Ayahs 12:46–49فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رہائی پانے والے قیدی کا جیل میں آنا اور یوسف (علیہ السلام) کو آواز دینا۔
بادشاہ کا غلام جو حضرت یوسف کا قید میں ساتھی تھا بھاگم بھاگ یوسف (علیہ السلام) کی بیرک کے دروازے پر پہنچ کر آواز دیتا ہے کہ اے سچ بولنے والے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں پتلی دبلی سات گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات سبزو شاداب بالیاں ہیں اور سات بالیاں سوکھی ہوئی ہیں۔ ازراہ کرم مجھے ان کی حقیقت بتلا تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو بتلاؤں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے فرمایا ” کہ پہلے تم سات سال کھیتی باڑی کرو گے۔ ان سات سالوں میں تمہاری فصلیں خوب اناج دیں گی۔ مگر تمہیں یہ کرنا ہوگا کہ جو تمہارے کھانے سے بچ جائے اس اناج کو ڈالیوں میں ہی رہنے دو ۔ اس کے بعد سات سال قحط سالی کے ہوں گے اور تم محفوظ کیا ہوا غلہ استعمال کرو گے۔ سوائے اس کے کہ جو اس میں سے بچ جائے۔ اس کے بعد اگلا سال نہایت ہی سبزو شاداب اور خوشحالی کا ہوگا اور تم لوگ خوب پھلوں کا رس نچوڑوگے۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے لوگ پھلوں کا جوس بھی پیا کرتے تھے۔ سابقہ قیدی یعنی سرکاری اہلکار کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں آنا اور ان سے بادشاہ کے خواب کے بارے میں تعبیر پوچھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بلا تامل اسے نہ صرف خواب کی تعبیر بتلانا بلکہ نہایت فراخ دلی کے ساتھ ماضی کے کسی واقعہ کو ذہن میں رکھے بغیر بادشاہ کی ذہنی الجھن اور قوم کی مشکل کا حل پیش کرنا بےمثال اعلیٰ ظرفی کا ثبوت ہے۔ ورنہ سب سے پہلے رہا ہونے والے سرکاری اہلکار کو کہتے کہ تم کیسے آدمی ہو کہ میں نے اپنی مظلومیت کے بارے میں تجھے بادشاہ کے لیے ایک پیغام دیا تھا مگر تو نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ بھی فرما سکتے تھے کہ پہلے جو مجھ پر زیادتیاں کی گئی ہیں ان کا مداوا کرو۔ پھر میں تمہیں خواب کی تعبیر اور اس کا حل بتلاؤں گا۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) شکایت کا ایک حرف بھی زبان پر نہیں لائے۔ فی الفور اسے خواب کی تعبیر اور مستقبل میں قوم کو درپیش آنے والی مصیبت کا حل بتلایا۔ اس موقع پر یہ بات بھی کھل جاتی ہے کہ رہا ہونے والا سرکاری ملازم پوری طرح سمجھ چکا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) قول کے سچے اور کردار کے پکے ہیں۔ اس لیے اس نے آپ ( علیہ السلام) کو ” الصدیق “ کہہ کر پکارا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق کا مقام انبیاء کے بعد بیان کیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نہ صرف الصدیق تھے بلکہ اللہ کے جلیل القدر نبی اور انبیاء کی اولاد تھے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پڑدادا حضرت ابراہیم کا لقب بھی صدیق ہے۔ ” اس کتاب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیجیے بلاشبہ وہ صدیقنبی تھا۔ “ (مریم : 41)
” اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیے بلاشبہ وہ صدیق نبی تھے۔ “ (مریم : 56) ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاتے ہیں وہ الصدیق ہیں۔ “ (الحدید : 19)
خوشحالی کی قدر کرنی چاہیے :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ([ رواہ الحاکم ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک آدمی کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے آپ نے فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فارغ وقت کو مصروف ہونے سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ “
مسائل
1۔ خاندانی لوگ اپنی ذات کے بجائے دوسروں کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہیں۔
2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قحط سے بچنے کی تدبیر بتائی۔
3۔ خاندانی لوگ اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
صدیقین اور صادقون کا تذکرہ :
1۔ اے سچے یوسف ! ہمیں تعبیر بتلا۔ (یوسف : 46)
2۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی وہی سچے ہیں۔ (الحشر : 8)
3۔ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلا دے گا۔ (الاحزاب : 24)
4۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ (النساء : 69)
5۔ قیامت کے دن سچوں کو ان کی سچائی کا صلہ ملے گا۔ (المائدۃ : 119)
6۔ سچے مومن وہ ہیں جو اپنے مال اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جدوجہد (جہاد) کرتے رہتے ہیں۔ (الحجرات : 15)
Ayah 12:50فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بادشاہ کا خوش ہو کر سرکاری اہلکار کو رہائی کا پیغام دے کر جیل میں یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں بھیجنا۔
سرکاری اہلکار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے ” کہ اے الصدیق ! بادشاہ سلامت آپ کو طلب فرما رہے ہیں آپ کی رہائی کا حکم ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیں۔ “ کوئی عام قیدی ہوتا تو اس کی خوشی سے باچھیں کھل جاتیں اور وہ بادشاہ کے اہلکار کے ساتھ چل دوڑتا مگر یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں ” آپ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جائیں۔ اور اس سے پوچھیں کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا رب تو یقیناً ان کے مکرو فریب اور سازش کو جاننے والا ہے۔ “ حضرت یوسف (علیہ السلام) یہاں بھی اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ عزیز مصر کی بیوی کا کیا معاملہ تھا۔ انہوں نے اس طرح کہنے کے بجائے عورتوں کے بارے میں جمع کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ آپ ان کے گھر میں ایک عرصہ تک ٹھہرے تھے اس احسان مندی کی وجہ سے انہوں نے جمع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے، کہ عزیز مصر نے اپنی بیوی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس وقت معذرت کرلی۔ (آیت 39) لیکن جب عورتوں کے پراپیگنڈے کی وجہ سے معاملہ طول پکڑ گیا تو وہ یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجنے پر مجبور ہوا۔ جس بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) اس شخص کو فرماتے ہیں کہ واپس جا کر اپنے بادشاہ سے پوچھیے کہ ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کا کیا معاملہ ہوا ؟ یعنی جہاں تک میرے ” اللہ “ کا معاملہ ہے اسے تو پہلے ہی میری بےگناہی کا حال معلوم ہے مگر تمہارے رب (عزیز مصر) کو بھی میری رہائی سے پہلے اس معاملہ کی پوری تحقیق کر لینی چاہیے جس بنا پر مجھے جیل بھیجا گیا تھا۔ میں کسی شبہ اور بدگمانی کا داغ لیے ہوئے عوام کے سامنے نہیں آنا چاہتا، مجھے رہا کرنا ہے تو پہلے سر عام یہ ثابت کرنا ہوگا کہ میں بےقصور تھا۔ اصل قصوروار تمہاری سلطنت کے کارفرما تھے جنہوں نے اپنی بیگمات کی بداطواری کا خمیازہ، میری پاکدامنی پر ڈالا۔ اس مطالبے کو حضرت یوسف (علیہ السلام) جن الفاظ میں پیش کرتے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عزیز مصر اس پورے واقعہ سے پہلے ہی واقف تھا جو عزیز مصر کی بیوی کی دعوت کے موقع پر پیش آیا تھا بلکہ وہ ایسا مشہور واقعہ تھا کہ جس کی طرف اشارہ کرنا ہی کافی تھا۔ اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جوں کی توں حالت میں جیل سے نکلنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس فیصلہ سے ان کے کردار کی پختگی، پاک دامنی اور بصیرت کا پتا چلتا ہے۔ اگر وہ اسی طرح ہی جیل سے نکل کھڑے ہوتے تو ان کے دامن پاک پر لگے ہوئے جھوٹے دھبے کے کچھ نشان باقی رہ سکتے تھے۔
(عَنْ اَبُوْھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نَحْنُ اَحَقُّ بالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ اِذْقَالَ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًالَقَدْکَانَ یَأْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ طُوْلَ مَا لَبِثَ یُوْسُفُ لَاَجَبْتُ الدَّاعِیَ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کا حق رکھتے ہیں جب ابراہیم نے التجا کی تھی ‘ اے میرے پروردگار مجھے دکھا کہ آپ کس طرح مردوں کو زندہ کرتے ہیں ؟ حضرت لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔ وہ بڑی قوت والے کی پناہ میں تھے۔ اگر میں قید خانے میں ہوتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) جتنا عرصہ رہے تو میں بلانیوالے کی دعوت فوراً قبول کرلیتا۔ “
مسائل
1۔ بادشاہ نے حالات سے مجبور ہوکرحضرت یوسف کو طلب کیا۔
2۔ حضرت یوسف بڑے حوصلے والے تھے اس لیے انہوں نے قاصد کو واپس کردیا۔
3۔ اعلیٰ ظرف لوگ کسی کی مجبوری سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
4۔ نازک معاملات میں آدمی کو جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
4۔ اللہ ہر کسی کے مکرو فریب سے بخوبی آگاہ ہے۔
Ayah 12:51فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہلکار کا واپس جاکر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب بتلانا۔ اور بادشاہ کا ان عورتوں کو طلب کرنا۔
بادشاہ پہلے ہی خواب کی تعبیر اور اس کا حل جان کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اور صلاحیت سے بےحد متاثر ہوچکا تھا۔ جب اس کے اہلکار نے جاکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بتلایا کہ وہ اس حالت میں جیل سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو بادشاہ نے سوچا کہ ایسے شخص کو جیل میں رکھنا ملک و ملت کا نقصان کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس نے فی الفور ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کو طلب کرکے ان سے استفسار کیا کہ مجھے ٹھیک ٹھیک بتاؤ تمہارے ہاتھ زخمی کرنے کا کیا سبب تھا ؟
یہ عورتیں خطاکار تو تھیں کیونکہ انہوں نے اس وقت پروپیگنڈہ کرنے کے ساتھ مجلس میں یوسف (علیہ السلام) پر دباؤ ڈالا تھا کہ تجھے عزیز مصر کی بیوی کی بات مان لینی چاہیے۔ اس لیے بادشاہ کا غیظ و غضب دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے ان الفاظ میں یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کی گواہی دیتی ہیں۔
(مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْٓءٍ )[ یوسف : 51]
” ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ “
جب باقی عورتوں نے بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کی کھلے لفظوں میں صفائی پیش کی تو عزیز مصر کی بیوی کے پاس انکار کرنے کا کوئی چارہ کار باقی نہ تھا۔ لہٰذا اس نے کھلے الفاظ میں کہا ” کہ اب تو یہ حقیقت آشکارا ہوگئی ہے کہ میں نے ہی اسے اپنے لیے پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یوسف (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کردار کا پکا اور گفتار کا سچا ہے۔
” حصحص الحق “ حق کا پوری طرح واضح ہوجانا عرب اس طرح بھی بولتے ہیں۔ ” حصحص البعیر “ اونٹ نے پوری طرح زمین پر گھٹنے ٹیک دیے۔ عزیز مصر کی بیوی نے یہ الفاظ بول کر بتلایا کہ حق واضح ہوا۔ میں اس حقیقت کا اعتراف اور اقرار کرتی ہوں۔
” ” حاش للّٰہ “ کہ ہم نے کسی اعتبار سے بھی اس میں ذرہ برابر برائی اور بےحیائی نہیں دیکھی۔ “ ” حَاشَ “” حَوْشٌ“ سے ہے۔ اس کے لغوی معنی کسی جانور کو گھیر کر لانا ہے۔ ” حاش للّٰہ “ کا دوسرامعنی ہے۔ لوگوں سے توجہ ہٹا کر اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجانا یعنی یوسف (علیہ السلام) اس موقعہ پر اپنے رب کی طرف متوجہ رہے۔
(عَنْ أبِی أمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَطْبَعُ الْمُؤمِنُ عَلٰی الْخِلَالِ کُلِّہَا اِلَّا الْخِیَانَۃَ وَالْکِذْبَ ) [ رواہ أحمد ]
” حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن میں ہر قسم کی خرابی پائی جاسکتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ نہیں پائے جاسکتے۔ “
مسائل
1۔ کسی پر الزام لگنے کی صورت میں ذمہ دار اتھارٹی کا فرض بنتا ہے کہ اس کی غیر جانبدرانہ انکوائری کرائے۔
2۔ اپنے ہاتھ زخمی کرنے والی عورتوں اور عزیز مصر کی بیوی نے کھل کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کا اقرار کیا۔
3۔ حقیقت واضح ہونے کے بعد آدمی کو اس کا برملا اقرار کرنا چاہیے بیشک اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
تفسیر بالقرآن
یوسف (علیہ السلام) نیک اور سچے پیغمبر تھے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا۔ (یوسف : 22)
2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ (یوسف : 24)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا تھا۔ (یوسف : 36)
4۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ (یوسف : 51) 5۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) امانت دار تھے۔ (یوسف : 54)
6۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بڑے ہی اچھے مہمان نواز تھے۔ (یوسف : 59)
3 3 3 3 3 3 3
یہ تاکہ وہ جان لیں یقیناً میں نہیں میں نے خیانت کی اس کی غیب کے ساتھ اور یقیناً
Ayah 12:52فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رہا ہو کر بادشاہ کے ساتھ ملاقات کرنا۔ اس کے سامنے تاخیر سے آنے کی وضاحت فرمانا۔
جب قرائن اور ٹھوس شواہد کے ساتھ حقیقت ہر اعتبار سے واضح ہوچکی تو بادشاہ وقت نے ایک دفعہ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے رہا ہونے اور اپنے ساتھ ملاقات کا پیغام بھیجا۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انھوں نے پہلی دفعہ جیل سے نہ نکلنے کی نہایت وقار کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے انکار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی نہ احسان فراموشی کی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی تھی۔ کیونکہ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ خائن لوگوں کی کبھی رہنمائی نہیں کرتا۔ رسول کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
(عَنْ اأمّ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِیْ مَنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ خَاءِنَۃُ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصَّدُوْرِ ) [ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر ]
” حضرت ام معبد ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو نفاق، میرے عمل کو ریا سے اور میری زبان کو جھوٹ اور میری آنکھوں کو خیانت سے محفوظ فرما۔ یقیناً تو خیانت کرنے والی آنکھ اور جو کچھ دلوں میں پوشیدہ ہے اس کو جانتا ہے۔ “
مسائل
1۔ آدمی کو حتی المقدور اپنا دامن پاک رکھنا چاہیے۔
2۔ اللہ خائن کو ہدایت نہیں دیتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ خائن کو پسند نہیں کرتا
Ayah 12:53فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عاجزی کی انتہا۔
امانت و دیانت اور بےانتہا پاکدامنی کے باوجود حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ مجھ سے غلطی نہیں ہوسکتی۔ فرماتے ہیں کہ غلطی تو ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔ کیونکہ نفس امارہ انسان کو ہمیشہ برائی کی طرف کھینچتا ہے۔ برائی سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس پر میرا رب مہربانی فرمائے۔ کیونکہ میرا رب غلطیاں معاف کرنے والا اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے۔ اگلی آیات سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس پہنچے تو درباری رواج کے مطابق بادشاہ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ہو۔
حکمرانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے والے احباب جانتے ہیں کہ جونہی بڑے لوگوں کی کسی شخص پر خاص توجہ ہوتی ہے تو درباری اور چھوٹے درجے کے لوگ کس طرح اس کے سامنے بچھے جاتے ہیں۔ وہ شخص تو مطلق العنان بادشاہ تھا۔ اس نے جس عقیدت اور تپاک سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ہاں بلایا، یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر بادشاہ کے حواریوں کی کیا کیفیت ہوگی۔ پھر جس حسن کردار کی گواہی کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے رہائی پائی اور یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جس قدر بےمثال حسن و جمال عطا فرمایا تھا بڑے سے بڑا شاعر اور کہنہ مشق ادیب بھی اس کی منظر کشی نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے اس صورتحال میں ہر شخص حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال اور ان کے کردار کو زبر دست خراج تحسین پیش کر رہا ہوگا۔ ہر آنکھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرۂ انور پر جمی ہوگی مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) اس پر پھولنے اور اترانے کے بجائے دل ہی دل میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرتے، آنکھیں جھکائے بڑے وقار کے ساتھ تشر یف فرما ہوئے۔ ہر شخص سوچتا ہوگا کہ نامعلوم یہ شخص کس طمطراق کے ساتھ گفتگو کرے گا ابھی لوگ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ سیدنا یوسف (علیہ السلام) بڑی عاجزی کے ساتھ فرماتے ہیں۔ میں اپنی پاک بازی پر فخر نہیں کرتا۔
(وَمَآ أُبَرِّءُ نَفْسِیْ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَۃٌم بالسُّوْٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ إِنَّ رَبِّیْ غَفُورٌ رَحِیْمٌ) [ یوسف : 53]
” اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے۔ مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بخشنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاآإِلَہَ غَیْرُکَ ثُمَّ یَقُوْلُ لاآإِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَقُول اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَلاَثًا أَعُوذ باللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ )[ رواہ ابو داود : باب مَنْ رَأَی الاِسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب رات کو قیام کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعاپڑھتے اے اللہ ! تو پاک ہے۔ میں تیری تعریف بیان کرتا ہوں بابرکت ہے نام تیرا اور بلند ہے تیری شان تیری علاوہ کوئی معبود نہیں۔ پھر تین بار کہتے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں پھر تین بار اللہ اکبر کہتے۔ اللہ کے نام کے ساتھ جو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ میں شیطان مردود کے وسوسہ، پھونک اور اس کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ “
(عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ دَعْوَاتِ الْمَکْرُوْبِ اللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلاَ تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنِ وَأَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ )[ رواہ أبوداود : باب مایقول اذا اصبح ]
” حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مضطرب کی دعا بیان کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے تمام معاملات درست فرما تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ “
مسائل
