Ayahs 10:19–20فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی وحدت بیان فرما کر ثابت کیا گیا ہے کہ شرک سے پہلے لوگ توحید پر قائم تھے اور توحید ہی لوگوں کے درمیان اتحاد کے ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرتاً توحید پر پیدا فرمایا ہے۔ یہ فطرت کی آواز اور اس کا تقاضا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر اس کی پشت سے اس کی تمام اولاد کو پیدا کیا اور ان سے۔ ( اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تمام بنی آدم نے توحید کا اقرار اور اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں فرمایا اس پر گواہ رہنا۔ قیامت کو یہ نہ کہنے پاؤ کہ ہمیں تو اس عہد کا علم ہی نہیں ہم تو اس لیے شرک کرتے رہے کہ ہمارے آباؤ اجداد شرک کرتے تھے۔ (الاعراف : 73۔ 74)
اسی عہد کی ترجمانی کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت اسلام یعنی عقیدہ توحید پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اسے جیسا ماحول ملتا ہے ویسا ہوجاتا ہے۔ یہی ارشاد اس آیت مبارکہ میں پایا جارہا ہے کہ لوگ پہلے ایک ہی امت تھے۔ انھوں نے بعد میں توحید کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ نہ ہوتا کہ لوگوں کو کفرو شرک، توحید اور ایمان میں سے کسی ایک کو اختیار کا حق دیا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰکفر و شرک، سرکشی اور بغاوت کرنے والوں کو موقع پر ہی تہس نہس کردیتا۔ فوری طور پر نہ پکڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا دارالعمل ہے، دارالجزاء نہیں اس اصول کے پیش نظر لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے شاید وہ توبہ کرلیں۔ حالانکہ خدا کے باغی انبیاء سے پر زور مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر عذاب نازل کیا جائے۔ اسی روش کے تحت مشرکین مکہ بھی نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ ہم پر عذاب نازل کرو۔ یہاں تک کہ انہوں نے کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہا کہ الٰہی ! اگر تیرا نبی سچا ہے تو ہم پر پتھر برسایا ہمیں اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کردے۔ جس کا جواب یہ دیا گیا کہ تم اسی لائق ہو مگر اللہ تعالیٰ تمہیں اس لیے عذاب نہیں کر رہا کہ اس کا رسول اور مسلمان تم میں موجود ہیں جو توبہ استغفار کرتے رہتے ہیں۔ (الانفال : 32۔ 33) اس کے جواب میں نبی اکرم ﷺ کو فقط اتنا ہی حکم ہوا کہ آپ فرمائیں یہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ عذاب کب آئے گا۔ پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ ” فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ “ )
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب لاتبدیل لخلق اللّٰہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقت پیدا کرتے ہیں کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ ﷺ نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کا طریقہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور صحیح دین ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أَخَذَ اللَّہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قِبَلاً قَالَ (أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ اٰبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ]) [ رواہ أحمد ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر عہدلیا اس کی صلب سے اس کی اولاد کو نکالا اور اسے اس کے سامنے پھیلا دیا، پھر ان کے سامنے کلام فرمایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ بنی آدم نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن یہ نہ کہنا کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی یا شرک ہمارے آباؤ اجداد نے کیا ہم تو ان کی اولاد تھے کیا تو ہمیں باطل پرستوں کے شرک کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔ “
عقیدہ توحید وحدت کی علامت ہے :
(یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِی تَسَاءَ لُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا)[ النساء : 1]
” اے لوگو ! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمہیں ایک جان سے اور اس سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا اور پھیلائے اس سے مرد کثیر تعداد میں اور عورتیں اور ڈرو اللہ تعالیٰ سے وہ اللہ، مانگتے ہو جس کے واسطے سے اور قطع رحمی سے ڈرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “
(عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی وَسَطِ أَیَّام التَّشْرِیقِ فَقَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَلاَ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ........)[ رواہ احمد ]
” حضرت ابو نضرۃ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے ایام تشریق میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ سنا آپ نے فرمایا اے لوگو ! تمہارا رب اور تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر برتری حاصل نہیں ....“
مسائل
1۔ ابتداءً تمام لوگ عقیدہ توحید اور ایک ہی طریقہ پر تھے۔ 2۔ رسول اکرم ﷺ سے کفار معجزے کا مطالبہ کرتے تھے۔
3۔ غیب کی خبر اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 4۔ نبی بھی اللہ کے فیصلے کا منتظر ہوتا تھا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اگر لوگوں کا معاملہ مقرر شدہ نہ ہو تو ان کا فیصلہ جلد چکادیا جائے۔
تفسیر بالقرآن
کفار کا بار بار معجزات کا مطالبہ کرنا :
1۔ کافر کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی۔ (یونس : 20)
2۔ کفار کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے رب کی طرف سے معجزات کیوں نازل نہیں ہوتے۔ (العنکبوت : 50)
3۔ کفار کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل کی گئی۔ (الانعام : 37)
4۔ کافر قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی معجزہ آیا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ (الانعام : 109)
