Ayahs 13:27–29فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ آخرت سے انحراف اور دنیا کے مال ومتاع پر اترانے کی وجہ سے منکرین حق کی ہٹ دھرمی۔
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو من جانب اللہ قرار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کے بارے میں اتنے بھاری اور ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ جن کا جواب دینا انسان کے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایسے ٹھوس اور بھاری دلائل ہیں کہ ان کا انکار کرنے والے کو اندھا قرار دیا گیا ہے۔ اسی اندھے پن کا نتیجہ تھا کہ کفار ٹھوس اور واضح دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر بار مطالبہ کرتے کہ کوئی نیا معجزہ نازل کیا جائے۔ یہاں کفار کی کوتاہ بینی اور ہٹ دھرمی کا صرف اتنا جواب دیا ہے کہ اے رسول ﷺ ! ان سے فرما دیں دلائل اور معجزات تو بہت آچکے مگر تم انہیں تسلیم کرنے کی بجائے انکار کی روش اختیار کیے ہوئے ہو۔ در حقیقت ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے جو شخص تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کا انکار کرتا جائے۔ اسے اللہ تعالیٰ گمراہی میں کھلا چھوڑ دیتا ہے اور جو شخص ہدایت کی تمنا اور اس کی جستجو کرتا ہے اسے ہدایت عطا کی جاتی ہے۔ کیونکہ ہدایت اس قدر گراں مایہ نعمت ہے جو تمنا اور جستجو کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں انہیں ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ اے لوگو ! یاد رکھو کہ دل اللہ کے ذکر سے ہی سکون اور اطمینان پاتے ہیں۔ جو لوگ ایمان کے ساتھ صالح کردار اپناتے ہیں ان کے لیے ان کی موت کے بعد ہر قسم کی خوشحالی اور رہنے کا بہترین مقام ہوگا۔ ” الذکر “ سے مراد اللہ پر سچا ایمان لانا اس کی تسبیح پڑھنا، اس کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتلائے ہوئے طریقے پر زندگی بسر کرنا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے حج کے موقعہ پر جمرات کو کنکریاں مارنا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا اور بیت اللہ کے طواف کرنے کو اللہ کا ذکر قرار دیا ہے۔ ” اللہ “ کے ذکر سے مومن کا دل قرار اور سکون پا کر نیک اعمال کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جنت میں بہترین مکان اور مقام عطا کیے جائیں گے۔ ” طوبیٰ “ کا معنی ہر قسم کی خوشحالی اور یہ جنت کے ایک درخت کا نام ہے۔ جس کے طول وعرض کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لَہٗ یَا رَسُول اللّٰہِ طُوْبٰی لِمَنْ رَّآکَ وَآمَنَ بِکَ قَالَ طُوْبٰی لِمَنْ رَّآنِی وَآمَنَ بِیْ ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَلَمْ یَرَنِیْ قَالَ لَہٗ رَجُلٌ وَمَا طُوبٰی قَالَ شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ مَسِیْرَۃُ ماءَۃِ عَامٍ ثِیَابُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ تَخْرُجُ مِنْ أَکْمَامِہَا )[ رواہ أحمد وہو حدیث حسن ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس نے آپ کو دیکھا اور آپ پر ایمان لایا۔ آپ نے فرمایا خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، پھر خوشخبری ہو، خوشخبری ہو، خوشخبری ہو اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے دیکھا نہیں۔ آدمی نے آپ سے پوچھا طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ جنت میں ایک درخت ہے جس کی مسافت سو سال ہے اس کے خوشوں سے جنتیوں کا لباس نکلتا ہے۔ “
ذکر کی اہمیت و فضیلت :
ذکر روحانی و جسمانی بیماریوں کا علاج، قلب و نظر کا سکون اور اطمینان، مشکلات سے نکلنے کا آسان راستہ، اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی نصرت و حمایت کا ذریعہ، ذکر کرنے والے کا حریم کبریا میں تذکرہ اور فلاح و کامیابی کا زینہ ہے لہٰذا ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کیجیے۔
ذکر دنیاوآخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔ بشرطیکہ الفاظ اور انداز قرآن اور نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہو۔ من گھڑت یا بزرگوں کے حوالے سے مصنوعی درودو وظائف سے ممکن ہے کہ مشکلات آسان ہوجائیں مگر قرآن اور نبی ﷺ کے الفاظ کی برکت اور سنت رسول سے محرومی اس کا مقدر ہوگی۔
(عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُ ﷺ أَلاَ أُنِبِءُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالُکُمْ وَأَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیْکِکُمْ وَأَرْفَعَہًا فِیْ دَرَجَاتِکُمْ وَخَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ إِنْفَاق الذَّہَبِ وَالْوَرَقِ وَخَیْرُ لَّکُمْ مِنْ اأنْ تَلْقُوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَہُمْ وَیَضْرِبُوْا أَعْنَاقَکُمْ ؟ قَالُوْا بَلٰی قَالَ ذِکْرَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ؓ مَاشَیءٍ أَنْجٰی مِنْ عَذَاب اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ )[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی فضل الذکر ]
” حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے درجات کو دوسرے اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور راہ خدا میں سونا اور چاندی خرچ کرنے اور اس جہاد سے بھی زیادہ تمہارے لیے بہتر ہے جس میں تم اپنے دشمنوں کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں ؟۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کے رسول ضرور بتلائیں فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے کہا اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہیں ہے۔ “
مسائل
1۔ کفار معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ رکھتا اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔
