Ayahs 10:62–64فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلّی دینے اور آپ کے کام کو خراج تحسین سے نوازنے کے بعد توحید سے محبت کرنے والوں، نبی ﷺ کے جانثاروں اور حق پر قربان ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست قرار دیتے ہوئے انہیں تسلی دینے کے ساتھ تابناک مستقبل کی خوشخبری دی ہے۔
ولی کی جمع اولیاء ہے جس کا معنیٰ ہے دوست۔ اولیاء اللہ یعنی اللہ کے دوست جن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ایمانداروں کا دوست ہے۔ ان کو کفر و شرک اور بدعت و رسومات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ انھیں کو نور سے نکال کر کفرو شرک اور بدعت و رسومات کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 257) قرآن مجید کے ارشاد سے بالکل واضح ہے کہ اولیاء اللہ کوئی الگ گروہ یا جماعت نہیں ہے بلکہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کے تقاضے پورے کرنے والے ہیں۔ جو صاحب ایمان جس قدر اخلاص اور خدا خوفی کے ساتھ ایمان کے تقاضے پورے کرے گا وہ اسی درجے کا اللہ تعالیٰ کا دوست قرار پائے گا۔ لیکن مفاد پرست گروہ ان لوگوں کو اولیاء اللہ شمار کرتا ہے۔ جن سے کوئی کرامت سرزد ہو یا وہ ایک مخصوص لباس اور انداز میں رہتے ہوئے عام مسلمانوں سے میل جول سے پرہیز کریں۔ اگر کوئی شخص تارک الدنیا ہو کر گوشہ نشین ہوجائے تو ایسے لوگوں کی نظروں میں وہ ولی کامل سے کم درجہ نہیں رکھتا۔ ہندو ازم سے متاثر ہو کر جاہل مسلمان ان لوگوں کو بھی ولی سمجھتے ہیں جو نہ صرف شریعت سے کوسوں دور ہیں بلکہ انسانیت کے مقام سے بھی گر چکے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ جہلاء نے اس معیار کو معیار نہ سمجھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ وہ معیار ہے۔
(اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکاَنُوْا یَتَّقُوْنَ )[ یونس : 63]
” جو ایمان لائے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ “
مشہور مفسر امام ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں : حضرت ابی بن کعب ؓ نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے استفسار کے جواب میں تقویٰ کی تشریح یوں فرمائی کہ کوئی آدمی ایسی پگڈنڈی سے گزرے جس کے ارد گرد خار دار جھاڑیاں ہوں وہ ان سے اپنا دامن بچا کر گزر جائے گویا کہ دنیا کی آلائشوں اور نفسانی شہوات سے بچ کر صراط مستقیم پر چلنے کا نام تقویٰ ہے۔ لیکن افسوس آج بعض مسلمانوں نے ولایت کا معیار تقویٰ رکھنے کی بجائے جہالت اور جسمانی غلاظت قرار دے لیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ علماء میں بھی اسی عالم کو زیادہ نیک اور متقی سمجھا جاتا ہے جو صاف ستھرے لباس سے پرہیز اور حق گوئی کے تقاضے پورے کرنے سے احتراز کرتا ہو۔ حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے اس مسلمان کو زیادہ نیک قرار دیا ہے جو مشکلات میں عزیمت اختیار کرے اور لوگوں کے دکھ درد میں بھرپور طریقہ سے شرکت کرنے والا ہو۔
ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں عظیم کامیابی حاصل ہونے کے ساتھ آخرت میں کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ بعض لوگوں نے ولایت کی یہ نشانی بھی ذکر کی ہے کہ ولی کو دنیا میں کوئی خوف اور پریشانی لاحق نہیں ہوتی اگر اس سے مراد حقیقی پریشانی اور خوف لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے دوست یعنی ولی اللہ کا دل ہر حال میں مطمئن رہتا ہے۔ بحیثیت انسان کسی چیز کے چھن جانے اور ناگہانی افتاد آنے پر خوف و غم لاحق ہونے کے باوجود اس کا دل اپنے رب کی رضا پر راضی اور مطمئن ہوتا ہے جو لوگ (وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ ولی کامل کو قطعاً کسی قسم کا خوف و غم نہیں ہوتا یہ انسانی فطرت اور شریعت کے سراسر منافی ہے۔ رسول محترم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا کون دوست ہوسکتا ہے آپ اپنے اعزاء و اقربا کی موت پر زارو قطار روئے اور لوگوں کے مظالم کی وجہ سے بارہا دفعہ پریشان ہوئے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فرمان کا حقیقی اور صحیح مفہوم یہ ہے کہ موت کے بعد اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف و خطر اور پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے اور اس کے فیصلے میں کبھی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہی ایماندار اور صاحب تقویٰ کا اعزاز اور اولیاء اللہ کا مقام ہے۔ کہ وہ قیامت کے خوف و خطر سے مامون ہوں گے۔
