔ (حم السجدۃ : 17) 5۔ اللہ ایسی قوم کو کیسے ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرتی ہے۔ (آل عمران : 86) 6۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ (الشورٰی : 13) 7۔ اگر اللہ چاہتا تو سبھی کو ہدایت دے دیتا اور کافر تو اسی حال میں ہی رہیں گے۔ (الرعد : 31)