12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsفہم القرآن

Ayahs 12:69–72

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

” اور جب وہ یوسف کے ہاں داخل ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی، کہا بیشک میں ہی تیرا بھائی ہوں، اس پر غم نہ کھاؤ جو وہ کرتے رہے ہیں۔ “ (69) ”

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو پینے کا برتن اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا اے قافلے والو ! بیشک تم چور ہو۔ “ (70) ”

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

جب وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے کہا کیا چیز تم گم پاتے ہو ؟ “ (71)

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

” انہوں نے کہا ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا غلہ ہوگا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ “ (72)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو حالات اور اپنے والد گرامی کی پریشانیوں کا ذکر کیا ہوگا۔ جس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پیارے بھائی اب آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے اکٹھا کردیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ آپ کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں ہیں ان پر دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں، ساتھ انہیں فرمایا کہ میں آپ کو اپنے پاس رکھنے کی کوئی راہ نکالتا ہوں۔ چناچہ صبح کے وقت بھائیوں کا سامان تیار کیا۔ تو چپکے سے پانی پینے والا مخصوص پیالہ بنیامین کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ غلہ لے کر شہر سے باہر نکل گیا تو حسب منصوبہ پیچھے سے انتظامیہ کے آدمی بھیجے کہ جانے والے قافلہ کی تلاشی لی جائے۔ انتظامیہ کے لوگوں نے قافلہ کا پیچھا کرتے ہوئے آواز دی کہ رک جاؤ تم تو چور معلوم ہوتے ہو۔ قافلے والے پیچھے پلٹ کر پوچھتے ہیں۔ جناب آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے ؟ جس وجہ سے آپ ہمیں چور کہہ رہے ہیں۔ انتظامیہ کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے بادشاہ کا پانی پینے والا پیالہ گم ہوگیا ہے۔ جو شخص ڈھونڈ لائے گا اسے ایک اونٹ غلہ دیا جائے گا۔ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں صواع سے مراد ہے پانی پینے کا پیالہ جو سونے یا چاندی کا ہو۔ یا در ہے ہماری شریعت میں سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا حرام ہیں، شریعت یوسفی میں حرام نہ تھے۔ (عن عَبْد اللّٰہِ بْنَ عُکَیْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ ؓ بِالْمَدَآءِنِ فَاسْتَسْقٰی حُذَیْفَۃُ فَجَآ ءَ ہٗ دِہْقَانٌ بِشَرَابٍ فِیْٓ إِنَاءٍ مِّنْ فِضَّۃٍ فَرَمَاہُ بِہٖ وَقَالَ إِنِّیْٓ أُخْبِرُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَمَرْتُہٗ أَنْ لاَّ یَسْقِیَنِیْ فِیْہِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لاَ تَشْرَبُوْا فِیْٓ إِنَآء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّیْبَاجَ وَالْحَرِیْرَ فَإِنَّہٗ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ لَکُمْ فِی الآخِرَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )[ رواہ مسلم : کتاب اللباس والزینۃ، باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ] ” حضرت عبداللہ بن عکیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا توا نہوں نے اسے پھینک دیا اور فرمانے لگے کہ میں تمہیں آگاہ کرتے ہوئے حکم دیتا ہوں کہ کوئی مجھے ایسے برتن میں مجھے نہ پلائے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یقیناً یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔ “ مسائل 1۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ 2۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پینے کا برتن بھائی کی بوری میں رکھوا دیا۔ 3۔ پختہ شک کی بنیاد پر چوری کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ 4۔ گمشدہ چیز کے لیے انعام مقرر کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 12:73–76

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! بلاشبہ تم جانتے ہو کہ ہم اس لیے نہیں آئے کہ اس ملک میں فساد کریں اور نہ ہم چور ہیں۔ “ (73) ’

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

’ انہوں نے کہا اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ہوئے ؟ “ (74) ”

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے اس کی سزا وہ شخص ہے جس کے کجاوے میں وہ پایا جائے، سو وہ شخص آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔ “ (75)

