Ayahs 12:22–23فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عزیز مصر کے گھر امور مملکت کی تربیت پاتے ہوئے نوجوان ہونا۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوان رعنا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و دانش اور امور مملکت کی جان پہچان سے نوازا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) 23 سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس عرصہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لیاقت، دیانت اور احساس ذمہ داری سے عزیز مصر اور اس کے اہل خانہ اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ سے کیوں نہ متاثر ہوتے جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں پرورش پا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ جس شخصیت کو اپنا رسول بنانا چاہتا ہے وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوا کرتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے کہ جونہی یوسف جوان ہوئے تو ہم نے اسے علم و حکمت سے نوازا۔ اس فرمان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کے گھر ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ علم و حکمت اور امور مملکت کے مشاہدات کیے۔ مؤرخین نے عزیز مصر کی بیوی راعیل اور زلیخا لکھا۔ لیکن قرآن مجیدنے اس کی پردہ پوشی کے لیے نام نہیں لیا۔ جب یوسف (علیہ السلام) حسن و جمال اور عالم شباب کو پہنچے تو عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف کو برائی کے لیے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ نہ معلوم وہ کس کس انداز اور نخرے کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ورغلانے کی کوشش کرتی رہی۔ جب تمام کوششوں میں ناکام ہوئی تو اس نے آخری قدم اٹھاتے ہوئے ایک دن حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کسی بہانے اپنے شب خانہ میں بلایا۔ جونہی حضرت یوسف (علیہ السلام) اس جگہ پہنچے تو اس نے نامعلوم طریقے کے ساتھ اس کمرے تک پہنچنے والی راہداری اور اس کے ملحقہ کمروں کو مقفل کردیا۔ عزیز مصر کے محل کا نقشہ سمجھنے کے لیے آج کے بنگلوں اور محلات کے نقشوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
جب اس نے ہر دروازہ مقفل کرلیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ہیجانی اور جذباتی انداز میں کہا کہ آجاؤ اب تو کوئی نہیں دیکھتا۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے بڑے ہی وقار اور حیادار لہجے میں فرماتے ہیں کہ ” اللہ کی پناہ “ یعنی اللہ مجھے بچائے۔ جس نے مجھے بہترین قیام وطعام بخشا ہے۔ میں ایسی حرکت کیونکر کرسکتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو کامیابی نہیں دیتا۔
یہاں ظلم سے مراد اللہ تعالیٰ کی حد کو توڑنا ہے اور بدکاری کرنا ہے۔ بدکار ایک طرف اللہ تعالیٰ کی حد کو توڑ کر ظلم کرتا ہے۔ دوسری طرف اپنی حیا کو تار تار کرتے ہوئے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ جس سے زانی اور زانیہ دونوں کے خاندانوں کے وقار پر دھبہ لگتا ہے۔ اکثر اوقات مال ضائع ہونے کے علاوہ قتل جیسے سنگین جرائم جنم لیتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس لیے بھی اس حرکت کو ظلم قرار دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی احسان فراموشی کے علاوہ عزیز مصر کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی کہ اس نے مجھ جیسے غلام کو بیٹوں کی طرح پالا اور میں غلام ہو کر اپنے آقا کی عزت کو تار تار کروں یہ بڑا ہوگا۔ جس سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(إِنَّہٗ رَبِّیْٓ أَحْسَنَ مَثْوَایَ )[ یوسف : 23]
” بیشک وہ میرا رب ہے۔ اس نے میرا ٹھکانہ اچھابنایا ہے۔ “
رب سے مراد بعض مفسرین نے عزیز مصر لیا ہے۔ کیونکہ عربی میں یہ الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں جیسے رب البیت وغیرہ۔ اسی کے پیش نظر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عمومی زبان استعمال کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے رب یعنی عزیز مصر نے مجھے بہت بڑا مقام دیا ہے اگر میں اس کی اہلیہ کے ساتھ بدکاری کروں تو بہت بڑی زیادتی اور ظلم ہوگا۔ دوسرے اہل علم اس معنی کی نفی کرتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنانا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی ” میرا رب “ کے الفاظ نہیں کہہ سکتا۔ میرا ذاتی خیال بھی یہ ہے کہ پیغمبر کی شان اور اس کے عقیدہ کے خلاف ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو ” میرا رب “ کہہ۔ بیشک رب کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن نبی کے لائق نہیں کہ وہ ” اللہ “ کے سوا کسی اور کے لیے یہ لفظ استعمال کرے۔ لہٰذا حضرت یوسف کی مراد حقیقی رب تھا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو علم و حکمت عطا فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو صلہ عطا فرماتا ہے۔
3۔ یوسف (علیہ السلام) نے گناہ سے بچنے کے لیے اللہ سے پناہ طلب کی۔
4۔ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔
تفسیر بالقرآن
ظالم حقیقی کامیابی نہیں پایا کرتا :
1۔ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (یوسف : 23) 2۔ ظالموں کے لیے تباہی ہے۔ (نوح : 28)
3۔ ظالموں کی بستی کو الٹا کر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ (العنکبوت : 31)
4۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر : 17) 5۔ ظالم کامیابی نہیں پائیں گے۔ (الانعام : 21)
6۔ مجرم فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 17)
7۔ ظالموں کا کوئی ولی اور مددگار نہیں ہوگا۔ (الشعراء : 8)
8۔ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ہم رسول کی راہ اختیار کرتے۔ (الفرقان : 27)
9۔ قیامت کے دن ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہوں گے۔ (مریم : 38)
Ayah 12:24فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
پچھلی آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عظیم امتحان کا ذکر ہوا۔ اس آیت میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ زلیخا تو گناہ کے خیال میں لگی ہوئی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بھی انسانی فطرت کے تقاضے سے کچھ کچھ غیر اختیاری میلان پیدا ہونے لگا مگر اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت اپنی برہان یوسف (علیہ السلام) کے سامنے کردی جس کی وجہ سے غیر اختیاری میلان آگے بڑھنے کی بجائے ختم ہوگیا۔
