10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفہم القرآن

Ayahs 10:41–44

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

” اور اگر انہوں نے جھٹلادیاتو فرما دیں کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔ “ (41) ”

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا آپ بہروں کو سناسکتے ہیں، جو سمجھ نہ رکھتے ہوں۔ “ ( 42) ”

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں، تو کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھاسکتے ہیں، اگرچہ وہ نہ دیکھتے ہوں۔ “ (43) ”

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

یقیناً اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا اور لیکن لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا انکار کرنے والے حقیقت میں بہرے اور اندھے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ منکرین قرآن کو باربار چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ الزام لگانے میں سچے ہو کہ رسول ﷺ نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیا ہے تو پھر تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کی بجائے وہ یہی ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ جس پر مزید بحث کرنے اور چیلنج دینے کی بجائے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم ہوا کہ آپ ان سے یہ کہہ کر بےمقصد بحث سے دامن بچائیں کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ قیامت کے روز ہر کوئی اپنے عمل اور کردار کا انجام دیکھ لے گا۔ لہٰذا تمہیں ہمارے عمل کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور ہمیں تمہارے کردار کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ہر کسی نے اپنے کیے کا صلہ پانا ہے۔ اے نبی ﷺ ! ان میں ایسے لوگ بھی ہیں۔ جو بظاہر آپ کی بات سنتے ہیں۔ جو نہ سننے کے برابر ہے۔ اس طرح جیسے وہ بہرے ہوں یہ اس لیے ہے کہ وہ توجہ کے ساتھ سننے اور اس پر غور وفکر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو ظاہری آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر ان کے دل کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ گویا کہ یہ بصیرت سے محروم ہیں۔ اس لیے آپ دل کے اندھوں کو ہدایت کی طرف نہیں لاسکتے۔ در حقیقت انہوں نے ظلم کرکے اپنے آپ پر گمراہی مسلط کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے منکرین حق کے بارے میں یہ وضاحت بھی فرمائی ہے : (أَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْأَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَا أَوْ اٰذَانٌ یَسْمَعُوْنَ بِہَا فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ وَلَکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ )[ الحج : 46] ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو دل ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ “ ان کے بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : (وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لَا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَا یَسْمَعُوْنَ بِہَا أُوْلٰءِکَ کَالْأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلٰءِکَ ہُمُ الْغَافِلُوْنَ )[ الاعراف : 179] ” ہم نے جہنم کے لیے بہت سی مخلوق جنوں اور انسانوں سے پیدا کی۔ ان لوگوں کو دل دیے گئے مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کو آنکھیں عطا ہوئیں ان سے دیکھتے نہیں ان کے کان موجود ہیں مگر ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپایوں سے بھی بدتر اور اپنے انجام سے غافل ہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ذَرِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِےْمَا ےَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہٗ قَالَ ےَا عِبَادِیْ اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَےْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ ضَآلٌّ اِلَّا مَنْ ھَدَےْتُہٗ فَاسْتَھْدُوْنِیْ اَھْدِکُمْ ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ جَاءِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ فَاسْتَکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ ےَا عِبَادِیْ اِنَّکُمْ تُخْطِءُوْنَ باللَّےْلِ وَالنَّھَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِےْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ ) [ رواہمسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے بندو ! میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کرلیا ہے اور تمہارے درمیان بھی ظلم ناجائز قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا ‘ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہنا دوں گا۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید جھٹلانے والوں کو ان کے جھوٹ کی سزا مل کر رہے گی۔ 2۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق جزاو سزا ملے گی۔ 3۔ جسے اللہ نہ سنانا چاہے اسے کوئی نہیں سنا سکتا۔ 4۔ جسے اللہ راہ نہ دکھانا چاہے اسے کوئی راہ نہیں دکھلا سکتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 6۔ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرتا ہے زیادتی نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : 44) 2۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : 40) 3۔ ہر شخص اپنے اعمال کو حاضر پائے گا اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (الکھف : 39) 4۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (المومن : 17)
Ayahs 10:45–48

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

” اور جس دن وہ انھیں اکٹھا کرے گا گویا وہ نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی، وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ بیشک وہ لوگ خسارے میں رہے جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور نہ ہوئے ہدایت پانے والے۔ “ (45) ”

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر کبھی ہم آپ کو اس کا کچھ حصہ دکھلا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا ہم آپ کو فوت کریں تو ہماری ہی طرف ان کا بھی لوٹ کر آنا ہے، اللہ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ “ ( 46) ”

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے تو جب ان کا رسول آتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔ “ (47) ”

