12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsفہم القرآن

Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

” اے میرے رب ! بیشک تو نے مجھے حکومت عنایت فرمائی اور باتوں کی حقیقت سمجھائی، اے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا مددگار ہے، مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں فوت کرنا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملانا۔ “ (101)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ وا لد محترم کے سامنے خواب کی تعبیر کا تذکرہ کرنے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے سامنے بھائیوں کا جھکنا دیکھ کر اکڑتے اور اس بات پر اتراتے نہیں بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے رب یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے مجھے بڑی بڑی مصیبتوں سے نکال کر دنیا کی عظیم مملکت کا حکمران بنایا۔ تو نے ہی مجھے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی فہم عطا فرمائی۔ اے میرے رب میں جو کچھ بھی ہوں تیرے کرم سے ہوں۔ تو میری دنیا اور آخرت کے کاموں کا والی اور مختار ہے۔ جو کچھ مجھے عطا ہوا بغیر مانگے عطا ہوا۔ میری تیرے حضور یہ فریاد ہے کہ مجھے مسلمان رکھنا، اسی حالت میں فوت کرنا اور صالحین کے ساتھ اٹھانا۔ اس دعا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ختم ہوتا ہے۔ اسی عقیدہ اور عمل پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خاتمہ ہوا۔ اور یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی۔ یہی مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے اسی پر مسلمان کی موت آنی چاہیے۔ (الٰہی ! مجھے بھی ایسی موت نصیب فرما۔ اٰمین یا ارحم الراحمین ) (وَوَصّٰی بِہَآ إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ أَمْ کُنْتُمْ شُہَدَاءَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ اٰبَاءِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہًا وَّاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُوْنَ )[ البقرۃ : 132۔ 133] ” ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے جب انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے انھوں نے کہا ہم تیرے الٰہ اور تیرے ابا ابراہیم، اسماعیل، اسحاق کے الٰہ کی عبادت کریں گے ان سبھی کا ایک ہی الٰہ ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ “ (یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ )[ اٰل عمران : 102] ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ “ مسائل 1۔ بادشاہت عطا کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ 2۔ دنیا اور آخرت میں اللہ ہی کارساز ہے۔ 3۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ سے نیک لوگوں کا ساتھ طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اسلام ہی آخری دین ہے اور اسی پر قائم رہنے کا حکم ہے : 1۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیک لوگوں سے ملا دے۔ (یوسف : 101) 2۔ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ (آل عمران : 85) 3۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔ (آل عمران : 19) 4۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لوگو ! تمہیں اسلام پر ہی موت آنی چاہیے۔ (البقرۃ : 132) 5۔ آج کے دن تمہارے لیے تمہارا دین مکمل ہوا۔ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ (المائدۃ : 3) 6۔ کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : 83) 7۔ اپنے چہرے کو دین حنیف پر سیدھا کیے چلتے جاؤ۔ (الروم : 30)
Ayahs 12:102–104

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

” یہ غیب کی خبریں ہیں، جو ہم آپکی طرف وحی کرتے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنے کام کا پختہ ارادہ کیا اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے۔ “ (102) ”

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور آپ کے چاہنے کے باوجوداکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ “ (103) ”

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

حالانکہ آپ ان سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتے۔ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ “ (104)