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

تو اس نے اس کے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے ابتدا کی پھر اسے اس کے بھائی کے تھیلے سے نکال لیا۔ اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی، ممکن نہ تھا کہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو رکھ لیتا مگر جو اللہ چاہے، ہم جسے چاہتے ہیں درجات کی بلندی دیتے ہیں اور ہر علم والے سے اوپر ایک سب سے زیادہ علم و الا ہے۔ “ (76)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قافلے والوں کا انتظامیہ کو جواب اور حلف۔ قافلے والے رک کر کہنے لگے کہ جناب آپ کو معلوم ہے کہ ہم چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو بھوک کے مارے ہوئے اپنے وطن سے آپ کے ملک میں غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا چوری چکاری سے کیا تعلق۔ لیکن انتظامیہ کے لوگ تلاشی لینے کے سوا کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ یہ بیچارے قسم پر قسم اٹھائے جا رہے ہیں کہ یقین کرو کہ ہم نے چوری نہیں کی۔ ہمارا خاندان ایسا ویسا نہیں ہے ہم تو انبیاء کی اولاد ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس کس انداز سے پولیس افسر کو یقین دلانے کی کوشش کی ہوگی۔ بالآخر پولیس والے کہنے لگے کہ چلو یہ بتاؤ کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو تمہاری کیا سزا ہونی چاہیے ؟ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ہم نے پیالہ نہیں اٹھایا۔ لہٰذا ہم کس طرح چور ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس لیے فوراً کہنے لگے۔ ہمارے علاقے کا قانون ہے کہ اگر چور سے چوری کا مال برآمد ہوجائے تو اس کو ایک سال کے لیے مال کے مالک کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اگر ہم میں سے کسی کے پاس بادشاہ کا پیالہ نکل آئے تو ہم اسے آپ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس شرط پر قافلے والوں کی تلاشی شروع کردی گئی۔ لیکن حسب ہدایت سب پہلے دوسرے لوگوں کی تلاشی لی گئی۔ تاکہ اصل منصوبہ کے بارے میں کسی کو شک نہ پڑے۔ اس کے پیش نظر آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ ان سے پیالہ برآمد ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس تدبیر کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے یہ تدبیر کی تھی۔ یعنی اسے سکھلائی تھی۔ ورنہ یوسف بادشاہ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھائی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تھا۔ اللہ جو چاہے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے مراتب میں بلند کرتا ہے۔ اور ایک علم والا ایسا ہے جو سب علم رکھنے والوں سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے تدبیر کی۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ تدبیر کونسی تھی۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) کا بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھنا ہے۔ دوسرے مکتبۂ فکر کا کہنا ہے کہ ” کدنا “ سے مراد وہ بات ہے جو تفتیش کے دوران یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے منہ سے نکلی تھی کہ اسرائیلی شریعت کے مطابق ہمارا یہ اصول ہے کہ چور کو ایک سال کے لیے مال کے مالک کے حوالے کردیا جائے۔ اسی بنیاد پر بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پاس رکھ لیا۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : (فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ) ” ایک ہستی ہر علم والے سے بڑھ کر علم رکھنے والی ہے۔ “ دین کے معانی : دین اسلام اپنے کام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے نام کے دامن میں بھی پوری جامعیت اور دنیا وآخرت کے معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے چناچہ دین کا معنیٰ ہے (1) تابع دار ہونا (2) دوسرے کو اپنا تابع فرمان بنانا۔ (3) مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا۔ (4) قانون (5) مکمل ضابطۂ حیات (6) جزا وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی لفظ دین بولا جاتا ہے۔ دین کی فرضیت : (اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلَام دینًا )[ المائدۃ : 3] ” آج کے دن تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا ہے۔ “ (ثُمَّ أَوْحَیْنَآ إِلَیْکَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ )[ النحل : 123] ” پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسو رہنے والے ابراہیم کی ملت کی اتباع کیجئے اور وہ مشرک نہ تھے۔ “ (وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآَخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ )[ آل عمران : 85] ” اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ “ مسائل 1۔ صفائی پیش کرنے کے لیے قسم اٹھائی جاسکتی ہے۔ 2۔ شریعت اسرائیلی میں بھی چور کی سزا اسے غلام بنانا تھا۔ 3۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین کے مطابق نہ رکھ سکتے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ 5۔ ہر علم والے کے اوپر علم والا ہے۔ تفسیر بالقرآن دین کا معنٰی : 1۔ یوسف کے لیے ممکن نہ تھا کہ بادشاہ کے قانون (دین) کے مطابق اپنے بھائی کو روک لیتے۔ (یوسف : 76) 2۔ وہ مالک ہے قیامت (دین) کے دن کا۔ (الفاتحۃ : 4) 3۔ کیا اللہ کے دین کے سوا وہ کوئی اور دین (الاسلام) تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : 83) 4۔ یہی مستقل (ضابطہ) دین ہے۔ (التوبۃ : 36) 5۔ اس نے تمہارے لیے وہی طریقہ (دین) مقرر کیا ہے۔ (الشورٰی : 13)
Ayahs 12:77–79

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو بیشک اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یوسف نے اسے اپنے دل میں چھپائے رکھا۔ اسے ان پر ظاہر نہ کیا، کہا برے لوگ ہو اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ “ (77) ”

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے عزیز ! بیشک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے آپ ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں بیشک ہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔ “ (78) ’

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

’ اس نے کہا اللہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، اس کے سوا کسی کو پکڑیں یقیناً ہم تو اس وقت ظالم ہوں گے۔ “ (79)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بنیامین کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہونے پر بھائیوں کا رد عمل۔ سامان کی تلاشی لینے پر بنیامین کے سامان سے پیالہ نکلا۔ تلاشی لینے والوں نے کہا کہ اب بتائیں کہ ہمارا قیافہ صحیح نہیں نکلا ؟ سب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ براداران یوسف اس پر بنیابین کی طرف سے کوئی عذر اور معذرت کرتے۔ انہوں نے اس کے برعکس اپنے حسد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یہ ہمارا حقیقی بھائی نہیں ہے باقی ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم میں کوئی بھی ایسی حرکت کرنے والا نہیں ہے۔ یہ دونوں بھائی ایسی حرکات کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑی ہے۔ نہ معلوم انہوں نے اس موقع پر کیا کیا باتیں کی ہوں گی کیونکہ ان کے دلوں میں ان دونوں کے بارے میں حسدو بغض کا ایک طوفان چھپا ہوا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بڑے حوصلے کے ساتھ ساری باتیں سنتے رہے اور اپنے دل میں کہا کہ تم خود برے لوگ ہو۔ تم مجھ پر چوری کا الزام لگار ہے ہو حالانکہ تم نے مجھ پر بڑی زیادتی کی تھی۔ حضرت یوسف چاہتے تو انہیں گرفتار کرلیتے اور ان سے ساری بات اگلواتے کہ تم نے کس طرح اپنے باپ کو دھوکا دے کر یوسف کو کنویں میں پھینکا تھا۔ اگر وہ انکار کرتے تو فرماتے کہ ظالمو ! کیوں جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہو میں ہی یوسف ہوں۔ لیکن انہوں ایسا کرنے کی بجائے راز کو راز ہی رہنے دیا۔ بھائیوں نے جب دل کی بھڑاس نکال لی تو انہیں احساس ہوا کہ ہم نے معذرت کرنے کی بجائے نہ صرف بنیابین کو چور ثابت کردیا ہے بلکہ اس کے بھائی کو بھی چور بنا ڈالا ہے۔ اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے عرض کرنے لگے۔ کہ اے بادشاہ سلامت ! اس کا باپ بہت ہی کمزور اور بوڑھا ہے۔ اسے اس کے ساتھ بہت محبت ہے لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلیں ہم نے دیکھا ہے کہ آپ بڑے ہی مہربان اور احسان کرنے والے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ ! کہ ہم ایسے شخص کو گرفتار کریں کہ جس سے مال برآمد نہیں ہوا۔ ایسا کرنا تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ہم تو اس شخص کو پکڑیں گے جس سے ہم نے مال بر آمد کیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی احتیاط اور سمجھ داری کا اندازہ لگائیں کہ وہ یہ نہیں فرماتے کہ ہم چور کو پکڑیں گے۔ ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ باپ کو بیٹے کے جرم میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ “ (مسند احمد) مسائل 1۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا الزام لگادیا۔ 2۔ مجرم کے بدلے کسی دوسرے کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظالم کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : 57) 2۔ ظالموں کے لیے تباہی ہے۔ (نوح : 28) 3۔ ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (الشورٰی : 21) 4۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر : 17)
Ayahs 12:80–82