اولیاء اللہ کا مقام اور ان کی خوبی :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ باالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہُ فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ فَکُنْتُ سَمْعَہٗ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَاوَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَاِنْ سَاَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہٗ وَلَءِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْءٍ اَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَّفْسِ الْمُؤْ مِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَاَنَا اَکْرَہُ مَسَاءَ تَہُ وَلَابُدَّلَہُ مِنْہُ )[ رواہ البخاری : کتاب الرقائق، باب التواضع ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے حدیث قدسی بیان کرتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ‘ جس شخص نے میرے دوست کے ساتھ عداوت رکھی اس کا خلاف میرا اعلان جنگ ہے اور میرے کسی بندے کو میرا قرب اور کسی چیز کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا جو قرب فرائض کی ادائیگی سے حاصل ہوتا ہے۔ بندہ جوں جوں نفل پڑھتا ہے توں توں اسے میرا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب وہ میرا محبوب بن جاتا ہے تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ‘ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ‘ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا طالب ہوتا ہے تو اس کو عطا کرتا ہوں۔ پناہ طلب کرتا ہے تو اس کو میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تامل نہیں ہوتا جتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں ہوتا ہے کیونکہ وہ موت سے کراہت کرتا ہے اور میں اس کو پہنچنے والی تکلیف کو برا سمجھتا ہوں۔ لیکن موت سے ہرگز چھٹکارا نہیں ہے۔ “
( أَلَآ إِنَّ أَوْلِیَآء اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ )[ یونس : 62]
” آگاہ رہو اولیاء اللہ پر کسی قسم کا خوف اور غم نہ ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اولیاء اللہ قیامت کے دن غمزدہ نہیں ہوں گے۔ 2۔ اولیاء اللہ صاحب ایمان ہوتے ہیں۔
3۔ اولیاء اللہ پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے ولی کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ 6۔ اللہ کا تابع دار ہونے میں بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اولیاء اللہ کا مقام :
1۔ اولیاء اللہ پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔ (یونس : 2 6) 2۔ اولیاء اللہ کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : 64)
3۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
4۔ اللہ اپنے دوستوں کی مہمان نوازی فرمائے گا۔ ( حٰم السجدۃ : 32)
Ayah 10:65فہم القرآن
ربط کلام : اولیاء اللہ کو آخرت کے خوف و خطر، غم اور پریشانی سے محفوظ رہنے کی خوشخبری دینے کے بعد بالخصوص رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو دشمنوں اور ان کی ہرزہ سرائی سے غم زدہ اور دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آپ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اور اس کے محبوب ہیں۔
رسول کریم ﷺ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے دن رات جدوجہد کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آپ کا اخلاص اور کردار دیکھ کر منکرین حق اسلام کی سچائی اور نبی کی نبوت پر ایمان لاتے۔ لیکن انہوں نے صحیح اور فطری راستے کو چھوڑ کر نہ صرف کفرو شرک اور نبی کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا بلکہ انہوں نے آپ کو پریشان اور ناکام کرنے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا ترین سلوک کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھا۔ آپ کی مقدس ذات پر بد ترین الزامات لگائے۔ دانشوروں کے رہبر اور پیشوا ہونے کے باوجود آپ کو پاگل کہا گیا، کائنات کے سب سے بڑے خیر خواہ کو مجنون اور لوگوں کا دشمن قرار دیا۔
