10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفہم القرآن

Ayahs 10:68–70

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

” انھوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہ بےپروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس کی اولاد بنانے کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کچھ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟ “ (68)

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بڑے ہو کر رسالت کا فریضہ سرانجام دینا، دشمنوں کا آپ کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کرنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر اپنے حواریوں کو مدد کے لیے بلانا، اللہ تعالیٰ کا انہیں صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لینا، قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ بھیجنا اور پھر انہیں موت دینا، ان میں سے ایک ایک بات ان کی عاجزی، بےبسی اور ان کے عاجز بندہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ یہی یہودیوں کا حال ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا۔ جب انہیں سو سال کے بعد زندہ کیا اور پوچھا کہ آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ انہیں خبر نہ تھی کہ میں ایک سو سال مردہ پڑا رہا ہوں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سو سال تک ٹھہرے رہے ہو۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت (259) کی تلاوت کریں۔ جو لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا دامن بھی دلیل سے خالی ہے۔ اس کے باوجود عیسائی اپنی جہالت اور یہودی اپنی ضد ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے اپنی بےعلمی پر اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر فرمایا ہے۔ (اِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِہٰذَا اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللَّہ مَالَا تَعْلَمُوْنَ )[ یونس : 68] ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم اور گناہ ہے : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا إِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ أَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِی للرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا۔ )[ مریم : 88۔ 92] ” اور انہوں نے کہا رحمن کی اولاد ہے۔ یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو جس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ گرپڑیں۔ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ رحمن کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں۔ 4۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 5۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے : 1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68) 2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116) 3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26) 4۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : 91) 5۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : 3) ” فرما دیں بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ “ (69) ” دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس وجہ سے جو وہ کفر کرتے ہیں۔ “ (70) فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز پر اللہ کا اختیار اور اقتدار ہے۔ سب کچھ اس کی ملکیت میں ہونے کے باوجود مشرک نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خدائی میں دوسروں کو شریک کرتا ہے بلکہ کچھ شخصیات کو اللہ کی اولاد قرار دیتا ہے۔ جو سب سے بڑا گناہ ہے۔ مشرک اپنے بلاثبوت اور من گھڑت عقیدہ میں اس قدر اندھا ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ شخصیات کی محبت اور اپنے مفادات کی خاطر کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتا۔ عرب کے کچھ لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جس کے لیے وہ یہ بات کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نور ہے اسی طرح ہی ملائکہ بھی نوری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کھانے پینے اور شادی بیاہ کی ضرورت نہیں اسی طرح ملائکہ بھی ان باتوں سے بےنیاز ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سو سال بعد زندہ ہونے کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا اور جز قرار دیا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کے بےمثال معجزات اور حضرت مریم کی پاک دامنی سے متاثر ہو کر اس قدر عقیدت میں آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنایا اور پھیلایا ہے کہ رب کی خدائی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اسی بنیاد پر تثلیث ان کے مذہب کی نشانی ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ اور باطل نظریات کی تردید کرتے ہوئے ناقابل تردید تین دلائل دیتے ہوئے اسے بےبنیاد، جھوٹ اور جہالت قرار دے کر فرمایا ہے۔ کہ ان لوگوں کو دو ٹوک بتلا دیا جائے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹے لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی اور ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس جھوٹ اور باطل عقیدہ کے پیچھے ان کے دنیا کے مفادات ہیں جس نے بالآخر ختم ہونا ہے ان مفتروں اور مجرموں کی ہر صورت ہمارے پاس حاضری ہوگی۔ جھوٹے عقیدے اور حقائق کا انکار کرنے کی وجہ سے انہیں شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے : (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)[ رواہ البخاری : باب قولہ قل ھواللہ احد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ یہ اس کا مجھے جھٹلانا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری بار پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “ تین دلائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ عقیدہ اور من گھڑت شریکوں سے پاک ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے : ” کہو وہ پاک ذات جس کا نام اللہ ہے ایک ہے، وہ بےنیاز ہے، نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “ [ الاخلاص ] سبحان کا لفظ تعجب اور پاکیزگی کے لیے آتا ہے یہاں لفظ سبحان بیک وقت دونوں معنوں کا احاطہ کررہا ہے۔ 1: اولاد کے لیے نفسانی خواہش اور بیوی کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ اس سے مبرا ہے۔ 2: اولاد باپ کی معاون اور بڑھاپے میں اس کے کام آتی ہے اللہ تعالیٰ ہر قسم کی محتاجی سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ غنی کا معنی صرف دولت مند نہیں بلکہ غنی کا جامع معنی ہے ذاتی اور صفاتی اعتبار سے ہر چیز سے بےنیاز، ہے۔ باقی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ بیشک انبیاء ہوں یا اولیاء، فوت شدہ ہوں یا زندہ سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اس کا ارشاد ہے اے لوگو ! تم تمام کے تمام اس کے در کے فقیر ہو۔ اللہ غنی اور ہر حوالے سے تعریف کے لائق ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو ختم کرکے نئی مخلوق لے آئے تم اس کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہے۔ (فاطر : 15۔ 17) پھر ارشاد فرمایا کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کے سب کمزور ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں جانی۔ (الحج آیت 73۔ 74) 3۔ بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک ہے جب سب کچھ اسی کا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا تو وارث کی کیا ضرروت ہے۔ اس کا ارشاد ہے۔ (وَلِلّٰہ مِیْرَاث السَّمَوَاتِ وَالَارْضِ )[ الحدید : 10] ” اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا وارث ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کو دنیا میں مہلت دے رکھی ہے۔ 3۔ افتراء بازی کرنے والوں کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی زندگی عارضی ہے : 1۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے پھر تمہاری واپسی ہوگی۔ (یونس : 70) 2۔ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا پر خوش ہوگئے ہو جب کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا بالکل قلیل ہے۔ (التوبۃ : 38) 3۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں مگر نہایت تھوڑا فائدہ۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ (العنکبوت : 64) 5۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (الحدید : 20) 6۔ تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (الاعلیٰ : 16) 7۔ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17)