1۔ نفس امارہ انسان کو برائیوں پر ابھارتا ہے۔ 2۔ گناہوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس پر اللہ رحم فرمائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نفس انسانی کی تین حالتیں :
1۔ نفس مطمئنہ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27)
2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2)
3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53)
(تفصیل کے لیے دیکھیے فہم القرآن ج 2، ص 130)
Ayahs 12:54–55فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ارشاد کے بعد بادشاہ وقت کی پیش کش۔
قرآن مجید کے مقدس انداز اور الفاظ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مصر کے بادشاہ کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔ جس میں اس نے آپ سے درخواست کی کہ میں آپ کو اپنے کاموں کے لیے مخصوص کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے بعد آپ ہمارے نزدیک نہایت ہی قابل اعتماد اور مقرب ہوں گے۔
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ مجھے ملک کے وسائل کی ذمہ داری سونپیں۔ یقیناً میں ان کے مصرف کو جانتا ہوں اور معاملات کی حفاظت کروں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعویٰ اس لیے کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ناصرف انھیں خوابوں کی تعبیر کا علم دیا تھا بلکہ دیگر معاملات کو سمجھنے اور ان کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔
بائبل کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے بادشاہ نے اپنے وزراء اور ملک کے زعماء سے پہلے ہی یہ طے کر رکھا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کلی اختیار دیے جائیں۔ جس کے لیے اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی کہ میں اپنے لیے آپ کو مخصوص کرنا چاہتا ہوں۔ جس کا یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ میری ذاتی طور پر درخواست ہے کہ ملک کو مستقبل کے بحران سے نکلالنے کے لیے آپ عملی طور پر بھی ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ اس سے بادشاہ کی اپنی قوم کے ساتھ خیر خواہی اور حب الوطنی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس پیش کش کے ردّ عمل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ مجھے آپ ملک کے خزانوں کا اختیار دیں جسے انتظامی زبان میں وزیر خزانہ کہا جاسکتا ہے۔ میں اللہ کے فضل سے جانتا ہوں کہ معاشی بحران میں ملک کو کس طرح سنبھالادیا جاسکتا ہے۔ یہاں بہت سارے مفسرین نے لکھا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) وزیر خزانہ کے بجائے ملک کے تمام امور کے ذمہ دار بنائے گئے تھے۔ ان بزرگوں کا خیال ہے کہ بادشاہ نے صرف نام کے طور پر بادشاہی رکھی تھی۔ گویا کہ موجودہ پارلیمانی نظام کی طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک کے وزیر اعظم تھے۔ ثبوت کے طور پر وہ اسی سورت کی آیت 69، 76 اور 56 سے استدلال کرتے ہیں۔ جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک کے کلی اختیارات کے مالک دکھائی دیتے ہیں۔
جبکہ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بالکل عیاں ہے کہ بادشاہ مصر نے اس موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے کلی اختیارات نہیں دیے تھے۔ ورنہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ کی پیش کش کے جواب میں یہ کہنے کی ضرورت نہ پیش آتی کہ آپ مجھے ملک کے وسائل کی تقسیم کار کا اختیار دیں جو آج کل کی انتظامی تقسیم کے مطابق وزارت خزانہ کا منصب بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تیسری مرتبہ اپنے والدین کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو اس وقت وہ مصر کے بادشاہ بن چکے تھے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ بادشاہ کے فوت ہونے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک کے بادشاہ بنے تھے اور یہی بات قرآن مجید کے سیاق وسباق کے تناظر میں حقیقت کے زیادہ قریب لگتی ہے۔ جہاں تک اس بحث کا تعلق ہے، کہ یوسف (علیہ السلام) نے منصب کا خود مطالبہ کیا تھا قرآن مجید کے الفاظ سے بظاہر یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن اگر پچھلی بات کو ساتھ ملا کر اس بات کا مفہوم سمجھا جائے تو بات بالکل واضح ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے از خود مطالبہ نہیں کیا بلکہ منصب کی پیش کش کے جواب میں انہوں نے ملک و قوم کی خیر خواہی اور خواب کی تعبیر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ مجھے ہر صورت اعیان حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ مجھے وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا جائے تاکہ مستقبل کے معاشی بحران سے ملک و قوم کو نکالنے کے لیے میں خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکوں۔ جہاں تک منصب کا مطالبہ کرنے کا معاملہ ہے ہماری شریعت میں ایسا مطالبہ ناجائز ہے۔ ممکن ہے کہ پہلی شریعتوں میں اس طرح کا مطالبہ کرنا جائز ہو۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ وَلِیَ الْقَضَآءَ أَوْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الأحکام باب مَا جَآءَ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی الْقَاضِی ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جس کو فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا یا اسے لوگوں کے درمیان قاضی مقرر کیا گیا یقیناً وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔ “
(عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ سَمُرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَّسْءَلَۃٍ وَّکِلْتَ اِلَیْہَاوَاِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْءَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْہَا) [ متفق علیہ ]