Ayah 10:21فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ سے کفار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے انہیں آگاہ کیا کہ جس خبط میں تم مبتلا ہو وہ عذاب ہی تو ہے۔
اہل مکہ نبی اکرم ﷺ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اس کا اشارتًا جواب دیا گیا ہے کہ جس قحط سالی میں تم مبتلا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر عذاب نہیں تو کیا ہے ؟ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اہل مکہ کی ایذارسانیوں اور ان کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے رسول محترم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بددعا کی کہ اے رب ذوالجلال ان پر ایسا قحط نازل فرما جس طرح تو نے یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قوم مصر پر نازل کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ نے بددعا مکہ میں رہتے ہوئے کی تھی یا مدینہ جاکر۔ حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ پر یہ عذاب اس وقت مسلط ہوا۔ جب آپ ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے۔ اہل مکہ پر عذاب مسلط ہوا تو وہ اس قدر تنگ ہوئے کہ بڑے بڑے مالدار گھرانے بھی مردار کھانے اور سوکھا چمڑا چبانے پر مجبور ہوئے۔ بالآخر بےبس ہو کر ابو سفیان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ آپ لوگوں کے ساتھ مہربانی اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور ہمارے لیے بارش کی دعا کریں۔ تب آپ نے اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے جس کے نتیجہ میں مکہ اور اس کے گردونواح میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ اور پورا علاقہ سرسبز و شاداب ہوا۔ بدحالی خوشحالی میں تبدیل ہوگئی۔ مگر جوں ہی مکہ والوں کے حالات بدلے تو انہوں نے مزید سازشیں شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے کہنے لگے کہ ہمارے معبود کچھ مدت کے لیے ہم پر ناراض ہوئے تھے اب انہوں نے راضی ہو کر ہماری بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کردیا ہے۔ اس پر انہیں انتباہ کیا جارہا ہے کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو انہیں ہمارے ملائکہ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے مکرو فریب کا جواب دے گا۔ جب مکر کا لفظ لوگوں کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی مکرو فریب اور سازش و شرارت ہوا کرتا ہے۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی منصوبہ یا عذاب ہوتا ہے۔ یہاں مکر سے مراد اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ جس کی دنیا میں کئی شکلیں ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ اور مامون فرمائے۔ آمین
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ کَانَ مِنْ دُعَآءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ (اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِےَتِکَ وَفُجَآءَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِےْعِ سَخَطِکَ )[ رواہ مسلم : باب أَکْثَرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ الْفُقَرَاءُ وَأَکْثَرُ أَہْلِ النَّار النِّسَاءُ وَبَیَانُ الْفِتْنَۃِ بالنِّسَاءِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا ہوا کرتی تھی۔ بارالٰہا ! میں تیری نعمتوں کے زوال ‘ تیری عافیت کے پھرجانے ‘ تیرے اچانک عذاب اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی رحمت سے ہمکنار ہونے کے بعد اکثر انسان کفر و شرک کرتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بہتر تدبیر نہیں کرسکتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہونے والے ملائکہ ہر چیز لکھ رہے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
ہر شخص کا اعمال نامہ اللہ کے ہاں درج ہے :
1۔ بیشک تمہاری چال بازیوں کو ہمارے قاصد لکھ رہے ہیں۔ (یونس : 21)
2۔ ہم ان کی جزا لکھ لیں گے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (الاعراف : 156)
3۔ ہم لکھ لیتے ہیں جو لوگ بولتے ہیں۔ (آل عمران : 181)
4۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے اور ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے گا۔ (مریم : 79)
5۔ ہمارے قاصد ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ (الزخرف : 80)
6۔ کسی کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی بیشک ہم اس کو لکھ لیں گے۔ (الانبیاء : 94)
Ayahs 10:22–23فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور کافر کی فطرت خبیثہ کا ذکر۔
اس سے پہلی آیات میں مسئلہ شفاعت کے حوالے توحید بیان کی گئی۔ درمیان میں کفار کے عذاب کا مطالبہ کرنے پر انہیں ہلکی سی سرزنش کی گئی۔ اب پھر توحید کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ مضمون کا ربط قائم کرنے اور سابقہ دلائل کے استحضار کے لیے ( ھُوَالَّذِیْ ) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ اس اللہ کی ذات اور صفات ماننے کی دعوت دی جارہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ ذراغور کرو اور سوچو ! کہ کتنے تمہارے جیسے انسان ہیں جن کی ٹانگیں ہیں مگر کسی بیماری کی وجہ سے چل نہیں سکتے، وجود ہیں مگر حرکت نہیں کرسکتے، روح ہے مگر زندگی سے بےزار ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ملّاح اور کشتی موجود ہے۔ مگر بھنور میں پھنس چکی ہے۔ ملاح چپو پر چپو چلا رہا ہے لیکن کشتی بھنور سے نکلنے کی بجائے پھنستی چلی جارہی ہے۔ ملّاح مسافروں سے دعا کے لیے کہتا ہے۔ ان کو اپنی موت کا یقین ہوچلا ہے۔ جس وجہ سے شرک کے پردے ہٹ گئے اور دل نے شہادت دی کہ صرف اور صرف ایک رب کو پکارو۔ ہر مسافردل کی اتھاہ گہرائیوں، اور نہایت درماندگی کے ساتھ پکارنے لگا۔ اے زمین و آسمانوں کے مالک تیرا نہ کوئی ساجھی ہے اور نہ کوئی معاون۔ بس تو ہماری فریاد کو مستجاب کرکے ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما۔ آسمان سے آواز آتی ہے۔ جس میں نہ طعنہ ہے اور نہ کوئی جھڑک۔
(اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْٓءَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِطءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِطقَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ )[ النمل : 62]
” کون ہے جو لا چار کی دعا قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔ “
یہاں اسی صورت حال کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اے لوگو جب تم کشتی پر سوار ہوتے ہو، ٹھنڈی اور موافق ہوائیں چلتی ہیں جو کشتی کے تیز چلنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تو تم خوش ہوتے ہو۔ یہاں روح پر ور منظر کا نقشہ پیش کرکے اللہ تعالیٰ اپنی بےپایاں رحمت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بعد یک دم ہوا کا دباؤ بڑھا جس نے بھونچال کی شکل اختیار کرلی خوشگوار فضاء کی جگہ بھنور نے لی اور مسافروں کو جان کے لالے پڑگئے ہر کوئی موت کو اپنے سامنے دیکھنے لگا۔ کشتی کے ملاح اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ ساحل تک پہنچنے کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ تمام مسافر ادھر ادھر کے سہاروں اور باطل معبودوں کو چھوڑ کر اخلاص کے ساتھ صرف ایک اللہ کو پکارنے لگے ہر کسی نے دل ہی دل میں عہد باندھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے بچا لیا تو اس کے شکر گزار بندے بن کر زندگی بھر اسی کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھیں گے۔ یہاں اخلاص سے پہلی مراد عقیدہ توحید کی طرف رجوع ہے جوں ہی کشتی کنارے لگی۔ مشرک اللہ سے کیے ہوئے عہد کو بھول گئے اب کوئی خواجہ خضر کو نجات دہندہ سمجھ رہا ہے اور کسی نے پیر عبدالقادر جیلانی کو دستگیر بنالیا ہے۔ ایسی پکار اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغاوت اور اس کی پرلے درجے کی ناشکری ہے۔ جس کی واضح مثال 1965 ء میں ہندوستان کے ساتھ جنگ میں دیکھی اور سنی گئی۔ سترہ دن کی جنگ میں پاکستان کے مردوزن صرف اور صرف اللہ سے مدد طلب کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہندوستان پر کامیابی اور برتری عنایت فرمائی۔ جوں ہی جنگ ختم ہوئی تو ایک مکتب فکر کے علماء اور عوام نے کہانیاں بنانا شروع کردیں کہ فلاں محاذ پر فلاں بزرگ نے ہندوستان کے بم دپوچ کر شہر کو بچا لیا۔ 1971 ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔ نوے ہزار فوج کئی جرنیلوں سمیت ہندوستان کی غلام بنی۔ شکر گڑھ کا علاقہ ہندوستان کے قبضے میں چلا گیا۔ اس وقت کسی پیر، فقیر نے کیوں مدد نہ کی ؟ عراق پر امریکہ نے مسلسل بمباری کی۔ جس میں پیر عبدالقادر شاہ جیلانی ؓ کے مزار کا ایک حصہ منہدم ہوا۔ نجف میں حضرت علی ؓ کے مرقد کا ایک حصہ بمباری کا نشانہ بنا۔ پوراعراق کئی سال سے اتحادی فوجوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ نہ پیر جیلانی دفاع کرپائے اور نہ حضرت علی ؓ کسی کو بچا سکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی مدد نہیں کرسکتا۔ کاش شرک کرنے والے بھائی اس حقیقت کو سمجھ جائیں۔ جس کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور خدائی کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ لوگو ! اس بغاوت کا تمہیں ہی نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ یاد رکھو یہ دنیا کی زندگی معمولی اور قلیل ہے بالآخر تم نے ہمارے پاس حاضر ہونا ہے ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
عکرمہ بن ابوجہل کا واقعہ :
مفسرین نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے عکرمہ بن ابوجہل کا واقعہ نقل کیا ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ یہ سوچ کر بھاگ نکلا کہ مجھے کسی صورت بھی معافی نہیں مل سکتی۔ جدہ کی بندرگاہ پر پہنچا اور بیڑے میں سوار ہوا۔ لیکن اللہ کی قدرت کہ جوں ہی بیڑے نے ساحل چھوڑا تو وہ اتنے شدید بھنور میں پھنسا کہ ملاح اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب نجات کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ مصیبت کی گھڑی میں ملاح نے مسافروں سے کہا کہ جب کبھی بیڑے کو ایسے طوفان کا واسطہ پڑتا ہے تو کسی اور کی بجائے صرف ایک اللہ کو پکارا جاتا ہے۔ اس لیے صرف ایک اللہ کے حضور فریادیں کرو اس کے سوا کوئی بیڑا پار لگانے والا نہیں۔ یہ بات حضرت عکرمہ ؓ کے دل پر اثر کرگئی اور اس نے سوچا کہ یہی تو ہمیں محمد ﷺ دعوت دیتا ہے لہٰذا اگر یہاں سے بچ نکلا تو میں حلقہ اسلام میں داخل ہوجاؤں گا چناچہ حضرت عکرمہ ؓ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے اور باقی زندگی اسلام اور رسول محترم کے ساتھ اخلاص کے ساتھ گزاری اور جنت کے وارث بنے۔ تفصیل کے لیے کسی مستند سیرت النبی ﷺ کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔
(عَنْ اَبِیْ ذَرِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِےْمَا ےَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہُ قَالَ ےَا عِبَادِیْ اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَےْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ ضَآلٌّ اِلَّا مَنْ ھَدَےْتُہُ ۔۔ ےَا عِبَادِیْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ مَّا زَادَ ذَالِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَےْءًا ےَا عِبَادِیْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ مَّا نَقَصَ ذَالِکَ مِنْ مُّلْکِیْ شَےْءًا)[ رواہ مسلم : باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے بندو ! میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا اور تمہارے درمیان بھی ظلم ناجائز قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جنّ وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جنّ وانس سب سے بدترین فاسق وفاجر انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتے۔ “
مسائل
1۔ اللہ ہی خشکی اور تری میں نجات دینے والا ہے۔ 2۔ مصیبت کے وقت مشرکین بھی اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔
3۔ مشکل دور ہوتے ہی مشرک اللہ کو بھول جاتے تھے۔ 4۔ کسی شخص کی سرکشی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