آپ ﷺ کے گھر والوں کو ہراساں کیا گیا اور آپ کے ساتھیوں پر بےانتہا مظالم ڈھائے گئے۔ جن پر آپ کا پریشان ہونا طبعی اور فطری بات تھی مگر اس کے باوجود آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے رحمت عالم آپ کو غمگین اور آزردہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ عزت و اقبال کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے اختیار میں عزت و سر بلندی اور کائنات کے اسباب و وسائل ہیں وہ ہر بات سننے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں نبی اکرم ﷺ کو حوصلہ دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کو ناکام کرے گا۔ آپ کو دنیا اور آخرت میں ایسی عزت و شرف سے سرفراز فرمائے گا۔ جس کا کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ چناچہ دنیا جانتی ہے کہ جو احترام و مقام اور عزت و سرفرازی آپ ﷺ کو نصیب ہوئی وہ قیامت تک کسی کے مقدر کا حصہ نہیں بن سکتی اور قیامت کے دن آپ کو وہ مرتبہ اور شان دی جائے گی۔ جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کسی کے حصہ میں نہیں آئے گی۔ سورة المنافقون میں فرمایا کہ عزت ” اللہ “ اور رسول اور مومنوں کے لیے لیکن منافق نہیں سمجھتے۔
حیات مبارکہ میں سب سے بڑی پریشانی :
غز وہ احد کے موقعہ پر آپ ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوئے۔ پیشانی پر گہرا زخم آیا۔ آپ ﷺ بےہوش کر گرپڑے۔ حضرت عائشہ ؓ نے نہایت غم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ کیا اس سے بڑھ کر آپ کو کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے سب سے زیادہ تکلیف طائف میں پہنچی تھی۔ اس موقعہ پر آپ ﷺ نے یہ دعا کی :
(اَللَّہُمَّ إلَیْکَ أشْکُوْ ضَعْفِ قُوَّتِیْ ، وَقِلَّۃِ حِیْلَتِیْ ، وَہَوَإنِیْ عَلَیْ النَّاسِ ، یَا أرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ، أنْتَ رَبِّ المُسْتَضْعَفِیْنَ ، وَأنْتَ رَبِّیْ ، إلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ ؟ إلیٰ بَعِیْد یَتَجَہَّمُنِیْ ؟ أمْ إلیٰ عَدُوِّ مَلَکْتَہٗ أمْرِیْ ؟ إنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَب فَلَا أُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ہِیَ أوْسَعُ لِیْ ، أعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الَّذِیْ أشْرَقْتَ لَہٗ الظُّلُمَاتِ ، وَصَلِّحْ عَلَیْہِ أَمْرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ مَنْ أنْ تُنَزِّلَ بِیْ غَضْبُکَ ، أوْ یَحِلُّ عَلَیَّ سَخَطُکَ ، لَکَ العُتْبَی حَتّٰی تَرْضٰی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إلَّا بکَ )
[ الرحیق المختوم ]
” اے اللہ میں شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری کا اور وسائل کی کمی کا اور لوگوں کے مقابلے میں کمزور ہونے کا، اے رحم کرنے والے، آپ کمزوروں کے رب ہیں اور آپ میرے رب ہیں تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے دوری کی طرف جو مجھے غصہ میں مبتلا کر دے یا دشمن کی طرف جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنایا اگر تو مجھ پر ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں لیکن تیری عافیت مجھے درکار ہے میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور سے جس کے ساتھ تو نے اندھیروں کو جلا بخشی اور اسی کے ساتھ دنیا اور آخرت کا معاملہ درست ہوا۔ اس چیز سے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو۔ یا تیری ناراضگی مجھ پر حلال ہو۔ تیرے ہی لیے دونوں جانب ہیں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے تیری توفیق کے بغیر نیکی کی طاقت اور گناہوں سے بچا نہیں جاسکتا۔ “
مسائل
1۔ کفار کی باتوں سے غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ 2۔ عزت وسطوت اللہ کے لیے ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے اور ہر بات کو سننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
عزت اور ذلت اللہ کے اختیار میں ہے :
1۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : 65)
2۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ (فاطر : 10)
4۔ کیا اللہ کے ماسوا عزت تلاش کرتے ہو حالانکہ ہر قسم کی عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ (النساء : 139)
Ayah 10:66فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کو خبر دار کرتے ہوئے ان کے عقیدہ کی قلعی کھولی جارہی ہے۔