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کا انجام۔ قرآن مجید کا انکار اور سرور دو عالم ﷺ سے تکرار کرنے کی بنیادی وجہ آخرت کا انکار تھا۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ میں نے مرنے کے بعد اٹھ کر رب ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہے ایسا شخص زیادہ عرصہ تک قرآن مجید کے حقائق اور صاحب قرآن کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بےباکی اور غفلت اسی شخص میں پیدا ہوا کرتی ہے جو اپنے رب کی ملاقات کا عملاً یا اعتقاداً منکر ہو۔ اس بناء پر منکرین قرآن کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اس دن کو یاد کرو۔ جب سب کو اکٹھا کیا جائے گا تم ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانو گے۔ باوجود اس کے کہ تم ایک عرصہ تک دنیا میں رہے مگر قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ تم یہ خیال کرو گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیوں کے سوا نہیں ٹھہرے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلانے والے نقصان میں رہیں گے اور ایسے لوگ ہدایت سے محروم ہوتے ہیں۔ انہیں عذاب کی دھمکی دی جائے یا برے انجام سے ڈرایا جائے تو آپ ﷺ سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عذاب جلد آنا چاہیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آپ کی زندگی میں یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ نہیں تو آپ کی وفات کے بعد ان کو وہ کچھ دکھلائے گا جس کا ان کے ساتھ قرآن کے الفاظ میں وعدہ کیا جاتا ہے۔ یقیناً یہ کام ہو کر رہے گا۔ انہیں بہرصورت ہمارے پاس آنا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ہر عمل اور بات پر گواہ ہے۔ درحقیقت ہر امت کے لیے رسول ہوتا ہے۔ جو انہیں کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کے احکام سناتا اور اس کی نافرمانی سے ڈراتا ہے۔ جب لوگ رسول کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کے درمیان نہایت عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جاتی۔ لہٰذا آپ انہیں سمجھاتے رہیں باوجود اس کے یہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ کفار کا مطالبہ : (وَاِذْ قَالُوْا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھَٰذَا ھُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِاءْتِنَا بَعَذَابٍ اَلِیْمٍ وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ )[ الانفال : 32۔ 33] ” اور جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ اور نہیں اللہ ہے کہ انہیں عذاب دے کہ آپ ان میں ہیں اور اللہ انہیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔ “ مسائل 1۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں ایک پل کی مانند ہے۔ 2۔ قیامت کے دن لوگ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ 3۔ قیامت کو جھٹلانے والے ناکام ہوں گے۔ 4۔ آخرت کا انکار کرنے والے ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال پر گواہ ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ رسول بھیجنے کے بعد عدل و انصاف کا فیصلہ فرماتا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 8۔ کفار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مطالبہ کیا کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن جہنمی قیامت کے دن ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچان لیں گے : 1۔ اس دن اللہ تعالیٰ انہیں جمع کرے گا اور وہ تصور کریں گے گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی ہی ٹھہرے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ (یونس : 45) 2۔ جب سارے جہنم میں جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی نسبت کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ (الاعراف : 38) 3۔ تم پر اللہ کی مار تمہاری وجہ سے اس مصیبت کا ہمیں سامنا کرنا پڑا ہے۔ (ص : 60) 4۔ اے کاش آپ ان ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیں گے۔ (سبا : 31) 5۔ جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ یقیناً ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاسکتے ہو۔ “ (المومن : 47) 6۔ مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔ (الرحمٰن : 41) 7۔ ظالموں اور ان کے ہم جنسوں اور جن کو وہ پوجتے تھے ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم کے راستہ پر چلایا جائے گا۔ (الصٰفٰت : 22 تا 31)
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