” حضرت عبدالرحمن بن سمرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، امارت کی خواہش نہ کرنا ! کیونکہ اگر تیری خواہش پر امارت مل گئی تو تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیا جائے گا۔ اگر بلا خواہش امارت تفویض کی گئی تو تیری معاونت کی جائے گی۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرِیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّکُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَسَتَکُوْنُ نَدَامَۃً یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِءْسَتِ الْفَاطِمَۃُ )[ رواہ البخاری : باب باب مَا یُکْرَہُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَی الإِمَارَۃِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ‘ عنقریب تم امارت کی خواہش کرو گے ‘ حالانکہ قیامت کے دن امارت باعث ندامت ہوگی۔ اقتدار بھلا لگتا ہے ‘ اقتدار سے محرومی دل خراش ہوتی ہے۔ جیسے دودھ پلانے والی بھلی لگتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری لگتی ہے۔ “
قیامت کے دن منصب دار لوگوں کی حالت :
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَآ اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَّاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَّاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَّنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا) [ رواہ مسلم : باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں دیتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارتے ہوئے فرمایا ‘ اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے۔ اور یہ عہدہ امانت ہے جو بلا شبہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا ‘ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حق کو سوچ سمجھ کر استعمال کیا۔ اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ “
مسائل
1۔ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنا مشیر بنانے کی پیشکش کی۔
2۔ جیل سے نکلنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) پہلے سے زیادہ معتبر اور معزز ہوگئے۔
3۔ معاشیات کے ماہر شخص کو وزیر خزانہ بنا نا چاہیے۔
Ayahs 12:56–57فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جیل سے رہا ہو کر وزارت خزانہ تک پہنچنا اللہ تعالیٰ کے کرم کا نتیجہ تھا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ختم کرنے یا ہمیشہ کے لیے کسی کا محتاج یا غلام رہنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ لیکن درحقیقت ان سے یہ کام اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے کروایا تھا۔ کیونکہ اگر یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں نہ پھینکتے مار ڈالتے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے ماں باپ کے پاس کنعان میں ہی رہتے تو وہ مصر کے بادشاہ کس طرح بن سکتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی منشا اور اس کی تقدیر کا نتیجہ تھا کہ بھائیوں نے قتل کرنے کے بجائے کنویں میں پھینکا۔ کنویں سے قافلے والوں نے نکالا اور انہوں نے مصر کے بازار میں فروخت کیا۔ اللہ کی تقدیر کے مطابق عزیز مصر خریدتا ہے۔ عزیز مصر کی اہلیہ انہیں بدکاری پر آمادہ کرتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) بدکاری سے انکار کرنے کی پاداش میں جیل جاتی ہیں، وہاں بادشاہ کے قریبی ملازم متاثر ہوتے ہیں۔ ایک ملازم رہائی پاکر اپنی ڈیوٹی پر واپس جاتا ہے۔ جب اس نے بادشاہ کے خواب کا چرچا سناتو وہ بادشاہ سے اجازت لے کر جیل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھتا ہے، خواب کی تعبیر صحیح پاکربادشاہ کا انہیں وزارت خزانہ کا منصب سونپنا اور بالآخر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مصر کا حکمران بننا۔ ان کے بھائیوں کا اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز کے ساتھ پیش ہونا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو والدین کی خدمت کرنے کا بہترین موقع میسر آنا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ تھا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اس طریقہ سے یوسف (علیہ السلام) کو ملک مصر میں حکومت عنایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے زمین میں اقتدار عطا کرتا ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے سرفراز کرتے ہیں اور ہم نیک لوگوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے۔ اور صاحب ایمان اور اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے والوں کا اجر قیامت کے دن بہت ہی بہتر اور زیادہ ہوگا۔
(عن أبی أمامۃ ؓ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ اتَّقُوا اللَّہَ رَبَّکُمْ وَصَلُّوا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ وَأَطِیْعُوْا ذَآ أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ )[ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ وہو حدیث صحیح ]
” حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الودع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈر جاؤ جو تمہارا رب ہے پانچ نمازیں پڑھو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اپنے مالوں میں سے زکوٰۃ ادا کرو۔ اپنے امرا کی اطاعت کروتم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک میں بااختیار بنا دیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت فرماتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
4۔ اللہ سے ڈرنے والوں کو آخرت میں بہتر صلہ دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
عزت اور اقتدار اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک میں بااختیار بنایا۔ (یوسف : 56)
2۔ اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے جسے چاہے بادشاہت عنایت کرتا ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی اللہ مجھے بخش دے اور مجھے بےمثال حکومت عطا فرما۔ (ص : 35)
4۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔ (الملک : 1)
5۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (الجاثیۃ : 27)
Ayahs 12:58–60فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قحط سالی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مجبور ہو کر مصر جانا۔
قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ بادشاہ کے خواب کے مطابق خوشحالی کے سات سال گزرنے کے بعد مصر میں قحط سالی شروع ہوچکی تھی۔ اور اس قحط کے اثرات شام، فلسطین اور کنعان تک پھیل چکے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالتے ہی بہترین منصوبہ بندی کی۔ جس کی وجہ سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے تھے۔ اسی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لیکن وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچان سکے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان تیار کر وا دیا تو فرمایا۔ آئندہ غلہ لینے کیلیے آؤ تو اپنے سوتیلے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ میں پورا پورا تولنے کے ساتھ مہمان کی بہترین تکریم کرنے والا ہوں۔ اگر تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو میرے پاس نہ آنا اور نہ ہی تمہیں غلہ دیا جائے گا۔ بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچاننے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ جب انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکا تھا تو اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر نو یا دس سال سے زیادہ نہ تھی۔ اسی لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے رخصت کرتے وقت فرمایا تھا کہ اس کا خیال رکھنا کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے۔ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر بقول بعض مفسرین کے 17 یا 20 سال کی تھی تو اس عمر میں آدمی اتنا بچہ نہیں ہوتا کہ کسی درخت وغیرہ پر یا کسی اور طرح اپنی حفاظت نہ کرسکتا ہو۔ کنویں میں پھینکنے کے بعد اب تک تقریباً تیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا۔ جن کا اس طرح اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کی عمر کنویں کے وقت دس سال کی تھی تو وہ عزیز مصر کے ہاں کم ازکم بیس سال ٹھہرے ہوں گے۔ پھر وہ نو، دس سال جیل میں بھی رہے گویا کہ اب وہ چالیس کے لگ بھگ تھے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ )
” اور جب وہ ( یوسف (علیہ السلام) اپنی بھرپور جوانی کو پہنچے۔ “
یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں سے جدا ہوئے کم و بیش چالیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چالیس سال کے بعد دس، بارہ سال کے بچے کے نقش ونگار اور قدوقامت میں غیر معمولی فرق واقع ہوجاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بھائی سوچتے ہوں گے کہ اگر یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے تو وہ کسی کی نوکری چاکری کر رہا ہوگا۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جس یوسف کو ہم نے دنیا کی ٹھوکریں کھانے کے لیے کنویں میں پھینکا تھا۔ وہ کنویں کی گہرائیوں سے نکل کر مصر کے اقتدار کی بلندیوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ مقتدر شخصیت ہمارا ہی سوتیلا بھائی ہے جس کو وہ پہچان نہ سکے۔ لیکن قرآن مجید کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے انھیں پہچان لیا اور ان کو بھائیوں جیسی تکریم دیتے ہوئے بہترین مہمان نوازی کی۔ یہاں قرآن مجید کے الفاظ سے یہ مفہوم بھی آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں سے ایک سے زیادہ بار ملاقات کرچکے تھے۔ اور باتوں باتوں میں انھوں نے اپنے گھر کے حالات ان سے دریافت کرلیے تھے۔ جس وجہ سے فرما رہے ہیں کہ جب آئندہ غلہ لینے کے لیے آؤ تو اپنے سوتیلے بھائی کو ساتھ لانا ورنہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
(عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ الْکَعْبِیِّ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ جَآءِزَتُہٗ یَوْمٌ وَّلَیْلَۃٌ وَّالضِّیَافَۃُ ثَلٰثَۃُ اَیّاَمٍ فَمَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ وَّلَا یَحِلُّ لَہٗٓاَنْ یَثْوِیَ عِنْدَہٗ حتَیّٰ یُحَرِّجَہٗ ) [ رواہ البخاری : باب إِکْرَام الضَّیْفِ وَخِدْمَتِہٖٓ إِیَّاہُ بِنَفْسِہٖ ]
” حضرت ابو شریح کعبی ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ ایک دن ایک رات خوب اہتمام کرے مہمان نوازی تین دن تک ہے اس کے بعد صدقہ ہے۔ مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے ہاں بلاوجہ مقیم رہے کہ اسے تنگی میں مبتلا کر دے۔ “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا۔ 2۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انہیں نہ پہچان سکے۔
3۔ یوسف (علیہ السلام) ناپ تول میں کمی نہیں ہونے دیتے تھے۔ 4۔ یوسف (علیہ السلام) بہت ہی مہمان نواز تھے۔
Ayahs 12:61–62فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرمان کے جواب میں ان کے بھائیوں کا چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کا وعدہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی بہترین مہمان نوازی کی اور انھیں رخصت کرتے ہوئے صاف صاف فرمادیا کہ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو ادھر کا رخ نہ کرنا۔ ان کے بھائیوں نے ان سے الوداع ہوتے ہوئے عرض کی کہ ہم اسے ساتھ لانے کے لیے اپنے والد کو آمادہ کریں گے کہ وہ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیجے۔ ہم ہر صورت ایسا کریں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ تاکید انہیں اس لیے کی تاکہ حقیقی بھائی سے ان کی ملاقات ہو اور انہیں براہ راست اپنے والد گرامی کے حالات سے آگاہی ہوجائے۔ اسی لیے وہ مختلف انداز میں تاکید کرتے ہیں کہ اپنے سوتیلے بھائی کو آئندہ ساتھ لانا اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ ان کی رقم ان کے سامان میں رکھ دی جائے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے غلہ کے ساتھ ان کی معمولی رقم درج ذیل وجوہات کی وجہ سے واپس کی۔
ٍٍ 1۔ قحط زدہ اور کنگال لوگ تھے۔ اس لیے ان کی رقم واپس کی گئی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قحط سالی کے وقت حکومت کا فرض ہے کہ وہ حتی المقدور لوگوں کو بلا معاوضہ غلہ مہیا کرے۔
2۔ یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اور مستحق بھی تھے۔ اس لیے ان کا زیادہ حق بنتا تھا کہ ان کی خدمت کی جاتی۔
3۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے غلے کی رقم اس لیے بھی واپس کی تاکہ ان کے بوڑھے باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ تعاون ہوا اور وہ خوش ہوجائیں۔
4۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تعاون کا یہ مقصد بھی تھا تاکہ اس بنا پر دوسری بار مصر آتے ہوئے میرے بھائی کو ضرور ساتھ لائیں۔