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی آیت : 7 میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا ہے اگر تم غور کرو تو اس میں تمہارے لیے سامان عبرت ہے۔ پورا قصہ بیان کرکے اس کو مشرکین مکہ پر منطبق کردیا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا یہ ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ جو آپ کے لیے غیب تھا۔ یعنی آپ اس واقعہ کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ اس وقت موجود تھے جب برادران یوسف (علیہ السلام) نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ سازش کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مکہ والوں نے آپ سے سوال کیا۔ جس کے جواب میں ہم نے تفصیلی سورت آپ پر نازل فرمائی۔ یاد رکھیں آپ جتنا بھی ان کے ایمان کی کوشش اور تمنا کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ یہ لوگ سوچتے نہیں کہ آپ ان کی ہدایت کے لیے نہایت دلسوزی کے ساتھ صبح وشام محنت کر رہے ہیں اس پر آپ نے ان سے کوئی اجروصول نہیں کرنا۔ نبی اکرم ﷺ کی انتہائی کوشش تھی کہ لوگ شرک و بدعت اور ہر قسم کی رسومات چھوڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اس کے لیے رات کو اٹھ کر دعائیں کرتے اور دن کے وقت انتھک کوشش فرماتے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ لیکن آپ کے مخاطبین کی اکثریت کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ ﷺ سے دلیل یا معجزہ طلب کرتے جب ان کی خواہش پر کوئی معجزہ یا دلیل نازل ہوتی تو وہ قریب آنے کی بجائے پہلے سے بھی سے دور ہوجاتے تھے۔ اس پر آپ ﷺ کو مختلف الفاظ اور انداز میں تسلی دی جاتی کہ آپ دلگیر ہونے کی بجائے اپنا کام کرتے جائیں۔ یہاں آپ ﷺ کی تسلی کے لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ جس قدر چاہیں خواہش اور کوشش فرمائیں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ یا در ہے کہ ایمان ایسی گرانمایہ نعمت ہے جو خواہش اور کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ اے رسول ﷺ ! آپ کے لیے یہ بات بھی اطمینان بخش ہے کہ آپ ان سے کسی اجر کے طلب گار نہیں ہیں آپ کا اجر آپ کے رب کے پاس پوری طرح محفوظ ہے جو کسی طرح کم ہونے والا نہیں۔ اس کے ساتھ آپ کے مخالفین کو سمجھایا گیا ہے کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ نبی ﷺ جو بےلوث محنت کر رہے ہیں اس میں ان کا کیا مفاد ہے ؟ وہ تو اپنے دن رات تمہارے فائدے کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ جو کچھ وہ فرماتے اور آپ کو بتلاتے ہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے جس پر تمہیں ہر صورت غور کرنا چاہیے۔ مکر کا معنی دھوکہ، فریب، حیلہ و تدبیر اور سازش کرنا ہے اگر مکر کے لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ مسائل 1۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت موجودنہ تھے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے مکر کیا تھا۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی۔ 4۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ غیب نہیں جانتے تھے : 1۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف : 12) 2۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50 ) 3۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لیے ساری بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188) 4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمان و زمین کا غائب کوئی نہیں جانتا۔ ( النمل : 65) 5۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ (آل عمران : 179) 6۔ اللہ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اللہ کے علاوہ انھیں کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59) 7۔ کہہ دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : 20) 8۔ اللہ ہی غیب کو جاننے والا ہے اور وہ کسی پر غیب ظاہر نہیں ہوتا۔ (الجن : 26)
Ayahs 12:105–107

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

” اور آسمانوں اور زمینوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے گزرتے ہیں اور وہ ان پر توجہ نہیں دیتے۔ “ (105) ”

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان لانے کے باوجود وہ شرک کرنے والے ہوتے ہیں۔ “ (106) ”

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

تو کیا وہ بیخبر ہوگئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذاب میں سے کوئی چھا جانے والی آفت آپڑے یا ان پر قیامت اچانک آجائے اور وہ خیال بھی نہ کرتے ہوں۔ “ (107)