” فرما دیجیے میں اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ “ ( 49)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کرنے پر کفار کو اس کا جواب۔ کفار اور مشرکین کا ابتدا ہی سے انبیائے کرام کے ساتھ یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ ان سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا تعلق انبیاء کی نبوت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن منکرین نبوت انبیاء سے اس لیے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیتے تھے تاکہ عوام الناس کو ذہنی طور پر الجھا کر یہ مغالطہ دیا جائے کہ اگر یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو ہمارا مطالبہ پورا کردیتا۔ اگر یہ ہمارا مطالبہ پورا کر دے تو ہم اپنی قوم کے ساتھ مل کر اس کے دست وبازو بن جائیں گے۔ لیکن یہ شخص ہمارا مطالبہ پورا کر نہیں سکتا خوامخواہ نبوت کا دعویٰ کررہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ کفار کے اس پروپیگنڈہ کا مختلف انداز سے جواب دیا گیا جس کا ایک جواب یہ بھی ہے۔ اے رسول ﷺ ! ان سے واشگاف الفاظ میں فرمائیں کہ میں نے کبھی خدا کی خدائی میں حصہ دار ہونے کا دعوی نہیں کیا۔ میرا اعلان تو یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں وہی کچھ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں جس کا مجھے اللہ حکم دیتا ہے۔ خدا کی خدائی کے سامنے میں اس قدر بےبس اور بےاختیار ہوں کہ میں اپنے بارے میں بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ نفع اور نقصان کے بارے میں میرے رب کے فیصلے ہیں جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ جہاں تک تمہارا یہ مطالبہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب لے آوں یہ بھی میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ تمہارے مطالبہ کی وجہ سے اشتعال میں آکر وقت مقرر سے پہلے عذاب نہیں لاتا۔ کیونکہ وہ بندوں پر نہایت مہربان اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر کرنے والا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ اس نے ہر فرد اور قوم کے فیصلے کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ بیشک کوئی فردیا قوم اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دن، رات چیلنج کرے اس کے باوجود مقررہ وقت سے پہلے اس قوم کا فیصلہ نہیں کیا جاتا البتہ جب فیصلے کا وقت آجاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو آگے پیچھے نہیں کرسکتی۔ یہاں واضح الفاظ میں نبی اکرم ﷺ سے کہلوایا گیا ہے۔ کہ آپ خود اعلان فرمائیں کہ میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ لیکن فرقہ پرستی کا برا ہو۔ یہاں بھی ایک مفسر لکھتا ہے کہ آیت کا مقصد کفار کی یا وہ گوئیوں کو ختم کرنا ہے اور یارلوگوں نے اس آیت کی آڑ لے کر حضور رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین ﷺ کے فضائل و کمالات کا انکار شروع کردیا اور ایسی اناپ شناپ باتیں کرنے لگے جن سے دین و دانش دونوں شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ حضور کچھ نہیں دیتے، حضور کچھ نہیں کرسکتے۔ بارگاہ رسالت میں اپنے دکھ، دردوں کی فریاد کرنا شرک ہے وغیرہ۔ رسول اکرم ﷺ کا اعلان : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ دَعَا النَّبِیُّ ﷺ قُرَیْشًا فَاحْبَتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ یَا بَنِیْ کَعْبِ ابْنِ لُؤَیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ مُرَّۃََ ابْنِ کَعْبٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِیَا بَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُم مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ ہَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلَبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ یَا فَاطِمَۃُ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا غَیْرَاَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّہَا بِبِلالِھَا [ رواہمُسْلِمٌ وَ فِی الْمُتَّفَقِ عَلَیْہِ ] قَالَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَ یَا بَنِیْ عَبْدِمَنَافٍ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَا عَبَّاسُ ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَا شِءْتِ مِنْ مَالِیْ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ “ تو آپ ﷺ نے قریش کو دعوت دی وہ جمع ہوگئے۔ آپ نے ان کے خاص و عام سبھی کو دعوت دی ‘ آپ نے فرمایا ‘ اے بنو کعب بن لُوْی ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے بنو مرہ بن کعب ! تم اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ اے بنو عبد شمس ! تم خود کو دوزخ سے بچاؤ اے بنی عبد مناف ‘ بنی ہاشم ‘ بنی عبدالمطلب تم اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے فاطمہ ! تو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا۔ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں۔ اگرچہ تمہارے ساتھ قرابت داری ہے۔ اس رشتہ داری کا احترام رہے گا (مسلم) اور بخاری ‘ مسلم میں ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اے گروہ قریش ! تم اپنے آپ کو آزاد کرلو۔ میں تم سے اللہ کے عذاب سے کچھ دور نہیں کرسکتا اے بنی عبد مناف ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں تم سے اللہ کے عذاب سے کچھ دور نہیں کرسکتا۔ اے فاطمہ بنت محمد ! تو مجھ سے جس قدر چاہے مال کا سوال کرلے لیکن میں اللہ کے ہاں تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ “ آپ ﷺ نے بےبس ہو کر مکہ سے ہجرت کی : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ حَمْرَاء الزُّہْرِیِّ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ وَاقِفًا عَلَی الْحَزْوَرَۃِ فَقَالَ وَاللَّہِ إِنَّکِ لَخَیْرُ أَرْضِ اللَّہِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّہِ إِلَی اللَّہِ وَلَوْلاَ أَنِّی أُخْرِجْتُ مِنْکِ مَا خَرَجْتُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، باب فی فضل مکۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو ٹیلے پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یقیناً تو اللہ تعالیٰ کی بہترین زمین اور محبوب ترین زمین میں سے ہے اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تھے۔ 2۔ آپ اتنا ہی اختیار رکھتے تھے جتنا اللہ نے عطا کیا ہوا تھا۔ 3۔ ہر ایک کا وقت معین ہے۔ 4۔ جب کسی کا وقت آجاتا ہے تو اس میں کمی و بیشی نہیں کی جاتی۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے : 2۔ آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ (یونس : 49) 3۔ آپ ﷺ فرما دیں کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ (الجن : 21) 4۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ (الاعراف : 188) 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی بیویوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ (التحریم : 10) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا مجھے اللہ کے سامنے کسی قسم کا اختیار نہیں ہے۔ (الممتحنۃ : 4) 7۔ کہہ دیجئے اگر اللہ عیسیٰ بن مریم اور اس کی والدہ کو ہلاک کرنا چاہے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ (المائدۃ : 17) 8۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں اپنے لیے بھلائیاں جمع کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ ہوتا۔ (الاعراف : 188)
Ayahs 10:50–53

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

” فرما دیں تم بتلاؤ اگر تم پر اس کا عذاب رات یا دن کو آجائے تو مجرم اس میں سے کون سی چیز جلدی طلب کریں گے۔ “ (50) ”

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ واقع ہوجائے گا تو پھر اس پر ایمان لاؤ گے ؟ کیا اب ! حالانکہ تم اس کو جلدی مانگا کرتے تھے۔ “ (51) ”

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا کہا جائے گا چکھو ہمیشگی کا عذاب، تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر وہی جو تم کماتے رہے۔ “ ( 52) ”