اس آیت میں لفظ ” ہَمَّّ “ بمعنی خیال یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا دونوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ زلیخاکو گناہ کا خیال تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کے متعلق بھی اسے ہی خیال کا وہم ہوسکتا تھا اور یہ باجماع امت شان نبوت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جمہورعلماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء کبیرہ، صغیرہ ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ کبیرہ گناہ نہ تو قصدًا ہوسکتا ہے اور نہ سہواً ہوسکتا ہے۔ البتہ صغیرہ گناہ سہواً وخطا کے طور پر سرزد ہونے کا امکان ہے۔ مگر اس پر بھی انبیاء (علیہ السلام) کو قائم نہیں رہنے دیا جاتا۔
عربی زبان میں لفظ ” ہَمَّ “ دو معنوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
1۔ کسی کام کا پختہ ارادہ اور عزم کرلینا۔
2۔ محض دل میں وسوسہ اور خیال کا پیدا ہونا جو انسان کے اختیار میں ہوتا نہ اس پر کوئی مواخذہ اور گناہ ہے۔
معلوم ہوا کہ اگرچہ آیت میں لفظ ” ہَمَّ “ زلیخا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) دونوں کے لیے بولا گیا مگر ان دونوں کے ” ہَمَّ “ میں بڑا فرق ہے۔ پہلاہَمَّ گناہ ہے اور دوسرا ہَمَّ غیر اختیاری وسوسہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد جو ارشاد فرمایا ” لولا ان لا برہان ربہ “ اس کی جزا محذوف ہے اور معنیٰ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھتے تو اس خیال میں مبتلا ہوجاتے۔
قرآن کریم نے یہ واضح نہیں فرمایا کہ جو ” برہان ربی “ یوسف (علیہ السلام) کے سامنے آئی وہ کیا تھی ؟ اسی لیے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد، سعید بن جبیر، محمد بن سیرین، حسن بصری وغیرہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس خلوت گاہ میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت اس طرح سامنے کی کہ وہ اپنی انگلی اپنے منہ میں دبائے ہوئے یوسف کو متنبہ کر رہے تھے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ عزیز مصر کی صورت ان کے سامنے کردی۔ بعض نے فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نظر چھت پر پڑی جس پر لکھا ہوا تھا ” لَاتَقْرَ بُوْالزِنٰی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیْلاً “ بعض مفسرین نے فرمایا کہ زلیخا کے کمرہ میں ایک بت تھا۔ اس نے بت پر پردہ ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) نے وجہ پوچھی اس نے کہا کہ یہ میرا معبود ہے۔ اس کے سامنے گناہ کرنے کی اجازت نہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا معبود اس سے زیادہ کا مستحق ہے۔ اس کی نظر کو کوئی پردہ نہیں روک سکتا۔ بہر حال حضرت یوسف (علیہ السلام) نے برہان دیکھی جس سے ان کے دل سے وسوسہ جاتارہا۔
(کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوٓءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ )[ یوسف : 24]
” یعنی ہم نے یوسف کو یہ برہان اس لیے دکھائی کہ ان سے برائی اور بےحیائی کو ہٹا دیں۔ کیونکہ یوسف (علیہ السلام) ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے ہیں۔ “
لفظ مخلصین اس جگہ بفتح لام مخلص کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ منتخب کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصلاح خلق کے لیے انتخاب فرمایا ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظتی پہرہ ہوتا ہے کہ وہ کسی برائی میں مبتلا نہ ہوسکیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو لفظ سوء اور فحشاء کے استعمال فرمائے ہیں۔ سوء کے لفظی معنیٰ برائی کے ہیں۔ مراد اس سے صغیرہ گناہ ہے اور فحشاء کے معنی بےحیائی کے ہیں اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کبیرہ اور صغیرہ دونوں قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھا۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ ابتلاء پیش آئی تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ آپ کا یہ مخلص بندہ گناہ کے خیال میں ہے حالانکہ وہ اس کے وبال کو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انتظار کرو۔ اگر وہ گناہ کرلے تو جیسا کرے۔ وہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دو اور اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو اس کے نامۂ اعمال میں گناہ کے بجائے نیکی لکھ دو کیونکہ اس نے میرے خوف سے اپنی خواہش کو چھوڑدیا ہے۔ ( رواہ مسلم : باب اذا ہم العبد بحسنۃ )
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے گناہ کے وسوسہ اور خیال کو معاف کردیا ہے۔ جبکہ وہ اس پر عمل نہ کرے۔ (رواہ مسلم : تجاوز اللہ عن حدیث النفس والخواطر باتقلب اذالم تستقر)
مسائل
1۔ عزیز مصر کی بیوی نے برائی کا ارادہ کرلیا تھا۔
2۔ یوسف (علیہ السلام) کو برہان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے برائی سے بچالیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو برائی اور بےحیائی سے دور رکھتا ہے۔
4۔ یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے مخلص بندے :
1۔ اللہ اپنے مخلص بندوں کو برائی اور بےحیائی سے بچاتا ہے۔ (یوسف : 24)
2۔ رسول اللہ کو مخلص لوگوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا۔ (الکہف : 28)
3۔ تم خالص اللہ کو پکارو اگرچہ یہ بات کفار کو ناگوار گزرے۔ (المومن : 14)
4۔ شیطان نے کہا تیرے مخلص بندوں کے سوا تمام کو گمراہ کروں گا۔ (الحجر : 40)
5۔ شیطان نے کہا تیری عزت کی قسم تیرے مخلص بندوں کے علاوہ سبھی کو گمراہ کروں گا۔ (ص : 83)
6۔ فرما دیجیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خالصتاً اللہ کی عبادت کروں۔ (الزمر : 11)
7۔ جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے۔ اللہ کے خاص بندوں کے سوا۔ (الصٰفٰت : 128)