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے اہل مکہ کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے اس لیے سوال کرنے کو کہا کہ اگر آپ حقیقتاً نبی ہیں تو جواب دے پائیں گے۔ بصورت دیگر جھوٹے ثابت ہوں گے۔ اس واقعہ کا اختتام اس بات پر کیا جارہا ہے کہ یہ واقعہ ہی عبرت کی نشانی نہیں بلکہ زمین و آسمان اور آفاق میں بیشمار نشانیاں ان کے لیے موجود ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ لوگ رب کی ذات کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر رب ماننے کے باوجود اسے ایک الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کے مخالفین میں بالخصوص مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ پہلے وہ آپ ﷺ سے دلیل مانگتے جب انھیں دلیل دی جاتی، پھر اس سے یکسر اعراض کردیتے تھے۔ جس پر انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے لیے زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کو دیکھنے کے باوجود ان کی طرف توجہ نہیں دیتے ہو۔ مانتے ہو کہ سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے۔ اللہ کو خالق ماننے کے باوجود اس کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ آیت 106 میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ایمان کا دعوے دار ہونے کے باوجود مشرک ہوتی ہے۔ کیا یہ لوگ اس بات سے بےپروا ہوگئے ہیں کہ ان کو اللہ کا عذاب گھیرلے یا اچانک ان پر قیامت ٹوٹ پڑے اس حال میں کہ انہیں اس کی توقع بھی نہ ہو۔ آیت کا معنی و مفہوم : آیت سے مراد قرآن مجید کے فرمان کا کچھ حصہ عقلی یا نقلی دلیل، نبی اکرم ﷺ کو عطا ہونے والے معجزات، اللہ تعالیٰ کی قدرت وسطوت کے نشانات اور پہلی اقوام کے انجام کے واقعات ہیں۔ قرآن مجید نے اہل مکہ اور رہتی دنیا تک سب انسانوں کے لیے دلائل پیش فرمائے ہیں لیکن آپ کے مخالف اس قدرہٹ دھرم اور کم ظرف تھے کہ حقیقت جاننے کے باوجود اپنے کفرو شرک پر ڈٹے رہے حا لان کہ جب ان سے یہ پوچھا جاتا کہ زمین و آسمان کس نے پیدا کیے ہیں تو وہ واضح الفاظ میں کہتے کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے۔ ( العنکبوت : 16) پھر ان سے سوال ہو تاکہ آسمان سے بارش نازل کرنے والا کون ہے ؟ ان کا جواب ہوتا صرف اللہ ہی بارش نازل کرتا ہے۔ (العنکبوت : 63 ) جب یہ پوچھا جا تاکہ زمین و آسمان سے تمہیں کون رزق دیتا ہے۔ تمہیں کان اور آنکھوں کی نعمتیں کس نے عطا فرمائیں ہیں ؟ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کون پیدا کرتا ہے ؟ کائنات کا نظام کون چلا رہا ہے ؟ فوراً جواب دیتے کہ اللہ ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے۔ ( یونس : 31) اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایک صفت کا اقرار کرتے تھے اس کے باوجود مشرکین اپنے ہی بنائے ہوئے بتوں کو خدا کا اوتار سمجھتے۔ یہود و نصاری انبیاء ( علیہ السلام) اور بزرگوں کی ارواح کو خدا کی خدائی میں شریک سمجھ کر انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور وسیلہ مانتے اور ان کی طفیل مانگتے تھے۔ افسوس ان کی دیکھا دیکھی آج کے کروڑوں مسلمان بھی یہی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہیں حالانکہ اس عقیدہ اور طریقہ عبادت کی ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہے اور نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کیا یہ بےپروا اور بےخوف ہوچکے ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب ہر طرف سے گھیرلے یا پھر ان پر اچانک قیامت برپاہو جائے۔ جن کو یہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ان کو نہ عذاب سے بچاسکتا ہے اور نہ کوئی قیامت کو ٹال سکتا ہے۔ مسائل 1۔ کفار زمین و آسمان کی نشانیوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ 2۔ اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور قیامت کسی وقت بھی آسکتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ کا عذاب ظالموں کو اچانک آلیتا ہے : 1۔ کیا وہ بےفکر ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب یا قیامت اچانک آلے اور انہیں پتا بھی نہ ہو۔ (یوسف : 107) 2۔ ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ بیخبر تھے۔ ( الاعراف : 95 ) 3۔ ہم ان کے پاس اچانک عذاب لے آئیں گے اور انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔ (العنکبوت : 53 )
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