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بڑے ہو کر رسالت کا فریضہ سرانجام دینا، دشمنوں کا آپ کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کرنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر اپنے حواریوں کو مدد کے لیے بلانا، اللہ تعالیٰ کا انہیں صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لینا، قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ بھیجنا اور پھر انہیں موت دینا، ان میں سے ایک ایک بات ان کی عاجزی، بےبسی اور ان کے عاجز بندہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ یہی یہودیوں کا حال ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا۔ جب انہیں سو سال کے بعد زندہ کیا اور پوچھا کہ آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ انہیں خبر نہ تھی کہ میں ایک سو سال مردہ پڑا رہا ہوں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سو سال تک ٹھہرے رہے ہو۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت (259) کی تلاوت کریں۔ جو لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا دامن بھی دلیل سے خالی ہے۔ اس کے باوجود عیسائی اپنی جہالت اور یہودی اپنی ضد ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے اپنی بےعلمی پر اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر فرمایا ہے۔ (اِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِہٰذَا اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللَّہ مَالَا تَعْلَمُوْنَ )[ یونس : 68] ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم اور گناہ ہے : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا إِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ أَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِی للرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا۔ )[ مریم : 88۔ 92] ” اور انہوں نے کہا رحمن کی اولاد ہے۔ یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو جس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ گرپڑیں۔ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ رحمن کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں۔ 4۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 5۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے : 1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68) 2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116) 3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26) 4۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : 91) 5۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : 3) ” فرما دیں بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ “ (69) ” دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس وجہ سے جو وہ کفر کرتے ہیں۔ “ (70) فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز پر اللہ کا اختیار اور اقتدار ہے۔ سب کچھ اس کی ملکیت میں ہونے کے باوجود مشرک نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خدائی میں دوسروں کو شریک کرتا ہے بلکہ کچھ شخصیات کو اللہ کی اولاد قرار دیتا ہے۔ جو سب سے بڑا گناہ ہے۔ مشرک اپنے بلاثبوت اور من گھڑت عقیدہ میں اس قدر اندھا ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ شخصیات کی محبت اور اپنے مفادات کی خاطر کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتا۔ عرب کے کچھ لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جس کے لیے وہ یہ بات کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نور ہے اسی طرح ہی ملائکہ بھی نوری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کھانے پینے اور شادی بیاہ کی ضرورت نہیں اسی طرح ملائکہ بھی ان باتوں سے بےنیاز ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سو سال بعد زندہ ہونے کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا اور جز قرار دیا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کے بےمثال معجزات اور حضرت مریم کی پاک دامنی سے متاثر ہو کر اس قدر عقیدت میں آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنایا اور پھیلایا ہے کہ رب کی خدائی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اسی بنیاد پر تثلیث ان کے مذہب کی نشانی ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ اور باطل نظریات کی تردید کرتے ہوئے ناقابل تردید تین دلائل دیتے ہوئے اسے بےبنیاد، جھوٹ اور جہالت قرار دے کر فرمایا ہے۔ کہ ان لوگوں کو دو ٹوک بتلا دیا جائے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹے لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی اور ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس جھوٹ اور باطل عقیدہ کے پیچھے ان کے دنیا کے مفادات ہیں جس نے بالآخر ختم ہونا ہے ان مفتروں اور مجرموں کی ہر صورت ہمارے پاس حاضری ہوگی۔ جھوٹے عقیدے اور حقائق کا انکار کرنے کی وجہ سے انہیں شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے : (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)[ رواہ البخاری : باب قولہ قل ھواللہ احد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ یہ اس کا مجھے جھٹلانا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری بار پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “ تین دلائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ عقیدہ اور من گھڑت شریکوں سے پاک ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے : ” کہو وہ پاک ذات جس کا نام اللہ ہے ایک ہے، وہ بےنیاز ہے، نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “ [ الاخلاص ] سبحان کا لفظ تعجب اور پاکیزگی کے لیے آتا ہے یہاں لفظ سبحان بیک وقت دونوں معنوں کا احاطہ کررہا ہے۔ 1: اولاد کے لیے نفسانی خواہش اور بیوی کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ اس سے مبرا ہے۔ 2: اولاد باپ کی معاون اور بڑھاپے میں اس کے کام آتی ہے اللہ تعالیٰ ہر قسم کی محتاجی سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ غنی کا معنی صرف دولت مند نہیں بلکہ غنی کا جامع معنی ہے ذاتی اور صفاتی اعتبار سے ہر چیز سے بےنیاز، ہے۔ باقی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ بیشک انبیاء ہوں یا اولیاء، فوت شدہ ہوں یا زندہ سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اس کا ارشاد ہے اے لوگو ! تم تمام کے تمام اس کے در کے فقیر ہو۔ اللہ غنی اور ہر حوالے سے تعریف کے لائق ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو ختم کرکے نئی مخلوق لے آئے تم اس کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہے۔ (فاطر : 15۔ 17) پھر ارشاد فرمایا کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کے سب کمزور ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں جانی۔ (الحج آیت 73۔ 74) 3۔ بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک ہے جب سب کچھ اسی کا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا تو وارث کی کیا ضرروت ہے۔ اس کا ارشاد ہے۔ (وَلِلّٰہ مِیْرَاث السَّمَوَاتِ وَالَارْضِ )[ الحدید : 10] ” اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا وارث ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کو دنیا میں مہلت دے رکھی ہے۔ 3۔ افتراء بازی کرنے والوں کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی زندگی عارضی ہے : 1۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے پھر تمہاری واپسی ہوگی۔ (یونس : 70) 2۔ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا پر خوش ہوگئے ہو جب کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا بالکل قلیل ہے۔ (التوبۃ : 38) 3۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں مگر نہایت تھوڑا فائدہ۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ (العنکبوت : 64) 5۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (الحدید : 20) 6۔ تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (الاعلیٰ : 16) 7۔ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17)