نبی معظم ﷺ کے دشمنوں اور دین کے منکروں کو خبر دار کیا جارہا ہے کہ ہوش کے ناخن لو اور یہ غلط فہمی دماغ سے نکال دو کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت اور دسترس سے باہر ہو۔ ایسا ہرگز نہیں۔ کیونکہ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملک نہ ہو اور اس کے اختیار سے باہر ہو۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ سب کچھ اسی کا ہے اگر تمہیں قابو نہیں کیا جارہا تو اس میں اس کا یہ اصول کار فرما ہے کہ وہ ہر شخص کو ایک حد تک مہلت دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کا شریک کار سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ کسی آسمانی کتاب اور عقل سلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف من گھڑت اور محض گمان کی بنیاد پر ہے۔
عربی زبان میں ظن کا یہ معنی بھی ہے کہ ایسی سوچ اور بات جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔ شرک کی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی جس بنا پر ہر دور کا مشرک اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں، مورتیوں کو خدا کے ہاں سفارشی اور خدا کی خدائی میں شریک سمجھتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آسمانی کتابوں پر ایمان لانے اور انبیاء کو تسلیم کرنے والے اور سرور دو عالم کا کلمہ پڑھنے والے حضرات مدفون بزرگوں کو اللہ کی حاکمیت میں شریک اور انہیں اللہ کے حضور اپنا سفارشی بناتے ہیں، اس خود ساختہ عقیدہ کو یہ کہہ کر سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ من دون اللہ سے مراد پتھر کے بت اور مٹی سے بنائی ہوئی مورتیاں ہیں، حالانکہ من
Ayah 10:67دون اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہے۔ خواہ فرشتے، بت، مورتیاں اور مدفون بزرگ ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ مشرکین مکہ میں کچھ لوگ ملائکہ کو، عیسائی حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو، یہودی حضرت عزیر کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور آج بھی ان کا یہی عقیدہ اور عمل ہے۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے رات کو سکون اور نیند کا باعث بنایا اور دن کو روشن فرمایا تاکہ لوگ اپنی معاشی اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکیں ان لوگوں کے لیے اس بات میں بڑے دلائل ہیں اگر وہ صحیح معنوں میں سننے کا حق ادا کریں۔ سننے کا حق یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائی اور کانوں کو کھول کر حق سنے اور اس پر غور کرے۔ (ق : 37)
یہاں رات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اسے سکون اور آرام کا ذریعہ بنایا ہے۔ غور فرمائیں کہ آدمی کتنا ہی تھکا ماندہ اور غم زدہ ہو صبح بیدا رہوتا ہے تو اس کا غم ہلکا اور نہ صرف تھکاوٹ دور ہوچکی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ اس کے جسم کی صرف ہونے والی توانائی نیند کے بعد بحال ہوجاتی ہے اگر انسان کو کسی وجہ سے رات نیند نہ آئے تو جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جہاں تک روز روشن کا مسئلہ ہے اگر دن کی روشنی ختم ہوجائے تو دنیا کا نظام چند دنوں کا مہمان ٹھہرے۔ کیونکہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نہ صرف کاروبار نہیں ہوسکتا بلکہ انسان کی بینائی بھی کام نہیں دیتی اور بالآخر ختم ہوجاتی ہے۔ اگر رات اور دن اندھیرے میں ڈوب جائیں تو گھبراہٹ سے انسان کا کلیجہ پھٹ جائے۔ کاش مشرک اس بات پر غور کرتے اور اپنے رب کی ذات اور قدرت کا اعتراف کرکے بلا شرکت غیرے اس پر ایمان لاکر اس کی بندگی میں سکون پاتے۔
رات، دن کی مثال دے کر شرک کی تاریکیوں اور توحید کی روشنی کی طرف اشارہ کیا گیا کہ شرک اور توحید میں رات اور دن کی مانند فرق ہے۔ لیکن یہ فرق وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو حقیقت سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
من دون اللہ کی وضاحت قرآن مجید کی روشنی میں :
” فرمائیے اے لوگو ! اگر تمہیں کچھ شک ہو۔ میرے دین کے بارے میں۔ تو سن لو میں عبادت نہیں کرتا ان بتوں کی جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا۔ لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمہیں۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں اہل ایمان سے۔ “ [ یونس : 104]
” آپ فرمائیے مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں پوجوں انہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا۔ آپ فرمائیے میں نہیں پیروی کرتا تمہاری خواہشوں کی ایسا کروں تو گمراہ ہوگیا میں۔ اور نہ رہا میں ہدایت پانے والوں سے۔ “ [ الانعام : 56]
من دون اللہ سے مرادبت :
