13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsفہم القرآن

Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

” اور آسمانوں او زمین میں جو بھی ہے خوشی اور ناخوشی اللہ ہی کو سجدہ کررہا ہے، اور ان کے سائے بھی صبح اور شام سجدہ کرتے ہیں۔ “ (15)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مشرک کے شرک کی بےحیثیتی بیان کی گئی اور اب کافر کے کفر کو بےحیثیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کا انکار کرنے والا شخص اس قدر نافرمان اور باغی طبیعت کا ہوتا ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ وہ ذات کبریا ہے۔ جس کے سامنے زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً ، کرھاً سجدہ ریز ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے جو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اپنے اپنے مقام پر سجدہ کر رہی ہے جسے انسان کے لیے دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین و آسماں کی ہر چیز اس کی حمد وثنا کرتی ہے مگر انسان ان کی حمد کو نہیں سمجھ سکتے۔ (بنی اسرائیل : 44) یہاں سجدہ سے مراد اکثر مفسرین نے جھکنا اور تابعداری لی ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک ہر چیز کے سایہ کا سجدہ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا سایہ صبح کے وقت مغرب کی جانب اور مغرب کے وقت مشرق کی جانب اوپر سے نیچے کی طرف آتا اور زمین پر پھیلتا ہے۔ جو درحقیقت اپنے رب کے حضور سجدہ کرنا ہے۔ ہر چیز کے سجدہ کے بارے میں طوعًا، کرھًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔” طوعًا “ کا معنی ہے خوشی اور رغبت کے ساتھ جھکنا اور سجدہ کرنا۔ کافر کے سوا کائنات کی ہر چیز دل کی اتھاہ گہرائیوں اور اپنی فطرت کے مطابق اپنے خالق ومالک کو سجدہ کرنے کے ساتھ اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہے۔ صرف انسان ہی اس قدر باغی اور سرکش ہوجاتا ہے جو اپنے رب کی فرمانبرداری اور اس کے سامنے سجدہ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ کر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا اور اس کے حضور پانچ وقت نماز ادا نہیں کرتا تو اس کے بارے میں اہل علم متفق ہیں کہ ایسے شخص کا رویہ کفر کرنے کے متراوف سمجھا جائے گا۔ لیکن کافر کفر کرنے کے باوجود پوری زندگی بیشمار کاموں میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے پر مجبور رہتا ہے۔ جس میں مرنا، جینا، سونا، جاگنا، بیماری اور مشکل میں مبتلا ہونا۔ یہاں تک کہ صحت، زندگی اور رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے بےبس ہے۔ اس طرح مجبوراً کافر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ” کرھًا “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے بلکہ اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ انسان کو ” اللہ “ کی عبادت کا حکم : ” اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ “ (البقرۃ : 21) ” نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ “ (43) ” اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ “ (الحجر : 99) مسائل 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ 2۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز تسبیح کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے : 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : 15) 2۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الخل : 49) 3۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الحج : 18) 4۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن انسان اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : 44) 5۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : 1)
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