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بڑے ہو کر رسالت کا فریضہ سرانجام دینا، دشمنوں کا آپ کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کرنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر اپنے حواریوں کو مدد کے لیے بلانا، اللہ تعالیٰ کا انہیں صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لینا، قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ بھیجنا اور پھر انہیں موت دینا، ان میں سے ایک ایک بات ان کی عاجزی، بےبسی اور ان کے عاجز بندہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ یہی یہودیوں کا حال ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا۔ جب انہیں سو سال کے بعد زندہ کیا اور پوچھا کہ آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ انہیں خبر نہ تھی کہ میں ایک سو سال مردہ پڑا رہا ہوں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سو سال تک ٹھہرے رہے ہو۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت (259) کی تلاوت کریں۔ جو لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا دامن بھی دلیل سے خالی ہے۔ اس کے باوجود عیسائی اپنی جہالت اور یہودی اپنی ضد ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے اپنی بےعلمی پر اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر فرمایا ہے۔ (اِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِہٰذَا اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللَّہ مَالَا تَعْلَمُوْنَ )[ یونس : 68] ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم اور گناہ ہے : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا إِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ أَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِی للرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا۔ )[ مریم : 88۔ 92] ” اور انہوں نے کہا رحمن کی اولاد ہے۔ یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو جس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ گرپڑیں۔ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ رحمن کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں۔ 4۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 5۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے : 1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68) 2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116) 3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26) 4۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : 91) 5۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : 3) ” فرما دیں بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ “ (69) ” دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس وجہ سے جو وہ کفر کرتے ہیں۔ “ (70) فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز پر اللہ کا اختیار اور اقتدار ہے۔ سب کچھ اس کی ملکیت میں ہونے کے باوجود مشرک نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خدائی میں دوسروں کو شریک کرتا ہے بلکہ کچھ شخصیات کو اللہ کی اولاد قرار دیتا ہے۔ جو سب سے بڑا گناہ ہے۔ مشرک اپنے بلاثبوت اور من گھڑت عقیدہ میں اس قدر اندھا ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ شخصیات کی محبت اور اپنے مفادات کی خاطر کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتا۔ عرب کے کچھ لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جس کے لیے وہ یہ بات کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نور ہے اسی طرح ہی ملائکہ بھی نوری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کھانے پینے اور شادی بیاہ کی ضرورت نہیں اسی طرح ملائکہ بھی ان باتوں سے بےنیاز ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سو سال بعد زندہ ہونے کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا اور جز قرار دیا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کے بےمثال معجزات اور حضرت مریم کی پاک دامنی سے متاثر ہو کر اس قدر عقیدت میں آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنایا اور پھیلایا ہے کہ رب کی خدائی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اسی بنیاد پر تثلیث ان کے مذہب کی نشانی ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ اور باطل نظریات کی تردید کرتے ہوئے ناقابل تردید تین دلائل دیتے ہوئے اسے بےبنیاد، جھوٹ اور جہالت قرار دے کر فرمایا ہے۔ کہ ان لوگوں کو دو ٹوک بتلا دیا جائے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹے لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی اور ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس جھوٹ اور باطل عقیدہ کے پیچھے ان کے دنیا کے مفادات ہیں جس نے بالآخر ختم ہونا ہے ان مفتروں اور مجرموں کی ہر صورت ہمارے پاس حاضری ہوگی۔ جھوٹے عقیدے اور حقائق کا انکار کرنے کی وجہ سے انہیں شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے : (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)[ رواہ البخاری : باب قولہ قل ھواللہ احد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ یہ اس کا مجھے جھٹلانا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری بار پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “ تین دلائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ عقیدہ اور من گھڑت شریکوں سے پاک ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے : ” کہو وہ پاک ذات جس کا نام اللہ ہے ایک ہے، وہ بےنیاز ہے، نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “ [ الاخلاص ] سبحان کا لفظ تعجب اور پاکیزگی کے لیے آتا ہے یہاں لفظ سبحان بیک وقت دونوں معنوں کا احاطہ کررہا ہے۔ 1: اولاد کے لیے نفسانی خواہش اور بیوی کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ اس سے مبرا ہے۔ 2: اولاد باپ کی معاون اور بڑھاپے میں اس کے کام آتی ہے اللہ تعالیٰ ہر قسم کی محتاجی سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ غنی کا معنی صرف دولت مند نہیں بلکہ غنی کا جامع معنی ہے ذاتی اور صفاتی اعتبار سے ہر چیز سے بےنیاز، ہے۔ باقی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ بیشک انبیاء ہوں یا اولیاء، فوت شدہ ہوں یا زندہ سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اس کا ارشاد ہے اے لوگو ! تم تمام کے تمام اس کے در کے فقیر ہو۔ اللہ غنی اور ہر حوالے سے تعریف کے لائق ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو ختم کرکے نئی مخلوق لے آئے تم اس کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہے۔ (فاطر : 15۔ 17) پھر ارشاد فرمایا کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کے سب کمزور ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں جانی۔ (الحج آیت 73۔ 74) 3۔ بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک ہے جب سب کچھ اسی کا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا تو وارث کی کیا ضرروت ہے۔ اس کا ارشاد ہے۔ (وَلِلّٰہ مِیْرَاث السَّمَوَاتِ وَالَارْضِ )[ الحدید : 10] ” اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا وارث ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کو دنیا میں مہلت دے رکھی ہے۔ 3۔ افتراء بازی کرنے والوں کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی زندگی عارضی ہے : 1۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے پھر تمہاری واپسی ہوگی۔ (یونس : 70) 2۔ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا پر خوش ہوگئے ہو جب کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا بالکل قلیل ہے۔ (التوبۃ : 38) 3۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں مگر نہایت تھوڑا فائدہ۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ (العنکبوت : 64) 5۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (الحدید : 20) 6۔ تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (الاعلیٰ : 16) 7۔ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17)
Ayahs 10:71–73