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

” پھر جب اس سے بالکل ناامید ہوگئے تو مشورہ کرنے کے لیے الگ جا بیٹھے، ان کے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کی قسم کے ساتھ عہد لیا ہے اور اس سے پہلے تم نے یوسف کے بارے میں جو کوتاہی کی، اب میں اس زمین سے ہرگز نہ جاؤں گا۔ یہاں تک کہ میرا باپ مجھے حکم دے یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ کر دے اور وہ تمام فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ “ (80) ”

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

اپنے باپ کے پاس جاؤ، پس کہو اے ہمارے باپ ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم نے شہادت نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور ہم غیبی میں اس کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔ “ (81) ”

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور اس بستی سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور یقیناً ہم سچے ہیں۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف جب بنیامین کو رہا کروانے میں نا کام ہوئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ نامعلوم برادران یوسف نے بنیامین کو رہا کروانے کے لیے کس قدر منت سماجت اور ترلے کیے ہوں گے۔ مگر بادشاہ نے ان کی کوئی بات تسلیم نہ کی۔ جب بادشاہ سے پوری طرح مایوس ہوگئے تو انہوں نے علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کیا کر اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ان کا بڑا بھائی جس کا نام مؤرخین یہودہ بتلاتے ہیں کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم سب سے والد صاحب نے قسمیں اٹھوا کر وعدہ لیا ہے کہ تم ہر صورت بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لاؤ گے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف کے ساتھ زیادتی کرچکے ہو۔ مجھے اس طرح واپس جاتے ہوئے حیا آتی ہے میں اپنے دکھی اور بوڑھے باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ لہٰذا تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ۔ لیکن میں یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گا۔ یہاں تک کہ والد گرامی مجھے پیغام بھیجیں یا اللہ تعالیٰ میرے لیے کوئی فیصلہ کر دے۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ فیصلہ سے مراد بنیامین کی رہائی یا پھر مصر میں رہنا ہے۔ لہٰذا تم اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ اور جاکر عرض کرنا ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا اور ہم نے وہی گواہی دی جو کچھ ہمارے سامنے پیش آیا اور ہم غیب میں بنیامین کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔ بعض اہل لغت نے غیب سے مراد رات لی ہے کہ دن کے وقت تو ہم اکھٹے تھے لیکن جب بنیامین رات کے وقت ہم سے علیحدہ ہوا تو ہم نہیں جانتے کہ رات کے وقت اس نے چوری کرلی ہو اگر آپ کو ہماری باتوں پر یقین نہیں آرہا تو بستی کے اس قافلے والوں سے پوچھئے جن کے ساتھ ہم واپس آئے ہیں۔ یقین فرمائیں کہ ہم بالکل سچے ہیں۔ مسائل 1۔ ہر صورت وعدہ کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے : 1۔ یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرمادے اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یوسف : 80) 2۔ سن لو ! اللہ کا ہی حکم چلتا ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : 62) 3۔ بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (ھود : 45) 4۔ وحی کی فرمانبرداری کرو اور صبر کرو کہ اللہ فیصلہ فرمادے اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس : 109)
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

’ اس نے کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے دل نے یہ کام خوبصورت بنا دیا ہے، میں اچھا صبر کروں گا امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، یقیناً وہی سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔ “ (83)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے بیٹوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دو وجہ سے بنیامین پر چوری کے الزام اور اپنے بیٹوں کی باتوں کو مسترد کیا۔ پہلی و جہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت باپ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ میرا بیٹا بنیامین چوری نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے اس سے پہلے کبھی ایسی غلطی نہیں کی۔ ایسا نیک اور دیانتدار بچہ پردیس میں جاکر کس طرح غلطی کرسکتا ہے۔ پھر وہ وہاں رہنے کے لیے نہیں بلکہ مجبوری کے عالم میں غلہ لینے کے لیے گیا ہے۔ ایسی صورت میں چوری کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس لیے بھی اپنے بیٹوں کی باتوں پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا کہ وہ جانتے تھے کہ یہ پہلے بھی یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی زیادتی کرچکے ہیں۔ اس وجہ سے ان پر اعتماد نہ کرنا ایک فطری بات تھی۔ اسی و جہ سے انہوں نے یہ فرمایا کہ تم خواہ مخواہ ایک کہانی بنا کر میرے سامنے پیش کر رہے ہو جسے بنانا اور بیان کرنا تمہارے دل نے تمہارے لیے آسان کردیا ہے۔ میں صبر جمیل کے سوا اور کیا کرسکتا ہوں۔ تاہم مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور تینوں کو میرے پاس لائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے۔ (قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ )[ یوسف : 18] ” یعقوب (علیہ السلام) نے کہا بلکہ تم نے ایک بات کو بنا سنوار لیا ہے۔ خیر صبرہی بہتر ہے۔ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ الفاظ اس وقت بھی کہے تھے جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر کہا تھا۔ ابا جان ! جب ہم کھیل کود میں ایک دوسرے سے بہت آگے نکل گئے پیچھے سے بھیڑیے نے یوسف کو کھالیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت بھی فرمایا تھا جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے گا۔ اللہ اللہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کتنا بڑا حوصلہ اور ایمان ہے کہ دوسرے بڑے سانحہ اور یوسف (علیہ السلام) کی طویل جدائی کے باوجود پہلے سے بڑھ کر نہ صرف صبر کا مظاہرہ کیا بلکہ بےانتہا پریشانی کے وقت بھی فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہمیں ہماری زندگی میں جمع فرمائے گا۔ مجھے جو عظیم صدمہ کے بعد دوبارہ بڑا صدمہ پہنچا ہے اس کی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ انشاء اللہ میں اس پر صبر جمیل کروں گا۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر جس میں کسی قسم کا گلہ شکوہ اور جزع فزع نہ پایا جائے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ ) [ رواہ مسلم : باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہُ کُلُّہُ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا عجیب معاملہ ہے اس کے تمام معاملات میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ سعادت کسی اور کے نصیبے میں نہیں اگر مومن کو خوشحالی ملے تو وہ شکر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے باعث خیر ہے اور اگر وہ پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرے تو وہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔ “ اولاد منہ زور ہوجائے تو والدین کو درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا چاہیے : (یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ وَأَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ وَإِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللّٰہُ عِنْدَہُ أَجْرٌ عَظِیْمٌ )[ التغابن : 14۔ 15] ” اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ یقیناً بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ یقیناً تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں اور اللہ کے ہاں بہترین اجر ہے۔ “ مسائل 1۔ مومن کو صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے حالات بدلنے کی امید اور دعا کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر بات جاننے اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر اور اس کا اجر : 1۔ صبر ہی بہتر ہے۔ (یوسف : 83) 2۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجردے گا۔ (الزمر : 10) 3۔ صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دیا جائے گا۔ (النحل : 96) 4۔ اللہ تعالیٰ صبر کا بدلہ جنت اور ریشم کی صورت میں دے گا۔ (الدھر : 12) 5۔ صبر کیجیے اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : 115)
Ayahs 12:84–86