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا یہی حق ہے ؟ تو فرما دیجیے ہاں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! یقیناً یہی حق ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ “ (53)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب دن کے وقت آئے یا رات کی کسی گھڑی میں آئے تو اسے کون ٹال سکتا ہے ؟ ان سے یہ بھی سوال کیجیے کہ مجرمو ! تم کس بات کی جلدی مچاتے ہو۔ مجرمانہ ذہن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اچھی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ اچھائی کی بجائے بری بات اور اس کے انجام کے لیے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر بڑے بڑے مجرم ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کے ملائکہ جواب دیتے ہیں۔ اب تمہارے ایمان لانے کا کیا فائدہ ؟ جب کہ تم اس سے پہلے حقیقت قبول کرنے کی بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس وقت ان کو یہ بھی کہا جاتا ہے اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے کیے کی سزا پاؤ کیونکہ تم واقعی اس عذاب کے مستحق ہو۔ اے رسول ﷺ ! یہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا واقعی ہم عذاب میں گرفتار ہوں گے ؟ ان سے فرمائیے کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب برحق ہے۔ جب تم پر مسلط ہوگا تو تم کسی طرح بھی اسے ٹال نہیں سکو گے۔ کیا تم نے مجرم اقوام کی تاریخ پر غور نہیں کیا کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب صبح یا رات کے وقت آیا تو وہ کس طرح چیخ و پکار کرتے ہوئے معافی مانگ رہے تھے۔ ذرا فرعون اور آل فرعون کے واقعہ پر ہی غور کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں دریا میں ڈبکیاں دیں تو فرعون نے کس طرح دہائی دیتے ہوئے کہا تھا : ( قَالَ آَمَنْتُ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا الَّذِی اٰمَنَتْ بِہِ بَنُوْ إِسْرَاءِیلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ )[ یونس : 90] میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن اس کے ایمان کو مسترد کردیا گیا یہی حالت مجرم قوم کی ہوا کرتی ہے اور اسی کرب میں مجرم موت کے وقت مبتلا ہوتا ہے اس وقت مجرم دل ہی دل میں ایمان کا اظہار کرتا ہے مگر موت کے فرشتے اسے جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تمہیں ہمیشہ عذاب میں رہنا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب قبول توبۃ العبد مالم یغرغر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی سانس اٹکنے سے پہلے پہلے توبہ قبول فرماتا ہے۔ “ موت کے وقت مجرموں کے ساتھ ملائکہ کا سلوک : (وَلَوْتَرَی إِذِ الظَّالِمُوْنَ فِی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَاءِکَۃُ بَاسِطُو أَیْدِیْہِمْ أَخْرِجُوْا أَنْفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُولُوْنَ عَلَی اللَّہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰ یَا تِہِ تَسْتَکْبِرُوْنَ )[ الانعام : 93] ” موت کے وقت ملائکہ کی جھڑکیاں جب مجرم موت کی بیہوشیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں رسوا کن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ کیونکہ تم اللہ پر ناحق باتیں بناتے ہو اور اس کی آیات سے تکبر کرتے ہو۔ “ (وَلَوْتَرٰٓی إِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الْمَلَاءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوہَہُمْ وَأَدْبَارَہُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ )[ الانفال : 50] ” اور کاش آپ اس حالت کو دیکھتے جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ “ مسائل 1۔ کچھ لوگ اللہ کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ 2۔ مجرموں کو اللہ کے عذاب کا مزا چکھنا پڑے گا۔ 3۔ انسان کو اسی کا بدلہ ملے گا جو وہ کرے گا۔ 4۔ نبی اکرم ﷺ سے کفار عذاب کے برحق ہونے کے متعلق پوچھتے تھے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی بھی ٹال نہیں سکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی پکڑ آجائے تو مجرموں کو کوئی نہیں بچا سکتا : 1۔ اللہ کا عذاب برحق ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : 53) 2۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : 27) 3۔ آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ (ہود : 43) 4۔ اس دن وہ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے اللہ کی پکڑ سے انہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (المومن : 33) 5۔ اگر اللہ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس سے بچا سکے۔ (الاحزاب : 17) 6۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 7۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : 18)
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