3۔ اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ 4۔ ایمان دار اور صالح کر دار لوگ اللہ کے ہاں خوش وخرم ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
ذکر کا حکم اور فائدہ :
1۔ اللہ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔ (الرعد : 28)
2۔ صبح اور شام کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو۔ (آل عمران : 41)
3۔ اے ایمان والو ! کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ (الاحزاب : 41)
4۔ اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعۃ : 10 )
5۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35)
6۔ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ : 152)
Ayah 13:30فہم القرآن
ربط کلام : ہر دور کے منکرین حق کا ایک جیسا انداز اور سوچ۔
اس فرمان کی ابتداء ” کذ لک “ کے الفاظ سے کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے ” مانند “ اور ” اس جیسا “۔
یعنی جس طرح کا وطیرہ اہل مکہ اور قرآن کے منکروں نے اختیار کیا ہے۔ اس جیسا پہلے زمانے کے کفار بھی اختیار کیے ہوئے تھے انہوں نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات کا مطالبہ کیا۔ جب ان کے مطالبہ پر انبیاء کرام (علیہ السلام) نے انہیں من جانب اللہ معجزے دکھائے تو منکرین حق نے تسلیم ورضا کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے انکار اور مخالفت کا رویہ اختیار کیا۔ یہ لوگ بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اے رسول ﷺ ! آپ کو ہم نے ایسی امت کی طرف بھیجا ہے جس جیسی پہلے امتیں گزر چکی ہیں۔ آپ کو بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں آپ من وعن پڑھ کر انہیں سناتے اور سمجھاتے جائیں۔ جس طرح پہلی امتوں کے لوگ انکار کرتے رہے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث کیے گئے ان میں بھی لوگ ” الرحمان “ کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ان کے انکار پر شکست خور دہ اور دل گرفتہ ہونے کی بجائے انہیں صاف صاف فرمائیں۔ کہ تم بیشک ” ا لرحمٰن “ کا انکار کرو۔ میرا اسی پر بھروسہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبودِ حق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہے۔ بالآخر اسی کی طرف سب نے پلٹ کر جانا ہے۔ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو معبود، مشکل کشا اور حاجت روا مانتے تھے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات اپنے سوا دوسروں کو بھی دے رکھے ہیں۔ جس بنا پر وہ بتوں کو خدا کا اوتار اور شریک سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے مبارک نام ” ا لرحمٰن “ کا بالکل انکار کرتے تھے۔ جب انہیں کہا جاتا۔ اللہ ہی اور ” رحمٰن “ ہے اس ” الرحمٰن “ کو سجدہ کرو تو وہ کہتے، رحمن کون ہے کہ جسے ہم سجدہ کریں۔
(وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا)
[ الفرقان : 60]
” اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کے لیے سجدہ کرو۔ وہ کہتے ہیں الرحمن کون ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جسے آپ سجدہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اور ان کی نفرت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ “
وہ یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ اگر ہم، اللہ کے ساتھ اپنے معبودوں کو شریک کرتے ہیں تو آپ بھی ” رحمان “ کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی وضاحت کی گئی کہ اللہ کا دوسرا نام ” الرحمن “ ہے۔ اس لیے اللہ کو پکارو یا الرحمن کو، اسی کے بہترین نام ہیں۔ (بنی اسرائیل : 110)
مسائل
1۔ پہلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے گئے تھے۔
2۔ نبی اکرم ﷺ کا کام لوگوں کے سامنے کتاب اللہ پڑھنا اور اس کی تفسیر کرنا تھا۔
3۔ کافر ” الرحمن “ کا انکار کرتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔
تفسیر بالقرآن
توکل علی اللہ کے فائدے :
1۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی الٰہ نہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور مجھے اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ (الرعد : 30)
2۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
3۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ (الطلاق : 3)
4۔ عمل کرنے والوں کے لیے بہتر اجر ہے جو صبر کرتے ہیں اور اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (العنکبوت : 59)
Ayah 13:31فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے انکار اور بار بار معجزہ طلب کرنے کا دوسرا جواب۔
کفار کو بنیادی طور پر نبی اکرم ﷺ کی بجائے قرآن مجید کے ساتھ اختلاف تھا کیونکہ نزول قرآن سے پہلے اہل مکہ رسول معظم ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ مگر جب آپ پر قرآن مجیدنازل ہوا اور آپ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے اس کا ابلاغ شروع کیا تو کفار نے آپ کو کذاب کہنا شروع کیا۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اے پیغمبر ! ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی ہرزہ سرائی آپ کو پریشان کرتی ہے۔ لیکن یقین جانیں کہ حقیقتاً یہ آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتے بلکہ ظالم اللہ کی آیات کو جھٹلاتے اور ان کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔ (الانعام : 33)
قرآن مجید کی مخالفت پر وہ یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ (یونس : 15)