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

” اس نے منہ پھیرا اور کہنے لگا۔ ہائے یوسف ! اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں، پس وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔ “ (84) ”

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا یہاں تک کہ گھل گھل کر مرنے کے قریب ہوجائے یا ہلاک ہوجانے والوں سے ہوجائے۔ “ (85) ”

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

اس نے کہا میں اپنی بیقراری اور غم کی شکایت صرف اللہ کے حضور پیش کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو۔ “ (86)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے یہ کہتے ہوئے رخ پھیر لیتے ہیں کہ میں تو صبر ہی کروں گا اور مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے یوسف، بنیامین اور یہودہ سے جلدہی ملائے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنا چہرہ بیٹوں سے پھیرتے ہوئے کہا کہ ہائے یوسف میں اس غم کی شکایت اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں یہی انبیاء (علیہ السلام) اور صابر لوگوں کا طریقہ ہے۔ اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو یوسف کی یاد میں غم سے چور چور ہوچکا تھا۔ بیٹے باپ کو تسلی دینے کی بجائے قسم اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو یوسف کا غم ہر وقت کھائے جا رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی انتہائی غم کے وقت دعا : (اللّٰہُمَّ إِلَیْکَ أَشْکُوْ ضَعْفَ قُوَّتِیْ ، وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ ، وَہَوَإِنِیْ عَلَی النَّاسِ ، یَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ، أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ ، وَأَنْتَ رَبِّیْ.... فَلاَ أُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ہِیَ أَوْسَعُ لِیْ ، أَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الَّذِیْ أَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ ، وَصَلَحَ عَلَیْہِ أَمْرُ الدُّنِیَا وَالْاٰخِرَۃِ ) [ الرحیق المختوم ] ” بار الہا ! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری وبے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بےقدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ یا ارحم الراحمین ! تو کمزور لوگوں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔۔ پس مجھے کوئی پروا نہیں لیکن تیری عافیت میرے لیے کافی ہے، میں تیرے چہرے کے جمال کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوجائیں اور جس سے دنیا اور آخرت کے مسائل حل ہوجائیں۔ “ مسائل 1۔ بیٹے کی جدائی ماں باپ کے لیے عظیم صدمہ ہوتا ہے۔ 2۔ حضرت یقوب (علیہ السلام) کی غم کی وجہ سے بینائی چلی گئی۔ 3۔ رنج وغم کی شکایت اللہ ہی سے کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے جو علم انبیاء (علیہ السلام) کو عطا کیا ہے وہ کسی اور کو عطا نہیں کیا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) اپنا دکھ اور فریاد اللہ ہی کے حضور پیش کرتے تھے : 1۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بےقراری اور غم کی شکایت صرف اللہ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : 86) 2۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 23) 3۔ ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 83) 4۔ یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے اور میں ہی قصور وار تھا۔ (الانبیاء : 87) 5۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : 89) 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اے رب ! بلاشبہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا لہٰذا مجھے معاف کردے۔ (القصص : 16)
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

” اے میرے بیٹو ! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ “ (87)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو لگ بھگ 40 سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ ان کی جدائی میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہر وقت خاموش اور غمگین رہتے تھے۔ اس غم نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی عمر سے پہلے ہی بوڑھا کردیا تھا۔ طویل مدت گزرنے کے باوجود ان کا غم پہلے دن کی طرح تازہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو صدمے پر صدمہ پہنچتا ہے۔ پہلے یوسف (علیہ السلام) آنکھوں سے اوجھل ہوئے پھر بنیامین اور یہودہ بھی مصر میں رہ گئے۔ اس کے باوجود حضرت یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئے۔ جب بیٹوں نے انہیں یہ بات کہی کہ آپ یوسف کو یاد کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ آپ ہلاک ہوجائیں۔ اس پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میرے بیٹو ! مایوس ہونے کی ضرورت نہیں تم جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر پر یقین تھا کہ ایک وقت ضرور آئے گا کہ یوسف اور اس کے بھائی سے ملاقات ہوگی۔ کیونکہ وہ پہلے بھی فرما چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ ضرور سب کو جمع کرے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے : 1۔ اللہ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ (یوسف : 87) 2۔ اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53) 3۔ اللہ کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ (الحجر : 56) 4۔ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کرنے والے اللہ کی رحمت سے مایوس ہیں۔ (العنکبوت : 23) 5۔ مومن اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 218) 6۔ ابراہیم نے کہا میں اپنے پروردگار کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اس کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔ (مریم : 48)
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