” اور اگر یقیناً ہر شخص کے لیے جس نے ظلم کیا ہے، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اسے ضرور فدیے میں دے دے گا اور وہ پریشانی کو چھپائیں گے جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ “ ( 54)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ، مجرم دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ سورۃ المنافقون آیت 10۔ 11 میں بیان ہوا ہے۔ کہ جو لوگ مال اور اولاد کو دین سے مقدم جانتے ہیں جب ان پر موت وارد ہوتی ہے تو وہ اس حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش ہمیں کچھ مہلت مل جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ اور نیکی کرکے صالحین میں شمار ہوجائیں۔ لیکن موت کا وقت آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاتی۔ یہی خواہش مجرم کی قیامت کے دن ہوگی وہ اپنی ندامت چھپاتے ہوئے اس بات کی خواہش کرے گا کہ کاش مجھ سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ یہ پہلی دفعہ عذاب کو دیکھتے وقت مجرم کی ابتدائی کیفیت ہوگی۔ جوں ہی وہ عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اس کی ندامت اور ذلت چیخ و پکار میں بدل جائے گی۔ ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے واویلا کرے گا کہ ہائے افسوس میں رسول کا راستہ اختیار کرتا اور فلاں، فلاں کو اپنادوست اور خیر خواہ نہ سمجھتا۔ اس کے بعد اس کی حالت زار ایسی ہوگی کہ وہ خواہش کرے گا کہ کاش میری بیوی بچوں کو میری جگہ پکڑ لیا جائے کبھی کہے گا کہ میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاؤں مگر وہ ہمیشہ اذیت ناک عذاب میں مبتلا رہے گا۔ قیامت کے دن مجرموں کی خواہش : (یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِءِذٍم بِبَنِیَْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُءْوِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ )[ المعارج : 11 تا 14] ” مجرم چاہے گا کہ عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں، بیوی، بھائی اور کنبہ جس میں رہتا تھا اور تمام زمین فدیہ دے دے تاکہ اسے عذاب سے بچا لیا جائے۔ “ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیْہِ وَأُمِّہِ وَأَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِیْہِ )[ عبس : 34 تا 36] ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور اولاد سے بھاگے گا۔ “ (اَلاَّ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَاُ خْرٰی)[ النجم : 38] ” کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ “ مجرم کی آخری خواہش : (یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) [ النباء : 40] ” کاش میں مٹی ہوجاتا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن مجرم عذاب سے بچنے کے لیے پوری دنیا کا مال فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہوگا۔ 2۔ قیامت کے روز مجرم اپنی پشیمانی چھپانے کی کوشش کریں گے۔ 3۔ قیامت کے روز انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔ 4۔ قیامت کے روز کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی عدالت کے اصول : 1۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (یونس : 54) 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (الزمر : 69) 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پورا پورا اجر دے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 281) 4۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ : 48) 5۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں خریدو فروخت، دوستی اور کسی کی سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254) 6۔ اس دن عدل و انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا اور کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : 47)
Ayahs 10:55–56

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

” سن لو ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ خبردار بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (55) ”

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ (56)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ لوگوسنو ! دنیا میں بھی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور قیامت کے دن بھی وہی مالک و مختار ہوگا۔ کان کھول کر سن لو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی اور حق ہے۔ یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ لیکن اکثر لوگ اس کا ادراک نہیں کرتے وہی موت وحیات کا مالک ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کے مرکزی مضامین تین ہیں۔ 1۔ ایمان باللہ۔ 2۔ ایمان با لرسا لۃ۔ 3۔ ایمان بالآخرۃ۔ ایمان کے تینوں عناصر اس طرح لازم ملزوم اور باہم مربوط ہیں کہ ان میں کسی ایک کا انکار کرنا گویا کہ تینوں کا انکار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے جس طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کا صحیح اور پورا پورا صلہ قیامت کے بغیر مل نہیں سکتا۔ اسی طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسا لۃ کا منکر قیامت کے برپا ہوئے بغیر ٹھیک ٹھیک سزا نہیں پاسکتا۔ اس لیے ایمان بالآخرۃ لازم ہی نہیں بلکہ عین عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ اے لوگو ! قیامت برپا کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ جو ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا اور اللہ ہی موت وحیات کا مالک ہے۔ بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ شخص جو آخرت پر ایمان لائے اور اس کے لیے تیاری کرے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللَّہُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أَیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّی لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِی ثُمَّ اسْحَقُونِی ثُمَّ ذَرُّونِی فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا، فَجَمَعَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہِ )[ رواہ البخاری : باب حدثنا ابو الیمان ] ” حضرت ابو سعید نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی گزرا ہے جسے اللہ نے مال کی فراوانی عطا کی تھی اس نے موت کے وقت اپنے بیٹوں کو کہا میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا جب میں مرجاؤں مجھے جلا کر میری راکھ بنا دینا، پھر اسے ہواؤں میں اڑا دینا، انہوں نے ایسا ہی کیا اللہ عزوجل نے اسے زندہکیا، فرمایا تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا ؟ کہنے لگا آپ کے ڈر نے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت کی لپیٹ میں لے لیا۔ “ (عن سَہْلِ بن سَعْدٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی أَرْضٍ بَیْضَاءَ عَفْرَاءَ کَقُرْصَۃِ نَقِیٍّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب یقبض اللہ الأرض ] ” حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے، قیامت کے دن لوگوں کو سفید چٹیل میدان میں جمع کیا جائے گا زمین صاف ٹکیہ کی مانند ہوگی۔ “ منکرین قیامت کو چیلنج : (قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیْدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُوْرِکُمْ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُعِیْدُنَا قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُوْنَ إِلَیْکَ رُءُ وْ سَہُمْ وَیَقُوْلُْوْنَ مَتَی ہُوَ قُلْ عَسٰی أَنْ یَّکُوْنَ قَرِیبًا۔ )[ بنی اسرائیل : 50، 51] ” کہہ دیجیے کہ تم پتھر، لوہا یا کوئی اور چیز ہوجاؤ جو تمہارے نزدیک بڑی ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ کون اٹھائے گا کہہ دیجیے جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تو تمہارے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دیجیے امید ہے کہ وہ جلد ہوگا۔ “ مسائل 1۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اللہ کی ملکیت ہے۔ 2۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔ 3۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ 4۔ اللہ ہی کی طرف سب نے لوٹنا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت برپا ہو کر رہے گی : 1۔ سب نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ (یونس : 56) 2۔ قیامت کے دن ہر کسی کو پورا پورا صلہ دیا جائے گا۔ (آل عمران : 185) 3۔ اس دن سے ڈر جاؤ جس دن تم اللہ کے ہاں لوٹائے جاؤ گے۔ (البقرہ : 281) 4۔ قیامت آنکھ جھپکنے کی طرح آجائے گی۔ (النحل : 77)
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