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

” اور انھیں نوح کی خبر پڑھ کر سنائیں جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تم پر گراں گزرتا ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے، پس تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء کے ساتھ مل کرمتفقہ فیصلہ کرلو پھر تمہارا معاملہ تم پر کسی طرح مبہم نہ رہے پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔ “ (71) ’

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

’ پھر اگر تم منہ موڑ لو تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا، میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے نہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں سے ہوں۔ “ (72) ”

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے اسے نجات دی اور ان کو بھی جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور انھیں جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ آپ پس دیکھیں انجام کیسا ہوا ڈرائے گئے لوگوں کا۔ “ (73)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح کی قوم نے فوت شدہ بزرگوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ حضرت نوح نے انہیں بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے۔ جس کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کی بجائے گمراہی اور دشمنی میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے رہے کہ میں اس محنت شاقہ اور صبح، شام کی محنت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاملہ اور اجروثواب اللہ کے ہاں ہے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی الٹا الزام پہ الزام دیتی اور ان سے عذاب کا مطالبہ کرتی رہے۔ اس صورت حال سے تنگ آکر جناب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم اگر میرا رہنا اور سمجھانا تمہارے لیے بالکل ہی ناگوار ہوگیا ہے تو میرے خلاف اپنی تمام تدبیریں کرلو۔ الگ الگ نہیں سب مل کر بلکہ اپنے مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کو بھی جمع کرلو۔ اپنی سازشوں اور شرارتوں میں کوئی کسرباقی نہ رہنے دو ۔ اس میں تمہیں کوئی حسرت باقی نہیں رہنی چاہیے بس میرے خلاف کرلو جو کچھ کرنا چاہتے ہو۔ ہاں ہاں مجھے ایک لمحہ بھی مہلت نہیں چاہیے۔ میرا اللہ پر بھروسہ ہے اگر اس نے چاہاتم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ چناچہ پھر وہی کچھ ہوا جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھی سلامت رہے۔ ان کی قوم حتی کہ ان کا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو زمین پر اقتدار دیا۔ نافرمان بیٹا ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ جس کی تفصیل بارہویں پارہ سورة ہود کی آیت ( 43) میں پڑھیں گے۔ مشرکوں کے لیے دعوت توحید بھاری ہوا کرتی ہے۔ (إِنَّہُمْ کَانُوْا إِذَا قِیْلَ لَہُمْ لآإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ )[ الصافات : 35] ” انہیں جب کہا جاتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں تو وہ تکبر کرتے ہیں۔ “ (وَإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہِ ٓإِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ )[ الزمر : 45] ” جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل تنگ ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کے علاوہ دوسروں کا ذکر کیا جائے تو کھل اٹھتے ہیں۔ “ (وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلی أَدْبَارِہِمْ نُفُوْرًا)[ الاسراء : 46] ” اور جب قرآن میں اکیلے رب کا ذکر کرتے ہیں تو کافر بدک کر پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ تمام انبیاء بلامعاوضہ تبلیغ دین کیا کرتے تھے۔ 2۔ تمام انبیاء صرف اللہ پر توکل کرتے تھے۔ 3۔ تمام انبیاء نے بالآخر نافرمانوں کو چیلنج دیا کہ جو چاہو کرلو تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ تفسیر بالقرآن قوم کے الزامات : 1۔ قوم نے نوح کو گمراہ قرار دیا۔ (الاعراف : 60) 2۔ نوح پاگل ہے۔ (المومنون : 25) 3۔ نوح تو ہم جیسا انسان ہے۔ (ہود : 27) 4۔ یہ ہم پر لیڈری چمکاتا ہے۔ (المومنون : 24) 5۔ ہم تو اس میں کوئی خوبی نہیں دیکھتے۔ (ہود : 27) 6۔ اس کے چاہنے والے نیچ لوگ ہیں۔ (ہود : 27) 7۔ اے نوح تجھے پتھر مار مار کر مار دیں گے۔ (الشعراء : 116) 8۔ قوم نے نوح سے اپنے چہرے چھپا لیے۔ (نوح : 7) 9۔ کفار نے حضرت نوح کے خلاف زبردست مکاریاں کیں۔ (نوح : 7) 10۔ ہمارا تمہارا جھگڑا طویل تر ہوگیا ہے نوح تو سچا ہے تو بس عذاب لے آ۔ (ہود : 32) 11۔ قوم نوح نے رسولوں کی تکذیب کی۔ (الشعراء : 105)
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