” پھر جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے کہنے لگے اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم معمولی رقم لے کر آئے ہیں، مگر ہمیں ماپ پورا عنایت کریں اور ہم پر صدقہ بھی کریں۔ یقیناً اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ “ (88)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب کی ہدایت پر برادران یوسف کا مصر کی طرف جانا۔ برادران یوسف اب تیسری مرتبہ مصر پہنچ کر مصر کے بادشاہ ( یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات کرتے ہیں۔ اب کی بار فاقہ مستی کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ بادشاہ کے حضور پیش ہوتے ہی فریاد کرنے لگے۔ اے عزیزمصر ! ہم اور ہمارے گھر والے قحط سالی اور فاقہ کشی کی و جہ سے انتہائی پریشان ہیں۔ غلہ لینے کے لیے جو رقم ہم لائے ہیں وہ بالکل ہی معمولی ہے لیکن آپ سے التجا ہے کہ آپ قیمت کے برابر غلہ دینے کی بجائے ہم پر صدقہ کریں۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو یقیناً جزا دیتا ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے پتا چل رہا ہے کہ بردران یوسف نے کتنی بےبسی اور عاجزی میں آکر فریاد کی تھی۔ غیور اور پیغمبر زادے ہونے کے باوجود فریاد کرتے ہیں کہ ہم بڑی مشکل سے کچھ رقم لائے ہیں۔ مگر یہ اتنی تھوڑی ہے کہ اس کے عوض جو غلہ ملے گا۔ اس سے ہم اپنے بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتے اس لیے ہماری عاجزانہ در خواست ہے کہ آپ اپنی طرف سے مزید غلہ عنایت فرمائیں۔ ہم اس قدر مجبور ہوچکے ہیں کہ ہم آپ سے صدقہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ آپ ضرور ہمیں صدقے کے طور پر غلہ دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو جزا دیتا ہے۔ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ برادران یوسف کی حالت زار کی ترجمانی کر رہا ہے کہ انہوں کتنی عاجزی اور لجاجت کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے فریاد پر فریاد کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ایھا العزیز کہہ کر درخواست کرتے ہیں ” العزیز “ کا لفظ پچھلی آیات میں اس عورت کے خاوند کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے اور ورغلانے کی کوشش کی تھی۔ جس کے بارے میں مفسرین اور مؤرخین کا مکمل اتفاق ہے کہ وہ مصر کی حکومت میں اعلیٰ افسریا کوئی وزیر تھا۔ جہاں تک بادشاہ کے نام کا تعلق ہے اس کو قرآن کریم نے اسی سورة کی آیت 43 تا 50 میں ” الملک “ کے نام سے متعارف کروایا ہے۔ لہٰذا تفہیم القرآن کے مؤلف سید ابواعلیٰ مودودی کے مطابق ” العزیز “ سے مرادمصر میں کسی خاص منصب کا نام نہ تھا بلکہ محض ” صاحب اقتدار “ کے معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے۔ غالباً مصر میں بڑے لوگوں کے لیے اس طرح کا کوئی لفظ اصطلاحاً رائج تھا جیسے ہمارے ملک میں لفظ سرکار بولا جاتا ہے۔
Ayahs 12:89–90

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

” اس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کیساتھ کیا کیا تھا، جب تم جاہل تھے ؟ “ (89) ”

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

کہنے لگے کیا واقعی تو یوسف ہے ؟ اس نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یقیناً اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرے اور صبر کرے تو یقیناً اللہ نیکی والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ “ (90)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کی بےبسی اور انتہا درجے کی عاجزی دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنا تعارف کرواتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انتہا درجہ عاجز ہو کر ان کے سامنے فریاد کرتے ہیں۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی عملی تعبیر کی ابتدا ہوتی ہے جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یقیناً حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی سوچ ہی رہے ہوں گے کہ میں نے بچپن میں خواب میں گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے جھکتے ہوئے دیکھا تھا ہوسکتا ہے کہ اس کی تعبیر یہی ہو تب اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے یہ اجازت عنایت فرمائی کہ اے یوسف ! اب وقت آگیا ہے کہ تم ان سے یہ سوال کرو اور پھر انہیں اپنا تعارف کرواؤ۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے استفسار کرتے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جب تم جاہل تھے ؟ انہوں نے اس کے جواب میں یہ عرض کی کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ ارشاد فرمایا کہ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر عظیم احسان فرمایا ہے۔ جو بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی بسر کرے اور صبر کرتا رہے یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی، یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال، اعلیٰ اخلاق، اپنے ساتھ مروّت اور میزبانی کا انداز، حکومت چلانے کا طریقہ، رعایا پروری اور ملک مصر کے ملحقہ علاقوں کے ساتھ بےلوث تعاون دیکھ چکے تھے۔ یقیناً احسان شناس لوگوں کی طرح اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ مصر کا بادشاہ کوئی عام انسان نہیں ہے۔ یقیناً یہ کسی عظیم خاندان کا فرزند اور منفرد انسان ہے۔ تیسری دفعہ ملاقات کی وجہ سے انہیں یہ بھی ادراک ہو چلا ہوگا کہ بادشاہ ہمارے ساتھ اس طرح ملتا ہے جس طرح خونی رشتہ رکھنے والا ملا کرتا ہے۔ قرائن اور جمال و کمال نے انہیں یوسف (علیہ السلام) کو پہچاننے کے بالکل قریب کردیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوال پر چونک اٹھے کیونکہ اب پہچاننے میں کوئی حجاب باقی نہ رہا۔ جس بنا پر وہ عرض کرتے ہیں کہ کیا آپ یوسف ہیں ؟ لیکن سوالیہ انداز میں عرض کرتے ہیں جس کی وجہ بادشاہ کا دبدبہ، احترام اور اپنی غلطیوں کا احساس ہوسکتا ہے۔ چناچہ جھجکتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ یوسف ہیں ؟ سیدنا یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بنیامین کو بلا کر فرمایا یہ میرا بھائی ہے۔ یقیناً اس عروج و کمال میں ہمارا کوئی کمال اور دخل نہیں یہ محض اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص پر ضرور کرم فرماتا ہے جو اللہ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے بچنے کی کوشش کرے اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہوئے پریشانیوں پر صبر کرے۔ یقیناً ایسے صاحب کردار لوگوں کا اللہ تعالیٰ کبھی اجر ضائع نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے انہیں کسی قسم کا طعنہ اور جھڑک دینے کی بجائے صرف یہ فرمایا کہ کیا تمہیں یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنا سلوک یاد ہے ؟ جب تم جاہل تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ لفظ بول کر ایک طرح ان کی شرمندگی کم کرنے کوشش کی کہ جو کچھ ہوا یہ جہالت کی وجہ سے ہوا جس میں یہ نقطہ سمجھایا کہ بھائیوں کے ساتھ زیادتی کرنا جہالت کا کام ہے جس سے بچنا چاہیے۔ مسائل 1۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو ان کی جہالت یاد کروائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے اور صبر کرنے والوں کی نیکی ضائع نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا : 1۔ بیشک اللہ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (یوسف : 90) 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا۔ (آل عمران : 195) 3۔ صبر کرو اللہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ( ھود : 115) 4۔ ہم تمہارے گناہ مٹا دیں گے اور عنقریب ہم احسان کرنے والوں کو زیادہ عطا کریں گے۔ (البقرۃ : 58) 5۔ احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (البقرۃ : 195) 7۔ انھیں معاف کیجیے اور در گزر کیجیے یقیناً اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 13)
Ayahs 12:91–92