” پوچھیں آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ فرما دیں اللہ ہے۔ فرمائیں پھر کیا تم نے اس کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں جو اپنے آپ کے نہ نفع کے مالک ہیں اور نہ نقصان کے ؟ فرمادیں کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں ؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں ؟ کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جنہوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح کچھ پیدا کیا ہے تو پیدائش ان پر گڈ مڈ ہوگئی ہے ؟ فرمادیجئے اللہ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ ایک ہے اور بہت زبر دست ہے۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے مگر کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی خالص فرمانبرداری سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے ان سے چند سوال کیے گئے ہیں۔ کافر اور مشرک اس لحاظ سے برابر ہیں کہ کافر مجبور ہو کر اللہ تعالیٰ کا اقرار کرتا ہے اور مشرک انتہائی مشکل کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے گویا کہ مشرک اور کافر اپنے اپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا مجبوراً اقرار کرتے ہیں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان لوگوں سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمان کا رب کون ہے ؟ اگر یہ خاموشی اختیار کریں تو آپ انہیں فرمائیں کہ صرف ایک اللہ ہی زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ مشرکین سے پھر پوچھیے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا خیر خواہ اور کارساز سمجھ لیا ہے جو اپنے بارے میں نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ کیا اندھا اور دیکھنے والا اندھیرے اور روشنی برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا جن کو اللہ کا شریک بنایا جاتا ہے انہوں نے کوئی ایسی چیز پیدا کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیز کے مشابہ ہو ؟ اگر یہ لوگ ان باتوں کا جواب نہیں دیتے تو آپ ضرور جواب دیں کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور اکیلا ہی قہار اور زبردست ہے۔ اس فرمان میں مشرکین سے براہ راست تین سوال کیے گئے ہیں کہ زمین و آسمان کا رب کون ہے ؟ کیونکہ ہر دور کے مشرک کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ان کی خاموشی کو ہاں سمجھتے ہوئے اگلا سوال کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس سوال کا جواب مشرکین کی طرف سے یوں دیا گیا ہے۔ 1۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا سورج اور چاند کو کس نے مسخر فرمایا ؟ ان کا جواب ہوگا کہ زمین و آسمان اللہ ہی نے پیدا کیے ہیں اور چاند، سورج کو بھی اسی نے مسخر کیا ہے۔ اس اقرار کے باوجود یہ لوگ کیوں بہک چکے ہیں۔ 2۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کون آسمان سے بارش نازل فرما کر مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اس کا جواب بھی ان کی طرف سے یہی تھا اور ہے کہ صرف اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے اے نبی ! فرمائیں کہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے تو پھر یہ تم کیوں نہیں سمجھتے۔ (العنکبوت : 61 تا 63) 3۔ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کا حقیقی مالک کون ہے ؟ اگر تم جانتے ہو تو اس کا جواب دو ۔ ان سے پوچھیے کہ پھر نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ 4۔ ان سے پھر سوال کیجئے کہ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ ان کا جواب ہے کہ اللہ ہی ان کا رب ہے۔ فرمائیے کہ پھر کیوں شرک سے باز نہیں آتے۔ 5۔ سوال ہوا کہ ہر چیز کس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کون ہر چیز کی حفاظت کرتا ہے ؟ اللہ کے سوا اور کوئی ہے۔ مشرکین اس کا یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہر چیز کا کنٹرول ہے۔ فرمائیں کہ پھر کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے کہ حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ (المومنون 85 تا 89) مشرکین کے جواب کے بعد اب ان سے ان شریکوں کے بارے میں دوسوال کیے جاتے ہیں۔ کیا جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا خیر خواہ اور نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہو وہ اپنے نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا ‘ اندھیرے اور روشنی برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جب توحید کی حقیقت اور شرک کا بےحیثیت ہونا ظاہر ہوچکا ہے تو پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے حوالے سے ” وحدہ لاشریک “ کیوں نہیں سمجھتے ؟ کیا دنیا میں کوئی ایسی مخلوق ہے۔ جو ان کے معبود ان باطل نے پیدا کی ہو یا یہ چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ، کسی چیز کے مشابہ ہو۔ جس و جہ سے انہیں شرک اور توحید میں اختلاط نظر آتا ہے اور جسے سمجھنا ان کے لیے مشکل ہوچکا ہے۔ جس بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا، بیشک اولیا، جنات یا ملائکہ ہوں کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اللہ ہی ہر چیز کا واحد خالق ہے اور وہ زبردست قدرت رکھنے والا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والا شخص بینا ہے اور شرک کرنے والا اندھا ہے۔ کیونکہ اسے زبردست قدرت رکھنے والے اللہ کی قدرتیں دکھائی نہیں دیتیں۔ شرک ہر قسم کے اندھیرے ہیں اور توحید اللہ کا نور اور روشنی ہے۔ جو شخص اس روشنی کی تلاش کی جستجو کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شرک و بدعت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی جلوہ گاہ میں پہنچنے کی توفیق دیتا ہے۔ (آل عمران : 257) مسائل 1۔ مکہ کے مشرک زمین و آسمان کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور ہر کسی پر غالب ہے۔ 3۔ مشرک اللہ تعالیٰ کو سب کچھ مان کر بھی دوسروں کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں۔ 4۔ اندھا اور بینا، تاریکی اور روشنی برابر نہیں ہوسکتے، اسی طرح خالق اور مخلوق برابر نہیں ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے کوئی چیز پیدا نہیں کی ہے۔ 6۔ ہر چیز کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ تفسیر بالقرآن نفع اور نقصان کا صرف اللہ ہی مالک ہے : 1۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتیہو۔ جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16) 2۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ؟ (یونس : 49) 3۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : 76) 4۔ اگر اللہ تمہیں نفع و نقصان میں مبتلا کرنا چاہے کون ہے جو اس سے بچالے گا۔ (الفتح : 11) 5۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : 3) 6۔ فرما دیجیے میں اپنے نفس کے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : 188) 7۔ (اے نبی کریم ﷺ آپ فرما دیں کہ مجھے تمہارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ (الجن : 21)
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

” اس نے آسمان سے پانی اتارا جس سے نالے اپنی اپنی کشادگی کے مطابق بہہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ ابھرتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے جو جھاگ ہے سو بےکار چلا جاتا ہے اور وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے وہ زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ “ (17)