7۔ دنیاکا سازو سامان چند روزہ ہے 8۔ ہر ایک نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
9۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں اخلاص کے ساتھ پکارنا چاہیے :
1۔ مشرک جب کسی مشکل میں گھر جاتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ ( یونس : 22)
2۔ لوگو اللہ کی خالص عبادت کرو۔ (الزمر : 3)
3۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کیخالص عبادت کروں۔ (الزمر : 11)
4۔ جب مشرکین کشتی پر سوار ہوتے ہیں خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
5۔ مومنو ! اللہ کو اخلاص کے ساتھ پکارو اگرچہ کفار کے لیے یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ (المومن : 14)
6۔ اللہ ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں صرف اسی کو پکارو (المومن : 65)
Ayah 10:24فہم القرآن
ربط کلام : پہلے بیان ہوا ہے کہ انسان جتنا چاہے باغی اور سرکش بن جائے بالآخر اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہ بات مزید واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے کہ جس دنیا پر تم اتراتے ہو یہ بالکل عارضی اور ناپائیدار ہے۔
قرآن مجید انسان کو دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے۔ کہ اے انسان دنیا کی ہر چیز اور خود تیرا وجود اور قیام عارضی ہے۔ جس دنیا کی خاطر تو اپنے رب کو بھلاتا اور آخرت کا انکار کرتا ہے۔ اس دنیا کی مثال تو اس طرح ہے جس طرح موسم برسات کے بعد ہر جگہ ہریالی آجاتی ہے۔ اس سے انسان اور حیوان فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہر سو سبزہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے والے کو یہ منظر بڑا سہانا اور دلربا لگتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے فائدہ پہنچے گا اور ہم خوشحال ہوجائیں گے اچانک اللہ تعالیٰ کی آئی ہوئی موسم کی سختی اسے تباہ کردیتی ہے۔ گویا کہ یہاں کبھی ہریالی اور شادابی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے یہ حقائق اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ غوروفکر کریں۔ یہی انسان کی زندگی کا حال ہے بچپن کی بھول بھلیاں، جوانی کی بہاریں، ادھیڑ پن کے مسائل اور بڑھاپے کی خزاؤں سے انسان کی زندگی عبارت ہے بالآخر انسان سپرد خاک ہوجاتا ہے۔ یہ مثال دے کر دنیا دار کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دنیا پر تو فریفتہ ہو رہا ہے۔ اس کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جن اعمال اور اشغال کو خوش ہو کر کیے جا رہا ہے یہ تیری بربادی کا سامان ہے۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے اس حقیقت پر غور کیا اور اپنے آپ کو دنیا کی رعنائی اور دل فریبیوں سے بچائے رکھا۔ یہی سلامتی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسی سلامتی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ جب بندہ اپنی عاقبت کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کے راستے پر گامزن کردیتا ہے۔ ایسے خوش نصیب کے لیے دنیا میں سلامتی اور آخرت میں جنت ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ دارالسلام جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
مسائل
1۔ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے اگنے والی انگوری کی طرح ہے۔
2۔ جس طرح گھاس، پھونس اور کھیتی باڑی کی ایک مدت ہے اسی طرح دنیا کی زندگی کی مدت ہے۔
3۔ کھیتی پر کسی کو اختیار نہیں اسی طرح زندگی پر کسی کو اختیار نہیں۔
4۔ غوروفکر کرنے والوں کے لیے ان مثالوں میں عبرت کی نشانیاں ہیں۔
تفسیر بالقرآن
یہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے :
1۔ جب اللہ کا حکم کسی چیز پر آجاتا ہے تو اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ (یونس : 24)
2۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ (الرحمن : 26)
3۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ (القصص : 88)
4۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (الانبیاء : 35)
Ayahs 10:25–26فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی ناپائیداری اور بےثباتی پر غور کرنے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے اور نکلنا چاہیے کہ انسان عارضی اور ناپائیدار چیزوں پر دل لگانے کی بجائے دائمی اور مستقل چیز کی طرف توجہ کرے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور سلامتی کا گھر ہے۔
خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے دنیا کی رعنائی اور دلفریبیوں سے اپنے آپ کو بچاکر صراط مستقیم پر گامزن رکھا جو سلامتی کا راستہ اور گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسی سلامتی کی دعوت دیتا ہے جب بندہ اپنی عاقبت کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کے راستے پر گامزن کردیتا ہے ایسے خوش نصیب کے لیے دنیا میں سلامتی اور آخرت میں جنت ہوگی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ دارالسلام جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
دنیا میں اچھے کام کرنے والوں کے لیے بہترین اجر ہوگا بلکہ ان کی نیکیوں سے کئی گنا زیادہ اجر عنایت کیا جائے گا۔ نہ یہ روسیاہ ہوں گے نہ ہی انہیں ذلت اٹھانا پڑے گی یہ لوگ جنتی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بعض اہل علم نے الحسنیٰ سے مراد جنت اور زیادۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار لیا ہے اس کا ثبوت حدیث میں اس طرح پایا جاتا ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اس کی بہاریں لوٹ رہے ہوں گے تو ایک دن اللہ تعالیٰ جنتیوں سے استفسار فرمائیں گے کہ اے میرے بندو ! بتاؤ کہ کسی اور چیز کی ضرورت ہے ؟ جنتی اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کریں گے اے ہمارے رحیم و کریم رب ہم نے وہ کچھ پا لیا ہے جس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اتنے میں نور کے حجاب اٹھ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی زیارت سے مشرف فرمائیں گے۔