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر برتری دی ہے اور بلا شبہ ہم واقعی خطاکار تھے۔ “ (91) ”

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

اس نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخشے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ (92)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو بھائی ان کے سامنے معذرت پیش کرنے لگے۔ برادران یوسف نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری کا اعتراف کیا کہ اللہ نے آپ کو ہم پر بڑی عزت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم خطا کار ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بےفکر ہوجاؤ آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ تمہیں اللہ معاف فرمائے وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے پڑ پوتے تھے۔ اس لیے اس موقع پر دونوں طرف سے بےمثال اور عظیم سے عظیم تر کردار کا مظاہرہ ہوا۔ برادران یوسف کو جب معلوم ہوا کہ یہی یوسف ہیں جن کے ساتھ ہم نے زیادتی کی تھی۔ ذرہ برابر تامل کرنے کی بجائے اللہ کی قسم اٹھا کر یوسف کی برتری کانہ صرف اعتراف کیا بلکہ نہایت عاجزی کے ساتھ اپنی زیادتی کی معافی مانگنے لگے۔ جس کے جواب میں بےمثال اور عظیم الشان اخلاق کے مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ماضی کو بھول جائیں۔ آپ پر رائی برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی۔ نہ صرف میں آپ کو معاف کرتا ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی التجا ہے کہ وہ بھی آپ کو معاف فرمائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو معاف کرتے ہوئے ” لاتثریب “ کا لفظ استعمال کیا جس کا معنی یہ ہے کہ کسی کو اس طرح معاف کیا جائے کہ جس میں اشارے کنایے میں بھی طعن کا مفہوم موجود نہ ہو۔ اسی اسوہ کا مظاہرہ سرور دوعالمِ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر کیا تھا۔ سرور دوعالم ﷺ نے بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے۔ اس کے بعد بیت اللہ کے صحن میں تشریف لائے یہاں مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ کے انتظار میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ نہ معلوم کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے بیت اللہ میں نماز کے دوران آپ کی گردن پر گندی اوجڑی رکھی تھی۔ آپ کے ساتھیوں پر مظالم ڈھائے تھے۔ وہ شخص بھی موجود تھا جس نے مکی دور میں آپ کو کعبہ کی چابی دینے سے انکار کیا تھا۔ سرور دو عالم ﷺ نے حمد وثنا کے بعد مکہ کے سرداروں کو مخاطب کر کے فرمایا ” ھل تظنون “ کیا خیال ہے کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ مکہ کے سردار آنکھیں نیچے کر کے بڑے عاجزی سے کہتے ہیں ” انت کریم “ آپ انتہائی معزز ہیں اور عزت والے خاندان کے فرد ہیں۔ ہم آپ سے بہتر امید رکھتے ہیں۔ (عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ اَنَ النَبِیَّ ﷺ لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ فَقَالَ مَنَ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ اٰمِنٌ وَمَنْ اَلَقَی السَّلَاحَ فَہُوَ اٰمِنٌ وَعَمَدَ صَنَادِیْدَ قُرَیْشٍ فَدَخُلُوْا الْکَعْبَۃَ فَغَصَّ بِہِمْ وَطَاف النَّبِیُّ ﷺ وَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ ۔۔ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتِی الْبَابِ فَقَالَ مَا تَقُوْلُوْنَ وَمَا تَظُنُّوْنَ قَالُوْا نَقُوْلُ اِبْنَ اَخٍ وَابْنَ عَمٍّ حَلِیْمٌ رَحِیْمٌ قَالَ وَقَا لُوْا ذٰ لِکَ ثَلَا ثا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَقُوْلُ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰاحِمِیْنَ )[ السنن الکبرٰی : جزء 9] ” حضرت ابی ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن جب مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا جو اپنے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا۔ جو اسلحہ پھینک دے اسے بھی پناہ دی جائے گی۔ قریش کے سردار کعبۃ اللہ میں داخل ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے طواف کعبہ کیا۔۔ آپ ﷺ پھر کعبۃ اللہ کے پاس آئے اور اس کی دہلیز پکڑ کر فرمایا تم میرے متعلق کیا کہتے اور کیا خیال کرتے ہو ؟ کہنے لگے ہم کہتے ہیں آپ ہمارے بھائی کے بیٹے، چچا کے بیٹے ہیں۔ حلیم الطبع اور رحم کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ الفاظ تین بار کہے۔ آپ نے فرمایا میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی۔ آج کے دن کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمائے یقیناً وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ 2۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا۔ 3۔ بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، مہربان ہے : 1۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ ( یوسف : 22) 2۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف : 58) 3۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 218) 4۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 109)
Ayahs 12:93–96

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

” میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈالنا، وہ بینا ہوجائے گا اور اپنے تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔ “ (93) ”

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ الگ ہوا، ان کے باپ نے کہا یقیناً میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو تم مجھے بہکا ہوا کہو۔ “ (94) ”

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تو پرانی غلطی پر ہے۔ “ (95) ’