” فرما دیں یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے، اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں۔ “ (108)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کے ایمان کی نفی کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی دعوت کی وضاحت اور آپ کے طریقہ دعوت کی تشریح پیش کی جاتی ہے۔ اے نبی ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے۔ نہایت دانائی اور خدا دادبصیرت کے ساتھ یہی میرے متبعین کا راستہ اور دعوت ہے۔ ان کو بتادیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے اور ہم کسی طرح بھی مشرکین سے نہیں ہیں۔ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی زبان اطہر سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ خود یہ اعلان فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت یہ ہے کہ میں لوگوں کو نہایت دانائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤں۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عقیدہ کے متعلق جتنی اہم باتیں ہیں۔ ان کے اظہار کے لیے پہلے قل کا لفظ لایا جاتا ہے۔ حالانکہ سارا قرآن اور شریعت نبی اکرم ﷺ نے ہی بیان کی ہے۔ آپ کی بیان کردہ ہر بات اہم اور واجب الاتباع ہے لیکن اس کے باوجود بنیادی اور مرکزی باتوں کے لیے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ! آپ اعلان فرمائیں کہ میری زندگی کا مشن یہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں میں خدا داد بصیرت کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا رہوں۔ اللہ کی طرف بلانے کا معنی اس کی توحید اور احکام کی طرف دعوت دینا ہے۔ جو میرا سچا فرمانبردار ہے اس کا بھی یہی راستہ ہے اور ہونا چاہیے۔ ہمارا مشرکوں کے ساتھ کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے۔ مشرک کے ساتھ رشتہ نہ رکھنے کا صرف یہ مطلب نہیں ایک سچے امتی کا مشرکوں جیسا عقیدہ اور عمل نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن مجید نے مشرکوں سے نکاح حرام قرار دیا اور ان سے قلبی محبت سے منع کیا ہے۔ (البقرۃ : 221) داعی کی چیدہ چیدہ صفات : 1۔ داعی کو وحی الٰہی کی پیروی کرنا چاہیے۔ (یونس : 15) 2۔ داعی کو سب سے پہلے مسلمان یعنی ” اللہ “ کا تابع دار ہونا چاہیے۔ (الانعام : 163) 3۔ داعی کا لباس پاک صاف ہونا چاہیے۔ (المدثر : 4) 4۔ داعی کو لالچ سے گریز کرنا چاہیے۔ (المدثر : 6) 5۔ داعی کو ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہیے۔ (المدثر : 2) 6۔ داعی کو حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ دعوت دینا چاہیے۔ (النحل : 125) 7۔ داعی کو برائی کا جواب برائی سے نہیں دینا چاہیے۔ (حم السجدۃ : 34) 8۔ داعی کو صابر ہونا چاہیے۔ ( المدثر : 7) 9۔ داعی کو عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ (یونس : 16) مسائل 1۔ نبی کریم ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ 3۔ رسول کریم ﷺ مشرکوں سے برأت کا اظہار فرماتے تھے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کا شرک سے براءت کا اظہار : 1۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : 108 ) 2۔ کہہ دیجیے اللہ ایک ہے بیشک میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19 ) 3۔ حضرت ابراہیم نے کہا اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : 78 ) 4۔ ھود (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی بنالو میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : 54 ) 5۔ بیشک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہے۔ (التوبۃ : 3 ) 6۔ ابراہیم نے اپنی قوم سے کہا ہم تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے بری الذمہ ہوں۔ (الممتحنۃ : 4)
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