فہم القرآن ربط کلام : توحید اور شرک کے فرق کو سمجھنے کے لیے مزید دو مثالیں۔ دین اور اس کے مرکزی نقطہ یعنی توحید کی مثال آسمان سے بارش کی مانند ہے۔ جب موسلا دھار بارش برستی ہے تو ہر وادی اور ندی نالے اپنی اپنی وسعت و کشادگی کے مطابق اس سے سیر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ندی نالوں میں چلنے والا سیل رواں اپنے اوپر جھاگ اٹھائے ڈھلوان کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں پانی کے بجائے جھاگ ہی جھاگ نظر آتی ہے لیکن کچھ وقت کے بعد جھاگ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ بعض اوقات حق و باطل کی کشمکش توحید اور کفر و شرک کی آویزش میں ابتداءً یہی منظر آتا ہے جیسے باطل حق پر غالب آجائے گا۔ لیکن جب حق والے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پوری استقامت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پانی کی جھاگ کی طرح کفر کو مٹا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا اعلان ہے کہ حق آچکا اور باطل بھاگ کھڑا ہوا باطل کا کام بھاگنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (بنی اسرائیل۔ 81) اس ارشاد میں دوسری مثال توحید اور کفر و شرک کی کشمکش کو ایک کٹھالی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح کٹھالی میں سونا یا کوئی دھات رکھ کر اسے آگ دی جائے تو سونے سے اس کی ملاوٹ و کثافت الگ ہوجاتی ہے۔ خالص سونا پوری چمک دمک کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح حق و باطل کے معرکہ میں حق پر قائم رہنے اور اس کی خاطر قربانیاں دینے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں کندن بن جاتے ہیں اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے تقویت کا باعث اور مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح سونے کی میل کچیل اور پانی کی جھاگ بےفائدہ اور فضول چیز ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کفر و شرک کے لیے کوشش کرنے والوں کی محنت اور وسائل ضائع ہوجائیں گے۔ سونا زیب وزنیت کا باعث اور منافع بخش چیز ہے۔ پانی زمین میں جذب ہونے کی وجہ سے گل و گلزار اور اناج پیدا کرتا ہے۔ جس پر لوگوں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ یہی مثال دین حق کی ہے کہ جس کے نفاذ سے ہر کسی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس مثال سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اصل چیز کو ہی بقا اور دوام حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا حق کو دوام اور باطل کے لیے فنا ہے۔ حق بات دنیا و آخرت میں مفید ہے اور باطل فضول اور ہمیشہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ مثالیں اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان سے سبق حاصل کریں۔ مسائل 1۔ حق کے مقابلہ میں باطل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھ جائیں۔ تفسیر بالقرآن حق و باطل میں فرق : 1۔ اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ (الرعد : 17) 2۔ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، باطل کا کام ہی بھاگ جانا ہے۔ (بنی اسرائیل : 81) 3۔ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا اور حق کو واضح کرتا ہے۔ (الشوریٰ : 24) 4۔ اللہ تعالیٰ حق کو حق اور باطل کو باطل کردیتا ہے اگرچہ مجرم ناپسند جانیں۔ (الانفال : 8) 5۔ حق کو باطل سے نہ ملائیں۔ (البقرۃ : 42) 6۔ اے اہل کتاب حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو ؟ (آل عمران : 71)
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

” جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی انہی کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کی بات قبول نہ کی اگر ان کے پاس سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور ہو تو ضرور اس کو فدیہ میں دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکا نہ جہنم ہے اور وہ بد ترین ٹھکا نہ ہے۔ “ (18)

فہم القرآن ربط کلام : حق واضح کرنے، دلائل اور مثال کے ذریعے سمجھانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حق بات کو قبول کریں۔ جن لوگوں نے اپنے رب کی رضا کی خاطر اس کے حکم کو مانتے ہوئے سچائی کو قبول کیا اور اس پر عمل پیرا ہوگئے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بہتری ہے۔ جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو تسلیم نہ کیا ان کے لیے دنیا میں نقصان اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔ جس سے چھٹکارا پانے کے لیے زمین اور اس کی ہر چیز بلکہ اتنا کچھ اور بھی فدیہ کے طور پر دیں تو انہیں چھٹکارا حاصل نہ ہوگا۔ ان کا حساب و کتاب برا ہوگا اور انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ قرآن مجید کئی مقامات پر یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ دنیا کے مال واسباب دنیا میں ہی رہ جائیں گے مرنے کے بعد انسان نے خالی ہاتھ اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہاں نیکی وبدی کے سوا انسان کے پاس اور کچھ نہ ہوگا۔ اس حقیقت کے باوجود قرآن مجید نے یہاں اور آل عمران : 91 میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا کہ مجرم فدیہ میں زمین سے بھرا ہوا سونا بھی دے تو اس کا چھٹکارا نہیں ہو پائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ کفر و شرک اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کا مرتکب شخص کسی صورت بھی عذاب سے نجات نہیں پاسکے گا۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ یَقُولُ کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَاءَ ہُ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا یَشْکُو الْعَیْلَۃَ وَالآخَرُ یَشْکُو قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَمَّا قَطْعُ السَّبِیلِ فَإِنَّہُ لاَ یَأْتِی عَلَیْکَ إِلاَّ قَلِیلٌ حَتَّی تَخْرُجَ الْعِیرُ إِلٰی مَکَّۃَ بِغَیْرِخَفِیرٍ وَأَمَّا الْعَیْلَۃُ فَإِنَّ السَّاعَۃَ لاَ تَقُومُ حَتَّی یَطُوفَ أَحَدُکُمْ بِصَدَقَتِہِ لاَ یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا مِنْہُ ، ثُمَّ لَیَقِفَنَّ أَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ حِجَابٌ وَلاَ تُرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ ، ثُمَّ لَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أُوتِکَ مَالاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی ثُمَّ لَیَقُولَنَّ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَیْکَ رَسُولاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، ثُمَّ یَنْظُرُ عَنْ شِمَالِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، فَلْیَتَّقِیَنَّ أَحَدُکُمُ النَّا رَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) [ رواہ البخاری : باب صدقۃ قبل الرد ] ” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا کہ آپ کی خدمت میں دو آدمی آئے ایک نے فقر و فاقہ کی شکایت کی اور دوسرے نے راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت کی اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو بہت جلد ایسا زمانہ آئے گا جب ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ رہافقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ایک شخص اپنا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا، پھر اللہ کے سامنے ایک آدمی اس طرح کھڑا ہوگا اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان، پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا وہ کہے گا کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا وہ کہے گا کیوں نہیں، پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا سو جہنم سے بچ جاؤ خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے سے ہی بچا جائے اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو منہ سے اچھی بات کہو۔ “ (لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا وَہُمْ فِی مَا اشْتَہَتْ أَنْفُسُہُمْ خَالِدُوْن)[ الانبیاء : 102] ” وہ جہنم کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور جنت میں وہ اپنی پسند کی نعمتوں میں رہیں گے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے فرما نبرداروں کے لیے اچھا بدلہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے نافرمان سب کچھ دے کر بھی عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ تفسیر بالقرآن مجرم سے کسی قسم کا فدیہ اور سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ 1۔ مجرم دنیا بھر کی چیزیں اور ان کی مثل بطور فدیہ دے کر بھی عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ (الرعد : 18) 2۔ کسی سے قیامت کے دن کوئی فدیہ قبول نہ کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 48) 3۔ کسی کی دوستی کسی کے کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254) 4۔ کفار سے عذاب کے بدلے زمین بھرکا سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران : 91)
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بیشک جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔ “ (19)