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

’ پھر جیسے ہی خوشخبری دینے والا آیا اس نے قمیص اس کے چہرے پر ڈالی تو وہ بینا ہوگیا۔ کہنے لگا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ بیشک میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ “ (96)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم۔ نہ معلوم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کتنے دنوں تک اپنے بھائیوں کو اپنے ہاں عزت و تکریم کے ساتھ ٹھہرایا۔ برادران جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو انہیں الوداع کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیص دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے والد گرامی کے چہرہ اقدس پر رکھنا۔ جس سے ان کی بنائی لوٹ آئے گی۔ کیونکہ بنیامین انہیں گھریلو حالات اور والد محترم کی صحت کے بارے میں بتلا چکا تھا کہ آپ کے غم میں والد گرامی کی بینائی جاتی رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو رخصت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ تم سب کے سب میرے ہاں آکر قیام کرو۔ ادھر قافلہ مصر سے روانہ ہوا، ادھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے گھر والوں سے فرمانے لگے اگر تم مجھے طعن نہ دو تو میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ ان کے گھر والے پھر کہنے لگے کہ آپ تو مدت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ جب خوشخبری لانے والے نے آکر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرۂ اقدس پر یوسف (علیہ السلام) کی قمیص رکھی تو یکد م ان کی بینائی پلٹ آئی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوتا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) گھر والوں کو فرماتے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب یوسف کے ساتھ میری ضرور ملاقات ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ جب بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینک کر قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پیش کی تھی تو اس وقت انہوں نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ یوسف زندہ ہے اور مجھے اس کی خوشبو آرہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں حکمران بن چکے ہیں یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے دو مرتبہ یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات بھی کرچکے مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کچھ معلوم نہیں ہوا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا اس وقت قمیص لانے والا ابھی مصر سے چلا ہے تو فرما رہے ہیں کہ مجھے اپنے پیارے بیٹے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ عقیدہ کا معاملہ ہے جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نہ بتلائے تو نبی کو غیب کے معاملات کی خبر نہیں ہوتی۔ مسائل 1۔ انبیاء (علیہ السلام) کے معجزات برحق ہیں۔ 2۔ آدمی کو اپنے عزیز و اقارب کا خیال رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی غیب جانتا ہے : 1۔ زمین و آسمان کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (النحل : 77) 2۔ کہہ دیجئے ہر قسم کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (یونس : 20) 3۔ اللہ تعالیٰ غائب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ (السجدۃ : 6) 4۔ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں ہی آسمان و زمین کے غائب کو جانتا ہوں۔ (البقرۃ : 33) 5۔ اے نبی ! فرما دیں اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ (الاعراف : 188)
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کریں یقیناً ہم خطاکار تھے “ (97) ”

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : برادران یوسف کا گھر واپس جانا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے معافی کا خواستگار ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں باپ انتہائی خوش وخرم ‘ ہشاش بشاش ہے اور ان کی بینائی بھی صحیح ہوچکی ہے۔ والد گرامی کو سلام عرض کرنے کے بعد سب مل کر اپنے گناہ کا اعتراف کرکے درخواست کرتے ہیں کہ اباجان ! ہم نے یوسف (علیہ السلام) پر بہت زیادتی کی جس سے آپ کو طویل عرصہ تک دکھ اٹھانا پڑا۔ ہم اس پر سچے دل کے ساتھ آپ سے معافی مانگتے ہیں۔ آپ ہمارے عظیم باپ ہیں اور ہم اپنے کیے پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ ہمیں معاف کردیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک مشفق باپ ہونے کے ساتھ اللہ کے نبی اور انبیاء ( علیہ السلام) کی اولاد تھے۔ انہوں نے کوئی بات کرنے کے بجائے فی الفور فرمایا کہ نہ صرف تمہیں معاف کرتا ہوں بلکہ عنقریب میں اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش کی دعا کروں گا۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے ہر گناہ معاف کرنے والا ہے۔ اہل تفسیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے۔ عنقریب معافی مانگنے سے تہجد کا وقت مراد تھا۔ کیونکہ دعا کی قبولیت کے اوقات میں یہ سب سے زیادہ اللہ کے ہاں قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے عنقریب دعا کروں گا۔ اس واقعہ میں اولاد کے لیے حکم ہے کہ اگر اس سے ماں باپ کی شان میں گستاخی ہوجائے تو اولاد کا فرض ہے کہ وہ جلد از جلد ماں باپ سے معافی مانگنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔ کیونکہ والدین کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے والدین کے لیے یہ سبق ہے کہ بیشک اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نہ ہو وہ معافی اور درگزر کا رویہ اختیار کریں۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی قَال الصَّلٰوۃُ لِوَقْتِہَا قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بِہِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہٗ لَزَادَنِیْ )[ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ الصَّلاَۃِ لِوَقْتِہَا ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی محترم ﷺ سے یہ سوال کیا کہ اعمال میں اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل زیا دہ پسند ہے ؟ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں فرض نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا عمل بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا والدین کے ساتھ بہترسلوک کرنا۔ میں نے پھر عرض کی ان کے بعد کون ساعمل بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں اگر میں اس موقعہ پر مزید سوال کرتا تو آپ اس کا بھی جواب عنایت فرماتے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنِّیْٓ أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِیْمًا فَہَلْ لِیْ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ قَال لاقَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ خَالَۃٍقَالَ نَعَمْ قَالَ فَبِرَّہَا)[ باب مَا جَآءَ فِی بِرِّ الْخَالَۃِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول ! مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ کیا میرے لیے توبہ ہے آپ نے فرمایا کیا تیری ماں ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تیری خالہ ہے اس نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا اس کی خدمت کرو۔ “ مسائل 1۔ والدین سے دعا کروانی چاہیے۔ 2۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا چاہیے۔ 3۔ والدین کو بچوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ 4۔ ماں باپ کو اولاد کی غلطی معاف کردینی چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے : 1۔ میں اللہ سے مغفرت طلب کروں گا بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (یوسف : 98) 2۔ بیشک تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ (الانعام : 145) 3۔ اللہ جسے چاہے معاف کر دے، جسے چاہے عذاب دے، وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 129) 4۔ اللہ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یقیناً وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (التوبۃ : 99) 5۔ اللہ سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 199) 6۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں سکتے اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ( النحل : 18)
Ayahs 12:99–100

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

” پھر جب وہ یوسف کے ہاں پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہوجاؤ، اگر اللہ نے چاہاتو امن میں رہو گے “ (99) ”،