(عَنْ صُھَیْبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِذَا دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًااَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْھَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَتُنْجِنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیُرْفَعُ الْحِجَابُ فَیَنْظُرُوْنَ اِلٰی وَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْھِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّھِمْ ثُمَّ تَلَا ” لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃ “ ٌ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربھم سبحانہ و تعالیٰ ]
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کوئی نعمت چاہتے ہو، جو تمہیں عطا کروں ؟ وہ عرض کریں گے، کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا ؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نہیں بچایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، تب پردہ اٹھا دیا جائے گا۔ تمام جنتی رب العزت کے چہرے کا دیدار کریں گے۔ انہیں ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی ‘ جو پر ور دگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلاتا ہے۔
3۔ نیکی کرنے والوں کے لیے بھلائی اور انعام و اکرام ہیں۔ 4۔ نیکی کرنے والے ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
5۔ نیکی کرنے والوں کے چہرے ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن نیک اور بد لوگوں میں فرق :
1۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہ ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26)
2۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامۃ : 22) 4۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : 73)
5۔ مومنوں کے چہرے خوش و خرم ہوں گے (عبس : 38) 6۔ کفار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40)
7۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73) 8۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : 27 )
Ayah 10:27فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کے انجام کے بعد برے لوگوں کا انجام اور ان کی سزا کا بیان۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک کے بعد بد اور جنت کی نعمتوں کے بعد جہنم کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ اچھے اور برے انجام کا تصور بیک وقت سامنے آئے اور قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے کردار کا تجزیہ کرسکے۔ پچھلی آیت میں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کے بدلے جزا دینے کے ساتھ مزید عنایات کا اعلان ہوا ہے۔ یہاں برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا بتلاتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی کہ انہیں فقط اتنی سزا دی جائے گی جس درجے کے انہوں نے گناہ اور جرائم کیے ہوں گے۔ گناہوں کے مطابق ہی ان کے چہرے خوفناک، منحوس اور کالے ہوں گے۔ اتنے کالے جس طرح رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہوتا ہے یہ لوگ اپنے کفرو شرک کی وجہ سے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ )
[ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اگر تیرے لیے ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پردے گا وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی صلب میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا راوی کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہ آیا۔ “
مسائل
1۔ برے لوگوں کو ان کی برائی کے مطابق سزا دی جائے گی۔
2۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت و ندامت ہوگی۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے برے لوگوں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔
4۔ برے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
5۔ برائی کرنے والوں کے چہرے اندھیری رات کی طرح سیاہ ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
برے لوگوں کا موت سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک انجام :
1۔ کاش آپ دیکھیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے وقت ان کے منہ اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ (الانفال : 50)
2۔ اس وقت دیکھیں جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا کر کہیں گے اپنی جان نکالو۔ آج تمہیں رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ ( الانعام : 94)
3۔ جس شخص نے برائی کی اور اس کو اس کی برائیوں نے گھیر لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ (البقرۃ : 81)
4۔ جو شخص برے اعمال کے ساتھ آیا اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ (النمل : 90)
5۔ برے لوگوں کو ان کی برائی کا بدلہ برائی کی مثل ملے گا اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یونس : 27)
7۔ قیامت کے دن مجرموں کا عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ (فاطر : 36)
Ayah 10:28فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کو جہنم دھکیلنے سے پہلے ایک مقام پر ٹھہرا کر یہ سوال کیا جائے گا۔
لوگوں کے درمیان جب عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر ہوجائے گا تو جنتیوں کو جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ وہ شاداں وفرحاں، خراماں خراماں جنت میں داخل ہوں گے اور جگہ جگہ ملائکہ انہیں سلام پیش کریں گے۔ ان کے مقابلے میں جب جہنمیوں کو جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا تو لمحہ لمحہ اور قد م قدم پر ان پر اللہ کی پھٹکار اور ملائکہ کی جھڑکیاں ہوں گی۔ جہنم کے کنارے کھڑا کرکے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ان معبودوں کی عبادت کرتے تھے ؟ جہنم کی ہولناکیاں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دیکھتے ہوئے مشرکین کے معبود واشگاف الفاظ میں انکار کرتے ہوئے مریدوں سے کہیں گے تم ہماری عبادت کب کیا کرتے تھے ؟
جہنمی جن کی عبادت کیا کرتے تھے وہ تین قسم کے معبود ہوں گے۔