” اور ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد، جو ان ہی بستیوں کے رہنے والے تھے اور انھی کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے، تو کیا وہ چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے ؟ “ (109)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین، نہ صرف اللہ کو ایک الٰہ نہیں ماننے تھے بلکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بشر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ نبی انسان ہونے کی بجائے مافوق البشر ہستی ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ دیا ہے کہ توحید اور بشریت کے بہانے نبوت کا انکار کرنے والوں کا انجام دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ توحید و رسالت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اگر تم بھی انکار کی روش اختیار کیے رکھو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ اے رسول ﷺ ! آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب انسان تھے۔ اور انہی علاقوں اور قوموں سے تعلق رکھتے تھے جن میں انہیں مبعوث کیا گیا تھا۔ کیا لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ دنیوی مفادات کی خاطر انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیا لوگ نہیں سوچتے کہ انہیں دنیا کی بجائے آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔ یہ حقیقت قرآن مجید با رہا دفعہ بیان کرتا ہے کہ جتنے رسول دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سب کے سب نہ صرف انسان تھے بلکہ اپنی اپنی قوم سے تعلق رکھتے اور انہی کی زبان میں بات کرنے والے تھے۔ قرآن مجید عربی میں اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبی آخرالزماں ﷺ عربی النسل تھے۔ اہل مکہ اس بات پر ناز کرنے کی بجائے تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ عجیب معاملہ ہے کہ ہمارے جیسا انسان نبی بنا دیا گیا ہے اور وہ ہماری زبان میں بات کرتا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کے ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ نبی کے انسان ہونے اور اپنی قوم میں مبعوث ہونے کے کیا فوائد ہیں ؟ اگر نبی قومی زبان کی بجائے کوئی اور زبان بولنے والا کسی دوسری جنس سے ہوتا تو نبی اور اس کی امت کو بات سمجھنے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے میں جو مشکلات پیش آتیں ان کا یہ لوگ تصور بھی کرسکتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ آدمیوں میں سے جس کو چاہے نبی بنائے اور جس قوم اور بستی میں نبی مبعوث کیا جائے اس کے لیے یہ طرۂ امتیاز ہے جس کا کوئی قوم مقابلہ نہیں کرسکتی قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تمام نبی مرد تھے۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی نہ صرف فرشتوں میں نہیں تھے بلکہ کسی عورت کو بھی نبوت کے مقام پر فائز نہیں کیا گیا۔ مگر لوگ اس حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے احسان عظیم پر غور نہیں کرتے۔ یہاں نبی کی بشریت کے دلائل دینے کی بجائے صرف اتنا فرمایا ہے کہ انہیں عقل سے کام لینا چاہیے کہ جن لوگوں نے نبی کی نبوت اور بشریت کو جھٹلایا ان کا دنیا میں کیا انجام ہوا ہے بلکہ دنیا کے ساتھ ان کی آخرت بھی برباد ہوگئی۔ (عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ )[ معجم الاوسط ] ” حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردیں گے۔ محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے آخرت کو اپنے لیے بڑی فکر سمجھ لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پید افرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ تمام رسول مردوں میں سے تھے۔ 2۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ وحی فرماتے تھے۔ 3۔ زمین میں سیر و سیاحت کر کے پہلے لوگوں کا انجام دیکھنا چاہیے۔ 4۔ آخرت کا گھر تمام دنیا سے بہتر ہے۔ 5۔ آخرت کا گھر متقین کے لیے ہے۔ تفسیر بالقرآن آخرت کا گھر کن لوگوں کے لیے ہے : 1۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (یوسف : 109 ) 2۔ مومنوں کے لیے سلامتی والا گھر ہے اور اللہ ان کا دوست ہوگا۔ (الانعام : 127 ) 3۔ متقین کے لیے آخرت کا گھربہتر ہے کیا لوگ عقل نہیں کرتے۔ (الاعراف : 169 ) 4۔ صبر کرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ (الرعد : 24 )
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

” یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو ان کے پاس ہماری مدد آئی پھر جسے ہم نے چاہا اسے بچا لیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاسکتا۔ “ (110)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید، انبیاء کی نبوت اور بشریت کے واضح دلائل آنے کے باوجود کفار نے انبیاء کے ساتھ مقابلہ اور مکالمہ جاری رکھا۔ یہ کشمکش اس قدر شدید تھی کہ انبیاء (علیہ السلام) کو یقین ہونے لگا کہ انہیں یکسر طور پر جھٹلا دیا گیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوئی۔ اس آیت مبارکہ کے ترجمہ اور تفسیر میں اہل علم کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ تفسیر کے حوالے سے قرآن مجید کا یہ مشکل ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ (حَتّٰی اِذَا اسْتَیْءَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا )[ یوسف : 111] ” یہاں تک کہ رسول مایوس ہوگئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلادیے گئے ہیں۔ “ بعض مترجمین نے (قَدْکُذِبُوْ ا) کا ترجمہ کیا ہے کہ انبیاء نے خیال کیا ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ کی تین طرح تفسیر کی گئی ہے۔ 1۔ جب اللہ کی رحمت سے رسول مایوس ہوگئے تو انہوں نے خیال کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ بیشک کچھ لوگوں نے صرف نحو کے حوالے سے یہ معنی لینے کی کوشش کی ہے کہ لیکن انبیاء کے مرتبہ و مقام اور ایمان و ایقان کے پیش نظر یہ ترجمہ لینا مناسب نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید نے اسی سورة میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے بتلایا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو مصر میں روک لیا اور باقی بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے سارا معاملہ سن کر فرمایا جاؤ۔ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔ (یوسف : 87) اس بنیاد پر مذکورہ بالا ترجمہ اور مفہوم لینا نہایت ہی غلط ہے۔ 2۔ دوسری جماعت نے (قَدْکُذِبُوْاوَظَنُّوْا) یہ مفہوم لیا ہے کہ جب اللہ کے رسول کفار کے ایمان نہ لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے گمان کیا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا ہے تب اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوئی اور کفار کو تہس نہس کردیا گیا۔ 3۔ تیسری جماعت نے اس سے مرادمومن لیے ہیں کہ جب ایمان والوں کو یقین ہوگیا کہ ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے۔ باربار مطالبہ کے باوجود عذاب نہ آیا تو کفار نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ عذاب کا جو وعدہ کیا جاتا رہا ہے وہ جھوٹ تھا۔ کفار کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر ایمانداروں کے دلوں میں یہ گمان پیدا ہوا کہ واقعی عذاب کا وعدہ جھوٹا ثابت ہو رہا ہے۔ یعنی مومنوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں ایسا خیال کرنا شروع کردیا۔ تب اللہ کا عذاب آن پہنچا۔ یاد رہے کہ یہاں ظن کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ لفظ عربی میں گمان اور یقین دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں اس کا معنی گمان لیا جائے۔ مومنوں کے دل میں ایسا گمان پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔ یاد رہے گمان پیدا ہونے پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ میرے نزدیک دوسرے نمبر والی تفسیر بہتر ہے۔ (اللہ اعلم ) (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِیْ مَا وَسْوَسَتْ بِہٖ صُدُوْرُھُا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِہٖ اَوْ تَتَکَلَّمْ )[ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ : بَاب الطَّلاَقِ فِی الإِغْلاَقِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے برے خیالات کو معاف کردیا ہے بشرطیکہ ان کے مطابق عمل اور گفتگو نہ کی جائے۔ “ حضرت عائشہ ؓ کی تفسیر : 3۔ حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کی تفسیر بالخصوص (قَدْکُذِبُوْا) کے الفاظ کی تشریح کے بارے میں سوال کیا جس کا تذکرہ حضرت امام بخاری (رح) نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ (عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ لَہٗ وَہُوَ یَسْأَلُہَا عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالَی (حَتّٰی إِذَا اسْتَیْأَسَ الرُّسُلُ ) قَالَ قُلْتُ أَکُذِبُوا أَمْ کُذِّبُوْا قَالَتْ عَاءِشَۃُ کُذِّبُوْا قُلْتُ فَقَدِ اسْتَیْقَنُوْٓا أَنَّ قَوْمَہُمْ کَذَّبُوہُمْ فَمَا ہُوَ بالظَّنِّ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِیْ لَقَدِ اسْتَیْقَنُوْا بِذَلِکَ فَقُلْتُ لَہَا وَظَنُّوْٓا أَنَّہُمْ قَدْ کُذِبُوْا قَالَتْ مَعَاذ اللّٰہِ لَمْ تَکُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذٰلِکَ بِرَبِّہَا قُلْتُ فَمَا ہٰذِہِ الآیَۃُ قَالَتْ ہُمْ أَتْبَاع الرُّسُلِ الَّذِیْنَ آمَنُوْٓا بِرَبِّہِمْ وَصَدَّقُوْہُمْ ، فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْبَلاَءُ ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْہُمُ النَّصْرُ حَتَّی اسْتَیْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ کَذَّبَہُمْ مِنْ قَوْمِہِمْ وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَہُمْ قَدْ کَذَّبُوہُمْ جَآءَ ہُمْ نَصْرُ اللّٰہِ عِنْدَ ذٰلِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قول حتی اذاستیاس ] ” ابن شہاب کہتے ہیں۔ مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے اس سے فرمایا۔ وہ اللہ کے اس فرمان (حَتّٰی إِذَا اسْتَیْأَسَ الرُّسُلُ ) کے بارے میں سوال کررہے تھے۔ حضرت عروہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا وہ جھوٹ بولے گئے یا پھر جھٹلائے گئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ وہ جھٹلائے گئے۔ میں نے عرض کی کیا انہوں نے یقین کرلیا کہ وہ جھٹلائے گئے پھر ظن کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں میری عمر کی قسم ! انہوں نے اس بات کا یقین کرلیا۔ میں نے کہا تو پھر انبیاء نے بھی یقین کرلیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کی پناہ رسول اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان نہیں کرسکتے۔ میں نے پھر پوچھا تو اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے رسولوں کی اتباع اور تصدیق کی۔ جب طویل مدت تک مومنوں پر آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوگئی۔ انبیاء (علیہ السلام) کفار کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے۔ (یعنی جب کفار کی طرف سے انبیاء مایوس ہوگئے اور ایمان والوں نے یہ خیال کیا کہ ان پر ایمان لانے والے بھی گمان کرنے لگے ہیں کہ شاید انبیاء ( علیہ السلام) نے جھوٹ بولا ہے) انہوں نے گمان کرلیا کہ ان کے متبعین نے ان کو جھٹلا دیا ہے تو اس وقت ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اپنی مدد نازل فرماتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے عذاب سے نجات عطا فرماتا ہے۔ 4۔ مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی آزمائش فرماتا ہے : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا۔ (البقرۃ : 124) 2۔ مومنوں کو سخت آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا گیا۔ (الاحزاب : 11) 3۔ ہم تمہیں آزمائیں گے تاکہ جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں میں امتیاز ہو سکے۔ (محمد : 31) 4۔ اگر اللہ چاہتاتو تمہاری ضرور مدد فرماتا۔ لیکن اللہ بعض کو بعض کے ساتھ آزماتا ہے۔ (محمد : 4) 5۔ اللہ تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے ساتھ ضرور آزمائے گا۔ (آل عمران : 186) 6۔ حضرت ابراہیم کا حضرت اسماعیل کو ذبح کرنا بہت بڑی آزمائش تھی۔ (الصٰفٰت : 106) 7۔ اللہ نے پہلے لوگوں کو آزمایا اور تمہیں بھی آزمائے گا۔ (العنکبوت : 2)
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