Ayahs 12:25–29فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ جس نے آپ کی اہلیہ کے ساتھ برا ارادہ کیا ہو۔ ہاں اس کی سزا تو جیل بھیجنا یا اس سے بھی سخت ترین سزا ہونی چاہیے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) فوراً فرماتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ اس عورت نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ عورت کے خاندان میں ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہے۔ تو عورت سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔ اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹی اور یوسف سچ کہتا ہے۔ جب یوسف (علیہ السلام) کی قمیص دیکھی گئی تو وہ پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔ جس پر عزیز مصر نے کہا یہ عورتوں کی ایک چال اور مکرو فریب ہے۔ بلاشبہ تمہارا مکرو فریب بڑا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بڑی عاجزی سے کہا جو ہونا تھا ہوگیا۔ اس بات کو آگے بڑھانے کے بجائے جانے دیجیے پھر اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ تجھے اپنے گناہ کی معافی مانگنی چاہیے۔ یقیناً تو ہی خطاکار ہے۔
اس موقعہ پر عزیز مصر نے انتہائی دانش مندی اور حوصلہ سے کام لیتے ہوئے معاملے کو نپٹانے کی کوشش کی۔ تاکہ مزیدبدنامی سے بچا جاسکے۔ مگر معاملہ تین کے بجائے چوتھے آدمی تک پہنچ چکا تھا۔ ظاہر ہے کہ بڑے لوگوں کے محلات میں کئی نوکر اور خادمائیں ہوا کرتی ہیں۔ ان حالات میں بات کا پھیلنا یقینی ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے قاضی سلیمان منصور پوری سیشن جج آف ریاست پٹیالہ لکھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ہوشیار شخص تھا، اور اس نے جو طریق استدلال اختیار کیا۔ وہ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ شخص بالکل عورت کی حمایت میں تھا۔ اگر ہم عورت کے اس بیان کو مروجہ قانون کے تحت لائیں تو یہ ایک استغاثہ اقدام زنا بالجبر کا تھا۔ استغاثہ کی صداقت خود مستغیثہ کے بیان اور حالت سے ہونی چاہیے تھی۔ جس میں عورت کے لباس اور جسم کو دیکھا جاتا۔ تشدد کے نشانات تلاش کیے جاتے ہیں۔ لیکن رائے دہندہ چونکہ عورت کے گھرانے کا تھا۔ اس لیے اس نے تحقیقات کا یہ حقیقی پہلو اختیار ہی نہیں کیا۔ بلکہ عورت کے خالی خولی بیان کو مان کر حضرت یوسف (علیہ السلام) پر صفائی کا بار ڈال دیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندہ کی عفت و عصمت کو واضح کرنا تھا۔ ورنہ طریقہ تحقیقات خالی از تعصب ہرگز نہ تھا۔
اب قانون کی دوسری بات سمجھو کہ اس شاہد نے دریافت اصلیت کے لیے ایک قرینہ کو اختیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہی امر سکھلانے کے لیے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ جب شہادت واقعہ موجود نہ ہو تب قرائن کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور فقدان شہادت اصلیہ کے وقت قرائن صحیحہ اور قیاسات قریبہ بھی شہادات کا کام دے جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے عمر فاروق اور علی مرتضیٰ ؓ کے فیصلہ جات کو پڑھا ہے۔ جن لوگوں کی نظر قاضی کعب بن سرازدی اور قاضی شریح بن الحارث کندی اور قاضی ایاس بن معاویہ مزنی اور فقیہ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے فیصلہ جات تک پہنچی ہے وہ جانتے ہیں کہ آئمۂ اسلام نے کس عمدگی سے اس اصول کا استعمال کیا ہے اور وہ فراست صادقہ کی شمولیت سے حقیقت اصلیہ کا انکشاف عمدگی سے کیا کرتے تھے۔ (سیرت رحمت اللعلمین)
مسائل
1۔ برائی سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
مکر کا مفہوم :
1۔ بیشک یہ تیری تدبیر ہے عورتوں کا مکر بہت بڑا ہوتا ہے۔ (یوسف : 28)
2۔ بیشک یہ مکر ہے جو تم نے شہریوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے کیا ہے۔ (الاعراف : 123)
3۔ اللہ نے اسے ان کی خفیہ تدبیروں سے محفوظ رکھا۔ (المومن : 45)
4۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی تدبیر کی اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (الانفال : 30)
5۔ ان کے مکر کا انجام دیکھو ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : 51)
Ayahs 12:30–32فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عزیز مصر کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے باوجود بات امراء کے گھروں تک پہنچی۔
جوں جوں بات امراء کے گھرانوں میں پہنچتی گئی ہر عورت نے اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرہ کیا۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر جذباتی اور بیوقوف ہے کہ وہ زر خرید غلام پر فریفتہ ہوچکی ہے۔
” شَغَفَھَاحُبًّا “ کے بارے میں اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کے اندر وہ خلا، حلقہ یا وہ ہلکی سی جھلی ہے جو دل کے اوپر دکھائی دیتی ہے۔
اس کا معنٰی دل پر محبت کی چوٹ لگنا بھی لیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی پر حضرت یوسف کی غالب ہوچکی تھی اور وہ اپنے زر خرید غلام کے ہاتھ اپنا دل ہار بیٹھی۔ جب ان باتوں کا عزیز مصر کی بیوی کو علم ہوا تو اس نے تمام عورتوں کو ایک دعوت میں مدعو کیا۔ جس میں شاندار طریقے کے ساتھ تکیے سجائے گئے اور ہر کسی کے سامنے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ پھل رکھتے ہوئے ایک ایک چھری رکھ دی گئی۔ ممکن ہے اس وقت بھی چھری کانٹے سے کھانے کا رواج ہو۔ اس کے بعد عزیز مصر کی بیوی نے کسی بہانے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان عورتوں کے سامنے بلایا۔ جب یوسف (علیہ السلام) اندر آئے تو عورتوں نے نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو خودسپردگی کے عالم میں اپنے ہاتھ زخمی کرلیے۔ اس کے ساتھ ہی بےساختہ ان کے منہ سے نکلا۔ یہ بشر نہیں بلکہ ایک معزز فرشتہ ہے۔ ان کے جذبات دیکھ کر اس عورت کو اور حوصلہ ملا۔ جس بنا پر اس نے سب کے سامنے کھل کر کہا کہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ تم نے دیکھ لیا کہ یوں ہی نہیں میں نے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ بچ نکلا۔ اگر اس نے اب میری حکم عدولی کی تو اسے جیل خانہ میں ڈال کر ذلیل کیا جائے گا۔ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کو دیکھتے ہی نہ صرف انہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے بلکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و صورت سے متاثر ہو کر ایک دوسرے سے بڑھ کر فریفتہ ہو رہی تھیں۔ گویا کہ یہاں یک نہ شد دو شد سے بھی معاملہ کہیں آگے گزر چکا تھا۔