فہم القرآن ربط کلام : تابعدار بندوں کا بہترین انجام بیان اور کافرو مشرک کے بدترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد ایمان دار کا مرتبہ اور اس کا کردار بیان کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے آیت : 16 میں مشرک کو اندھا اور موحد کو بینا قرار دیا تھا۔ اب حق کی پیروی کرنے والے موحد کا مقام اور شان بیان کرتے ہوئے اجمالاً فرمایا ہے کہ ایسا شخص جو حق کو پہچانتا ہے وہ اندھے شخص جیسا ہوسکتا ہے ؟ اس مختصر اشارے میں عقل مندوں کے لیے بےانتہا عبرت اور نصیحت کا سامان ہے اس فرمان کی تفصیل سورة السجدۃ میں یوں بیان فرمائی۔ کیا مواحد، فرمانبردار اور نافرمان شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ (أَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لَا یَسْتَوُوْنَ أَمَّا الَّذِیْنَ آَمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ فَلَہُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوٰی نُزُلًامبِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ وَأَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَأْوٰہُمُ النَّارُ کُلَّمَا أَرَادُوْٓا أَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَا أُعِیْدُوْا فِیْہَا وَقِیْلَ لَہُمْ ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) [ السجدۃ : 18۔ 20] ” مومن اور فاسق ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ صاحب کردار مومن کے لئے جنت ہے اور اس میں ان کی اعلی مہمان نوازی ہوگی۔ اللہ کے نافرمانوں کے لیے جہنم ہے وہ جب بھی اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے انہیں یہ کہتے ہوئے اسی میں پھینک دیا جائے گا کہ آگ کے عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہو کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے تھے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّمُؤْمِنٌ) [ رواہ البخاری : کتاب القدر ] ” حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ “ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئاً دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ مُشْرِکٌ دَخَلَ النَّارَ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے شرک کیا ہوگا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ “ (قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ إِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ أَلاَ إِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ )[ رواہ مسلم : باب غِلَظِ تَحْرِیمِ الْغُلُولِ وَأَنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ] ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب جاؤ لوگوں میں اعلان کر دو کہ بیشک مومنوں کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا حضرت عمر ؓ کہتے ہیں میں نکلا اور میں نے اس بات کا اعلان کیا کہ جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے۔ “ مسائل 1۔ کتاب اللہ کو ماننے والا اور انکار کرنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 3۔ تابع دار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے۔ تفسیر بالقرآن مومن، کافر اور مشرک کے درمیان فرق : 1۔ کتاب اللہ پر ایمان لانے والا اور نہ لانے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ (الرعد : 19) 2۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) 3۔ اللہ مجرموں اور مومنوں کو برابر نہیں کرے گا۔ ( المومن : 58) 4۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والا اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ (المومن : 58) 5۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوسکتے۔ (الحشر : 20)
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

” جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔ “ (20)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں عقیدہ توحید کے دلائل دیے گئے ہیں۔ توحید کا عقیدہ اللہ تعالیٰ سے انسان ایک عہد ہے۔ صاحب بصیرت اور حقیقی سمجھ رکھنے والے لوگ اس عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ صاحب بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط عہد کا ایفا کرتے ہیں اور اسے کسی صورت بھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔ اس عہد سے مراد پہلا عہد وہ ہے جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے اے انسان جب تیرے رب نے بنی نوع انسان کی پشت سے نسل درنسل اس کی اولاد کو پیدا کیا اور ان کو انہی کے اوپر گواہ بناتے ہوئے استفسار فرمایا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ “ آدم (علیہ السلام) کی ساری کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ اعتراف کیا۔ ” کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ گواہی لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عہد کو یاد رکھنا اور اس پر پکے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس عہد کی کوئی خبر نہیں۔ “ (سورۃ الاعراف : 172) اسی عہد کا یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد یعنی توحید کی گواہی پر پکے رہے اور اس میں کوئی نقص نہیں آنے دیتے، یہ لوگ صاحب بصیرت اور صحیح عقل کے مالک ہیں۔ یہی وہ عہد ہے جس کا اقرار کرتے ہوئے آدمی حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے مسلمان کی زندگی کے تمام زاویے صحیح سمت پر قائم رہتے ہیں۔ جس کو موت کے وقت اس کا اقرار نصیب ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس عہد کے ساتھ لوگوں سے کیے ہوئے عہد کی پابندی بھی فرض ہے۔ جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی یا کسی غیر مسلم کے ساتھ انفرادی یا اجتماعی سطح پر کرتے ہیں۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ شَعِیْرَۃٍ مِّنْ خَیْرٍ ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَفِی قَلْبِہٖ وَزْنُ بُرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ ذَرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ )[ رواہ البخاری، کتاب الایمان، باب زِیَادَۃِ الإِیمَانِ وَنُقْصَانِہِ ] ” حضرت انس ؓ نبی کریم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم سے نجات پا گیا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو کی مقدار کے برابر بھی بھلائی ہوگی۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں چاول کے کے برابر بھلائی ہوگی وہ بھی جہنم سے نکل گیا۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا، اس کے دل میں رائی کے ذرے کے برابر بھی بھلائی ہوگی تو وہ بھی جہنم سے چھٹکارا پا گیا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِلاَّ قَال لاآ إِیْمَانَ لِمَنْ لاّآأَمَانَۃَ لَہٗ وَلا دینَ لِمَنْ لاَّ عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا آپ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۔ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِّنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ )[ رواہ مسلم ] ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے قریب جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “ مسائل 1۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 3۔ عہد کو توڑنا نہیں چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید ہے : 1۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں۔ (الرعد : 20) 2۔ اللہ نے نسل انسانی سے اپنی ربوبیت کا عہد لے رکھا ہے۔ (الاعراف : 172) 3۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام : 152) 4۔ اللہ کا وعدہ پورا کرو۔ (البقرۃ : 40) 5۔ اللہ کے عہد کا پورا کرنا فرض ہے۔ (النحل : 91)
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

” اور جو لوگ تعلقات کو نبھاتے ہیں۔ جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے ڈرتے ہیں۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کے عہد کی پاسداری کے ساتھ آپس کے تعلقات اور عہد کی پاسداری کا حکم۔ بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والے لوگ اپنے رب کے ڈر اور قیامت کے برے حساب کے خوف سے رشتوں کو جوڑتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ جن کے جوڑنے اور احترام کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرجاؤ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیں۔ بس اللہ سے ڈرو۔ جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بھی بچو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر وقت نگرانی کر رہا ہے۔ (سورۃ النساء : 1) اللہ کے بندوں کی یہ صفت ہے کہ وہ کسی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کے ڈر کی بنا پر رشتہ داریوں کا خیال اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ ارحام کی واحد رحم ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ یوں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَافِءِ وَلٰکِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِیْٓ إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَہَا )[ رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب مَا جَآءَ فِیْ صِلَۃِ الرَّحِم ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا برابری کرنے والا صلہ رحم نہیں ہے۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ اسے جوڑنے کی کوشش کرے۔ “ (وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْہُ قَامَتِ الرَّحِمُ فَاَخَذَتْ بِحَقْوَیِ الرَّحْمٰنِ فَقَاَل مَہْ قَالَتْ ھٰذَا مَقَامُ الْعَآءِذِ بِکَ مِنَ القَطِیْعَۃِ قاَلَ اَلاََترْضَیْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَّصَلَکِ وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکِ قَالَتْ بَلٰی یَا رَبِّ قَالَ فَذَاکِ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب (وَتُقَطِّعُوْٓا اأَرْحَامَکُمْ )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ جب مخلوق کو پیدا فرما کر فارغ ہوا تو ” رحم “ (رشتہ داری) کھڑی ہوگئی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑلیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا ‘ یہ اس شخص کا مقام ہے جو تیرے ساتھ قطع رحمی سے پناہ مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس شخص کو اپنے قریب کروں جو تجھے کو ملاتا ہے اور اس شخص سے قطع تعلق کروں جو تجھے ترک کرتا ہے۔ رحم (رشتہ داری) نے عرض کیا ‘ پروردگار کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تیرے لیے ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ سَرَّہٗٓ أَنْ یُّبْسَطَ لَہٗ رِزْقُہٗ أَوْ یُنْسَأَ لَہٗ فِیْٓ أَثَرِہِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب مَنْ أَحَبَّ الْبَسْطَ فِی الرِّزْقِ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے ‘ کہ اس کے رزق میں برکت اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو ‘ اسے صلۂ رحمی کرنی چاہیے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہُ ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ )[ رواہ البخاری : باب إِکْرَام الضَّیْفِ وَخِدْمَتِہِ إِیَّاہُ بِنَفْسِہِ ] ” حضرت ابو ہریرۃ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے۔ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ جو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی والی بات کہے یا خاموش رہے۔ “ مسائل 1۔ آپس میں صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ 3۔ باہمی تعلقات کا احترام کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اور برے حساب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے اوصاف : 1۔ اللہ اور سخت حساب سے ڈرتے ہیں۔ (الرعد : 21) 2۔ مومن اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ (الرعد : 20) 3۔ نیک لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ (الرعد : 21) 4۔ اللہ کی رضا کے لیے صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے، پوشیدہ اور اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور برے سلوک کو حسن سلوک سے ٹالتے ہیں۔ (الرعد : 22)
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

” وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا چاہنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خفیہ اور ظاہر طور پر خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ مٹاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہے۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کے مزید چار اوصاف۔ مومن وہ ہیں جو مشکلات اور پریشانیوں کے وقت اپنے رب کی رضا کی خاطر صبر کرتے ہیں اس کے حضور پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ جو کچھ ان کے رب نے انہیں عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ برائی سے دینے کی بجائے اچھائی اور خیر خواہی سے دیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا گھرتیار کیا گیا ہے۔ ان اوصاف حمیدہ کی فرضیت اور فضلیت کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔ صبر : صبر کا معنی ہے مشکل اور پریشانی کے وقت حوصلہ قائم رکھنا اور شریعت کی حدود وقیود کا مستقل مزاجی کے ساتھ اتباع کرنا۔ اس سے پہلے مومنوں کی یہ صفات ذکر ہوئی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد یعنی عقیدۂ توحید پر پکے رہتے ہیں اور آپس کی رشتے داریوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔ یہ دونوں کام ایسے ہیں جو مشکلات کا سامنا کیے بغیر کما حقہ پورے نہیں ہوسکتے۔ صبر کس وقت کرنا چاہیے : (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ ﷺ بِاِمْرَاَۃٍ تَبْکِیْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِی اللّٰہَ وَاصْبِرِیْ قَالَتْ اِلَےْکَ عَنِّی فَاِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِےْبَتِیْ وَلَمْ تَعْرِفْہٗ فَقِےْلَ لَھَا اِنَّہُ النَّبِیُّ ﷺ فَاَتَتْ بَاب النَّبِیِّ ﷺ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِےْنَ فَقَالَتْ لَمْ اَعْرِفْکَ فَقَالَ اِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَالصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی) [ رواہ البخاری : کتاب الجنا ئز، باب زیارۃ القبور ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس ہوا جو ایک قبر پر آہ و بکا کر رہی تھی۔ آپ نے اسے تلقین فرمائی ‘ اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ وہ کہنے لگی یہاں سے چلے جاؤ۔ تمہیں ایسی مصیبت نہیں پہنچی جس مصیبت میں میں مبتلا ہوں۔ وہ آپ کو پہچانتی نہیں تھی۔ جب اسے بتایا گیا کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے دروازے پر آئی جس پر کوئی چوکیدار نہ تھا وہ معذرت خواہانہ عرض کرنے لگی میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا ‘ صبر تو وہ ہے جو صدمہ پہنچنے کے وقت کیا جائے۔ “ مسائل 1۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر اختیار کرنا چاہیے۔ 2۔ نماز قائم کرنا فرض ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اعلانیہ اور خفیہ طور پر خرچ کرنا چاہیے۔ 4۔ برائی کو نیکی سے ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 5۔ نیک لوگوں کا اچھا انجام ہوگا۔ تفسیر بالقرآن ایمانداروں کے مختصر اوصاف : 1۔ وہ لوگ جو اللہ کی رضا کے لیے صبر کرتے، نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں اعلانیہ اور خفیہ طور پر خرچ کرتے ہیں۔ اور بدسلو کی کو حسن سلوک سے ٹالتے ہیں ان کا انجام بہتر ہے۔ (الرعد : 22) 2۔ ایمانداروں کے دل اللہ کے ذکر سے سہم جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے ایمان والے اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (الانفال : 2) 3۔ ایماندار نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے عطا کیے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ (الانفال : 3) 4۔ مومن اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ (الحجرات : 15) 5۔ مومن ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے مومن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 71) 6۔ اللہ اور اس کے رسول اور مومن آپس میں دوست ہیں۔ (المائدۃ : 55) 7۔ ایمان والے نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔ (المومنون : 1۔ 2) 8۔ ایماندار دنیا کے لاؤ لشکر کو خاطر میں نہیں لاتے۔ (الاحزاب : 22)
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

” ہمیشہ کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے بھی جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔ “ (23) ”

