10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفہم القرآن

Ayahs 10:101–103

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

” فرما دیں دیکھو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ موجود ہے۔ اور نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کے کام نہیں آتیں جو ایمان نہیں لاتے۔ “ (101) ”

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

تو یہ لوگ ان لوگوں کے سے دنوں کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے۔ فرما دیں پھر انتظار کرو، بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ (102)

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

” پھر ہم اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں اور ایمان والوں کو بھی، اسی طرح ہم پر حق ہے کہ ہم مومنوں کو نجات دیں۔ “ (103)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اگر تھوڑا سا عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور کرے تو اس کے لیے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں زمین و آسمان میں اس قدر نمایاں اور پھیلی ہوئی ہیں کہ آدمی تھوڑی سی توجہ کرے تو وہ خود بخود اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ آسمان کی طرف دیکھیے کب سے جوں کا توں بلا ستون کھڑا ہے نہ اس کی رنگت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی کہیں سے جھکا اور پھٹا ہے یہاں تک کہ اس میں دراڑ اور نشیب و فراز بھی نظر نہیں آتا۔ اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور فرمائیے کہ بظاہر ایک ہی دھرتی ہونے کے باوجود اس مٹی کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ایک زمین چنے کی فصل اگاتی ہے اگر آپ وہاں چاول کی فصل لگائیں تو وہ اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ زمین کا ایک قطعہ سبزیوں کے لیے مفید ہے جبکہ دوسرا گنے اور کپاس کی فصل زیادہ اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو اتنا امانت دار اور فراخ دل بنایا ہے کہ آپ ایک کھیت میں بیس پچیس کلو بیج ڈالتے ہیں تو وہ نہ صرف اس کی حفاظت کرتی ہے بلکہ بیس پچیس کلو کی جگہ چالیس پچاس من گندم واپس کرتی ہے پھر غور فرمائیں زمین، پانی، موسم ایک ہونے کے باوجود پھلوں کے ذائقے اور رنگت میں زمین آسمان سے بھی زیادہ فر ق ہے۔ آپ جوں جوں قادرمطلق کی قدرت پر غور کریں گے اسی انداز سے اپنے مالک کو پہچانتے جائیں گے۔ بیشمار نشانیاں اور ان گنت شواہد اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دیتے جو اللہ تعالیٰ کی ثبت کردہ نشانیوں سے بےاعتنائی اور اس کے خوف سے بےخوف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس برے وقت کا انتظار کرتے ہیں جو ان سے پہلے مجرم قوموں پر وارد کیا گیا تھا۔ اے نبی ﷺ ! بس ان ناعاقبت اندیش، خدا کے خوف سے تہی دامن اور عقل کے اندھوں کو یہی کہنا چاہیے کہ تم اپنے انجام کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ اس کا انتظار کرتا ہوں۔ لیکن یاد رکھنا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس سے محفوظ فرمائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے جب نبی کی موجودگی میں اس کی قوم پر عذاب آتا ہے تو نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوا کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بےایمان لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے اپنے رسولوں اور مومنین کو محفوظ رکھتا ہے۔ 3۔ مومنوں کو نجات دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مومنوں کی مدد کرتا ہے : 1۔ پھر ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔ (یونس : 103) 2۔ مومنوں کی مدد کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔ (الروم : 47) 3۔ بیشک ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں۔ (المومن : 51) 4۔ اے ایمان والو ! تم اللہ کی مدد کرو (یعنی اللہ کے دین کی) اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ (محمد : 7) 5۔ ہم نے ان کی مدد کی سو وہ غالب آگئے۔ (الصٰفٰت : 116)
Ayahs 10:104–105

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

” فرما دیں اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں ہو تو میں انکی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور لیکن میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں وفات دیتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے ہوجاؤں۔ “ (104) ”

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ اپنا چہرہ یکسو ہو کر اسی دین کی طرف سیدھا رکھیں اور مشرکوں سے ہرگز نہ ہونا۔ “ (105)