یہاں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے اگر قرآن مجید سے پہاڑ چلائے جاتے یا زمین پھاڑ دی جاتی یا اس کے ذریعے یہ لوگ مردوں سے ہم کلام ہوتے۔ تب بھی یہ لوگ قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا قرآن نازل کرنا مشکل نہیں۔ کیونکہ ہر قسم کی طاقت اور اختیارات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں لیکن وہ طاقت کے زور پر کسی شخص کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا۔ جہاں تک کفار کا بار بار دلائل اور معجزات طلب کرنا ہے۔ دلائل اور معجزات تو آچکے۔ لیکن کافر ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیا اس صورت حال کے باوجود ایماندار لوگ، کفار کے طرز عمل اور سوچ سے مایوس نہیں ہوئے ؟ ایمانداروں کو تو سمجھ جانا چاہیے کہ کفار کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ طاقت کے زور پر چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا۔ لیکن اس نے ہدایت کا معاملہ لوگوں کے اختیار پر چھوڑ رکھا ہے۔
ہدایت کا انکار کرنے والے بالآخر اپنے کردار کا خمیازہ بھگتیں گے۔ جو دنیا میں ان پر براہ راست وارد ہوگا یا اس کے بھیانک اثرات ان کے گھروں تک پہنچیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ وعدہ سے مراد دنیا میں تباہ کن عذاب اور قیامت کا عذاب ہے۔
مسائل
1۔ نہ ماننے والے ہر قسم کے معجزات کا انکار کردیتے ہیں۔ 2۔ ہر چیز کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
3۔ کافر اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بدلتے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور وعدہ برحق ہے :
1۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوگا کیونکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ (الرعد : 31)
2۔ بیشک اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا ہے۔ (ابراہیم : 22)
3۔ یہ وہی سچا وعدہ ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ (الاحقاف : 20)
4۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھو کے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان : 33)
5۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ( الحج : 55)
Ayah 13:32فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کی عجب حالت تھی۔ ان کے مطالبہ پر معجزہ ظاہر ہوتا تو نبی معظم ﷺ کو جادوگرقرار دیتے۔ اگر معجزہ دکھانے کی بجائے دلائل سے سمجھایا جاتا تو مذاق اڑاتے کہ کیسا رسول ہے کہ ہم نے فلاں معجزہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ اس کو پورا نہیں کرسکا۔ کیا ہم ایسے رسول پر ایمان لائیں کفار کے مذاق کرنے پر آپ ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ صورت حال سے آگہی بخشی جارہی ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اطمینان خاطر رکھیں۔ یہ تو ہم کفار کی آزمائش کرتے ہیں کہ کبھی ان کا مطالبہ مان کر معجزہ دکھا دیتے ہیں اور کبھی ان کے مطالبہ کو مسترد کردیتے ہیں۔ پھر انکار اور آپ کا استہزا کرنے پر مہلت دیتے ہیں۔
اسی طرح ہم نے ان سے پہلے کفار کو آزمایا تھا۔ جب ان کی مہلت ختم ہوئی اور ہماری طرف سے حجتّ تمام ہوچکی ہم نے انہیں پکڑلیا۔ ہمارا پکڑنا خوب ہوا کرتا ہے سورة البروج آیت : 12 میں فرمایا کہ تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہوا کرتی ہے۔
جب ان کی مہلت پوری ہوگی تو ان پر ایسی گرفت ہوگی کہ انہیں چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ چناچہ پہلی گرفت بدر کے میدان میں ہوئی کہ ان کے ستر سورماؤں کی لاشیں بدر کے کنویں میں پھینک دی گئیں۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مذاق کرنے والے لوگ :
1۔ یقیناً رسولوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی مذاق کیا گیا ہے۔ (الرعد : 22)
2۔ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں سے مذاق کرتے ہو۔ (التوبہ : 65)
3۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (الحجر : 11)
4۔ افسوس ہے لوگوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (یٰس : 30)
5۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ ان سے مذاق کرتے تھے۔ (الزخرف : 7)
6۔ آپ سے پہلے بھی انبیا سے مذاق کیا جاتا رہا تب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ (الانبیاء : 41)
Ayahs 13:33–34فہم القرآن
ربط کلام : اے رسول ! کیا آپ کو مذاق کرنے والے بھول گئے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ ان پر نگران نہیں ہے ؟
اے رسول ! انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق کرنے والے مجرموں کو اس ذات حق نے پکڑا جوہر نفس پر نگران اور اسے پکڑنے پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ ہر نفس کے کردار اور افکار پر نگران ہے۔ رقیب کے معنی نگران کے ہیں۔ اس کے لفظی معنی کھڑے ہونے کے بھی ہیں جو ہر زبان میں محاورہ ہے کہ فلاں شخص فلاں کے سر پر کھڑا ہے۔ پہلے لوگوں کے گناہوں کا بنیادی سبب شرک تھا اور ان لوگوں نے بھی اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم حاجت روا سمجھے ہو یہ تو محض تمہارے رکھے ہوئے نام ہیں۔ ان کے پیچھے نہ کوئی وجود ہے اور نہ ہی ان کی کوئی حقیقت جب تم پر اللہ کی گرفت ہوگی تو کوئی تمہارے کام نہ آسکے گا۔ مشرکوں کے رکھے ہوئے ناموں کی حقیقت پر غور کریں تو معلوم ہوگا۔ یہ ایک دھوکہ اور افسانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کو لیجیے۔ لوگ انھیں دستگیر کہتے ہیں کہ وہ ڈوبتے بیٹرے بچا لیتے ہیں۔ 2005 ء کی بات ہے پوری دنیا کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں اور اس وقت ٹیوی بلیٹن نکلوا کر دیکھیں اور سنیں کہ امریکہ کی عراق پر بمباری سے پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کے مزار کو کس قدر شدید نقصان پہنچا۔ اسی طرح نجف میں حضرت علی ؓ کے مزار کا ایک حصہ تباہ ہوا۔ پیر صاحب اور حضرت علی ؓ اپنے مزارات کو نہ چا سکے۔ گویا کہ علی مشکل کشا اور پیر دستگیر محض مشرکوں کے رکھے ہوئے نام ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
