Ayahs 14:35–36فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار کرنے والا شخص ظالم اور ناقدری کرنے والا ہوتا ہے قریش مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تصور کرتے تھے۔ انہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بتلاکریہ احساس دلایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے قدر دان اور صرف اسی کے تابع فرمان تھے۔
اے دنیا جہان کے انسانو بالخصوص مکہ میں بسنے والے لوگو ! جس عالی مرتبت شخصیت کے ساتھ تم ناطہ جوڑتے اور اس کے بسائے ہوئے شہر میں رہتے ہو اس کا عقیدہ یہ تھا کہ جب اس نے اپنی زوجہ مکرمہ اور اکلوتے لخت جگر کو مکہ میں ٹھہرا کر اس شہر کی بنیاد رکھی تھی تو اس نے اپنے رب کے حضور سب سے پہلے یہ التجا کی تھی ” میرے رب میں اپنی اولاد کو تیرے حکم پر، تیرے محترم گھر کے قریب چھوڑے جا رہا ہوں۔ میری پہلی فریاد یہ ہے کہ الٰہی ! اس شہر اور گھر کو امن و سکون کا گہوارا بنانا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا، میرے رب ! بتوں کی وجہ سے بیشمار لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو میری اتباع کرے یقیناً وہ میرا ساتھی ہے اور جس نے میری نافرمانی کی الٰہی ! تو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے تین باتیں سامنے آتی ہیں۔
پہلی دعا اور اس کا دنیوی فائدہ :
آدمی جہاں رہ رہا ہو اس مقام اور شہر میں امن نہ ہو تو انسان کوئی کام بھی دلجمعی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ بلکہ ایک وقت آتا ہے کہ انسان اس علاقہ کو چھوڑ نے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ فرد، قوم اور ملک کی ترقی کے لیے یہ بنیادی بات ہے کہ علاقہ میں امن وامان ہو، جسے تمدن کی زبان میں یوں کہا جاتا ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ معاشرہ اور ملک کی ترقی کے لیے خشت اول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مستجاب کرتے ہوئے رہتی دنیا تک اس شہر اور بیت اللہ کو امن کا گھر اور شہر قرار دیا ہے۔
مکہ کی آباد کاری کی ابتدا :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو چھوڑ کر چلے گئے تو کچھ عرصہ بعد یمن سے ایک قبیلہ آیا جسے تاریخ میں جرہم ثانی کہا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گرد و پیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا۔ صحیح بخاری میں اتنی صراحت موجود ہے کہ رہائش کی غرض سے یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی آمد کے بعد اور ان کے جوان ہونے سے پہلے وارد ہوئے تھے۔ لیکن اس وادی سے ان کا گزر اس سے پہلے بھی ہوا کرتا تھا۔ ( صحیح بخاری : کتاب الانبیاء)
دوسری دعا :
اے میرے پالنہار ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ یاد رہے کہ دنیا میں شرک کی ابتدا مٹی اور پتھروں کے مجسموں سے ہی ہوئی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پہلے انبیاء (علیہ السلام) اور فوت شدگان بزرگوں کے مجسمے اس لیے بنائے تھے تاکہ بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کی ارواح کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے اس کے حضور دعا اور عبادت کی جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طبعًا اور شرعًا شرک اور ان کے ذرائع سے شدید نفرت تھی۔ اس بنا پر انہوں نے اپنے شہر کے سب سے بڑے بت خانہ کو پاش پاش کیا تھا۔ اس لیے دعا کرتے ہیں اے میرے پالنہار ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ اپنے بارے میں بتوں کی عبادت سے بچنے کی دعا انہوں نے نفرت کا اظہار کرنے اور آئندہ نسلوں کو پیغام دینے کے لیے کی تھی تاکہ لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ معلوم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف اپنے ساتھ شرک سے نفرت ہے بلکہ قیامت کے دن ان لوگوں کو بھی جہنم میں جھونکا جائے گا جنہوں نے کسی نہ کسی طریقہ سے شرک کی راہ ہموار کی تھی۔ یہاں تک کہ جن پتھروں کے مجسمے بنائے گئے یا برکت کے طور انہیں استعمال کیا گیا۔ جس طرح کچھ لوگ برکت کے طور پر بعض پتھروں کو انگوٹھی کے نگینہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان پتھروں کو بھی جہنم میں تپایا جائے گا۔ ( الانبیاء : 98)
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ حَرَّمَ اللّٰہُ مَکَّۃَ ، فَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِیْ وَلاَ لاأَحَدٍ بَعْدِیْ ، أُحِلَّتْ لِیْ سَاعَۃً مِّنْ نَہَارٍ ، لاَ یُخْتَلٰی خَلاَہَا، وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ )[ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الإِذْخِرِ وَالْحَشِیشِ فِی الْقَبْر ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو محترم قرار دیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے جائز ہے۔ میرے لیے دن کی ایک گھڑی میں جائز قرار دیا ہے، نہ اس کی گھاس کو کاٹا جائے اور نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کا شکار کیا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے مگر اعلان کرنے کی غرض سے۔ “
مکہ معظمہ کا مقام :
یہ وادئ قدس ‘ جلالت و عظمت ‘ رفعت و بلندی اور علومرتبت کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ یہ دنیا و جہان کی تمام بستیوں، قصبوں اور شہروں میں نرالی حیثیت کی حامل ہے یہ ایسی نگری ہے جس میں داخل ہونے والے کو قرار اور سکون میسر ہوتا ہے، اس کی ہواؤں اور فضاؤں میں خالق کائنات نے طمانیت قلب کا وہ سامان پیدا فرمایا ہے جو دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس کا یوں تذکرہ کیا گیا ہے :
(وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْن وَطُوْرِسِیْنِیْنَ وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ) [ التین : 1۔ 3]
” قسم ہے انجیر، زیتون، طور سینا اور اس پُر امن شہر (مکہ) کی “
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ معظمہ کے لیے دعا مانگی الٰہی ! اسے امن والا شہر بنادے۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی الٰہی ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔
3۔ بتوں کی وجہ سے بہت سارے لوگ گمراہ ہوئے۔ 4۔ نبی کا امتی نبی کی فرمانبرداری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