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ بےاختیار سجدے میں گرپڑے اور اس نے کہا اے میرے والد ! یہ میرے پہلے والے خواب کی تعبیر ہے بیشک اسے میرے رب نے سچ کر دکھایا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں صحرا سے لے آیا، بعد اس کے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا۔ بیشک میرا رب جو چاہے تدبیر کرنے والا ہے، بلا شبہ وہی سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ “ (100)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یوسف (علیہ السلام) کی درخواست پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بمعہ اہل و عیال ملک مصر کی طرف روانہ ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر شہر کے قریب پہنچے۔ یاد رہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے بھی اس ملک کا نام مصر تھا۔ اس کے سب سے بڑے شہر کا نام بھی مصر ہے جو اس ملک کا قدیم سے دارالخلافہ ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) دن رات اس انتظار میں تھے کہ والد گرامی کس دن تشریف لاتے ہیں۔ جونہی انہیں معلوم ہوا کہ والد گرامی کا قافلہ مصر شہر کی حدود میں داخل ہونے والا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے عملہ سمیت استقبال کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ والد گرامی سے بغل گیر ہوتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس کی منظر کشی کرنے کے بجائے اسے فطری تصور کے حوالے کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنی مدت کے بعد باپ بیٹے کی ملاقات زندگی کے ایسے موڑ پر ہو رہی ہے کہ بیٹا نہ صرف دنیا کی عظیم مملکت کا فرمانروا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے تاج نبوت سے بھی نواز رکھا ہے۔ ایسے موقعہ پر جذباتی کیفیت سے وہی واقف ہوسکتے ہیں جن کو کسی نہ کسی انداز میں اولاد کی جدائی کا صدمہ پہنچا ہو۔ مصافحہ، معانقہ اور محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) اپنے والد گرامی سے عرض کرتے ہیں میرے عظیم باپ آئیں شہر میں قدم رنجہ فرمائیں۔ آپ انشاء اللہ ہر جانب سے امن وامان، عزت واقبال، سکون اور اطمینان پائیں گے۔ گویا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خداداد صلاحیتوں سے مصر کو امن وامان اور خوشحالی کا گہوارا بنا دیا تھا۔ شاندار استقبال کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حقیقی والدہ ہیں مصر کے پایۂ تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) سامنے براجمان ہوتے ہیں۔ جو نہی حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے مسند اقتدار پر تشریف رکھتے ہیں تو ان کے والدین اور بھائی ان کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ جب سب نے یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے باپ سے عرض کرنے لگے۔ اے میرے عظیم باپ ! بچپن میں جو میں نے خواب دیکھا تھا یہ اس کی تعبیر ہے میرے رب نے اسے حرف بہ حرف حقیقت بنا دیا ہے اور مجھ پر احسان کرکے مجھے جیل سے نکال کر اس منصب تک پہنچایا ہے۔ اسی رب نے آپ کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا ہے۔ حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دوری پیدا کرچکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب نہایت ہی لطیف انداز میں اپنی مشیت پوری کرنے والا ہے۔ کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اب تک اپنے والد کے بغیر خواب کسی کے سامنے بیان نہیں کیا تھا۔ تبھی تو فرما رہے ہیں کہ والد محترم یہ اسی خواب کی تعبیر ہے جو میں نے بچپن میں آپ کے سامنے بیان کیا تھا۔ پھر اپنے جیل جانے کا واقعہ بیان کیا۔ لیکن بھائیوں کے کنویں میں پھینکنے کے واقعہ کو بیان کرنے کی بجائے صرف اشارہ کیا ہے شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان نزاع ڈال چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کی سازش کو ناکام فرما کر ہمیں ملایا اور ہمارے دلوں میں محبت پیدا فرما دی ہے۔ سجدہ سے مراد جھکنا بھی ہوسکتا ہے لیکن قرآن مجید نے سجدہ کے ساتھخَرُّوْا کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ جس کا صاف معنی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور بھائیوں نے ان کے حضور سجدہ کیا تھا۔ یہ سجدۂ تعظیم تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ اسی شاہی پروٹوکول کا خیال رکھتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والدین ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی سجدہ ریز ہوگئے۔ یاد رہے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ ہمارے دین میں بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ تعظیمی سجدہ پیر محمد کرم شاہ صاحب الأزھری کی نظر میں : ” جب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو پروردگار عالم نے انہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سجدہ کا لغوی معنی ہے تذلّل اور خضوع اور شریعت میں اس کا معنٰی ہے ” وضع الجبھۃ علی الأرض “ پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ کا لغوی معنٰی مراد ہے کہ فرشتوں کو ادب واحترام کرنے کا حکم دیا گیا لیکن جمہور علماء کے نزدیک شرعی معنیٰ مراد ہے۔ یعنی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیشانی رکھ دیں۔ اب اس سجدہ کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ پیشانی جھکانے والا یہ اعتقاد کرے کہ جس کے سامنے میں پیشانی جھکا رہا ہوں وہ خدا ہے تو یہ عبادت ہے اور یہ بھی کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں بلکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد اولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس چیز سے روکنے کے لیے انبیاء تشریف لائے اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کے سامنے سجدہ کیا جارہا ہے اس کی عزت واحترام کے لیے ہو عبادت کے لیے نہ ہو تو اس کو سجدہ تحیہ کہتے ہیں۔ یہ پہلے انبیاء کرام کی شریعتوں میں جائز تھا لیکن حضور کریم ﷺ نے اس سے بھی منع فرمادیا۔ اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔ “ [ ضیاء القرآن، جلد اول ‘ البقرہ : 34] مسائل 1۔ والدین کی عزت و تو قیر کرنی چاہیے۔ 2۔ ہر کام کرتے وقت انشاء اللہ کہنا چاہیے۔ 3۔ انبیاء (علیہ السلام) کے خواب سچے ہیں۔ 4۔ شیطان کا کام فساد ڈالنا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے : 1۔ بیشک میرا اللہ جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ (یوسف : 100) 2۔ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ (آل عمران : 13) 3۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا مگر وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ (الدھر : 30) 4۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا مگر وہی ہوتا ہے جو جہانوں کا رب چاہتا ہے۔ (التکویر : 29) 5۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (آل عمران : 37)