” اے لوگو ! یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آگئی اور جو سینوں میں ہے اس کے لیے سراسر شفا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت آئی ہے۔ “ (57)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی صورت میں لوگوں کے پاس نصیحت پہنچ چکی ہے۔ جسے روحانی بیماریوں کے لیے شفاء اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے بیشمار اوصاف اور خصائص ہیں مگر یہاں چار اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں۔ مَوْعِظَۃٌ: موعظت اس بات اور نصیحت کو کہتے ہیں جسے سن کر انسان حقیقت کی طرف متوجہ ہو اور اس پر غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں دل پر اثر انداز ہونے والی بات کو موعظۃ کہا جاتا ہے۔ جو اللہ کے کلام سے بڑھ کر کسی کی بات میں نہیں ہوسکتی۔ چناچہ قرآن کے الفاظ کی تلاوت کی جائے یا اسے سمجھ کر پڑھا جائے۔ 1۔ قرآن مجید کی تلاوت دل کے لیے رحمت، سکون اور اطمینان کا باعث ہے۔ انسان جس قدر پریشان اور غم کی حالت میں ہو۔ اگر وہ توجہ اور ذرا اونچی آواز کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرے تو قرآن مجید آدمی کے غموں کا مداوابن جاتا ہے۔ 2۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا گیا ہے۔ اس کی تاثیر سب سے پہلے دل پر اثر انداز ہوتی ہے جو دل کے لیے رحمت اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ 3۔ قرآن مجید جس گھر میں تلاوت کیا جائے اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ملائکہ اترتے ہیں۔ اس گھر میں شیطانی اثرات کا خاتمہ ہونے کے ساتھ خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے۔ 4۔ جس قوم میں اس کا نفاذ ہوگا۔ وہ قوم جنگ وجدال، حسد و بغض اور باہمی خلفشار سے محفوظ رہے گی۔ اس کے نفاذ سے بھائی چارہ اور مسلمانوں کی معیشت میں برکت پیدا ہوگی اور ملک خوشحال ہوگا۔ (عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ ........... کِتَاب اللّٰہِ فِیْہِ بِہٖ الْھُدٰی وَالنُّوْرُ مَنِ السْتَمْسَکَ بِہٖ وَاَخذَبِہٖ کَانَ عَلَی الْھُدٰی وَمَنْ اَخْطَاَہُ ضَلَّ وَفِیْ رِوَایَۃٍ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ مَنِ التَّبْعَہٗ کَانَ عَلَی الْھُدیٰ وَمَنْ تَرَکَہٗ کَانَ عَلٰی ضَلاَلَۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الفضائل، باب من فضائل علی ابن ابی طالب ] ” حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ............. اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ جس نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا وہ ہدایت پا گیا اور جس نے اس سے غفلت کی وہ گمراہ ہوگیا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : یہ اللہ تعالیٰ کی رسی ہے جس نے اس کی پیروی کی وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوجائے گا۔ “ انقلابی کتاب : (عَنْ عُمَرَابْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ ےَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّےَضَعُ بِہٖ اٰخَرِےْنَ ) [ رواہ مسلم : باب فضل من یقوم بالقرآن ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں نبی محترم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی بدولت کچھ کو عزت دے گا اور کچھ لوگوں کو ذلیل کرے گا۔ “ (لَوْ أَنْزَلْنَا ہَذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا للنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ )[ الحشر : 21] ” اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دباجا رہا ہے اور پھٹا جاتا ہے اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں۔ “ مسائل 1۔ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے۔ 2۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 3۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ 4۔ اللہ ہی کی طرف تمام لوگوں نے لوٹنا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ (یونس : 57) 2۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : 1) 3۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت، رحمت اور نصیحت ہے۔ (البقرۃ : 185) 4۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 5۔ قرآن مجید مومنوں کے دلوں کے لیے شفا ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 6۔ قرآن مجید لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے کا ذریعہ ہے۔ (ابراہیم : 1)
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