لیکن دوسری طرف اس ماہ جبیں کی کیفیت یہ تھی کہ نگاہیں زمین پر گڑھی ہوئی تھیں۔ گناہ کے ماحول سے پریشان اور اللہ کے ڈر سے خوفزدہ ہو کر دل ہی دل میں اللہ کی پناہ مانگ رہے ہیں۔ اس واقعہ سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اس زمانے میں مصر کے پوش محلوں اور (ہائی جینٹری) High Gentry کی اخلاقی حالت کیا تھی کہ سر عام اور کھلے الفاظ میں ایک نہیں سب بیگمات خود سپردگی کی کیفیت میں ایک غیر محرم کے سامنے نسوانی جذبات کا اظہار کر رہی ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے پرستار انہیں روکنے ٹوکنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس طرح آج یورپ، امریکہ بلکہ بعض اسلامی ملکوں میں بھی یہ ماحول پیدا ہوچکا ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں کرسکتا۔
حسن یوسف :
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ ۔۔ ثُمَّ عَرَجَ بِیْٓ إِلَی السَّمَآء الثَّالِثَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ
فَقِیْلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِیْلُ قِیْلَ وَمَنْ مَّعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ ﷺ قِیْلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِیُوْسُفَ إِذَا ہُوَ قَدْ أُعْطِیَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ )
[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب الاسرا ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔ پھر مجھے تیسرے آسمان پر چڑھایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوانا چاہا پوچھا گیا کون ہے جواب ملا جبرائیل۔ پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے محمد ﷺ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کو لینے کے لیے بھیجا گیا تھا جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا ہاں انہیں لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ دروازہ کھول دیا گیا وہاں یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری کائنات کے حسن کا آدھا حصہ عطا فرمایا تھا۔ تو اس نے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔
2۔ اللہ کا نبی صورت و سیرت کے لحاظ سے اعلیٰ ترین انسان ہوتا ہے۔
3۔ بعض عورتیں جذبات کی خاطر اپنی عزت بھی داؤ پر لگادیتی ہیں۔
Ayahs 12:33–35فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےبسی کے عالم میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوئی ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) زر خرید غلام اور غریب الوطن ہونے کی وجہ سے ہر طرف سے بےبس اور مجبور تھے۔ اگر فرار کا راستہ اختیار کرتے تو ان کے سامنے جیل خانہ یا موت تھی۔ دوسری طرف ایک نہیں کئی عورتیں بےحیائی کے چنگل میں پھنسانا چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) جائیں تو جائیں کہاں۔ مزید یہ کہ اس عورت نے ذلیل کرنے یا جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس کا اظہار کیا کہ جس بےشرمی اور بےحیائی کی تو مجھے دعوت دیتی ہے اور اس کے نہ کرنے پر مجھے جیل جانے کی دھمکی سنا رہی ہے۔ شرم و حیا کے لٹ جانے سے میرے لیے یہ بڑا آسان راستہ ہے کہ میں جیل کی کوٹھڑی قبول کرلوں۔ مقصد یہ تھا کہ جس میں انسان کی حیا رخصت ہوجائے ایسی آزادی اور عزت کو پرکاہ برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان خیالات کے اظہار کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اپنے رب سے فریاد کی کہ اے رب کریم میں کب تک اس آزمائش میں پڑا رہوں گا۔ جس طرف یہ مجھے بلا رہی ہے۔ اے میرے رب اگر تو نے مجھے ان کے مکرو فریب سے نہ بچایا تو انسان ہونے کے ناتے ڈر ہے کہ کہیں میں ان کی طرف مائل ہو کر تیری بارگاہ میں جاہلوں میں شامل نہ ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی فریاد قبول کی اور انہیں عورتوں کے مکرو فریب، بےشرمی اور بےحیائی سے محفوظ کردیا۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی فریادیں قبول کرنے والا اور ان کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) نے گناہ کے بجائے جیل کو ترجیح دی۔
2۔ اللہ تعالیٰ سے برائی سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعا قبول فرماتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو گناہ سے محفوظ فرمالیا۔
5۔ اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ دعا قبول کرنے اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے :
1۔ اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی اور عورتوں کی تدبیر سے اسے دور رکھا بیشک وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یوسف : 34)
2۔ اللہ دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ (البقرۃ : 186)
3۔ اللہ فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (المومن : 60)
4۔ بیشک میرا رب دعاؤں کو سننے والا ہے۔ (ابراہیم : 39)
5۔ بیشک اللہ دعاؤں کو سننے والا ہے۔ (آل عمران : 38)
6۔ نوح (علیہ السلام) نے پکارا اے میرے پروردگار میں مغلوب ہوں میری مدد فرما۔ (القمر : 10)
7۔ کون ہے جو مجبور کی پکار کو سنتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے ؟ (النمل : 62)
8۔ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ کی طرف جھکتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ (الروم : 33)
Ayahs 12:36–37فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےبسی اور بےچارگی کے عالم میں بدکاری کے مقابلے میں جیل کو ترجیح دینا۔
حقائق جاننے اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف جرم کے باوجودمصر کا حکمران طبقہ اور زعماء اپنی عورتوں کے ہاتھوں اس قدر مجبورہوا کہ انہوں نے نسوانی رائے عامہ کے خوف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسے عظیم کردار کے حامل، شرم وحیا کے پیکر، دیانت و امانت کے امین اور احساس ذمہ داری کے نگہبان کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کردیا۔ جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں نے سب حقائق جاننے اور دیکھنے کے باوجود ایک مدت تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بند رکھا۔
عربی شمار کے مطابق ” سنین “ کا لفظ دس سال کی مدت تک استعمال ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بےگناہ اور ایک پردیسی کی حیثیت سے جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہی جیل میں داخل ہونے والے دو جوان قیدیوں نے ان کے سامنے اپنا اپنا خواب بیان کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں۔ جنہیں پرندے نوچ رہے ہیں۔ اے یوسف ہمیں اس کی تعبیر بتائیں ؟ کیونکہ ہم آپ کو محسن سمجھتے ہیں محسن کے دو معنی ہیں۔