دراصل کفار کے لیے ان کے مکر و فریب خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ (النحل : 63) اور وہ راہ حق سے روک دیے گئے ہیں۔ یہاں مشرکوں کو کافر اور ان کے شرک کو مکر و فریب قرار دیا گیا ہے مکر کا مفہوم ہے کسی کے خلاف سازش کرنا یا حقیقت کے خلاف کوئی چیز پیش کرنا۔
1 قولی اور فعلی طور شرک کا پر چار کرنے والے لوگ توحید کے عقیدہ کے خلاف سازش کرتے ہیں۔ 2 شرک کرنے والے ہمیشہ جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے لوگوں کا عقیدہ خراب کرتے ہیں جسے قرآن مجید نے مکرو فریب قرار دیتا ہے۔ 3 شرک جھوٹ، فریب اور مکرو ریا کا دوسرا نام ہے۔ 4 شرک کا پر چار کرنے والے من گھڑت بزرگوں کی کرامات کے حوالے سے جھوٹے قصے بیان کر کے لوگوں کو دھوکہ دے کر عقیدہ توحید سے روکتے ہیں۔ 5 مشرک ایک سازش اور گھناؤنے منصوبے کے تحت جھوٹی کرامات بیان کر کے لوگوں کا مال ہڑپ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ انہیں بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ کسی فرد اور قوم کی گمراہی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب اس کے گناہ اس کے لیے فیشن اور فخر کا ذریعہ بن جائیں۔ ایسے فرد یا قوم کو پھر کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ پہلی قوموں کے عذاب کے واقعات قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اہل مکہ پر اس طرح کا عذاب نازل نہ ہوا۔ لیکن تباہی اور ذلت کے حوالے سے انہیں پہلی اقوام کے مقابلہ میں بہت بڑی سزا سے دوچار ہونا پڑا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کفار کو ان کا مکر و فریب خوشنما کر کے دکھاتا ہے۔ 2۔ جسے اللہ گمراہ رکھنا چاہے اسے کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔
3۔ کفار کو دنیا اور آخرت میں عذاب ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کفار کوئی نہیں بچاسکتا۔
Ayah 13:35فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکوں کے مقابلہ میں توحید کا عقیدہ رکھنے اور نیک اعمال کرنے والوں کا بہتر انجام اور صلہ۔
قرآن مجید اپنے دلکش اور مفیدترین اسلوب کے مطابق دونوں قسم کے لوگوں اور کرداروں کا انجام بیان کرتے ہوئے واضح کرتا ہے جن لوگوں نے صرف ایک اللہ کو مشکل کشا اور حاجت رواجانا اور اس کے حکم کے تابع ہو کر زندگی بسر کی، مشرکوں اور کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے جس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ اس کے گھنے پھل اور ٹھنڈے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
متقین کا بہترین انجام ہوگا اور ان کے مقابلہ میں کفار کے لیے جہنم کی آگ کے دہکتے ہوئے انگارے ہوں گے۔
جنتیوں اور جہنمیوں کا فرق :
(جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْکُلُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ فِیْہَا وَیَشْرَبُوْنَ وَلاَ یَتَغَوَّطُوْنَ وَلاَ یَمْتَخِطُوْنَ وَلاَ یَبُوْلُوْنَ وَلٰکِنْ طَعَامُہُمْ ذَاکَ جُشَآءٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ یُلْہَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالْحَمْدَ کَمَا یُلْہَمُوْنَ النَّفَسَ قَالَ وَفِیْ حَدِیثِ حَجَّاجٍ طَعَامُہُمْ ذٰلِکَ )[ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ النار، باب فِی صِفَاتِ الْجَنَّۃِ وَأَہْلِہَا وَتَسْبِیْحِہِمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جنتی جنت میں کھائیں پییں گے، نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ان کی ناک سے فضلہ آئے گا اور نہ ہی وہ پیشاب کریں گے۔ ان کا کھانا کستوری کی مانند ایک ڈکار سے ہضم ہوگا، تسبیح اور تحمید ان میں اس طرح الہام کی جائیں گی جس طرح سانس چلتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تسبیح اور تحمید ان کی غذا ہوگی۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَ رَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہٰذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَّ تُشْرِکَ أَحْسَبُہٗ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ )
[ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ النار ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی کریم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ تیرے لیے ہو تو کیا تو اسے فدیہ کے طور پردے دے گا وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اس سے بھی زیادہ تجھ سے نرمی کی تھی جب کہ تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، راوی کا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخلنہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہیں آیا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنْ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّ سِتِّیْنَ جُزْءً اکُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا)
[ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ النَّارِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری آگ ‘ دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا ‘ اے اللہ کے رسول ﷺ ! جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے، ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ 2۔ جنت کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔
3۔ جنت کے پھل اور سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ 4۔ کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔
تفسیر بالقرآن
متقین کا صلہ اور کفار کا انجام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
2۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : 49) 3۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45)
4۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتیوں کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : 106۔ 107)