” پھر اس کے بعد ہم نے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے۔ پس وہ ہرگز نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لاتے جسے اس کو پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہرلگا دیتے ہیں۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر، ان کی عدیم المثال اور پر خلوص جدوجہد کا خاکہ پیش فرما کر ان کی قوم کا انجام بیان کرنے کے بعد سلسلہ نبوت کے تسلسل کا اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جن انبیاء کا ذکر کیا ہے وہ نہ صرف اپنی اپنی قوم کے رہبر و رہنما تھے بلکہ یہ عالی مرتبت شخصیات اپنے سے پہلے انبیاء کی اقوام کے بھی رہنما تھے۔ اس لیے قرآن مجید میں رسول محترم کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اے رسول ! ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات تو بیان کردیئے گئے ہیں اور کچھ کے نہیں کیے کسی رسول کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرتا۔ ( المؤمن : 78) یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد فرمایا ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کی بعثت کا سلسلہ جاری کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) قوم عاد میں جلوہ گر کیے گئے جو انہی کی قوم کا ایک نمائندہ اور معتبر قبیلہ تھا یہ لوگ عمان اور حضرموت کے درمیان ریت کے ٹیلوں والے علاقہ میں رہتے تھے جو سمندر کے کنارے واقع تھا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کے قبیلہ کا نام مغیث تھا۔ (قصص الانبیاء) حضرت ہود (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم ثمود میں مبعوث کیے گئے یہ قوم تبوک اور حجاز کے درمیان حجر کے علاقہ میں رہتی تھی جسے مدائن صالح بھی کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ خلیج عقبہ کے مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود صنعت و حرفت میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑ تراش، تراش کر بڑے بڑے بنگلے اور مکانات تیار کیے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ ( علیہ السلام) عراق کی سرزمین میں جلوہ گر کیے گئے۔ جناب ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد سلسلۂ نبوت اس وقت کی دنیا میں پھیلا دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے دور میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو حجاز مقدس میں ٹھہرایا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو فلسطین کے علاقہ میں قیام کا حکم دیا۔ یہ علاقہ اس وقت مصر، شام پر مشتمل تھا۔ اپنے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اردن کے گردو نواح میں لوگوں کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی۔ خود خلیل اللہ ( علیہ السلام) فلسطین میں قیام پذیر ہوئے مگر وقفہ وقفہ سے ان مراکز کا دورہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے بعد بیشمار انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جن میں حضرت شعیب، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، حضرت ذوالکفل، حضرت یونس، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کئی پیغمبر بھیجے گئے، پھر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے سب سے آخر میں خاتم النبیین سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو قیامت تک کے لیے رسول بنایا گیا۔ یہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹھوس، واضح دلائل اور عظیم الشان معجزات کے ساتھ بھیجے گئے۔ مگر لوگوں کی غالب اکثریت نے انبیاء ( علیہ السلام) کا پیغام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس وجہ سے ان کے دلوں پر گمراہی کی مہر ثبت کردی گئی۔ مسائل 1۔ انبیاء (علیہ السلام) اپنی اقوام کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے۔ 2۔ بہت سے لوگ دلائل کی موجودگی میں بھی ایمان نہیں لاتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کے دلوں پر مہریں ثبت کردی جاتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نافرمانوں کے دلوں پر مہر ثبت کردیتا ہے : 1۔ ہم اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتے ہیں۔ (یونس : 74) 2۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ (النساء : 155) 3۔ اللہ کفار کے دلوں پر مہر ثبت کرتا ہے۔ (الاعراف : 101) 4۔ جو لوگ ایمان لائے اور اس کے بعد کفر کیا ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی۔ (المنافقون : 3) 5۔ اللہ ہر تکبر کرنے والے سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (المومن : 35) 6۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت فرما دی سو وہ نہیں جانتے۔ (التوبۃ : 93)
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی آیات دے کر بھیجا تو انھوں نے تکبر کیا اور تھے وہ مجرم لوگ۔ “ (75)