1۔ نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والا۔
2۔ لوگوں پر احسان کرنے والا۔
ان الفاظ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار کے کمال و جمال کا پتا چلتا ہے کہ ایک پردیسی اور بےگناہ قیدی ہونے کے باوجود کتنے حوصلے کے ساتھ جیل کاٹتے ہوئے اپنے رب کے شکر گزار اور ساتھیوں کے کس قدر خدمت گار ہوں گے۔ حالانکہ ایک بےگناہ قیدی اپنی بےگناہی اور ظالموں کے ظلم کی وجہ سے قید میں نہایت ہی پریشان دن گزارتا ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں ایسا کردار پیش کرتے ہیں کہ ان کے قید کے ساتھی ان کے صالح کردار اور حسن اخلاق کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتے اور ان کے کردار اور صلاحیتوں سے متاثر اس قدر ہیں کہ ان کو انتہائی نیک، سمجھ دار اور خیرخواہ سمجھ کر ان کے سامنے اپنے خواب ذکر کرتے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ دونوں قیدی حاکم مصر کے شاہی مہمان خانے کے ملازم تھے۔ ایک باورچی خانے کا انچارج اور دوسرا حاکم مصر کے لیے مشروبات تیار کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب یا کوئی مشروب اپنے آقا کی خدمت میں پیش کیا اس میں کرواہٹ تھی اور دوسرے کے کھانے پکانے میں کوئی نقص واقع ہوا۔ بعض اہل علم نے اسرائیلی روایات یا ان جوانوں کی قید کی سزا کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اندازے سے لکھا کہ انہوں نے شراب اور کھانے میں زہر ملا دیا تھا۔
قرآن و حدیث اور تاریخ کی کسی بھی مستند کتاب سے ان کے زہر ملانے کا ثبوت نہیں ملتا۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ اکثربادشاہ نازک مزاج اور مغضوب الغضب ہوتے ہیں۔ جو بعض دفعہ چھوٹی سی غلطی پر بڑی سے بڑی سزا دینے سے نہیں چوکتے۔ بہرحال غلطی کوئی بھی ہو انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کا خواب سنتے ہی فرمایا کہ قید میں تمہارا کھانا آنے سے پہلے ہی میں تمہارے خواب کی تعبیر بتاؤں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب محسوس کیا کہ قیدی بھائی مجھ پر اعتماد اور میرے ساتھ حسن ظن رکھتے ہیں تو انہوں نے اس موقعہ کر غنیمت جانتے ہوئے انہیں دین کی دعوت دی۔ یہی داعی کی شان اور بصیرت ہونی چاہیے کہ وہ موقعہ محل کے مطابق دین کی دعوت پیش کرے۔ دین کی ابتدا اور انتہا تین بنیادوں پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن جواب دہی کا تصور اور عقیدۂ توحید پر ایمان لانا اور نبی کی ہدایت کے مطابق ان کے تقاضے پورے کرنا۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) قیدیوں کو دین سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا ملکہ، معاملہ فہمی اور اپنی جناب سے علم عنایت فرمایا ہے۔ اس لیے میں نے ایسی قوم کے طرز فکر اور طریقۂ حیات کو چھوڑ دیا ہے۔ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور قیامت کے روز اس کے حضور پیش ہونے کے عقیدے کا انکار کرتے ہوں۔ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نبی ہونے کی طرف بھی اشارہ کردیا۔
مسائل
1۔ خواب کی تعبیر، تعبیر جاننے والے سے پوچھنا چاہیے۔ 2۔ بےدین لوگوں کی راہ نہیں اپنانی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ملت کفرو شرک کو چھوڑنے کا حکم :
1۔ میں ایسی ملت چھوڑتا ہوں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لائے۔ (یوسف : 37)
2۔ اے پروردگار ! اس کو امن والا شہر بنا، مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ (ابراہیم : 35)
3۔ دین پر قائم رہو اور بےعلموں کے راستہ کی پیروی نہ کرو۔ (یونس : 79)
4۔ ہم نے آپ کو دین کے ایک طریقہ پر کردیا آپ اسی پر چلے جائیں اور بےعلموں کی خواہش کی پیروی نہ کریں۔ (الجاثیۃ : 18)
5۔ بیوقوف ہی ملت ابراہیم سے منحرف ہوسکتا ہے۔ (البقرۃ : 130)
6۔ کہہ دیجئے اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ تم دین ابراہیم کی پیروی کرو۔ (آل عمران : 95)
7۔ ہم اس وقت اللہ پر افتراء بازی کریں گے۔ اگر ہم ملت کفر میں لوٹ آئیں۔ (الاعراف : 89)
Ayahs 12:38–39فہم القرآن
ربط کلام : قیدیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خطاب جاری ہے۔
ارشاد فرماتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیر جاننا، اللہ اور آخرت پر ایمان لانا۔ میرے رب نے مجھے سکھلایا ہے۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل جانے سے پہلے نبوت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اپنی دعوت کی وضاحت اور سلسلۂ نبوت کو اپنے آباء حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں ہم اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ بیشک وہ جاندار ہو یا غیر جاندار۔ ” من شیءٍ “ کے الفاظ میں مردہ اور زندہ تمام شامل ہیں۔
اسی لیے میں نے اس طریقہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس کا یہ معنٰی نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پہلے شرک کرتے تھے بعد میں اسے چھوڑ دیا۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ میں نے اسے قبول ہی نہیں کیا۔ عقیدۂ توحید کی فضیلت اور فرضیت کے پیش نظر فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہم لوگوں پر بڑا فضل ہے۔” الناس “ سے مراد بالخصوص انبیائے کرام (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے بعد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عقیدۂ توحید کی سمجھ اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ہے۔ پھر اتنہائی عاجزی اور حقیقت کے اظہار کے لیے فرماتے ہیں کہ میں اللہ ہی کے عطا کردہ علم سے خوابوں کی تاویل اور توحید کا عقیدہ بتلا رہا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ الناس سے مراد عام لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے لوگوں کو عقیدۂ توحید کی تعلیم دے کر انسان کو اپنی چوکھٹ کے سوا ہر چوکھٹ اور درگاہ کے سامنے جھکنے سے منع کیا ہے۔ اور انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے۔ کہ وہ انتہائی بےبسی اور غلامی کی حالت میں بھی ایک سے زائد آقا گوارا نہیں کرتا لیکن جب توحید کی غیرت دب جاتی ہے تو وہ ایک خدا کے سامنے جھکنے کے بجائے بتوں، مزاروں اور غیروں کے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نہایت سمجھ داری اور سوز مندی کے ساتھ عقیدۂ توحید سمجھانے اور اس کے دنیوی اور اخروی فوائد بتلانے کے بعد ان سے سوال کرتے ہیں کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! بتلاؤ کہ مختلف خداؤں پر ایمان لانا بہتر ہے یا ایک اللہ پر جو ہر قسم کے اقتدار، اختیار اور زبردست جلالت و جبروت کا مالک ہے۔ اندازہ فرمائیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کا دل بہلانے اور اپنی قربت کا احساس دلانے کے لیے کتناپیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ انہیں یہ کہہ کر مخاطب کررہے ہیں کہ تم میرے قیدی ساتھی ہو۔ ذہنی قربت اور قلبی محبت پیدا کرنے کے بعد انہیں عقیدۂ توحید کا یہ فائدہ بھی بتلایا کہ اللہ واحد کے ہی اختیارات میں ہے کہ جب چاہے ظالموں کے دل موڑ دے اور ہماری رہائی عمل میں آجائے۔ اس کے سامنے کسی جابر کا جبر اور ظالم کا ظلم نہیں ٹھہر سکتا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب قافلے والوں نے اٹھایا اور پھر بازار میں فروخت کیا۔ اس وقت انہیں یہ شعور اور علم تو تھا کہ میں حضرت یعقوب پیغمبرکا بیٹا حضرت اسحاق کا پوتا ہوں اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ میرے پڑدادا ہیں۔ جب ان پر تہمت لگی تو اس وقت وہ تیس سال کے قریب تھے۔ بےگناہ ثابت ہونے کے باوجود انہیں جیل ڈال دیا گیا۔ مگر کسی ایک موقع پر بھی انہوں نے اپنے خاندان کا تعارف نہیں کروایا۔ لیکن جب عقیدۂ توحید بیان کرنے لگے تو اپنے بزرگوں کا تعارف کرواتے ہیں۔ اس سے پہلے تعارف نہ کروانے کی دو وجوہات میں سے کوئی ایک وجہ یقینی ہے۔
پہلی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں اس وقت روک دیا ہو۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عظیم خانوادے کا فرزند ہونے کی وجہ سے خدا داد حوصلے کے سبب قافلے والوں کو اپنا تعارف کروانا مناسب نہ سمجھا۔ بیشک وہ عمر کے لحاظ سے چھوٹے تھے لیکن مستقبل میں نبی بنانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی نگرانی کر رہا تھا۔ تہمت لگنے کے وقت ان کی عمر تیس سال کے قریب تھی لیکن انہوں نے اپنے خاندانی حوالے سے اپنی پاک دامنی کا ثبوت دینے کے بجائے اسے حالات پر چھوڑ دیا کہ وقت آئے گا کہ قرائن اور شواہد سے ثابت ہوجائے گا کہ میرا دامن ہر اعتبار سے پاک صاف ہے۔ توحید کی دعوت دیتے وقت اپنے بزرگوں کا اس لیے تعارف کروایا کہ مصر کے لوگ بھی ان شخصیات سے بہت حد تک واقف اور ان کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس لیے ان کا نام لیتے ہیں کہ عقیدۂ توحید کو اختیار کرنے اور اس کی دعوت دینے میں، میں اکیلا نہیں بڑے بڑے انبیاء اور بزرگ اس عقیدہ کے حامل اور اس کی دعوت دیتے آرہے ہیں۔ اس وضاحت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ شرک چھوڑنے اور توحید کا عقیدہ اپنانے میں آسانی محسوس کریں۔
مسائل
1۔ سب لوگوں کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کرنے کا حکم ہے۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔
3۔ عقیدۂ توحید در در کی ٹھوکروں اور کئی خداؤں سے نجات دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم :
1۔ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو یکسو ہے۔ (النساء : 125)
2۔ حضرت ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی اطاعت کی۔ (آل عمران : 68)
3۔ سب یکسو ہوکرحضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو، وہ مشرک نہیں تھے۔ (آل عمران : 95)
4۔ نبی کریم کو بھی ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا گیا۔ (النحل : 123)
Ayah 12:40فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عقیدۂ توحید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک شرک کی نفی نہ کی جائے۔ اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) توحید کے اثبات کے ساتھ شرک کی نفی کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔
مصر کے معاشرہ میں لوگ اپنے بڑوں کو رب کے لفظ سے پکارا کرتے تھے جیسا کہ اب بھی ہندوستان اور ایران میں ہزاروں شرک زدہ لوگ اپنے اپنے بزرگوں کو خداوند یا خدائیگان کہا کرتے ہیں۔ پاکستان میں مدفون بزرگوں، خاص کر حضرت علی ہجویری کو داتا اور بابا فرید آف پاکپتن کو فرید گنج، سندھ میں شہباز قلندر کو لجپال یعنی عزت دینے اور حفاظت کرنے والا کہتے ہیں۔ کسی نے وشنو، کسی نے برہما، کسی نے مہادیو، کسی نے ابو الہول، کسی نے تیان چینی، کسی نے غول بیابانی، کسی نے عارف عراق، کسی نے سلطان الہند، کسی نے ابدال شامی، کسی نے اوتاد مصری، غرض مختلف ملکوں میں ہر ایک شخص نے اپنے اپنے تعلق و محبت اور اپنے اپنے میلان طبع کی مناسبت سے خدائی اختیارات کسی نہ کسی کو دے رکھے ہیں۔ انہی کو اس آیت میں ( اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ ) فرمایا گیا ہے۔
قیدی ساتھیوں کو توحید کا سبق پڑھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ اب یہ ذہنی طور پر اس مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں کہ کھلے الفاظ کے ساتھ شرک کی نفی اور اس کے بنیادی اسباب کا ذکر کیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو یہ تو تمہارے دماغ کی اختراع اور اپنی طرف سے تمہارے رکھے ہوئے نام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے اور ان کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے۔ توحید سمجھنا، اس پر ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا۔ دین کے باقی ارکان اس عقیدہ کے تقاضے ہیں۔ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کا دین ہے۔ جو ہمیشہ سے انھی اصولوں پر قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔
لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی حکم ہے کہ صرف اسی ایک کی عبادت کرنے کے ساتھ تمام معبودان باطل کا انکار کیا جائے۔ اسی کا نام عقیدۂ توحید ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دین قیم کے الفاظ استعمال فرما کر یہ بھی سمجھایا کہ اگر کسی کے پاس عقیدۂ توحید نہیں تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ بیشک وہ کتنا دیندار ہونے کے دعوے کرتا رہے۔ یہی عقیدہ مضبوط اور دین ہمیشہ رہنے والا ہے۔