” فرما دیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ، چاہیے کہ وہ خوش ہوجائیں۔ یہ اس سے بہتر ہے وہ جو جمع کرتے ہیں۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں قرآن مجید کو موعظت اور شفاء قرار دیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر مومنوں کو خوش اور مطمئن ہونا چاہیے۔ قرآن مجید دنیا میں واحد کتاب ہے جسے جتنی بار تلاوت کیا جائے اتنی ہی اس کی تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے نزول مسعود سے لے کر ہر دور میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ صرف اس کی تلاوت سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لے آئے اور ان کی زندگی کی کایا پلٹ گئی۔ قرآن مجید کے سب سے بڑے دشمن اہل مکہ تھے ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ جو لوگ آخر دم تک حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے وہ بھی قرآن مجید کی تاثیر کا برملا اقرار کرتے تھے۔ اسی بنا پر نبی اکرم ﷺ کو جادوگر کہتے تھے حضرت عمر فاروق ؓ کا واقعہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی بہن سے براہ راست سورة طٰہٰ کی ابتدائی آیات سنیں تو قرآن کی تاثیر کی تاب نہ لاتے ہوئے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ایک مرتبہ مکہ والوں نے ولید کو اپنا نمائندہ بنا کر نبی معظم ﷺ کی خدمت میں بھیجا گفتگو کے دوران نبی اکرم ﷺ نے سورة حٰم سجدہ کی چند آیات پڑھ کر سنائیں ولید کی حالت یہ ہوئی کہ وہ بےساختہ کہنے لگا کہ اتنا موثر کلام کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ جب اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے اس کا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ یہ نبی کی گفتگو سے بےحد متاثر ہوچکا ہے۔ قرآن مجید کی تاثیر کا عالم یہ کہ مخارج اور صفات کا لحاظ رکھ کر اس کی تلاوت کی جائے یا سادہ اور عجمی لہجے میں پڑھا جائے۔ یہ دل پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کے نازل کرنے والے رب کا فرمان ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت سے دل نرم ہوتے ہیں اور ایماندار کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے ساتھ وعظ و خطاب کا تعلق ہے۔ اگر وعظ کرنے میں تھوڑا سا بھی اخلاص ہو تو سننے والا اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جس کی واضح مثال پورے عالم اسلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی 56 حکومتوں میں سے سعودی عرب کو چھوڑ کر کون سا ملک ہے جس ملک میں دین کی سرپرستی کی جارہی ہو یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ صرف خطیبوں کے وعظ کی وجہ سے کروڑوں مسلمان دین پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انشاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ قرآن مجید کی دعوت قبول کرتے رہیں گے۔ قرآن مجید کا دوسراوصف یہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ دل کی بیماریوں میں کفرو شرک اور نفاق سب سے بری بیماریاں ہیں جوں ہی توجہ کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ یہ کفرو شرک کی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ بشرطیکہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق پرہیز بھی کیا جائے۔ کیونکہ علاج کے ساتھ پرہیز لازم ہے۔ قرآن مجید نے ابتداء ہی میں (ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ ) کہہ کر پرہیز لازم قرار دیا ہے۔ قرآن مجید ہدایت اور خزانہ ہے : قرآن مجید صرف فرد کی نہیں بلکہ قوموں کی ہدایت اور راہنمائی کا مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے اسے زندگی کا آئینہ بنایا وہ دینی اخلاقی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے ہدایت پاجائے گا۔ قرآن مجید ایسا خزانہ ہے۔ جس کا موازنہ دنیا کی دولت اور کسی نعمت سے نہیں کیا جاسکتا۔ مسائل 1۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت ہے۔ 2۔ قرآن مجید روحانی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ 3۔ قرآن کریم باعث ہدایت ہے۔ 4۔ قرآن مجید باعث رحمت ہے۔ 5۔ اللہ کا فضل و رحمت دنیا کے مال و منال سے بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے فضائل کی جھلکیاں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو کچھ نازل کیا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 2۔ قرآن مجید کو اللہ نے ہی نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر : 9) 3۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل کوئی چیز نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88) 4۔ یہ کتاب مبین ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ (البقرۃ : 2) 5۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : 1) 6۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : 57)
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

” فرما دیجیے کیا تم نے دیکھا جو رزق اللہ نے تمہارے لیے نازل کیا، پھر تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال بنا لیا۔ پوچھیں کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ “ (59) ”