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

سلام ہو تم پر اس کے بدلے کہ تم نے صبر کیا۔ سو آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔ “ (24)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کا اجر اور ان کے لیے تیار کیے گئے گھر کی خوبیاں۔ ” عقبی الدار “ سے مراد مومنوں کے لیے جنت کا گھر ہے۔ جس میں تروتازہ اور ہمیشہ رہنے والے انواع و اقسام کے پھلوں کے باغات ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں مومنوں کو داخل کرکے ان کے نیکو کار آباء و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کے بیٹے، بیٹیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ جنتی جب جنت کے قریب پہنچیں گے تو ملائکہ آگے بڑھ کر انہیں جنت کے ہر دروازے پر سلام عرض کریں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات اور پریشانیوں کے وقت صبر کیا اور دنیا میں رہتے ہوئے شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے رہے۔ انہیں ملائکہ موت کے وقت ہی خوشخبری سنائیں گے کہ تمہارے لیے جنت میں بہترین محل تیار کیے گئے ہیں لہٰذا تم ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (إِنَّ الَّذِ یْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ أَوْلِیَآؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ )[ حم السجدۃ : 30۔ 32] ” یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کی ایسے لوگوں پر فرشتے اتریں گے کہ تم ڈر اور غم محسوس نہ کروتمھارے لیے جنت کی خوش خبری ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا رہا ہے ہم تمہارے دنیا اور آخرت میں رفیق رہیں گے اور تمہارے لیے جنت میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے وہ کچھ موجود ہے جو تم مانگو یہ غفور الرحیم کی طرف سے مہمان نوازی ہے۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاھَا مَلَکَانِ یُصْعِدَانِھَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَمِنْ طِےْبِ رِےْحِھَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَےَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ طَےِّبَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَےْکِ وَعَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِےْنَہٗ فَےُنْطَلَقُ بِہٖ اِلٰی رَبِّہٖ ثُمَّ ےَقُوْلُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَیِّتِ مِنَ الْجَنَّۃِ أَوِ النَّارِ عَلَیْہِ وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْہُ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جب مومن کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کو ہاتھوں ہاتھ لے کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔ راوی حماد (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے بہترین خوشبو اور مشک کا ذکر کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں اے زمین سے آنے والی پاک باز روح ! تجھ پر اور تیرے جسم پر جس کا تو نے خیال رکھا اللہ کی رحمتیں ہوں۔ چناچہ اس روح کو اس کے رب کی بارگاہ میں لے جایا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے اس کو برزخ کے آخری کنارے تک لے جاؤ۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو ہمیشگی کی جنت میں داخل فرمائے گا۔ 2۔ نیک لوگوں کو جنت میں فرشتے سلام عرض کریں گے۔ 3۔ نیکو کاروں کے ماں، باپ اور بیوی بچوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ 4۔ صبر کرنے والوں کا بہت ہی اچھا انجام ہوگا۔ تفسیر بالقرآن ملائکہ کا جنتیوں کو سلام : 1۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : 23۔ 24) 2۔ فرشتے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (النحل : 32) 3۔ جنت کے دربان کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو مزے سے رہو اور ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الزمر : 73)
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

” اور جو لوگ اللہ سے پختہ عھد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انہی کے لیے بد ترین گھر ہے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے مقابلہ میں۔۔ جہنمیوں کا کردار اور انجام۔ یہ بات کئی مرتبہ فہم القرآن میں عرض کی ہے کہ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکوں کے ساتھ بروں اور جنت کے ساتھ جہنم کا اکثر مقامات پر یکجا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ قارئ قرآن کے لیے اچھے اور برے اعمال اور انجام میں فرق کرنا آسان ہوجائے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر پہلے ایفائے عہد کرنے والے حضرات اور ان کے اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا۔ اب عہد شکنی کرنے والوں اور رشتہ داریوں کو توڑ نے والوں کا بیان کیا ہے۔ اس موقع پر ان کے جرائم کی تفصیل دینے کی بجائے صرف ان کی عہد شکنی اور لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ لوگ زمین میں فساد کرنے والے ہیں۔ ان پر لعنت برستی ہے اور مرنے کے بعد ان کا بدترین گھر ہوگا۔ بلاوجہ قطع رحمی کرنے اور لوگوں کے حقوق چھیننے اور ان پر مظالم ڈھانے کی و جہ سے ظاہر بات ہے کہ ملک اور معاشرے میں ہر قسم کی خرابی اور فساد پھیلتا ہے۔ جہاں تک عہد شکنی کا تعلق ہے۔ یہ افراد کی آپس میں ہو یا ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ اس سے تعلقات ٹوٹنے کے ساتھ مروتیں ختم ہوجاتی ہیں جس کا منطقی نتیجہ نفرت، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا عہد شکنی کی بدترین صورت ہے جس سے تمام جرائم جنم لیتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد پورا نہیں کرتاوہ لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ ایسا شخص معاشرے میں فساد کا سبب بنتا ہے۔ اس پر ” اللہ “ کی لعنت برستی ہے۔ اس کا ٹھکانہ بدترین ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور اس کے ساتھ عہد شکنی کرنے والے شخص سے بڑھ کر زیادہ فسادی کون ہوسکتا ہے ؟ اس لیے عہد شکنی شرک کی صورت میں ہو یا لوگوں کے ساتھ، ایسے مجرم پر لعنت ہی برستی ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت نہیں کہ لعنت کرنے والا کون ہے۔ لیکن سورة البقرۃ میں حق کو چھپانے اور کفر کرنے والوں پر لعنت کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ ان پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت برستی ہے۔ (عَنْ اأبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔ “ (وَعَنِ النُّعْمَانِ ابْنِ بَشِیْرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًامَنْ لَّہٗ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہٗ کَمَایَغْلِیْ الْمِرْجَلُ مَایَرٰی اَنَّ اَحَدًا اَشَدُّمِنْہُ عَذَابًا وَاِنَّہٗ لَاَھْوَنُھُمْ عَذَابًا) [ رواہ مسلم : باب أَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا ] ” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ یقیناً دوزخیوں میں سب سے معمولی عذاب والے کے پاؤں میں آگ کے جوتے اور تسمے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھول رہا ہوگا وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی دوسرے شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ “ مسائل 1۔ کافر اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جن رشتوں کو ملانے کا حکم دیا ہے خدا کے نافرمان انھیں توڑتے ہیں۔ 3۔ خدا کے نافرمان زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ 4۔ منکرین حق پر لعنت اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ تفسیر بالقرآن لعنتی لوگوں کی نشانیاں : 1۔ اللہ کے منکرین پر لعنت اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ (الرعد : 25) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 57) 3۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ : 159) 4۔ جھوٹے لوگ لعنتی ہیں۔ (آل عمران : 61) 5۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : 64) 6۔ کافر لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 64)
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

” اللہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا اور تنگ کرتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں معمولی فائدہ کے سوا کچھ نہیں۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی اور باہمی تعلقات کو توڑنے کی سب سے بڑی وجہ دنیا پرستی ہے۔ حالانکہ رزق کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ منکرین حق جس دنیا پر اتراتے اور جس کی خاطر اپنے رب کو فراموش اور لوگوں سے عہد شکنی کرتے ہیں اگر دنیا کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ آخرت کے مقابلے میں قلیل اور عارضی ہے۔ جس دنیا کی خاطر بدمعاملگی اور عہد شکنی کرتے ہیں۔ غور کریں کہ کیا رزق کی فراوانی اور اسباب کی کشادگی انسان کی صلاحیتوں کے بدولت ہے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کا نتیجہ ہے ؟ رزق کی فرادانی اور اسباب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق کی کشادگی سے نوازتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ انسان کو تلاش رزق کا حکم ضرور ہے مگر رزق کا انحصارصرف انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق کا دار و مدار انسان کی محنت پر ہوتا تو دنیا میں کوئی ہنرمند غریب نہ ہوتا اور کوئی لینڈلارڈ مقروض نہ ہوتا، نہ ہی کار خانے دار دیوالیہ ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ رزق دینے والا صرف ایک اللہ ہے۔ اس نے اپنی حکمت، تقسیم اور لوگوں کے تعلقات کو مربوط رکھنے کے لیے رزق کی تقسیم اس طرح کر رکھی ہے کہ ایک شخص اپنی روزی کے لیے کئی انسانوں کے تعاون کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ جس بنا پر لوگ ایک دوسرے کی روزی میں معاون بنتے ہیں۔ کار خانے دار کو دیکھیں کہ وہ کتنے لوگوں کے رزق کا وسیلہ بنتا ہے۔ یہی صورت حال زمیندار کی ہے کہ بظاہر وہ اپنی روزی کا بندوبست کرتا ہے۔ لیکن اپنے ساتھ درجنوں گھرانوں، سینکڑوں جانوروں اور ہزاروں کیڑے مکوڑوں کی روزی کا وسیلہ بنتا ہے۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ فَإِذَا ہُوَ بِشَاۃٍ مَّیِّتَۃٍ شَآءِلَۃٍ بِرِجْلِہَا فَقَالَ أَتُرَوْنَ ہٰذِہٖ ہَیِّنَۃً عَلٰی صَاحِبِہَا فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَلدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ عَلَی صَاحِبِہَا وَلَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَزِنُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا قَطْرَۃً أَبَدًا )[ سنن ابن ماجہ : بَابُ مَثَلِ الدُّنَّیَا ] ” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے جبکہ ایک مری ہوئی بکری جس کی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ مردہ بکری اس کے مالک کے لیے حقیر ترین ہے۔ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دنیا اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ اگر دنیا کی وقعت اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اللہ کسی کافر کو ایک قطرہ پانی کا نہ دیتا۔ “ (عَنْ أَبِیْ وَاءِلٍ ؓ عَنْ عَلَیٍّ ؓ أَنَّ مَکَاتِبَا جَاءَ ہٗ فَقَالَ إِنِّیْ قَدْ عَجَزْتُ عَنِ کِتَابَتِیْ فَأَعِنِّیْ قَالَ أَلاَّ أُعَلَّمُکً کَلِمَاتِ عَلَمَّنِیِِْہُنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ کَانَ عَلَیْکَ مِثْلَ جَبْلِ ثَبَیْرٍ دَیْنًا أَدَاہُ اَللّٰہُ عَنْکَ ؟ قَالَ قُلْ اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَنْ سِوَاکَ ) [ رواہ الترمذی : باب فی دعاء النبی ﷺ ] ” حضرت ابو وائل ؓ حضرت علی ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور آکر عرض کی کہ میں اپنی غلامی کی رقم ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں میری مدد کیجیے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تجھ کو ایسے کلمات نہ سکھلادوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھلائے تھے اگر تجھ پر ثبیر پہاڑ کے برابر قرض ہوگا تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ اتار دے گا۔ فرمایا پڑھا کرو اے اللہ ! مجھے حلال رزق کے ساتھ حرام سے بچا لے اور مجھے اپنے فضل کے ساتھ غنی فرما کر دوسروں سے بےنیاز فرما۔ “ مسائل 1۔ رزق تنگ اور کشادہ کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ آخرت کا انکار کرنے والے دنیا کی زندگی پر خوش رہتے ہیں۔ 3۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی حقیقت : 1۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ (الرعد : 26) 2۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں نہایت مختصر ہے۔ (التوبۃ : 38) 3۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے اور آخرت متقین کے لیے بہتر ہے۔ (النساء : 77) 4۔ یقیناً دنیا کی زندگی عارضی فائدہ ہے اور آخرت کا گھر ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔ (المؤمن : 43) 5۔ دنیا کے مقابلے میں آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17)