(عَنْ وَّھْبِ ابْنِ مُنَبِِِِّۃٍ قِےْلَ لَہٗ اَلَےْسَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لَّےْسَ مِفْتَاحٌ اِلَّا وَلَہٗٓ اَسْنَانٌ فَاِنْ جِءْتَ بِمِفْتَاحٍ لَّہٗٓ اَسْنَانٌ فُتِحَ لَکَ )[ رواہ البخاری فی ترجمۃ الباب ]
” حضرت وہب بن منبہ ؓ سے کسی نے یہ سوال کیا کیا لا الہ الا اللہ جنت کی چابی نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں ؟ لیکن ہر چابی کے دندانے (پیچ) ہوا کرتے ہیں اگر تو پیچ دار چابی سے تالا کھولے گا تو کھل سکتا ہے (بصورت دیگر تیرے لیے دروازہ نہیں کھل سکتا۔ ) “
مسائل
1۔ عبادت صرف ایک اللہ ہی کی کرنی چاہیے، باقی سب معبود ان باطل ہیں۔
2۔ پوری کائنات میں صرف اللہ ہی کا حکم چلتا ہے۔ 3۔ دین اسلام سیدھا، سچا اور مضبوط دین ہے۔
4۔ لوگوں کی اکثریت توحید کا علم نہیں رکھتی۔
تفسیر بالقرآن
صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنا چاہیے :
1۔ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ (ھود : 26) 2۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہے۔ ( الاعراف : 70)
3۔ اللہ کا شکر ادا کرو اور خاص اس کی ہی عبادت کرو۔ (البقرۃ :)
4۔ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور خاص اس کی ہی عبادت کرو۔ ( النحل : 114)
5۔ اللہ نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کو یہی حکم دیا کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کریں۔ ( الانبیاء : 25)
6۔ اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجے تاکہ لوگوں کو بتلائیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے بچو۔ (النحل : 36)
Ayah 12:41ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے قید کے ساتھیوں کو عقیدۂ توحید سمجھانے اور شرک کی نفی کرنے کے بعد ان کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہیں۔ اب پھر دلربا لہجے میں فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو جیل سے رہا ہو کر اپنی ڈیوٹی پر بحال ہوگا اور اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا۔ اور دوسرا تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اس کا سر پرندے نوچیں گے۔ جن خوابوں کی تعبیر تم پوچھ رہے ہو ان کی حقیقت یہ ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ پیغمبر ظاہری حسن و جمال اور صالح کردار ہونے کے ساتھ انتہائی ذہین اور سمجھ دار ہوا کرتا ہے۔ چناچہ غور فرمائیں کہ تعبیر بتلاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کس قدر دانائی اور ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ معلوم تھا کہ اس قیدی نے خواب میں اپنے آپ کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرے نے اپنے سر پر اٹھائی ہوئی روٹیاں پرندوں کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے پھانسی لگنے والے شخص کو براہ راست یہ نہیں فرمایا کہ تم پھانسی لگ جاؤ گے۔ حالانکہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ اس کے باوجود ایسا انداز اختیار فرمایا۔ جس سے اسے کم سے کم صدمہ پہنچے۔ اپنی بتلائی ہوئی تعبیر پر اس قدر یقین ہے کہ فرمایا جو میں نے بتلایا ہے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ تعبیر پر اس لیے یقین تھا کیونکہ انہیں پہلے بتلا چکے تھے کہ میرے رب نے مجھے خوابوں کی تعبیر اور اپنی طرف سے علم عنایت فرمایا ہے۔ اسی وجہ سے قیدیوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب یوسف (علیہ السلام) نے رہائی پانے والے قیدی کو شراب پلانے سے منع کیوں نہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسے منع کرنے کا فائدہ تو تبھی ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اللہ کی توحید کا اقرار اور آخرت پر ایمان لانے کا اظہار کرتا۔ اس کا ثبوت تاریخ کے کسی حوالے سے موجود نہیں ہے کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلمہ پڑھ لیا ہو۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مشروب کے لیے بھی شراب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی ہر پینے والی چیز شراب ہوتی ہے۔ جس سے منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
شراب پینے والے کی سزا :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌوَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا فَمَاتَ وَ ھَوَ یُدْمِنُھَا لَمْ یَتُبْ لَمْ یَشْرَ بْھَا فِی الْاٰخِرَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب بیان ان کل مسکر خمر ]
” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہوا فوت ہوا، اس نے توبہ نہ کی آخرت میں اسے جنت کی شراب نہیں ملے گی۔ “
(عَنِ السَّاءِبِ بْنِ یَزِیْدَ ؓ ؓ قَالَ کُنَّا نُؤْتٰی بالشَّارِبِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَإِمْرَۃِ أَبِيْ بَکْرٍوَصَدْرًا مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَفَنَقُوْمُ إِلَیْہِ بِأَیْدِیْنَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِیَتِنَا حَتّٰی کَانَ آخِرُإِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِیْنَ حَتّٰی إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال ]
” حضرت سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اور ابوبکر و عمر ؓ کے ابتدائی دور میں شرابی پکڑادیا جاتا۔ ہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے اور جب عمر ؓ کی خلافت کا آخری دور آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے مارے۔ جب لوگ شراب نوشی میں بڑھ گئے تو پھر عمر ؓ نے اسی کوڑے مارے۔ “
(عَنِ ابْنَ عُمَرَ ؓ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَعَنَ اللَّہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَہَا وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَمُبْتَاعَہَا وَعَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃَ إِلَیْہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب العنب یعصر للخمر ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب پر اس کے پینے اور پلانے والے، بیچنے اور خریدنے والے، بنانے اور بنوانے والے اور اس کو اٹھانے اور اٹھوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ “
مسائل
1۔ دین کی تبلیغ حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔
2۔ دین کی بنیاد عقیدہ توحید ہے۔ دین مضبوط دلائل پر مبنی ہے۔