فہم القرآن ربط کلام : ( آپ کھل کر اعلان کردیں کہ) ” اللہ “ کی مدد انبیاء (علیہ السلام) اور مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ نبی معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو نصرت و حمایت کی خوشخبری دینے کے بعد حکم ہوا۔ کہ اے رسول ﷺ آپ سرعام اعلان فرمائیں کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں شک ہے اور تم کسی طرح بھی مطمئن ہونے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تو یاد رکھو میں اللہ کے سوا تمہارے معبودان باطل کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں صرف اسی ایک اللہ کی عبادت کرتارہوں گا۔ جو تمہیں اور سب کو فوت کرنے والا ہے۔ کیونکہ میں ماننے والوں میں ہوں اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو کلی طور پر اس دین کے تابع کروں جو ہر اعتبار سے کامل، اکمل اور ہر قسم کی کمی کمزوری سے مبرا ہے۔ میرا مشرکوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ یہاں دین سے مراد توحید خالص اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ مشرکین مکہ نے جب نبی معظم ﷺ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگالیا۔ اور وہ ہر اعتبار سے ناکام اور نامراد ٹھہرے تو انہوں نے اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ اے محمد ! کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم اپنا موقف چھوڑنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ہماری کشمکش ختم ہوجائے۔ ( القلم : 9) اس کے جواب میں یہ فرمان نازل ہوا کہ اے رسول ﷺ ! آپ مشرکین کی پرواہ کیے بغیر صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کی توحید کی دعوت دیتے رہیں۔ چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے دشمنوں کی دشمنی اور مخالفوں کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر زندگی بھر اس کام کو جاری رکھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے وہ وقت دکھایا کہ جب آپ اپنی زندگی کا آخری حج ادا کررہے تھے۔ تو ایک لاکھ سے زائد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” حضرت واقد بن محمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ، رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم مہینہ کون سا ہے۔ صحابہ نے کہا یہ مہینہ۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم شہر کون سا ہے صحابہ نے عرض کیا ہمارا شہر۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم دن کون سا ہے صحابہ نے عرض کیا آج کا دن آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت کو حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ جس طرح کہ اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر اور مہینے کی کیا میں نے پیغام پہنچا دیا، آپ نے تین بار یہ کلمات دھرائے اور تمام نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا افسوس ہو تم پر یا ویل ہو میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے پھرو۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب ظھر المو من حمی الا فی حداو حق) مسائل 1۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی موت پر اختیار رکھتا ہے۔ 3۔ اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کرلینا چاہیے۔ 4۔ مشرکین کا ساتھی نہیں بننا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنی چاہیے : 1۔ آپ کو حکم ہے کہ آپ فرما دیں کہ میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ (یونس : 104) 2۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : 36) 3۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : 2) 4۔ اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ (البقرۃ : 21) 5۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40) 6۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شریک نہ بناؤ (النساء : 36) 7۔ نوح، ہود، صالح، اور شعیب نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (ہود : 50۔ 61۔ 84) 8۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (بنی اسرائیل : 23)
Ayahs 10:106–107

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

” اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکاریں جو نہ آپ کو نفع دے سکتی ہے اور نہ آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے پھر اگر تو نے ایسا کیا تو بلاشبہ اس وقت ظالموں میں سے ہوجائے گا۔ “ (106) ”

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرلے تو اس کو رد کرنے والا نہیں۔ اس کے فضل کو کوئی ہٹانے والا نہیں، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (107)

فہم القرآن ربط کلام : صرف ایک اللہ کی عبادت اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں نہ ہی اس کے علاوہ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ توحید یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی زندہ یا مردہ کو شریک نہ سمجھا جائے۔ یہ عقیدہ دین کی ابتداء اور انتہا ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ بار بار مختلف انداز اور الفاظ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ اس پر پکے ہوجاو۔ یہی دنیا میں انسان کی کامیابی اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت اور فرضیت کے لیے نبی ﷺ سے لے کر ہر انسان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرے اور نہ ہی کسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھے۔ اسی سے انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ہر قسم کے نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر محض اخلاص کی بنیاد پر دوسرے آدمی کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے۔ یہ عقیدہ زندگی کے ہر میدان میں انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہو کر رہنے کا سبق دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف ایک اللہ ہے اگر وہ نہ چاہے تو کوئی مجھے نہ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس عظیم تصور اور عقیدے کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے رسول کو مخاطب کیا ہے کہ اے رسول ﷺ ! اگر آپ بھی اس عقیدہ سے ہٹ جائیں تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک اور اس کا ارتکاب کرنے والے ظالم ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بےمثال ہستی اور اس کی عظیم صفات کے ساتھ مردوں اور ادنیٰ چیزوں کو شریک بناتے ہیں۔ اس عقیدہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پھر نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف دینے کا فیصلہ کرے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس تکلیف کو آپ سے دور کردے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو خیر اور بھلائی عطا کرنا چاہیے ہے تو زمین و آسمان میں کوئی قوت نہیں جو اللہ کے فضل کو آپ سے دور کرسکے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ کیونکہ وہ بہت معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ اس عقیدہ کی تازگی اور پختگی کے لیے آپ نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس ؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یوں فرمایا۔ (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ )[ رواہ البخاری : باب الذکر بعد الصلٰوۃ ] ” حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی کریم ﷺ فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ ” صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے اس کا کسی لحاظ سے کوئی شریک نہیں اس کی حکمرانی ہے ‘ وہی تعریفات کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ الٰہی جسے تو کوئی چیز عنایت فرمائے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ تیری کبریائی کے مقابلے میں کسی بڑے کی بڑائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَا غُلاَمُ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکُ اِحْفِظِ اللّٰہَ تَجِدْہٗ تَجَاہَکَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاَسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِاجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلاَّ بَشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہِ لَکَ وَلَوِاجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلاَّ بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجُفَّتِ الصُّحُفُ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا اے بچے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد کر اس کو اپنے سامنے پائے گا۔ جب مانگے تو فقط اللہ ہی سے سوال کر۔ مدد کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو ذہن نشین کرلو اگر ساری دنیا والے تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہوجائیں تو نفع نہیں پہنچا سکتے مگر اتنا ہی جتنا اللہ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اگر تمام کے تمام تجھے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اتنا ہی جتنا تیرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ قلمیں اٹھا دی گئیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارنے والا ظالم ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نقصان پہچانا چاہے تو کوئی بچا نہیں سکتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ 6۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا فضل کا عطا فرماتا ہے۔ 7۔ اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں : 1۔ اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (یونس : 106) 2۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (بنی اسرائیل : 56) 3۔ اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور اس کی مصیبت دور کرنے والا کون ہے ؟ (النمل : 62) 4۔ اللہ ہی تکلیف دور کرتا ہے لہٰذا اسی کو پکارو۔ (الانعام : 41) 5۔ اللہ کے سوا کوئی تمہارا ولی اور مددگار نہیں۔ (البقرۃ : 107) 6۔ لوگوں کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں جو ان کی مدد کرسکے۔ (الشورٰی : 46) 7۔ اس دن کافر لوگ جان لیں گے جب ان کے چہروں اور پشتوں سے آگ ہٹانے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ (الانبیاء : 39)
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