” آپ فرمائیے کیا ہم پوجیں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے ہمیں اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور کیا ہم پھرجائیں الٹے پاؤں اس کے بعد کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے ؟ “ [ الانعام : 71]
من دون اللہ سے مراد فوت شدگان بزرگ :
” اللہ کے سوا وہ نہیں پیدا کرسکتے کوئی چیز۔ بلکہ وہ خود پید اکیے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ زندہ نہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ کب انہیں اٹھایا جائے گا۔ “ [ النحل : 20۔ 21]
یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ ان سے مراد انبیاء، شہداء، صالحین اور فوت شدہ شخصیات ہیں۔ جن کو ان کے عقیدت مندحاجت روا اور مشکل کشاسمجھتے ہیں۔ یادر ہے قیامت کے دن پتھر اور لکڑی وغیرہ کے بتوں کو نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کوئی ان کے زندہ ہونے کا قائل ہے۔
(قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ اِنَّ ہَؤُلَآءِ کَانُوْا قَوْمًا صَالِحِیْنَ فِیْ قَوْمِ نُوْحٍ فَلَمَّا مَاتُوْا عَکَفُوْا عَلٰی قُبُوْرِہِمْ ثُمَّ صَوَّرُوْا تَمَاثِیْلَہُمْ فَعَبَدُوْہُمْ ثُمَّ صَارَتْ ہٰذِہ الَاوْثَانِ فِیْ قَبَاءِلِ العَرَبِ )
[ مستفاض من کتب التفاسیر والبخاری ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سب ( وَدّ ، سُواع وغیرہ) ” قوم نوح “ کے اولیاء اللہ تھے۔ جب وہ مرگئے تو لوگ ان کی قبروں سے وابستہ ہوگئے اور پھر ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر انھیں کے مجسمے بتوں کی صورت میں عرب کے قبائل میں پھیل گئے۔ “
من دون اللہ سے مراد علماء اور اولیاء :
” انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں اور راہبوں کو (اپنے پروردگار) اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے فرزند کو بھی۔ “ [ التوبۃ : 31]
حضرت سید پیر نصیر الدین آف گولڑہ کے الفاظ میں من دون اللہ کی وضاحت :
بعض درگاہی ملاؤں اور خانقاہی زلہ خوروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے مشائخ اور علماء کو معبود تو نہیں سمجھتے، ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے، پھر ہمیں کیوں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ آئیے ہم یہ کیس (Case) دربار رسالت میں پیش کرتے ہیں، تاکہ آپ ﷺ اس کا فیصلہ فرما دیں کہ کیا علماء و مشائخ پر بھی أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کے الفاظ کا اطلاق کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلے میں ایک روایت معتبرہ ملاحظہ ہو۔
” حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری گردن میں ایک سونے کی صلیب پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا اے عدی ! اس بت کو اپنے سے اتار پھینکو اور میں نے یہ سنا کہ آپ سورة براۃ کی یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے کہ ” جن لوگوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ “ پس میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ لوگ (یہودونصاریٰ ) اپنے بزرگوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا وہ لوگ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں کرتے تھے اور یہ معتقد انہیں حرام تسلیم کرلیتے تھے اور کیا وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال نہیں کرتے تھے اور یہ انہیں حلال مان لیتے تھے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ! ایساتو ہے پس آپ نے فرمایا یہی عبادت ہے۔ “
جن حضرات کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جن آیات میں اصنام کو خطاب کیا گیا، ان آیات کو انبیاء واولیاء پر منطبق کرنا نہ صرف جہالت ہے، بلکہ تحریف قرآنی ہے۔ وہ ہماری تحقیق بھی ذہن نشین کرلیں کہ غیر اللہ، من دون اللہ، شریک اور انداد کے الفاظ قرآن میں جہاں بھی آئے ہیں، ان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ہو اور جو وصول الی اللہ میں رکاوٹ بنتی ہو۔ اگر اصنام رکاوٹ بن رہے ہوں تو ان الفاظ سے مراد اصنام ہوں گے اور اگر انسان بن رہے ہوں تو انسان مراد ہوں گے۔ اگر کوئی عالم یا شیخ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے تو وہ یصدون عن سبیل اللہ کے زمرے میں آئے گا۔ پس ایسا شخص غیر اللہ، من دون اللہ، شریک اور انداد کے الفاظ کا مصداق ٹھہرے گا۔ معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنے وہ غیر اللہ ہے۔ چاہے وہ اصنام ہوں یا کوئی انسان۔[ اعانت واستعانت کی شرعی حقیقت ازقلم حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرصاحب آف گولڑہ ]