انبیاء عظام، اولیاء کرام۔ ، ملائکہ اور نیک جنات یہ سب کے سب مشرکین کی عبادت اور اپنی طرف منسوب شرکیہ اعمال کا انکار کریں گے۔ جب مشرکین اپنی جان بچانے کی خاطر بار بار اصرار کریں گے تو صالح لوگ کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ ہے۔ ہمیں تو کوئی خبر نہیں کہ ہمارے بعد ہماری عبادت کرتے تھے۔
Ayah 10:29اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن معبودان باطل سے سوال کرنا اور ان کا جواب :
(وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللَّہِ فَیَقُوْلُ أَأَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہٰؤُلَاءِ أَمْ ہُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ أَوْلِیَآءَ وَلَکِنْ مَتَّعْتَہُمْ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی نَسُوْا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًا بُوْرًا )[ الفرقان : 17۔ 18]
” اور جس دن اللہ انہیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے اکٹھا کرے گا تو ان سے سوال کرے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا خود ہی وہ راہ راست سے بھٹک گئے تھے وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے لائق نہیں تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو کارساز بناتے تو نے انہیں اور ان کے آباء کو فوائد عطا فرمائے یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے یہ تھے ہی ہلاک ہونے کے قابل۔ “
معبودوں کی دوسری قسم :
دوسرے وہ لوگ ہوں گے جو ولایت کے پردے اور بزرگی کے لبادے میں شرک کی تلقین کرتے تھے یا انہوں نے زندگی میں ایسا انداز اختیار کیا جس سے شرک و بدعت کے دروازے کھلے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے انکار کریں گے۔ لیکن انہیں ان کے مریدوں کے ساتھ جہنم رسید کیا جائے گا۔
تیسرے بےجان معبود جیسے پتھر وغیرہ کے بت انہیں بھی جہنم میں جلایا جائے گا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پتھروں کو نطق کی طاقت دے گا یہ بول کر کہیں گے کہ ہم تو بےحس اور بےجان تھے تم ہماری نہیں بلکہ شیطان کی عبادت کرتے تھے۔ اس طرح ہر شخص اپنے کیے کو جان لے گا۔ ان کا معاملہ ان کے معبودوں کے حوالے ہونے کی بجائے مالک حقیقی کے سپرد ہوگا یعنی اللہ کے سوا کوئی بھی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ جو دنیا میں ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دیتے تھے اور اللہ کے سوا جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے سب کچھ بھول جائیں گے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن اللہ سب کو جمع فرمائے گا۔ 2۔ مشرکوں کو اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا جائے گا۔
3۔ مشرک اور ان کے معبودوں کے درمیان پھوٹ پڑجائے گی۔ 4۔ معبودان اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔
5۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پتہ چل جائے گا۔
6۔ قیامت کے دن ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔
7۔ قیامت کے دن معبودان باطل غائب ہوجائیں گے۔
تفسیر با لقرآن
جہنمیوں کا اپنے معبودوں سے بحث و تکرار :
1۔ قیامت کے دن معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : 28)
2۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے اور معبود انکار کردیں گے۔ (النحل : 86)
3۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودان کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : 63)
4۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166)
5۔ اس دن اللہ مشرکوں سے فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں وہ کہیں گے ہم میں سے کوئی اس کا دعویدار نہیں۔ (حٰم السجدۃ : 47)
6۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائیگا اپنے معبودوں کو پکارو لیکن ان کے معبود ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ (الکھف : 52)
7۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38)
Ayahs 10:30–33فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا لیکن دنیا میں بھی ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس نہ قیامت کو اپنے شرک کا جواب ہوگا اور نہ دنیا میں جواب دے سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مشکل کشا ہونے کے دلائل دیئے تھے۔ جس کا اقرار مشرک صرف سمندری سفر میں بھنور میں پھنسنے کے وقت کرتے تھے۔ یہی مشرک اور مؤاحد کے درمیان فرق ہے۔ مشرک جب اپنے مشکل کشاؤں سے مایوس ہوجاتا ہے تب خالصتاً ایک اللہ کو پکارتا ہے، مؤاحد ہر حال میں ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اب توحید کے وہ دلائل دیے جاتے ہیں۔ جن کا مشرک ہر حال میں اقرار کرتے ہیں۔ چناچہ رسول محترم ﷺ اور ہر مؤاحد کو کہا گیا ہے کہ آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان سے تمہیں کون رزق دینے والا ہے ؟ پھر ان سے پوچھیں کس نے تمہیں سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں عطا فرمائیں ؟ کون ہے جو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے ؟ پھر پوری کائنات کے نظام کو سنبھالنے اور چلانے والا کون ہے ؟ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ صرف اللہ ہی سب کچھ کرنے اور کائنات کا نظام چلانے والا ہے۔ ان سے پوچھیں پھر تم کیوں نہیں اللہ سے ڈر کر شرک و کفر چھوڑتے ؟ لوگو ! یہ ہے تمہارا ” اللہ “ اس کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی کو اللہ کی ذات کے ساتھ کسی اعتبار سے شریک بنانا گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پھر کیوں زیادتی کرتے ہو۔ توحید فطرت کی آواز
ہے۔ اس لیے انسان کو اس کا اقرار کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا مشرک توحید کے ٹھوس اور واضح دلائل کے سامنے خاموش ہوجاتا ہے۔ یہی حالت مکہ کے مشرکین کی تھی جب ان سے اللہ تعالیٰ کے خالق، مالک، رازق اور قادر مطلق ہونے کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ برملا اس کا اقرار اور اظہار کرتے تھے۔