” فرما دیں اے لوگو ! یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے، جس نے ہدایت کو اپنایا تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا اس کی گمراہی کی ذمہ داری اسی پر ہے اور مجھے تم پر نگران نہیں بنایا۔ “ (108) ”

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور اسکی پیروی کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ کرنے والوں سے سب سے بہتر ہے۔ “ (109)

فہم القرآن ربط کلام : اس آیت سے چار آیات قبل حکم تھا کہ اے رسول ﷺ لوگوں کو فرمائیں اگر تمہیں میرے عقیدہ اور دین کے بارے میں شک ہے تو میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے مجھے اپنے طریقہ پر اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے دیجیے۔ اب ارشاد ہوتا ہے یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے تم تک پہنچ چکا ہے۔ جو حق کی پیروی کرے گا اس کا فائدہ اسے ہی پہنچے گا اور جس نے توحید کا عقیدہ چھوڑ دیا۔ اس کا وبال اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور مجھے تم پر وکیل بنا کر نہیں بھیجا گیا وکیل کا معنی ہے دوسرے کے کام کا ذمہ دارہونا۔ نبی کا کام حق پہنچانا ہوتا ہے منوانا نہیں۔ لہٰذا اے نبی ﷺ ! آپ اسی کی اتباع کریں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اور لوگوں کی مخالفت پر حوصلہ رکھیں اور پوری دلجمعی اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچے اللہ تعالیٰ بہترین حاکم ہے۔ اللہ کے حکم سے مراد ظالموں پر عذاب اور حق والوں کی کامیابی ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ إِنَّ اللَّہَ قَالَ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِی بِحَبِیبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہُمَا الْجَنَّۃَ )[ رواہ البخاری : باب فضل من ذھب بصرہ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس کو اللہ تعالیٰ اس کی دو محبوب (آنکھوں) چیزوں کے ساتھ آزماتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ اللہ اس کے عوض اسے جنت عطا فرمائیں گے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ 2۔ حق کا راستہ اپنانے والے کو اس کا فائدہ ہوگا۔ 3۔ گمراہی اختیار کرنے والے کو اس کا نقصان ہوگا۔ 4۔ نبی اکرم ﷺ کسی کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں تھے۔ 5۔ نبی کریم ﷺ کو وحی کی تابعداری کا حکم دیا گیا۔ 6۔ دین کے راستے میں مشکلات آئیں تو صبر سے کام لینا چاہیے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں : 1۔ صبر کا دامن نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ صادر فرما دے۔ (یونس : 109) 2۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔ اس کا حکم ہے کہ عبادت صرف اسی کی کی جائے۔ (یوسف : 40) 3۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 1) 4۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 113) 5۔ قیامت کے دن آپ کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ (النحل : 124، النساء : 141)