مسائل
1۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ 2۔ بد عقیدہ لوگ محض اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے سکون حاصل کرنے کے لیے رات کو بنایا ہے۔
4۔ علم رکھنے والوں کے لیے دن اور ات میں نشانیاں ہیں۔
تفسیر بالقرآن
من دون اللہ کے دلائل :
1۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : 104)
2۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : 56)
3۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : 71)
4۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20)
5۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : 194)
6۔ انھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبۃ : 21)
انہوں نے کہا بنائی ہے اللہ نے اولاد وہ پاک ہے وہ تو بےپروا ہے اسی کے لیے ہے جو کچھ میں آسمانوں اور جو کچھ میں زمین نہیں ہے تمہارے پاس سے کوئی دلیل اس بات کی کیا تم کہتے ہو پر اللہ جس کا نہیں تم علم رکھتے ؟
” انھوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہ بےپروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس کی اولاد بنانے کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کچھ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟ “ (68)
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔
حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بڑے ہو کر رسالت کا فریضہ سرانجام دینا، دشمنوں کا آپ کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کرنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر اپنے حواریوں کو مدد کے لیے بلانا، اللہ تعالیٰ کا انہیں صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لینا، قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ بھیجنا اور پھر انہیں موت دینا، ان میں سے ایک ایک بات ان کی عاجزی، بےبسی اور ان کے عاجز بندہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ یہی یہودیوں کا حال ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا۔ جب انہیں سو سال کے بعد زندہ کیا اور پوچھا کہ آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ انہیں خبر نہ تھی کہ میں ایک سو سال مردہ پڑا رہا ہوں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سو سال تک ٹھہرے رہے ہو۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت (259) کی تلاوت کریں۔ جو لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا دامن بھی دلیل سے خالی ہے۔ اس کے باوجود عیسائی اپنی جہالت اور یہودی اپنی ضد ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے اپنی بےعلمی پر اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر فرمایا ہے۔
(اِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِہٰذَا اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللَّہ مَالَا تَعْلَمُوْنَ )[ یونس : 68]
” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “
اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم اور گناہ ہے :
(وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا إِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ أَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِی للرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا۔ )[ مریم : 88۔ 92]
” اور انہوں نے کہا رحمن کی اولاد ہے۔ یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو جس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ گرپڑیں۔ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ رحمن کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں۔
4۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
5۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے :
1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68)
2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116)
3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26)
4۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : 91)
5۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : 3)