Ayah 12:42فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جس نے رہائی پانی تھی، خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسے ایک پیغام دیا۔
جس کے بارے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ یہ رہا ہوجائے گا۔ اسے فرمایا کہ جب تم رہا ہو کر تم اپنی ڈیوٹی پر جاؤ تو اپنے آقا کے سامنے میرے بےگناہ ہونے کا معاملہ پیش کرنا۔ اسے بتلانا کہ ایک بےگناہ اور پردیسی شخص اس طرح جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے۔ جب وہ شخص رہا ہو کر اپنے منصب پر بحال ہوا تو وہ اس پیغام اور اپنے عہد کو اس طرح بھول گیا جیسے اس نے یہ بات سنی ہی نہ تھی کیونکہ اس کے ذہن سے شیطان نے اس بات کو بالکل فراموش کردیا۔ جس کے بارے میں قرآن مجید بتلاتا ہے کہ اسے یہ پیغام اور عہد شیطان نے بھلایا تھا۔ گویا کہ نسیان شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک جیل میں قید رہے۔
بعض علماء نے ” فانساہ “ کی ضمیر کا مرجع حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے لیکن درست نہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) جن کے شب و روز ذکر الٰہی میں بسر ہو رہے تھے بلکہ دوسروں کو بھی یاد الٰہی کی تلقین کرنے میں مصروف رہتے تھے وہ اپنے رب کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں۔ صحیح یہی ہے کہ اس کا مرجع وہ ساقی ہے جس کو یوسف (علیہ السلام) نے رہائی پانے اور اپنے منصب پر دوبارہ فائز ہونے کی خوشخبری دی تھی۔
” سنین “ کا لفظ عربی گنتی کے اعتبار سے دس سال تک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس قیدی کے رہا ہونے کے بعد سات سال جیل میں گزارے۔ اس طرح ان کی قید نو یا دس سال بنتی ہے۔ قرآن مجید نے رہائی پانے والے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ اس کی دو وجوہات میری سمجھ میں آتی ہیں۔
1۔ اس سے بھولنے والے کی صفائی پیش کرنا مقصود ہے کہ اس نے اپنے آقا کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر جان بوجھ کر نہیں چھوڑا تھا بلکہ اس کو شیطان نے بھلا دیا تھا۔
2۔ شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر قسم کی کوتاہی، غلطی اور کمزوری کا سبب شیطان ہوا کرتا ہے۔ اس لیے ہر قسم کی غلطی، کمزوری اور کوتاہی کی نسبت شیطان کی طرف کی جاتی ہے۔
اس شخص کے بھولنے کا سبب بیان کرتے ہوئے مستند مفسرین نے لکھا ہے۔ چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اس لیے ان کے مرتبہ اور شان کے منافی تھا کہ وہ بادشاہ کی خدمت میں عام آدمی کی طرح پیغام بھیجتے۔ وہ اللہ کے نبی اور انبیاء کی اولاد تھے اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے مشکل مقامات میں ان کی مدد اور رہنمائی فرمائی تھی۔ اس لیے انہیں ایک عام آدمی کی طرح یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس پاداش میں انہیں تقریباً سات، آٹھ، سال تک مزید جیل میں ہی رہنا پڑا۔ لیکن اس بات کے ساتھ اتفاق کرنا ضروری نہیں کیونکہ مصیبت سے نکلنے کے لیے تدبیر کرنا ہر کسی پر لازم ہے۔ جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی تھی کہ مصر کے ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ ( یوسف : 67)
مسائل
1۔ شیطان انسان کو بھول میں مبتلا کردیتا ہے۔
2۔ یوسف (علیہ السلام) جیل میں کئی سال رہے۔
تفسیر بالقرآن
شیطان لوگوں کو پھسلاتا ہے :
1۔ شیطان نے قیدی کو حضرت یوسف کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (یوسف : 42)
2۔ شیطان نے آدم اور حو اکو پھسلا دیا۔ (البقرۃ : 36)
3۔ شیطان نے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈلوا دیا۔ (یوسف : 100)
4۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (یوسف : 5)
5۔ شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی شیطنت سے بچنا چاہیے۔ (فاطر : 6)
Ayahs 12:43–45فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے حاکم وقت کے خواب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا ذریعہ بنا دیا
ایک رات حاکم مصر ” جس کا نام “ الریان بن ولید “ بتلایا جاتا ہے۔ جو عربی النسل اور عمالقہ خاندان کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ “ اس نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھائے جا رہی ہیں۔ اور گندم کی سات بالیاں ہری اور سات سوکھی ہوئی ہیں۔ صبح اٹھتے ہی اس نے اپنا خواب بڑے بڑے لوگوں کو بتلا کر پوچھا اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں بتلاؤ۔ وہ بڑی سوچ و بچار اور کئی دن کے غورو خوض کے بعد کہنے لگے۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں۔ لہٰذا ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔ لیکن بادشاہ اس خواب کے قلق اور اس کے مندرجات سے اپنے ملک کا مستقبل بھیانک دیکھ رہا تھا۔ اس لیے اسے کسی طرح چین نہیں آرہا تھا۔ جس کے لیے اس نے ملک بھر کے دانشوروں، خواب کی تاویل جاننے والوں اور بڑے بڑے اہل علم کو بلا کر پوچھا کہ اس خواب نے میرے دل کا سکون چھین لیا ہے۔ مجھے کسی طرح بھی چین نہیں آرہا۔ یہ کوئی پراگندہ خیالی نہیں بلکہ میں اسے خوفناک حقیقت کے روپ میں دیکھ رہا ہوں اہل فکر کا ایک کے بعد دوسرا اجلاس بلایا جاتا ہے۔ مگر سب نے خواب کی تعبیر بتانے سے معذرت کردی۔ بالآخر رہائی پانے والے قیدی نے بادشاہ سے عرض کی کہ اگر مجھے جیل میں داخل ہونے کی اجازت ہو تو میں آپ کو یوسف نامی قیدی سے اس کی تعبیر پوچھ کر بتلاتا ہوں۔ بادشاہ وقت خواب کی تعبیر جاننے کے لیے بےقرار اور بےتاب تھا۔ جس وجہ سے اس نے ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر اسے حکم دیا کہ وہ فوری طور پر جیل جاکر اس خواب کی تعبیر پوچھ کر آئے۔
” الاحلام “ کا معنی :۔ احلام حلم کی جمع ہے جس کا معنی ہے جھوٹے اور بےاصل خواب۔
مسائل
1۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔
2۔ بادشاہ نے خواب میں سات سبز اور سات خشک ڈالیاں دیکھیں۔
3۔ ملک بھر کے دانشور بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے سے قاصر رہے۔
تفسیر بالقرآن
تاویل کا مفہوم :
1۔ میں ابھی اس کی تدبیربتلا دیتا ہوں مجھے جانے دیجیے۔ (یوسف : 45)
2۔ اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی خوب تر ہے۔ (النساء : 59)
3۔ گمراہ علماء اس کا غلط مطلب تلاش کرتے حالانکہ اس کا صحیح مطلب اللہ ہی جانتا ہے۔ (آل عمران : 7)
4۔ کیا وہ قیامت کا انتظار کرتے ہیں۔ (الاعراف : 53)
5۔ یہ حقیقت ہے ان باتوں کی جن پر تجھ سے صبر نہ ہوا۔ (الکہف : 82)