گھر پہنچ کر غلّہ کی قیمت دیکھتے ہی ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اپنے والد سے کہنے لگے کہ اباجان ! ہمیں اور کیا چاہیے ہماری رقم بھی واپس کردی گئی ہے لہٰذا آپ چھوٹے بھائی کو ضرور اجازت دیں تاکہ ہم پھر غلہ لائیں۔ ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے۔ اس کے جانے کی وجہ سے ہمیں ایک اونٹ مزید غلہ مل جائے گا اس میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) گھر کی تنگدستی، بیٹوں کے اصرار اور مصر کے بادشاہ کا حسن سلوک دیکھ کر دل ہی دل میں ایک ٹیس محسوس کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ٹھنڈی سانس بھر کر کہتے ہیں۔ اللہ حفاظت کرنے والا وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے تو پہلے بھی یوسف کے بارے میں بڑی تاکیدیں کیں تھیں مگر حقیقی حفاظت تو اللہ کے اختیار میں ہے جب وہ اپنا کرم فرمائے گا تو ہماری پریشانیاں خودبخود ختم ہوجائیں گی۔
مکہ والوں کا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش ہونا :
(عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ فَقَالَ إِنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمَّا رَأٰی مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا قَال اللَّہُمَّ سَبْعٌ کَسَبْعِ یُوْسُفَ فَأَخَذَتْہُمْ سَنَۃٌ حَصَّتْ کُلَّ شَیْءٍ حَتّٰی أَکَلُوا الْجُلُوْدَ وَالْمَیْتَۃَ وَالْجِیَفَ ، وَیَنْظُرَ أَحَدُہُمْ إِلَی السَّمَآءِ فَیَرَی الدُّخَانَ مِنَ الْجُوْعِ ، فَأَتَاہُ أَبُوْ سُفْیَانَ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ إِنَّکَ تَأْمُرُ بِطَاعَۃِ اللّٰہِ وَبِصِلَۃِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ہَلَکُوْا، فَادْعُ اللَّہَ لَہُمْ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی (فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ )إِلٰی قَوْلِہٖ (عَآءِدُونَ ) (یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی)
[ رواہ البخاری : باب دُعَآء النَّبِیِّ ﷺ اجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوسُفَ ]
” مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ ؓ کے پاس تھے انھوں نے بیان کیا کہ جب نبی ﷺ نے دیکھا کہ مکہ کے لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ ﷺ نے دعا کی اے اللہ ! ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قحط کی طرح قحط نازل فرما دے اس کے بعد ان کو قحط سالی نے آلیا ہر چیز ختم ہوگئی یہاں تک کہ وہ چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ جب ان میں سے کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے بھوک کی وجہ سے دھواں نظر آتا۔ ابو سفیان آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمد ! آپ اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں (فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْ تِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ) سے لے کر (عَآءِدُوْنَ ) (یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَیٰ ) تک۔ “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ کو اپنے چھوٹے بھائی کے بارے میں یقین دہائی کروائی۔
2۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی نقدی لوٹا دی۔
Ayahs 12:63–65فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔
برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں ان کے وعدے اور باتوں سے واقف تھے۔ انھوں نے صرف یہی کہنا مناسب سمجھا کہ کیا تم پر میں اسی طرح اعتبار کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں اعتبار کیا تھا ؟ اس کے ساتھ ہی فرمایا اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ اس گفتگو کے بعد جب برادران یوسف نے اپنا سامان کھولا تو یہ دیکھ کر ان کے تعجب اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ غلہ کے ساتھ ان کی ادا کی ہوئی رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔ کہنے لگے ! اباجان ! اب تو ضرور آپ بنیامین کو ساتھ لے جانے میں اجازت مرحمت فرمائیں۔
آدمی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہیے :
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ إِذَا کَرَبَہُٓ أَمْرٌ قَالَ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ )
[ رواہ الترمذی : باب یا حیی یا قیوم ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو کسی معاملے میں پریشانی ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے اے زندہ اور قائم رہنے والے اللہ ! میں تیری رحمت کے صدقے تیری مدد طلب کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔
1۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : 57)
2۔ اللہ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 82)
3۔ ہر ایک کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔ (الرعد : 11)
4۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اللہ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : 61)
Ayahs 12:66–67فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بیٹوں کے اصرار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر بنیامین کو بھا ئیوں کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ میں بنیامین کو اس وقت تک ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کا نام لے کر میرے ساتھ پختہ وعدہ نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے۔ الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ جب انھوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر عہد دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ ہی ہمارے قول و اقرار پر نگران ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ بیٹا شہر کے ایک دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا۔ میں تمہیں اللہ کی تقدیر سے نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ بالآخر حکم اللہ ہی کا غالب آیا کرتا ہے۔ اس تجویزکو پیش کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ میرا اللہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور ہر بھروسہ رکھنے والے کو اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹوں سے حلف لیتے ہوئے یہ فرمانا کہ تم ضرور میرے پاس بنیا میں کو واپس لاؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مصر میں امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا ہوچکا تھا جو قحط سالی کے دور میں پیدا ہوجایا کرتا ہے کیونکہ کچھ عناصر اپنی ضروریات کے حصول کے لیے مار دھاڑ کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں۔ ایسی صورت میں مضبوط سے مضبوط حکومت کا نظم و ضبط کمزور ہوجایا کرتا ہے۔ ان حالات میں گیارہ آدمیوں کا جتھا جو کہ ایک سے ایک بڑھ کر کڑیل جوان ہو ایسے اجنبیوں کو انتظامیہ مشکوک نگاہوں سے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انتظامیہ نے امن وامان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس کی طرح کوئی قانون نافذ کر رکھا ہو۔ ایسی صورت حال کے پیش نظر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ مشورہ دیا کہ تم وہاں اجنبی اور پردیسی ہو گے اس لیے تمہیں جتھے کی شکل میں ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کے بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہونا چاہیے۔ اس تجویز پر عمل کرنے کے ساتھ تمہارا اللہ پر مضبوط ایمان اور بھروسہ ہونا چاہیے۔ اللہ اپنی ذات پر بھروسہ کرنے والوں کے معاملات آسان فرما دیتا ہے۔
توکل کا معنی ہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا یہ مفہوم ہوا کہ بندہ اپنے خالق ومالک پر کامل اعتماد و یقین کا اظہار کر رہا ہے۔ جو اپنے رب پر بھروسہ اور توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ لہٰذا تنگی اور آسانی ‘ خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہ غموں کا تریاق اور مشکلات کا مداوا ہے۔
(وَمَنْ یَّتَوَ کَّلْ عَلٰی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہٗ إِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ أَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا)
[ الطلاق : 3]
” جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا حکم نافذ کرکے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ “
(وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ) [ یوسف : 67]
” اس پر ہی بھر وسہ کرنے والوں کو اعتماد کرنا چاہیے۔ “
قرآن و سنت کی روشنی میں توکل کا کامل تصور یہ بنتا ہے کہ وسائل اور اسباب کو استعمال کرتے ہوئے کام کا نتیجہ اور انجام اللہ کے سپرد کیا جائے۔ توکل پریشانیوں سے نجات پانے کا پہلا ذریعہ ہے اگر کسی کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل ہی نہیں تو اس کے مسائل کس طرح حل ہوں گے ؟
(عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ]
” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے پختہ عہد لیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے قول وعمل پر گواہ ہوتا ہے۔
3۔ اپنی اولاد کو نصیحت کرنی چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا۔
5۔ اللہ تعالیٰ پر ہی ہر کسی کو توکل کرنا چاہے۔
تفسیر بالقرآن
توکل علی اللہ کے فوائد :
1۔ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
2۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
3۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
4۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59)
5۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : 36)
Ayah 12:68فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے ان کے بیٹوں کا مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے اپنے والد کی تجویز کے مطابق شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہوئے۔ یہ تو ان کی احتیاطی تدبیر تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی تعلیم کی بدولت حضرت یعقوب (علیہ السلام) بڑے صاحب علم تھے۔ جبکہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ پہلے واقعہ کے پیش نظر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو رخصت کرتے ہوئے ان سے حلف لیا تاکہ انھیں پہلی غلطی کا احساس اور آئندہ کے لیے فکر مندی ہو کہ ہم نے پہلے جیسا جرم نہیں کرنا۔ اس کے ساتھ ہی احتیاط کے طور پر ایک تدبیر بتلائی۔ اس تدبیر کے باوجود کئی دفعہ فرمایا کہ بیٹو اپنے رب پر پوری طرح توکل رکھنا اور میرا بھی اس کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی احتیاطی تدبیر اور اللہ پر توکل کرنے کی سوچ و فکر اور علم کے بارے میں ارشادہوا ہے کہ یہ ہم نے ہی یعقوب (علیہ السلام) کو علم اور سوچ عطا کی تھی۔ جسے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت دنیا کے اسباب اور اپنے علم و ہنر پر ہی بھروسہ کرتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسباب و وسائل کو اختیار کیے بغیر اللہ پر توکل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالانکہ توکل کا حقیقی معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اس پر بھروسہ کیا جائے۔
تدبیر کی اہمیت :
(عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ؓ یَقُوْلُ قَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَعْقِلُہَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُہَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اِعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ )[ رواہ الترمذی : باب اعقل و توکل ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں سواری کو باندھوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر توکل کرو۔ “
مسائل
1۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ان کے حکم کے مطابق شہر میں داخل ہوئے۔
2۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) بڑے صاحب علم تھے۔
3۔ لوگوں کی اکثریت حقائق سے آگاہ نہیں ہوتی۔
تفسیر بالقرآن
لوگوں کی اکثریت کا حال :
1۔ اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21)
2۔ لوگوں کی اکثریت شکر نہیں کرتی۔ (یوسف : 38)
3۔ آپ کے چاہنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ (یوسف : 103)
4۔ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ھود : 17)
5۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ مومن ہیں اور ان کی اکثریت نافرمان ہے۔ (آل عمران : 110)
6۔ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے اور ان کی اکثریت بےعقل ہے۔ (المائدۃ : 103)
7۔ اللہ کی منشا کے بغیر کوئی ایمان نہیں لاتا لیکن لوگوں کی اکثریت جاہل ہے۔ (الانعام : 111)
8۔ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق کو نہیں مانتے۔ (النحل : 83)