5۔ مجرم کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ : 74) 6۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
7۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
Ayah 13:36فہم القرآن
ربط کلام : موحدین کا صلہ، مشرکین اور کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اہل کتاب کو شرک کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔
اہل کتاب دو گر وہ تھے ایک وہ جماعت جس نے حق پہنچایا اور اس پر ایمان لائے اور دین اسلام پر خوش ہوگئے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے حق جاننے کے باوجود تعصب کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ اس طرح یہ لوگ کفرو شرک میں مبتلا ہوئے اور مبتلا رہیں گے۔
شرک کرنے والوں کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا گروہ کفار کا ہے جو ملائکہ، جنات، شمس و قمر، ستاروں، بتوں اور دیگر چیزوں کو مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں شریک سمجھتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو کسی نہ کسی نبی کا پیروکار اور آسمانی کتاب کا حامل سمجھتے ہیں۔
لیکن انبیاء (علیہ السلام) اور اپنے بزرگوں کی روحوں اور مزارات کو اللہ کے قرب کا ذریعہ اور اس کے حضور وسیلہ اور واسطہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا اور عیسائیوں کی اکثریت نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور حضرت مریم [ کو اللہ کی بیوی قرار دیا۔ آپ کو حکم ہے کہ اے رسول ! آپ فرمادیں کہ میں صرف اور صرف ایک اللہ کی دعوت دیتا ہوں اور اسی کے حضور مجھے پیش ہونا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَقَال السَّلَامُ عَلَےْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِےْنَ وَاِنَّآ اِنْ شَآء اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ وَدِدْتُّ اَنَّا قَدْ رَاَےْنَا اِخْوَانَنَا قَالُوْا اَوَلَسْنَا اِخْوَانَکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ اَنْتُمْ اَصْحَابِیْ وَاِخْوَانُنَا الّذِےْنَ لَمْ ےَاتُوْابَعْدُ فَقَالُوْا کَےْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَّمْ ےَاْتِ بَعْدُ مِنْ اُمَّتِکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ اَرَأَ ےْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا لَّہٗ خَےْلٌ غُرٌّ مُّحَجَّلَۃٌ بَےْنَ ظَہْرَیْ خَےْلٍ دُھْمٍ بُھْمٍ اَلَا ےَعْرِفُ خَےْلَہٗ قَالُوْا بَلٰی ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَاِنَّھُمْ ےَاتُوْنَغُرًّا مُّحَجَّلِےْنَ مِنَ الْوُضُوْٓءِ وَاَنَا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ )[ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب اسْتِحْبَابِ إِطَالَۃِ الْغُرَّۃِ وَالتَّحْجِیْلِ فِی الْوُضُوْٓءِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں رسول محترم ﷺ ایک دن قبرستان میں تشریف لے گئے فرمایا السَّلَامُ عَلَےْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِےْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآء اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اے ایمان والو ! تم پر سلام ہو ہم انشاء اللہ عنقریب تم سے ملنے والے ہیں۔ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی زیارت کریں۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا تم میرے ساتھی ہو۔ میری مراد وہ بھائی ہیں جو ہمارے بعد آئیں گے۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے بعد والے لوگوں کو کس طرح پہچانیں گے ؟ آپ نے استفسار فرمایا اگر کسی شخص کے گھوڑے کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں کیا وہ بالکل سیاہ رنگ گھوڑوں میں اسے پہچان نہیں سکتا ؟۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ فرمایا کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے اعضا وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے میں حوض کوثر پر ان کا استقبال کروں گا۔ “
مسائل
1۔ کتاب اللہ کو تسلیم کرنے والے اس کے احکام سے خوش ہوتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو صرف اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا۔
3۔ نبی اکرم ﷺ لوگوں کو ایک اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ 4۔ ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے ہاں پلٹ کرجانا ہے۔
تفسیر بالقرآن
سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے :
1۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : 36)
2۔ اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85)
3۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم اس کے وارث ہیں اور وہ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : 40)
4۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے پیش کیے جاتے۔ (الزمر : 44)
5۔ وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : 56)
Ayah 13:37فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) کو آسمانی کتابیں عنایت کی گئیں۔ اسی طرح نبی ﷺ کو قرآن مجید عطا ہوا جو عربی زبان میں ہے۔ آپ کو حکم تھا کہ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے اللہ کے حکم کی اتباع کرنا ہے۔