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا گمان ہے ان لوگوں کو جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے بارے میں ؟ یقیناً اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید دنیا کی دولت سے بےبہا گنا بہتر ہے۔ لیکن دنیا دار لوگ اس کے مقابلہ میں دنیا کے مال کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ اللہ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلینے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے کبھی غور کیا کہ انہیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حرام و حلال کو تبدیل کریں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی اجازت دی ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس کی سزا پر کبھی غور کیا ہے کہ قیامت کے دن ان پر کیا گزرے گی۔ منکرین اسلام سے جب یہ بات پوچھی جائے تو وہ اپنی حرام خوری، بےحیائی اور کفرو شرک کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں جس بناء پر انہیں بین السطور وارننگ دی گئی ہے کہ دنیا میں تم حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر مزے اڑا رہے ہو۔ لیکن قیامت کے دن تمہیں اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بےحدو حساب فضل و کرم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ حلال و حرام کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا شاید اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں حرام قرار دی ہیں اس میں بھی اس کا فضل کار فرما ہے۔ حرام و حلال کی فہرست پر انسان غور کرے تو وہ بےساختہ پکار اٹھے گا کہ واقعی جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا وہ نہ صرف جسمانی اعتبار سے نقصان دہ ہیں بلکہ روحانی حوالے سے بھی انتہا درجے کی مضر ہیں۔ درندوں کا گوشت اسی لیے کھانے سے منع کیا گیا کہ ان میں شفقت اور مہربانی کا جذبہ کم ہوتا ہے اگر ان کا گوشت کھانے کی اجازت ہوتی تو انسانوں میں درندگی کے آثار بڑھ جاتے۔ خنزیر کا گوشت اس لیے حرام قراردیا یہ پرلے درجے کا بےغیرت جانور ہے۔ جانوروں میں کوئی ایسا جانور نہیں، جو اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ جفتی کرنے کے لیے تیار ہو۔ لیکن خنزیر اپنے جنم دینے والی مادہ کے ساتھ بھی جفتی کرلیتا ہے۔ جہاں تک غیر اللہ کے نام دی ہوئی چیز کھانے کا معاملہ ہے اس کا تعلق روحانی اور ایمانی غیرت کے ساتھ ہے جس کے کھانے کی توقع توحید کی غیرت رکھنے والے شخص سے نہیں کی جاتی۔ یہاں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فضل کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس فرمان کی دوسری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ اگر دنیا میں حلال و حرام کے بارے میں اللہ کی حدود توڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ نہیں پکڑتا جو اللہ کا عظیم فضل ہے۔ اس میں اس کی حکمت یہ ہے کہ شاید لوگ توبہ کرلیں تیسری وجہ بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بیشمار چیزیں حلال فرمائی ہیں مگر ان کے مقابلے میں حرام چیزوں کی فہرست بالکل مختصر رکھی ہے۔ ہر چیز کا مالک اور عطا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ مگر مشرک اسے کسی اور کی عطا سمجھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بر خلاف کسی مزار یا بت وغیرہ کے نام پر دیتا ہے۔ ایسی چیز کو توحید کی غیرت رکھنے والا شخص کس طرح کھا یا استعمال کرسکتا ہے۔ اسی غیرت کے پیش نظر غیر اللہ کے نام پر وقف کی ہوئی چیز کو کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ مسائل 1۔ کچھ لوگ اپنی مرضی سے حلال و حرام بنا لیتے ہیں۔ جو اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والے قیامت کے دن عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر اپنا فضل کرم نازل فرماتا ہے۔ 4۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں کا انجام : 1۔ ان لوگوں کا قیامت کے بارے میں کیا حال ہوگیا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ (یونس : 60) 2۔ بیشک وہ لوگ جو اللہ پر افترا بازی کرتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔ (النحل : 116) 3۔ اس شخص سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (ہود : 18) 4۔ اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (العنکبوت : 68)
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

” اور نہیں ہوتے آپ کسی حالت میں اور نہ اس کی طرف سے آنے والے قرآن میں سے کچھ تلاوت کرتے ہیں اور نہ تم کوئی عمل کرتے ہو مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں، جب تم اس میں شروع ہوتے ہو اور تیرے رب سے کوئی ذرہ بھر چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر واضح کتاب میں موجود ہے۔ “ (61)

فہم القرآن ربط کلام : منکرین اور مشرکین کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی اور عقیدہ توحید کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کو ایذا دینے پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے منکرین حق کو انتباہ کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ڈھارس بندھانے منکرین اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے ساتھ آپ کی محنت اور مشن کو خراج تحسین سے نوازا جارہا ہے۔ کہ اے رسول ﷺ ! آپ کا رات کو اٹھ اٹھ کر قرآن پڑھنا۔ دن کو اس کی تبلیغ کرنا اور اس کے رد عمل میں آپ کا غم زدہ ہونا ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ آپ کے شب وروز کا ایک ایک لمحہ ہمارے سامنے ہے۔ سورۃ الشعراء میں نبی کریم ﷺ کو بڑے دلر با انداز میں اطمینان دلایا گیا ہے (الَّذِی یَرَاک حینَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِینَ ۔ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) [ الشعراء : 218 تا 220] ” آپ ہر حال میں ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ رات کی تاریکیوں میں اپنے رب کے حضور قیام کرتے اور سر بسجود ہوتے ہیں تو اس وقت بھی آپ کا رب آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ “ جب آپ اس کی جناب میں آہ زاریاں کرتے ہیں تو وہ سن رہا ہوتا ہے۔ اے نبی آپ کا رب آپ کو ہی نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کو بھی دیکھ رہا ہے کہ وہ اس کی توحید کی دشمنی میں آکر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کیا کہ اے لوگو ! تم جیسے بھی عمل کرتے ہو یاد رکھو ! ہم سے تمہارا کوئی عمل اور حرکت و سکوت پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے بعد پھر واحد مخاطب کی ضمیر لا کر رسول محترم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ کے رب سے زمین و آسمانوں کا کوئی ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں بیشک کوئی چیزذرہ سے چھوٹی ہو یا بڑی اللہ تعالیٰ کے احاطہ نظر سے باہر نہیں ہے اس نے ہر چیز کی ابتدا، اور انتہا واضح طور پر لوح محفوظ میں عیاں کر رکھی ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی حالت پر گواہ ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 3۔ ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں درج ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا اور اس پر نگران ہے : 1۔ تم جو بھی عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : 61) 2۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : 79) 3۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 17) 4۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 32) 5۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 39) 6۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : 34) 7۔ فرشتوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے اور تو جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرۃ : 32) 8۔ اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو وہ تو سینے کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے۔ (ہود : 5)