مکہ معظمہ اور بیت اللہ کا مرتبہ اور مقام :
1۔ دنیا میں پہلا گھر بیت اللہ تعمیر ہوا۔ (آل عمران : 96) 2۔ قسم ہے اس شہر کی۔ (البلد : 1)
3۔ اے میرے رب اس گھر کو امن والا بنا۔ (ابراہیم : 35) 4۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (والتین : 3)
5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ اس شہر کو امن والا بنا۔ (البقرۃ : 126)
Ayahs 14:37–38فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزیدد عائیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لیے بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا تاکہ حضرت ہاجرہ نماز قائم کریں اور جب اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوں تو وہ بھی نماز پڑھتے رہیں۔ قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہاں ٹھہرا یا تو اس وقت بیت اللہ کی مقدس جگہ اور بنیادیں موجود تھیں مگر گردش ایام کی وجہ سے بیت اللہ کی عمارت موجود نہ تھی۔ جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ازسرنو تعمیر فرمایا۔ جس کا ذکر البقرۃ کی آیت : 127 میں ان الفاظ میں ہوا ہے :
” اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا کر رہے تھے تو کہنے لگے اے پروردگار ہم سے یہ خدمت قبول فرما یقیناً تو سننے والا جاننے والا ہے۔ “ [ البقرۃ : 127]
” حضرت ہاجرہ[ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے عرض کیا یہ اللہ کا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تب حضرت ہاجرہ[ نے عرض کی کہ پھر پروردگار ہمیں ہلاک نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر حضرت ہاجرہ[ واپس آئیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چل دیئے حتی کہ اس پہاڑی پر پہنچے، جہاں سے حضرت ہاجرہ کو دکھائی نہیں دیتے تھے (اسی پہاڑی سے آنحضرت ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے) تو ادھر کا رخ کیا جہاں اب کعبہ ہے۔ پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی۔ اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد ایسے میدان میں چھوڑی دی ہے جہاں کچھ نہیں اگتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جانے کے بعد حضرت ہاجرہ[ اسماعیل (علیہ السلام) کو دودھ پلاتیں اور مشک میں سے پانی پیتی رہیں۔ جب پانی ختم ہوگیا تو خود بھی پیاسی ہوئیں، بچے کو بھی پیاس لگنے لگی دیکھا کہ وہ پیاس کے مارے تڑپ رہا ہے ذراپیچھے ہٹ کر بیٹھ گئیں کیونکہ بچے کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ دیکھا کہ صفا پہاڑ قریب ہے اس پر چڑھیں شاید کوئی آدمی نظر آئے لیکن کوئی نہیں دکھائی دیا۔ وہاں سے اتریں اور اپنا کرتہ سمیٹ کر نالے کے نشیب میں اس طرح دوڑیں جیسے کوئی مصیبت زدہ دوڑتا ہے۔ نالے کے پار جا کر مروہ پہاڑ پر دوسری جانب چڑھیں۔ وہاں بھی دیکھا، کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ انہوں نے اس طرح چکر لگائے۔ “ (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ وا تخذ اللہ ابراہیم خلیلا)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری دعا :
اے ہمارے رب ! میں اس لیے تیرے گھر کے قریب اپنی اولاد کو ٹھہرائے جارہا ہوں یہ تیری توفیق سے نماز قائم کرتے رہیں، قائم کرنے سے مراد نماز باجماعت ادا کرنے کے ساتھ اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
چوتھی دعا :
الٰہی ! لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل فرمادے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ یہ اللہ کا گھر ہے جو لوگوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا ہے۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہاں ٹھہرایا تھا تاکہ آگے چل کر یہ اللہ کے گھر کو آباد کریں۔ اللہ کے گھر کی آبادی کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف اس کے ساتھ لوگوں کی محبت اور رغبت ہو بلکہ اس کے آباد کرنے والے لوگوں کے درمیان بھی محبت والفت کا رشتہ قائم ہونا چاہیے۔ جس سے نہ صرف اللہ کا گھر آباد ہوتا ہے بلکہ لوگوں میں امن وامان اور باہمی محبت کی فضا پروان چڑھتی ہے اس طرح اللہ کا گھر آباد ہونے کے ساتھ امت کی وحدت اور اتحاد کا ذریعہ بنتا ہے۔
پانچویں دعا :
اللہ کے گھر کو آباد کرنے کے لیے جس طرح اس میں نماز پڑھنا، اس کے آباد کرنے والوں کی آپس میں محبت ہونا لازم ہے، اسی طرح اس کے رہائشی بالخصوص امام اور اس کے لیے ہمہ وقت وقف ہونے والے خدام کے خوردونوش کا انتظام کرنا بھی ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے لیے دعا کرتے ہوئے مکہ کے باسیوں کے لیے بھی دعا کی۔ اے میرے رب ! انہیں پھلوں سے رزق عطا فرمانا تاکہ تیرا شکریہ ادا کرتے رہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح قبول فرمایا کہ ہزاروں سال بیت چکے ہیں۔ مکہ میں لوگوں کو نہ صرف رزق مہیا ہو رہا ہے بلکہ ہر سال اناج اور پھلوں کی درآمد میں اضافہ ہی ہوا جارہا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا پھل ہوگا جو وافر مقدار میں مکہ مکرمہ میں موجود نہ ہو۔ اناج اور پھلوں کی فراوانی کا مظاہرہ لاکھوں لوگ ہر سال عمرہ اور حج کے موقعہ پر کرتے ہیں۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جس کا ہم اظہار کرتے ہیں۔ زمین و آسمان میں کوئی بات اور چیز ایسی نہیں جو تیری نظر سے پوشیدہ ہو۔ یہ الفاظ ادا کر کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دل کی کیفیت بھی عرض کرتے ہیں جس کے دو مقصد ہوسکتے ہیں کہ الٰہی جو کچھ میں مانگ رہا ہوں اس کا مقصد تو جانتا ہے۔ اس کا مقصد ذاتی غرض نہیں بلکہ دین کی آبیاری ہے۔ اس دعا کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے رب جو کچھ ہمارے تحت الشعور میں پوشیدہ ہے اور ہمارے مستقبل کی ضروریات ہیں تو وہ بھی جانتا ہے۔ اس لیے جو مانگ لیا سومانگ لیا جو نہیں مانگ پایا اپنی جناب سے وہ بھی عطا فرما۔
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں بیت اللہ کے پاس چھوڑ آئے۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بچے اور بیوی کو اس لیے چھوڑا تاکہ وہ نماز قائم کریں اور بیت اللہ کو آباد کریں۔
3۔ اپنی اولاد کے لیے نیکی کی دعا مانگنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔
Ayah 14:39فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں ہوئے مزید مانگتے ہیں۔
حضرت ابراہیم کے خاندان کا مختصر تعارف :
حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے اور ایک بچی تھی۔ جس کا نام مؤرخین نے بشامہ لکھا ہے۔ آپ کے بارہ بیٹوں کے نام
1۔ نیابوط، جن کو عرب نابت کہتے ہیں۔
2۔ قید ار حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اس صاحبزادے نے بڑی شہرت حاصل کی نبی اکرم ﷺ اس قیدار کی نسل عدنان سے پیدا ہوئے۔
3۔ ادبایل 4۔ بمشام 5۔ سمع۔ 6۔ دومہ 7۔ مسا 8۔ حدود 9۔ یلتماد 10۔ جسطور 11۔ نفیس 12۔ قدمہ (توراۃ پ 25)
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سروردو عالم ﷺ کے سوا کوئی نبی نہیں ہوا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی اور اولاد :
حضرت سارہ کے انتقال کے بعد آپ نے حضرت قطورا سے نکاح کیا۔ جناب شعیب (علیہ السلام) کا نسب انہی سے ملتا ہے۔
حضرت قطورا سے اولاد : آپ کے بطن سے چھ لڑکے پیدا ہوئے جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔
1۔ زمران 2۔ مقسان 3۔ مدیان 4۔ مدان 5۔ اسباق 6۔ سوخ
بنی قطورا میں اہل مدین اور اصحاب الایکہ آتے ہیں۔ جناب شعیب (علیہ السلام) کا تعلق اسی شاخ سے ہے۔
زیادہ مشہور حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ ؓ ہیں اور انہی کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کو نبوت سے نوازا گیا اور ان کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت :
تمام مؤرخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ کی عمر سو سال اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ[ کی عمر نوے سال تھی۔ قرآن مجید نے اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کا متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ فرشتے انسانوں کی شکل میں جناب خلیل (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑابھون لائے لیکن انسانی شکل میں آنے والے ملائکہ کھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ تب حضرت نے اپنے آپ میں ایک خوف سا محسوس کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ کیفیت دیکھ کر فرشتوں نے اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے انہیں اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی اور اس کے ساتھ ہی پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خبر بھی دی۔
(وَلَقَدْ جَآءَ تْ رُسُلُنَآ إِبْرَاہِیم بالْبُشْرٰی قَالُوْا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ فَلَمَّا رَاآی أَیْدِیَہُمْ لَا تَصِلُ إِلَیْہِ نَکِرَہُمْ وَأَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً قَالُوْا لَا تَخَفْ إِنَّآ أُرْسِلْنَا إِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ )[ ھود : 69، 70]
” جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر پہنچے تو فرشتوں نے عرض کیا۔ اے ابراہیم آپ پر سلام ہو۔ ابراہیم نے جواب میں کہا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ لگائی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا ضیافت کے لیے لے آئے۔ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگئے اور دل میں ان سے خوف محسوس کیا۔ فرشتوں نے کہا آپ ڈریں نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ “
بشارت سن کر حضرت سارہ[ مسکرائیں :
” اور آپ کی بیوی (آپ کے) پاس کھڑی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس پڑی، پھر ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری سنائی۔ اس نے کہا اف ! کیا اب میرے ہاں بچہ ہوگا۔ جب کہ میں نہایت بوڑھی ہوچکی ہوں۔ اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوچکا ہے۔ یہ تو عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ کیا اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو۔ اے ابراہیم کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہیں۔ یقیناً اللہ نہایت تعریف والا اور بلند شان کا مالک ہے۔ “
ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمان گرامی :
” اے نبی ! آپ ان کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ سنائیں۔ جب وہ آئے ابراہیم کے پاس اور کہا سلام ہو تم پر
تو ابراہیم نے کہا ہمیں تو آپ سے ڈر لگتا ہے فرشتے کہنے لگے۔ آپ ڈریں نہیں ! ہم آپ کو ذی علم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ابراہیم فرمانے لگے۔ کیا آپ اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دے رہے ہیں۔ یہ کیسی بشارت دے رہے ہو ؟ “
اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے :
” فرشتے کہنے لگے ہم آپ کو برحق خوشخبری دے رہے ہیں۔ آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ابراہیم نے کہا۔ اپنے رب کی رحمت سے تو گمراہ لوگ ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اظہار تفصیل کے لیے سوال کیا تھا ورنہ وہ تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ نبی تو اسباب کی ناپیدگی کے باوجود اپنے رب کی رحمت پر بھرپور بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے۔
دوسرا اس واقعہ میں یہ بتانا مقصود ہے اے اہل مکہ ! یہ حقیقت جان لو کہ تم فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو کہ وہ نازل ہو کر اس نبی کی تائید کریں۔ تب ہم غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ یاد رکھو فرشتے یا تو کسی کے لیے رحمت لے کر آتے ہیں یا زحمت ! تم سوچ لو تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ بغیر اسباب کے سب کچھ کرسکتا ہے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اولاد کے بظاہر اسباب نہیں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹے عنایت فرمائے۔ اسی طرح حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں اللہ اپنے دین کو ضرور بر ضرور سرفراز فرمائے گا۔ اللہ اسباب کا پابند نہیں۔ اسباب اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔
”(فرشتوں) نے اس ( ابراہیم (علیہ السلام) کو علم والے بچے کی بشارت دی۔ یہ سن کر اس کی بیوی چلاتی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ کو اولاد ہوگی فرشتوں نے کہا، یہی کچھ تمہارے رب نے فرمایا ہے۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ “
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا قیام :
جناب ابراہیم (علیہ السلام) نے تبلیغ دین کے لیے مراکز قائم فرمائے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن، حضرت ذبیح (علیہ السلام) کو حجاز مقدس اور جناب اسحاق (علیہ السلام) جب بڑے ہوئے تو ان کو شام و فلسطین میں تعینات فرمایا۔
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام میں پیدا ہوئے اور ایک سو اسی سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ مقام جرون جسے آج کل غرب اردن کہتے ہیں میں آپ ( علیہ السلام) کی آخری آرامگاہ ہے۔ جو فلسطین میں ہے۔
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ کے چند پہلو قرآن حکیم نے ذکر فرمائے ہیں۔ سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا، ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کیا کرتے تھے۔ مزید ارشاد ہوا کہ ہم نے ان کی طرف وحی کی جس میں ہدایت کی گئی کہ نیکی کے کام کریں نماز اور زکوٰۃ ادا کریں۔ آخر میں ارشاد فرمایا۔ وہ ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔
” اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کیا اور یعقوب اس پر مستزاد کہ ہم نے ہر ایک کو صالح بنایا۔
حضرت ہاجرہ اور آپ ( علیہ السلام) کے فرزند ارجمند :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ[ ہیں۔ جن کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو قرآن مجید نے اجاگر کرنے کے ساتھ ان کی زندگی سے وابستہ واقعات اور مقامات کو شعائرا اللہ کہہ کر برائے اجروثواب زیارت گاہ بنا دیا اور ان کے صبرورضا کے واقعات کا اس طرح ذکر کیا کہ رہتی دنیا تک ان کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تورات میں تحریف ہونے کے باوجود کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ اس وقت جناب خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی جب اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال کی تھا۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد سے نوازا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مستجاب دعائیں :
1۔ اے اللہ مجھے نیک بچہ عطا فرما۔ (الصٰفٰت : 100) 2۔ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنا۔ (ابراہیم : 35)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں مسلمان بنا دے اور ہماری نسل میں سے فرمانبردار امت پیدا فرما۔ (البقرۃ : 138)
4۔ اے ہمارے رب مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔ اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما۔ (ابراہیم : 40)
5۔ اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو بےآب وگیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے قریب ٹھہرایا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں لوگوں کے دل ان کی طرف مائل فرما دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔ (ابراہیم : 37)
6۔ اے اللہ اس شہر کو امن والا بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے محفوظ فرما۔ (ابراہیم : 35)
7۔ اے پروردگار ! مجھے علم و دانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل فرما۔ (الشعراء : 83)
8۔ اے اللہ ! مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنا۔ (الشعراء : 85)
9۔ اے اللہ انھی میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرما جو ان پر تیری آیات تلاوت کرے انھیں کتاب و حکمت سکھلائے۔ (البقرۃ : 129)
Ayah 14:40فہم القرآن
ربط کلام :
آدمی ہر حال اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کا محتاج ہے اس کے لیے اسے وہی ذرائع اور طریقے اختیار کرنے چاہییں جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ آدمیجن ذرائع سے اللہ کی مدد کا مستحق اور اس کی رحمت کا سزاوار ہوتا ہے ان میں مؤثر ترین ذریعہ نماز کی ادائیگی ہے۔
مؤذن چوبیس گھنٹوں میں ایک مقررہ وقفے کے بعد پانچ مرتبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام لے کر مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی نوید سناتے ہوئے دعوت دیتا ہے کہ اے کلمہ طیبہ کا اقرار اور اظہار کرنے والو ! آؤ تمہاری کامیابی اللہ کی عبادت ‘ نبی اکرم ﷺ کی اطاعت اور جماعت بندی میں ہے۔ تابع فرمان مسلمان ہر چیز چھوڑ کر اللہ کے گھر حاضر ہو کر عملاً ثابت کرتے ہیں کہ ہم خدا کی جماعت ہیں جو ہر وقت اس کے حکم کے پا بند اور اس کی اطاعت پر کاربند ہیں۔ پھر پاؤں سے پاؤں اور کندھے سے کندھا ملا کر مسلمان غیر مسلموں کے سامنے ثابت کرتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں امیر، غریب، آقا اور غلام میں کوئی فرق نہیں۔ کاش امت نماز کی حقیقت کو سمجھ جائے تاکہ ان میں زندگی کی انقلابی روح پیدا ہوجائے۔
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جگر گوشہ اور رفیقہ حیات کو عرب کے صحرا و بیابان میں چھوڑ کر دعائیں کرتے ہوئے الوداع ہوئے : ان دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی ” الٰہی مجھے اور میری اولاد کو نمازی بنا “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہِ الٰہی سے اس طرح التجا کرتے۔ اے ہمارے پروردگار مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابندبنا۔
دعاؤں کا نتیجہ :
(وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ اِسْمٰعِیْلَ اِنّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ کَانَ رَسُوْلاً نَّبِیّاً وَکَانَ یَاْمُرُاَھْلَہٗ بالصَّلوٰۃِ وَالزَّکَاۃِ وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیّاً )[ مریم : 54۔ 55]
” اے نبی ! قرآن مجید سے حضرت اسماعیل کا تذکرہ ضرور کرو کیونکہ وہ اللہ کا برگزیدہ نبی وعدے کا سچا اور نماز و زکوٰۃ کا اہل خانہ کو حکم دینے والا تھا۔ “
اولاد کو نماز کا حکم دینا چاہیے :
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُرُوٓا أَوْلاَدَکُمْ بالصَّلاَۃِ وَہُمْ أَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا وَہُمْ أَبْنَآءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَفَرِّقُوْا بَیْنَہُمْ فِی الْمَضَاجِعِ )
[ رواہ ابو داود : باب مَتٰی یُؤْمَرُ الْغُلاَمُ بالصَّلاَۃِ ]
” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کو نماز پڑھنے کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ان پر سختی کرو اور ان کے بستر الگ کر دو ۔ “
نماز کی فرضیت اور فضیلت :
(عَنْ أَبِیْ سُفْیَانَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلاَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب بَیَانِ إِطْلاَقِ اسْمِ الْکُفْرِ عَلَی مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ ]
” حضرت ابو سفیان ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جا بر ؓ سے سنا وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مسلمان اور کفر کے درمیان نماز کا فرق ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سے نماز کی پابندی کی توفیق مانگنی چاہیے۔ 2۔ اللہ ہی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
3۔ کوشش کے ساتھ والدین کو دعا بھی کرنی چاہیے کہ ان کی اولاد نمازی بن جائے۔
تفسیر بالقرآن
نیک اولاد کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعائیں :
1۔ اے میرے پروردگار ! مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنا۔ (ابراہیم : 40)
2۔ حضرت زکریانے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کی کہ الٰہی مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ (آل عمران : 38)
3۔ میں تجھے لوگوں کا امام بنا رہا ہوں ابراہیم نے کہا میری اولاد میں سے بھی بنائیں۔ (البقرۃ : 124)
4۔ اے ہمارے پروردگار ! ہماری اولاد میں ایک جماعت اپنی مطیع بنا۔ (البقرۃ : 138)
Ayah 14:41فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید دعائیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ برا سلوک کرنے کے باوجود باپ کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ :
” ابراہیم کا تذکرہ کیجیے یقیناً وہ سچا نبی تھا جب انھوں نے اپنے باپ سے کہا ابا جان آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکتے ہیں ابا جان مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا میری فرمانبرداری کیجیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلاؤں گا۔ ابا جان شیطان کی پرستش نہ کیجیے یقیناً شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔ ابا جان مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب آپکڑے اور آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔ اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے مجھے برگشتہ کرتا ہے اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ ابراہیم نے کہا آپ پر سلامتی ہو میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا یقیناً وہ مجھ پر مہربان ہے۔ “ (مریم : 41 تا 47)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا باپ کے حق میں قبول نہیں ہوئی :
باپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دھمکی دے کر گھر سے نکال باہر کیا کہ میری آنکھوں سے دور ہوجا ورنہ میں تجھے سنگسار کردوں گا۔ اس کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کی ضرور دعا کروں گا۔ (مریم : 46 تا 48) جس کے نتیجہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) محشر کے دن اپنے رب کے حضور فریاد کریں گے لیکن ان کی فریاد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ قرآن مجید نے اس بات کی یوں بھی وضاحت فرمائی ہے کہ اے امت مسلمہ کے لوگو ! تمہارے لیے ابراہیم کا ہر عمل نمونہ ہے سوائے اس کے جو انھوں نے اپنے باپ کے لیے دعا کا وعدہ کیا تھا۔ (الممتحنۃ : 4)
ماں باپ اور نیک لوگوں کے لیے دعا کرنے کا حکم :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا باپ کے حق میں اس لیے قبول نہ ہوگی کہ وہ مشرک تھا۔ قرآن مجید نے مشرک کے حق میں بخشش کی دعا کرنے سے منع کیا ہے۔ البتہ مواحد والدین اور مواحد فوت شدگان کے لیے بخشش کی دعا کرنا انبیاء کی سنت، نیک لوگوں کا طریقہ اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے والدین اور فوت شدگان کے لیے دعا :
” اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور جو ایمان دار میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور عورتوں کو معاف فرما اور ظالموں کی تباہی میں مزید اضافہ فرما۔ “ [ نوح : 28]
نبی اکرم ﷺ کی فوت شدگان کے لیے دعا :
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗٓ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ الاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَّدْعُوْ لَہٗ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَلْحَقُ الإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہٖ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول محترم ﷺ کا ارشاد ذکر کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آدمی کے فوت ہونے سے اس کے عمل کا تسلسل ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ان تین چیزوں کے علاوہ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایساعلم جس سے لوگ مستفید ہوتے رہیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے۔ “
(وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بالإِْیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا رَبَّنَآ إِنَّکَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ)[ الحشر : 10]
” اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے وہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دل میں کینہ ایمان داروں کے متعلق پیدا نہ فرما اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔
مسائل
1۔ پروردگار سے اپنے لیے بخشش کی دعا مانگنی چاہے۔ 2۔ والدین اور مومنین کے لیے بھی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
موحّدفوت شدگان کے لیے مغفرت کی دعا :
1۔ اے ہمارے پروردگار مجھے، میرے والدین اور مومنوں کو بخش دے۔ (ابراہیم : 41)
2۔ نوح نے کہا اے میرے پروردگار مجھے بخش دے اور میرے والدین کو اور مومن مردوں اور عورتوں کو (نوح : 28)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخشے دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے۔ (الحشر : 10)