اس خطاب کا آغاز آیت نمبر 30 سے ان الفاظ سے شروع ہوا ہے کہ آپ کی امت جیسی پہلے بھی امتیں گزری ہیں۔ لہٰذا آپ اپنی امت کو پڑھ کر سنائیں۔ جو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی حیثیت رکھتا ہے یہ ایسا حکم ہے جس میں اچھے کاموں کے کرنے کا حکم ہے اور برے کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اچھے کام کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں ہیں اور برے کام کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر مشتمل ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ جس طرح پہلی کتابیں جن لوگوں کے لیے نازل کی گئیں وہ انہی کی زبان میں تھیں۔ تاکہ لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ جس قوم کی زبان میں کتاب نازل ہوتی ہے ان کا فرض دوسری اقوام سے نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور جس شخصیت گرامی پر کتاب نازل ہوتی ہے اس شخصیت پر سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر ! آپ پر ہم نے قرآن مجید نازل کیا جو سراسر علم و حکمت کا منبع ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ نے ہمارے حکم کو چھوڑ کر خوف یا کسی وجہ سے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ کوئی آپ کا حمایتی ہوگا اور نہ ہی کوئی آپ کو بچانے والا ہوگا۔ آپ کو اور آپ کے حوالے سے آپ کی امت کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کا حکم ماننا ہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلاَثٍ لِأَنِّیْ عَرَبِیٌّ، وَالْقُرْاٰنَ عَرَبِیٌّ، وَکَلاَمَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ عَرَبِیٌّ )[ شعب الایمان للبیھقی ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عربوں سے تین وجہ سے محبت کرتا ہوں اس لیے کہ میں عربی ہوں، قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور جنتیوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہٗ تَبَعًا لِمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ رواہ فی شرح السنۃ وقال النووی فی أربعینہ : ہذا حدیث صحیح ]
” عبداللہ بن عمر و ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لایا ہوں۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انسان کا کوئی مدگار نہیں ہوتا۔
3۔ دین کا علم حاصل ہوجانے کے بعد کسی کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچاسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انسان کو کوئی بچانے والا نہیں :
1۔ اگر آپ ﷺ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو آپ کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی اللہ سے بچانے والا ہوگا۔ (الرعد : 37)
2۔ اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ (ہود : 43)
3۔ جب اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں پکڑ لیاتو انہیں کوئی بچانے والا نہ تھا۔ (المومن : 21)
4۔ اس دن تم پیٹھوں کے بل واپس پلٹوگے اللہ تعالیٰ سے تمہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (المومن : 33)
5۔ کہہ دیجیے کون ہے جو تمہیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا اگر وہ تمہیں اس میں مبتلا کرنا چاہے۔ (الاحزاب : 17)
6۔ ان کے چہروں کو ذلت و رسوائی نے ڈھانپ رکھا ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے انھیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : 27)
Ayahs 13:38–39فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز اور کفار کے ایک اعتراض کا جواب۔
مکہ اور حجاز کے کافر جہالت اور عصبیت کی بناء پر رسول محترم ﷺ پر یہ اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ جو ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج اور بیوی بچوں والا ہے۔ اس اعتراض کا جواب سورة یونس کی ابتدا میں یوں جواب دیا گیا کہ لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ انہی میں سے ایک شخص پر ہم نے کتاب نازل کی ہے حالانکہ اس میں تعجب کی بات نہیں بلکہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے خوشی اور آسانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنایا تاکہ ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے آسانی اور خوشخبری ہو آپ ﷺ کو خوشخبری سنانے والا بناکر بھیجا گیا ہے۔ ( یونس : 3)
سورۃ آل عمران آیت : 164 میں ارشاد ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ انہی میں سے ایک شخصیت کو رسول بنایا ہے۔
سورۃ التوبۃ آیت : 128 میں فرمایا اے لوگو ! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے جسے تمہاری تکلیف بڑی گراں گزرتی ہے اور تمہارے ایمان لانے کے بارے میں وہ بڑی آرزو رکھتا ہے اور ایمان لانے والوں کے ساتھ نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔
قرآن مجید کا دوسرا جواب :
(قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَآءِکَۃٌ یَمْشُوْنَ مُطْمَءِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلًا)
[ بنی اسرائیل : 95]
” اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے فرشتہ ہی نبی بنا کر بھیجتا۔ “
تیسرا جواب :
(وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ إِلَّآإِنَّہُمْ لَیَأْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْأَسْوَاقِ )
[ الفرقان : 20]
” اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلا پھرا کرتے تھے یعنی ایک چلتے پھرتے انسان ہی ہوا کرتے تھے۔ “
جہاں تک کفار کے دوسرے اعتراض کے جواب کا معاملہ ہے کہ آپ ان کے لیے کوئی معجزہ نازل کریں اس کا بھی قرآن مجید نے بارہا دفعہ تفصیلی جواب دیا ہے۔ یہاں صرف اتنا ارشاد فرمایا کیونکہ پیغمبر ایک انسان ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نبی کے بس کی بات نہیں کہ وہ جب چاہے اور جس طرح کا چاہے لوگوں کے سامنے معجزہ پیش کرسکے۔ آپ ﷺ پر اعتراض کرنے والوں کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے بر قرار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ام الکتاب ہے۔ جو لوح محفوظ ہے۔ اس میں ہر چیز پوری تفصیل کے ساتھ اس کے پاس لکھی ہوئی ہے۔ کچھ باتوں کو مٹانے اور کچھ کو برقرار رکھنے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔
1۔ کراماً کا تبین ہر انسان کے ہر قول وفعل کو لکھتے جارہے ہیں یہاں تک کہ کوئی انسان دل ہی دل میں کسی بات پر خوش ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر عیاں ہونے والے خوشی کے اثرات کو بھی کراماً کا تبین ضبط تحریر میں لے آتے ہیں۔ گویا کہ انسان جو بھی اچھے برے، چھوٹے موٹے کام کرتا ہے کراما کا تبین اس کا مسلسل اندراج کر رہے ہوتے ہیں۔ جو جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کے چاہتا ہے گناہ معاف کردیتا ہے اور کچھ گناہ ایسے ہیں جو بر قرارر کھے جاتے ہیں حتی کہ جن کا کرنے والا اپنے رب کے حضور توبہ کرلے۔ تاہم سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔
2۔ دوسرا مفہوم اہل علم نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے احکام یعنی اپنی طرف سے نازل کردہ کتاب سے جس حکم کو چاہے ختم کردے اور جسے چاہے باقی رہنے دے۔ پیغمبر کو اس میں کسی قسم کے ردّو بدل کا ذرہ برابر اختیار نہیں۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن جلد اول صفحہ : 183)
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ أَعْمَالَ بَنِیْٓ آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیْسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ فَلاَ یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ ) [ رواہ أحمد وہوحدیث حسن ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا یقیناً انسان کے اعمال جمعرات کو یعنی جمعہ کی شام کو پیش کیے جاتے ہیں۔ پس رشتہ داری توڑنے والے کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ “
مسائل
1۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول مبعوث کیے گئے۔ 2۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) رشتے، ناطے رکھتے تھے۔
3۔ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی رسول معجزہ نہیں دکھا سکتا تھا۔
4۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے برقرار رکھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے پاس سب کچھ لکھا ہوا اور محفوظ ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس محفوظ کتاب ہے۔ (الرعد : 39)
2۔ اور ہم قیامت کے دن لکھا ہوا اعمالنامہ انسان کے سامنے کردیں گے اور ہر کوئی اسے کھلا ہوا دیکھ لے گا۔ (بنی اسرائیل : 13)
3۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ تمام چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ (الحج : 70)
4۔ تمہیں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ لکھی ہوئی ہے۔ (الحدید : 22)
5۔ یہ ہمارا لکھا ہوا ہے جو ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ بھی کرتے تھے ہم لکھوائے جاتے تھے۔ (الجاثیۃ : 29)
6۔ وہ کہیں گے ہائے افسوس یہ اعمال نامہ کیسا ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی بات موجود ہے۔ (الکہف : 49)
Ayahs 13:40–41فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب :
منکرین حق کا سینکڑوں دلائل سننے اور درجنوں معجزات دیکھنے کے باوجود اس بات پر مصر رہنا اور تکرار کرنا کہ رسول ہمیں مزید معجزات کیوں نہیں دکھاتا یا ہمارے مطالبہ پر ہم پر سخت ترین عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ اس کا بھی قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جامع اور تفصیلی جواب دیا ہے۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امتوں کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔ مگر پھر بھی منکرین حق آپ سے اس قسم کے مطالبات کرتے ہی رہتے تھے۔ جن کا اس مقام پر فقط اتنا ہی جواب دیا ہے کہ اے رسول ! جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اور ہم نے آپ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات مبارکہ میں یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد انہیں ضرور دکھا اور چکھا دیا جائے گا۔ ان کی حماقتوں کی طرف توجہ دینے کی بجائے جو کچھ آپ پر نازل کیا جا رہا ہے ان تک پہنچاتے جائیں۔ آپ کے ذمہ ان کو حق بات پہنچانا ہے اور ہمارے ذمہ ان سے حساب لینا ہے۔ یہ عذاب کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے تمام اطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ جس کے فیصلے پر کوئی نظرثانی اور تعاقب کرنے والا نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ زمین کے چاروں اطراف کی طرف تنگ ہونے کا اس زمانے کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ اہل مکہ اور دیگر مخالفین کی ہزار کوششوں کے باوجود اسلام کا پھریرہ دور دور تک پھیلتا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام ؓ کے دور میں ہی وہ وقت آیا کہ جب مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے اور مسلمان تقریباً آٹھ سو سال دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر حکومت کرتے رہے۔ اس طرح اللہ کا حکم اور اس کا فیصلہ دنیا میں پورا ہوا۔ جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ خواہ یہ بات مشرکوں کے لیے کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ (التوبۃ : 32، 33) اللہ تعالیٰ نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت اور غلبہ والا ہے۔ (المجادلۃ : 21)
(عَنْ أَبِیْ سُکَیْنَۃَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُحَرَّرِیْنَ عَنْ رَّجُلٍ مِّنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَآءَ ہٗ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ......[ رواہ النسائی : باب غزوۃ الترک والحبشۃ ]
حضرت ابو سکینہ نبی ﷺ کے ایک صحا بی سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو خندق کھودتے ہوئے ایک چٹان درمیان میں حائل ہوگئی رسول اللہ ﷺ نے کدال پکڑا اور اپنی چادر کو خندق کے کنارے رکھا اور کہا (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) تو پتھر کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا .........