فہم القرآن ربط کلام : عظیم المرتبت اور اولوالعزم انبیاء کی ایک جماعت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے ان کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا یہ لوگ بڑے مجرم اور سرکش تھے۔ قرآن مجید میں جابجا حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اے اہل حجاز ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی ہم نے پوری سختی کے ساتھ اس کی گرفت کی۔ ( المزمل : 15۔ 16) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد : (اذْہَبْ أَنْتَ وَأَخُوْکَ بِاٰ یَاتِیْ وَلَا تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ ۔ اذْہَبَا إِلٰی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغَی۔ فَقُوْلَا لَہُ قَوْلًا لَیِّنًا لَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُأَوْ یَخْشَی۔ قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافُ أَنْ یَفْرُطَ عَلَیْنَا أَوْ أَنْ یَطْغَی۔ قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِیْ مَعَکُمَا أَسْمَعُ وَأَرَی۔ فَأْتِیَاہُ فَقُوْلَا إِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ وَلَا تُعَذِّبْہُمْ قَدْ جِءْنَاکَ بِاٰیَۃٍ مِنْ رَبِّکَ وَالسَّلَا مُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی۔ )[ طٰہٰ : 42۔ 47] ” اے موسیٰ ! تو اور تیرا بھائی میرے معجزات لے کر جاؤ اور میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا تو دونوں فرعون کے ہاں جاؤ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے دیکھو اسے نرمی سے بات کہنا شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرجائے انھوں نے عرض کی اے پروردگار ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا مزید سرکشی اختیار کرے اللہ نے فرمایا ڈرنے کی ضرورت نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں لہٰذا اس کے پاس جاؤ اور اسے کہنا ہم تیرے رب کے رسول ہیں بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے آزاد کر دے اور انھیں کسی قسم کی تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہونے والے معجزات : (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوسٰی تِسْعَ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِیْٓ إِسْرٓاءِیْلَ إِذْ جَآءَ ہُمْ فَقَالَ لَہٗ فِرْعَوْنُ إِنِّیْ لَأَظُنُّکَ یَا مُوسٰی مَسْحُوْرًا)[ الاسراء : 101] ” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو 9 واضح نشانیاں دی تھیں بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے کہا کہ میں تجھے سحر زدہ سمجھتا ہوں۔ “ (قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدُ ، وَعِکْرَمَۃُ وَالشَّعْبِیُّ ، وَقَتَادَۃُ ہِیَ یَدُہٗ ، وَعَصَاہٗ ، وَالسَّنِیْنُ ، وَنَقْصُ الثَّمَرَاتِ ، وَالطَّوْفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالقُمَّلُ ، وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ )[ ابن کثیر ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاھد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی جانے والی نشانیاں یہ تھیں۔ 1۔ یدِبیضاء، 2۔ عصا، 3۔ قحط سالی، 4۔ پھلوں کی کمی، 5۔ طوفان، 6۔ ٹڈی دل، 7۔ جوئیں کھٹمل، 8۔ مینڈک اور 9۔ خون کے عذاب۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے بھائی کے لیے دعا : (قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۔ وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِنْ لِسَانِیْ یَفْقَہُوْا قَوْلِیْ ۔ وَاجْعَلْ لِیْ وَزِیْرًا مِنْ أَہْلِیْ ۔ ہَارُوْنَ أَخِیْ ۔ اشْدُدْ بِہٖ أَزْرِیْ ۔ وَأَشْرِکْہُ فِیْ أَمْرِیْ )[ طٰہٰ : 25۔ 32] ” موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے، میرے کام آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں اور میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک مددگار مقرر کر دے ہارون کو جو میرا بھائی ہے اس سے میری قوت کو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کار کر۔ “ تکبر کیا ہے : (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ )[ رواہ مسلم : کتاب الیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا ‘ وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ بیشک ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ قیامت کے دن رب ذوالجلال کا سوال کرنا : (عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ )[ رواہ مسلم : باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ آسمان کو قیامت کے دن لپیٹ لے گا پھر اس کو دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر لوگ ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر زمین کو بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر اعلان ہوگا میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ ؟ اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو معجزات دے کر بھیجا۔ 2۔ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والے لوگ مجرم ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے سرداروں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا : 1۔ اللہ نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس نشانیوں کے ساتھ بھیجا مگر انہوں نے تکبر کیا۔ (یونس : 75) 2۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا پس انہوں نے تکبر کیا۔ (المومنون : 46) 3۔ حضرت موسیٰ ، فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس معجزات لے کر آئے مگر انہوں نے تکبر کیا۔ (العنکبوت : 39) 4۔ ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیوں، جوؤں، مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ مجرم تھے۔ (الاعراف : 133) 5۔ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ زمین میں مغرور ہوگئے وہ ہم سے سبقت لے جانے والے نہ تھے۔ (العنکبوت : 39) 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں ہر متکبر سے جو آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتا اپنے پروردگار کی پناہ میں ہوں۔ (المومن : 27)
Ayahs 10:76–77

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

” تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے یقیناً یہ تو واضح طور جادو ہے۔ “ (76) ”