4۔ ابراہیم نے کہا میرے باپ کی مغفرت فرما یقیناً وہ گمراہوں میں سے تھا۔ (الشعراء : 86)
Ayahs 14:42–43فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوتا ہے جس میں حق کے منکروں کو ان کے انجام سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اکثر اوقات رسول معظم ﷺ کو براہ راست مخاطب کیا جاتا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے مخالفوں کو ان کے انجام سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اے نبی ! اس بات کا کبھی تصور بھی نہ کرنا کہ آپ کے مخالف حق کا انکار اور آپ کی مخالفت کر کے جو ظلم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں وہ تو انہیں اس دن کے لیے مہلت دیے ہوئے ہے۔ جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور ظالم سراٹھائے اپنے سامنے نظریں جمائے دوڑے جارہے ہوں گے۔ ان کی نظریں ان کی اپنی طرف بھی نہ مڑپائیں گی۔ ان کے دل گھبراہٹ کے عالم میں اڑے جارہے ہوں گے۔
سورج دنیا کی حرارت سے لاکھوں ڈگری زیادہ حرارت اور حدت لیے ہوگا۔ زمین تابنے کی طرح ہوجائے گی اور سورج زمین سے ایک میل کے فاصلے پر آجائے گا۔ لوگ اپنے اپنے پسینے میں ڈبکیاں کھا رہے ہوں گے۔ اس عالم میں لوگ گردنیں اٹھائے، پھٹی آنکھوں کے ساتھ رب ذوالجلال کی بار گاہ میں پیش ہونے کے لیے اس حال میں بھاگ رہے ہوں گے کہ ان کے دل اس طرح ہوں گے کہ جیسے چند لمحوں کے بعد پھٹ جائیں گے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوگا۔
(عَنِ الْمِقْدَادِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللّٰہُ عَلٰٓی أَہْوَالِہَا ]
” حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سروردو عالم ﷺ کو فرماتے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض لوگوں کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا یہ بیان کرتے ہوئے رسول معظم ﷺ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ )[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کَیْفَ الْحَشْر ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کی جانب دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس دن معاملہ اس کے برعکس ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھ سکے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سبھی کے اعمال سے باخبر ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن ظالم سر اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے۔ 4۔ قیامت کے دن کوئی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرم بدحواس ہوں گے :
1۔ قیامت کے دن مجرم سر اٹھائے بدحواسی کے عالم میں دوڑ رہے ہوں گے۔ (ابراہیم : 43)
2۔ قیامت کے دن آپ مجرموں کے چہروں کو سیاہ دیکھیں گے۔ (الزمر : 60)
3۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی اور انہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : 27)
4۔ اس دن مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ جکڑا ہوا دیکھیں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوگی۔ (ابراہیم : 49۔ 50)
5۔ قیامت کے دن لوگ اس طرح بدحواس ہوں گے جیسے شراب سے مدہوش ہوں۔ (الحج : 2)
Ayah 14:44فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کی ہو لناکیاں بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قیامت کا انکار کرنے والوں کو ڈرائیں اور اس کی حقیقت بتلائیں۔
دنیا پرستی میں مبتلا ہونے والے لوگ آخرت کو اس قدربھول جاتے ہیں کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا اور انسان کو محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر دنیا کھیل تماشا ہوتی تو ہم یہ تماشا اپنے پاس کرتے۔ (الانبیاء : 16۔ 17)
یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے انسان جو کچھ بوئے گا مرنے کے بعد وہی کچھ اپنے سامنے پائے گا۔ اس حقیقت کے باوجود دنیا پرست لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے لیے اتنے بوسیدہ دلائل دیتے ہیں کہ اگر وہ خود معمولی ساغور کریں تو ان کے دلائل میں بھی آخرت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ آخرت کا انکار کرنے والا ایک شخص سرور دو عالم ﷺ کے سامنے ایک بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسل کر کہتا ہے کہ اے محمد ! بتلاؤ یہ ہڈی مٹی بن چکی ہے اسے کون زندہ کرے گا ؟ قرآن مجید نے اس کا جواب دیا کہ کیا آخرت کے انکار کرنے والے نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے جس سے بڑا ہو کر وہ اپنے رب کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اپنی تخلیق بھول کر ہمارے سامنے بوسیدہ ہڈی کی مثال پیش کر کے کہتا ہے کہ اسے کون زندہ کرے گا اے پیغمبر ! انہیں فرمائیں اسے وہی خالق زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا جو ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ ( یٰس : 70 تا 77)
قیامت کا انکار کرنے والوں کو یہ کہہ کر بھی لاجواب کیا گیا ہے کہ یہ بتاؤ تمہیں پہلی دفعہ پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ( بنی اسرائیل : 51) پھر دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ آپ ﷺ انہیں کہیں کہ تم لوہا بن جاؤ یا پتھر ہوجاؤ یا تمہارے دل میں جو خیال آسکتا ہے اس سے بھی کوئی بڑی مخلوق بن جاؤ تمہیں وہی ذات پیدا کرے گی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ یہ دلائل سننے کے باوجود نفرت کی بنا پر سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا انہیں فرمائیں ہوسکتا ہے کہ قیامت عنقریب برپا ہوجائے۔ ( بنی اسرائیل : 49 تا 51)
غور فرمائیں کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے قرآن مجید نے کس قدر طبعی اور ٹھوس دلائل دیے ہیں لیکن اس کے باوجود قیامت کے منکرہٹ دھرمی کی بنا پر قسمیں کھایا کرتے تھے کہ یہ دنیا کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اور ہمیں کبھی زوال نہیں آئے گا۔ کوئی طاقت ہمیں زندہ نہیں کرسکتی۔ اس باطل عقیدہ کی تردید یہاں یہ کہہ کر کی گئی ہے۔ اے پیغمبر ! انہیں سمجھائیں اور ڈرائیں کہ جب اللہ کا عذاب یا قیامت آئے گی تم دھاڑیں مار مار کر فریادیں کرو گے کہ ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت دیجئے تاکہ ہم تیری دعوت کو قبول کر کے رسول کی فرمانبرداری کریں لیکن اس وقت مہلت دینے کے بجائے یہ کہا جائے گا کہ کیا تم وہی ظالم نہیں ہو جو قسمیں کھا کھا کر آخرت کا انکار کرتے اور کہتے تھے کہ اس دنیا نے ہمیشہ رہنا ہے اور اسے کبھی زوال نہیں آئے گا۔