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے عذاب لے آئے۔ 2۔ رسول کریم ﷺ کا کام تبلیغ کرنا تھا۔
3۔ حساب لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء ( علیہ السلام) کا کام حق بات پہنچانا ہے :
1۔ آپ ﷺ کا کام حق پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40)
2۔ نہیں ہے رسولوں پر مگر حق بات پہنچانا۔ (النحل : 35) 3۔ اگر وہ منہ موڑلیں تو آپ کی ذمہ داری پہنچانا ہے۔ (آل عمران : 20)
4۔ نہیں ہے رسول پر مگر واضح طور پر پیغام پہنچانا۔ (النور : 54) 5۔ آپ نصیحت کرتے رہیں آپ کا کام نصیحت کرنا۔ (الغاشیہ : 21)
6۔ اگر تم اعراض کرو تو جان لو ہمارے رسولوں پر فقط پہنچا نا ہے۔ (المائدۃ : 92) 7۔ رسولوں نے کہا ہمارا کام تو تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : 17)
Ayahs 13:42–43فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے پیغمبر ! ان لوگوں کا مخالفت کرنا کوئی انوکھی بات اور پہلا واقعہ نہیں۔ آپ سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے۔ مخالفین ان کے خلاف ہر قسم کا مکرو فریب اور ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔ مکر کے معافی ہیں۔ ” فریب، دھوکہ، سازش اور تدبیر کرنا۔ “ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ جب اس کی نسبت کفار، منافقین اور حق کے منکرین کی طرف ہو تو اس کا معنی مکرو فریب ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں رسول مکرم ﷺ کو تسلی دینے اور حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر ! گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے جتنے مخالف گزرے ہیں انہوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف مکرو فریب اور سازشیں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین کے حوالے سے موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کے مکرو فریب پر غالب رہی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی تدبیر کامیاب کرنے میں غالب ہے۔ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مخالفوں اور ہر شخص کے کردار کو پوری طرح جانتا ہے۔ عنقریب حق کا انکار کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار اور آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہے۔ ہزاروں دلائل اور درجنوں معجزات دیکھنے اور سننے کے باوجود کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔
پورے اطمینان کے ساتھ انہیں فرمائیں کہ تمہارے انکار کا مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تم میری رسالت کی گواہی نہیں دینا چاہتے تو تمہاری مرضی، لیکن یاد رکھو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور وہ شخص بھی میرے حق میں گواہ ہے جس کے پاس کسی بھی آسمانی کتاب کا علم ہے یعنی تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں میری رسالت کی جابجا شہادتیں پائی جاتی ہیں۔ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور 1931 ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنا کی انجیل کے باب چودہ کی سولہویں آیت میں ہے۔ میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ “ لفظ مددگار پر حاشیہ ہے۔ اس پر اس کے معنی وکیل یا شفیع لکھے ہیں۔ تو اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو شفیع ہوا اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجزسید عالم ﷺ کے کون ہے ؟ پھر انتیسویں تیسویں آیت میں ہے اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہوجائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ “ (سورۃ الصف : 6 تدبر قرآن، از قلم : امین احسن اصلاحی)
(وَإِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیلَ إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَ ہُمْ بالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہٰذٰا سِحْرٌ مُبِیْنٌ)[ الصف : 6]
” اور جب عیسیٰ نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تورات کی تصدیق کرنے والا اور ایک رسول کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا جب آپ ان کے پاس معجزات لے کر آگئے تو انھوں نے کہا یہ تو سراسر جاد و ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کار گر نہیں ہوتی۔ 2۔ ہر کسی کو اس کے اچھے اور بڑے انجام کا علم ہوجائے گا۔
3۔ تورایت، انجیل اور زبور کا علم رکھنے والا جانتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ رسول حق ہیں۔
4۔ کافر جان لیں گے کہ اچھا انجام کس کا ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف مجرموں کے مکرو فریب :
1۔ ان سے پہلے بھی مکر و فریب کرچکے ہیں حالانکہ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ (الرعد : 42)
2۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے تدبیر کی اور انہیں اس تدبیرکا علم بھی نہ ہوسکا۔ (النمل : 50)
3۔ اللہ نے کفار کے لیے ان کے مکر کو مزین کردیا ہے۔ (الرعد : 33)
4۔ ان کے مکر کا انجام دیکھو ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : 51)