یہاں ان کے اقرار کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مشرکین کا یہ اقرار لاجواب ہونے کی صورت میں ہے۔ ایمان لانے کی نیت سے نہیں کیونکہ مشرک حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا منکر ہوتا ہے۔ اس لیے مشرک کو کافر بھی کہا گیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک اللہ تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتا ہے :
1۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : 31)
2۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : 34)
3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہتے ہیں اللہ ہی ہے۔ (الزمر : 38)
4۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ؟ جواباً کہتے ہیں، اللہ ہی ہے۔ (المومنون : 86۔ 87)
5۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی ہے۔ (المومنون : 88۔ 89)
6۔ یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، فرمائیں پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : 61)
Ayah 10:34فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ توحید کے دلائل اور مشرکین سے سوالات جاری ہیں۔
اب باطل معبودوں کے بارے میں براہ راست پوچھا جارہا ہے کہ تمہارے معبودان باطل میں سے کون ہے جس نے ابتدا میں اس کائنات کو پیدا کیا اور پھر اسے دوبارہ وجود بخشے گا ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں تھا اور ہمیشہ اس کا جواب نفی میں ہی رہے گا۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ بےدھڑک فرمائیں کہ اللہ ہی نے انھیں پہلی مرتبہ بغیر نمونے کے پیدا فرمایا اور وہی دوبارہ انھیں پیدا کرے گا۔ جب اللہ تعالیٰ کو ان کا خالق اور دوبارہ پیدا کرنے والا مانتے ہو تو پھر کہاں بھٹکے پھرتے ہو ؟ جب پیدا کرنے والا اور تمہیں اپنے ہاں لوٹانے والا بھی ایک اللہ ہی ہے۔ پھر تمہارے معبودان باطل کہاں سے آٹپکے اور ان کا کیا اختیار ہے۔ جس بنا پر تم انہیں حاجت روا، مشکل کشا اور داتا و دستگیر کہتے ہو۔ مزید برآں سوال یہ ہے کہ تمہارے معبودوں میں کوئی ہے جو تمہاری حق کی طرف راہنمائی کرسکے۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ پتھر، مٹی اور لکڑی کے بت ہدایت کی راہنمائی نہیں کرسکتے۔ نہ فرشتے اور جنات اور نہ ہی سورج، چاند، ستارے ہدایت کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ جہاں تک انبیاء اور اولیاء کا تعلق ہے۔ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی تو کرسکتے ہیں مگر کسی کو ہدایت پر گامزن نہیں کرسکتے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو ان کا تعلق دنیا سے ٹوٹ گیا۔ اب وہ بھی کسی کی رہنمائی اور مدد نہیں کرسکتے۔ لہٰذا صرف اللہ ہی ہے جو ہدایت کی رہنمائی
Ayahs 10:35–36کرتا ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اب بتاؤ جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اس کی اتباع اور حکم ماننا چاہیے یا جو کسی کی رہنمائی کرنے کی بجائے خود رہنمائی کا محتاج ہو۔ اس کی اتباع کرنی چاہیے۔ ذرا سوچو کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ ظاہر ہے۔ پیروی تو اس کی کرنی چاہیے جو ہدایت کی راہنمائی کرتا ہے اور خود ہدایت والا ہے۔
درحقیقت تم محض فرسودہ خیالات، صرف سنی سنائی باتوں اور اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ لیکن یاد رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔
ظن کا معنی وہم و گمان، اٹکل پچو اور شک کے ہیں۔ البتہ عربی میں کبھی ظن، یقین کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا معنی اٹکل پچو اور وہم و گمان ہے۔
( عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَمِّہِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ لَکَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ ”إِنَّکَ لاَ تَہْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ ۔۔ الآیَۃَ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت کہا لا الہ الا للہ کہہ دو ! میں قیامت کے دن اس بات کی گواہی دوں گا۔ لیکن اس نے انکار کردیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جس کے لیے آپ ہدایت پسند کریں۔ “
مسائل
1۔ معبودان باطل میں سے کوئی بھی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنے اور دوبارہ لوٹانے پر قادر نہیں ہے۔
2۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا وہی اس کو دوبارہ وجود بخشے گا۔
3۔ مشرکین کے شریکوں میں کوئی ایسا نہیں جو حق کی طرف رہنمائی کرسکے۔
4۔ اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
5۔ حق کی طرف رہنمائی کرنے والا ہی پیروی کا حقدار ہوتا ہے۔
6۔ جس کو خود راستے کا علم نہیں وہ دوسرے کو کیا راستہ دکھلائے گا۔
7۔ شرک کا عقیدہ عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
8۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے افعال کو جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کی تخلیق میں کوئی شریک نہیں :
1۔ کیا تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ (یونس : 34)
2۔ یہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق ہے جو تمہارے معبودوں نے پیدا کیا ہے۔ وہ دکھلاؤ۔ (لقمان : 11)
3۔ کیا تم ان کو اللہ کا شریک بناتے ہو جنہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا۔ (الاعراف : 191)
4۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20)
5۔ جن کو تم نے اللہ کے سوا معبود بنالیا ہے انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ (الفرقان : 3)
6۔ کہہ دیجیے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے۔ (الاحقاف : 4)
7۔ کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا ہوگئے یا خود اپنے خالق ہیں۔ (الطور : 35)
8۔ کیا تم ان کے پیدا کرنے والے ہو یا اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے۔ (الواقعۃ : 59)
Ayahs 10:37–38فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مشرکوں کے پاس باطل عقیدہ کی ٹھوس دلیل نہیں صرف سنی سنائی باتوں اور وہم و گمان پر بنیاد ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا انکار اور نبی اکرم ﷺ پر الزام کہ قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ اس کی بنیاد بھی وہم و گمان اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں۔