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو، جب وہ تمہارے پاس آیا۔ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ “ (77)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ سورۃ طہٰ میں تفصیل ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر شجر مبارکہ کے پاس روشنی کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں اور تو مقدس وادی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس لیے اپنے جوتے اتار دے۔ میں نے تجھے نبوت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ لہٰذا جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اسے توجہ کے ساتھ سن، یقین کر ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بس میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ بیشک قیامت آنے والی ہے جس کے برپا ہونے کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ جب وہ برپا ہوگی تو ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلا دیا جائے گا۔ جو شخص قیامت پر یقین نہیں رکھتا تجھے اس کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ جو اپنی خواہش کے پیچھے چلے گا وہ برباد ہوگا پھر استفسار فرمایا کہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ جس پر میں ٹیک لگا لیتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے دوسرے کام بھی لیتا ہوں۔ ارشاد ہوا : اسے زمین پر پھینکیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ ارشاد ہوا۔ ڈرنے کی بجائے اسے پکڑ لو۔ یہ پھر لاٹھی بن جائے گا۔ اب اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دبا کر باہر نکالو۔ جو صحیح سالم چمکتا ہوا دکھائی دے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔ ان کے ساتھ فرعون کی طرف جاؤ بلاشبہ وہ بڑا باغی انسان ہے۔ سورة طٰہٰ میں میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی ان معجزات کے ساتھ فرعون کے پاس جاؤ اور میرے ذکر میں غفلت نہ کرنا بیشک فرعون بڑا سرکش اور باغی ہے۔ لیکن بات نہایت نرمی کے ساتھ کہنا ہوسکتا ہے وہ نصیحت قبول کرے اور ڈر جائے۔ دونوں بھائیوں نے اپنے رب سے عرض کی کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہم پر وہ زیادتی کرے گا۔ ارشاد ہوا ہرگز نہیں ڈرنا کیونکہ میری رفاقت تمہارے ساتھ ہوگی اور میں تمہیں دیکھتے ہوئے تمہارے ساتھ ہوں گا۔ جب حضرت موسیٰ اور جناب ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے تو انہوں نے اسے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق چلے گا وہ سلامت رہے گا یقیناً ہمیں اللہ تعالیٰ نے تیرے پاس بھیجا ہے اور ہم پر وحی کی گئی ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو جھٹلایا اور ٹھکرایا اسے شدید ترین عذاب ہوگا۔ ( طٰہٰ : 47۔ 48) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مابین مکالمہ : (قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یَا مُوسٰی)[ طٰہٰ : 49] فرعون : ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہ تمہارا رب کون ہے ؟ “ (قَالَ رَبُّنَا الَّآِیْ أَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی)[ طٰہٰ : 50] حضرت موسیٰ (علیہ السلام) : ” ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی رہنمائی فرمائی۔ “ (قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْأُوْلَی)[ طٰہٰ : 51] فرعون : ” اے موسیٰ جو پہلے لوگ گزر چکے ان کا کیا حال ہوگا۔ “ (قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّی فِیْ کِتَابٍ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسٰی)[ طٰہٰ : 52] حضرت موسیٰ (علیہ السلام) : ” ان کا علم میرے رب کے پاس ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا تفصیلی تعارف کرایا اور اس کی توحید بیان فرمائی اور قیامت کے دلائل دیئے لیکن اس نے نہ صرف دلائل کو ٹھکرایا بلکہ معجزات دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے اپنے حواریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ دونوں بھائی جادو کے ذریعے تمہارے ملک سے تمہیں نکالنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ چیلنج دیا کہ ہم تمہارے مقابلے میں اس سے بڑا جادو پیش کریں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے بہت سمجھایا کہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ ان کے کام میں سچائی نہیں ہوتی۔ یہاں اس کا اختصار ہے کہ جب فرعون اور اس کے ساتھیوں کے پاس حق پہنچ چکا تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ جس کا جواب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ حق بات کو جادو کہتے ہو، جادوگر تو کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔ گویا کہ دوسرے الفاظ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے جو غالب آکر رہے گا۔ جادو کفر ہے : (وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّیَاطِینُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلَکِنَّ الشَّیَاطِینَ کَفَرُوا یُعَلِّمُون النَّاس السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّی یَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ )[ البقرۃ : 102] ” اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مملکت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان ( علیہ السلام) نے تو کفر نہیں کیا تھا۔ یہ کفر تو شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے جو بابل میں ہاروت وماروت دو فرشتوں پر اتارا گیا۔ وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش میں ہیں تو کفر نہ کر۔ “ آپ ﷺ کا فرمان ہے : ( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب و الترہیب ] ” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ “ مسائل 1۔ کفار حق کو جادو قرار دیتے ہیں۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت کی۔ 3۔ جادوگر کا میاب نہیں ہوتے۔ تفسیر بالقرآن فلاح نہ پانے والے لوگ : 1۔ جادو گرفلاح نہیں پاتے۔ (یونس : 77) 2۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (الانعام : 21) 3۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا اللہ کی پناہ مجھے میرے آقا نے بہتر ٹھکانہ دیا ہے یقیناً ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (یوسف : 23) 4۔ اگر اللہ کا ہم پہ احسان نہ ہوتا تو ہم زمین میں دھنسا دیے جاتے کافر فلاح نہیں پاتے۔ ( القصص : 82) 5۔ بیشک وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 69۔ النحل : 116) 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس کی جناب سے کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کے لیے آخرت کا گھر ہے یقیناً ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ (القصص : 37) 7۔ انہوں نے جادو کا کھیل کھیلا ہے اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ (طٰہٰ : 69)