” بلاشبہ ان کے واقعات میں عقلوں والوں کے لیے ایک سبق ہے، یہ ہرگز ایسی بات نہیں جو بنالی گئی ہو اور یہ اس کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ “ (111)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رسول مکرم ﷺ سے اہل مکہ نے اس ذہن کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ کہ آپ ﷺ اس کا ٹھیک ٹھیک جواب نہیں دے پائیں گے اور ہماری یہ بات سچ ثابت ہوگی کہ یہ نبی اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ اہل مکہ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ فرمادیا گیا کہ جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے لیے عبرت کی بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ (یوسف : 7) اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جا رہا ہے۔ جس کا اشارہ ابتدا میں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ ان واقعات میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت ساسامان عبرت موجود ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی عقل استعمال کریں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے بیان میں یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ یہ قرآن حضرت محمد ﷺ کی طرف سے بنائی ہوئی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جسے اس نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا یہ بھی واضح ثبوت ہے کہ اس میں جو احکام اور واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ وہ تورات، انجیل اور زبور کے حقیقی احکام اور واقعات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس قرآن میں ہدایت کے مفصل دلائل دیے گئے ہیں جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیکر ہیں۔ سوال کرنے والوں کے لیے عبرت کے دلائل : 1۔ اہل مکہ نے نبی اکرم ﷺ کو لاجواب کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں خود لاجواب ہوئے اور انہیں شرمندگی اٹھانا پڑی۔ 2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی طرح اہل مکہ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر رسول اکرم ﷺ کو ناکام کرنے اور آپ ﷺ کی دعوت کو مٹانے کی کوشش کی۔ جس میں وہ برادران یوسف کی طرح ناکام رہے۔ 3۔ بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازش کی۔ جس میں وہ ناکام ہوئے۔ اسی طرح اہل مکہ نے آپ ﷺ کے خلاف ہجرت اور دوسرے مواقعوں پر سازشیں کی۔ جس میں وہ ہر بار ناکام ہوئے۔ 4۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں صبر کیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشیاں نصیب فرمائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اہل مکہ کے جبرو تشدد کے مقابلہ میں صبر سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں۔ 5۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صبر و حوصلہ کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کا اقتدار عطا فرمایا۔ نبی معظم ﷺ نے کفار کے مظالم کے مقابلے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل مکہ اور پورے عرب پر غلبہ عطا فرمایا۔ 6۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ بھی نبی معظم ﷺ سے بھی معافی کے خواستگار ہوئے۔ 7۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی درخواست پر (لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ) کہتے ہوئے معاف کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے انہی الفاظ کے ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر اہل مکہ کو معاف فرمایا۔ مسائل 1۔ حضرت یوسف کے واقعہ میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ 2۔ قرآنی واقعات لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہیں۔ 3۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ 4۔ قرآن مجید میں انسان کی ہدایت کے متعلق ہر بات کی تفصیل ہے۔