مسائل
1۔ کفار قیامت کے دن کہیں گے اے رب ہمیں مہلت دے ہم تیری بات مانیں گے اور تیرے رسول کی پیروی کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں جہنمیوں کی فریادیں :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
Ayahs 14:45–47فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے منکرین کو خطاب جاری ہے۔
منکرین آخرت کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے ساتھ پہلی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کیا یہ لوگ ان کے انجام پر غور نہیں کرتے کہ جن کی بستیوں اور علاقہ میں یہ لوگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جس وجہ سے انہیں ذلت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس طرح انہیں آناً فاناً اور شدّت کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہم نے کھول کھول کر ان کے حالات اور واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیے ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب اور سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیرغالب رہی۔ حالانکہ ان کی سازشیں اور مکرو فریب اس قدر گہرے، بڑے اور مضبوط تھے کہ قریب تھا کہ پہاڑ ٹل جائیں۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ مکر کا معنی ہے سازش اور ہر قسم کا فریب۔ یہ لفظ جب منکرین حق کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی مکر و فریب ہوا کرتا ہے۔ جب مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کی تدبیر ہوتی ہے۔ پہاڑ ٹل جانے سے مراد یہ بتانا مقصود ہے کہ کفار نے انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ تعالیٰ نے حق کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تمہارے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے والا ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سیلاب کی نذر ہوئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن دریا میں غرقاب ہوئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف سازش کرنے والا اپنوں کے ہاتھوں سولی چڑھ گیا۔ نبی اکرم ﷺ کے خلاف مکر و فریب اور سازشیں کرنے والے ایک ایک کر کے دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ آپ نے ان کی لاشوں کو یوں مخاطب کیا : جو باقی تھے انھیں فتح مکہ کے موقع پر سر عام سرور دو عالم ﷺ سے معافی مانگنا پڑی۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَقَفَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی قَلِیْبِ بَدْرٍ فَقَالَ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُمُ الآنَ یَسْمَعُوْنَ مَا أَقُوْلُ )[ رواہ البخاری : باب قَتْلِ أَبِی جَہْلٍ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے آپ نے مرنے والے سرداروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے اپنے پروردگار کے وعدے کو سچ پایا ہے ؟ آپ نے فرمایا اب جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے وہ سن رہے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو نشان عبرت بنادیا۔
2۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ پہلی قوموں کی مثالیں بیان کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے پر غالب ہے۔
تفسیر بالقرآن
مخالفین کا انبیاء (علیہ السلام) اور حق کے خلاف سازشیں کرنا :
1۔ کفار نے نبی اکرم کو قتل کرنے اور ملک بدر کرنے کی سازش کی۔ (الانفال : 30)
2۔ نبی کریم کو حق سے پھیر دینے کے لیے کافروں نے سازش کی۔ (البقرۃ : 109)
3۔ آپ غمزدہ نہ ہوں اور کفار کے مکرو فریب سے تنگی محسوس نہ کریں۔ (النحل : 127)
Ayahs 14:48–51فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ و برباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔
جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے کپڑے پہنا کر آگ میں جھونکاجائے گا۔ وہ آگ ان کے چہروں تک پہنچ جائے گی۔ یہ اس لیے ہوگا تاکہ مجرموں کو ان کے جرائم کی پوری طرح سزادی جائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ دین کے بنیادی عقائد میں تیسرا عقیدہ فکرآخرت ہے۔ جسے قرآن مجید پوری شرح وبسط کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہاں ہم قیامت کے مختلف مراحل کے بارے میں قرآن مجید کی چند آیات اور احادیث کی چند مستند روایات کا حوالہ دیں گے تاکہ موقع کی مناسبت سے قیامت کے منظر کی ایک جھلک ہمارے سامنے آجائے اور ہم رب ذوالجلال کی بارگاہ میں پیشی کی تیاری کرلیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔ (عن أَنَس بن مالِکٍ أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِیْ أَمْشَاہُ عَلَی الرِّجْلَیْنِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلَی أَنْ یُّمْشِیَہٗ عَلٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلٰی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا)[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہِ (الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوہِہِمْ إِلٰی جَہَنَّمَ أُولٰٓءِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّأَضَلُّ سَبِیْلاً ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ! کافروں کو چہروں کے بل قیامت کے دن کیسے جمع کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کیا وہ ذات جو دنیا میں ان کو قدموں پر چلانے پر قادر ہے کیا وہ ذات چہرے کے بل نہیں چلا سکتی ؟ قتادہ نے کہا کیوں نہیں ! “
(عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُحْشَرُالنَّاسُ یَوْ مَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی اَرْضٍ بَیْضَآءَ عَفْرَآءَ کَقُرْصَۃِ النَقِیِّ لَیْسَ فِیْھَا عَلََمٌ لِاَحَدٍ ) [ متفق علیہ ]
” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز لوگوں کو سرخی مائل سفید زمین پر جمع کیا جائے گا زمین میدے کی روٹی کی مانند ہوگی زمین پر کسی قسم کا ٹیلہ نہیں ہوگا۔ “
(عَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللَّہُ عَلَی أَہْوَالِہَا ]
” حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سروردو عالم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ‘ آپ ﷺ فرما رہے تھے قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض لوگوں کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا یہ بیان کرتے ہوئے رسول معظم ﷺ نے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے۔ 2۔ تمام لوگ اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے روبرو پیش ہوں گے۔
3۔ قیامت کے دن مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔
4۔ قیامت کے دن مجرموں کو گندھک کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
5۔ مجرموں کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی۔
6۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
7۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرموں کا براحال ہوگا :
1۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : 49)
2۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ : 30۔ 31)
3۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ (المعارج : 44)
4۔ قیامت کے دن مجرموں کے ابرو پاؤں کے انگوٹھے کے بال سے باندھ دیے جائیں گے۔ (الرحمن : 41)
5۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ مجرم اپنے سروں کو جھکائے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے۔ (السجدۃ : 12)
6۔ بیشک مجرم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
7۔ قیامت کے دن مجرم گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی اور سیاہ دھویں میں ہوں گے۔ (الواقعۃ : 41۔ 43)
8۔ قیامت کے دن مجرموں کو دھکتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ (الغاشیۃ : 4)
9۔ مجرموں کا کھانا تھور کا درخت ہوگا۔ (الدخان : 43۔ 44)
10۔ مجرم تھور کے درخت سے اپنے پیٹ بھریں گے اور کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ (الصٰفٰت : 66۔ 67)
Ayah 14:52فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں ان کا انجام ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ قرآن مجید سب کے لیے بالخصوص عقل مندوں کے لیے خیر خواہی ہے جو تم تک پہنچ چکی ہے۔
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا تھا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن مجید کو آپ پر اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو کفر و شرک کے اندھیروں اور ہر قسم کی جہالت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی روشنی میں لاکھڑا کریں۔ کیونکہ یہی آپ کے رب کا بتلایا ہوا سیدھا راستہ ہے جو لوگ اس راستہ کی طرف نہیں آئیں گے ان کے لیے شدید ترین عذاب ہوگا۔ یہی پیغام موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیا اور اسی کی دعوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی۔ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لائیں، اس کا حکم مانیں جو لوگ ایک اللہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر مشکل کشا اور حاحت رواتلاش کرتے اور آخرت کو بھول بیٹھے ہیں انہیں ان کے انجام سے ڈرائیں۔ نصیحت کی نعمت کو وہی لوگ پائیں گے جو حقیقی عقل سے بہرہ مند ہیں۔ گویا کہ آخرت کے لیے تیاری کرنا اور عقیدۂ توحید اپنانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا عقل کی بات ہے۔ آخرت کو فراموش اور شرک کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید بتلانا اور سمجھانا تھا :
(وَمَآ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِیْٓ إِلَیْہِ أَنَّہٗ لَآ إِلٰہَ إِلَّآأَنَا فَاعْبُدُوْنِ )[ الانبیاء : 25]
” اور جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وہی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔
(کَمَآ أَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْ لا مِنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ آَیَاتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ )[ البقرۃ : 151]
” جس طرح ہم نے تم میں سے رسول بھیجے جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک کرتے اور کتاب اور حکمت سکھلاتے اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم جانتے نہ تھے۔ “
(وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ )[ البقرۃ : 163]
” اور تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “
(اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ )[ آل عمران : 2]
” اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ اور قائم ہے۔ “
(فَاعْلَمْ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوَاکُمْ )[ محمد : 19]
” پس جان لو کہ بیشک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں، عورتوں کے لیے بھی معافی طلب کرو اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے واقف ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہٗ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنّٰی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب ذِکْرِ الْمَوْتِ وَالاِسْتِعْدَادِ لَہُ ]
” حضرت ابویعلیٰ شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے۔ عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش کی امید رکھتا ہے۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت کا پیغام ہے۔ 2۔ عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
3۔ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق اور سب کا حاجت روا، مشکل کشا ہے۔
تفسیر بالقرآن
عقلمندوں کا کردار :
1۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے پیغام ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (ابراہیم : 52)
2۔ نصیحت تو بس عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔ (آل عمران : 7)
3۔ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہوسکتے عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر : 9)
4۔ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے وہ حق ہے عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الرعد : 19)