کفار مکہ اور منکرین اسلام کی ابتدا سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح قرآن کو من گھڑت اور جھوٹا ثابت کیا جائے۔ تاکہ اسلام کی بنیاد منہدم ہو کر رہ جائے، کبھی کہتے کہ یہ نبی کسی عجمی سے سیکھ کر ہمیں بتلاتا ہے۔ کبھی یہ الزام دیتے کہ اپنی طرف سے بنا لیتا ہے۔ اس طرح ان کی سرتوڑ کوشش تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا اور ہے کہ قرآن کے غلط ثابت ہونے سے نبوت کا قصہ خود بخود پاک ہوجائے گا۔ جس طرح منکرین حدیث رسول ﷺ کی حدیث کو بےسند اور غلط ثابت کرنے کے لیے مختلف بہانے اور افسانے تراشتے ہیں۔ تاکہ شریعت کے زیادہ حصہ سے جان چھوٹ جائے بظاہر مسلمان بھی رہیں اور اپنی مرضی بھی چلتی رہے۔ قرآن مجید کو منجانب اللہ ثابت کرنے کے لیے یہاں تین ثبوت دیے گئے ہیں۔
1۔ قرآن مجید توراۃ اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر تمہارے پاس اصلی تورات اور انجیل ہے تو قرآن مجید کے دلائل اور حوالہ جات کا تورات اور انجیل کے ساتھ مقابلہ کرو۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا جو کچھ توراۃ اور انجیل میں ہے وہی قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح قرآن نہ انوکھی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی غلط بیانی کی گئی ہے۔ جب قرآن میں تمہاری کتابوں کی تصدیق پائی جاتی ہے تو اس کی مخالفت اور تکذیب کرنے کا کیا معنی ؟
2۔ قرآن مجید نے مستقبل کے حوالے سے جو پیش گوئیاں کی ہیں اگر ان میں کوئی ایک بھی جھوٹی ثابت ہوئی ہے تو ثبوت پیش کرو۔
3۔ اگر پھر بھی تمہیں قرآن کے من جانب اللہ ہونے کا یقین نہیں آرہا ہے تو جاؤ تم اس جیسی جونسی چاہو، ایک سورة بنا لاؤ اس میں تمہیں یہ بھی رعایت دی جاتی ہے کہ زندہ اور مردہ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور سخن وروں، جنوں، شیطانوں غرضیکہ جس جس سے مدد لے سکتے ہولے لو اور اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔
سورۃ البقرۃ آیت 4 2 میں سمجھایا گیا ہے۔ کہ تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے لہٰذا جہنم کی آگ سے بچو جس میں پتھر اور خدا کی باغی اور قرآن کے منکروں کو جھونکا جائے گا۔
مسائل
1۔ جن وانس مل کر بھی قرآن مجید کی ایک سورة جیسی سورة نہیں لاسکتے۔ 2۔ قرآن کریم پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔
3۔ قرآن مجید کے احکام تفصیلی ہیں۔ 4۔ قرآن کریم لا ریب کتاب ہے۔
5۔ قرآن مجید رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن کے چیلنج :
1۔ اے جن وانس ! تم سب مل کر اس قرآن جیسا قرآن لے آؤ۔ (بنی اسرائیل : 88)
2۔ سارے مل کر دس سورتیں بنالاؤ۔ (ہود : 13)
3۔ ایک سورة اس کی مثل لے آؤ۔ (یونس : 38)
4۔ جن و انس مل کر قیامت تک ایک سورة بھی اس جیسی نہیں بناسکتے۔ (البقرۃ : 23۔ 24)
Ayahs 10:39–40فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مخالفین نبوت کی قرآن مجید کے بارے میں جہالت۔
قرآن مجید کے بارے میں یہ کہنا کہ نبی کا بنایا ہوا ہے۔ حقیقتاً قرآن کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ جھٹلانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت اور کم فہمی کی وجہ سے قرآن مجید کی سچائی اور عظمت کا ادراک نہیں کرسکے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس ہولناک عذاب سے انہیں ڈرایا ہے اس میں یہ لوگ ابھی تک مبتلا نہیں ہوئے۔ حالانکہ تاریخ کا مطالعہ کرتے اور اپنے سے پہلی اقوام کا انجام دیکھتے تو انہیں قرآن کی سچائی اور اس کی عظمت کا علم ہوجاتا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔ اگر ہم نے اس کا انکار کیا تو ہمارے ساتھ بھی وہ کچھ ہوگا جو ہم سے پہلے ظالموں کے ساتھ ہوا ہے۔ بہرحال ان میں کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ لوگ ہرگز نہیں مانیں گے۔ اے رسول ﷺ ! آپ کا رب ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اگر ان کے ظلم کے باوجود ان پر گرفت نہیں کر رہا ہے تو یہ اس کا اصول ہے کہ وہ ایک مدت تک ظالموں کو مہلت دیا کرتا ہے۔ تاکہ انہیں ظلم وتعدی کرنے میں کوئی حسرت نہ رہے۔ دوسری طرف ایمان والوں کو اچھی طرح پرکھ لیا جائے کہ وہ اپنے دعویٰ ایمان میں کس حد تک سچے اور لوگوں کے لیے کس قدر قابل عمل نمونہ ثابت ہوتے ہیں۔
(وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِأَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْا إِثْمًا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُہِیْنٌ)[ آل عمران : 178]
” کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے بلاشبہ ہم انہیں صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ گناہ کرلیں اور ان کے لیے رسو اکن عذاب ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اس بات کو نہیں جھٹلانا چاہیے جس بات کا علم انسان کے احاطہ معلومات سے باہر ہو۔
2۔ اللہ کی کتابوں کی تکذیب پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔
3۔ قرآن مجید کی تکذیب کرنے والوں کو پہلے لوگوں کا انجام سامنے رکھنا چاہیے۔
4۔ کتاب اللہ پر ایمان لانے اور نہ لانے والے دونوں ہی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ مفسدین کو اچھی طرح جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
فساد کرنے والے لوگ اور ان کا انجام :
1۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (یونس : 40)
2۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کی اصلاح نہیں فرماتا۔ (یونس : 81)
3۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (القصص : 77)
4۔ فساد کرنے والوں کا انجام دیکھیے۔ (النمل : 41)
5۔ فساد کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے اور آخرت میں ان کا بد ترین ٹھکانہ ہے۔ (الرعد : 25)
6۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (البقرۃ : 205)
7۔ فساد پھیلانے والوں کو قتل کردیا جائے یا سولی پر لٹکا دیا جائے۔ (المائدۃ : 33)